Sahih Bukhari
Book: Ablutions (4) كِتاب الوضوء
1. What has been revealed regarding ablution?
And
the Statement of Allah, "O you who believe! When you intend to offer
Salat (prayer), wash your faces and your hands (forearms) up to the
elbow, rub (by passing wet hands over) your heads, and (wash) your feet
up to the ankles ..." (V.5:6).
Abu Abdullah said, The Prophet (s.a.w) had made clear that it is
obligatory (while performing) ablution to wash the (above mentioned)
body parts once. And the Prophet (s.a.w) also did perform the ablution
by washing (these) parts twice and thrice, but he never washed them more
than three times.
And the religious learned men disliked exceeding the limits set by the
Prophet (s.a.w) while performing ablution, and to surpass the action of
the Prophet(s.a.w).
2. No Salat is accepted without ablution (cleanliness)
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، قَالَ
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ
هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ
رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تُقْبَلُ صَلاَةُ مَنْ
أَحْدَثَ حَتَّى يَتَوَضَّأَ ". قَالَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ مَا
الْحَدَثُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ فُسَاءٌ أَوْ ضُرَاطٌ
Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "The prayer of a person
who does ,Hadath (passes, urine, stool or wind) is not accepted till he
performs (repeats) the ablution." A person from Hadaramout asked Abu
Huraira, "What is 'Hadath'?" Abu Huraira replied, "'Hadath' means the
passing of wind from the anus."
ہم سے اسحٰاق بن ابراہیم حنظلی نے بیان کیاانہوں نے کہا ہمیں عبدالرزاق
نے خبر دی انہوں نے کہا ہمیں معمر نے خبر دی اُنہوں نے ہمام بن منبہ سے
اُنہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے سنا کہ رسول اللہ ﷺنے
فرمایا: جس شخص کو حدث ہوا اس کی نماز نہیں، حضر موت سے آئے ہوے ایک شخص
نے پوچھا اے ابو ہریرہ حدث کیا چیز ہے؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
آواز یا بغیر آواز کے ہوا کا نکلنا۔
3. The superiority of ablution.
And
the parts of the body of the Muslims washed in ablution will shine on
the Day of Resurrection and the angels will call them by that name from
the traces of ablution.
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ
خَالِدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلاَلٍ، عَنْ نُعَيْمٍ الْمُجْمِرِ،
قَالَ رَقِيتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ عَلَى ظَهْرِ الْمَسْجِدِ،
فَتَوَضَّأَ فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم
يَقُولُ " إِنَّ أُمَّتِي يُدْعَوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غُرًّا
مُحَجَّلِينَ مِنْ آثَارِ الْوُضُوءِ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ
يُطِيلَ غُرَّتَهُ فَلْيَفْعَلْ "
Narrated By Nu'am Al-Mujmir : Once I went up the roof of the mosque,
along with Abu Huraira. He perform ablution and said, "I heard the
Prophet saying, "On the Day of Resurrection, my followers will be called
"Al-Ghurr-ul-Muhajjalun" from the trace of ablution and whoever can
increase the area of his radiance should do so (i.e. by performing
ablution regularly).'"
ہم سے
یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا اُنہوں نے
خالد بن یزید سے اُنہوں نے سعید بن ابی ہلال سے اُنہوں نے نعیم بن عبداللہ
مجمر سے روایت کی کہ میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد(نبوی) کی
چھت پر چڑھا اُنہوں نے وضو کیا پھر فرمایا میں نے نبی ﷺ کو فرماتے سنا
ہےکہ میری امت روزِ قیامت بلائی جائے گی اور ان کی پیشانیاں اور ہاتھ پاوں
وضو کی وجہ سے چمک رہے ہو ں گئے، لہذا جو اپنی چمک بڑھا نا چاہے بڑھا لے۔
4. One should not repeat ablution if in doubt unless and until he is convinced (that he has lost his ablution).
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا
الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَعَنْ عَبَّادِ بْنِ
تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، أَنَّهُ شَكَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه
وسلم الرَّجُلُ الَّذِي يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَجِدُ الشَّىْءَ فِي
الصَّلاَةِ. فَقَالَ " لاَ يَنْفَتِلْ ـ أَوْ لاَ يَنْصَرِفْ ـ حَتَّى
يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا "
Narrated By 'Abbas bin Tamim : My uncle asked Allah's Apostle about a
person who imagined to have passed wind during the prayer. Allah'
Apostle replied: "He should not leave his prayers unless he hears sound
or smells something."
ہم سے علی
بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا
انہوں نے کہا ہم سے زہری نے اُنہوں نے سعید بن مسیب اور عباد بن تمیم دونوں
سے اور وہ دونوں عباد کے چچا ( عبد اللہ بن زید) سے روایت کرتے ہیں کہ
انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا ایسا شخص جسے دورانِ نماز وضو کے ٹوٹنے کا
شبہ پڑ جاتا ہے (اس کے بارے میں کیا حکم ہے) آپﷺ نے فرمایا: ایسا شخص
(نماز توڑ کر) واپس نہ پلٹے جب تک اس کی آواز نہ سن لے یا بدبو نہ محسوس
کر لے ۔
5. To perform a light ablution.
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ،
عَنْ عَمْرٍو، قَالَ أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ
النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَامَ حَتَّى نَفَخَ ثُمَّ صَلَّى ـ
وَرُبَّمَا قَالَ اضْطَجَعَ حَتَّى نَفَخَ ـ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى. ثُمَّ
حَدَّثَنَا بِهِ سُفْيَانُ مَرَّةً بَعْدَ مَرَّةٍ عَنْ عَمْرٍو عَنْ
كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ
لَيْلَةً، فَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنَ اللَّيْلِ، فَلَمَّا
كَانَ فِي بَعْضِ اللَّيْلِ قَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم
فَتَوَضَّأَ مِنْ شَنٍّ مُعَلَّقٍ وُضُوءًا خَفِيفًا ـ يُخَفِّفُهُ عَمْرٌو
وَيُقَلِّلُهُ ـ وَقَامَ يُصَلِّي فَتَوَضَّأْتُ نَحْوًا مِمَّا
تَوَضَّأَ، ثُمَّ جِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ ـ وَرُبَّمَا قَالَ
سُفْيَانُ عَنْ شِمَالِهِ ـ فَحَوَّلَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ،
ثُمَّ صَلَّى مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ اضْطَجَعَ، فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ،
ثُمَّ أَتَاهُ الْمُنَادِي فَآذَنَهُ بِالصَّلاَةِ، فَقَامَ مَعَهُ إِلَى
الصَّلاَةِ، فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ. قُلْنَا لِعَمْرٍو إِنَّ
نَاسًا يَقُولُونَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَنَامُ
عَيْنُهُ وَلاَ يَنَامُ قَلْبُهُ. قَالَ عَمْرٌو سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ
عُمَيْرٍ يَقُولُ رُؤْيَا الأَنْبِيَاءِ وَحْىٌ، ثُمَّ قَرَأَ {إِنِّي
أَرَى فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ}
Narrated By Kuraib : Ibn 'Abbas said, "The Prophet slept till he snored
and then prayed (or probably lay till his breath sounds were heard and
then got up and prayed)." Ibn 'Abbas added: "I stayed overnight in the
house of my aunt, Maimuna, the Prophet slept for a part of the night,
(See Fateh-al-Bari page 249, Vol. 1), and late in the night, he got up
and performed ablution from a hanging water skin, a light (perfect)
ablution and stood up for the prayer. I, too, performed a similar
ablution, then I went and stood on his left. He drew me to his right and
prayed as much as Allah wished, and again lay and slept till his breath
sounds were heard. Later on the Mua'dhdhin (call-maker for the prayer)
came to him and informed him that it was time for Prayer. The Prophet
went with him for the prayer without performing a new ablution." (Sufyan
said to 'Amr that some people said, "The eyes of Allah's Apostle sleep
but his heart does not sleep." 'Amr replied, "I heard 'Ubaid bin 'Umar
saying that the dreams of Prophets were Divine Inspiration, and then he
recited the verse: 'I (Abraham) see in a dream, (O my son) that I offer
you in sacrifice (to Allah)." (37.102) (See Hadith No. 183)
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا اُنہوں نے کہا ہم سے سفیان بن
عیینہ نے اُنہوں نے عمرو بن دینار سےانہوں نے کہا مجھ کو کریب(بن ابی مسلم)
نے خبر دی اُنہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ(ایک
دفعہ کا ذکر ہے) نبی ﷺ سو گئے یہاں تک کہ خراٹوں کی آواز آںے لگی، پھر
آپﷺ نے نماز پڑھی، کبھی سفیان نے یوں کہا کہ آپﷺ کروٹ پر لیٹ گئے ،
یہاں تک کہ خراٹے لینے لگے پھر نماز پڑھی، علی نے کہا پھر ہم سے سفیان نے
عمرو بن دینار سے کبھی لمبی حدیث بیان کی کبھی مختصر اُنہوں نے کریب سے
اُنہوں نے ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے کہ میں نے ایک رات اپنی خالہ ام
المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں بسر کی،جب تھوڑی رات باقی رہ گئی تو
نبی ﷺ بیدار ہوے، اور لٹکے ہوے ایک مشکیزے سے مختصر سا وضو کیا اور
نماز شروع کر دی، اور میں نے بھی ایسا ہی کیا اور آپﷺ کی بائیں جانب کھڑا
ہو گیا، (سفیان نے یسار کے بجاے شمال کا لفظ استعمال کیا جب کہ معنی دونوں
کا ایک ہی ہے)آپﷺ نے مجھے اپنی داہیں جانب کر لیا، پھر اس کے بعد جتنی اللہ
کو منظور تھی اتنی نماز اد ا کی اور پھر کروٹ کے بل سو گئے حتی کہ خراٹے
آنے لگے، پھر مؤذن نے آپ ﷺ کو نماز کے لیے جگایا او رآپﷺ نماز کے لیے چل
پڑے اور وضو نہ کیا، سفیان بیان کرتے ہیں کہ میں نے عمرو سے کہا کہ بعض
لوگوں کا خیال ہے کہ رسول اللہﷺ کی آنکھیں سوتی تھیں لیکن دل نہیں سوتا تھا
عمرو نے کہا میں نےعبید بن عمیر سے سنا کہ انبیاء کا خواب وحی ہوتا ہے،
پھر ( یہ آیت )تلاوت کی: میں نے خواب میں دیکھا کہ میں تجھے ذبح کر رہا
ہوں۔
6. The completion (or perfection) of ablution (one should wash all the parts perfectly).
And Ibn Umar said, "The completion of ablution means to clean the parts perfectly."
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُوسَى
بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ
زَيْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه
وسلم مِنْ عَرَفَةَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالشِّعْبِ نَزَلَ فَبَالَ، ثُمَّ
تَوَضَّأَ وَلَمْ يُسْبِغِ الْوُضُوءَ. فَقُلْتُ الصَّلاَةَ يَا رَسُولَ
اللَّهِ. فَقَالَ " الصَّلاَةُ أَمَامَكَ ". فَرَكِبَ، فَلَمَّا
جَاءَ الْمُزْدَلِفَةَ نَزَلَ فَتَوَضَّأَ، فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ
أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَنَاخَ كُلُّ إِنْسَانٍ
بَعِيرَهُ فِي مَنْزِلِهِ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الْعِشَاءُ فَصَلَّى وَلَمْ
يُصَلِّ بَيْنَهُمَا
Narrated By
Usama bin Zaid : Allah's Apostle proceeded from 'Arafat till when he
reached the mountain pass, he dismounted, urinated and then performed
ablution but not a perfect one. I said to him, ("Is it the time for) the
prayer, O Allah's Apostle?" He said, "The (place of) prayer is ahead of
you." He rode till when he reached Al-Muzdalifa, he dismounted and
performed ablution and a perfect one, The (call for) Iqama was
pronounced and he led the Maghrib prayer. Then everybody made his camel
kneel down at its place. Then the Iqama was pronounced for the 'Isha
prayer which the Prophet led and no prayer was offered in between the
two . prayers ('Isha and Maghrib).
ہم
سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا اُنہوں نے امام مالک سے اُنہوں نے موسیٰ
بن عقبہ سے اُنہوں نے کریب سے جو ابنِ عباسؓ کے غلام تھے اُنہوں نے اسامہ
بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ عرفات سے واپسی پر جب
گھاٹی میں پہنچے تو سواری سے نیچے اُترے اور قضائے حاجت کے بعد مختصر سا
وضو کیا، میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ نماز (کا وقت آ گیا ہے) آپﷺ نے
فرمایا آگے چل کر پڑھیں گے ، مزدلفہ پہنچ کر آپﷺ نے اچھی طرح مکمل وضو کیا
، پھر نمازِ مغرب کی تکبیر کہی گئی اور آپﷺ نے نماز ادا فرمائی، اس کے بعد
تمام لوگوں نے اونٹوں کو اپنی اپنی جگہ بٹھا دیا ، پھر عشاء کی تکبیر
ہوئی تو آپﷺ نے عشاء کی نماز پڑھائی اور ان دونوں نمازوں کے درمیان کوئی
نماز ادا نہ کی۔
7. To wash the face with both hands by a handful of water.
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو
سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ، مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ
بِلاَلٍ ـ يَعْنِي سُلَيْمَانَ ـ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ
بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ،
ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَةً مِنْ مَاءٍ، فَمَضْمَضَ بِهَا وَاسْتَنْشَقَ، ثُمَّ
أَخَذَ غَرْفَةً مِنْ مَاءٍ، فَجَعَلَ بِهَا هَكَذَا، أَضَافَهَا إِلَى
يَدِهِ الأُخْرَى، فَغَسَلَ بِهِمَا وَجْهَهُ، ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَةً مِنْ
مَاءٍ، فَغَسَلَ بِهَا يَدَهُ الْيُمْنَى، ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَةً مِنْ
مَاءٍ، فَغَسَلَ بِهَا يَدَهُ الْيُسْرَى، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ
أَخَذَ غَرْفَةً مِنْ مَاءٍ فَرَشَّ عَلَى رِجْلِهِ الْيُمْنَى حَتَّى
غَسَلَهَا، ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَةً أُخْرَى، فَغَسَلَ بِهَا رِجْلَهُ ـ
يَعْنِي الْيُسْرَى ـ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى
الله عليه وسلم يَتَوَضَّأُ
Narrated By 'Ata' bin Yasar : Ibn 'Abbas performed ablution and washed
his face (in the following way): He ladled out a handful of water,
rinsed his mouth and washed his nose with it by putting in water and
then blowing it out. He then, took another handful (of water) and did
like this (gesturing) joining both hands, and washed his face, took
another handful of water and washed his right forearm. He again took
another handful of water and washed his left forearm, and passed wet
hands over his head and took another handful of water and poured it over
his right foot (up to his ankles) and washed it thoroughly and
similarly took another handful of water and washed thoroughly his left
foot (up to the ankles) and said, "I saw Allah's Apostle performing
ablution in this way."
ہم سے
محمد بن عبدالرحیم بغدادی نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے ابو سلمہ خزاعی
منصور بن سلمہ بغدادی نے بیان کیا انہوں نے کہا ہمیں سلیمان بن بلال نے خبر
دی انہوں نے زید بن اسلم سے اُنہوں نے عطا ابن یسار سے روایت کی کہ
ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے وضو کیا (جس کی تفصیل یہ ہے کہ) آپ نے پانی کا
ایک چلو لے کر کلی کی اور ناک میں پانی چڑہایا، پھر ایک اور چلو لیا اور
اسے دوسرے ہاتھ کے ساتھ ملا کر اپنا چہرہ دھویا، پھر ایک اور چلو لیا جس
سے آپ نے اپنا داہنا ہاتھ دہویا، پھر ایک اور لے کر بایاں ہاتھ دہویا، پھر
سر کا مسح کیا ، پھر پانی لے کر دائیں پاؤں پہ ڈالا اور اسے دہویا، پھر
اسی طرح بایاں پاؤں بھی، پھر فرمایا: میں نے اسی طرح رسول اللہﷺ کو وضو
کرتے دیکھا ہے۔
8. To recite "In the Name of Allah" during every action and on having sexual relations with one's wife.
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ
مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ
عَبَّاسٍ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَوْ
أَنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا أَتَى أَهْلَهُ قَالَ بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ
جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا.
فَقُضِيَ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ، لَمْ يَضُرَّهُ "
Narrated By Ibn 'Abbas : The Prophet said, "If anyone of you on having
sexual relations with his wife said (and he must say it before starting)
'In the name of Allah. O Allah! Protect us from Satan and also protect
what you bestow upon us (i.e. the coming offspring) from Satan, and if
it is destined that they should have a child then, Satan will never be
able to harm that offspring."
ہم
سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیاانہوں نے کہا ہم سے جریر نے اُنہوں نے
منصور سے اُنہوں نے سالم بن ابی الجعد سے انہوں نے کریب سے اُنہوں نے
ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی وہ اس حدیث کو نبی ﷺ تک پہنچاتے تھے
کہ آپﷺ نے فرمایا:اگر تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس یہ دعاء پڑھ کر
جائے اللہ کے نام کے ساتھ اے اللہ ہمیں شیطان سے بچا لے اور شیطان کو اس
سے دور رکھ جو تو ہمیں عطاء فرمائے، اگر (اس تعلق کے نتیجے میں) اولاد
پید ا ہوئی تو شیطان اسے کبھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔
9. What to say while going to the lavatory (water closet).
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ
بْنِ صُهَيْبٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله
عليه وسلم إِذَا دَخَلَ الْخَلاَءَ قَالَ " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ
بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ ". تَابَعَهُ ابْنُ عَرْعَرَةَ
عَنْ شُعْبَةَ. وَقَالَ غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ إِذَا أَتَى
الْخَلاَءَ. وَقَالَ مُوسَى عَنْ حَمَّادٍ إِذَا دَخَلَ. وَقَالَ
سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ إِذَا أَرَادَ أَنْ
يَدْخُلَ
Narrated By Anas :
Whenever the Prophet went to answer the call of nature, he used to say,
"Allah-umma inni a'udhu bika minal khubuthi wal khaba'ith i.e. O Allah, I
seek Refuge with You from all offensive and wicked things (evil deeds
and evil spirits)."
ہم سے آدم
بن ابی ایاس نے بیان کیاانہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے اُنہوں نے عبدالعزیز
بن صہیب سے اُنہوں نے کہا میں نے انس رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ
نبیﷺ جب قضائے حاجت کے لیے جاتے تو (یہ دعاء )پڑھتے اے اللہ میں خبیث
جنات اور خبیث جنیوں سے تیری پناہ میں آتا ہوں ، آدم کے ساتھ اس حدیث
کو محمد بن عرعرہ نے بھی شعبہ سے روایت کیا اور غندر نے شعبہ سے جو روایت
کی اس میں یوں ہے آپﷺ جب قضائے حاجت کے لیے آتے اور موسیٰ نے حماد سے جو
روایت کی اس میں یوں ہے جب آپﷺ (بیت الخلاء میں) داخل ہوتے، اور سعید بن
زید نے عبدالعزیز بن صہیب سے یوں روایت کی جب آپﷺ (بیت الخلاء) میں داخل
ہونے کا ارادہ کرتے۔
10. Providing water at lavatories (for washing the private parts after answering the call of nature).
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ
الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ
أَبِي يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم
دَخَلَ الْخَلاَءَ، فَوَضَعْتُ لَهُ وَضُوءًا قَالَ " مَنْ وَضَعَ هَذَا
". فَأُخْبِرَ فَقَالَ " اللَّهُمَّ فَقِّهْهُ فِي الدِّينِ "
Narrated By Ibn 'Abbas : Once the Prophet entered a lavatory and I
placed water for his ablution. He asked, "Who placed it?" He was
informed accordingly and so he said, "O Allah! Make him (Ibn 'Abbas) a
learned scholar in religion (Islam)."
ہم
سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے ہاشم بن قاسم نے
بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے ورقاء بن یشکری نے اُنہوں نے عبیداللہ بن ابی
یزید سے اُنہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبیﷺ قضائے
حاجت کے لیے تشریف لے گئے، میں نے آپﷺ کے لیے وضو کا پانی رکھا، آپﷺ نے
پوچھا یہ کس نے رکھا ہے؟ لوگوں نے میرا کہہ دیا، تو آپﷺ نے فرمایا: اے
اللہ اس کو دین کی سمجھ عطاء فرما۔
11. While urinating or defecating, never face the Qiblah except when you are screened by a building or a wall or something like that.
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا
الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي
أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" إِذَا أَتَى أَحَدُكُمُ الْغَائِطَ فَلاَ يَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ
وَلاَ يُوَلِّهَا ظَهْرَهُ، شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا "
Narrated By Abu Aiyub Al-Ansari : Allah's Apostle said, "If anyone of
you goes to an open space for answering the call of nature he should
neither face nor turn his back towards the Qibla; he should either face
the east or the west."
ہم سے
آدم نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا انہوں نے کہا
ہم سے زہری نے بیان کیا اُنہوں نے عطاء بن یزید لیثی سے اُنہوں نے ابو
ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں
سے کوئی قضائے حاجت کو آئے تو قبلے کی طرف منہ اور پیٹھ نہ کرے، بلکہ مشرق
یا مغرب کی طرف رخ کرو۔
12. Defecating while sitting over two bricks.
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ
يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ
عَمِّهِ، وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ
كَانَ يَقُولُ إِنَّ نَاسًا يَقُولُونَ إِذَا قَعَدْتَ عَلَى حَاجَتِكَ،
فَلاَ تَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَلاَ بَيْتَ الْمَقْدِسِ. فَقَالَ
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ لَقَدِ ارْتَقَيْتُ يَوْمًا عَلَى ظَهْرِ
بَيْتٍ لَنَا، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى
لَبِنَتَيْنِ مُسْتَقْبِلاً بَيْتَ الْمَقْدِسِ لِحَاجَتِهِ. وَقَالَ
لَعَلَّكَ مِنَ الَّذِينَ يُصَلُّونَ عَلَى أَوْرَاكِهِمْ، فَقُلْتُ لاَ
أَدْرِي وَاللَّهِ. قَالَ مَالِكٌ يَعْنِي الَّذِي يُصَلِّي وَلاَ
يَرْتَفِعُ عَنِ الأَرْضِ، يَسْجُدُ وَهُوَ لاَصِقٌ بِالأَرْضِ
Narrated By 'Abdullah bin 'Umar : People say, "Whenever you sit for
answering the call of nature, you should not face the Qibla or
Bait-ulMaqdis (Jerusalem)." I told them. "Once I went up the roof of our
house and I saw Allah's Apostle answering the call of nature while
sitting on two bricks facing Bait-ul-Maqdis (Jerusalem) (but there was a
screen covering him.'" (Fateh Al-Bari, Page 258, Vol. 1).
ہم
سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی
اُنہوں نے یحییٰ بن سعید سے اُنہوں نے محمد بن یحییٰ بن حبان سے اُنہوں نے
اپنے چچا واسع بن حبان سے اُنہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ر
وایت کی کہ کچھ لوگ کہتے ہیں قضائے حاجت کر تے وقت قبلہ اور بیت المقدس کی
طرف رخ نہ کریں، جبکہ میں ایک دن اپنے گھر کی چھت پہ چڑھا اور دیکھا آپﷺ
دو کچی اوینٹوں پر بیٹھے بیت المقدس کی طرف رخ کیے قضائے حاجت کر رہے ہیں،
ابن عمر رضی اللہ عنما نے واسع سے کہا شاید تو ان لوگوں میں سے ہے جو اپنے
سرینوں کے بل نماز پڑھتے ہیں، میں نے کہا اللہ کی قسم میں نہیں جانتا،
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے وہ شخص
مراد لیا ہے جو نماز میں زمین سے اونچانہ ہو اور سجدے میں زمین سے چمٹا
رہے۔
13. The going out of women for answering the call of nature.
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ
حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ،
أَنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم كُنَّ يَخْرُجْنَ
بِاللَّيْلِ إِذَا تَبَرَّزْنَ إِلَى الْمَنَاصِعِ ـ وَهُوَ صَعِيدٌ
أَفْيَحُ ـ فَكَانَ عُمَرُ يَقُولُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم احْجُبْ
نِسَاءَكَ. فَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَفْعَلُ،
فَخَرَجَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه
وسلم لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي عِشَاءً، وَكَانَتِ امْرَأَةً طَوِيلَةً،
فَنَادَاهَا عُمَرُ أَلاَ قَدْ عَرَفْنَاكِ يَا سَوْدَةُ. حِرْصًا عَلَى
أَنْ يَنْزِلَ الْحِجَابُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ الْحِجَابِ
Narrated By 'Aisha : The wives of the Prophet used to go to Al-Manasi, a
vast open place (near Baqia at Medina) to answer the call of nature at
night. 'Umar used to say to the Prophet "Let your wives be veiled," but
Allah's Apostle did not do so. One night Sauda bint Zam'a the wife of
the Prophet went out at 'Isha time and she was a tall lady. 'Umar
addressed her and said, "I have recognized you, O Sauda." He said so, as
he desired eagerly that the verses of Al-Hijab (the observing of veils
by the Muslim women) may be revealed. So Allah revealed the verses of
"Al-Hijab" (A complete body cover excluding the eyes).
ہم
سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے لیث نےبیان کیا انہوں نے
کہا مجھ سے عقیل نے بیان کیا اُنہوں نے ابنِ شہاب سے اُنہوں نے عروہ سے
اُنہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ ازواج مطہرات رات قضائے
حاجت کے لیے مناصع(نامی ایک جگہ)جایا کرتی تھیں جو ایک کھلا میدان تھا،
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبیﷺ سے کہا کرتے تھے کہ ازواج مطہرات کو پردے کا
حکم دیجیے، لیکن نبیﷺ ایسا نہیں کرتے تھے، ایک دفعہ ایسا ہوا کہ حضرت سودہ
بنت زمعہ رضی اللہ عنہا رات کے وقت قضائے حاجت کے لیے نکلیں وہ دراز قد
عورت تھیں تو حضر ت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں اس غرض سے آواز دی اے سودہ
ہم نے آپ کو پہچان لیا کہ پردے کا حکم نازل ہو لہذا اللہ تعالی نے پردے کے
احکامات نازل فرما دیئے۔
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ
بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله
عليه وسلم قَالَ " قَدْ أُذِنَ أَنْ تَخْرُجْنَ فِي حَاجَتِكُنَّ ".
قَالَ هِشَامٌ يَعْنِي الْبَرَازَ
Narrated By 'Aisha : The Prophet said to his wives, "You are allowed to go out to answer the call of nature."
ہم
سے زکریا نے بیان کیاانہوں نے کہا ہم سے ابو اسامہ نے انہوں نے ہشام بن
عروہ سے انہوں نے اپنے باپ عروہ سے اُنہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے
روایت کی کہ نبی ﷺ نے (ازواج مطہرات سے) فرمایا آپ کو حاجت کے لیے گھروں
سے نکلنے کی اجازت ہے، ہشام بیان کرتے ہیں کہ حاجت سے مراد قضائے حاجت ہے۔
14. To defecate in houses.
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ
عِيَاضٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ
حَبَّانَ، عَنْ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ،
قَالَ ارْتَقَيْتُ فَوْقَ ظَهْرِ بَيْتِ حَفْصَةَ لِبَعْضِ حَاجَتِي،
فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْضِي حَاجَتَهُ
مُسْتَدْبِرَ الْقِبْلَةِ مُسْتَقْبِلَ الشَّأْمِ
Narrated By 'Abdullah bin 'Umar : I went up to the roof of Hafsa's
house for some job and I saw Allah's Apostle answering the call of
nature facing Sham (Syria, Jordan, Palestine and Lebanon regarded as one
country) with his back towards the Qibla. (See Hadith No. 147).
ہم
سے ابراہیم بن منذر نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے انس بن عیاض نے بیان
کیا انہوں نے عبیداللہ بن عمرؓ سے انہوں نے محمد بن یحییٰ بن حبان سے
انہوں نےواسع بن حبان سے انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے
روایت کی کہ میں ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کی گھر کی چھت پر کسی کام
کے لئے چڑھا میں نےرسول اللہ ﷺ کو قبلے کی طرف پیٹھ پھیرےاو رشام کی طرف
رخ کیےقضائے حاجت کر تے دیکھا۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ
هَارُونَ، قَالَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ
حَبَّانَ، أَنَّ عَمَّهُ، وَاسِعَ بْنَ حَبَّانَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ
اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ قَالَ لَقَدْ ظَهَرْتُ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى
ظَهْرِ بَيْتِنَا، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَاعِدًا
عَلَى لَبِنَتَيْنِ مُسْتَقْبِلَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ
Narrated By 'Abdullah bin 'Umar : Once I went up the roof of our house
and saw Allah's Apostle answering the call of nature while sitting over
two bricks facing Bait-ul-Maqdis (Jerusalem). (See Hadith No. 147).
ہم
سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیاانہوں نے کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان
کیا انہوں نے کہا ہم کو یحییٰ بن سعید نے خبر دی اُنہوں نے محمد بن یحییٰ
بن حبان سے نقل کیا کہ ان کے چچا واسع بن حبان نے انہیں خبر دی کہ عبداللہ
بن عمر رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ ایک دن میں اپنے گھر کی چھت پر چڑھا ،
میں نےرسول اللہ ﷺ کو دیکھا آپ دو کچی اینٹوں پر بیٹھے بیت المقدس کی
طرف رخ کیے قضاے حاجت کر رہے تھے۔
15. To wash the private parts with water after answering the call of nature.
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ قَالَ
حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي مُعَاذٍ ـ وَاسْمُهُ عَطَاءُ بْنُ أَبِي
مَيْمُونَةَ ـ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ كَانَ
النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا خَرَجَ لِحَاجَتِهِ أَجِيءُ أَنَا
وَغُلاَمٌ مَعَنَا إِدَاوَةٌ مِنْ مَاءٍ. يَعْنِي يَسْتَنْجِي بِهِ
Narrated By Anas bin Malik : Whenever Allah's Apostle went to answer
the call of nature, I along with another boy used to accompany him with a
tumbler full of water. (Hisham commented, "So that he might wash his
private parts with it.)"
ہم سے
ابو الولید ہشام بن عبد الملک نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان
کیا انہوں نے ابی معاذ سے جن کا نام عطاء بن ابی میمونہ تھا انہوں نے کہا
میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوے سنا کہ نبیﷺ جب قضائے حاجت
کے لیے جاتے تو میں اور ایک غلام برتن میں پانی ساتھ لاتے تاکہ آپﷺ
طہارت فرمائیں۔
16. Getting water carried by somebody else for purification (washing one’s private parts).
And
Abu Ad-Darda said (to the people of Iraq), "Is not the man whose
nick-names are Sahib An-Na'lain, Sahib At-Tahur and Sahib Al-Wisad
amongst you?" (Abdullah ibn Masood used to carry water, carpet and shoes
for the Prophet (s.a.w), so he was called by those names.)
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ
أَبِي مُعَاذٍ ـ هُوَ عَطَاءُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ـ قَالَ سَمِعْتُ
أَنَسًا، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا خَرَجَ
لِحَاجَتِهِ تَبِعْتُهُ أَنَا وَغُلاَمٌ مِنَّا مَعَنَا إِدَاوَةٌ مِنْ
مَاءٍ
Narrated By Anas : Whenever
Allah's Apostle went to answer the call of nature, I along with another
boy from us used to go behind him with a tumbler full of water.
ہم
سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا انہوں
نے ابو معاذ (جو کہ عطاء بن ابی میمونہ ہیں)سے انہوں نے کہا میں نے
انس رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے سنا کہ جب رسول اللہ ﷺ قضائے حاجت کے لیے
جاتے تو میں اور لڑکا (دونوں مل کر) ایک ڈول پانی ساتھ لے جاتے۔
17. To carry an 'Anaza (spearheaded stick) along with the water for washing the private parts after answering the call of nature.
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ
جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي
مَيْمُونَةَ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ
صلى الله عليه وسلم يَدْخُلُ الْخَلاَءَ، فَأَحْمِلُ أَنَا وَغُلاَمٌ
إِدَاوَةً مِنْ مَاءٍ، وَعَنَزَةً، يَسْتَنْجِي بِالْمَاءِ. تَابَعَهُ
النَّضْرُ وَشَاذَانُ عَنْ شُعْبَةَ. الْعَنَزَةُ عَصًا عَلَيْهِ زُجٌّ
Narrated By Anas bin Malik : Whenever Allah's Apostle went to answer
the call of nature, I along with another boy used to carry a tumbler
full of water (for cleaning the private parts) and an 'Anza
(spear-headed stuck).
ہم سے محمد
بن بشار نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا انہوں
نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا انہوں نے عطاء بن ابی میمونہ سے اُنہوں نے
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ ﷺ قضائے حاجت کے لیے تشریف
لے جاتے میں اور ایک لڑکا پانی اور نیزہ لیے آپﷺ کے پیچھے پیچھے ہوتے، آپ
ﷺ پانی سے طہارت فرماتے، محمد بن جعفر کے ساتھ اس حدیث کو نضر اور شاذان
نے بھی شعبہ سےروایت کیا ہے، نیزہ سے مراد وہ لکڑی ہےجس پر پھالا لگاہوتا
ہے۔
18. It is forbidden to clean the private parts with the right hand.
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ ـ هُوَ
الدَّسْتَوَائِيُّ ـ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ
بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى
الله عليه وسلم " إِذَا شَرِبَ أَحَدُكُمْ فَلاَ يَتَنَفَّسْ فِي
الإِنَاءِ، وَإِذَا أَتَى الْخَلاَءَ فَلاَ يَمَسَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ،
وَلاَ يَتَمَسَّحْ بِيَمِينِهِ "
Narrated By Abu Qatada : Allah's Apostle said, "Whenever anyone of you
drinks water, he should not breathe in the drinking utensil, and
whenever anyone of you goes to a lavatory, he should neither touch his
penis nor clean his private parts with his right hand."
ہم
سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے ہشام (دستوائی) نے
بیان کیا انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے انہوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے
انہوں نے اپنے باپ (ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ) سے روایت کی کہ رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی (پانی وغیرہ) پیے تو برتن میں سانس نہ
لے، اور جب کوئی قضائے حاجت کرے تو دائیں ہاتھ سے نہ شرم گاہ کو چھوے
اور نہ اس سے طہارت کرے۔
19. While passing urine one should not hold his penis with his right hand.
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ،
عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي
قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ "
إِذَا بَالَ أَحَدُكُمْ فَلاَ يَأْخُذَنَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ، وَلاَ
يَسْتَنْجِي بِيَمِينِهِ، وَلاَ يَتَنَفَّسْ فِي الإِنَاءِ "
Narrated By Abu Qatada : The Prophet said, "Whenever anyone of you
makes water he should not hold his penis or clean his private parts with
his right hand. (And while drinking) one should not breathe in the
drinking utensil."
ہم سے محمد بن
یوسف نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے اوزاعی نے بیان کیا انہوں نے یحییٰ
بن ابی کثیر سے انہوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے انہوں نے اپنے باپ (ابو
قتادہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی
قضائے حاجت کرے تو شرمگاہ کو دایئں ہاتھ سے نہ چھوئے اور نہ ہی اس سے
طہارت کرے ، اور نہ ہی (پانی وغیرہ) پیتے وقت برتن میں سانس لے۔
20. To clean the private parts with stones.
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَكِّيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا
عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو الْمَكِّيُّ، عَنْ
جَدِّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ اتَّبَعْتُ النَّبِيَّ صلى الله
عليه وسلم وَخَرَجَ لِحَاجَتِهِ، فَكَانَ لاَ يَلْتَفِتُ فَدَنَوْتُ مِنْهُ
فَقَالَ " ابْغِنِي أَحْجَارًا أَسْتَنْفِضْ بِهَا ـ أَوْ نَحْوَهُ ـ
وَلاَ تَأْتِنِي بِعَظْمٍ وَلاَ رَوْثٍ ". فَأَتَيْتُهُ بِأَحْجَارٍ
بِطَرَفِ ثِيَابِي فَوَضَعْتُهَا إِلَى جَنْبِهِ وَأَعْرَضْتُ عَنْهُ،
فَلَمَّا قَضَى أَتْبَعَهُ بِهِنَّ
Narrated By Abu Huraira : I followed the Prophet while he was going out
to answer the call of nature. He used not to look this way or that. So,
when I approached near him he said to me, "Fetch for me some stones for
' cleaning the privates parts (or said something similar), and do not
bring a bone or a piece of dung." So I brought the stones in the corner
of my garment and placed them by his side and I then went away from him.
When he finished (from answering the call of nature) he used, them.
ہم
سے احمد بن محمد مکی نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے عمروبن یحییٰ نے بیان
کیا انہوں نے اپنے دادا(سعید بن عمرو) سے انہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ
عنہ سے روایت کی کہ آپﷺ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گیے اور آپﷺ کی عادت
مبارکہ تھی کہ چلتے ہوے آگے پیچھے نہیں دیکھا کرتے تھے، میں بھی آپﷺ کے
پیچھے پیچھے قریب پہنچ گیا تو آپﷺ نے فرمایا: کچھ پتھر لاو تاکہ میں طہارت
کر سکوں، یا ایسا ہی کوئی اور لفظ بولا، اور دیکھنا ہڈی یا گوبر نہ لانا
لہذا میں جھولی بھر کر لے آیا ، اور ایک طرف رکھ کر پیچھےہٹ گیا، جب آپﷺ
قضائے حاجت سے فارغ ہوے تو ان سے طہارت کی۔
21. Do not clean the private parts with dung.
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي
إِسْحَاقَ، قَالَ لَيْسَ أَبُو عُبَيْدَةَ ذَكَرَهُ وَلَكِنْ عَبْدُ
الرَّحْمَنِ بْنُ الأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ،
يَقُولُ أَتَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْغَائِطَ، فَأَمَرَنِي
أَنْ آتِيَهُ بِثَلاَثَةِ أَحْجَارٍ، فَوَجَدْتُ حَجَرَيْنِ، وَالْتَمَسْتُ
الثَّالِثَ فَلَمْ أَجِدْهُ، فَأَخَذْتُ رَوْثَةً، فَأَتَيْتُهُ بِهَا،
فَأَخَذَ الْحَجَرَيْنِ وَأَلْقَى الرَّوْثَةَ وَقَالَ " هَذَا رِكْسٌ
". وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي
إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ
Narrated By 'Abdullah : The Prophet went out to answer the call of
nature and asked me to bring three stones. I found two stones and
searched for the third but could not find it. So took a dried piece of
dung and brought it to him. He took the two stones and threw away the
dung and said, "This is a filthy thing."
ہم
سے ابو نعیم نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے زُہَیر نے بیان کیا انہوں نے
ابو اسحٰق سے انہوں نے کہا اس حدیث کو ابو عبیدہ نے روایت نہیں کیا بلکہ
عبد الرحمن بن اسود نے اپنے باپ سے روایت کیا انہوں نے عبداللہ بن مسعودر
ضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی ﷺ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گیے اور
مجھے تین پتھر لانے کا حکم دیا، (میں گیا اور) مجھے دو پتھر مل گئے اور
باوجود تلاش کے تیسرا نہ ملا تو میں گوبر کا ایک ٹکڑا اٹھا لایا، آپﷺ نے
پتھر لے لیے اور گوبر یہ کہہ کر پھینک دیا کہ یہ پلید ہے، اور ابراہیم بن
یوسف نے اس حدیث کو اپنے باپ سے روایت کیا انہوں نےابو اسحٰق سے اس میں
یوں ہے کہ مجھ سے عبد الرحمٰن نے بیان کیا۔
22. The washing of the body parts (i.e., the parts which are washed in ablution) once only while performing ablution.
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ
زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،
قَالَ تَوَضَّأَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَرَّةً مَرَّةً
Narrated By Ibn 'Abbas : The Prophet performed ablution by washing the body parts only once.
ہم
سے محمد بن یوسف نے بیان کیا انہوں نے کہاہم سے سفیان نے بیان کیا انہوں
نے زید بن اسلم سے انہوں نے عطا بن یسار سے انہوں نے ابنِ عباس رضی اللہ
عنہما سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے وضو میں ایک ایک بار اعضاء دھویے۔
23. The washing of the body parts twice while performing ablution.
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عِيسَى، قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ
مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ
اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ
تَمِيمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه
وسلم تَوَضَّأَ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ
Narrated By 'Abdullah bin Zaid : The Prophet performed ablution by washing the body parts twice.
ہم
سے حسین بن عیسیٰ نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے یونس بن محمد نے بیان
کیا انہوں نے کہا ہم سےفلیح بن سلیمان نے بیان کیا اُنہوں نے عبداللہ بن
ابی بکر بن محمد بن عمرو بن حزم سے اُنہوں نے عباد بن تمیم سے اُنہوں نے
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے اعضائےِ وضو دو دو
بار دھویے۔
24. The washing of the parts thrice while performing ablution.
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأُوَيْسِيُّ، قَالَ
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عَطَاءَ
بْنَ يَزِيدَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ أَخْبَرَهُ
أَنَّهُ، رَأَى عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ دَعَا بِإِنَاءٍ، فَأَفْرَغَ عَلَى
كَفَّيْهِ ثَلاَثَ مِرَارٍ فَغَسَلَهُمَا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَمِينَهُ فِي
الإِنَاءِ فَمَضْمَضَ، وَاسْتَنْشَقَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاَثًا،
وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثَلاَثَ مِرَارٍ، ثُمَّ مَسَحَ
بِرَأْسِهِ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلاَثَ مِرَارٍ إِلَى الْكَعْبَيْنِ،
ثُمَّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ تَوَضَّأَ
نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، لاَ يُحَدِّثُ
فِيهِمَا نَفْسَهُ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ "
Narrated By Humran : (The slave of 'Uthman) I saw 'Uthman bin 'Affan
asking for a tumbler of water (and when it was brought) he poured water
over his hands and washed them thrice and then put his right hand in the
water container and rinsed his mouth, washed his nose by putting water
in it and then blowing it out. then he washed his face and forearms up
to the elbows thrice, passed his wet hands over his head and washed his
feet up to the ankles thrice. Then he said, "Allah's Apostle said 'If
anyone Performs ablution like that of mine and offers a two-rak'at
prayer during which he does not think of anything else (not related to
the present prayer) then his past sins will be forgiven.' " After
performing the ablution 'Uthman said, "I am going to tell you a Hadith
which I would not have told you, had I not been compelled by a certain
Holy Verse (the sub narrator 'Urwa said: This verse is: "Verily, those
who conceal the clear signs and the guidance which we have sent
down...)" (2:159). I heard the Prophet saying, 'If a man performs
ablution perfectly and then offers the compulsory congregational prayer,
Allah will forgive his sins committed between that (prayer) and the
(next) prayer till he offers it.
ہم
سے عبد العزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا انہوں نے کہا مجھ سے ابراہیم
بن سعد نے بیان کیا انہوں نے ابنِ شہاب سے نقل کیا کہ ان کو عطا بن یزید نے
خبر دی اور ان کو حمران جو غلام تھے حضرت عثمانؓ کے نے خبر دی کہ انہوں
نے دیکھا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے پانی کا برتن منگوایا اور دونوں
ہتھیلیوں پر پانی ڈال کر انہیں تین بار دھویا، پھر دائیں ہاتھ سے پانی لیا
اور کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا، پھر اپنا چہر ہ تین بار دھویا، پھر
اپنے دونوں ہاتھ کہنیوں تک دھوے، پھر سر کا مسح کیا، پھر ٹخنوں تک دونوں
پاؤں دھویے، پھر کہا کہ نبیﷺ نے فرمایا: جس نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا
اور دو رکعت نماز ادا کی اور اس دوران دل میں کوئی خیال نہ لایا تو اس کے
گزشتہ سارے گناہ معاف کر دئیے جائیں گئے۔
وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ قَالَ صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ قَالَ ابْنُ
شِهَابٍ وَلَكِنْ عُرْوَةُ يُحَدِّثُ عَنْ حُمْرَانَ،، فَلَمَّا تَوَضَّأَ
عُثْمَانُ قَالَ أَلاَ أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا لَوْلاَ آيَةٌ مَا
حَدَّثْتُكُمُوهُ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ
يَتَوَضَّأُ رَجُلٌ فَيُحْسِنُ وُضُوءَهُ، وَيُصَلِّي الصَّلاَةَ إِلاَّ
غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الصَّلاَةِ حَتَّى يُصَلِّيَهَا ".
قَالَ عُرْوَةُ الآيَةُ {إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا
مِنَ الْبَيِّنَاتِ}
Narrated
Humran: When Uthman performed the ablution ,he said,"I am going to tell
you a Hadith which I would not have told you except for( had I not been
compelled by) a certain Holy verse.I heard the prophet(saw) saying "If a
man performs ablution perfectly and when offers the compulsory
(congregational) salat,Allah will forgive his sins comitted between
that(prayer) and the (next) prayer till he offer it." The subnarrator
Urwah said: This verse is:" Verily, those who conceal the clear proofs
and evidences and the guidance which we have sent down ...."[v.2:159]
عبد
العزیز بن عبداللہ نے اس حدیث کو ابراہیم سے روایت کیا اُنہوں نے صالح بن
کیسان سے انہوں نے ابنِ شہاب سے کہ عروہ اس حدیث کو حمران سے یوں نقل کرتے
تھےجب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ وضو کر چکے تو کہنے لگے میں تم کو ایک حدیث
سناتا ہوں اگر قرآن کی ایک آیت نہ ہوتی تو میں تم کو یہ حدیث نہ سناتا
میں نےنبی ﷺ کو یہ فرماتے سنا جو شخص اچھی طرح وضو کرے اور (اس کے بعد)
نماز پڑھے تو جتنے گناہ اس نماز سے دوسری نماز کے پڑھنے تک ہوں گے وہ بخش
دیئے جائیں گے عروہ نے کہا آیت یہ ہے( سورہ بقرہ کی) جو لوگ ہماری آیتیں
چھپاتے ہیں اخیر تک۔
25. The cleaning of the nose by putting water in it and then blowing it out during ablution.
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ
أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو
إِدْرِيسَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله
عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " مَنْ تَوَضَّأَ فَلْيَسْتَنْثِرْ، وَمَنِ
اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ "
Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "Whoever performs ablution
should clean his nose with water by putting the water in it and then
blowing it out, and whoever cleans his private parts with stones should
do it with odd number of stones."
ہم
سے عبدان نے بیان کیا انہوں نےکہا ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی انہوں
نے کہا ہمیں یونس نے خبر دی انہوں نے زہری سے انہوں نے کہا مجھے ابو ادریس
نے خبر دی انہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی ﷺنے فرمایا جو
وضو کرےوہ ناک صاف کرے اور جو (طہارت کے لیے) ڈھیلے استعمال کرے تو طاق
کرے۔
26. To clean the private parts with odd number of stones.
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ
أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ
اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ
فَلْيَجْعَلْ فِي أَنْفِهِ ثُمَّ لِيَنْثُرْ، وَمَنِ اسْتَجْمَرَ
فَلْيُوتِرْ، وَإِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ فَلْيَغْسِلْ
يَدَهُ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهَا فِي وَضُوئِهِ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لاَ
يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ "
Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "If anyone of you
performs ablution he should put water in his nose and then blow it out
and whoever cleans his private parts with stones should do so with odd
numbers. And whoever wakes up from his sleep should wash his hands
before putting them in the water for ablution, because nobody knows
where his hands were during sleep."
ہم
سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا انہوں نے کہا ہمیں امام مالک نے خبر دی
اُنہوں نے ابو الزناد سے انہوں نے اعرج سے اُنہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ
عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی وضو کرے تو
ناک صاف کرے، طہارت کے لیے طاق عدد میں ڈھیلے لے ، اور بیداری کے بعد
برتن میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے انہیں دھوئے کیوں کہ اسے نہیں معلوم کہ ہاتھ
نے رات کہاں گزاری۔
27. Washing both feet, and it is not sufficient to pass wet hands over the feet.
حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ،
عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ
تَخَلَّفَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنَّا فِي سَفْرَةٍ
سَافَرْنَاهَا، فَأَدْرَكَنَا وَقَدْ أَرْهَقْنَا الْعَصْرَ، فَجَعَلْنَا
نَتَوَضَّأُ وَنَمْسَحُ عَلَى أَرْجُلِنَا، فَنَادَى بِأَعْلَى صَوْتِهِ
" وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ ". مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا
Narrated By 'Abdullah bin 'Amr : The Prophet remained behind us on a
journey. He joined us while we were performing ablution for the 'Asr
prayer which was over-due and we were just passing wet hands over our
feet (not washing them thoroughly) so he addressed us in a loud voice
saying twice or thrice, "Save your heels from the fire."
ہم
سے موسیٰ بن اسمٰعیل نے بیان کیاانہوں نے کہا ہم سے ابو عوانہ نے بیان
کیا انہوں نے ابو بشر سے اُنہوں نے یوسف بن ماہک سے اُنہوں نے عبداللہ بن
عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ ایک دفعہ دورانِ سفر نبی ﷺ
پیچھے رہ گئے، اور اس وقت واپس تشریف لائے جب ہم نمازِ عصر کے لیے وضو
کررہے تھے، اور (جلد بازی میں پاؤں دھونے کے بجائے) مسح کر رہے تھے، آپﷺ
نے بآوازِ بلند دو یا تین بار فرمایا: (خشک ) ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب
ہے۔
28. To rinse the mouth with water while performing ablution.
This statement has come from the Prophet (s.a.w) on the authority of Ibn Abbas and Abdullah bin Zaid.
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ
الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ حُمْرَانَ،
مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّهُ رَأَى عُثْمَانَ دَعَا بِوَضُوءٍ،
فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ مِنْ إِنَائِهِ، فَغَسَلَهُمَا ثَلاَثَ
مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَمِينَهُ فِي الْوَضُوءِ، ثُمَّ تَمَضْمَضَ،
وَاسْتَنْشَقَ، وَاسْتَنْثَرَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاَثًا وَيَدَيْهِ
إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثَلاَثًا، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ غَسَلَ
كُلَّ رِجْلٍ ثَلاَثًا، ثُمَّ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه
وسلم يَتَوَضَّأُ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا وَقَالَ " مَنْ تَوَضَّأَ نَحْوَ
وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، لاَ يُحَدِّثُ فِيهِمَا
نَفْسَهُ، غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ "
Narrated By Humran : (The freed slave of 'Uthman bin 'Affan) I saw
'Uthman bin 'Affan asking (for a tumbler of water) to perform ablution
(and when it was brought) he poured water from it over his hands and
washed them thrice and then put his right hand in the water container
and rinsed his mouth and washed his nose by putting water in it and then
blowing it out. Then he washed his face thrice and (then) forearms up
to the elbows thrice, then passed his wet hands over his head and then
washed each foot thrice. After that 'Uthman said, "I saw the Prophet
performing ablution like this of mine, and he said, 'If anyone performs
ablution like that of mine and offers a two-rak'at prayer during which
he does not think of anything else (not related to the present prayer)
then his past sins will be forgiven.'
ہم
سے ابو الیمان نے بیان کیا انہوں نے کہا ہمیں شعیب نے خبر دی، اُ نہوں نے
زہری سے اُنہوں نے کہا مجھے عطاء بن یزید نے خبر دی انہوں نے حمران سے جو
غلام تھے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے کہ انہوں نے دیکھا حضرت عثمان رضی
اللہ عنہ نے پانی کا برتن منگوایا اور دونوں ہتھیلیوں پر پانی ڈال کر
انہیں تین بار دھویا، پھر دائیں ہاتھ سے پانی لیا اور کلی کی اور ناک میں
پانی چڑھایا، پھر اپنا چہر ہ تین بار دھویا، پھر اپنے دونوں ہاتھ کہنیوں
تک دھوے، پھر سر کا مسح کیا، پھر ٹخنوں تک دونوں پاؤں دھویے، پھر کہا کہ
نبیﷺ نے فرمایا: جس نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا اور دو رکعت نماز ادا کی
اور اس دوران دل میں کوئی خیال نہ لایا تو اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف کر
دئیے جائیں گئے۔
29. The washing of heels during ablution.
Whenever Ibn Sirin performed ablution he used to wash the place that was under the ring.
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ
وَكَانَ يَمُرُّ بِنَا وَالنَّاسُ يَتَوَضَّئُونَ مِنَ الْمِطْهَرَةِ ـ
قَالَ أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ فَإِنَّ أَبَا الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم
قَالَ " وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ "
Narrated By Muhammad Ibn Ziyad : I heard Abu Huraira saying as he
passed by us while the people were performing ablution from a utensil
containing water, "Perform ablution perfectly and thoroughly for
Abul-Qasim (the Prophet) said, 'Save your heels from the Hell-fire.'"
ہم
سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا انہوں نےکہا ہم سے شعبہ نےبیان کیا انہوں
نے کہا ہم سے محمد بن زیاد نےبیان کیا کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا ہم
سے گزر ہوا تو کچھ لوگ وہاں وضو کررہے تھے، تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
اچھی طرح وضو کرو کیوں کہ ابو القاسم ﷺ نے فرمایا: (خشک) ایڑیوں کے لیے آگ
کا عذاب ہے۔
30. Washing the feet, when one is wearing shoes; and it is not sufficient for one to pass a wet hand over the shoes (but one should take off the shoes and wash one’s feet).
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ
سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ، أَنَّهُ قَالَ
لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، رَأَيْتُكَ
تَصْنَعُ أَرْبَعًا لَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِكَ يَصْنَعُهَا.
قَالَ وَمَا هِيَ يَا ابْنَ جُرَيْجٍ قَالَ رَأَيْتُكَ لاَ تَمَسُّ مِنَ
الأَرْكَانِ إِلاَّ الْيَمَانِيَيْنِ، وَرَأَيْتُكَ تَلْبَسُ النِّعَالَ
السِّبْتِيَّةَ، وَرَأَيْتُكَ تَصْبُغُ بِالصُّفْرَةِ، وَرَأَيْتُكَ إِذَا
كُنْتَ بِمَكَّةَ أَهَلَّ النَّاسُ إِذَا رَأَوُا الْهِلاَلَ وَلَمْ
تُهِلَّ أَنْتَ حَتَّى كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ
أَمَّا الأَرْكَانُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه
وسلم يَمَسُّ إِلاَّ الْيَمَانِيَيْنِ، وَأَمَّا النِّعَالُ السِّبْتِيَّةُ
فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَلْبَسُ النَّعْلَ
الَّتِي لَيْسَ فِيهَا شَعَرٌ وَيَتَوَضَّأُ فِيهَا، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ
أَلْبَسَهَا، وَأَمَّا الصُّفْرَةُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى
الله عليه وسلم يَصْبُغُ بِهَا، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَصْبُغَ بِهَا،
وَأَمَّا الإِهْلاَلُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه
وسلم يُهِلُّ حَتَّى تَنْبَعِثَ بِهِ رَاحِلَتُهُ
Narrated By 'Ubaid Ibn Juraij : I asked 'Abdullah bin 'Umar, "O Abu
'Abdur-Rahman! I saw you doing four things which I never saw being done
by anyone of you companions?" 'Abdullah bin 'Umar said, "What are those,
O Ibn Juraij?" I said, "I never saw you touching any corner of the
Ka'ba except these (two) facing south (Yemen) and I saw you wearing
shoes made of tanned leather and dyeing your hair with Hinna; (a kind of
dye). I also noticed that whenever you were in Mecca, the people assume
Ihram on seeing the new moon crescent (1st of Dhul-Hijja) while you did
not assume the Ihlal (Ihram)... (Ihram is also called Ihlal which means
'Loud calling' because a Muhrim has to recite Talbiya aloud when
assuming the state of Ihram)... till the 8th of Dhul-Hijja (Day of
Tarwiya). 'Abdullah replied, "Regarding the corners of Ka'ba, I never
saw Allah's Apostle touching except those facing south (Yemen) and
regarding the tanned leather shoes, no doubt I saw Allah's Apostle
wearing non-hairy shoes and he used to perform ablution while wearing
the shoes (i.e. wash his feet and then put on the shoes). So I love to
wear similar shoes. And about the dyeing of hair with Hinna; no doubt I
saw Allah's Apostle dyeing his hair with it and that is why I like to
dye (my hair with it). Regarding Ihlal, I did not see Allah's Apostle
assuming Ihlal till he set out for Hajj (on the 8th of Dhul-Hijja)."
ہم
سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا انہوں نے کہا ہمیں امام مالکؒ نے خبر دی
انہوں نے سعید مقبری سے اُنہوں نے عبید بن جریج سے نقل کیا کہ انہوں نے
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا اے ابو عبدالرحمٰن ( یہ ان کی کنیت
ہے) آپ چار ایسے کام کرتے ہیں جو میں نے آپ کے باقی ساتھیوں کو کرتے نہیں
دیکھا، آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اے ابن جریج وہ کون سے کام ہیں؟ میں
نے کہا میں دیکھتا ہوں کہ آپ رکن یمانی اور حجر اسود کے سوا کعبے کے کسی
اور کونے کو ہاتھ نہیں لگاتے، آپ بغیر بال والے جوتے پہنتے ہیں، آپ زرد
خضاب کرتے ہیں اور لوگ ذوالحجہ کا چاند دیکھتے ہی احرام باندھ لیتے ہیں
جبکہ آپ آٹھ تاریخ تک نہیں باندھتے، عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے
جواب دیا: میں نے نبیﷺ کو حجر اسود اور رکن یمانی کے سوا کسی اور کونے کو
ہاتھ لگاتے نہیں دیکھا، میں نے آپﷺ کو ایسے جوتے پہنے دیکھا جن پر بال
نہیں تھے آپ ﷺ انہیں پہنے پہنے وضو کرتے تو مجھے بھی ایسا کرنا پسند ہے،
رہا زرد رنگ تو میں نے آپﷺ کو (کپڑے اور بال ) زرد رنگ کے ساتھ رنگتے دیکھا
اسی لیے میں بھی ایسا ہی پسند کرتا ہوں ، اور احرام کی جہاں تک بات ہے تو
میں نے دیکھا کہ جب تک آپﷺ کی اونٹنی آپ کو لے کر نہ اٹھتی اس وقت تک
احرام نہیں باندھتے تھے۔
31. While performing ablution or taking a bath one should start from the right of the body.
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنَا
خَالِدٌ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ
قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لَهُنَّ فِي غُسْلِ ابْنَتِهِ "
ابْدَأْنَ بِمَيَامِنِهَا وَمَوَاضِعِ الْوُضُوءِ مِنْهَا "
Narrated By Um-'Atiya : That the Prophet at the time of washing his
deceased daughter had said to them, "Start from the right side beginning
with those parts which are washed in ablution."
ہم
سے مسدد نے بیان کیاانہوں نے کہا ہم سے اسمٰعیل نے بیان کیا انہوں نے کہا
ہم سے خالد نے بیان کیا اُنہوں نے حفصہ بنتِ سیرین سے انہوں نے اُمّ
عطیہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی ( حضرت زینب
رضی اللہ عنہا ) کو غسل دینے لگے تو آپﷺ نے غسل دینے والی عورتوں سے
فرمایا : غسل داہنی طرف سے دو اور اعضائے وضو سے اس کی ابتداء کرو۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ
أَخْبَرَنِي أَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي، عَنْ
مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم
يُعْجِبُهُ التَّيَمُّنُ فِي تَنَعُّلِهِ وَتَرَجُّلِهِ وَطُهُورِهِ وَفِي
شَأْنِهِ كُلِّهِ
Narrated By
'Aisha : The Prophet used to like to start from the right side on
wearing shoes, combing his hair and cleaning or washing himself and on
doing anything else.
ہم سے حفص
بن عمر نے بیان کیا انہوں نے کہاہم سے شعبہ نے بیان کیا انہوں نے کہا مجھے
اشعث بن سلیم نے خبر دی اُنہوں نے کہا میں نے اپنے باپ سے سنا انہوں نے
مسروق سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی ﷺ جوتا
پہننے ، کنگی کرنے ، طہارت کرنے اور ہر کام میں داہنی طرف سے ابتداء کرنے
کو پسند فرماتے تھے۔
32. To look for water (for ablution) when the time for the prayer is due.
Aisha said: Once the Fajr
prayer was due and water was searched for (ablution) but it was not
found. Thereupon the Divine Revelation of Tayammum was revealed.
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ
إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ
مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
وَحَانَتْ صَلاَةُ الْعَصْرِ، فَالْتَمَسَ النَّاسُ الْوَضُوءَ فَلَمْ
يَجِدُوهُ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِوَضُوءٍ،
فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي ذَلِكَ الإِنَاءِ يَدَهُ،
وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَتَوَضَّئُوا مِنْهُ. قَالَ فَرَأَيْتُ
الْمَاءَ يَنْبُعُ مِنْ تَحْتِ أَصَابِعِهِ حَتَّى تَوَضَّئُوا مِنْ عِنْدِ
آخِرِهِمْ
Narrated By Anas bin
Malik : Saw Allah's Apostle when the 'Asr prayer was due and the people
searched for water to perform ablution but they could not find it. Later
on (a pot full of) water for ablution was brought to Allah's Apostle .
He put his hand in that pot and ordered the people to perform ablution
from it. I saw the water springing out from underneath his fingers till
all of them performed the ablution (it was one of the miracles of the
Prophet).
ہم سے عبداللہ بن یوسف
نے بیان کیا انہوں نے کہا ہمیں امام مالک نے خبر دی اُنہوں نے اسحٰق بن
عبداللہ بن ابی طلحہؓ سے اُنہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی
کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا اور نمازِ عصر کا وقت ہو چکا تھا، لوگ وضو
کے لیے پانی تلاش کر رہے تھے لیکن پانی نہیں مل رہا تھا، بالآخر تھوڑا سا
وضو کا پانی آپﷺ کے پاس لایا گیا آپﷺ نے اپنا ہاتھ مبارک اس میں ڈالا اور
فرمایا اس سے وضو شروع کرو، حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے دیکھا
آپﷺ کی انگلیوں سے پانی پھوٹ رہا ہے، لوگ وضو کرتے رہے یہاں تک کہ سب سے
آخری شخص نے بھی وضو کر لیا۔
33. What is said regarding the water with which human hair has been washed.
Ata
saw no harm in making threads and ropes out of the human hair. The
utilization of the thing which is licked or eaten by a dog, and the
passing of dogs through the masjid.
Az-Zuhri said, "It is permissible for to perform ablution with water
which has been licked by a dog provided that there is no water except
that."
Sufyan said, "This is the true religious verdict: Allah said, 'And if
you find no water then perform Tayammum.' (V.4:43)"
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ،
عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ قُلْتُ لِعَبِيدَةَ عِنْدَنَا
مِنْ شَعَرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَصَبْنَاهُ مِنْ قِبَلِ
أَنَسٍ، أَوْ مِنْ قِبَلِ أَهْلِ أَنَسٍ فَقَالَ لأَنْ تَكُونَ عِنْدِي
شَعَرَةٌ مِنْهُ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا
Narrated By Ibn Sirrn : I said to 'Abida, "I have some of the hair of
the Prophet which I got from Anas or from his family." 'Abida replied.
"No doubt if I had a single hair of that it would have been dearer to me
than the whole world and whatever is in it."
ہم
سے مالک بن اسمٰعیل نے بیان کیاانہوں نے کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا
انہوں نے عاصم بن سلیمان سے اُنہوں نے ابنِ سیرین سے نقل کیا کہ میں نے
عبیدہ سے کہا ہمارے پاس نبی ﷺ کے کچھ بال ہیں جو ہم تک انس رضی اللہ عنہ
یا اُن کے گھر والوں کی طرف سے پہنچے ہیں عبیدہ نے کہا اگر ان میں سے ایک
بال بھی میرے پاس ہوتا مجھے دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے اس سب سے زیادہ
محبوب ہوتا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ أَخْبَرَنَا سَعِيدُ
بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبَّادٌ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنِ
ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
لَمَّا حَلَقَ رَأْسَهُ كَانَ أَبُو طَلْحَةَ أَوَّلَ مَنْ أَخَذَ مِنْ
شَعَرِهِ
Narrated By Anas : When Allah's Apostle got his head shaved, Abu- Talha was the first to take some of his hair
ہم
سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا انہوں نے کہا ہمیں سعید بن سلیمان نے
خبر دی انہوں نے کہا ہم سے عباد نے بیان کیا انہوں نے ابن عون سے اُنہوں
نے ابنِ سیرین سے اُنہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ
نے جب (حج کے موقع پر) اپنا سر منڈوایا تو سب سے پہلے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ
نے آپﷺ کے بال لیے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي
الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ إِنَّ رَسُولَ
اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا شَرِبَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ
أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعًا "
Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "If a dog drinks from
the utensil of anyone of you it is essential to wash it seven times."
ہم
سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا انہوں نے امام مالک سے انہوں نے ابو
الزناد سے اُنہوں نے اعرج سے انہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی
کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب آپ کے کسی برتن میں سے کتا کچھ پی لے تو
اسے سات مرتبہ دھوئیں۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ
الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، سَمِعْتُ أَبِي، عَنْ
أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم
" أَنَّ رَجُلاً رَأَى كَلْبًا يَأْكُلُ الثَّرَى مِنَ الْعَطَشِ،
فَأَخَذَ الرَّجُلُ خُفَّهُ فَجَعَلَ يَغْرِفُ لَهُ بِهِ حَتَّى أَرْوَاهُ،
فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ فَأَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ "
Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "A man saw a dog eating mud
from (the severity of) thirst. So, that man took a shoe (and filled it)
with water and kept on pouring the water for the dog till it quenched
its thirst. So Allah approved of his deed and made him to enter
Paradise."
ہم سے اسحٰق بن منصور
نے بیان کیا انہوں نے کہا ہمیں عبدالصمد نے خبر دی انہوں نے کہا ہم سے
عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار نے بیان کیا انہوں نے کہا میں نے اپنے باپ
سے سنا انہوں نے ابو صالح سے اُنہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت
کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا ایک شخص نے ایک کتا دیکھا جو پیاس کے مارے گیلی
مٹی چاٹ رہا تھا اُس نے اپنا موزہ اتارا اور اس میں پانی بھر کر اس کو
پلانا شروع کیا یہاں تک کہ وہ سیر ہو گیا اللہ تعالی نے اس شخص کو اس کے
بدلے جنت میں داخل کر دیا۔
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ يُونُسَ، عَنِ
ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ
أَبِيهِ، قَالَ كَانَتِ الْكِلاَبُ تَبُولُ وَتُقْبِلُ وَتُدْبِرُ فِي
الْمَسْجِدِ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ
يَكُونُوا يَرُشُّونَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ
And narrated Hamza bin 'Abdullah: My father said. "During the lifetime
of Allah's Apostle, the dogs used to urinate, and pass through the
mosques (come and go), nevertheless they never used to sprinkle water on
it (urine of the dog.)"
اور
احمد بن شبیب نے کہا مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا انہوں نے یونس سے انہوں
نے ابنِ شہاب سے انہوں نے کہا مجھ سے حمزہ بن عبداللہ نے بیان کیا انہوں نے
اپنے باپ (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما )سے نقل کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے
زمانہ مبارک میں کتے مسجد نبوی میں (دروازہ یا حصار نہ ہونے کی وجہ سے)
آتے جاتے رہتے اور (صفائی کی غرض سے)کسی جگہ پانی نہیں بھایا جاتا تھا۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ ابْنِ
أَبِي السَّفَرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ
سَأَلْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " إِذَا أَرْسَلْتَ
كَلْبَكَ الْمُعَلَّمَ فَقَتَلَ فَكُلْ، وَإِذَا أَكَلَ فَلاَ تَأْكُلْ،
فَإِنَّمَا أَمْسَكَهُ عَلَى نَفْسِهِ ". قُلْتُ أُرْسِلُ كَلْبِي
فَأَجِدُ مَعَهُ كَلْبًا آخَرَ قَالَ " فَلاَ تَأْكُلْ، فَإِنَّمَا
سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ، وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى كَلْبٍ آخَرَ "
Narrated By 'Adi bin Hatim : I asked the Prophet (about the hunting
dogs) and he replied, "If you let loose (with Allah's name) your tamed
dog after a game and it hunts it, you may eat it, but if the dog eats of
(that game) then do not eat it because the dog has hunted it for
itself." I further said, "Sometimes I send my dog for hunting and find
another dog with it. He said, "Do not eat the game for you have
mentioned Allah's name only on sending your dog and not the other dog."
ہم
سے حفص بن عمرؓ نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے شعبہؓ نے بیان کیا اُنہوں
نے عبداللہ بن ابی السفر سے اُنہوں نے عامر شعبی سے اُنہوں نے عدی بن حاتم
رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ میں نےنبی ﷺ سے( کتے کے شکار کے بارے میں)
پُوچھا تو آپﷺ نے فرمایا جب تو اپنا سدھایا ہوا ( شکاری) کتا چھوڑے وہ
شکار کو مار دےتو اس کو کھا لو، اور اگر وہ اس میں سےکچھ کھا لے تو تم نہ
کھاو، اس لیے کہ یہ اس نے اپنے لیے پکڑا ہے، میں نے عرض کی بسا اوقات میں
اپنا کتا چھوڑتا ہوں اور اس کے ساتھ کوئی اور کتا بھی شریک ہو جاتا ہے آپﷺ
نے فرمایا: ایسا شکار مت کھاو کیوں کہ آپ نے اپنے کتے پر بسم اللہ پڑھی تھی
نہ کہ اس پر۔
34. Whosoever considers not to repeat ablution except if something is discharged or passed from either exit (front or back private parts)
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي
ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ
النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَزَالُ الْعَبْدُ فِي صَلاَةٍ مَا
كَانَ فِي الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُ الصَّلاَةَ، مَا لَمْ يُحْدِثْ ".
فَقَالَ رَجُلٌ أَعْجَمِيٌّ مَا الْحَدَثُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ
الصَّوْتُ. يَعْنِي الضَّرْطَةَ
Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "A person is considered
in prayer as long as he is waiting for the prayer in the mosque as long
as he does not do Hadath." A non-Arab man asked, "O Abii Huraira! What
is Hadath?" I replied, "It is the passing of wind (from the anus) (that
is one of the types of Hadath)."
ہم
سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان
کیا انہوں نے سعید مقبری سے اُنہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت
کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انسان حالتِ نماز میں ہی ہوتا ہے جب تک مسجد
میں بیٹھے دوسری نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے تا وقتیکہ حدث نہ ہو، ایک
عجمی شخص نے پوچھا اے ابو ہریرہ حدث کیا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
ہوا کا خارج ہونا۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ
الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ
صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَنْصَرِفْ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ
يَجِدَ رِيحًا "
Narrated By
'Abbad bin Tamim : My uncle said: The Prophet said, "One should not
leave his prayer unless he hears sound or smells something."
ہم
سے ابوالولید نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا
اُنہوں نے زہری سے اُنہوں نے عبادہ بن تمیم سے اُنہوں نے اپنے چچا
(عبداللہ بن زید) سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا نماز نہ توڑے جب
تک(ہوا کی) آواز نہ سنے یا بد بو نہ پائے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ
الأَعْمَشِ، عَنْ مُنْذِرٍ أَبِي يَعْلَى الثَّوْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدٍ
ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، قَالَ قَالَ عَلِيٌّ كُنْتُ رَجُلاً مَذَّاءً،
فَاسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ بْنَ الأَسْوَدِ فَسَأَلَهُ فَقَالَ " فِيهِ
الْوُضُوءُ ". وَرَوَاهُ شُعْبَةُ عَنِ الأَعْمَشِ
Narrated By 'Ali : I used to get emotional urethral discharges
frequently and felt shy to ask Allah's Apostle about it. So I requested
Al-Miqdad bin Al-Aswad to ask (the Prophet) about it. Al-Miqdad asked
him and he replied, "On has to perform ablution (after it)."
ہم
سے قتیبہ نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے جریر نے بیان کیا اُنہوں نے
اعمش سے اُنہوں نے منذر ابو یعلی ثوری سے اُنہوں نے محمد بن حنفیہ سے انہوں
نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ مجھے بہت مذی آتی تھی ، نبیﷺ سے
اس کے بارے میں پوچھنے میں شرم محسوس ہوتی تھی لہذا میں نے مقداد بن اسود
سے کہا آپ پوچھیں ان کے پوچھنے پر آپﷺ نے فرمایا: اس سے وضو کرنا چاہیے، اس
حدیث کو جریر کی طرح شعبہ نے بھی اعمش سے روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ
أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ، أَخْبَرَهُ أَنْ زَيْدَ بْنَ
خَالِدٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَأَلَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ـ رضى الله
عنه ـ قُلْتُ أَرَأَيْتَ إِذَا جَامَعَ فَلَمْ يُمْنِ قَالَ عُثْمَانُ
يَتَوَضَّأُ كَمَا يَتَوَضَّأُ لِلصَّلاَةِ، وَيَغْسِلُ ذَكَرَهُ. قَالَ
عُثْمَانُ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم.
فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ عَلِيًّا، وَالزُّبَيْرَ، وَطَلْحَةَ، وَأُبَىَّ
بْنَ كَعْبٍ ـ رضى الله عنهم ـ فَأَمَرُوهُ بِذَلِكَ
Narrated By Zaid bin Khalid : I asked 'Uthman bin 'Affan about a person
who engaged in intercourse but did no discharge. 'Uthman replied, "He
should perform ablution like the one for an ordinary prayer but he must
wash his penis." 'Uthman added, "I heard it from Allah's Apostle." I
asked 'Ali Az-Zubair, Talha and Ubai bin Ka'b about it and they, too,
gave the same reply. (This order was cancelled later on and taking a
bath became necessary for such cases).
ہم
سے سعد بن حفص نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا اُنہوں
نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اُنہوں نے ابو سلمہ سے کہ بے شک عطاء ابن یسار نے
انہیں خبر دی کہ زید بن خالد نے مجھ سے بیان کیا کہ اُنہوں نے حضرت
عثمان رضی اللہ عنہ سے پوچھا اگر کوئی شخص جماع کرے لیکن انزال نہ ہو( تو
اُس پر غسل ہے یا نہیں) اُنہوں نے کہا وہ نماز کے وضو کی طرح وضو کرلے اور
اپنا عضو دھو لے ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے یہ رسول اللہ ﷺ
سے سنا ہے( اگر دخول ہو لیکن منی نہ نکلے تو غسل لازم نہیں وضو کافی ہے)
پھر میں نے یہی مسئلہ حضرت علی ، زبیر ، طلحہ اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہم
سے پوچھا اُنہوں نے بھی اسی کی تائید کی۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، قَالَ أَخْبَرَنَا
شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ ذَكْوَانَ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي
سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَرْسَلَ
إِلَى رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ فَجَاءَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ، فَقَالَ
النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لَعَلَّنَا أَعْجَلْنَاكَ ".
فَقَالَ نَعَمْ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا
أُعْجِلْتَ أَوْ قُحِطْتَ، فَعَلَيْكَ الْوُضُوءُ ". تَابَعَهُ وَهْبٌ
قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ. قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَلَمْ يَقُلْ
غُنْدَرٌ وَيَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ الْوُضُوءُ
Narrated By Abu Said Al-Khudri : Allah's Apostle sent for a Ansari man
who came with water dropping from his head. The Prophet said, "Perhaps
we have forced you to hurry up, haven't we?" The Ansari replied, "Yes."
Allah's Apostle further said, "If you are forced to hurry up (during
intercourse) or you do not discharge then ablution is due on you (This
order was cancelled later on, i.e. one has to take a bath).
ہم
سے اسحٰق بن منصور نے بیان کیا انہوں نے کہا ہمیں نضر نے خبر دی انہوں نے
کہا ہمیں شعبہ نے خبر دی اُنہوں نے حکم سے اُنہوں نے ذکوان ابو صالح سے
اُنہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک
انصاری آدمی کو بلا بھیجا وہ اس حالت میں حاضر ہوا کہ اس کے سر سے پانی
ٹپک رہا تھا ، آپﷺ نے فرمایا شاید ہم نے آپ کو جلدی میں ڈال دیا ۔ اس نے
کہا جی ہاں تب آپﷺ نے فرمایا جب جلدی ہو یا انزال نہ ہوا ہو تو وضو کر
لیا کرو، نضر کے ساتھ اس حدیث کو وہب نے بھی شعبہ سے روایت کیا ۔ امام
بخاری نے فرمایا: غندر اور یحییٰ نے اس حدیث میں شعبہ سے وضو کا ذکر نہیں
کیا۔
35. (What is said regarding) a man who helps his companion to perform ablution (by pouring water for him).
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ
هَارُونَ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ،
مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ
صلى الله عليه وسلم لَمَّا أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ عَدَلَ إِلَى الشِّعْبِ،
فَقَضَى حَاجَتَهُ. قَالَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَجَعَلْتُ أَصُبُّ
عَلَيْهِ وَيَتَوَضَّأُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُصَلِّي فَقَالَ
" الْمُصَلَّى أَمَامَكَ "
Narrated By Usama bin Zaid : "When Allah's Apostle departed from
'Arafat, he turned towards a mountain pass where he answered the call of
nature. (After he had finished) I poured water and he performed
ablution and then I said to him, "O Allah's Apostle! Will you offer the
prayer?" He replied, "The Musalla (place of the prayer) is ahead of you
(in Al-Muzdalifa)."
ہم سے محمد
بن سلام بیکندی نے بیان کیا انہوں نے کہا ہمیں یزید بن ہارون نے خبر دی
اُنہوں نے یحییٰ بن سعید انصاری سے انہوں نے موسیٰ بن عقبہ سے اُنہوں نے
کریب سے جو ابنِ عباسؓ کے غلام تھے اُنہوں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ
سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ جب عرفات سے لوٹے تو (قضائے حاجت کے لیے) ایک
جانب ہو گئے، فراغت کے بعد وضو شروع کیا تومیں پانی ڈالنے لگا، میں نے
عرض کی یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ نماز پڑھیں گئے؟ آپﷺ نے فرمایا: نماز آگئے
پڑھیں گئے۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ،
قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ
إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، أَخْبَرَهُ
أَنَّهُ، سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، يُحَدِّثُ عَنِ
الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله
عليه وسلم فِي سَفَرٍ، وَأَنَّهُ ذَهَبَ لِحَاجَةٍ لَهُ، وَأَنَّ
مُغِيرَةَ جَعَلَ يَصُبُّ الْمَاءَ عَلَيْهِ، وَهُوَ يَتَوَضَّأُ، فَغَسَلَ
وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ
Narrated By Al-Mughira bin Shu'ba : I was in the company of Allah's
Apostle on one of the journeys and he went out to answer the call of
nature (and after he finished) I poured water and he performed ablution;
he washed his face, forearms and passed his wet hand over his head and
over the two Khuff, (leather socks).
ہم
سے عمرو بن علی نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا
انہوں نے کہا میں نے یحییٰ بن سعید انصاری سے سنا وہ کہتے تھے مجھ کو سعد
بن ابراہیم نے خبر دی ان کو نافع بن جبیرؓ ابن مطعم نے اُنہوں نے عروہ بن
مغیرہ بن شعبہ سے سنا وہ اپنے باپ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے نقل
کرتے ہیں کہ وہ ایک سفر میں رسول اللہﷺ کے ساتھ تھے آپﷺ قضائےحاجت کے
لئے تشریف لے گئے اور (جب لوٹ کر آئے تو ) میں وضو کے لیے پانی ڈالنے لگا
آپ ﷺنے اپنا چہرہ مبارک اور ہاتھ دھوئے ، سر اور موزوں پر مسح کیا ۔
36. The recitation of Quran or doing other invocations etc after Hadath.
And Mansur quoted Ibrahim,
“There is no harm in reciting anything in bathrooms (without closets)
and in writing letters without ablution.” And Hammad quoted from
Ibrahim, “Greet them if they are wearing their Izar (waist covers)
otherwise do not greet them.”
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ
سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ
بْنَ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، بَاتَ لَيْلَةً عِنْدَ مَيْمُونَةَ
زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهِيَ خَالَتُهُ فَاضْطَجَعْتُ فِي
عَرْضِ الْوِسَادَةِ، وَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
وَأَهْلُهُ فِي طُولِهَا، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ اللَّيْلُ، أَوْ قَبْلَهُ بِقَلِيلٍ أَوْ بَعْدَهُ
بِقَلِيلٍ، اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجَلَسَ
يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَ
الآيَاتِ الْخَوَاتِمَ مِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى
شَنٍّ مُعَلَّقَةٍ، فَتَوَضَّأَ مِنْهَا فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ، ثُمَّ قَامَ
يُصَلِّي. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ،
ثُمَّ ذَهَبْتُ، فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ، فَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى
عَلَى رَأْسِي، وَأَخَذَ بِأُذُنِي الْيُمْنَى، يَفْتِلُهَا، فَصَلَّى
رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ
رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَوْتَرَ،
ثُمَّ اضْطَجَعَ، حَتَّى أَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ، فَقَامَ، فَصَلَّى
رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الصُّبْحَ
Narrated By 'Abdullah bin 'Abbas : That he stayed overnight in the
house of Maimuna the wife of the Prophet, his aunt. He added : I lay on
the bed (cushion transversally) while Allah's Apostle and his wife lay
in the length-wise direction of the cushion. Allah's Apostle slept till
the middle of the night, either a bit before or a bit after it and then
woke up, rubbing the traces of sleep off his face with his hands. He
then, recited the last ten verses of Sura Al-Imran, got up and went to a
hanging water-skin. He then Performed the ablution from it and it was a
perfect ablution, and then stood up to offer the prayer. I, too, got up
and did as the Prophet had done. Then I went and stood by his side. He
placed his right hand on my head and caught my right ear and twisted it.
He prayed two Rakat then two Rakat and two Rakat and then two Rakat and
then two Rakat and then two Rakat (separately six times), and finally
one Rak'a (the Witr). Then he lay down again in the bed till the
Mu'adhdhin came to him where upon the Prophet got up, offered a two
light Rakat prayer and went out and led the Fajr prayer.
ہم
سے اسمٰعیل بن ابی اویس نے بیان کیا انہوں نے کہا مجھ سے امام مالک نے
بیان کیا انہوں نے محزمہ بن سلیمان سے اُنہوں نے کریب سے جو ابنِ عباسؓ
کے غلام تھے ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ وہ ایک رات
اپنی خالہ ام المؤمنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں رہے، وہ بیان
کرتے ہیں کہ میں تکیہ کی عرض کی طرف اور آپﷺ اور آپ کی اہلیہ حسبِ معمول
تکیے کی چوڑائی کی جانب آرام فرمانے لگے، پھر آدھی رات یا کم وپیش تھوڑی
دیر بعد آپﷺ بیدار ہوے اور دونوں ہاتھوں کے ساتھ آنکھیں ملنے لگے اور پھر
سورۃ آل عمران کی آخری دس آیات کی تلاوت کی، پھر ایک لٹکے ہوے مشکیزے سے
وضو کیا اور نماز شروع کر دی، میں بھی اٹھا اور جیسے آپ نے کیا تھا ویسے کر
کے آپ کے ساتھ شریکِ نماز ہو گیا، آپ ﷺنے مجھے بائیں سے دائیں کیا ، اس
کے بعد آپﷺ نے دو رکعت ادا کیں ، پھر دو ، پھر دو ، پھر دو ، پھر دو ، پھر
دو ، پھر وتر ادا کیا اور سو گئے، پھر مؤذن آیا اور آپ اٹھے اور مختصر سی
دو رکعات ادا فرمانے کے بعد نماز فجر کے لیے تشریف لے گئے۔
37. Whoever does not repeat ablution except after falling into deep sleep- losing consciousness completely.
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ
عُرْوَةَ، عَنِ امْرَأَتِهِ، فَاطِمَةَ عَنْ جَدَّتِهَا، أَسْمَاءَ بِنْتِ
أَبِي بَكْرٍ أَنَّهَا قَالَتْ أَتَيْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى
الله عليه وسلم حِينَ خَسَفَتِ الشَّمْسُ، فَإِذَا النَّاسُ قِيَامٌ
يُصَلُّونَ، وَإِذَا هِيَ قَائِمَةٌ تُصَلِّي فَقُلْتُ مَا لِلنَّاسِ
فَأَشَارَتْ بِيَدِهَا نَحْوَ السَّمَاءِ وَقَالَتْ سُبْحَانَ اللَّهِ.
فَقُلْتُ آيَةٌ فَأَشَارَتْ أَىْ نَعَمْ. فَقُمْتُ حَتَّى تَجَلاَّنِي
الْغَشْىُ، وَجَعَلْتُ أَصُبُّ فَوْقَ رَأْسِي مَاءً، فَلَمَّا انْصَرَفَ
رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ،
ثُمَّ قَالَ " مَا مِنْ شَىْءٍ كُنْتُ لَمْ أَرَهُ إِلاَّ قَدْ
رَأَيْتُهُ فِي مَقَامِي هَذَا حَتَّى الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، وَلَقَدْ
أُوحِيَ إِلَىَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ مِثْلَ أَوْ
قَرِيبًا مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ ـ لاَ أَدْرِي أَىَّ ذَلِكَ قَالَتْ
أَسْمَاءُ ـ يُؤْتَى أَحَدُكُمْ فَيُقَالُ مَا عِلْمُكَ بِهَذَا الرَّجُلِ
فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ ـ أَوِ الْمُوقِنُ لاَ أَدْرِي أَىَّ ذَلِكَ قَالَتْ
أَسْمَاءُ ـ فَيَقُولُ هُوَ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، جَاءَنَا
بِالْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى، فَأَجَبْنَا وَآمَنَّا وَاتَّبَعْنَا،
فَيُقَالُ نَمْ صَالِحًا، فَقَدْ عَلِمْنَا إِنْ كُنْتَ لَمُؤْمِنًا،
وَأَمَّا الْمُنَافِقُ ـ أَوِ الْمُرْتَابُ لاَ أَدْرِي أَىَّ ذَلِكَ
قَالَتْ أَسْمَاءُ ـ فَيَقُولُ لاَ أَدْرِي، سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ
شَيْئًا فَقُلْتُهُ "
Narrated By
Asma' bint Abu Bakr : I came to 'Aisha the wife of the Prophet during
the solar eclipse. The people were standing and offering the prayer and
she was also praying. I asked her, "What is wrong with the people?" She
beckoned with her hand towards the sky and said, "Subhan Allah." I asked
her, "Is there a sign?" She pointed out, "Yes." So I, too, stood for
the prayer till I fell unconscious and later on I poured water on my
head. After the prayer, Allah's Apostle praised and glorified Allah and
said, "Just now I have seen something which I never saw before at this
place of mine, including Paradise and Hell. I have been inspired (and
have understood) that you will be put to trials in your graves and these
trials will be like the trials of Ad-Dajjal, or nearly like it (the sub
narrator is not sure of what Asma' said). Angels will come to every one
of you and ask, 'What do you know about this man?' A believer will
reply, 'He is Muhammad, Allah's Apostle , and he came to us with
self-evident truth and guidance. So we accepted his teaching, believed
and followed him.' Then the angels will say to him to sleep in peace as
they have come to know that he was a believer. On the other hand a
hypocrite or a doubtful person will reply, 'I do not know but heard the
people saying something and so I said the same.'"
ہم سے اسمٰعیل بن اویس نے بیان
کیا انہوں نے کہا مجھ سے مالکؒ نے بیان کیا انہوں نے ہشام بن عروہ سے
انہوں نے اپنی بیوی فاطمہ بنت منذر سے اُنہوں نے اپنی دادی اسماء بنت ابی
بکر رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ جب سورج گرہن ہوا تو میں حضرت عائشہ رضی
اللہ عنہا کے پاس آئی دیکھا تو لوگ نماز کے لیے کھڑے ہیں اور حضر ت
عائشہ رضی اللہ عنہا بھی نماز پڑھ رہی ہیں میں نے پوچھا لوگوں کو کیا ہوا
ہے اُنہوں نے آسمان کی طرف اشارہ کیا اور سبحان اللہ کہا میں نے کہا یہ
کوئی نشانی ہے اُنہوں نے اشارے سے کہا ہاں پھر میں نے بھی نماز شروع کر دی
یہاں تک کہ مجھے غشی آنے لگی اور میں اپنے سر پر پانی ڈالنے لگی جب رسول
اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو آپؐ نے اللہ کی حمد وثنا کے بعد فرمایا: اس
سے پہلے جو کچھ میں نے نہیں دیکھا تھا آج اس جگہ دیکھ لیا ہے، حتی کہ جنت
اور جہنم بھی، اور مجھ پر وحی کی گئی ہے کہ تمہیں قبروں میں ایسے آزمایا
جائے گا جیسے دجال کے ذریعے آزمایا جائے گا یا اس کے قریب قریب کوئی جملہ
بولا، فاطمہ کو شک ہے کہ اسماء نے کون سا جملہ بولا ہے، تم میں سے ہر ایک
سے قبر میں فرشتے پوچھیں گئے کہ تم اس شخص(محمد ﷺ) کے بارے میں کیا اعتقاد
رکھتے ہو؟ ایمان دار یا یقین رکھنے والا فاطمہ کو شک ہے کہ اسماء نے کون سا
جملہ بولا ہے، کہے گا کہ وہ محمد ﷺ ہیں جو اللہ کے رسول ہیں اور اس کی
طرف سے واضح نشانیاں اور ہدایت کی باتیں لے کر آئے تھے ہم نے ان کا کہا
مانا اور ان کی پیروی کی، پھر اسے کہا جائے گا کہ تم آرام سے سو جاو ہمیں
معلوم تھا کہ تم ایماندار ہو، اور جو منافق یا شک کرنے والا ہو گا فاطمہ کو
شک ہے کہ اسماء نے کون سا جملہ بولا ہے، وہ کہے گا میں نہیں جانتا میں تو
لوگوں کے کہنے پہ چلتا تھا۔
38. To pass wet hands over the whole head during ablution.
As
is referred to by the Statement of Allah: "... Rub (by passing wet
hands over) your heads ..." (V.5:6). And Ibn Al-Musaiyab said, "This
order is both for men and women." And Malik was asked, "Is the passing
of a wet hand over a part of the head sufficient?" He took his verdict
from the narration of Abdullah ibn Zaid which follows.
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ
عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلاً، قَالَ
لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ ـ وَهُوَ جَدُّ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ـ
أَتَسْتَطِيعُ أَنْ تُرِيَنِي، كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه
وسلم يَتَوَضَّأُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ نَعَمْ. فَدَعَا
بِمَاءٍ، فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ فَغَسَلَ يَدَهُ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ
مَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلاَثًا، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاَثًا، ثُمَّ
غَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، ثُمَّ
مَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ، فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ، بَدَأَ
بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ، حَتَّى ذَهَبَ بِهِمَا إِلَى قَفَاهُ، ثُمَّ
رَدَّهُمَا إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ، ثُمَّ غَسَلَ
رِجْلَيْهِ
Narrated By Yahya
Al-Mazini : A person asked 'Abdullah bin Zaid who was the grandfather of
'Amr bin Yahya, "Can you show me how Allah's Apostle used to perform
ablution?" 'Abdullah bin Zaid replied in the affirmative and asked for
water. He poured it on his hands and washed them twice, then he rinsed
his mouth thrice and washed his nose with water thrice by putting water
in it and blowing it out. He washed his face thrice and after that he
washed his forearms up to the elbows twice and then passed his wet hands
over his head from its front to its back and vice versa (beginning from
the front and taking them to the back of his head up to the nape of the
neck and then brought them to the front again from where he had
started) and washed his feet (up to the ankles).
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان
کیا انہوں نے کہا ہمیں امام مالک نے خبر دی انہوں نے عمرو بن یحییٰ مازنی
سے اُنہوں نے اپنے باپ یحییٰ بن عمارہ سے کہ ایک شخص نے عبداللہ بن زید
رضی اللہ عنہ (جو عمرو بن یحییٰ کے دادا تھے)سے پوچھا کیا آپ مجھے دیکھا
سکتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کیسےوضو کیا کرتے تھے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا
ہاں پھر آپ نے پانی منگوایا، جس سے دونوں ہاتھ دو مرتبہ دھویے، پھر تین بار
کلی کی اور ناک صاف کی، پھر تین دفعہ چہرہ دھویا، پھر دو دو بار اپنی
کہنیاں دھوئیں، پھر دونوں ہاتھوں سے آگئے سے پیچھے تک سر کا مسح کیا، یعنی
آگئے سے شروع کیا او ر دونوں ہاتھوں کو گدی تک لے گئےپھر جہاں سے شروع کیا
تھا وہاں تک لائے، پھر دونوں پاؤں دھوئے۔
39. The washing of feet up to the ankles.
حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ
أَبِيهِ، شَهِدْتُ عَمْرَو بْنَ أَبِي حَسَنٍ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ
زَيْدٍ عَنْ وُضُوءِ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم فَدَعَا بِتَوْرٍ مِنْ
مَاءٍ، فَتَوَضَّأَ لَهُمْ وُضُوءَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم
فَأَكْفَأَ عَلَى يَدِهِ مِنَ التَّوْرِ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلاَثًا،
ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي التَّوْرِ، فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ
وَاسْتَنْثَرَ ثَلاَثَ غَرَفَاتٍ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ
ثَلاَثًا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَغَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ إِلَى
الْمِرْفَقَيْنِ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَمَسَحَ رَأْسَهُ،
فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ مَرَّةً وَاحِدَةً، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ
إِلَى الْكَعْبَيْنِ
Narrated By
'Amr : My father saw 'Amr bin Abi Hasan asking 'Abdullah bin Zaid about
the ablution of the Prophet. 'Abdullah bin Zaid asked for earthen-ware
pot containing water and in front of them performed ablution like that
of the Prophet. He poured water from the pot over his hand and washed
his hands thrice and then he put his hands in the pot and rinsed his
mouth and washed his nose by putting water in it and then blowing it out
with three handfuls of water. Again he put his hand in the water and
washed his face thrice and washed his forearms up to the elbows twice;
and then put his hands in the water and then passed them over his head
by bringing them to the front and then to the rear of the head once, and
then he washed his feet up to the ankles.
ہم سے موسیٰ بن اسمٰعیل نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا اُنہوں نے عمرو بن یحییٰ سے اُنہوں نے اپنے باپ سے اُنہوں نے کہا میں عمرو بن ابی حسن(اپنے چچا) کے پاس موجود تھا اُنہوں نے عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا نبی ﷺ کیسےوضو کرتے تھے ؟ اُنہوں نے پانی کا ایک برتن منگوایا اور نبی ﷺ کا سا وضو کر کے لوگوں کو دکھلایا تو پہلے اس برتن سے دونوں ہاتھوں پر پانی ڈالا اور انہیں تین بار دھویا ، پھر اپنا ہاتھ اس میں ڈال کر کلی کی اور ناک صاف کی تین چلووں کے ساتھ، پھر اپنا ہاتھ اس میں ڈال کر(پانی لے کر) اپنا منہ تین بار دھویا، پھر اپنا ہاتھ اس میں ڈال کر اپنے دونوں ہاتھوں کو کہنیوں تک دھویا پھر اپنا ہاتھ ڈال کر سر کا مسح کیا آگے سے ایک ہی بار ہاتھوں کو پٰچھےلے گئے اور پیچھے سے آگے لائے پھر دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھوئے۔
40. The using of the remaining water after ablution
And
Jarir bin Abdullah ordered the members of his family to perform
ablution with the water in which he had put his Siwak (Miswak).
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا
الْحَكَمُ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا جُحَيْفَةَ، يَقُولُ خَرَجَ عَلَيْنَا
رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْهَاجِرَةِ، فَأُتِيَ بِوَضُوءٍ
فَتَوَضَّأَ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَأْخُذُونَ مِنْ فَضْلِ وَضُوئِهِ
فَيَتَمَسَّحُونَ بِهِ، فَصَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الظُّهْرَ
رَكْعَتَيْنِ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ، وَبَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَةٌ
Narrated By Abu Juhaifa : Allah's Apostle came to us at noon and water
for ablution was brought to him. After he had performed ablution, the
remaining water was taken by the people and they started smearing their
bodies with it (as a blessed thing). The Prophet offered two Rakat of
the Zuhr prayer and then two Rakat of the 'Asr prayer while an 'Anza
(spear-headed stick) was there (as a Sutra) in front of him.
ہم
سے آدم نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا انہوں نے کہا
ہم سے حکم نےبیان کیا انہوں نے کہا میں نے ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ کو یہ
فرماتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ ایک دفعہ دوپہر کو ہمارے پاس تشریف لائے او
روضو فرمایا ، پھر لوگ آپﷺ کے وضو کے بچے ہوے پانی سے لے لے کر اپنے جسم پر
ملنے لگے، پھر آپﷺ نے ظہر اور عصر کی دو دو رکعات ادا کیں (کیوں کہ آپﷺ
مسافر تھے) اور آپﷺ کے سامنے ایک نیزہ (بطورِ سترہ) رکھا ہوا تھا۔
وَقَالَ أَبُو مُوسَى دَعَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِقَدَحٍ فِيهِ
مَاءٌ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ فِيهِ، وَمَجَّ فِيهِ ثُمَّ قَالَ
لَهُمَا اشْرَبَا مِنْهُ، وَأَفْرِغَا عَلَى وُجُوهِكُمَا وَنُحُورِكُمَا
Abu Musa said: The Prophet asked for a tumbler containing water and
washed both his hands and face in it and then threw a mouthful of water
in the tumbler and said to both of us (Abu Musa and Bilal), "Drink from
the tumbler and pour some of its water on your faces and chests."
اور ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا نبی ﷺ نے ایک پیالہ پانی کا
منگوایا اور اپنے منہ اور ہاتھ اس میں دھوئے اور اسی میں کلی کی پھر بلال
اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہما سے فرمایا اس میں سے دونوں پی لو اور اپنے منہ
اور سینوں پر ڈالو۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ
إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ
ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ، قَالَ وَهُوَ
الَّذِي مَجَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي وَجْهِهِ وَهْوَ
غُلاَمٌ مِنْ بِئْرِهِمْ. وَقَالَ عُرْوَةُ عَنِ الْمِسْوَرِ وَغَيْرِهِ
يُصَدِّقُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ وَإِذَا تَوَضَّأَ النَّبِيُّ
صلى الله عليه وسلم كَادُوا يَقْتَتِلُونَ عَلَى وَضُوئِهِ
Narrated By Ibn Shihab : Mahmud bin Ar-Rabi' who was the person on
whose face the Prophet had ejected a mouthful of water from his family's
well while he was a boy, and 'Urwa (on the authority of Al-Miswar and
others) who testified each other, said, "Whenever the Prophet ,
performed ablution, his companions were nearly fighting for the remains
of the water."
ہم سے علی بن
عبداللہ مدینی نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے
بیان کیا انہوں نے کہاہم سے میرے باپ نے بیان کیا اُنہوں نے صالح بن
کیسان سے اُنہوں نے ابنِ شہاب سے انہوں نے کہا مجھ سے محمود بن ربیع نے
بیان کیا او ر ابن شہاب کہتے ہیں محمود وہی ہیں جن کے منہ پر رسول اللہ ﷺ
نےانہی کے کنوئیں سے پانی لے کر کلی کی تھی جب وہ بچے تھے ، اور عروہ نے
اسی حدیث کو مسور بن مخرمہ وغیرہ سے بھی روایت کیا ہے، ہر ایک راوی ان
دونوں میں سے ایک دوسرے کی تصدیق کرتا ہے کہ جب آپﷺ وضو کرتے تھے تو صحابہ
کرام آپﷺ کے بچے ہوے پانی پر جھگڑنے کے قریب ہو جاتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يُونُسَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ
بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنِ الْجَعْدِ، قَالَ سَمِعْتُ السَّائِبَ بْنَ
يَزِيدَ، يَقُولُ ذَهَبَتْ بِي خَالَتِي إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه
وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ ابْنَ أُخْتِي وَجِعٌ.
فَمَسَحَ رَأْسِي وَدَعَا لِي بِالْبَرَكَةِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ فَشَرِبْتُ
مِنْ وَضُوئِهِ، ثُمَّ قُمْتُ خَلْفَ ظَهْرِهِ، فَنَظَرْتُ إِلَى خَاتَمِ
النُّبُوَّةِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ مِثْلِ زِرِّ الْحَجَلَةِ
Narrated By As-Sa'ib bin Yazid : My aunt took me to the Prophet and
said, "O Allah's Apostle! This son of my sister has got a disease in his
legs." So he passed his hands on my head and prayed for Allah's
blessings for me; then he performed ablution and I drank from the
remaining water. I stood behind him and saw the seal of Prophethood
between his shoulders, and it was like the "Zir-al-Hijla" (means the
button of a small tent, but some said 'egg of a partridge.' etc.)
ہم سے عبدالرحمان بن یونس نے
بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے حاتم بن اسمٰعیل نےبیان کیا اُنہوں نے جعد
بن عبدالرحمٰن سے اُنہوں نے کہا میں نے سائب بن یزید کو یہ فرماتے سنا کہ
میری خالہ مجھے نبیﷺ کے پاس لے گئیں اور عرض کیا یارسول اللہ ﷺیہ میرا
بھانجا بیمار ہے (پاؤں کے درد سے) آپﷺ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور
برکت کی دعا کی پھر وضو کیا تو میں نے آپﷺ کے وضو کا بچا ہوا پانی پی
لیا پھر آپﷺ کی پیٹھ کے پیچھے جا کھڑا ہوا میں نے مہرِ نبوت دیکھی جو
آپﷺ کے کندھوں کے درمیان ایسے تھی جیسے کبوتر کا انڈا ہوتا ہے۔
41. Rinsing one’s mouth and putting water in one’s nose and cleaning it by blowing the water out with a single handful of water.
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ،
قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ
بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُ أَفْرَغَ مِنَ الإِنَاءِ عَلَى يَدَيْهِ
فَغَسَلَهُمَا، ثُمَّ غَسَلَ أَوْ مَضْمَضَ، وَاسْتَنْشَقَ مِنْ كَفَّةٍ
وَاحِدَةٍ، فَفَعَلَ ذَلِكَ ثَلاَثًا، فَغَسَلَ يَدَيْهِ إِلَى
الْمِرْفَقَيْنِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَا
أَقْبَلَ وَمَا أَدْبَرَ، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، ثُمَّ
قَالَ هَكَذَا وُضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
Narrated By 'Amr bin Yahya : (On the authority of his father) 'Abdullah
bin Zaid poured water on his hands from a utensil containing water and
washed them and then with one handful of water he rinsed his mouth and
cleaned his nose by putting water in it and then blowing it out. He
repeated it thrice. He, then, washed his hands and forearms up to the
elbows twice and passed wet hands over his head, both forwards and
backwards, and washed his feet up to the ankles and said, "This is the
ablution of Allah's Apostle."
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا
انہوں نے کہا ہم سے خالد بن عبداللہ نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے عمرو
بن یحییٰ نے اُنہوں نے اپنے باپ یحییٰ بن عمارہ سے اُنہوں نے عبداللہ بن
زید سے روایت کی کہ اُنہوں نے برتن سے دونوں ہاتھوں پر پانی ڈال کر انہیں
دھویا، پھر منہ دھویا یا یوں کہا کہ تین بار ایک ہی چلو سے کلی کی اور ناک
میں پانی ڈالا ، پھر دو بار دونوں ہاتھوں کو کہنیوں تک دھویا ، اور پھر
سر پر آگے اور پیچھے دونوں طرف مسح کیا ، اور دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھوئے
پھر فرمایا: رسول اللہ ﷺ اسی طرح وضو کیا کرتے تھے۔
42. The passing of wet hands over the head once only (while performing ablution).
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ شَهِدْتُ عَمْرَو
بْنَ أَبِي حَسَنٍ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ عَنْ وُضُوءِ
النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم فَدَعَا بِتَوْرٍ مِنْ مَاءٍ، فَتَوَضَّأَ
لَهُمْ، فَكَفَأَ عَلَى يَدَيْهِ فَغَسَلَهُمَا ثَلاَثًا، ثُمَّ أَدْخَلَ
يَدَهُ فِي الإِنَاءِ، فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، وَاسْتَنْثَرَ ثَلاَثًا
بِثَلاَثِ غَرَفَاتٍ مِنْ مَاءٍ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ،
فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاَثًا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ،
فَغَسَلَ يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ
أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ، فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ فَأَقْبَلَ بِيَدَيْهِ
وَأَدْبَرَ بِهِمَا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ فَغَسَلَ
رِجْلَيْهِ. وَحَدَّثَنَا مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ قَالَ مَسَحَ
رَأْسَهُ مَرَّةً
Narrated By Amr
bin Yahya : My father said, "I saw Amr bin Abi Hasan asking 'Abdullah
bin Zaid about the ablution of the Prophet. Abdullah bin Zaid asked for
an earthenware pot containing water and performed ablution in front of
them. He poured water over his hands and washed them thrice. Then he put
his (right) hand in the pot and rinsed his mouth and washed his nose by
putting water in it and then blowing it out thrice with three handfuls
of water Again he put his hand in the water and washed his face thrice.
After that he put his hand in the pot and washed his forearms up to the
elbows twice and then again put his hand in the water and passed wet
hands over his head by bringing them to the front and then to the back
and once more he put his hand in the pot and washed his feet (up to the
ankles.)"
ہم سے سلیمان بن حرب نے
بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے وہیب نےبیان کیا انہوں نے کہا ہم سے عمرو بن
یحییٰ نے اُنہوں نے اپنے باپ سے اُنہوں نے کہا میں عمرو بن ابی حسن ( اپنے
چچا کے) پاس موجود تھا انہوں نے عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سےنبی ﷺ کے
وضو کے بارے میں پوچھا ، انہوں نے پانی کا ایک برتن منگوایا اور ان کے
سامنے وضو کیا سب سے پہلے برتن جھکا کر پانی لیا اور دونوں ہاتھ تین بار
دھوئے، پھر برتن میں ہاتھ ڈال کر تین چلووں سے تین بار کلی کی اور ناک میں
پانی ڈالا، پھر برتن میں ہاتھ ڈال کر پانی لیا اور تین بار منہ دھویا، پھر
برتن سے پانی لے کر ہاتھوں کو کہنیوں تک دو دو بار دھویا، پھر پانی لے کر
سر کا مسح کیا آگے اور پیچھے، پھر برتن میں ہاتھ ڈالا اور پاؤں دھوئے، ہم
سے (اسی حدیث کو) موسی نے بیان کیا ان سے وہب نے بیان کیا کہ آپ نے سر کا
مسح ایک دفعہ کیا۔
43. The performance of ablution by a man along with his wife. The utilization of water remaining after a woman has performed ablution.
Umar performed ablution with warm water and water brought from the house of a Christian woman.
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ
نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ كَانَ
الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ يَتَوَضَّئُونَ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صلى
الله عليه وسلم جَمِيعًا
Narrated
By Amr bin Yahya : My father said, "I saw Amr bin Abi Hasan asking
'Abdullah bin Zaid about the ablution of the Prophet. Abdullah bin Zaid
asked for an earthenware pot containing water and performed ablution in
front of them. He poured water over his hands and washed them thrice.
Then he put his (right) hand in the pot and rinsed his mouth and washed
his nose by putting water in it and then blowing it out thrice with
three handfuls of water Again he put his hand in the water and washed
his face thrice. After that he put his hand in the pot and washed his
forearms up to the elbows twice and then again put his hand in the water
and passed wet hands over his head by bringing them to the front and
then to the back and once more he put his hand in the pot and washed his
feet (up to the ankles.)"
Narrated By Wuhaib : That he (the Prophet in narration 191 above) had passed his wet hands on the head once only.
Narrated By Wuhaib : That he (the Prophet in narration 191 above) had passed his wet hands on the head once only.
ہم
سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے امام مالک نے بیان
کیا انہوں نے نافع سے انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی
کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں مرد اور عورتیں ایک ساتھ وضو کیا کرتے تھے ۔
44. The sprinkling of remaining water after performing ablution on an unconscious person by the Prophet (s.a.w)
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ
بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ جَاءَ رَسُولُ
اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَعُودُنِي، وَأَنَا مَرِيضٌ لاَ أَعْقِلُ،
فَتَوَضَّأَ وَصَبَّ عَلَىَّ مِنْ وَضُوئِهِ، فَعَقَلْتُ فَقُلْتُ يَا
رَسُولَ اللَّهِ لِمَنِ الْمِيرَاثُ إِنَّمَا يَرِثُنِي كَلاَلَةٌ.
فَنَزَلَتْ آيَةُ الْفَرَائِضِ
Narrated By Jabir : Allah's Apostle came to visit me while I was sick
and unconscious. He performed ablution and sprinkled the remaining water
on me and I became conscious and said, "O Allah's Apostle! To whom will
my inheritance go as I have neither ascendants nor descendants?" Then
the Divine verses regarding Fara'id (inheritance) were revealed.
ہم
سے ابو الولید نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نےبیان کیا اُنہوں نے
محمد بن منکدر سے کہا میں نے جابر رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ
رسول اللہ ﷺ میری بیمار پُرسی کے لئے تشریف لائے بیماری کی وجہ سے مجھے ہوش
نہیں آرہا تھا، آپﷺ نے وضو کیا اور اس کا کچھ پانی مجھ پر ڈالا تو میں ہوش
میں آگیا، میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول میرا وارث کون ہو گا میرا تو
ایک کلالہ وارث ہے؟ اس پر آیت وراثت نازل ہو ئی۔
45. To take a bath or perform ablution from a Mikhdab (utensil), a tumbler, or a wooden or stone pot.
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ
بَكْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ حَضَرَتِ
الصَّلاَةُ، فَقَامَ مَنْ كَانَ قَرِيبَ الدَّارِ إِلَى أَهْلِهِ، وَبَقِيَ
قَوْمٌ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِخْضَبٍ مِنْ
حِجَارَةٍ فِيهِ مَاءٌ، فَصَغُرَ الْمِخْضَبُ أَنْ يَبْسُطَ فِيهِ كَفَّهُ،
فَتَوَضَّأَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ. قُلْنَا كَمْ كُنْتُمْ قَالَ
ثَمَانِينَ وَزِيَادَةً
Narrated
By Anas : It was the time for prayer, and those whose houses were near
got up and went to their people (to perform ablution), and there
remained some people (sitting). Then a painted stove pot (Mikhdab)
containing water was brought to Allah's Apostles The pot was small, not
broad enough for one to spread one's hand in; yet all the people
performed ablution. (The sub narrator said, "We asked Anas, 'How many
persons were you?' Anas replied 'We were eighty or more"). (It was one
of the miracles of Allah's Apostle).
ہم
سے عبداللہ بن منیر نے بیان کیا اُنہوں نے عبداللہ بن بکر سے سنا انہوں
نے کہا ہم سے حمید نے بیان کیا اُنہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے ر وایت کی
کہ ( ایک مرتبہ کا ذکر ہے) نماز کا وقت ہو گیا، جس کا گھر قریب تھا وہ (وضو
کرنے ) گھر چلا گیا او رباقی لوگ رسول اللہﷺ کے پاس رہ گئے، پھر آپﷺ کے
پاس پتھر کا بنا ہو ا پانی کا ایک برتن لائے جو اتنا چھوٹا تھا کہ آپﷺ اس
میں اپنی ہتھیلی نہیں پھلا سکتے تھے (باوجود اس کے) سب لوگوں نے اس میں سے
وضو کیا، حمید بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا اس
وقت آپ کتنے لوگ تھے؟ انہوں نے فرمایا: اسی سے کچھ زیادہ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ،
عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّ النَّبِيَّ
صلى الله عليه وسلم دَعَا بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ
وَوَجْهَهُ فِيهِ وَمَجَّ فِيهِ
Narrated By Abu Musa : Once the Prophet asked for a tumbler containing
water. He washed his hands and face in it and also threw a mouthful of
water in it.
ہم سے محمد بن علاء
نے بیان کیاانہوں نے کہا ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا انہوں نے برید سے
انہوں نے ابی بردہ سے اُنہوں نے ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
نبی ﷺ نے پانی کا پیالہ منگوایا اس میں ہاتھ ، منہ دھویے اور کلی کی۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ
بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ
أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ أَتَى رَسُولُ اللَّهِ
صلى الله عليه وسلم فَأَخْرَجْنَا لَهُ مَاءً فِي تَوْرٍ مِنْ صُفْرٍ
فَتَوَضَّأَ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاَثًا وَيَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ
مَرَّتَيْنِ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ فَأَقْبَلَ بِهِ وَأَدْبَرَ، وَغَسَلَ
رِجْلَيْهِ
Narrated By 'Abdullah
bin Zaid : Once Allah's Apostle came to us and we brought out water for
him in a brass pot. He performed ablution thus: He washed his face
thrice, and his forearms to the elbows twice, then passed his wet hands
lightly over the head from front to rear and brought them to front again
and washed his feet (up to the ankles).
ہم
سے احمد بن یونس نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی سلمیٰؓ
نےبیان کیا انہوں نے کہا ہم سے عمرو بن یحییٰ نے بیان کیا اُنہوں نے اپنے
باپ سے اُنہوں نے عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ
( ہمارے پاس آئے) ہم نے ایک پیتل کے برتن میں آپ کے لئے پانی رکھا آپﷺ
نے وضو کیا اور تین بار اپنا منہ دھویا اور دونوں ہاتھ کہنیوں تک دو دو
بار دھوئے اور سر پر آگے سے پیچھے مسح کیا اور دونوں پاؤں دھوئے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ
الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ
بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمَّا ثَقُلَ النَّبِيُّ صلى
الله عليه وسلم وَاشْتَدَّ بِهِ وَجَعُهُ، اسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ فِي
أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِي، فَأَذِنَّ لَهُ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله
عليه وسلم بَيْنَ رَجُلَيْنِ تَخُطُّ رِجْلاَهُ فِي الأَرْضِ بَيْنَ
عَبَّاسٍ وَرَجُلٍ آخَرَ. قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَأَخْبَرْتُ عَبْدَ
اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ أَتَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ الآخَرُ قُلْتُ
لاَ. قَالَ هُوَ عَلِيٌّ. وَكَانَتْ عَائِشَةُ ـ رضى الله عنها ـ
تُحَدِّثُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ بَعْدَ مَا دَخَلَ
بَيْتَهُ وَاشْتَدَّ وَجَعُهُ " هَرِيقُوا عَلَىَّ مِنْ سَبْعِ قِرَبٍ،
لَمْ تُحْلَلْ أَوْكِيَتُهُنَّ، لَعَلِّي أَعْهَدُ إِلَى النَّاسِ ".
وَأُجْلِسَ فِي مِخْضَبٍ لِحَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم،
ثُمَّ طَفِقْنَا نَصُبُّ عَلَيْهِ تِلْكَ حَتَّى طَفِقَ يُشِيرُ إِلَيْنَا
أَنْ قَدْ فَعَلْتُنَّ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى النَّاسِ
Narrated By 'Aisha : When the ailment of the Prophet became aggravated
and his disease became severe, he asked his wives to permit him to be
nursed (treated) in my house. So they gave him the permission. Then the
Prophet came (to my house) with the support of two men, and his legs
were dragging on the ground, between 'Abbas, and another man."
'Ubaid-Ullah (the sub narrator) said, "I informed 'Abdullah bin 'Abbas
of what 'Aisha said. Ibn 'Abbas said: 'Do you know who was the other
man?' I replied in the negative. Ibn 'Abbas said, 'He was 'Ali (bin Abi
Talib)." 'Aisha further said, "When the Prophet came to my house and his
sickness became aggravated he ordered us to pour seven skins full of
water on him, so that he might give some advice to the people. So he was
seated in a Mikhdab (brass tub) belonging to Hafsa, the wife of the
Prophet. Then, all of us started pouring water on him from the water
skins till he beckoned to us to stop and that we have done (what he
wanted us to do). After that he went out to the people."
ہم سے ابو الیمان نے بیان
کیاانہوں نے کہا ہمیں شعیب نے خبر دی اُنہوں نے زہری سے انہوں نے کہا
مجھےعبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے
فرمایا جب نبی ﷺ کی بیماری شدت اختیار کر گئی تو آپ نے دیگر ازواج مطہرات
سے اس بات کی اجازت لی کہ آپ کی تیمار داری میرے گھر میں کی جائے، اور ان
سب نے اجازت دے دی، آپﷺ دو آدمیوں کے سہارے تشریف لے جا رہے تھے اور آپ ﷺ
کے پاؤں مبارک سے زمین پر لکیر سی لگتی جا رہی تھی، ان دو میں سے ایک عباس
رضی اللہ عنہ تھے اور دوسرا کوئی اور شخص تھا، عبید اللہ بیان کرتے ہیں کہ
جب میں نے یہ حدیث حضر ت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کی تو
آپ نے پوچھا کیا آپ کو معلوم ہے وہ دوسرا شخص کون تھا؟ میں نے کہا نہیں ،
آپ ںے فرمایا: وہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے، اور حضر ت عائشہ رضی
اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب نبی ﷺ اپنے گھر ( یعنی میرے حجرے میں) تشریف
لائے تو بیماری نے شدت اختیار کر لی، آپﷺ نے فرمایا: مجھ پر ایسے سات
مشکیزے ڈالو جن کا منہ نہ کھولا گیا ہو شاید میں لوگوں کو وصیت کر سکوں،
پھر آپﷺ کو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے تانبے کے ایک برتن میں بٹھا کر
مشکیزے بہانا شروع کیے یہاں تک کہ آپﷺ نے اشارے سے فرمایا بس بس پھر آپﷺ
باہر لوگوں کی طرف تشریف لائے۔
46. To perform ablution from an earthen-ware pot.
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، قَالَ
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَ عَمِّي
يُكْثِرُ مِنَ الْوُضُوءِ، قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ أَخْبِرْنِي
كَيْفَ رَأَيْتَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَتَوَضَّأُ فَدَعَا
بِتَوْرٍ مِنْ مَاءٍ، فَكَفَأَ عَلَى يَدَيْهِ فَغَسَلَهُمَا ثَلاَثَ
مِرَارٍ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي التَّوْرِ، فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ
ثَلاَثَ مَرَّاتٍ مِنْ غَرْفَةٍ وَاحِدَةٍ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ
فَاغْتَرَفَ بِهَا فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ
يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ أَخَذَ
بِيَدِهِ مَاءً، فَمَسَحَ رَأْسَهُ، فَأَدْبَرَ بِيَدَيْهِ وَأَقْبَلَ
ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ، فَقَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله
عليه وسلم يَتَوَضَّأُ
Narrated By
'Amr bin Yahya : (On the authority of his father) My uncle used to
perform ablution extravagantly and once he asked 'Abdullah bin Zaid to
tell him how he had seen the Prophet performing ablution. He asked for
an earthen-ware pot containing water, and poured water from it on his
hands and washed them thrice, and then put his hand in the earthen-ware
pot and rinsed his mouth and washed his nose by putting water in it and
then blowing it Out thrice with one handful of water; he again put his
hand in the water and took a handful of water and washed his face
thrice, then washed his hands up to the elbows twice, and took water
with his hand, and passed it over his head from front to back and then
from back to front, and then washed his feet (up to the ankles) and
said, "I saw the Prophet performing ablution in that way."
ہم
سے خالد بن مخلد نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے سلیمان بن بلالؓ نے بیان
کیا انہوں نے کہا مجھ سے عمرو بن یحییٰ نے اُنہوں نے اپنے باپ یحییٰ بن
عمارہؓ سے اُنہوں نے کہا میرے چچا (عمرو بن ابی حسن) وضو میں بہت پانی
استعمال کرتے تھے اُنہوں نے عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے عرض کی کہ
مجھے بتائیں نبیﷺ کیسے وضو کیا کرتے تھے، انہوں نے پانی کا ایک برتن
منگوایا، اسے جھکایا اور پانی لے کر اپنے ہاتھوں کو تین بار دھویا، پھر
ہاتھ برتن میں ڈال کرپانی لیا اور کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا تین بار ،
پھر دونوں ہاتھ برتن میں ڈالے اور پانی لے کر اپنا چہرہ دھویا، پھر دو دو
بار دونو ں ہاتھ کہنیوں تک دھوئے، پھر دونوں ہاتھوں سے پانی لے کر پورے سر
کا مسح کیا، پھر دونوں پاؤں دھوئے اور پھر فرمایا: میں نے نبیﷺ کو اسی طرح
وضو کرتے دیکھا ہے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ
أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَعَا بِإِنَاءٍ مِنْ مَاءٍ،
فَأُتِيَ بِقَدَحٍ رَحْرَاحٍ فِيهِ شَىْءٌ مِنْ مَاءٍ، فَوَضَعَ
أَصَابِعَهُ فِيهِ. قَالَ أَنَسٌ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَى الْمَاءِ
يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ، قَالَ أَنَسٌ فَحَزَرْتُ مَنْ تَوَضَّأَ
مَا بَيْنَ السَّبْعِينَ إِلَى الثَّمَانِين
Narrated By Thabit : Anas said, "The Prophet asked for water and a
tumbler with a broad base and no so deep, containing a small quantity of
water, was brought to him whereby he put his fingers in it." Anas
further said, ' noticed the water springing out from amongst his
fingers." Anas added, ' estimated that the people who performed ablution
with it numbered between seventy to eighty."
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں
نے کہا ہم سے حماد نے بیان کیا ، انہوں نے ثابت سے ، انہوں نے انس رضی
اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے پانی کا ایک برتن منگوایا تو آپ ﷺ کے
پاس چوڑے منہ والا ایک برتن لایا گیا اور آپﷺ نے اس میں اپنی انگلیاں رکھ
دیں ، میں نے دیکھا پانی آپﷺ کی مبارک انگلیوں سے پھوٹ رہا تھا، میں
نےاندازہ لگایا تو تقریبا ستر سے اسی لوگوں نے اس میں سےوضو کیا۔
47. To perform ablution with one Mudd of water. (Mudd is practically 2/3 of a Kilogram)
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، قَالَ حَدَّثَنِي
ابْنُ جَبْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله
عليه وسلم يَغْسِلُ ـ أَوْ كَانَ يَغْتَسِلُ ـ بِالصَّاعِ إِلَى خَمْسَةِ
أَمْدَادٍ، وَيَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ
Narrated By Anas : The Prophet used to take a bath with one Saor up to
five Mudds (1 Sa'= Mudds) of water and used to perform ablution with one
Mudd of water.
ہم سے ابو نعیم
نے بیان کیا،ا نہوں نے کہا ہم سے مسعر نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے
ابن جبر نے بیان کیا، انہوں نے کہا میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو یہ
فرماتے سنا ہے کہ نبی ﷺ جب دھوتے یا (یہ فرمایا کہ) جب غسل کرتے تو ایک
صاع سے لے کر پانچ مد تک پانی استعمال کرتے اور ایک مد سے وضو کرتے۔
48. To pass wet hands over Khuffain (two leather socks covering the ankles).
حَدَّثَنَا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ الْمِصْرِيُّ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ،
قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرٌو، حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ، عَنْ أَبِي
سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ
سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ
مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ. وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ سَأَلَ
عُمَرَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ نَعَمْ إِذَا حَدَّثَكَ شَيْئًا سَعْدٌ عَنِ
النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَلاَ تَسْأَلْ عَنْهُ غَيْرَهُ. وَقَالَ
مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ
أَخْبَرَهُ أَنَّ سَعْدًا حَدَّثَهُ فَقَالَ عُمَرُ لِعَبْدِ اللَّهِ.
نَحْوَهُ
Narrated By 'Abdullah
bin 'Umar : Sa'd bin Abi Waqqas said, "The Prophet passed wet hands over
his Khuffs." 'Abdullah bin 'Umar asked Umar about it. 'Umar replied in
the affirmative and added, "Whenever Sa'd narrates a Hadith from the
Prophet, there is no need to ask anyone else about it."
ہم
سے اصبغ بن فرج نے بیان کیا اُنہوں نے ابن وہب سے انہوں نے کہا مجھ سے
عمرو بن حارث نے بیان کیا انہوں نے کہا مجھ سے ابو النضر نے بیان کیا
اُنہوں نے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن سے اُنہوں نے عبداللہ بن عمرؓ سے، اُنہوں
نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم سے روایت کی کہ نبیﷺ نے موزوں پر مسح
کیا، عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ بات حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے
پوچھی تو آپ نے تصدیق کی، اور فرمایا: جب سعد رضی اللہ عنہ آپ کو کوئی
حدیث سنائیں تو کسی اور سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ، اور موسی بن عقبہ نے
اپنی حدیث میں یوں کہا ہے کہ مجھے ابو النضر نے خبر دی ، ان سے ابو سلمہ نے
بیان کیا کہ سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے یہ حدیث بیان کی تو حضرت عمر رضی
اللہ عنہ نے (اپنے بیٹے ) عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایسے ہی کہا۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا
اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ،
عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ
أَبِيهِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه
وسلم أَنَّهُ خَرَجَ لِحَاجَتِهِ فَاتَّبَعَهُ الْمُغِيرَةُ بِإِدَاوَةٍ
فِيهَا مَاءٌ، فَصَبَّ عَلَيْهِ حِينَ فَرَغَ مِنْ حَاجَتِهِ، فَتَوَضَّأَ
وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ
Narrated By Al-Mughaira bin Shu'ba : Once Allah's Apostle went out to
answer the call of nature and I followed him with a tumbler containing
water, and when he finished, I poured water and he performed ablution
and passed wet hands over his Khuffs.
ہم سے عمرو بن خالد حرانی نے
بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے لیث ابن سعد نے بیان کیا اُنہوں نے یحییٰ بن
سعید انصاری سے اُنہوں نے سعد بن ابراہیم سے اُنہوں نے نافع بن جبیر سے
اُنہوں نے عرو ہ بنِ مغیرہ سے ، وہ اپنے والد مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ
سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے ، اور
مغیرہ پانی کا ایک برتن لیے آپ کے ساتھ ہو لیے، جب آپﷺ فارغ ہوئے تو انہوں
نے پانی ڈالا آپﷺ نے وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى،
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ
الضَّمْرِيِّ، أَنَّ أَبَاهُ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، رَأَى النَّبِيَّ صلى
الله عليه وسلم يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ. وَتَابَعَهُ حَرْبُ بْنُ
شَدَّادٍ وَأَبَانُ عَنْ يَحْيَى
Narrated By Ja'far bin 'Amr bin Umaiya Ad-Damri : My father said, "I saw the Prophet passing wet hands over his Khuffs."
ہم
سے ابو نعیم نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا اُنہوں نے
یحییٰ بن ابی کثیر سے اُنہوں نے ابو سلمہ سے اُنہوں نے جعفر بن عمرو بن
اُمیہ ضمری سے اُنہیں ان کے والد (عمرو بن امیہ ضمری )نے خبر دی کہ اُنہوں
نے نبی ﷺ کو موزوں پر مسح کرتے دیکھا، اور شیبان کے ساتھ اس حدیث کو حرب
اور ابان نے بھی یحییٰ سے روایت کیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ
أَخْبَرَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ
جَعْفَرِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله
عليه وسلم يَمْسَحُ عَلَى عِمَامَتِهِ وَخُفَّيْهِ. وَتَابَعَهُ مَعْمَرٌ
عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَمْرٍو قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ
صلى الله عليه وسلم
Narrated By Ja'far bin 'Amr : My father said, "I saw the Prophet passing wet hands over his turban and Khuffs (leather socks)."
ہم سے عبدان (عبداللہ بن عثمان)
نے بیان کیا انہوں نے کہا ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی انہوں نے کہا
ہمیں اوزاعی نے خبر دی اُنہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اُنہوں نے ابو سلمہ
سے انہوں نے جعفر بن عمرو بن امیہ ضمری سے اُنہوں نے اپنے باپ (عمرو بن
امیہ) سے روایت کی کہ میں نے نبی ﷺ کو عمامے اور موزوں پر مسح کرتے دیکھا،
اور اوزاعی کے ساتھ اس حدیث کو معمر نے بھی یحییٰ سے روایت کیا اُنہوں نے
ابو سلمہ سے اُنہوں نے عمرو سے اُنہوں نےنبی ﷺ سے۔
49. If one puts on (Khuff) just after performing ablution (there is no need to wash one’s feet again in ablution) (24 hours for non-travellers and three days (72 hours) for travellers).
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، عَنْ عَامِرٍ،
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنْتُ مَعَ
النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ، فَأَهْوَيْتُ لأَنْزِعَ
خُفَّيْهِ فَقَالَ " دَعْهُمَا، فَإِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا طَاهِرَتَيْنِ
". فَمَسَحَ عَلَيْهِمَا
Narrated By 'Urwa bin Al-Mughira : My father said, "Once I was in the
company of the Prophet on a journey and I dashed to take off his Khuffs.
He ordered me to leave them as he had put them after performing
ablution. So he passed wet hands or them.
ہم سے ابو نعیم نے بیان کیاانہوں
نے کہا ہم سے زکریا نے بیان کیا اُنہوں نے عامر شعبی سے اُنہوں نے عروہ بن
مغیرہ سے اُنہوں نے اپنے باپ (مغیرہ بن شعبہ) سے روایت کی کہ میں ایک سفر
(غزوہ تبوک) میں نبی ﷺ کے ساتھ تھا (آپﷺ وضو کر رہے تھے) میں آپﷺ کے
موزے اتارنے کے لیے جھکا تو آپﷺ نے فرمایا رہنے دو میں نے انہیں باوضو
پہنا ہے، پھر آپﷺ نے ان پر مسح کیا۔
50. Not repeating ablution after eating mutton and As-Sawiq.
Abu Bakr, Umar and Uthman ate such food but did not repeat ablution.
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ
زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ
بْنِ عَبَّاسٍ،. أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَكَلَ كَتِفَ
شَاةٍ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ
Narrated By 'Abdullah bin 'Abbas : Allah's Apostle ate a piece of
cooked mutton from the shoulder region and prayed without repeating
ablution.
ہم سے عبداللہ بن یوسف
نے بیان کیا انہوں نے کہا ہمیں امام مالکؒ نے خبر دی اُنہوں نے زید بن
اسلم سے اُنہوں نے عطاء بن یسار سے اُنہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ
عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے بکری کا شانہ کھایا پھر نماز پڑھی
اور وضو نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ
عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو
بْنِ أُمَيَّةَ، أَنَّ أَبَاهُ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، رَأَى رَسُولَ اللَّهِ
صلى الله عليه وسلم يَحْتَزُّ مِنْ كَتِفِ شَاةٍ، فَدُعِيَ إِلَى
الصَّلاَةِ فَأَلْقَى السِّكِّينَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ
Narrated By Ja'far bin 'Amr bin Umaiya : My father said, "I saw Allah's
Apostle taking a piece of (cooked) mutton from the shoulder region and
then he was called for prayer. He put his knife down and prayed without
repeating ablution."
ہم سے یحییٰ
بن بکیر نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، اُنہوں نے عقیل
سے اُنہوں نے ابنِ شہاب سے انہوں نے کہا مجھے جعفر بن عمرو بن امیہ نے
خبر دی کہ انہیں ان کے والد عمرو بن اُمیہ نے خبر دی کہ اُنہوں نے رسول
اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپﷺ بکری کے شانے کا گوشت کاٹ کاٹ کر کھا رہے تھے،
اتنے میں آپﷺ کو نماز کے لیے بلایا گیا تو آپﷺ نے چھری وہیں رکھی اور وضو
کیے بغیر ہی نماز ادا کروائی۔
51. Rinsing one’s mouth (with water) after eating As-Sawiq without repeating ablution.
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ
يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، مَوْلَى بَنِي
حَارِثَةَ أَنَّ سُوَيْدَ بْنَ النُّعْمَانِ، أَخْبَرَهُ. أَنَّهُ،
خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ خَيْبَرَ، حَتَّى
إِذَا كَانُوا بِالصَّهْبَاءِ ـ وَهِيَ أَدْنَى خَيْبَرَ ـ فَصَلَّى
الْعَصْرَ، ثُمَّ دَعَا بِالأَزْوَادِ، فَلَمْ يُؤْتَ إِلاَّ بِالسَّوِيقِ،
فَأَمَرَ بِهِ فَثُرِّيَ، فَأَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
وَأَكَلْنَا، ثُمَّ قَامَ إِلَى الْمَغْرِبِ، فَمَضْمَضَ وَمَضْمَضْنَا،
ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ
Narrated By Suwaid bin Al-Nu'man : In the year of the conquest of
Khaibar I went with Allah's Apostle till we reached Sahba,' a place near
Khaibar, where Allah's Apostle offered the 'Asr prayer and asked for
food. Nothing but Sawrq was brought. He ordered it to be moistened with
water. He and all of us ate it and the Prophet got up for the evening
prayer (Maghrib prayer), rinsed his mouth with water and we did the
same, and he then prayed without repeating the ablution.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان
کیا اُنہوں نے کہا ہمیں امام مالکؒ نے خبر دی اُنہوں نے یحییٰ بن سعید سے
اُنہوں نے بُشیر بن یسار سے جو بنی حارثہ کے غلام تھے کہ سعید بن نعمان
رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ فتح خیبر والے سال وہ آپﷺکے ساتھ (سفر)
پہ نکلے جب خیبر کے نشیب میں مقامِ صہبا پہ پہنچے تو آپﷺ نے نمازِ عصر ادا
کی، پھر آپﷺ نے کھانا منگوایا لیکن ستو کے سوا اور کچھ نہیں تھا، خیر سب
نے کھایا اس کے بعد نمازِ مغرب ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوئے آپﷺ نے کلی کی
اور ہم نے بھی کی پھر آپ ﷺ نے نماز پڑھائی اور وضو نہیں کیا۔
وَحَدَّثَنَا أَصْبَغُ، قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ
أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ،
أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَكَلَ عِنْدَهَا كَتِفًا، ثُمَّ
صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ
Narrated By Maimuna : The Prophet ate (a piece of) mutton from the
shoulder region and then prayed without repeating the ablution.
ہم سے اصبغ بن فرج نے بیان کیا
انہوں نے کہا ہمیں عبداللہ بن وہب نے خبر دی انہوں نے کہا مجھے عمرو بن
حارث نے خبر دی اُنہوں نے بکیر سے اُنہوں نے کریب سے انہوں نے اُم
المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبیﷺ نے ان کے ہاں بکری کا
ایک شانہ تناول فرمایا اور (نیا) وضو کیے بغیر ہی نماز ادا فرمائی۔
52. Whether to rinse the mouth after drinking milk.
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، وَقُتَيْبَةُ، قَالاَ حَدَّثَنَا
اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ
عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ
اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَرِبَ لَبَنًا، فَمَضْمَضَ وَقَالَ " إِنَّ
لَهُ دَسَمًا ". تَابَعَهُ يُونُسُ وَصَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ عَنِ
الزُّهْرِيِّ
Narrated By Ibn 'Abbas : Allah's Apostle drank milk, rinsed his mouth and said, "It has fat."
ہم سے یحییٰ بن بکیر اور قتیبہ
نے بیان کیا ان دونوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا اُنہوں نے عقیل
سے انہوں نے ابنِ شہاب سے انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے اُنہوں
نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے دودھ
پینے کے بعد کلی کی اور فرمایا اس میں چکنائی ہوتی ہے، عقیل کےساتھ اس حدیث
کو یونس اور صالح بن کیسان نے بھی ابنِ شھاب سے روایت کیا ہے۔
53. Ablution after sleep. And whoever considers it necessary to repeat ablution after dozing once or twice or after nodding once in slumber.
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ
هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله
عليه وسلم قَالَ " إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ يُصَلِّي فَلْيَرْقُدْ
حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ النَّوْمُ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا صَلَّى
وَهُوَ نَاعِسٌ لاَ يَدْرِي لَعَلَّهُ يَسْتَغْفِرُ فَيَسُبَّ نَفْسَهُ "
Narrated By 'Aisha : Allah's Apostle said, "If anyone of you feels
drowsy while praying he should go to bed (sleep) till his slumber is
over because in praying while drowsy one does not know whether one is
asking for forgiveness or for a bad thing for oneself."
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان
کیا انہوں نے کہا ہمیں امام مالکؒ نے خبر دی اُنہوں نے ہشام سے اُنہوں نے
اپنے باپ عروہ سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو دورانِ نماز اونگھ آ جائے تو وہ
آرام کرے حتی کہ نیند کا غلبہ ختم ہو جائے، کیوں کہ اسے نہیں معلوم کہ وہ
اپنے لیے بخشش مانگ رہا ہے یا بدعاء کر رہا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ،
حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ
صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلاَةِ
فَلْيَنَمْ حَتَّى يَعْلَمَ مَا يَقْرَأُ "
Narrated By Anas : The Prophet said, "If anyone of you feels drowsy
while praying, he should sleep till he understands what he is saying
(reciting)."
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا
انہوں نے کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے ایوب نے
بیان کیا انہوں نے ابو قلابہ سے انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
نبی ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص دورانِ نماز اونگھ محسوس کرے تو
سو جائے ( پھر اس وقت نماز پڑھے جب) اسے اپنی قراءت کی سمجھ آ رہی ہو۔
54. To perform ablution even on having no Hadath.
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ
عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا
مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي
عَمْرُو بْنُ عَامِرٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه
وسلم يَتَوَضَّأُ عِنْدَ كُلِّ صَلاَةٍ. قُلْتُ كَيْفَ كُنْتُمْ
تَصْنَعُونَ قَالَ يُجْزِئُ أَحَدَنَا الْوُضُوءُ مَا لَمْ يُحْدِثْ
Narrated By 'Amr bin 'Amir : Anas said, "The Prophet used to perform
ablution for every prayer." I asked Anas, "What you used to do?' Anas
replied, "We used to pray with the same ablution until we break it with
Hadath."
ہم سے محمد بن یوسف
فریابی نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا اُنہوں نے
عمرو بن عامر سے روایت کی اُنہوں نے کہا میں نے انسؓ سے سنا ۔ دوسری سند
اور ہم سے مسدد نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نےبیان
کیا انہوں نے سفیان ثوری سے انہوں نے کہا مجھ سے عمرو بن عامر نے بیان کیا
انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی ﷺ ہر نماز کے لئے وضو کیا
کرتے تھے ، عمرو بن عامر نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا آپ لوگ کیا کرتے
تھے؟ انہوں نے فرمایا: جب تک وضو نہ ٹوٹتا اس وقت تک ایک ہی وضو کافی ہوتا
تھا۔
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، قَالَ
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي بُشَيْرُ بْنُ
يَسَارٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي سُوَيْدُ بْنُ النُّعْمَانِ، قَالَ خَرَجْنَا
مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ خَيْبَرَ، حَتَّى إِذَا
كُنَّا بِالصَّهْبَاءِ، صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
الْعَصْرَ، فَلَمَّا صَلَّى دَعَا بِالأَطْعِمَةِ، فَلَمْ يُؤْتَ إِلاَّ
بِالسَّوِيقِ، فَأَكَلْنَا وَشَرِبْنَا، ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صلى الله
عليه وسلم إِلَى الْمَغْرِبِ فَمَضْمَضَ، ثُمَّ صَلَّى لَنَا الْمَغْرِبَ
وَلَمْ يَتَوَضَّأْ
Narrated By
Suwaid bin Nu'man : In the year of the conquest of Khaibar I went with
Allah's Apostle till we reached As-Sahba' where Allah's Apostle led the
'Asr prayer and asked for the food. Nothing but Sawiq was brought and we
ate it and drank (water). The Prophet got up for the (Maghrib) Prayer,
rinsed his mouth with water and then led the prayer without repeating
the ablution.
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا
انہوں نے کہا ہم سے سلیمان بن بلال نےبیان کیا انہوں نے کہا مجھ سے یحییٰ
بن سعید انصاری نے بیان کیا انہوں نے کہا مجھے بشیر بن یسار نے خبر دی
انہوں نے کہا مجھے سعید بن نعمان رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ فتح خبیر
والے سال وہ آپﷺکے ساتھ (سفر) پہ نکلے جب خیبر کے نشیب میں مقامِ صہبا
پہ پہنچے تو آپﷺ نے نمازِ عصر ادا کی، پھر آپﷺ نے کھانا منگوایا لیکن ستو
کے سوا اور کچھ نہیں تھا، خیر سب نے کھایا اس کے بعد نمازِ مغرب ادا کرنے
کے لیے کھڑے ہوئے آپﷺ نے کلی کی اور ہم نے بھی کی پھر آپ ﷺ نے نماز پڑھائی
اور وضو نہیں کیا۔
55. One of the major sins is not to protect oneself (one’s clothes and body) from one’s urine
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ
مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه
وسلم بِحَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ أَوْ مَكَّةَ، فَسَمِعَ صَوْتَ
إِنْسَانَيْنِ يُعَذَّبَانِ فِي قُبُورِهِمَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله
عليه وسلم " يُعَذَّبَانِ، وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ "، ثُمَّ
قَالَ " بَلَى، كَانَ أَحَدُهُمَا لاَ يَسْتَتِرُ مِنْ بَوْلِهِ، وَكَانَ
الآخَرُ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ ". ثُمَّ دَعَا بِجَرِيدَةٍ
فَكَسَرَهَا كِسْرَتَيْنِ، فَوَضَعَ عَلَى كُلِّ قَبْرٍ مِنْهُمَا
كِسْرَةً. فَقِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ فَعَلْتَ هَذَا قَالَ
" لَعَلَّهُ أَنْ يُخَفَّفَ عَنْهُمَا مَا لَمْ تَيْبَسَا أَوْ إِلَى
أَنْ يَيْبَسَا "
Narrated By Ibn
'Abbas : Once the Prophet, while passing through one of the grave-yards
of Medina or Mecca heard the voices of two persons who were being
tortured in their graves. The Prophet said, "These two persons are being
tortured not for a major sin (to avoid)." The Prophet then added, "Yes!
(they are being tortured for a major sin). Indeed, one of them never
saved himself from being soiled with his urine while the other used to
go about with calumnies (to make enmiy between friends). The Prophet
then asked for a green leaf of a date-palm tree, broke it into two
pieces and put one on each grave. On being asked why he had done so, he
replied, "I hope that their torture might be lessened, till these get
dried."
ہم سے عثمان بن ابی شعبہ
نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے جریر نے بیان کیا انہوں نے منصور سے
اُنہوں نے مجاہد سے انہوں نے ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ
نبی ﷺ کا گزر مکہ یا مدینہ کے ایک باغ سے ہوا، (دوسری روایت میں بغیر شک
کے مدینہ کے باغ کا تذکرہ ہے) تو آپﷺ نے دو آدمیوں کی آواز سنی جنہیں عذاب
ہو رہا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا انہیں عذاب ہو رہا ہے لیکن کسی بڑے کا م کی
وجہ سےنہیں، حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے ایک پیشاب کے چھینٹوں سے نہیں بچتا
تھا، اور دوسرا چغل خور تھا، پھر آپﷺ نے کجھور کی ایک ہری ٹہنی منگوائی اور
دو ٹکڑے کر کے دونوں قبروں پر ایک ایک لگا دی، لوگوں کے پوچھنے پر آپﷺ نے
بتایا کہ شاید ان کے سوکھںے تک ان کے عذاب میں تخفیف کی جائے۔
56. What is said regarding washing out urine.
And
the Prophet (s.a.w) remarked about the person in the grave that he
never saved himself from being soiled with his urine. And the Prophet
(s.a.w) mentioned only the urine of human beings.
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ
بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنِي رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ
حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ،
قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا تَبَرَّزَ لِحَاجَتِهِ
أَتَيْتُهُ بِمَاءٍ فَيَغْسِلُ بِهِ
Narrated By Anas bin Malik : Whenever the Prophet went to answer the
call of nature, I used to bring water with which he used to clean his
private parts.
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان
کیا انہوں نے کہا ہمیں اسمٰعیل بنِ ابراہیم نے خبر دی انہوں نے کہا مجھ
سے روح بن قاسم نے بیان کیا انہوں نے کہا مجھ سے عطاء بن ابی میمونہ نے
بیان کیا اُنہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی ﷺ جب
قضائے حاجت کے لیے تشریف لے جاتے تو میں پانی لاتا جس سے آپﷺ طہارت
فرماتے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ
خَازِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ
ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِقَبْرَيْنِ
فَقَالَ " إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ، وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ
أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لاَ يَسْتَتِرُ مِنَ الْبَوْلِ، وَأَمَّا
الآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ ". ثُمَّ أَخَذَ جَرِيدَةً
رَطْبَةً، فَشَقَّهَا نِصْفَيْنِ، فَغَرَزَ فِي كُلِّ قَبْرٍ وَاحِدَةً.
قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِمَ فَعَلْتَ هَذَا قَالَ " لَعَلَّهُ
يُخَفَّفُ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا ". قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى
وَحَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ قَالَ سَمِعْتُ
مُجَاهِدًا مِثْلَهُ " يَسْتَتِرُ مِنْ بَوْلِهِ "
Narrated By Ibn 'Abbas : The Prophet once passed by two graves and
said, "These two persons are being tortured not for a major sin (to
avoid). One of them never saved himself from being soiled with his
urine, while the other used to go about with calumnies(to make enmity
between friends)." The Prophet then took a green leaf of a date-palm
tree, split it into (pieces) and fixed one on each grave. They said, "O
Allah's Apostle! Why have you done so?" He replied, "I hope that their
punishment might be lessened till these (the pieces of the leaf) become
dry." (See the foot-note of Hadith 215).
ہم سے محمد بن مثنی نے بیان کیا
انہوں نے کہا ہم سے محمد بن خازم نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے اعمش
(سلیمان بن مہران) نے بیان کیا اُنہوں نے مجاہد سے اُنہوں نے طاؤس سے
اُنہوں نے ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی ﷺ کا دو قبروں کے
پاس سے گزر ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا انہیں عذاب ہو رہا ہے لیکن کسی بڑے کا م
کی وجہ سےنہیں، حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے ایک پیشاب کے چھینٹوں سے نہیں
بچتا تھا، اور دوسرا چغل خور تھا، پھر آپﷺ نے کجھور کی ایک ہری ٹہنی
منگوائی اور دو ٹکڑے کر کے دونوں قبروں پر ایک ایک لگا دی، لوگوں کے پوچھنے
پر آپﷺ نے بتایا کہ شاید ان کے سوکھںے تک ان کے عذاب میں تخفیف کی جائے،
ابن مثنی کہتے ہیں ہم سے وکیع نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اعمش نے
بیان کیا ، انہوں نے کہا میں نے مجاہد سے اسی حدیث کی طر ح سنا۔
57. The Prophet (s.a.w) and the people left the Bedouin undisturbed till he finished urinating in the masjid.
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ،
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى
الله عليه وسلم رَأَى أَعْرَابِيًّا يَبُولُ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ "
دَعُوهُ ". حَتَّى إِذَا فَرَغَ دَعَا بِمَاءٍ فَصَبَّهُ عَلَيْهِ
Narrated By Anas bin Malik : The Prophet saw a Bedouin making water in
the mosque and told the people not to disturb him. When he finished, the
Prophet asked for some water and poured it over (the urine).
ہم
سے موسیٰ بن اسمٰعیل نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے
بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے اسحٰق بن عبداللہ بن ابی طلحہؓ نے بیان کیا،
اُنہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے ایک دیہاتی
کو مسجد میں پیشاب کرتے دیکھا، تو فرمایا اسے چھوڑ دو (یعنی کچھ نہ کہو)
جب وہ فارغ ہوا تو آپﷺ نے پانی منگوایا اور اس پہ بہا دیا۔
58. The pouring of water over the urine in the masjid.
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ
الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ
بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ قَامَ
أَعْرَابِيٌّ فَبَالَ فِي الْمَسْجِدِ فَتَنَاوَلَهُ النَّاسُ، فَقَالَ
لَهُمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " دَعُوهُ وَهَرِيقُوا عَلَى
بَوْلِهِ سَجْلاً مِنْ مَاءٍ، أَوْ ذَنُوبًا مِنْ مَاءٍ، فَإِنَّمَا
بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ، وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ "
Narrated By Abu Huraira : A Bedouin stood up and started making water
in the mosque. The people caught him but the Prophet ordered them to
leave him and to pour a bucket or a tumbler of water over the place
where he had passed the urine. The Prophet then said, "You have been
sent to make things easy and not to make them difficult."
ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا
انہوں نے کہا ہمیں شعیب نے خبر دی اُنہوں نے زہری سے سنا انہوں نے کہا
مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے
فرمایا کہ ایک دیہاتی نے مسجد میں کھڑے ہو کر پیشاب کیا ، اور لوگوں نے
اسے ڈانٹنا شروع کر دیا تو آپﷺنے فرمایا: اسے چھوڑ دو اور ایک ڈول پیشاب
والی جگہ پہ بہا دو، کیوں کہ تمہیں لوگوں کے لیے آسانی کرںے والا بنا کر
بھیجا گیا ہے نہ کہ تنگی کرنے والا۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ،
عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ،
حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَبَالَ فِي طَائِفَةِ الْمَسْجِدِ، فَزَجَرَهُ النَّاسُ، فَنَهَاهُمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم، فَلَمَّا قَضَى بَوْلَهُ أَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِذَنُوبٍ مِنْ مَاءٍ، فَأُهْرِيقَ عَلَيْهِ
حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَبَالَ فِي طَائِفَةِ الْمَسْجِدِ، فَزَجَرَهُ النَّاسُ، فَنَهَاهُمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم، فَلَمَّا قَضَى بَوْلَهُ أَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِذَنُوبٍ مِنْ مَاءٍ، فَأُهْرِيقَ عَلَيْهِ
Narrated By Anas bin Malik : The Prophet said as above.
ہم سے عبدان نے بیان کیا انہوں
نے کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم کو یحییٰ بن
سعید انصاری نے خبر دی انہوں نے کہا میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے
سنا اُنہوں نےنبیﷺ سے ۔ دوسر ی سند۔ اور ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا
انہوں نے کہا ہم سے سلیمان نے بیان کیا اُنہوں نے یحییٰ بن سعید سے
اُنہوں نے کہا میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے سنا کہ ایک
دیہاتی آیا او رمسجد کے ایک کونے میں بیٹھ کر بیشاب کرنے لگا تو لوگوں نے
اسے ڈانٹنا شروع کر دیا، نبی ﷺ نے منع کیا اور فرمایا: جہاں اس نے پیشاب
کیا ہے وہاں ایک ڈول پانی کا بہا دو۔
59. The urine of children
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ
هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ
الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّهَا قَالَتْ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه
وسلم بِصَبِيٍّ، فَبَالَ عَلَى ثَوْبِهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَأَتْبَعَهُ
إِيَّاهُ
Narrated By 'Aisha :
(The mother of faithful believers) A child was brought to Allah's
Apostle and it urinated on the garment of the Prophet. The Prophet asked
for water and poured it over the soiled place.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان
کیا انہوں نے کہا ہمیں امام مالکؒ نے خبر دی اُنہوں نے ہشام بن عروہ سے
اُنہوں نے اپنے باپ سے اُنہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی
کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک بچہ لایا گیا جس نے آپﷺ کے کپڑوں پہ پیشاب کر
دیا تو نبیﷺ نے پانی منگوا کر اس پہ بہا دیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ
ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ،
عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، أَنَّهَا أَتَتْ بِابْنٍ لَهَا
صَغِيرٍ، لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه
وسلم، فَأَجْلَسَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حِجْرِهِ،
فَبَالَ عَلَى ثَوْبِهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَنَضَحَهُ وَلَمْ يَغْسِلْهُ
Narrated By Um Qais bint Mihsin : I brought my young son, who had not
started eating (ordinary food) to Allah's Apostle who took him and made
him sit in his lap. The child urinated on the garment of the Prophet, so
he asked for water and poured it over the soiled (area) and did not
wash it.
ہم سے عبداللہ بن یوسف
نے بیان کیا انہوں نے کہا ہمیں امام مالک نے خبر دی اُنہوں نے ابنِ شہاب
سے اُنہوں نے عبیداللہ ابن عبداللہ بن عتبہ سے اُنہوں نے ا٘مّ قیس بنتِ
محصن رضی اللہ عنہا سے روایت کی ایک مرتبہ وہ اپنے چھوٹے بچے جو ابھی کھانا
نہیں کھاتا تھا کو نبی ﷺ کے پاس لائیں تو آپ ﷺ نے اسے اپنی گود میں بٹھا
لیا، اس نے آپﷺ کے کپڑوں پہ پیشاب کر دیا، آپﷺ نے پانی منگوایا اور اس پہ
چھڑک دیا دھویا نہیں۔
60. To pass urine while standing and sitting.
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ
أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ أَتَى النَّبِيُّ صلى الله عليه
وسلم سُبَاطَةَ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ، فَجِئْتُهُ
بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ
Narrated By
Hudhaifa : Once the Prophet went to the dumps of some people and passed
urine while standing. He then asked for water and so I brought it to him
and he performed ablution.
ہم
سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا
اُنہوں نے اعمش سے اُنہوں نے ابو وائل سے اُنہوں نے حذیفہ رضی اللہ عنہ
سے روایت کی کہ نبی ﷺ ایک قوم کے کوڑے کی جگہ تشریف لائے اور وہاں کھڑے ہو
کر پیشاب کیا، پھر پانی منگوایا میں پانی لایا تو آپﷺ نے وضو کیا۔
61. To urinate beside one’s companion while screened by a wall.
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ،
عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ رَأَيْتُنِي
أَنَا وَالنَّبِيُّ، صلى الله عليه وسلم نَتَمَاشَى، فَأَتَى سُبَاطَةَ
قَوْمٍ خَلْفَ حَائِطٍ، فَقَامَ كَمَا يَقُومُ أَحَدُكُمْ فَبَالَ،
فَانْتَبَذْتُ مِنْهُ، فَأَشَارَ إِلَىَّ فَجِئْتُهُ، فَقُمْتُ عِنْدَ
عَقِبِهِ حَتَّى فَرَغَ
Narrated
By Hudhaifa' : The Prophet and I walked till we reached the dumps of
some people. He stood, as any one of you stands, behind a wall and
urinated. I went away, but he beckoned me to come. So I approached him
and stood near his back till he finished.
ہم
سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے جریر نے بیان کیا
اُنہوں نے منصور سے اُنہوں نے ابو وائل سے اُنہوں نے حذیفہ رضی اللہ عنہ
سے روایت کی کہ ایک مرتبہ میں اور رسول اللہﷺ جا رہے تھے اتنے میں ایک
کوڑے کی جگہ جو ایک دیوار کے پیچھے تھی پہ پہنچے تو آپﷺ ایسے کھڑے ہوئے
جیسے تم میں سے کوئی کھڑا ہوتا ہے، پھر آپﷺ نے قضائے حاجت کی ، میں تھوڑا
پیچھے ہٹ گیا تو آپﷺ نے اشارے سے مجھے قریب بلایا میں آپﷺ کے بالکل قریب
کھڑا ہو گیا(پردے کی غرض سے) یہاں تک کہ آپﷺ حاجت سے فارغ ہو گئے۔
62. To urinate near the dumps of some people.
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ
مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ كَانَ أَبُو مُوسَى الأَشْعَرِيُّ
يُشَدِّدُ فِي الْبَوْلِ وَيَقُولُ إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَ إِذَا
أَصَابَ ثَوْبَ أَحَدِهِمْ قَرَضَهُ. فَقَالَ حُذَيْفَةُ لَيْتَهُ
أَمْسَكَ، أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُبَاطَةَ قَوْمٍ
فَبَالَ قَائِمًا
Narrated By Abu
Wail : Abu Musa Al-Ash'ari used to lay great stress on the question of
urination and he used to say, "If anyone from Bani Israel happened to
soil his clothes with urine, he used to cut that portion away." Hearing
that, Hudhaifa said to Abu Wail, "I wish he (Abu Musa) didn't (lay great
stress on that matter)." Hudhaifa added, "Allah's Apostle went to the
dumps of some people and urinated while standing."
ہم
سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا اُنہوں
نے منصور سے اُنہوں نے ابو وائل سے نقل کیا کہ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ
عنہ پیشاب کے بارے میں بہت سختی کیا کرتے تھے، اور کہا کرتے تھے کہ بنی
اسرائیل میں جب کسی کے کپڑوں پہ پیشاب لگ جاتا تھا تو وہ اسے کاٹ ڈالتے
تھے، (حذیفہ فرماتے ہیں کہ) کاش وہ اتنی سختی نہ کرتے کیوں کہ نبی ﷺ ایک
کوڑے والی جگہ تشریف لے گئے اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔
63. The washing out of blood.
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ
هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ جَاءَتِ
امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ أَرَأَيْتَ إِحْدَانَا
تَحِيضُ فِي الثَّوْبِ كَيْفَ تَصْنَعُ قَالَ " تَحُتُّهُ، ثُمَّ
تَقْرُصُهُ بِالْمَاءِ، وَتَنْضَحُهُ وَتُصَلِّي فِيهِ "
Narrated By Asma' : A woman came to the Prophet and said, "If anyone of
us gets menses in her clothes then what should she do?" He replied,
"She should (take hold of the soiled place), rub it and put it in the
water and rub it in order to remove the traces of blood and then pour
water over it. Then she can pray in it."
ہم سے بیان کیا محمد بن مثنیٰ نے
انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نےبیان کیا اُنہوں نے ہشام بن
عروہ سے اُنہوں نے کہا مجھ سے فاطمہ نے اسماء کے واسطے سے بیان کیا کہ
ایک عورت نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور پوچھا ہم میں سے جس کو اپنے
کپڑوں میں ماہواری ہو جائے تو وہ کیا کرے ؟ آپﷺ نے فرمایا: اسے کھرچے، پھر
پانی ڈال کر رگڑے اور پھر دھو لے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا
هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ جَاءَتْ
فَاطِمَةُ ابْنَةُ أَبِي حُبَيْشٍ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم
فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ فَلاَ
أَطْهُرُ، أَفَأَدَعُ الصَّلاَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه
وسلم " لاَ، إِنَّمَا ذَلِكِ عِرْقٌ، وَلَيْسَ بِحَيْضٍ، فَإِذَا
أَقْبَلَتْ حَيْضَتُكِ فَدَعِي الصَّلاَةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي
عَنْكِ الدَّمَ ثُمَّ صَلِّي ". قَالَ وَقَالَ أَبِي " ثُمَّ
تَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلاَةٍ، حَتَّى يَجِيءَ ذَلِكَ الْوَقْتُ "
Narrated By 'Aisha : Fatima bint Abi Hubaish came to the Prophet and
said, "O Allah's Apostle I get persistent bleeding from the uterus and
do not become clean. Shall I give up my prayers?" Allah's Apostle
replied, "No, because it is from a blood vessel and not the menses. So
when your real menses begins give up your prayers and when it has
finished wash off the blood (take a bath) and offer your prayers."
Hisham (the sub narrator) narrated that his father had also said, (the
Prophet told her): "Perform ablution for every prayer till the time of
the next period comes."
ہم سے
بیان کیا محمد بن سلام نے انہوں نے کہا ہمیں خبر دی ابو معاویہ نے انہوں
نے کہا ہم سے بیان کیا ہشام بن عروہ نے انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ ابو حبیش کی بیٹی فاطمہ نے
نبیﷺ سے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ میں ایسی عورت ہوں جس کو استحاضہ کا مرض
لاحق ہے میں پاک نہیں رہ سکتی تو کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ آپ ﷺنے فرمایا :
نہیں ، یہ ایک رگ (کا خون) ہے ماہواری نہیں ہے پھر جب تجھے ماہواری ہو
تو نماز نہ پڑھ۔ اور جب وہ دن گزر جائیں تو خون دھو لو اور پھر نماز
پڑھو ، ھشام نے کہا میرے والد عروہ نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا
پھر ہر نماز کے لیے وضو کرلیا کرو یہاں تک کہ پھر ماہواری شروع ہو جائے۔
64. The washing out of semen with water and rubbing it off (when it is dry) and the washing out of what comes out of women (i.e., discharge).
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ الْجَزَرِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ
يَسَارٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُنْتُ أَغْسِلُ الْجَنَابَةَ مِنْ
ثَوْبِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، فَيَخْرُجُ إِلَى الصَّلاَةِ،
وَإِنَّ بُقَعَ الْمَاءِ فِي ثَوْبِهِ
Narrated By 'Aisha : I used to wash the traces of Janaba (semen) from
the clothes of the Prophet and he used to go for prayers while traces of
water were still on it (water spots were still visible).
ہم
سے عبدان نے بیان کیا انہوں نے کہا ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی
انہوں نے کہا ہم کو عمرو بن میمون جزری نے بتایا اُنہوں نے سلیمان بن یسار
سے اُنہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ میں نبیﷺ کے کپڑوں
سے جنابت(کے نشانات ) دھوتی تھی ، پھر آپﷺ نماز کے لیے تشریف لے جاتے اور
پانی کے نشانات آپﷺ کے کپڑوں پہ (نظر آتے تھے)۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ حَدَّثَنَا
عَمْرٌو، عَنْ سُلَيْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، ح وَحَدَّثَنَا
مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو
بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ
عَنِ الْمَنِيِّ، يُصِيبُ الثَّوْبَ فَقَالَتْ كُنْتُ أَغْسِلُهُ مِنْ
ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَيَخْرُجُ إِلَى الصَّلاَةِ
وَأَثَرُ الْغَسْلِ فِي ثَوْبِهِ بُقَعُ الْمَاءِ
Narrated By Sulaiman bin Yasar : I asked 'Aisha about the clothes
soiled with semen. She replied, "I used to wash it off the clothes of
Allah's Apostle and he would go for the prayer while water spots were
still visible."
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا انہوں
نے کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے عمرو بن میمون
نے بیان کیا اُنہوں نے سلیمان بن یسار سے انہوں نے کہا میں نے حضرت
عائشہؓ سے سنا دوسری سند اور ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا انہوں نے
کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے عمرو بن
میمون نے بیان کیا اُنہوں نے سلیمان بن یسار سے اُنہوں نے کہا میں نے
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس منی کے بارے میں پوچھا جو کپڑے پہ لگ جاتی
ہے تو انہوں نے جواب دیا میں نبیﷺ کے کپڑوں سے منی دھوتی تھی ، پھر آپﷺ
نماز کے لیے تشریف لے جاتے اور پانی کے نشانات کپڑوں پہ دکھائی دیتے تھے۔
65. If the (traces of) Janaba (semen) or other spots are not removed completely on washing.
حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، قَالَ حَدَّثَنَا
عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ، قَالَ سَأَلْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ فِي
الثَّوْبِ تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ كُنْتُ
أَغْسِلُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، ثُمَّ
يَخْرُجُ إِلَى الصَّلاَةِ وَأَثَرُ الْغَسْلِ فِيهِ بُقَعُ الْمَاءِ
Narrated By Sulaiman bin Yasar : I asked 'Aisha about the clothes
soiled with semen. She replied, "I used to wash it off the clothes of
Allah's Apostle and he would go for the prayer while water spots were
still visible."
ہم سے موسیٰ بن اسمٰعیل نے بیان
کیا انہوں نے کہا ہم سے عبد الواحد بنِ زیاد نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم
سے عمرو بن میمون نے بیان کیا انہوں نے کہا میں نے سلیمان بن یسار سے اس
کپڑے کے بارے میں پوچھا جس پہ منی لگ جاتی ہے ، انہو ں نے فرمایا: حضرت
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں رسول اللہﷺ کے کپڑے سے منی
دھوتی تھی اور آپﷺ نماز کے لیے جاتے تو پانی کے دھبے اس پہ نظر آتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ
يَسَارٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا كَانَتْ تَغْسِلُ الْمَنِيَّ مِنْ
ثَوْبِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، ثُمَّ أَرَاهُ فِيهِ بُقْعَةً أَوْ
بُقَعًا
Narrated By 'Amr bin
Maimun : I heard Sulaiman bin Yasar talking about the clothes soiled
with semen. He said that 'Aisha had said, "I used to wash it off the
clothes of Allah's Apostle and he would go for the prayers while water
spots were still visible on them.
ہم سے عمرو بن خالد نے بیان کیا
انہوں نے کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے عمرو بن میمون
بن مہران نے بیان کیا اُنہوں نے سلیمان بن یسار سے اُنہوں نے حضرت عائشہ
رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ میں نبیﷺ کے کپڑوں سے منی دھوتی تھی پھر ایک
یا کئی دھبے ان پہ دیکھتی۔
66. (What is said) about the urine of camels, sheep and other animals and about their folds.
Abu
Musa offered prayer at Dar-il-Barid (post office) and there was animal
dung in it though a vast strip of land was near it. Abu Musa said, "Both
these places are similar (for offering of the prayers)"
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ
زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَدِمَ
أُنَاسٌ مِنْ عُكْلٍ أَوْ عُرَيْنَةَ، فَاجْتَوَوُا الْمَدِينَةَ،
فَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِلِقَاحٍ، وَأَنْ يَشْرَبُوا
مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا، فَانْطَلَقُوا، فَلَمَّا صَحُّوا
قَتَلُوا رَاعِيَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَاسْتَاقُوا النَّعَمَ،
فَجَاءَ الْخَبَرُ فِي أَوَّلِ النَّهَارِ، فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمْ،
فَلَمَّا ارْتَفَعَ النَّهَارُ جِيءَ بِهِمْ، فَأَمَرَ فَقَطَعَ
أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ، وَسُمِرَتْ أَعْيُنُهُمْ، وَأُلْقُوا فِي
الْحَرَّةِ يَسْتَسْقُونَ فَلاَ يُسْقَوْنَ. قَالَ أَبُو قِلاَبَةَ
فَهَؤُلاَءِ سَرَقُوا وَقَتَلُوا وَكَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ،
وَحَارَبُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ
Narrated By Abu Qilaba : Anas said, "Some people of 'Ukl or 'Uraina
tribe came to Medina and its climate did not suit them. So the Prophet
ordered them to go to the herd of (Milch) camels and to drink their milk
and urine (as a medicine). So they went as directed and after they
became healthy, they killed the shepherd of the Prophet and drove away
all the camels. The news reached the Prophet early in the morning and he
sent (men) in their pursuit and they were captured and brought at noon.
He then ordered to cut their hands and feet (and it was done), and
their eyes were branded with heated pieces of iron, They were put in
'Al-Harra' and when they asked for water, no water was given to them."
Abu Qilaba said, "Those people committed theft and murder, became
infidels after embracing Islam and fought against Allah and His
Apostle."
ہم سے سلیمان بن حرب نے
بیان کیا اُنہوں نے حماد بن زید سے انہوں نے ایوب سے اُنہوں نے ابو قلابہ
سے، اُنہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ (قبیلہ) عکل اور عرینہ کے
کچھ لوگ مدینہ آئے، وہاں کی ہوا انہیں موافق نہ آئی (اور بیمار ہو گئے) تو
نبیﷺ نے انہیں لقاح جانے کا حکم دیا ، کہ وہاں جا کر وہ انٹنیوں کا دودھ
اور پیشاب پییں، جب وہ صحت مند ہو گئے تو انہوں نے نبیﷺ کے چرواہے کو مار
ڈالا اور اونٹنیاں بھگا لے گئے، یہ خبر صبح صبح مدینہ پہنچی تو آپﷺ نے ان
کے پیچھے بندے دوڑا دئیے، جو انہیں پکڑ کر دن چڑھے نبی ﷺکے پاس لائےتو آپﷺ
کے حکم کے مطابق ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دئیے گئے ، آنکھیں پھوڑ دی گئیں اور
انہیں مدینے کی پتھریلی زمین پہ پھینک دیا گیا، وہ شدتِ پیاس کی وجہ سے
پانی مانگتے لیکن پانی نہ دیا جاتا، ابو قلابہ فرماتے ہیں ( ایسی سخت سزا
اس لئےدی گئی کہ) انہوں نے چوری کی، قتل کیا ،ایمان کے بعد کفر کی راہ
اختیار کی اور اللہ اور اسکے رسول سے جنگ کی۔
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو
التَّيَّاحِ، يَزِيدُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ
صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي قَبْلَ أَنْ يُبْنَى الْمَسْجِدُ فِي
مَرَابِضِ الْغَنَمِ
Narrated By Anas : Prior to the construction of the mosque, the Prophet offered the prayers at sheep-folds.
ہم سے آدم نے بیان کیا انہوں نے
کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا انہوں نے کہا ہمیں ابو الیتاح (یزید بن
حمید) نے خبر دی اُنہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبیﷺ مسجد
بننے سے پہلے بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھا کرتے تھے۔
67. An-Najasat (impure and filthy things) which fall in cooking butter (ghee- which is obtained by evaporating moisture from butter) and water.
Az-Zuhri said, "There is no
harm in using water if its taste, odour and colour is not changed."
Hammad said, "There is no harm if the feathers of dead birds fell in
it." About the bones of dead animals like an elephant, Az-Zuhri said, "I
met some of the old learned religious men who were using them (bones)
as combs and as containers for oiling, etc, and they found no harm in
that." Ibn Sirin and Ibrahim said, "There is no harm in the trade of
ivory."
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ،
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ
مَيْمُونَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ عَنْ
فَأْرَةٍ سَقَطَتْ فِي سَمْنٍ فَقَالَ " أَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا
فَاطْرَحُوهُ. وَكُلُوا سَمْنَكُمْ "
Narrated By Maimuna : Allah's Apostle was asked regarding ghee (cooking
butter) in which a mouse had fallen. He said, "Take out the mouse and
throw away the ghee around it and use the rest."
ہم سے اسمٰعیل بن ابی اویس نے
بیان کیا انہوں نے کہا مجھ سے امام مالکؒ نے بیان کیا اُنہوں نے ابنِ شہاب
سے اُنہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سےاُنہوں نے ابنِ عباس رضی اللہ
عنہما سے اُنہوں نے ام المومنین میمونہ رضی اللہ عنہا سےروایت کی کہ
رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا چوہا گھی میں گر جائے تو کیا کریں آپﷺ نے
فرمایا : اس کو اور اس کے ارد گرد کو پھینک دیں اور باقی گھی استعمال کر
لیں۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ
حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ
عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ
مَيْمُونَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ عَنْ فَأْرَةٍ
سَقَطَتْ فِي سَمْنٍ فَقَالَ " خُذُوهَا وَمَا حَوْلَهَا فَاطْرَحُوهُ
". قَالَ مَعْنٌ حَدَّثَنَا مَالِكٌ مَا لاَ أُحْصِيهِ يَقُولُ عَنِ
ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ مَيْمُونَةَ
Narrated By Maimuna : The Prophet was asked regarding ghee in which a
mouse had fallen. He said, "Take out the mouse and throw away the ghee
around it (and use the rest.)"
ہم
سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے معن نے بیان کیا
انہوں نے کہا ہم سے امام مالکؒ نے اُنہوں نے ابنِ شہاب سے اُنہوں نے
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے اُنہوں نے ابنِ عباس رضی اللہ
عنہما سے اُنہوں نے ام المومنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے کہ نبی ﷺ سے
پوچھا گیا چوہا اگر گھی میں گر پڑے تو کیا کریں آپﷺ نے فرمایا چوہے اور
اس کے آس پاس کو نکال دیں ، معن نے کہا ہم سے مالکؒ نے بے شمار مرتبہ یہ
حدیث بیان کی وہ یوں کہتے تھے ابنِ عباس سے اُنہوں نے میمونہ رضی اللہ عنہم
سے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ،
قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي
هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " كُلُّ كَلْمٍ
يُكْلَمُهُ الْمُسْلِمُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَكُونُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
كَهَيْئَتِهَا إِذْ طُعِنَتْ، تَفَجَّرُ دَمًا، اللَّوْنُ لَوْنُ الدَّمِ،
وَالْعَرْفُ عَرْفُ الْمِسْكِ "
Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "A wound which a Muslim
receives in Allah's cause will appear on the Day of Resurrection as it
was at the time of infliction; blood will be flowing from the wound and
its colour will be that of the blood but will smell like musk."
ہم
سے احمد بن محمد نے بیان کیا انہوں نے کہا ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر
دی انہوں نے کہا ہمیں معمر نے خبر دی اُنہوں نے ہمام بن منبہ سے اُنہوں نے
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبیﷺ نے فرمایا: اللہ کی راہ میں
مسلمان کو جو زخم لگتا ہے وہ روزِ قیامت اسی طرح تازہ ہو جائے گا جس طرح اب
ہے ، اس کا رنگ تو خون جیسا ہو گا اور خوشبو کستوری جیسی ہو گی۔
68. Urinating in stagnant water.
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ
أَخْبَرَنَا أَبُو الزِّنَادِ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ هُرْمُزَ
الأَعْرَجَ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ
رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " نَحْنُ الآخِرُونَ
السَّابِقُونَ "
Narrated By Abu
Huraira : Allah's Apostle said, "We (Muslims) are the last (people to
come in the world) but (will be) the foremost (on the Day of
Resurrection)."
ہم سے ابو الیمان
نے بیان کیا انہوں نے کہا ہمیں شعیب نے خبر دی انہوں نے کہا ہمیں ابو
الزناد نے خبر دی اُن سے عبدالرحمٰن بن ہر مز اعرج نے بیان کیا اُنہوں نے
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ آپﷺ نے فرمایا: ہم (دنیا میں) آخر میں
آئے ہیں اور (آخرت میں) سب سے پہلے ہوں گئے۔
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ " لاَ يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ الَّذِي لاَ يَجْرِي، ثُمَّ يَغْتَسِلُ فِيهِ "
The same narrator told that the Prophet had said, "You should not pass
urine in stagnant water which is not flowing then (you may need to)
wash in it."
اور اسی اسناد سےرسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی ٹھہرے ہوے پانی میں پیشاب نہ کرے پھر اس میں نہائے۔
69. If a dead body or a polluted thing is put on the back of a person offering Salat, his Salat will not be annulled (rejected by Allah).
In
prayer Ibn Umar used to take off his cloths whenever he saw blood on
them and used to continue his prayer. Ibn Al-Musaiyyab and Ash-Shabi
said, "Whenever a person offers his Salat while wearing cloths stained
with blood or Janaba or offers Salat facing in a direction other than
the Qiblah (un-intentionally) or with Tayammum and finds water before
the time of that Salat is over, he has not to repeat his Salat in any of
the above mentioned cases."
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ
أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ
بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَاجِدٌ ح قَالَ وَحَدَّثَنِي
أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ مَسْلَمَةَ قَالَ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ
قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ
مَسْعُودٍ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي
عِنْدَ الْبَيْتِ، وَأَبُو جَهْلٍ وَأَصْحَابٌ لَهُ جُلُوسٌ، إِذْ قَالَ
بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ أَيُّكُمْ يَجِيءُ بِسَلَى جَزُورِ بَنِي فُلاَنٍ
فَيَضَعُهُ عَلَى ظَهْرِ مُحَمَّدٍ إِذَا سَجَدَ فَانْبَعَثَ أَشْقَى
الْقَوْمِ فَجَاءَ بِهِ، فَنَظَرَ حَتَّى إِذَا سَجَدَ النَّبِيُّ صلى الله
عليه وسلم وَضَعَهُ عَلَى ظَهْرِهِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ وَأَنَا أَنْظُرُ،
لاَ أُغَيِّرُ شَيْئًا، لَوْ كَانَ لِي مَنْعَةٌ. قَالَ فَجَعَلُوا
يَضْحَكُونَ وَيُحِيلُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، وَرَسُولُ اللَّهِ صلى
الله عليه وسلم سَاجِدٌ لاَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، حَتَّى جَاءَتْهُ
فَاطِمَةُ، فَطَرَحَتْ عَنْ ظَهْرِهِ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ قَالَ "
اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ ". ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، فَشَقَّ
عَلَيْهِمْ إِذْ دَعَا عَلَيْهِمْ ـ قَالَ وَكَانُوا يُرَوْنَ أَنَّ
الدَّعْوَةَ فِي ذَلِكَ الْبَلَدِ مُسْتَجَابَةٌ ـ ثُمَّ سَمَّى "
اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِأَبِي جَهْلٍ، وَعَلَيْكَ بِعُتْبَةَ بْنِ
رَبِيعَةَ، وَشَيْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَالْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ،
وَأُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ، وَعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ ". وَعَدَّ
السَّابِعَ فَلَمْ يَحْفَظْهُ قَالَ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَدْ
رَأَيْتُ الَّذِينَ عَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَرْعَى فِي
الْقَلِيبِ قَلِيبِ بَدْرٍ
Narrated By 'Abdullah : While Allah's Apostle was prostrating (as stated below).
Narrated By 'Abdullah bin Mas'ud : Once the Prophet was offering prayers at the Ka'ba. Abu Jahl was sitting with some of his companions. One of them said to the others, "Who amongst you will bring the abdominal contents (intestines, etc.) of a camel of Bani so and so and put it on the back of Muhammad, when he prostrates?" The most unfortunate of them got up and brought it. He waited till the Prophet prostrated and then placed it on his back between his shoulders. I was watching but could not do any thing. I wish I had some people with me to hold out against them. They started laughing and falling on one another. Allah's Apostle was in prostration and he did not lift his head up till Fatima (Prophet's daughter) came and threw that (camel's abdominal contents) away from his back. He raised his head and said thrice, "O Allah! Punish Quraish." So it was hard for Abu Jahl and his companions when the Prophet invoked Allah against them as they had a conviction that the prayers and invocations were accepted in this city (Mecca). The Prophet said, "O Allah! Punish Abu Jahl, 'Utba bin Rabi'a, Shaiba bin Rabi'a, Al-Walid bin 'Utba, Umaiya bin Khalaf, and 'Uqba bin Al Mu'it (and he mentioned the seventh whose name I cannot recall). By Allah in Whose Hands my life is, I saw the dead bodies of those persons who were counted by Allah's Apostle in the Qalib (one of the wells) of Badr.
Narrated By 'Abdullah bin Mas'ud : Once the Prophet was offering prayers at the Ka'ba. Abu Jahl was sitting with some of his companions. One of them said to the others, "Who amongst you will bring the abdominal contents (intestines, etc.) of a camel of Bani so and so and put it on the back of Muhammad, when he prostrates?" The most unfortunate of them got up and brought it. He waited till the Prophet prostrated and then placed it on his back between his shoulders. I was watching but could not do any thing. I wish I had some people with me to hold out against them. They started laughing and falling on one another. Allah's Apostle was in prostration and he did not lift his head up till Fatima (Prophet's daughter) came and threw that (camel's abdominal contents) away from his back. He raised his head and said thrice, "O Allah! Punish Quraish." So it was hard for Abu Jahl and his companions when the Prophet invoked Allah against them as they had a conviction that the prayers and invocations were accepted in this city (Mecca). The Prophet said, "O Allah! Punish Abu Jahl, 'Utba bin Rabi'a, Shaiba bin Rabi'a, Al-Walid bin 'Utba, Umaiya bin Khalaf, and 'Uqba bin Al Mu'it (and he mentioned the seventh whose name I cannot recall). By Allah in Whose Hands my life is, I saw the dead bodies of those persons who were counted by Allah's Apostle in the Qalib (one of the wells) of Badr.
ہم
سے عبدان نے بیان کیا انہوں نے کہا مجھے میرے والد(عثمان) نے خبر دی
اُنہوں نے ابو اسحٰق سے بیان کیا اُنہوں نے عمرو بن میمونؓ سے کہ عبداللہ
بن مسعود نے کہا ایک بار ایسا ہوا کہ رسول اللہ ﷺ (کعبے کے پاس) سجدے میں
تھے ۔دوسری سند، امام بخاری بیان کرتے ہیں مجھ سے احمد بن عثمان نے بیان
کیا انہوں نے کہا ہم سے شریح بن مسلمہ نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے
ابراہیم بن یوسف نے بیان کیا اُنہوں نے اپنے باپ سے، انہوں نے ابو اسحاق سے
انہوں نے کہا مجھ سے عمرو بن میمون نے بیان کیا ان سے عبداللہ بن مسعود
رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی ﷺ خانہ کعبہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے ،
ابو جہل اپنے ساتھیوں سمیت وہاں بیٹھا تھا، اتنے میں اس نے کہا آپ میں سے
کون فلاں لوگوں کی انٹنی کی اجڑی لا کر محمدکی پیٹھ پر ڈالے گا؟ یہ سن کر
ان کا بدبخت ترین آدمی (عقبہ بن ابی معیط) اٹھا اور اوجڑی لا کر آپﷺ کے
انتظار میں رہا، جب نبیﷺ سجدےمیں گئے تو اس (بد بخت) نے آپﷺ کی پیٹھ پر
رکھ دی،عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ باوجود یہ منظر
دیکھنے کے مجھ میں کچھ کرنے کی طاقت نہ تھی، کاش میں کچھ کر سکتا، اور
وہ(مشرکین) یہ منظر دیکھ کر خوشی کے مارے ایک دوسرے پر گرے جا رہے تھے،
اور نبیﷺ بوجھ کی وجہ سے سر مبارک نہیں اٹھا سکتے تھے، اتنے میں حضرت فاطمہ
رضی اللہ عنہا آئیں اور آپﷺ کی پیٹھ سے اسے اٹھایا، تو آپﷺ نے اپنا سر
مبارک سجدے سے اٹھایا اور تین بار بدعاء کی اے اللہ قریش کو ہلاک کر ، یہ
بات ان مشرکین پہ گراں گزری اس لیے کہ ان کا خیال تھا اس شہر میں جو دعاء
کی جاے وہ ضرور قبول ہوتی ہے، پھر آپﷺ نے نام لے لے کر فرمایا: یا اللہ ابو
جھل ، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ولید بن عتبہ،امیہ بن خلف اور عقبہ
بن ابی معیط کو ہلاک فرما، عمرو بن میمون نے ساتویں شخص(عمارہ بن
ولید)کانام بھی لیا تھا لیکن ہمیں یاد نہیں رہا، عبد اللہ بن مسعود رضی
اللہ عنہ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہےمیں نے ان
لوگوں کو بدر کے دن ایک کنوئیں میں دیکھا جن جن کا آپﷺ نے نام لیا تھا۔
70. Spitting or blowing out the nose or doing similar action in one’s own garment.
Narrated
Miswar bin Makhrama and Marwan: "Allah's Messenger (s.a.w) set out at
the time of Al-Hudaibiya amd mentioned the rest of the Hadith and when
Allah's Messenger (s.a.w) spitted, the spittle would fall in the hand of
one of them (companions) who would rub it on his face and cloths."
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ
حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ بَزَقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي
ثَوْبِهِ. طَوَّلَهُ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ قَالَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى
بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا عَنِ النَّبِيِّ
صلى الله عليه وسلم
Narrated By Anas : The Prophet once spat in his clothes.
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے
بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا اُنہوں نے حمید سے
اُنہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے (نماز میں) اپنے کپڑے
میں تھوکا ، امام بخاریؒ نے فرمایا سعید بن ابی مریم نے اس حدیث کو لمبا
بیان کیا اُنہوں نے کہا ہمیں خبر دی یحییٰ ابنِ ایوب نے انہوں نے کہا
مجھ سے بیان کیا حمید نے انہوں نے کہا میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا
اُنہوں نے نبی ﷺ سے۔
71. It is unlawful to perform ablution with Nabidh (water in which dates or grapes etc are soaked and is not yet fermented) or with any other intoxicant.
Hasan and Abul-Aliya disliked it. Ata said, "I prefer to do Tayammum instead of doing ablution with milk or Nabidh."
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ،
قَالَ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ
النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ
حَرَامٌ "
Narrated By 'Aisha : The Prophet said, "All drinks that produce intoxication are Haram (forbidden to drink).
ہم
سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان
کیا اُنہوں نے زہری سے اُنہوں نے ابوسلمہ سے اُنہوں نے حضرت عائشہ رضی
اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا پینے کی ہر وہ چیز جو نشہ دے
حرام ہے۔
72. Washing blood by a woman off her father’s face.
Abul-Aliya said: Rub my leg as it is aching.
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ
أَبِي حَازِمٍ، سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ،، وَسَأَلَهُ
النَّاسُ، وَمَا بَيْنِي وَبَيْنَهُ أَحَدٌ بِأَىِّ شَىْءٍ دُووِيَ جُرْحُ
النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ مَا بَقِيَ أَحَدٌ أَعْلَمُ بِهِ
مِنِّي، كَانَ عَلِيٌّ يَجِيءُ بِتُرْسِهِ فِيهِ مَاءٌ، وَفَاطِمَةُ
تَغْسِلُ عَنْ وَجْهِهِ الدَّمَ، فَأُخِذَ حَصِيرٌ فَأُحْرِقَ فَحُشِيَ
بِهِ جُرْحُهُ
Narrated By Abu
Hazim : Sahl bin Sa'd As-Sa'idi, was asked by the people, "With what was
the wound of the Prophet treated? Sahl replied, "None remains among the
people living who knows that better than I. 'Ah used to bring water in
his shield and Fatima used to wash the blood off his face. Then straw
mat was burnt and the wound was filled with it."
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا
انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا اُنہوں نے ابو حازم سے
روایت کی کہ سہل بن سعد ساعدی سے لوگوں نے پوچھا اور ( میں اس وقت سہل کے
اتنا قریب تھا کہ)میرے اور ان کے درمیان اور کوئی نہ تھا ، نبیﷺ کو احد کے
دن جو زخم لگے تھے ان کا علاج کیسے کیا گیا تھا؟ سہل نے فرمایا: اس بارے
میں مجھ سے زیادہ جاننے والا کوئی نہیں رہا، حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنی
ڈھال میں پانی لاتے اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا آپﷺ کے چہرہ مبارک سے خون
صاف کرتیں(خون بند نہ ہونے کی وجہ سے)ایک چٹائی جلا کر اس کی راکھ سے آپﷺ
کا زخم بھرا گیا۔
73. Siwak (to clean the teeth with Siwak which is a tooth-brush in the form of a pencil from the roots of the Arak tree).
Ibn Abbas said, "Once I passed the night with the Prophet (s.a.w) and saw him cleaning his teeth (with Siwak)"
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ،
عَنْ غَيْلاَنَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ
أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَوَجَدْتُهُ يَسْتَنُّ بِسِوَاكٍ
بِيَدِهِ يَقُولُ " أُعْ أُعْ "، وَالسِّوَاكُ فِي فِيهِ، كَأَنَّهُ
يَتَهَوَّعُ
Narrated By Abu
Musa, "I came to the Prophet and saw him carrying a Siwak in his hand
and cleansing his teeth, saying, 'U' U'," as if he was retching while
the Siwak was in his mouth."
ہم سے ابو النعمان نے بیان کیا
انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا اُنہوں نے غیلان بن جریر سے
اُنہوں نے ابو بردہ سے انہوں نے اپنے والد (ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ)
سے روایت کی کہ میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپﷺ کو اپنے ہاتھ سے
مسواک کرتے پایا، اور آپﷺ کے منہ سے اع اع کی آواز نکل رہی تھی، اور مسواک
آپﷺ کے ہاتھ میں تھی گویا کہ آپ قے کر رہے ہوں۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ
أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه
وسلم إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَشُوصُ فَاهُ بِالسِّوَاكِ
Narrated By Hudhaifa : Whenever the Prophet got up at night, he used to clean his mouth with Siwak.
ہم
سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے جریر نے بیان کیا
اُنہوں نے منصور سے اُنہوں نے ابو وائل سے اُنہوں نے حذیفہ رضی اللہ عنہ
سے روایت کی کہ نبیﷺ جب رات کو بیدار ہوتے تو مسواک سے اپنا منہ صاف
فرماتے۔
74. To give Siwak to the oldest person of the group.
وَقَالَ عَفَّانُ حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، عَنْ نَافِعٍ،
عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ "
أَرَانِي أَتَسَوَّكُ بِسِوَاكٍ، فَجَاءَنِي رَجُلاَنِ أَحَدُهُمَا
أَكْبَرُ مِنَ الآخَرِ، فَنَاوَلْتُ السِّوَاكَ الأَصْغَرَ مِنْهُمَا،
فَقِيلَ لِي كَبِّرْ. فَدَفَعْتُهُ إِلَى الأَكْبَرِ مِنْهُمَا ".
قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ اخْتَصَرَهُ نُعَيْمٌ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ
عَنْ أُسَامَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ
Narrated Ibn-e-Umar: The Prophet said," I dreamt that I was cleaning my
teeth with a siwak and two persons came to me. One of them was older
than the other and I gave the Siwak to the younger.I was told that I
should give it to the older and so I did."
عفان
بن مسلم نے کہا ہم سے صخر بن جویریہ نے بیان کیا اُنہوں نے نافع سے اُنہوں
نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا میں نے خواب
دیکھا کہ میں مسواک کر رہا ہوں ، اتنے میں دو شخص میرے پاس آئے، میں نے ان
میں سے چھوٹے کو مسواک دی ، مجھے کہا گیا بڑے کو دیں میں نے بڑے کو دے دی ،
امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا: اس حدیث کو نعیم بن حماد نے عبد اللہ بن
مبارک سے اختصار سے بیان کیا،انہوں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ انہوں نے
نافع سے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے۔
75. The superiority of a person who sleeps with ablution.
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ،
قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ
عُبَيْدَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى
الله عليه وسلم " إِذَا أَتَيْتَ مَضْجَعَكَ فَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ
لِلصَّلاَةِ، ثُمَّ اضْطَجِعْ عَلَى شِقِّكَ الأَيْمَنِ، ثُمَّ قُلِ
اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ،
وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ، رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ، لاَ
مَلْجَأَ وَلاَ مَنْجَا مِنْكَ إِلاَّ إِلَيْكَ، اللَّهُمَّ آمَنْتُ
بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ، وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ.
فَإِنْ مُتَّ مِنْ لَيْلَتِكَ فَأَنْتَ عَلَى الْفِطْرَةِ، وَاجْعَلْهُنَّ
آخِرَ مَا تَتَكَلَّمُ بِهِ ". قَالَ فَرَدَّدْتُهَا عَلَى النَّبِيِّ
صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا بَلَغْتُ " اللَّهُمَّ آمَنْتُ بِكِتَابِكَ
الَّذِي أَنْزَلْتَ ". قُلْتُ وَرَسُولِكَ. قَالَ " لاَ،
وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ "
Narrated By Al-Bara 'bin 'Azib : The Prophet said to me, "Whenever you
go to bed perform ablution like that for the prayer, lie or your right
side and say, "Allahumma aslamtu wajhi ilaika, wa fauwadtu amri ilaika,
wa alja'tu Zahri ilaika raghbatan wa rahbatan ilaika. La Malja' wa la
manja minka illa ilaika. Allahumma amantu bikitabika-l-ladhi anzalta wa
bina-biyika-l ladhi arsalta" (O Allah! I surrender to You and entrust
all my affairs to You and depend upon You for Your Blessings both with
hope and fear of You. There is no fleeing from You, and there is no
place of protection and safety except with You O Allah! I believe in
Your Book (the Qur'an) which You have revealed and in Your Prophet
(Muhammad) whom You have sent). Then if you die on that very night, you
will die with faith (i.e. or the religion of Islam). Let the aforesaid
words be your last utterance (before sleep)." I repeated it before the
Prophet and when I reached "Allahumma amantu bikitabika-l-ladhi anzalta
(O Allah I believe in Your Book which You have revealed)." I said,
"Wa-rasulika (and your Apostle)." The Prophet said, "No, (but say):
'Wanabiyika-l-ladhi arsalta (Your Prophet whom You have sent), instead."
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا انہوں نے کہا ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی انہوں نے کہا ہمیں سفیان ثوری نے خبر دی اُنہوں نے منصور سے اُنہوں نے سعد بن عبیدہ سے اُنہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے مجھے فرمایا: جب تم سونے کے لیے آو تو ایسے وضو کرو جیسے نماز کے لیے کرتے ہو پھر داہنی کروٹ لیٹ کر اس طرح دعاء کرو، اے اللہ میں نے اپنا آپ آپ کے سپرد کر دیا، اور اپنا چہرہ آپ کی طرف پھیر دیا، اور اپنا معاملہ آپ کے سپرد کر دیا، اور تیرے ثواب کی توقع اور عذاب کے ڈر سے تجھے ہی پشت پناہ بنا لیا، تجھ سے بھاگ کر کہیں پناہ اور ٹھکانا نہیں مگر تیرے ہی پاس، یا اللہ میں تیری کتاب قرآن پاک جسے تو نے اتارا ، اور تیرے نبیﷺ جنہیں تو نے بھیجا ہے پر ایمان لایا، اگر تم اسی رات فوت ہو گئے تو اسلام پر موت ہو گی، اور یہ دعاء تمہارا آخری کلام ہو، براء فرماتے ہیں میں نے آپﷺ کو یہ دعاء سنائی جب اس جگہ پہنچا آمنت بکتابک الذی انزلت اور اس کے بعد یوں کہا ورسولک الذی ارسلت تو آپﷺ نے فرمایا نہیں ، یوں کہو ونبیک الذی ارسلت۔
No comments:
Post a Comment