<bgsound loop='infinite' src='music.mp3'></bgsound> Sayings of the Messenger احادیثِ رسول اللہ ﷺ: March 2013

Tuesday, 12 March 2013

Sahih Bukhari Book13: The Two Festivals كتاب العيدين


Sahih Bukhari

Book13: The Two Festivals   كتاب العيدين 

 

1. Sprucing oneself up on Eid



حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ أَخَذَ عُمَرُ جُبَّةً مِنْ إِسْتَبْرَقٍ تُبَاعُ فِي السُّوقِ، فَأَخَذَهَا فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْتَعْ هَذِهِ تَجَمَّلْ بِهَا لِلْعِيدِ وَالْوُفُودِ‏.فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّمَا هَذِهِ لِبَاسُ مَنْ لاَ خَلاَقَ لَهُ ‏"‏‏.‏ فَلَبِثَ عُمَرُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَلْبَثَ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِجُبَّةِ دِيبَاجٍ، فَأَقْبَلَ بِهَا عُمَرُ، فَأَتَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ قُلْتَ ‏"‏ إِنَّمَا هَذِهِ لِبَاسُ مَنْ لاَ خَلاَقَ لَهُ ‏"‏‏.‏ وَأَرْسَلْتَ إِلَىَّ بِهَذِهِ الْجُبَّةِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ تَبِيعُهَا أَوْ تُصِيبُ بِهَا حَاجَتَكَ ‏"‏‏‏

Narrated By 'Abdullah bin Umar : Umar bought a silk cloak from the market, took it to Allah's Apostle and said, "O Allah's Apostle! Take it and adorn yourself with it during the 'Id and when the delegations visit you." Allah's Apostle (p.b.u.h) replied, "This dress is for those who have no share (in the Hereafter)." After a long period Allah's Apostle (p.b.u.h) sent to Umar a cloak of silk brocade. Umar came to Allah's Apostle (p.b.u.h) with the cloak and said, "O Allah's Apostle! You said that this dress was for those who had no share (in the Hereafter); yet you have sent me this cloak." Allah's Apostle said to him, "Sell it and fulfil your needs by it."

ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا کہا ہم کو شعیب نے خبر دی انہوں نے زہری سے انہوں نے کہا مجھ کو سالم بن عبداللہ نے خبر دی کہ عبداللہ بن عمرؓ نے کہا حضرت عمرؓ ایک موٹے ریشمی کپڑے کا چغہ جو بازار میں بک رہا تھا لے کر رسول اللہﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ﷺ یہ آپؐ خرید لیجیے عید کے دن اور قاصدوں کے آنے کے وقت ( اس کو پہن کر ) بناؤ کیا کیجئے ۔ آپؐ نے اُن سے فرمایا یہ تو وہ پہنے گا جو آخرت میں بے نصیب ہے پھر حضرت عمرؓ جب تک اللہ نے چاہا ٹھہرے رہے ۔ اس کے بعد رسول اللہﷺ نے خُود ان کو ایک ریشمی چغہ ( تحفہ ) بھیجا ۔ حضرت عمرؓ وہ چغہ لے کر رسول اللہﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپؐ نے تو یہ فرمایا تھا کہ اس کو وہی پہنے گا جو ( آخرت میں ) بے نصیب ہے پھر آپؐ نے میرے پاس یہ چغہ کیوں بھیجا ؟ آپؐ نے فرمایا ( میں نے تیرے پہننے کو نہیں بھیجا ) تو اس کو بیچ ڈال اور اس کی قیمت اپنے کام میں لا ۔

2. Display of spears and shields on Eid day



حَدَّثَنَا أَحْمَدُ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَمْرٌو، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَسَدِيَّ، حَدَّثَهُ عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ تُغَنِّيَانِ بِغِنَاءِ بُعَاثَ، فَاضْطَجَعَ عَلَى الْفِرَاشِ وَحَوَّلَ وَجْهَهُ، وَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ فَانْتَهَرَنِي وَقَالَ مِزْمَارَةُ الشَّيْطَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ ـ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ـ فَقَالَ ‏"‏ دَعْهُمَا ‏"‏ فَلَمَّا غَفَلَ غَمَزْتُهُمَا فَخَرَجَتَا‏

Narrated By 'Aisha : Allah's Apostle (p.b.u.h) came to my house while two girls were singing beside me the songs of Buath (a story about the war between the two tribes of the Ansar, the Khazraj and the Aus, before Islam). The Prophet (p.b.u.h) lay down and turned his face to the other side. Then Abu Bakr came and spoke to me harshly saying, "Musical instruments of Satan near the Prophet (p.b.u.h) ?" Allah's Apostle (p.b.u.h) turned his face towards him and said, "Leave them." When Abu Bakr became inattentive, I signalled to those girls to go out and they left.

ہم سے احمد بن عیسیٰ نے بیان کیا کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے کہا مجھ کو عمرو بن حارث نے خبر دی ان سے محمد بن عبدالرّحمٰن اسدی نے بیان کیا انہوں نے عروہ سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے کہا رسول اللہﷺ میرے پاس تشریف لائے اس وقت ( انصار کی ) دو لڑکیاں میرے گھر میں بعاث کی لڑائی کا قصہ گا رہی تھیں ۔ آپؐ بچھونے پر لیٹ گئے اور اپنا منہ پھیر لیا اور ابوبکرؓ آئے ۔ انہوں نے مجھ کو جھڑکا اور کہا یہ شیطانی باجا نبیﷺ کے سامنے ۔ آخر آپؐ نے ان کی طرف منہ کیا اور فرمایا جانے دو ( خاموش رہو ) جب ابوبکرؓ دوسرے کام میں لگ گئے تو میں نے ان لڑکیوں کو اشارہ کیا ۔ وہ چل دیں ۔





وَكَانَ يَوْمَ عِيدٍ يَلْعَبُ السُّودَانُ بِالدَّرَقِ وَالْحِرَابِ، فَإِمَّا سَأَلْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَإِمَّا قَالَ ‏"‏ تَشْتَهِينَ تَنْظُرِينَ ‏"‏‏.‏ فَقُلْتُ نَعَمْ‏.‏ فَأَقَامَنِي وَرَاءَهُ خَدِّي عَلَى خَدِّهِ، وَهُوَ يَقُولُ ‏"‏ دُونَكُمْ يَا بَنِي أَرْفِدَةَ ‏"‏‏.‏ حَتَّى إِذَا مَلِلْتُ قَالَ ‏"‏ حَسْبُكِ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَاذْهَبِي ‏"‏‏

It was the day of 'Id, and the Black people were playing with shields and spears; so either I requested the Prophet (p.b.u.h) or he asked me whether I would like to see the display. I replied in the affirmative. Then the Prophet (p.b.u.h) made me stand behind him and my cheek was touching his cheek and he was saying, "Carry on! O Bani Arfida," till I got tired. The Prophet (p.b.u.h) asked me, "Are you satisfied (Is that sufficient for you)?" I replied in the affirmative and he told me to leave.

یہ دن عید کا تھا ۔ اس دن حبشی لوگ ڈھالوں اور برچھیوں سے کھیل کرتے تو یا تو میں نے نبیﷺ سے خواہش کی یا خود آپؐ نے فرمایا تو کھیل دیکھنا چاہتی ہے ۔ میں نے عرض کیا جی ہاں ۔ آپؐ نے مجھ کو اپنے پیچھے کھڑا کر لیا ۔ میرا گال آپؐ کے گال پر تھا ۔ آپؐ فرماتے تھے کھیلو کھیلو اے بنی ارفدہ جب میں اُکتا گئی تو آپؐ نے فرمایا بس ، میں نے کہا جی ہاں ۔ فرمایا اچھا جا ۔

3. Traditions regarding the celebrations of the Eid festivals by the Muslims.



حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي زُبَيْدٌ، قَالَ سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ مِنْ يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نُصَلِّيَ، ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ، فَمَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا ‏"‏‏

Narrated By Al-Bara' : I heard the Prophet (p.b.u.h) delivering a Khutba saying, "The first thing to be done on this day (first day of 'Id-ul-Adha) is to pray; and after returning from the prayer we slaughter our sacrifices (in the name of Allah) and whoever does so, he acted according to our Sunna (traditions)."

ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے کہا مجھ کو زبید بن حارث نے خبر دی کہا میں نے شعبی سے سنا انہوں نے براء سے انہوں نے کہا میں نے نبیﷺ کو ( عید کے دن ) خط پڑھتے سُنا۔ آپؐ نے فرمایا پہلا کام جو ہم اس دن کرتے ہیں وُہ نماز ہے ۔ پھر لوٹ کر ( بقر عید میں ) قربانی کرتے ہیں ۔ جو کوئی یہ کرے وہ ہمارے طریق پر چلا ۔





حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ مِنْ جَوَارِي الأَنْصَارِ تُغَنِّيَانِ بِمَا تَقَاوَلَتِ الأَنْصَارُ يَوْمَ بُعَاثَ ـ قَالَتْ وَلَيْسَتَا بِمُغَنِّيَتَيْنِ ـ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَمَزَامِيرُ الشَّيْطَانِ فِي بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَذَلِكَ فِي يَوْمِ عِيدٍ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَا أَبَا بَكْرٍ إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا، وَهَذَا عِيدُنَا ‏"‏‏

Narrated By 'Aisha : Abu Bakr came to my house while two small Ansari girls were singing beside me the stories of the Ansar concerning the Day of Buath. And they were not singers. Abu Bakr said protestingly, "Musical instruments of Satan in the house of Allah's Apostle !" It happened on the 'Id day and Allah's Apostle said, "O Abu Bakr! There is an 'Id for every nation and this is our 'Id."

ہم سے عبید بن اسمٰعیل نے بیان کیا کہا ہم سے ابواسامہ نے انہوں نے ہشام بن عروہ سے انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے کہا ابوبکرؓ آئے ۔ اس وقت میرے پاس انصار کی دو لڑکیاں وہ شعر گا رہی تھیں جو بعاث کی جنگ میں انہوں نے کہے تھے حضرت عائشہؓ نے کہا یہ لڑکیاں کچھ ڈومنیاں نہ تھیں ابوبکرؓ نے کہا ہائیں یہ شیطانی باجے رسول اللہﷺ کے گھر میں ، اور یہ دن عید کا دن تھا ۔ آخر رسول اللہﷺ نے ابوبکرؓ سے فرمایا ابوبکرؓ ! ہر قوم میں عید ہُوا کرتی ہے اور آج ہماری عید ہے ۔

4. Eating on Eid-ul-Fitr before going out (for the Eid-ul-Fitr prayer)



حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ يَغْدُو يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى يَأْكُلَ تَمَرَاتٍ‏.‏ وَقَالَ مُرَجَّى بْنُ رَجَاءٍ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي أَنَسٌ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَيَأْكُلُهُنَّ وِتْرًا‏

Narrated By Anas bin Malik : Allah's Apostle never proceeded (for the prayer) on the Day of 'Id-ul-Fitr unless he had eaten some dates. Anas also narrated: The Prophet used to eat odd number of dates.

ہم سے محمد بن عبدالرّحیم نے بیان کیا کہا ہم کو سعید بن سلیمان نے خبر دی کہا ہم کو ، ہشیم بن بشیر نے کہا ہم کو عبیداللہ بن ابی بکر بن انس نے انہوں نے اپنے دادا انس بن مالکؓ سے انہوں نے کہا رسول اللہﷺ عیدالفطر کے دن جب تک کچھ کھجوریں نہ کھا لیتے نماز کو نہ جاتے اور مرجی بن رجاء نے کہا مجھ سے عبیداللہ بن ابی بکرؓ نے بیان کیا کہا مجھ سے انسؓ نے بیان کیا انہوں نے نبیﷺ سے پھر یہی حدیث بیان کی ۔ اس میں یہ ہے کہ آپؐ طاق کھجوریں کھاتے ۔

5. Eating on day of Nahr (10th Dhul-Hijja)



حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَلْيُعِدْ ‏"‏‏.‏ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ هَذَا يَوْمٌ يُشْتَهَى فِيهِ اللَّحْمُ‏.‏ وَذَكَرَ مِنْ جِيرَانِهِ فَكَأَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَدَّقَهُ، قَالَ وَعِنْدِي جَذَعَةٌ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ شَاتَىْ لَحْمٍ، فَرَخَّصَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَلاَ أَدْرِي أَبَلَغَتِ الرُّخْصَةُ مَنْ سِوَاهُ أَمْ لاَ

Narrated By Anas : The Prophet said, "Whoever slaughtered (his sacrifice) before the 'Id prayer, should slaughter again." A man stood up and said, "This is the day on which one has desire for meat," and he mentioned something about his neighbours. It seemed that the Prophet I believed him. Then the same man added, "I have a young she-goat which is dearer to me than the meat of two sheep." The Prophet permitted him to slaughter it as a sacrifice. I do not know whether that permission was valid only for him or for others as well.

ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا کہا ہم سے اسمٰعیل بن علیہ نے انہوں نے ایوب سختیانی سے انہوں نے محمد بن سیرین سے انہوں نے انس بن مالکؓ سے انہوں نے کہا نبیﷺ نے فرمایا جو شخص نماز سے پہلے قربانی کرے وہ دوبارہ قربانی کرے ۔ ایک شخص ( ابوبردہؓ ) کھڑا ہُوا اور کہنے لگا اس دن تو گوشت کا ہوَ ہوتا ہے اور اپنے پڑوسیوں کی محتاجی کا حال بیان کیا نبیﷺ نے اس کو سچّا سمجھا ۔ وہ کہنے لگا میرے پاس ایک سال کی پٹھیا ہے جو گوشت کی دو بکریوں سے بہتر ہے ۔ آپؐ نے اس کو اجازت دی کہ وہی قربانی کرے ۔ اب میں نہیں جانتا کہ یہ اجازت اور کسی کے لیے بھی ہے یہ نہیں ۔





حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ خَطَبَنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الأَضْحَى بَعْدَ الصَّلاَةِ فَقَالَ ‏"‏ مَنْ صَلَّى صَلاَتَنَا وَنَسَكَ نُسُكَنَا فَقَدْ أَصَابَ النُّسُكَ، وَمَنْ نَسَكَ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَإِنَّهُ قَبْلَ الصَّلاَةِ، وَلاَ نُسُكَ لَهُ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ خَالُ الْبَرَاءِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنِّي نَسَكْتُ شَاتِي قَبْلَ الصَّلاَةِ، وَعَرَفْتُ أَنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ، وَأَحْبَبْتُ أَنْ تَكُونَ شَاتِي أَوَّلَ مَا يُذْبَحُ فِي بَيْتِي، فَذَبَحْتُ شَاتِي وَتَغَدَّيْتُ قَبْلَ أَنْ آتِيَ الصَّلاَةَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ شَاتُكَ شَاةُ لَحْمٍ ‏"‏‏.‏ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنَّ عِنْدَنَا عَنَاقًا لَنَا جَذَعَةً هِيَ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ شَاتَيْنِ، أَفَتَجْزِي عَنِّي قَالَ ‏"‏ نَعَمْ، وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ ‏"‏‏

Narrated By Al-Bara' bin 'Azib : The Prophet delivered the Khutba after offering the prayer on the Day of Nahr and said, "Whoever offers the prayer like us and slaughters like us then his Nusuk (sacrifice) will be accepted by Allah. And whoever slaughters his sacrifice before the 'Id prayer then he has not done the sacrifice." Abi Burda bin Niyar, the uncle of Al-Bara' said, "O Allah's Apostle! I have slaughtered my sheep before the 'Id prayer and I thought today as a day of eating and drinking (not alcoholic drinks), and I liked that my sheep should be the first to be slaughtered in my house. So slaughtered my sheep and took my food before coming for the prayer." The Prophet said, "The sheep which you have slaughtered is just mutton (not a Nusuk)." He (Abu Burda) said, "O Allah's Apostle! I have a young she-goat which is dearer to me than two sheep. Will that be sufficient as a Nusuk on my behalf? "The Prophet (p.b.u.h) said, "Yes, it will be sufficient for you but it will not be sufficient (as a Nusuk) for anyone else after you."

ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا کہا ہم سے جریر نے انہوں نے منصور سے انہوں نے شعبی سے انہوں نے براء بن عازب سے کہا نبیﷺ نے ہم کو بقر عید کے دن خطبہ سنایا نماز کے بعد ، پھر فرمایا جو شخص ہماری نماز کی سی نماز پڑھے اور ہماری قربانی کی طرح قربانی کرے اس کی قربانی صحیح ہوئی اور جو شخص نماز سے پہلے قربانی کر لے وہ نماز سے پہلے ( گوشت کھاتا ہے ) قربانی نہیں ہے ۔ ابوبردہ بن نیار نے عرض کیا جو براء بن عازب کے ماموں تھے ، یا رسول اللہ ﷺ میں نے تو اپنی بکری نماز سے پہلے ہی کاٹ ڈالی اور مجھے یہ خیال رہا کہ یہ دن کھانے پینے کاہے تو میں نے یہ چاہا کہ سب سے پہلے میرے ہی گھر میں بکری کٹے اس لیے میں نے اپنی بکری کاٹ ڈالی اور نماز کو آنے سے پہلے کھا بھی لی ۔ آپؐ نے فرمایا تیری بکری تو گوشت کی بکری ٹھہری ( قربانی نہ ہوئی ) اس نے عرض کیا یا رسول للہﷺ میرے پاس ایک سال کی ایک پٹھیا ہے جو گوشت کی دو بکریوں سے مجھ کو اچھی لگتی ہے ، کیا وہ میری طرف سے قربانی میں کافی ہو جائے گی ، آپؐ نے فرمایا ہاں اور تیرے بعد کسی کی طرف سے کافی نہ ہوگی ۔

6. To proceed to Musalla (praying place) without a pulpit.



حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي زَيْدٌ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْرُجُ يَوْمَ الْفِطْرِ وَالأَضْحَى إِلَى الْمُصَلَّى، فَأَوَّلُ شَىْءٍ يَبْدَأُ بِهِ الصَّلاَةُ ثُمَّ يَنْصَرِفُ، فَيَقُومُ مُقَابِلَ النَّاسِ، وَالنَّاسُ جُلُوسٌ عَلَى صُفُوفِهِمْ، فَيَعِظُهُمْ وَيُوصِيهِمْ وَيَأْمُرُهُمْ، فَإِنْ كَانَ يُرِيدُ أَنْ يَقْطَعَ بَعْثًا قَطَعَهُ، أَوْ يَأْمُرَ بِشَىْءٍ أَمَرَ بِهِ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ‏.‏ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَلَمْ يَزَلِ النَّاسُ عَلَى ذَلِكَ حَتَّى خَرَجْتُ مَعَ مَرْوَانَ وَهْوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ فِي أَضْحًى أَوْ فِطْرٍ، فَلَمَّا أَتَيْنَا الْمُصَلَّى إِذَا مِنْبَرٌ بَنَاهُ كَثِيرُ بْنُ الصَّلْتِ، فَإِذَا مَرْوَانُ يُرِيدُ أَنْ يَرْتَقِيَهُ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ، فَجَبَذْتُ بِثَوْبِهِ فَجَبَذَنِي فَارْتَفَعَ، فَخَطَبَ قَبْلَ الصَّلاَةِ، فَقُلْتُ لَهُ غَيَّرْتُمْ وَاللَّهِ‏.‏ فَقَالَ أَبَا سَعِيدٍ، قَدْ ذَهَبَ مَا تَعْلَمُ‏.‏ فَقُلْتُ مَا أَعْلَمُ وَاللَّهِ خَيْرٌ مِمَّا لاَ أَعْلَمُ‏.‏ فَقَالَ إِنَّ النَّاسَ لَمْ يَكُونُوا يَجْلِسُونَ لَنَا بَعْدَ الصَّلاَةِ فَجَعَلْتُهَا قَبْلَ الصَّلاَةِ‏

Narrated By Abu Sa'id Al-Khudri : The Prophet used to proceed to the Musalla on the days of Id-ul-Fitr and Id-ul-Adha; the first thing to begin with was the prayer and after that he would stand in front of the people and the people would keep sitting in their rows. Then he would preach to them, advise them and give them orders, (i.e. Khutba). And after that if he wished to send an army for an expedition, he would do so; or if he wanted to give and order, he would do so, and then depart. The people followed this tradition till I went out with Marwan, the Governor of Medina, for the prayer of Id-ul-Adha or Id-ul-Fitr.
When we reached the Musalla, there was a pulpit made by Kathir bin As-Salt. Marwan wanted to get up on that pulpit before the prayer. I got hold of his clothes but he pulled them and ascended the pulpit and delivered the Khutba before the prayer. I said to him, "By Allah, you have changed (the Prophet's tradition)." He replied, "O Abu Sa'id! Gone is that which you know." I said, "By Allah! What I know is better than what I do not know." Marwan said, "People do not sit to listen to our Khutba after the prayer, so I delivered the Khutba before the prayer."

ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا کہا ہم سے محمد بن جعفر نے کہا مجھ سے زید بن اسلم نے انہوں نے عیاض بن عبداللہ بن ابی سرح سے انہوں نے ابو سعید خدریؓ سے انہوں نے کہا نبیﷺ عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ میں ( مدینہ کے باہر ) عیدگاہ کو جاتے تو عید کے دن پہلے جو کام کرتے وہ نماز ہوتی پھر نماز پڑھ کر لوگوں کے سامنے کھڑے ہوتے لوگ صف باندھے بیٹھے رہتے ان کو وعظ و نصیحت فرماتے اور اچھی باتوں کا حکم دیتے ۔ پھر اگر آپ کوئی فوج بھیجنا چاہتے تو اس کو الگ کرتے یا اور کوئی حکم جو چاہتے وہ دیتے پھر شہر کو لوٹ آتے ۔ ابو سعیدؓ نے کہا لوگ بھی ہمیشہ ایسا ہی کرتے رہے ۔ پھر (معاویہؓ کے زمانہ میں ) مروان جو مدینہ کا حاکم تھا ، میں اس کے ساتھ عیدالاضحیٰ یا عید الفطر کی نماز کے لیے نکلا ۔ جب عید گاہ پہنچے تو کیا دیکھتا ہوں ، وہاں ایک منبر ہے جس کو کثیر بن صلت نے بنایا تھا ۔ مروان نے اس پر نماز سے پہلے چڑھنا چاہا ۔ میں نے اس کا کپڑا پکڑ کر کھینچا لیکن اس نے مجھ کو کھینچ لیا اور منبر پر چڑھ گیا ، نماز سے پہلے خطبہ پڑھا ۔ میں نے کہا قسم خدا کی تم لوگوں نے سنّت کو بدل ڈالا ۔ مروان نے کہا ابو سعید اب وہ زمانہ گزر گیا جس کو تم جانتے ہو ابوسعید نے کہا خدا کی قسم جس زمانے کو میں جانتا ہوں وہ اس زمانہ سے بہتر ہے جس کو میں نہیں جانتا ۔ مروان نے کہا ،بات یہ ہے کہ نماز کے بعد لوگ اُٹھ کر چل دیتے ہیں ( ہمارا خطبہ نہیں سنتے ) اس لیے میں نے نماز سے پہلے خطبہ کر دیا ۔

7. Walking and riding for the Eid prayer. The Eid prayer is offered before delivering the Khutba and there is no Adhan or Iqama for it.



حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ،‏.‏ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي فِي الأَضْحَى وَالْفِطْرِ، ثُمَّ يَخْطُبُ بَعْدَ الصَّلاَةِ‏

Narrated By 'Abdullah bin Umar : Allah's Apostle used to offer the prayer of 'Id-ul-Adha and 'Id-ul-Fitr and then deliver the Khutba after the prayer.

ہم سے ابراہیم بن منذر حزامی نے بیان کیا کہا ہم سے انس ابن عیاض نے انہوں نے عبیداللہ عمری سے انہوں نے نافع سے انہوں نے عبداللہ بن عمرؓ سے کہ رسول اللہﷺ عیدالاضحیٰ اور عید الفطر میں پہلے نماز پڑھتے پھر نماز کے بعد خطبہ سناتے ۔





حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ يَوْمَ الْفِطْرِ، فَبَدَأَ بِالصَّلاَةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ‏

Narrated By Ibn Juraij : 'Ata' said, "Jabir bin 'Abdullah said, 'The Prophet went out on the Day of 'Id-ul-Fitr and offered the prayer before delivering the Khutba

ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا کہا ہم کو ہشّام نے خبر دی ان سے ابنٍ جریج نے کہا انہوں نے کہا مُجھے عطاء بن ابی رباح نے خبر دی انہوں نے جابر بن عبداللہ انصاری سے انہوں نے کہا نبیﷺ عیدالفطر کے دن عیدگاہ تشریف لے گئے ۔ پہلے نماز پڑھی پھر خُطبہ سنایا ۔





قَالَ وَأَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، أَرْسَلَ إِلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ فِي أَوَّلِ مَا بُويِعَ لَهُ إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ يُؤَذَّنُ بِالصَّلاَةِ يَوْمَ الْفِطْرِ، إِنَّمَا الْخُطْبَةُ بَعْدَ الصَّلاَةِ‏

Ata told me that during the early days of Ibn Az-Zubair, Ibn Abbas had sent a message to him telling him that the Adhan for the 'Id Prayer was never pronounced (in the life time of Allah's Apostle) and the Khutba used to be delivered after the prayer.

ابن جریج نے کہا اور عطاء نے مجھ سے یہ بھی بیان کیا کہ ابنٍ عباسؓ نے ابنٍ زبیرؓ سے کہلا بھیجا جب شروع شروع ان کی خلافت کا زمانہ تھا کہ عیدالفطر میں اذان نہیں دی جاتی تھی ( یعنی نبیﷺ کے زمانہ میں ) اور خطبہ نماز کے بعد ہُوا کرتا ۔





وَأَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالاَ لَمْ يَكُنْ يُؤَذَّنُ يَوْمَ الْفِطْرِ وَلاَ يَوْمَ الأَضْحَى‏.‏

Ata told me that Ibn Abbas and Jabir bin 'Abdullah, had said, there was no Adhan for the prayer of 'Id-ul-Fitr and 'Id-ul-Adha."

ابن جریج نے کہا اور عطاء نے ابنٍ عباسؓ اور جابر کا یہ قول مُجھ سے بیان کیا کہ نبیﷺ کے زمانہ میں نہ عیدالفطر کی اذان ہوتی اور نہ عیدالاضحیٰ کی۔





وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَامَ فَبَدَأَ بِالصَّلاَةِ، ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ بَعْدُ، فَلَّمَا فَرَغَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَزَلَ فَأَتَى النِّسَاءَ، فَذَكَّرَهُنَّ وَهْوَ يَتَوَكَّأُ عَلَى يَدِ بِلاَلٍ، وَبِلاَلٌ بَاسِطٌ ثَوْبَهُ، يُلْقِي فِيهِ النِّسَاءُ صَدَقَةً‏.‏ قُلْتُ لِعَطَاءٍ أَتَرَى حَقًّا عَلَى الإِمَامِ الآنَ أَنْ يَأْتِيَ النِّسَاءَ فَيُذَكِّرَهُنَّ حِينَ يَفْرُغُ قَالَ إِنَّ ذَلِكَ لَحَقٌّ عَلَيْهِمْ، وَمَا لَهُمْ أَنْ لاَ يَفْعَلُوا

'At a' said, "I heard Jabir bin 'Abdullah saying, 'The Prophet stood up and started with the prayer, and after it he delivered the Khutba. When the Prophet of Allah (p.b.u.h) finished (the Khutba), he went to the women and preached to them, while he was leaning on Bilal's hand. Bilal was spreading his garment and the ladies were putting alms in it.' " I said to Ata, "Do you think it incumbent upon an Imam to go to the women and preach to them after finishing the prayer and Khutba?" 'Ata' said, "No doubt it is incumbent on Imams to do so, and why should they not do so?"

اور جابر بن عبداللہ سے روایت کی کہ نبیﷺ ( عید کے دن ) کھڑے ہوئے ، پہلے نماز پڑھی پھر نماز کے بعد لوگوں کو خطبہ سنایا جب خطبہ سے فارغ ہوئے تو وہاں سے چلے ۔ جہاں عورتیں تھیں وہاں آئے اور ان کو نصیحت کی اور آپ بلالؓ کے ہاتھ پر ٹیکا دیئے ہوئے تھے اور بلالؓ اپنا کپڑا پھیلائے تھے ۔ عورتیں اس میں خیرات ڈال رہی تھیں ۔ ابنٍ جریج نے کہا میں نے عطاء سے پُوچھا کیا اب بھی امام کو نماز سے فارغ ہو کر عورتوں کے پاس آنا اور ان کو نصیحت کرنا ضروری ہے ؟ انہوں نے کہا ضروری کیوں نہیں اور سبب کیا جو وہ ایسا نہ کریں ۔

8. The Khutba delivered after Eid prayer.



حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ ـ رضى الله عنهم ـ فَكُلُّهُمْ كَانُوا يُصَلُّونَ قَبْلَ الْخُطْبَةِ‏

Narrated By Ibn Abbas : I offered the 'Id prayer with Allah's Apostle, Abu Bakr, Umar and 'Uthman and all of them offered the prayer before delivering the Khutba.

ہم سے ابو عاصم ضحاک بن مخلد نے بیان کیا کہا ہم کو ابنٍ جریج نے خبر دی کہا مجھ کو حسن بن مسلم نے انہوں نے طائوس سے انہوں نے ابنٍ عباس سے انہوں نے کہا میں عید میں رسول اللہﷺ کے ساتھ رہا اور ابُوبکرؓ اور عُمرؓ اور عُثمانؓ کے ، سب پہلے نماز پڑھتے تھے ،پھر خطبہ دیتے ۔





حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ـ رضى الله عنهما ـ يُصَلُّونَ الْعِيدَيْنِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ‏.‏

Narrated By Ibn Umar : Allah's Apostle, Abu Bakr and Umar! used to offer the two 'Id prayers before delivering the Khutba.

ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا کہا ہم سے ابواسامہ حماد بن اسامہ نے کہا ہم سے عبیداللہ عمری نے انہوں نے نافع سے انہوں نے ابن عُمرؓ سے انہوں نے کہا رسول اللہﷺ اور ابوبکرؓ اور عمرؓ عیدین کی نماز خطبہ سے پہلے پڑھتے تھے ۔





حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى يَوْمَ الْفِطْرِ رَكْعَتَيْنِ، لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلاَ بَعْدَهَا، ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ وَمَعَهُ بِلاَلٌ، فَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ، فَجَعَلْنَ يُلْقِينَ، تُلْقِي الْمَرْأَةُ خُرْصَهَا وَسِخَابَهَا‏.‏

Narrated By Ibn Abbas : The Prophet offered a two Rakat prayer on the Day of Id-ul-Fitr and he did not pray before or after it. Then he went towards women along with Bilal and ordered them to pay alms and so they started giving their earrings and necklaces (in charity).

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے انہوں نے عدی بن ثابت سے انہوں نے سعید بن جبیر سے انہوں نے ابن عباسؓ سے کہ نبیﷺ نے عیدالفطر کے دن دو رکعتیں پڑھیں نہ ان سے پہلے کوئی نفل پڑھا نہ ان کے بعد ، پھر ( خُطبہ پڑھ کر ) آپؐ عورتوں کے پاس آئے ۔ بلالؓ آپؐ کے ساتھ تھے ۔ آپؐ نے عورتوں سے فرمایا خیرات کرو ۔ وہ خیرات پھینکنے لگیں ۔ کوئی اپنی بالی پھینکتی کوئی ہار ۔





حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا زُبَيْدٌ، قَالَ سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ فِي يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نُصَلِّيَ، ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا، وَمَنْ نَحَرَ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَإِنَّمَا هُوَ لَحْمٌ قَدَّمَهُ لأَهْلِهِ، لَيْسَ مِنَ النُّسْكِ فِي شَىْءٍ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَبَحْتُ وَعِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ اجْعَلْهُ مَكَانَهُ، وَلَنْ تُوفِيَ أَوْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ ‏"‏‏

Narrated By Al-Bara' bin 'Azib : The Prophet (p.b.u.h) said, "The first thing that we should do on this day of ours is to pray and then return to slaughter the sacrifice. So anyone who does so, he acted according to our Sunna (tradition), and whoever slaughtered the sacrifice before the prayer, it was just meat which he presented to his family and would not be considered as Nusuk." A person from the Ansar named Abu Burda bin Niyyar said, "O Allah's Apostle! I slaughtered the Nusuk (before the prayer) but I have a young she-goat which is better than an older sheep." The Prophet I said, "Sacrifice it in lieu of the first, but it will be not sufficient (as a sacrifice) for anybody else after you."

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے کہا ہم سے زبید بن حارث نے کہا میں نے عامر بن شعبی سے سنا انہوں نے براء ابنٍ عازب سے انہوں نے کہا نبیﷺ نے فرمایا پہلا کام جو اس عید کے دن ہم کرتے ہیں وہ نماز ہے پھر ( خطبہ پڑھ کر ) وہاں سے لوٹ کر قربانی کرتے ہیں ۔ جو کوئی ایسا کرے وہ ہمارے طریق پر چلا اور جس نے نماز سے پہلے جانور کاٹا تو وہ گوشت کا جانور ہے جو اس نے اپنے گھر والوں کے لیے کاٹا قربانی سے کچھ تعلّق نہیں رکھتا ۔ ایک انصاری مرد نے عرض کیا جس کو ابوبردہ بن نیار کہتے تھے یا رسول اللہ ﷺ میں تو نماز سے پہلے ہی ذبح کر چکا اب میرے پاس ایک برس بھر کی پٹھیا ہے جو دو سال کی بکری سے بہتر ہے آپؐ نے فرمایا اچھا اسی کو دو سال کی بکری کے بدلے کاٹ دے اور تیرے بعد پھر یہ کسی کو کافی نہ ہوگی ۔

9. It is disliked to carry arms on Eid and in the Haram (sanctuary)

And Al-Hasan said :(In the life time of Prophet (s.a.w)) It was forbidden to carry arms on the day of Eid except if there was fear from the enemy.


حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى أَبُو السُّكَيْنِ، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُوقَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ حِينَ أَصَابَهُ سِنَانُ الرُّمْحِ فِي أَخْمَصِ قَدَمِهِ، فَلَزِقَتْ قَدَمُهُ بِالرِّكَابِ، فَنَزَلْتُ فَنَزَعْتُهَا وَذَلِكَ بِمِنًى، فَبَلَغَ الْحَجَّاجَ فَجَعَلَ يَعُودُهُ فَقَالَ الْحَجَّاجُ لَوْ نَعْلَمُ مَنْ أَصَابَكَ‏.‏ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ أَنْتَ أَصَبْتَنِي‏.‏ قَالَ وَكَيْفَ قَالَ حَمَلْتَ السِّلاَحَ فِي يَوْمٍ لَمْ يَكُنْ يُحْمَلُ فِيهِ، وَأَدْخَلْتَ السِّلاَحَ الْحَرَمَ وَلَمْ يَكُنِ السِّلاَحُ يُدْخَلُ الْحَرَمَ‏.

Narrated By Said bin Jubair : I was with Ibn Umar when a spear head pierced the sole of his foot and his foot stuck to the paddle of the saddle and I got down and pulled his foot out, and that happened in Mina. Al-Hajjaj got the news and came to enquire about his health and said, "Alas! If we could only know the man who wounded you!" Ibn Umar said, "You are the one who wounded me." Al-Hajjaj said, "How is that?" Ibn Umar said, "You have allowed the arms to be carried on a day on which nobody used to carry them and you allowed arms to be carried in the Haram even though it was not allowed before."

ہم سے زکریا بن یحییٰ ابو السکین نے بیان کیا کہا ہم سے عبدالرحمٰن محاربی نے کہا ہم سے محمد بن سوقہ نے انہوں نے سعید بن جبیرؓ سے انہوں نے کہا میں ( حج میں ) عبداللہ بن عمرؓ کے ساتھ تھا جب نیزے کی بھال ان کے تلوے میں لگی ، اُن کا پائوں رکاب سے چمٹ گیا میں سواری سے اترا اور نیزہ ان کے پائوں سے نکالا ۔ یہ واقعہ منیٰ میں ہُوا ۔ پھر حجاج ان کی بیمار پرسی کو آیا اور کہنے لگا اگر ہم کو معلوم ہو یہ حرکت کس نے کی ( تو اس کو سزا دیں ) ابن عمرؓ نے کہا تو ہی نے تو مجھ کو نیزہ مارا ۔ حجاج نے کہا کیوں کر ؟ انہوں نے کہا تم نے اس دن ہتھیار اُٹھوائے جس دن ہتھیار نہیں اٹھائے جاتے تھے اور حرم میں ہتھیار لایا جبکہ حرم میں ہتھیار نہیں آنے پاتے تھے ۔





حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ دَخَلَ الْحَجَّاجُ عَلَى ابْنِ عُمَرَ وَأَنَا عِنْدَهُ، فَقَالَ كَيْفَ هُوَ فَقَالَ صَالِحٌ‏.‏ فَقَالَ مَنْ أَصَابَكَ قَالَ أَصَابَنِي مَنْ أَمَرَ بِحَمْلِ السِّلاَحِ فِي يَوْمٍ لاَ يَحِلُّ فِيهِ حَمْلُهُ، يَعْنِي الْحَجَّاجَ‏.

Narrated By Said bin 'Amr bin Said bin Al-'Aas : Al-Hajjaj went to Ibn Umar while I was present there. Al-Hajjaj asked Ibn Umar, "How are you?" Ibn Umar replied, "I am all right," Al-Hajjaj asked, "Who wounded you?" Ibn Umar replied, "The person who allowed arms to be carried on the day on which it was forbidden to carry them (he meant Al-Hajjaj)"

ہم سے احمد بن یعقوب نے بیان کیا کہا ہم سے اسحٰق بن سعید ابن عمرو بن سعید بن عاص نے اس نے اپنے باپ سعید سے اس نے کہا حجاج عبداللہ بن عُمرؓ کے پاس آیا ۔ میں وہاں موجود تھا ، کہنے لگا آپ کا مزاج کیسا ہے ،انہوں نے کہا اچھا ہوں ، کہنے لگا یہ برچھہ کس نے مارا ، انہوں نے کہا اس نے جس نے اس دن ہتھیار اٹھانے کا حکم دیا جس دن ہتھیار اٹھانا درست نہیں ، یعنی حجاج نے ۔
 

10. To offer the Eid prayer early.

Abdullah bin Busr said: We used to finish the Eid prayer (in the lifetime of Prophet SA) at the time of Tasbih ( Duha or Ishraq prayer) i.e after sunrise.


حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ خَطَبَنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ النَّحْرِ قَالَ ‏"‏ إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِهِ فِي يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نُصَلِّيَ ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا، وَمَنْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ فَإِنَّمَا هُوَ لَحْمٌ عَجَّلَهُ لأَهْلِهِ، لَيْسَ مِنَ النُّسُكِ فِي شَىْءٍ ‏"‏‏.‏ فَقَامَ خَالِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أُصَلِّيَ وَعِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اجْعَلْهَا مَكَانَهَا ـ أَوْ قَالَ اذْبَحْهَا ـ وَلَنْ تَجْزِيَ جَذَعَةٌ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ ‏"

Narrated By Al-Bara' : The Prophet delivered the Khutba on the day of Nahr ('Id-ul-Adha) and said, "The first thing we should do on this day of ours is to pray and then return and slaughter (our sacrifices). So anyone who does so he acted according to our Sunna; and whoever slaughtered before the prayer then it was just meat that he offered to his family and would not be considered as a sacrifice in any way. My uncle Abu Burda bin Niyyar got up and said, "O, Allah's Apostle! I slaughtered the sacrifice before the prayer but I have a young she-goat which is better than an older sheep." The Prophet said, "Slaughter it in lieu of the first and such a goat will not be considered as a sacrifice for anybody else after you."

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے انہوں نے زبید سے انہوں نے شعبی سے انہوں نے براء بن عازبؓ سے انہوں نے کہا عیدالاضحیٰ کے دن نبیﷺ نے ہم کو خطبہ سنایا اور فرمایا دیکھو اس دن جو کام ہم پہلے کرتے ہیں وہ نماز ہے پھر ( خطبہ پڑھ کر ) لوٹتے ہیں تو قربانی کرتے ہیں ۔ جو کوئی ایسا کرے وہ ہمارے طریق پر چلا اور جس نے نماز سے پہلے ذبح کر لیا ، اس کا جانور تو گوشت کا جانور ہُوا جس کو اس نے جلدی سے اپنے گھر والوں کے لیے کاٹ لیا قربانی سے کیا تعلّق ، کچھ بھی نہیں ۔ یہ سن کر ابو بردہ بن نیارؓ میرے ماموں کھڑے ہوئے کہنے لگے یا رسول اللہ ﷺ میں نے تو نماز سے پہلے ذبح کر لیا اور میرے پاس ایک سال کی ایک پٹھیا ہے جو دو سال والی بکری سے بہتر ہے ۔ آپؐ نے فرمایا اسی کو اس کے بدلہ سمجھ لے یا کاٹ لے اور تیرے بعد پھر ایک سال کی پٹھیا کسی کو کافی نہ ہو گی ۔

11. Superiority of (doing good) deed on day of Tashriq (11th, 12th, 13th of Dhul-Hijja).

Ibn Abbas recited the Holy Verses , "Remember Allah during the known days - i.e the first ten days of Dhul-Hijja, and also the counted days i.e the days of Tashriq." Ibn' Umar and Abu Huraira used to go out to the market saying Takbir during the first ten days of Dhul-Hijja and the people would say Takbir after their Takbirs. Muhammad bin Ali used to say Takbir after Nawafil.


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ مَا الْعَمَلُ فِي أَيَّامِ الْعَشْرِ أَفْضَلَ مِنَ الْعَمَلِ فِي هَذِهِ ‏"‏‏.‏ قَالُوا وَلاَ الْجِهَادُ قَالَ ‏"‏ وَلاَ الْجِهَادُ، إِلاَّ رَجُلٌ خَرَجَ يُخَاطِرُ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَلَمْ يَرْجِعْ بِشَىْءٍ ‏"

Narrated By Ibn Abbas : The Prophet said, "No good deeds done on other days are superior to those done on these (first ten days of Dhul Hijja)." Then some companions of the Prophet said, "Not even Jihad?" He replied, "Not even Jihad, except that of a man who does it by putting himself and his property in danger (for Allah's sake) and does not return with any of those things."

ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے انہوں نے سلیمان اعمش سے انہوں نے مُسلم سے جو توندل تھا اس نے سعید بن جبیر سے انہوں نے ابنٍ عباسؓ سے انہوں نے نبیﷺ سے آپؐ نے فرمایا کسی دن میں عمل کرنا ان دنوں میں عمل کرنے سے بڑھ کر نہیں ہے لوگوں نے عرض کیا جہاد بھی نہیں ، آپؐ نے فرمایا جہاد بھی نہیں مگر ہاں ،اس کا جہاد جس نے اپنی جان و مال کو خطرے میں ڈال دیا اور کچھ واپس نہ لایا ۔

12. To say Takbir on the days of Mina and while proceeding to Arafat.

Umar during his stay at Mina used to say Takbir in his tent (with such a loud voice) that the people in the Masjid would hear it and they too would start saying Takbir and the people in the market too would do the same and then the whole Mina would quiver with Takbeer. During those days Ibn Umar used to say Takbir at Mina and after the (compulsory) prayers and also while in bed in his tent, while sitting and while walking. He used to do so during all those days. Maimuna used to say Takbir on the day of Nahr. The women used to say Takbir behind Aban bn Uthman and Umar bin Abdul Aziz, along with the men in the Masjid during the nights of Tashriq.


حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الثَّقَفِيُّ، قَالَ سَأَلْتُ أَنَسًا وَنَحْنُ غَادِيَانِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَاتٍ عَنِ التَّلْبِيَةِ كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ كَانَ يُلَبِّي الْمُلَبِّي لاَ يُنْكَرُ عَلَيْهِ، وَيُكَبِّرُ الْمُكَبِّرُ فَلاَ يُنْكَرُ عَلَيْهِ‏

Narrated By Muhammad bin Abi Bakr Al-Thaqafi : While we were going from Mina to 'Arafat, I asked Anas bin Malik, about Talbiya, "How did you use to say Talbiya in the company of the Prophet?" Anas said: "People used to say Talbiya and their saying was not objected to and they used to say Takbir and that was not objected to either."


ہم سے ابو نعیم فضل بن دکین نے بیان کیا کہا ہم سے امام مالک نے انہوں نے کہا مجھ سے محمد بن ابی بکر ثقفی نے انہوں نے کہا میں نے انس بن مالک سے پوچھا جب ہم دونوں صبح کو منیٰ سے عرفات کو جا رہے تھے ، لبیک پکارنا کیسا ہے اور تم نبیﷺ کے ساتھ کیا کرتے تھے انہوں نے کہا لبیک کہنے والا لبیک کہتا اس پر کوئی اعتراض نہ کرتا اور تکبیر کہنے والا تکبیر ، اس پر کوئی اعتراض نہ کرتا ۔





حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ كُنَّا نُؤْمَرُ أَنْ نَخْرُجَ يَوْمَ الْعِيدِ، حَتَّى نُخْرِجَ الْبِكْرَ مِنْ خِدْرِهَا، حَتَّى نُخْرِجَ الْحُيَّضَ فَيَكُنَّ خَلْفَ النَّاسِ، فَيُكَبِّرْنَ بِتَكْبِيرِهِمْ، وَيَدْعُونَ بِدُعَائِهِمْ يَرْجُونَ بَرَكَةَ ذَلِكَ الْيَوْمِ وَطُهْرَتَهُ‏.‏

Narrated By Um 'Atiya : We used to be ordered to come out on the Day of 'Id and even bring out the virgin girls from their houses and menstruating women so that they might stand behind the men and say Takbir along with them and invoke Allah along with them and hope for the blessings of that day and for purification from sins.

ہم سے محمد نے بیان کیا کہا ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے کہا ہم سے میرے باپ نے انہوں نے عاصم بن سلیمان سے انہوں نے حفصہ بنت سیرین سے انہوں نے اُمٍّ عطیہ سے انہوں نے کہا (آپﷺ کے عہد میں ) ہم کو عید کے دن نکلنے کا حکم ہوتا ۔ یہاں تک کہ کنواری عورت بھی پردے میں سے نکلتیں اور حائضہ بھی نکلتیں ۔ وہ لوگوں کے پیچھے رہتیں ، مردوں کے ساتھ تکبیریں کہتیں اور ان کی دعا میں شریک ہوتیں ، اس دن کی برکت اور پاکیزگی حاصل کرنے کی امید رکھتیں ۔

13. Praying on the day of Eid using "Harba"(a small spear) (as a Sutra).



حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ تُرْكَزُ الْحَرْبَةُ قُدَّامَهُ يَوْمَ الْفِطْرِ وَالنَّحْرِ ثُمَّ يُصَلِّ

Narrated By Ibn Umar : On the day of 'Id-ul-Fitr and 'Id-ul-Adha a spear used to be planted in front of the Prophet I (as a Sutra for the prayer) and then he would pray.

ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا کہا ہم سے عبدالوہاب ثقفی نے کہا ہم سے عبیداللہ عمری نے انہوں نے نافع سے انہوں نے ابن عمرؓ سے کہ عیدالفطر اَور عیدٍالاضحیٰ کے دن آپؐ کے سامنے برچھی گاڑی جاتی پھر آپؐ ( اس کی آڑ میں ) نماز پڑھتے ۔

14. To put the Anaza (spear-headed stick) or Harba in front of the Imam on Eid day.



حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو، قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَغْدُو إِلَى الْمُصَلَّى، وَالْعَنَزَةُ بَيْنَ يَدَيْهِ، تُحْمَلُ وَتُنْصَبُ بِالْمُصَلَّى بَيْنَ يَدَيْهِ فَيُصَلِّي إِلَيْهَا‏

Narrated By Ibn Umar : The Prophet used to proceed to the Musalla and an 'Anaza used to be carried before him and planted in the Musalla in front of him and he would pray facing it (as a Sutra).

ہم سے ابراہیم بن منذر حزامی نے بیان کیا کہا ہم سے ولید ابنِ مسلم نے کہا ہم سے امام ابو عمرو اوزاعی نے کہا مجھ سے نافع نے انہوں نے عبدُاللہ بن عمرؓ سے کہا نبیﷺ صبح کو عید گاہ کو جاتے اور برچھی آپؐ کے آگے آگے لے چلتے ۔وُہ عیدگاہ میں آپؐ کے سامنے گاڑی جاتی ۔ آپؐ اس کی آڑ میں نماز پڑھتے ۔

15. Coming out of ladies and menstruating women to Musalla



حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ أُمِرْنَا أَنْ نُخْرِجَ، الْعَوَاتِقَ وَذَوَاتِ الْخُدُورِ‏.‏ وَعَنْ أَيُّوبَ عَنْ حَفْصَةَ بِنَحْوِهِ‏.‏ وَزَادَ فِي حَدِيثِ حَفْصَةَ قَالَ أَوْ قَالَتِ الْعَوَاتِقَ وَذَوَاتِ الْخُدُورِ، وَيَعْتَزِلْنَ الْحُيَّضُ الْمُصَلَّى‏

Narrated By Muhammad : Um 'Atiyya said: "Our Prophet ordered us to come out (on 'Id day) with the mature girls and the virgins staying in seclusion." Hafsa narrated the above mentioned Hadith and added, "The mature girls or virgins staying in seclusion but the menstruating women had to keep away from the Musalla."

ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا کہا ہم سے حماد بن زید نے انہوں نے ایوب سختیانی سے انہوں نے محمد بن سیرین سے انہوں نے امّ عطیہ سے انہوں نے کہا نبیﷺ نے ہم کو حکم دیا تھا کہ ہم جوان عورتوں پردے والیوں کو (عید کے دن نکالیں)
اور ایوب نے حفصہؓ سے ایسی روایت کی حفصہ کی حدیث میں یہ ہے کہ ایوب نے کہا یا حفصہ نے کہ جوان عورتوں کو اور پردے والیوں کو اور حیض والیاں نماز کی جگہ سے علیحٰدہ رہیں ۔

16. Attendance of boys at the Musalla



حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ فِطْرٍ أَوْ أَضْحَى، فَصَلَّى ثُمَّ خَطَبَ، ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ فَوَعَظَهُنَّ وَذَكَّرَهُنَّ، وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ‏

Narrated By Ibn Abbas : I (in my boyhood) went out with the Prophet on the day of 'Id-ul-Fitr or Id-ul-Adha. The Prophet prayed and then delivered the Khutba and then went towards the women, preached and advised them and ordered them to give alms.

ہم سے عمرو بن عبا س نے بیان کیا کہا ہم سے عبدالرّحمٰن بن مہدی نے کہا ، ہم سے سفیان ثوری نے انہوں نے عبدالرحمٰن بن عابس سے انہوں نے کہا مَیں نے ابنٍ عباسؓ سے سنا انہوں نے کہا میں عیدالفطر یا عیدٍ اضحیٰ کے دن نبیﷺ کے ساتھ نکلا ۔ اور آپؐ نے عید کی نماز پڑھائی ، پھر خُطبہ سنایا پھر عورتوں کے پاس تشریف لائے ۔ ان کو وعظ نصیحت کی اور صدقہ کا حکم دیا ۔

17. Imam faces the people while delivering the Khutba of Eid.

Abu Saeed said, "The Prophet (s.a.w) stood facing the people".


حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ أَضْحًى إِلَى الْبَقِيعِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ وَقَالَ ‏"‏ إِنَّ أَوَّلَ نُسُكِنَا فِي يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نَبْدَأَ بِالصَّلاَةِ، ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ وَافَقَ سُنَّتَنَا، وَمَنْ ذَبَحَ قَبْلَ ذَلِكَ فَإِنَّمَا هُوَ شَىْءٌ عَجَّلَهُ لأَهْلِهِ، لَيْسَ مِنَ النُّسُكِ فِي شَىْءٍ ‏"‏‏.‏ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي ذَبَحْتُ وَعِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اذْبَحْهَا، وَلاَ تَفِي عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ ‏"‏‏.

Narrated By Al-Bara' : The Prophet went towards Al-Baqi (the grave-yard at Medina) on the day of Id-ul-Adha and offered a two-Rakat prayer (of 'Id-ul-Adha) and then faced us and said, "On this day of ours, our first act of worship is the offering of prayer and then we will return and slaughter the sacrifice, and whoever does this concords with our Sunna; and whoever slaughtered his sacrifice before that (i.e. before the prayer) then that was a thing which he prepared earlier for his family and it would not be considered as a Nusuk (sacrifice.)" A man stood up and said, "O, Allah's Apostle! I slaughtered (the animal before the prayer) but I have a young she-goat which is better than an older sheep." The Prophet (p.b.u.h) said to him, "Slaughter it. But a similar sacrifice will not be sufficient for anybody else after you."

ہم سے ابو نعیم فضل بن دکین نے بیان کیا کہا ہم سے محمد بن طلحہ نے انہوں نے زبید سے انہوں نے شعبی سے ، انہوں نے براء بن عازبؓ سے انہوں نے کہا نبیﷺ عیداضحیٰ کے دن بقیع کی طرف نکلے اور دو رکعتیں ( عید کی ) پڑھائیں ۔ پھر ہماری طرف منہ کیا اور فرمایا پہلی عبادت جو اس دن ہم کو کرنا چاہیے وہ یہ ہے کہ نماز شروع کریں پھر ( نماز اور خطبے سے ) لوٹ کر قربانی کریں جو کوئی ایسا کرے گا ، وہ ہماری سنّت پر چلا اور جس نے نماز سے پہلے جانور کاٹ لیا اس نے اپنے گھر والوں ( کو گوشت کھلانے ) کے لیے جلدی سے کاٹ لیا وہ کچھ قربانی نہیں ہے ، یہ سن کر ایک شخص ( ابو بردہؓ ) کھڑا ہُوا ، کہنے لگا یا رسول اللہ ﷺ میں تو کاٹ چکا اب میرے پاس ایک پٹھیا ہے ایک سال کی جو دو سال والی سے بہتر ہے ۔ آپؐ نے فرمایا اسی کو کاٹ اور تیرے بعد پھر کسی کی طرف سے ایسی پٹھیا جائز نہ ہوگی ۔

18. The mark of the Musalla.



حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَابِسٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، قِيلَ لَهُ أَشَهِدْتَ الْعِيدَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ نَعَمْ، وَلَوْلاَ مَكَانِي مِنَ الصِّغَرِ مَا شَهِدْتُهُ، حَتَّى أَتَى الْعَلَمَ الَّذِي عِنْدَ دَارِ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ فَصَلَّى ثُمَّ خَطَبَ ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ، وَمَعَهُ بِلاَلٌ، فَوَعَظَهُنَّ وَذَكَّرَهُنَّ، وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ، فَرَأَيْتُهُنَّ يُهْوِينَ بِأَيْدِيهِنَّ يَقْذِفْنَهُ فِي ثَوْبِ بِلاَلٍ، ثُمَّ انْطَلَقَ هُوَ وَبِلاَلٌ إِلَى بَيْتِهِ‏

Narrated By 'Abdur Rahman bin 'Abis : Ibn Abbas was asked whether he had joined the Prophet in the 'Id prayer. He said, "Yes. And I could not have joined him had I not been young. (The Prophet came out) till he reached the mark which was near the house of Kathir bin As-Salt, offered the prayer, delivered the Khutba and then went towards the women. Bilal was accompanying him. He preached to them and advised them and ordered them to give alms. I saw the women putting their ornaments with their outstretched hands into Bilal's garment. Then the Prophet along with Bilal returned home.

ہم سے مسدد نے بیان کیا کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے انہوں نے سفیان ثوری سے کہا مجھ سے عبدالرحمٰن بن عابس نے انہوں نے کہا میں نے ابن عباسؓ سے سُنا ان سے پوچھا گیا تم نبیﷺ کے ساتھ عید کی نماز میں حاضر تھے ۔ انہوں نے کہا ہاں اور اگر میرے چھُٹپنے کی وجہ سے نبیﷺ کو مجھ سے اُلفت نہ ہوتی تو میں آپؐ کے ساتھ نہ رہ سکتا ۔ آپؐ اس نشان کے پاس آئے جو کثیر بن صلت کے گھر کے نزدیک ہے آپؐ نے نماز پڑھائی پھر خطبہ سنایا پھر عورتوں کے پاس تشریف لائے ۔ بلالؓ آپؐ کے ساتھ تھے آپؐ نے ان کو وعظ اور نصیحت کی ، خیرات کا حکم دیا ۔ میں نے خود دیکھا عورتیں اپنے ہاتھ پھیلاتیں اور بلالؓ کے کپڑے میں ڈالتیں ۔ پھر آپؐ بلال سمیت اپنے گھر کو چلے۔

19. Imam preaching to women on Eid day



حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَصْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ قَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْفِطْرِ، فَصَلَّى فَبَدَأَ بِالصَّلاَةِ ثُمَّ خَطَبَ، فَلَمَّا فَرَغَ نَزَلَ فَأَتَى النِّسَاءَ، فَذَكَّرَهُنَّ وَهْوَ يَتَوَكَّأُ عَلَى يَدِ بِلاَلٍ وَبِلاَلٌ بَاسِطٌ ثَوْبَهُ، يُلْقِي فِيهِ النِّسَاءُ الصَّدَقَةَ‏.‏ قُلْتُ لِعَطَاءٍ زَكَاةَ يَوْمِ الْفِطْرِ قَالَ لاَ وَلَكِنْ صَدَقَةً يَتَصَدَّقْنَ حِينَئِذٍ، تُلْقِي فَتَخَهَا وَيُلْقِينَ‏.‏ قُلْتُ أَتُرَى حَقًّا عَلَى الإِمَامِ ذَلِكَ وَيُذَكِّرُهُنَّ قَالَ إِنَّهُ لَحَقٌّ عَلَيْهِمْ، وَمَا لَهُمْ لاَ يَفْعَلُونَهُ

Narrated By Ibn Juraij : 'Ata' told me that he had heard Jabir bin 'Abdullah saying, "The Prophet stood up to offer the prayer of the 'Id-ul-Fitr. He first offered the prayer and then delivered the Khutba. After finishing it he got down (from the pulpit) and went towards the women and advised them while he was leaning on Bilal's hand. Bilal was spreading out his garment where the women were putting their alms." I asked 'Ata' whether it was the Zakat of 'Id-ul-Fitr. He said, "No, it was just alms given at that time. Some lady put her finger ring and the others would do the same." I said, (to 'Ata'), "Do you think that it is incumbent upon the Imam to give advice to the women (on 'Id day)?" He said, "No doubt, it is incumbent upon the Imams to do so and why should they not do so?"

مجھ سے اسحٰق بن ابراہیم بن نصر نے بیان کیا کہا ہم سے عبدالرزاق نے کہا ہم کو عبدالملک بن جریج نے خبر دی کہا مجھ کو عطاء بن ابی رباح نے انہوں نے جابر بن عبداللہ انصاریؓ سے انہوں نے کہا نبیﷺ عید الفطر کے دن کھڑے ہوئے پہلے نماز پڑھی پھر خطبہ سنایا ۔خطبہ سے فراغت کر کے اس جگہ سے چلے بلالؓ کے ہاتھ پر ٹیکا دیے ہوئے عورتوں کے پاس آئے ان کو نصیحت کی ، بلال اپنا کپڑا پھیلائے ہوئے تھے ۔ عورتیں اس میں خیرات ڈال رہی تھیں ۔ ابن جریج نے کہا میں نے عطاء سے پوچھا کیا صدقہ فطر دے رہی تھیں ؟ انہوں نے کہا نہیں یہ اس وقت ایک الگ خیرات تھی کوئی عورت اپنا چھلاّ ڈالتی اور دوسری عورتیں بھی ایسا ہی کرتیں ۔ پھر میں نے عطاء سے کہا کیا امام پر عورتوں کو نصیحت کرنا لازم ہے انہوں نے کہا البتّہ لازم ہے اور اماموں کو کیا ہو گیا ہے جو ایسا نہ کریں ۔





قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ وَأَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ شَهِدْتُ الْفِطْرَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ ـ رضى الله عنهم ـ يُصَلُّونَهَا قَبْلَ الْخُطْبَةِ، ثُمَّ يُخْطَبُ بَعْدُ، خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ حِينَ يُجْلِسُ بِيَدِهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ يَشُقُّهُمْ حَتَّى جَاءَ النِّسَاءَ مَعَهُ بِلاَلٌ فَقَالَ ‏{‏يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ‏}‏ الآيَةَ ثُمَّ قَالَ حِينَ فَرَغَ مِنْهَا ‏"‏ آنْتُنَّ عَلَى ذَلِكَ ‏"‏‏.‏ قَالَتِ امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ مِنْهُنَّ لَمْ يُجِبْهُ غَيْرُهَا نَعَمْ‏.‏ لاَ يَدْرِي حَسَنٌ مَنْ هِيَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَتَصَدَّقْنَ ‏"‏ فَبَسَطَ بِلاَلٌ ثَوْبَهُ ثُمَّ قَالَ هَلُمَّ لَكُنَّ فِدَاءٌ أَبِي وَأُمِّي، فَيُلْقِينَ الْفَتَخَ وَالْخَوَاتِيمَ فِي ثَوْبِ بِلاَلٍ‏.‏ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ الْفَتَخُ الْخَوَاتِيمُ الْعِظَامُ كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ‏

Al-Hasan bin Muslim told me that Ibn Abbas had said, "I join the Prophet, Abu Bakr, Umar and 'Uthman in the 'Id-ul-Fitr prayers. They used to offer the prayer before the Khutba and then they used to deliver the Khutba afterwards. Once the Prophet I came out (for the 'Id prayer) as if I were just observing him waving to the people to sit down. He, then accompanied by Bilal, came crossing the rows till he reached the women. He recited the following verse: 'O Prophet! When the believing women come to you to take the oath of fealty to you... (to the end of the verse) (60.12).' After finishing the recitation he said, "O ladies! Are you fulfilling your covenant?" None except one woman said, "Yes." Hasan did not know who was that woman. The Prophet said, "Then give alms." Bilal spread his garment and said, "Keep on giving alms. Let my father and mother sacrifice their lives for you (ladies)." So the ladies kept on putting their Fatkhs (big rings) and other kinds of rings in Bilal's garment." Abdur-Razaq said, "'Fatkhs' is a big ring which used to be worn in the (Pre-Islamic) period of ignorance.

ابن جریج نے کہا مجھ سے حسن ابنٍ مسلم نے بیان کیا انہوں نے طائوس سے انہوں نے ابن عباسؓ سے انہوں نے کہا میں عیدالفطر کی نماز میں نبیﷺ اور ابوبکرؓ اور عمرؓ اور عثمانؓ کے ساتھ شریک رہا ۔ وہ سب سے پہلے نماز پڑھتے تھے پھر خطبہ اس کے بعد سناتے تھے غرض ( خطبہ سنا کر ) نبیﷺ اس جگہ سے نکلے گویا میں آپؐ کو دیکھ رہا ہوں آپؐ لوگوں کو ہاتھ کے اشارے سے بٹھا رہے تھے پھر آپؐ صفوں کو چیرتے ہوئے عورتوں کے پاس آئے بلالؓ آپؐ کے ساتھ تھے آپؐ نے ( سورت ممتحنہ کی ) یہ آیت پڑھی اےنبیﷺجب مسلمان عورتیں تیرے پاس بیعت کرنے کو آئیں اخیر تک ۔ اور فرمایا کیا تم ان باتوں پر قائم ہو ؟ کسی عورت نے آپؐ کو جواب نہ دیا ۔صرف ایک عورت نے کہا ہاں ۔ حسن بن مسلم کو معلوم نہیں کہ وہ کونسی عورت تھی آپؐ نے فرمایا اچھا تو خیرات تو کرو ۔پھر بلالؓ نے اپنا کپڑا پھیلایا اور کہا لاؤ ڈالو ، تم پر میرے ماں باپ قربان ! وہ لگیں چھلےّ اور انگوٹھیاں بلالؓ کے کپڑے میں ڈالنے ۔ عبدالرزّاق راوی نے کہا حدیث میں جو فتخ کا لفظ ہے اس سے بڑے چھلےّ مراد ہیں جو جاہلیت کے زمانے میں پہنتی تھیں ۔
 

20. If a woman has no veil to use for Eid.



حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، قَالَتْ كُنَّا نَمْنَعُ جَوَارِيَنَا أَنْ يَخْرُجْنَ يَوْمَ الْعِيدِ، فَجَاءَتِ امْرَأَةٌ فَنَزَلَتْ قَصْرَ بَنِي خَلَفٍ فَأَتَيْتُهَا فَحَدَّثَتْ أَنَّ زَوْجَ أُخْتِهَا غَزَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثِنْتَىْ عَشْرَةَ غَزْوَةً فَكَانَتْ أُخْتُهَا مَعَهُ فِي سِتِّ غَزَوَاتٍ‏.‏ فَقَالَتْ فَكُنَّا نَقُومُ عَلَى الْمَرْضَى وَنُدَاوِي الْكَلْمَى، فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلَى إِحْدَانَا بَأْسٌ إِذَا لَمْ يَكُنْ لَهَا جِلْبَابٌ أَنْ لاَ تَخْرُجَ فَقَالَ ‏"‏ لِتُلْبِسْهَا صَاحِبَتُهَا مِنْ جِلْبَابِهَا فَلْيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُؤْمِنِينَ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ حَفْصَةُ فَلَمَّا قَدِمَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ أَتَيْتُهَا، فَسَأَلْتُهَا أَسَمِعْتِ فِي كَذَا وَكَذَا قَالَتْ نَعَمْ، بِأَبِي ـ وَقَلَّمَا ذَكَرَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ قَالَتْ بِأَبِي ـ قَالَ ‏"‏ لِيَخْرُجِ الْعَوَاتِقُ ذَوَاتُ الْخُدُورِ ـ أَوْ قَالَ الْعَوَاتِقُ وَذَوَاتُ الْخُدُورِ شَكَّ أَيُّوبُ ـ وَالْحُيَّضُ، وَيَعْتَزِلُ الْحُيَّضُ الْمُصَلَّى، وَلْيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُؤْمِنِينَ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ فَقُلْتُ لَهَا آلْحُيَّضُ قَالَتْ نَعَمْ، أَلَيْسَ الْحَائِضُ تَشْهَدُ عَرَفَاتٍ وَتَشْهَدُ كَذَا وَتَشْهَدُ كَذَا

Narrated By Aiyub : Hafsa bint Sirin said, "On Id we used to forbid our girls to go out for 'Id prayer. A lady came and stayed at the palace of Bani Khalaf and I went to her. She said, 'The husband of my sister took part in twelve holy battles along with the Prophet and my sister was with her husband in six of them. My sister said that they used to nurse the sick and treat the wounded. Once she asked, 'O Allah's Apostle! If a woman has no veil, is there any harm if she does not come out (on 'Id day)?' The Prophet said, 'Her companion should let her share her veil with her, and the women should participate in the good deeds and in the religious gatherings of the believers.'" Hafsa added, "When Um-'Atiya came, I went to her and asked her, 'Did you hear anything about so-and-so?' Um-'Atiya said, 'Yes, let my father be sacrificed for the Prophet (p.b.u.h). (And whenever she mentioned the name of the Prophet she always used to say, 'Let my father be' sacrificed for him). He said, 'Virgin mature girls staying often screened (or said, 'Mature girls and virgins staying often screened... Aiyub is not sure as which was right) and menstruating women should come out (on the 'Id day). But the menstruating women should keep away from the Musalla. And all the women should participate in the good deeds and in the religious gatherings of the believers'." Hafsa said, "On that I said to Um-'Atiya, 'Also those who are menstruating?'" Um-'Atiya replied, "Yes. Do they not present themselves at 'Arafat and elsewhere?".


ہم سے ابو معمر نے بیان کیا کہا ہم سے عبدالوارث نے کہا ہم سے ایوب سختیانی نے انہوں نے حفصہ بنت سیرین سے انہوں نے کہا ہم اپنی لڑکیوں کو عید کے دن باہر نکلنے سے منع کیا کرتے تھے ۔ پھر ایک عورت ( باہر سے ) بصرےٰ میں آئی اور بنی خلف کے محل میں اُتری ۔ میں اس سے ملنے گئی ۔ اس نے بیان کیا اس کے بہنوئی نے نبیﷺ کے ساتھ بارہ جہاد کیے تھے اور چھ جہادوں میں اس کی بہن بھی نبیﷺ کے ساتھ تھی ۔ اس نے کہا ہم بیماروں کی خدمت کیا کرتیں اور زخمیوں کی دوا دارُو اس نےرسول اللہﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہﷺ ہم میں سے کسی عورت کے پاس دوپٹہ یا چادر نہ ہو تو کچھ قباحت تو نہیں اگر وہ عید کے دن نہ نکلے ؟ آپؐ نے فرمایا اس کی ہم جولی اپنی چادر یا دوپٹہ اس کو پہنا دے اور عورتوں کو لازم ہے کہ ثواب کے کام میں حاضر ہو ں اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں ۔ حفصہ نے کہا جب ام عطیہؓ ( بصرےٰ میں ) آئیں تو میں نے ان سے پُوچھا تم نے ان باتوں میں کچھ سُنا ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں ، میرا باپ آپؐ پر سے قربان اور ام عطیہؓ کم ایسا ہوتا کہ نبیﷺ کا ذکر کرتیں اور یہ نہ کہتیں کہ میرا باپ آپؐ پر سے قربان ، آپؐ نے فرمایا جوان پردے والیاں یا جوان اور پردے والیاں عورتیں ہی نکلیں ، یہ شک ایوب کو ہُوا ، اور حیض والیاں بھی مگر حیض والی نماز کی جگہ سے جدا رہیں اور نیک کام میں اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں ۔ حفصہ نے کہا میں نے ام عطیہؓ سے کہا حیض والیاں بھی نکلیں ؟ انہوں نے کہا کیا حیض والیاں حج میں عرفات میں نہیں آتی ، کیا فلاں جگہ نہیں آ تی فلاں جگہ ۔

21. Menstruating women should not attend Musalla.



حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ أُمِرْنَا أَنْ نَخْرُجَ فَنُخْرِجَ الْحُيَّضَ وَالْعَوَاتِقَ وَذَوَاتِ الْخُدُورِ‏.‏ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ أَوِ الْعَوَاتِقَ ذَوَاتِ الْخُدُورِ، فَأَمَّا الْحُيَّضُ فَيَشْهَدْنَ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَدَعْوَتَهُمْ، وَيَعْتَزِلْنَ مُصَلاَّهُمْ‏

Narrated By Um-'Atiya : We were ordered to go out (for 'Id) and also to take along with us the menstruating women, mature girls and virgins staying in seclusion. (Ibn 'Aun said, "Or mature virgins staying in seclusion)." The menstruating women could present themselves at the religious gathering and invocation of Muslims but should keep away from their Musalla.

ہم سے محمد بن مثنی نے بیان کیا کہا ہم سے محمد بن ابراہیم بن عدی نے انہوں نے عبداللہ بن عون سے انہوں نے محمد بن سیرین سے انہوں نے کہا ام عطیہؓ نے کہا ہم کو آپﷺ کا حکم تھا کہ ( عید کے دن ) نکلیں ۔ پھر ہم حیض والیوں اور جوانوں اور پردے والیوں سب کو نکالتے ۔ ابنِ عون نے کہا یا یوں کہا جوانوں پردے والیوں کو مگر حائضہ عورتیں صرف مسلمانوں کی جماعت اور دعا میں شریک ہوں نماز کے مقام سے الگ رہیں ۔

22. Al-Nahr and to slaughter animals (as offerings) at the Musalla on the day of Nahr.



حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ فَرْقَدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَنْحَرُ أَوْ يَذْبَحُ بِالْمُصَلَّى

Narrated By Ibn 'Umar : The Prophet (p.b.u.h) used to Nahr or slaughter sacrifices at the Musalla (on 'Id-ul-Adha).


ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا کہا ہم سے لیث بن سعد نے کہا مجھ سے کثیر بن فرقد نے انہوں نے نافع سے انہوں نے ابن عمرؓ سے انہوں نے کہا نبیﷺ عیدگاہ ہی میں نحر اور ذبح کیا کرتے ۔

23. The talk of the Imam and the people during the Khutba of Eid and if the Imam is asked about something while he is delivering the Khutba.



حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، قَالَ حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ النَّحْرِ بَعْدَ الصَّلاَةِ فَقَالَ ‏"‏ مَنْ صَلَّى صَلاَتَنَا وَنَسَكَ نُسْكَنَا فَقَدْ أَصَابَ النُّسُكَ، وَمَنْ نَسَكَ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَتِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ ‏"‏‏.‏ فَقَامَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَقَدْ نَسَكْتُ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ إِلَى الصَّلاَةِ، وَعَرَفْتُ أَنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ فَتَعَجَّلْتُ وَأَكَلْتُ وَأَطْعَمْتُ أَهْلِي وَجِيرَانِي‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ تِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ ‏"‏‏.‏ قَالَ فَإِنَّ عِنْدِي عَنَاقَ جَذَعَةٍ، هِيَ خَيْرٌ مِنْ شَاتَىْ لَحْمٍ، فَهَلْ تَجْزِي عَنِّي قَالَ ‏"‏ نَعَمْ، وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ ‏"‏‏

Narrated By Al-Bara' bin 'Azib : On the day of Nahr Allah's Apostle delivered the Khutba after the 'Id prayer and said, "Anyone who prayed like us and slaughtered the sacrifice like we did then he acted according to our (Nusuk) tradition of sacrificing, and whoever slaughtered the sacrifice before the prayer, then that was just mutton (i.e. not sacrifice)." Abu Burda bin Naiyar stood up and said, "O Allah's Apostle! By Allah, I slaughtered my sacrifice before I offered the (Id) prayer and thought that today was the day of eating and drinking (non-alcoholic drinks) and so I made haste (in slaughtering) and ate and also fed my family and neighbors." Allah's Apostle said, "That was just mutton (not a sacrifice)." Then Abu Burda said, "I have a young she-goat and no doubt, it is better than two sheep. Will that be sufficient as a sacrifice for me?" The Prophet replied, "Yes. But it will not be sufficient for anyone else (as a sacrifice), after you."

ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا کہا ہم سے ابو الاحوص سلام ابن سلیم نے کہا ہم سے منصور بن معتمر نے انہوں نے عامر شعبی سے انہوں نے براء بن عازبؓ سے انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے ہم کو عیداضحیٰ کے دن نماز کے بعد خُطبہ سنایا اور فرمایا جو کوئی ہماری نماز کی طرح نماز پڑھے اور ہماری قربانی کی طرح قربانی کرے اس کی قُربانی درُست ہوئی اور جس نے نماز سے پہلے قربانی کر لی وہ ( قربانی کا ہے کو ہوئی ) گوشت کی بکری ہوئی ۔ ابوبردہ بن نیارؓ نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ میں نے تو نماز کے لیے نکلنے سے پیشتر ہی قُربانی کر لی ۔ میں یہ سمجھا کہ یہ دن کھانے پینے کا ہے اس لیے میں نے جلدی کی ۔ خود بھی کھایا اور اپنے گھر والوں اور پڑوسیوں کو بھی کھلایا ۔رسول اللہﷺ نے فرمایا یہ تو گوشت کی بکری ٹھہری ابوبردہؓ نے کہا میرے پاس ایک پٹھیا ہے سال بھر کی ، دو بکریوں سے افضل ہے ، کیا میری طرف سے اس کی قربانی صحیح ہو گی ؟ آپؐ نے فرمایا ہاں ، مگر تیرے بعد پھر کسی اور کو کافی نہ ہو گی ۔





حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى يَوْمَ النَّحْرِ، ثُمَّ خَطَبَ فَأَمَرَ مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاَةِ أَنْ يُعِيدَ ذَبْحَهُ فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، جِيرَانٌ لِي ـ إِمَّا قَالَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ، وَإِمَّا قَالَ بِهِمْ فَقْرٌ ـ وَإِنِّي ذَبَحْتُ قَبْلَ الصَّلاَةِ وَعِنْدِي عَنَاقٌ لِي أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ شَاتَىْ لَحْمٍ‏.‏ فَرَخَّصَ لَهُ فِيهَا‏

Narrated By Anas bin Malik : Allah's Apostle offered the prayer on the day of Nahr and then delivered the Khutba and ordered that whoever had slaughtered his sacrifice before the prayer should repeat it, that is, should slaughter another sacrifice. Then a person from the Ansar stood up and said, "O Allah's Apostle! because of my neighbours (he described them as being very needy or poor) I slaughtered before the prayer. I have a young she-goat which, in my opinion, is better than two sheep." The Prophet gave him the permission for slaughtering it as a sacrifice.

ہم سے حامد بن عُمر نے بیان کیا انہوں نے حماد بن زید سے انہوں نے ایوب سختیانی سے انہوں نے محمد سے انہوں نے انس بن مالکؓ سے انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے عیدٍاضحیٰ کے دن نماز پڑھائی پھر خطبہ سنایا اور لوگوں کو یہ حکم دیا جس نے نماز سے پہلے ذبح کر لیا وہ دوبارہ ذبح کرے ۔ یہ سُن کر ایک انصاری مرد کھڑا ہُوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ﷺ میرے کچھ ہمسایہ ہیں ، ان کو بھوک کی تکلیف رہتی ہے یا یوں کہا وُہ محتاج ہیں اور میں نے ( اس وجہ سے ) نماز سے پہلے ذبح کر لیا ۔ اب میرے پاس ایک سال کی ایک پٹھیا ہے جو گوشت کی دو بکریوں سے مجھے زیادہ پسند ہے ۔ آپؐ نے اس کو اجازت دی ۔





حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ جُنْدَبٍ، قَالَ صَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ خَطَبَ، ثُمَّ ذَبَحَ فَقَالَ ‏"‏ مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ فَلْيَذْبَحْ أُخْرَى مَكَانَهَا، وَمَنْ لَمْ يَذْبَحْ فَلْيَذْبَحْ بِاسْمِ اللَّهِ ‏"‏‏

Narrated By Jundab : On the day of Nahr the Prophet offered the prayer and delivered the Khutba and then slaughtered the sacrifice and said, "Anybody who slaughtered (his sacrifice) before the prayer should slaughter another animal in lieu of it, and the one who has not yet slaughtered should slaughter the sacrifice mentioning Allah's name on it."

ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے انہوں نے اسود بن قیس سے انہوں نے جندب سے انہوں نے کہا نبیﷺ نے عیدٍاضحیٰ کے دن نماز پڑھائی ۔ پھر خطبہ سنایا پھر قربانی کی اور فرمایا جس شخص نے نماز سے پہلے ذبح کیا ہو وہ اس کے بدلہ دوسری قُربانی کرے اور جس نے ذبح نہ کیا ہو وہ اللہ کے نام پر ذبح کرے ۔

24. Whoever returned (after offering the Eid prayer) on the day of Eid through a way different from that by which he went.



حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ، يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ عَنْ فُلَيْحِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا كَانَ يَوْمُ عِيدٍ خَالَفَ الطَّرِيقَ‏.‏ تَابَعَهُ يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ فُلَيْحٍ‏.‏ وَحَدِيثُ جَابِرٍ أَصَحُّ‏

Narrated By Jabir bin 'Abdullah : On the Day of 'Id the Prophet used to return (after offering the 'Id prayer) through a way different from that by which he went.

ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا کہا ہم کو ابو تمیلہ نے خبر دی ۔ اس کا نام یحییٰ بن واضح تھا ۔ اس نے فلیح بن سلیمان سے انہوں نے سعید بن حارث سے انہوں نے جابرؓ سے انہوں نے کہا نبیﷺ جب عید کا دن ہوتا تو ایک رستے سے عیدگاہ کو جاتے دوسرے سے آتے ۔ ابو تمیلہ کے ساتھ فلیح بن سلیمان سے اس حدیث کو یونس نے بھی روایت کیا لیکن انہوں نے سعید کے بعد ابوہریرہؓ کہا اور جابرؓ کی روایت زیادہ صحیح ہے ۔

25. Whoever missed the Eid prayer, should pray two Rak'at

And similarly the women and those who are at home and in the villages should do so, as is confirmed by the statement of Prophet (s.a.w) : "Oh Muslims, this is our Eid". At Az-Zawiya, Anas bin Malik ordered his slave Ibn Abi Ghaniya to collect his (Anas's) family and off-spring. Anas led a prayer similar to that offered by townspeople and recited takbir similar to theirs. Ikrama said, "The villagers should gather on day of Eid and offer two rak'at as the Imam does". Ata' said, "Whoever misses the Eid prayer should pray two rak'at"


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ ـ رضى الله عنه ـ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ فِي أَيَّامِ مِنًى تُدَفِّفَانِ وَتَضْرِبَانِ، وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مُتَغَشٍّ بِثَوْبِهِ، فَانْتَهَرَهُمَا أَبُو بَكْرٍ فَكَشَفَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ وَجْهِهِ فَقَالَ ‏"‏ دَعْهُمَا يَا أَبَا بَكْرٍ فَإِنَّهَا أَيَّامُ عِيدٍ ‏"‏‏.‏ وَتِلْكَ الأَيَّامُ أَيَّامُ مِنًى‏

Narrated By 'Urwa : On the authority of 'Aisha. On the days of Mina, (11th, 12th, and 13th of Dhul-Hijjah) Abu Bakr came to her while two young girls were beating the tambourine and the Prophet was lying covered with his clothes. Abu Bakr scolded them and the Prophet uncovered his face and said to Abu Bakr, "Leave them, for these days are the days of 'Id and the days of Mina."

ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا کہا ہم سے لیث بن سعد نے انہوں نے عقیل سے انہوں نے ابنٍ شہاب سے انہوں نے عروہ سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے کہ ابوبکر صدیقؓ ان کے پاس گئے منیٰ کے دنوں میں وہاں دو لڑکیاں دف بجا رہی تھیں ( بعاث کی لڑائی کے شعر گا رہی تھیں ) اور نبیﷺ اپنا کپڑا تانے پڑے تھے ۔ ابوبکرؓ نے ان لڑکیوں کو جھڑکا ۔ اس وقت آپؐ نے اپنا منہ کھولا اور فرمایا ابوبکرؓ جانے بھی دو ، یہ عید کے دن ہیں اور وہ بھی منیٰ میں ۔





وَقَالَتْ عَائِشَةُ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَسْتُرُنِي، وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى الْحَبَشَةِ وَهُمْ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ، فَزَجَرَهُمْ عُمَرُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ دَعْهُمْ، أَمْنًا بَنِي أَرْفِدَةَ ‏"‏‏.‏ يَعْنِي مِنَ الأَمْنِ‏

'Aisha further said, "Once the Prophet was screening me and I was watching the display of black slaves in the Mosque and ('Umar) scolded them. The Prophet said, 'Leave them. O Bani Arfida! (carry on), you are safe (protected)'."

اور حضرت عائشہؓ نے کہا میں نے دیکھا نبیﷺ میری آڑ کر رہے تھے اور میں حبشیوں کی طرف دیکھ رہی تھی ۔ وہ مسجد میں ( ہتھیاروں سے ) کھیل رہے تھے ۔حضرت عمرؓ نے ان کو ڈانٹا ۔ نبیﷺ نے فرمایا جانے دو اور اُن سے فرمایا بنی ارفدہ تم بے فکر کھیلو ۔

26. The offering of prayer before or after the Eid prayer.

Ibn Abbas disliked to pray before Eid prayer.


حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ يَوْمَ الْفِطْرِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلاَ بَعْدَهَا وَمَعَهُ بِلاَلٌ‏

Narrated By Ibn 'Abbas : The Prophet went out and offered a two Rakat prayer on the Day of 'Id-ul-Fitr and did not offer any other prayer before or after it and at that time Bilal was accompanying him.


ہم سے ابوالولید نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے کہا مجھ کو عدی ابن ثابت نے کہا میں نے سعید بن جبیرؓ سے سُنا انہوں نے ابنٍ عباسؓ سے کہ نبیﷺ عید الفطر کے دن ( گھر سے ) نکلے ۔ پھر دو رکعتیں ( عید کی ) پڑھائیں ۔نہ ان سے پہلے نفل پڑھے نہ اُن کے بعد اور بلالؓ آپؐ کے ساتھ تھے ۔
 
 

 

Sahih Bukhari Book12: Fear Prayer أبواب صلاة الخوف


Sahih Bukhari

Book12: Fear Prayer    أبواب صلاة الخوف 

 

1. The Fear Prayer

And the Statement of Allah, "And when you travel in the land, there is no sin on you if you shorten As-Salat if you fear that the disbelievers may put you on trial, verily the disbelievers are ever unto you open enemies. When you (O Muhammad (s.a.w)) are among them, and lead them in Salat, let one party of them stand up with you taking their arms with them; when they finish their prostrations, let them take their position in the rear, and let the other party come up which has not yet offered Salat and let them offer Salat with you taking all precautions and bearing arms. Those who disbelieve wish, if you were negligent of your arms and baggage, to attack you in a single rush, but there is no sin on you if you put your arms away because of the inconvenience of rain or because you are ill, but take (every) precaution for yourselves. Verily! Allah has prepared a humiliating torment for the disbelievers". (V.4:101-102)


حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ سَأَلْتُهُ هَلْ صَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَعْنِي صَلاَةَ الْخَوْفِ قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمٌ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قِبَلَ نَجْدٍ، فَوَازَيْنَا الْعَدُوَّ فَصَافَفْنَا لَهُمْ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي لَنَا فَقَامَتْ طَائِفَةٌ مَعَهُ تُصَلِّي، وَأَقْبَلَتْ طَائِفَةٌ عَلَى الْعَدُوِّ وَرَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَنْ مَعَهُ، وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ انْصَرَفُوا مَكَانَ الطَّائِفَةِ الَّتِي لَمْ تُصَلِّ، فَجَاءُوا، فَرَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِهِمْ رَكْعَةً، وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ، فَقَامَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ فَرَكَعَ لِنَفْسِهِ رَكْعَةً وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ‏

Narrated By Shu'aib : I asked Az-Zuhri, "Did the Prophet ever offer the Fear Prayer?" Az-Zuhri said, "I was told by Salim that 'Abdullah bin Umar I had said, 'I took part in a holy battle with Allah's Apostle I in Najd. We faced the enemy and arranged ourselves in rows. Then Allah's Apostle (p.b.u.h) stood up to lead the prayer and one party stood to pray with him while the other faced the enemy. Allah's Apostle (p.b.u.h) and the former party bowed and performed two prostrations. Then that party left and took the place of those who had not prayed. Allah's Apostle prayed one Raka (with the latter) and performed two prostrations and finished his prayer with Taslim. Then everyone of them bowed once and performed two prostrations individually.'"

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا کہا ہم کو شعیب نے خبر دی انہوں نے زہری سے شعیب نے کہا میں نے زہری سے پوچھا کیا نبی ﷺ نے خوف کی نماز پڑھی ہے انہوں نے کہا ہم سے سالم نے بیان کیا کہ ان کے باپ عبد اللہ بن عمرؓ نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نجد کی طرف جہاد کیا( غزوہ ذات الرقاع میں ) ہم دشمنوں کے مقابل ہوئے اور صفیں باندھیں ۔رسول اللہ ﷺ ہم کو نماز پڑھانے کے لیے کھڑے ہوئے تو
(ہم میں سے )ایک گروہ تو آپؐ کے ساتھ نماز میں کھڑا ہوا اور ایک گروہ دشمن کی طرف منہ کیے رہا پھر رسول اللہ ﷺ نے رکوع کیا اور ان لوگوں نے بھی جو نماز میں آپؐ کے ساتھ تھے اور دو سجدے کیے اب یہ گروہ لوٹ کر اس گروہ کی جگہ پر آ گیا جو نماز میں شریک نہیں ہوا تھا اور وہ گرہ آیا تب رسول اللہ ﷺ نے ایک رکعت ان کے ساتھ پڑھی اور دو سجدے کیے اور پھر سلام پھیر دیا اب اس گروہ میں سے ہر شخص کھڑا ہُوا اور اس نے اکیلے اکیلے ایک رکوع اور دو سجدے اداکیے ۔

2. Offering fear prayer while standing or riding



حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقُرَشِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، نَحْوًا مِنْ قَوْلِ مُجَاهِدٍ إِذَا اخْتَلَطُوا قِيَامًا‏.‏ وَزَادَ ابْنُ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَإِنْ كَانُوا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَلْيُصَلُّوا قِيَامًا وَرُكْبَانًا ‏"‏‏

Narrated By Nafi' : Ibn Umar said something similar to Mujahid's saying: Whenever (Muslims and non-Muslims) stand face to face in battle, the Muslims can pray while standing. Ibn Umar added, "The Prophet said, 'If the number of the enemy is greater than the Muslims, they can pray while standing or riding (individually).'"


ہم سے سعید بن یحییٰ بن سعید قرشی نے بیان کیا کہا مجھ سے میرے باپ یحییٰ نے کہا ہم سے ابن جریج نے انہوں نے موسیٰ بن عقبہ سے انہو٘ں نے نافع سے انہوں نے عبد اللہ بن عمرؓ سے مجاہد کے قول کی طرح کہ جب لڑائی میں غٹ پٹ ہو جائیں کھڑے کھڑے پڑھ لیں اور ابن عمرؓ نے نبی ﷺ سے اتنا اور بڑ ھایا ہے اگر کافر بہت سا رے ہوں (کہ مسلمانوں کو دم نہ لینے دیں ) تو کھڑے کھڑے اور سوار رہ کر نماز پڑھ لیں ۔

3. Guarding one another during Fear Prayer



حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ، فَكَبَّرَ وَكَبَّرُوا مَعَهُ، وَرَكَعَ وَرَكَعَ نَاسٌ مِنْهُمْ، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدُوا مَعَهُ، ثُمَّ قَامَ لِلثَّانِيَةِ فَقَامَ الَّذِينَ سَجَدُوا وَحَرَسُوا إِخْوَانَهُمْ، وَأَتَتِ الطَّائِفَةُ الأُخْرَى فَرَكَعُوا وَسَجَدُوا مَعَهُ، وَالنَّاسُ كُلُّهُمْ فِي صَلاَةٍ، وَلَكِنْ يَحْرُسُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا‏

Narrated By Ibn Abbas : Once the Prophet (p.b.u.h) led the fear prayer and the people stood behind him. He said Takbir (Allahu-Akbar) and the people said the same. He bowed and some of them bowed. Then he prostrated and they also prostrated. Then he stood for the second Raka and those who had prayed the first Raka left and guarded their brothers. The second party joined him and performed bowing and prostration with him. All the people were in prayer but they were guarding one another during the prayer.

ہم سے حیوہ بن شریح نے بیان کیا کہا ہم سے محمد بن حرب نے انہوں نے زبیدی سے انہوں نے زہری سے انہوں نے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعودؓ سےانہوں نے عبد اللہ بن عباسؓ سے انہوں نے کہا نبی ﷺ کھڑے ہوئے (میدان جنگ میں )اور لوگ بھی آپؐ کے ساتھ کھڑے ہوئے آپؐ نے تکبیر کہی لوگوں نے بھی آپؐ کے ساتھ تکبیر کہی سب نے پھر آپؐ نے رکوع کیا تو تھوڑے آدمیوں نے آپؐ کے ساتھ رکوع کیا پھر آپؐ نے سجدہ کیا تو انہی تھوڑے آدمیوں نے آپؐ کے ساتھ سجدہ کیا پھر آپؐ دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے اور جو لوگ (رکوع اور) سجدہ آپؐ کے ساتھ کر چکے تھے وہ کھڑے کھڑے اپنے بھائیوں کی نگہبانی کرتے رہے اور دوسرا گروہ آیا اس نے آپؐ کے ساتھ رکوع اور سجدہ کیا اور سب لوگ نماز ہی میں رہے لیکن ایک دوسرے کی نگہبانی کرتے رہے ۔

4. The prayer at the time of besieging a fort and at meeting the enemy



حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُبَارَكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ جَاءَ عُمَرُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ، فَجَعَلَ يَسُبُّ كُفَّارَ قُرَيْشٍ وَيَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا صَلَّيْتُ الْعَصْرَ حَتَّى كَادَتِ الشَّمْسُ أَنْ تَغِيبَ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَأَنَا وَاللَّهِ مَا صَلَّيْتُهَا بَعْدُ ‏"‏‏.‏ قَالَ فَنَزَلَ إِلَى بُطْحَانَ فَتَوَضَّأَ، وَصَلَّى الْعَصْرَ بَعْدَ مَا غَابَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ بَعْدَهَا‏

Narrated By Jabir bin 'Abdullah : On the day of the Khandaq Umar came, cursing the disbelievers of Quraish and said, "O Allah's Apostle! I have not offered the 'Asr prayer and the sun has set." The Prophet replied, "By Allah! I too, have not offered the prayer yet. "The Prophet then went to Buthan, performed ablution and performed the 'Asr prayer after the sun had set and then offered the Maghrib prayer after it."


ہم سے یجییٰ بن جعفر نے بیان کیا کہا ہم کو وکیع نے انہوں نے علی بن مبارک سے انہوں نے یحییٰ ابن کثیر سے انہوں نے ابو سلمہ سے انہوں نے جابربن عبد اللہ انصاری سے انہوں نے کہا حضرت عمرؓ خندق کے دن قریش کے کافروں کو گالیاں دیتے ہوئے آئے اور عرض کرنے لگے یا رسول اللہ ﷺ میں نے تو عصر کی نماز اس وقت تک نہیں پڑھی کہ سورج ڈوبنے ہی کو تھا نبی ﷺ نے فر مایا (خیر تم نے تو اخیر وقت میں پڑھ بھی لی ) میں نے تو قسم خدا کی ابھی تک نہیں پڑھی پھر آپؐ بطحان میں اُترے (جو ایک میدان ہے مدینہ میں ) وہاں وضو کیا اور عصر کی نماز پڑھی سورج ڈوب گیا تھا پھر مغرب کی نماز اس کے بعد پڑھی ۔

5. The chaser and the chased can offer prayer by signs while riding

Al-Walid said, "I told Al-Auzai about the Salat of Shurahbil bin As-Samt and his companions on the backs of animals. On that he said, 'That was the case with us if we feared that the time of Salat would be over.' Al-Walid (disagreed with Al-Auzai) deriving his verdict from the statement of the Prophet (s.a.w), "None should offer the Asr prayer but at Bani Quraiza"


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، قَالَ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لَنَا لَمَّا رَجَعَ مِنَ الأَحْزَابِ ‏"‏ لاَ يُصَلِّيَنَّ أَحَدٌ الْعَصْرَ إِلاَّ فِي بَنِي قُرَيْظَةَ ‏"‏‏.‏ فَأَدْرَكَ بَعْضُهُمُ الْعَصْرَ فِي الطَّرِيقِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لاَ نُصَلِّي حَتَّى نَأْتِيَهَا، وَقَالَ بَعْضُهُمْ بَلْ نُصَلِّي لَمْ يُرَدْ مِنَّا ذَلِكَ‏.‏ فَذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يُعَنِّفْ وَاحِدًا مِنْهُمْ‏

Narrated Ibn' Umar when the Prophet(s.a.w.) returned from the battle of Al-Ahzab (clans) , He said to us"No one is to offer the Asr prayer but at Bani-Quraiza " to some of the Asr was due on the way.Some of us decided not to pray but at Bani Quraza while some others decided to pray on the spot and said that the intention of the prophet(s.a.w.) was not what the formal party had understood. And when that was told to the prophet (s.a.w.) he did not blame any one of them.

ہم سے عبد اللہ بن محمد بن اسماء نے بیان کیا کہا ہم سے جویریہ ابن اسماء نے، انہوں نے نافع سے انہوں نے عبد اللہ بن عمرؓ سے نبیﷺ جب جنگ خندق سے لوٹے (ابو سفیان چل دیا) تو آپؐ نے فرمایا کوئی شخص عصر کی نماز نہ پڑھے مگر بنی قریظہ کے محلے میں پہنچ کر پھر ان کو راستے میں عصر کا وقت آ گیا اور بعضوں نے کہا ہم تو( جیسا آپﷺ نے فرمایا ہے) جب تک بنی قریظہ کے پاس نہ پہنچ لیں گے عصر کی نماز نہیں پڑٖھنے کے اور بعضوں نے کہا ہم نماز پڑھ لیں گے ، آپؐ کا یہ مطلب نہ تھا (کہ نماز قضا کر دو) پھر نبی ﷺ سے اس کا ذکر آیا تو آپؐ نے ان میں سے کسی کو ملامت نہیں کی۔

6. Takbir and offering prayer early when it is still dark and praying while attacking enemy and in battles



حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، وَثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى الصُّبْحَ بِغَلَسٍ ثُمَّ رَكِبَ فَقَالَ ‏"‏ اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ ‏"‏‏.‏ فَخَرَجُوا يَسْعَوْنَ فِي السِّكَكِ وَيَقُولُونَ مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ ـ قَالَ وَالْخَمِيسُ الْجَيْشُ ـ فَظَهَرَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَتَلَ الْمُقَاتِلَةَ وَسَبَى الذَّرَارِيَّ، فَصَارَتْ صَفِيَّةُ لِدِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ، وَصَارَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ تَزَوَّجَهَا وَجَعَلَ صَدَاقَهَا عِتْقَهَا‏.‏ فَقَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ لِثَابِتٍ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ، أَنْتَ سَأَلْتَ أَنَسًا مَا أَمْهَرَهَا قَالَ أَمْهَرَهَا نَفْسَهَا‏.‏ فَتَبَسَّمَ‏

Narrated By Anas bin Malik : Allah's Apostle (p.b.u.h) offered the Fajr prayer when it was still dark, then he rode and said, 'Allah Akbar! Khaibar is ruined. When we approach near to a nation, the most unfortunate is the morning of those who have been warned." The people came out into the streets saying, "Muhammad and his army." Allah's Apostle vanquished them by force and their warriors were killed; the children and women were taken as captives. Safiya was taken by Dihya Al-Kalbi and later she belonged to Allah's Apostle go who married her and her Mahr was her manumission.

ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا کہا ہم سے حماد بن زید نے انہوں نے عبدالعزیزبن صہیب اور ثابت بنانی سے انہوں نے انس بن مالکؓ سے کہ رسول اللہ ﷺ نے صبح کی نماز اندھیرے میں پڑھی پھر سوار ہوئے اور فر مایا اللہ اکبر خیبر خراب ہُوا ہم تو جب کسی قوم کے آ نگن میں اتریں تو جو لوگ ڈرائے گئے اُن کی صبح منحوس ہوگی پھر یہودی گلی کوچوں میں دوڑتے نکلے محمد ﷺ لشکرسمیت آن پہنچے کہتے ہوئے۔راوی نے کہا خمیس لشکر کو کہتے ہیں آخر رسول اللہ ﷺ ان پر غالب آگئے اور لڑنے والے (جوانوں )کو قتل کیا اورعورتوں بچّوں کو قیدکر لیا اتفاق سے صفیہؓ دحیہ کلبی کو ملیں اور پھر رسول اللہ ﷺ کے حصّہ میں آئیں آپؐ نے اُن سے نکاح کر لیا اور ان کو آزاد کر دیا ۔یہی ان کا مہرٹھہرا عبد العزیز نے ثابت سے پوچھا ابو محمد تم نے انسؓ سے پوچھا تھا آپﷺ نے ان کا مہر کیا دیا ۔ثابت نے کہا خُود انھی کو اُن کے مہر میں دیا ۔پھر مسکرائے۔