<bgsound loop='infinite' src='music.mp3'></bgsound> Sayings of the Messenger احادیثِ رسول اللہ ﷺ: hadiths about ramzan كتاب الصوم

hadiths about ramzan كتاب الصوم


Sahih Bukhari

Book:    كتاب الصوم 

1. Fasting is obligatory in Ramadan.

And the Statement of Allah, "O you who believe! Fasting is prescribed for you as it was prescribed for those before you so that you may become God conscious." [V.2:183]


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا، جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثَائِرَ الرَّأْسِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي مَاذَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَىَّ مِنَ الصَّلاَةِ فَقَالَ ‏"‏ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ، إِلاَّ أَنْ تَطَّوَّعَ شَيْئًا ‏"‏‏.‏ فَقَالَ أَخْبِرْنِي مَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَىَّ مِنَ الصِّيَامِ فَقَالَ ‏"‏ شَهْرَ رَمَضَانَ، إِلاَّ أَنْ تَطَّوَّعَ شَيْئًا ‏"‏‏.‏ فَقَالَ أَخْبِرْنِي بِمَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَىَّ مِنَ الزَّكَاةِ فَقَالَ فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَرَائِعَ الإِسْلاَمِ‏.‏ قَالَ وَالَّذِي أَكْرَمَكَ لاَ أَتَطَوَّعُ شَيْئًا، وَلاَ أَنْقُصُ مِمَّا فَرَضَ اللَّهُ عَلَىَّ شَيْئًا‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ، أَوْ دَخَلَ الْجَنَّةَ إِنْ صَدَقَ ‏"‏‏.‏

Narrated By Talha bin 'Ubaid-Ullah : A bedouin with unkempt hair came to Allah's Apostle and said, "O Allah's Apostle! Inform me what Allah has made compulsory for me as regards the prayers." He replied: "You have to offer perfectly the five compulsory prayers in a day and night (24 hours), unless you want to pray Nawafil." The bedouin further asked, "Inform me what Allah has made compulsory for me as regards fasting." He replied, "You have to fast during the whole month of Ramadan, unless you want to fast more as Nawafil." The bedouin further asked, "Tell me how much Zakat Allah has enjoined on me." Thus, Allah's Apostle informed him about all the rules (i.e. fundamentals) of Islam. The bedouin then said, "By Him Who has honoured you, I will neither perform any Nawafil nor will I decrease what Allah has enjoined on me. Allah's Apostle said, "If he is saying the truth, he will succeed (or he will be granted Paradise)."

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا کہا ہم سے اسمٰعیل بن جعفر نے ابو سہیل سے انہوں نے اپنے باپ (مالک) سے انہوں نے طلحہ بن عبیداللہ سے کہ ایک گنوار پریشان سر رسول اللہ ﷺکے پاس آیا اور عرض کیا یا رسول اللہﷺ بتلائیےاللہ نے ہم پر کون سی نمازیں فرض کی ہیں آپؐ نےفرمایا پانچ نمازیں البتہ اگر تونفل زیادہ پڑھے تو اور بات ہے پھر اس نےپوچھا بتلایئے اللہ نے مجھ پر روزے کون سے فرض کیے ہیں آپؐ نے فرمایا رمضان کے البتہ اگرنفل زیادہ رکھے تو اور بات ہے پھر اس نے پوچھا اللہ نے مجھ پر فرض زکوٰۃ کون سی کی ہے غرض آپؐ نے اس کو شرع اسلام کی باتیں بتلا دیں تب وہ کہنے لگا قسم اس کی جس نے آپؐ کو عزت دی اللہ نے جو فرض کیا ہے میں نہ اس سے بڑھاؤں گا نہ گھٹاؤں گا رسول اللہﷺ نے فرمایا اگر یہ سچا ہےتو مراد کو پہنچا یا سچا ہے تو بہشت میں جائے گا۔





حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ صَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَاشُورَاءَ، وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ‏.‏ فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ تُرِكَ‏.‏ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ لاَ يَصُومُهُ، إِلاَّ أَنْ يُوَافِقَ صَوْمَهُ‏.‏

Narrated By Ibn 'Umar : The Prophet observed the fast on the 10th of Muharram ('Ashura), and ordered (Muslims) to fast on that day, but when the fasting of the month of Ramadan was prescribed, the fasting of the 'Ashura was abandoned. 'Abdullah did not use to fast on that day unless it coincided with his routine fasting by chance.

ہم سے مسددبن مسر ہد نے بیان کیا کہا ہم سے اسمٰعیل بن علیہ نے انہوں نے ایوب سے انہوں نے نافع سے انہوں نے ابن عمرؓ سے انہوں نے کہا نبیﷺ نے عاشورے کا روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی اسکا حکم دیا جب رمضان فرض ہوا تو عاشورے کا روزہ موقوف ہو گیا عبداللہ بن عمرؓ عاشورے کے دن روزہ نہ رکھتے تھے مگر جب انکے روزے کے دن آ ن پڑتا۔





حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ عِرَاكَ بْنَ مَالِكٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ عُرْوَةَ أَخْبَرَهُ عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ قُرَيْشًا، كَانَتْ تَصُومُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، ثُمَّ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِصِيَامِهِ حَتَّى فُرِضَ رَمَضَانُ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ شَاءَ فَلْيَصُمْهُ، وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ ‏"‏‏.‏

Narrated By 'Aisha : (The tribe of) Quraish used to fast on the day of Ashura' in the Pre-Islamic period, and then Allah's Apostle ordered (Muslims) to fast on it till the fasting in the month of Ramadan was prescribed; whereupon the Prophet said, "He who wants to fast (on 'Ashura) may fast, and he who does not want to fast may not fast."


ہم سے قتیبہ نے بیان کیا کہا ہم سےلیث نے انہوں نے یزید بن ابی حبیب سےان سے عراک بن مالک نے بیان کیا ان کو عروہ نے خبر دی انہوں نے حضرت عائشہؓ سے کہ قریش کے لوگ جاہلیت کے زمانے میں عاشورے کے دن کا روزہ رکھا کرتے تھے پھر رسول اللہﷺ نے بھی اس دن کے روزے کا حکم دیا یہاں تک کہ رمضان کے روزے فرض ہوئے اور( اس وقت) آپؐ نے فرمایا جس کا جی چاہے وہ عاشورے کا روزہ رکھےجس کا جی چاہے نہ رکھے۔

2. The superiority of As-Saum (the fasting).



حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ الصِّيَامُ جُنَّةٌ، فَلاَ يَرْفُثْ وَلاَ يَجْهَلْ، وَإِنِ امْرُؤٌ قَاتَلَهُ أَوْ شَاتَمَهُ فَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ‏.‏ مَرَّتَيْنِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ تَعَالَى مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ، يَتْرُكُ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ وَشَهْوَتَهُ مِنْ أَجْلِي، الصِّيَامُ لِي، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، وَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا ‏"‏‏.‏

Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "Fasting is a shield (or a screen or a shelter). So, the person observing fasting should avoid sexual relation with his wife and should not behave foolishly and impudently, and if somebody fights with him or abuses him, he should tell him twice, 'I am fasting." The Prophet added, "By Him in Whose Hands my soul is, the smell coming out from the mouth of a fasting person is better in the sight of Allah than the smell of musk. (Allah says about the fasting person), 'He has left his food, drink and desires for My sake. The fast is for Me. So I will reward (the fasting person) for it and the reward of good deeds is multiplied ten times."


ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا کہا انہوں نے امام مالک سے انہوں نے ابوالزناد سے انہوں نےاعرج سے انہوں نے ابوہریرہؓ سے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا روزہ (دوزخ کی) سپر ہے روزے میں فحش باتیں نہ کرے نہ جہالت کی باتیں اگر کوئی آدمی اس سے لڑے یا گالی دے تو دو بار کہہ دے میں روزہ دار ہوں قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بہتر ہے اللہ فرماتا ہے روزہ دار میرے لیے اپنا کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے اور اپنی خواہش ترک کر دیتا ہے روزہ خاص میرے لئے ہے اور میں خود ہی اس کا بدلہ دوں گا اور ایک نیکی کے بدل دس نیکیوں کا ثواب ملے گا۔

3. Fasting is expiation for sins.



حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا جَامِعٌ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ قَالَ عُمَرُ ـ رضى الله عنه ـ مَنْ يَحْفَظُ حَدِيثًا عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الْفِتْنَةِ قَالَ حُذَيْفَةُ أَنَا سَمِعْتُهُ يَقُولُ ‏"‏ فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَجَارِهِ تُكَفِّرُهَا الصَّلاَةُ وَالصِّيَامُ وَالصَّدَقَةُ ‏"‏‏.‏ قَالَ لَيْسَ أَسْأَلُ عَنْ ذِهِ، إِنَّمَا أَسْأَلُ عَنِ الَّتِي تَمُوجُ كَمَا يَمُوجُ الْبَحْرُ‏.‏ قَالَ وَإِنَّ دُونَ ذَلِكَ بَابًا مُغْلَقًا‏.‏ قَالَ فَيُفْتَحُ أَوْ يُكْسَرُ قَالَ يُكْسَرُ‏.‏ قَالَ ذَاكَ أَجْدَرُ أَنْ لاَ يُغْلَقَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ‏.‏ فَقُلْنَا لِمَسْرُوقٍ سَلْهُ أَكَانَ عُمَرُ يَعْلَمُ مَنِ الْبَابُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ نَعَمْ، كَمَا يَعْلَمُ أَنَّ دُونَ غَدٍ اللَّيْلَةَ‏.‏

Narrated By Abu Wail from Hudhaifa : Umar asked the people, "Who remembers the narration of the Prophet about the affliction?" Hudhaifa said, "I heard the Prophet saying, 'The affliction of a person in his property, family and neighbours is expiated by his prayers, fasting, and giving in charity." 'Umar said, "I do not ask about that, but I ask about those afflictions which will spread like the waves of the sea." Hudhaifa replied, "There is a closed gate in front of those afflictions." 'Umar asked, "Will that gate be opened or broken?" He replied, "It will be broken." 'Umar said, "Then the gate will not be closed again till the Day of Resurrection." We said to Masruq, "Would you ask Hudhaifa whether 'Umar knew what that gate symbolized?" He asked him and he replied "He ('Umar) knew it as one knows that there will be night before tomorrow, morning.

ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے کہا ہم سے جامع بن راشد نے انہوں نے ابو وائل سے انہوں نے حذیفہؓ سے انہوں نے کہا حضرت عمرؓ نے کہا فتنے کے باب میں نبیﷺ کی حدیث کس کو یاد ہے حذیفہؓ نے کہا میں نے یہ حدیث آپؐ سے سنی ہے آپ فرماتے تھے آدمی کو جو فتنہ اس کے بال بچوں اور (دوست) ہمسائے کی وجہ سے ہوتا ہے نماز روزہ صدقہ اسکا اتار ہو جاتا ہے حضرت عمرؓ نے کہا میں یہ فتنہ نہیں پوچھتا میں تو وہ فتنہ پوچھتا ہوں جو سمندر کی موج کی طرح امنڈ آئے گا حذیفہؓ نے کہا اس کے ادھر تو بند دروازہ ہے حضرت عمرؓ نے کہاوہ دروازہ کھل جائے گا یا توڑا جائے گا حذیفہ نے کہا توڑا جائے گا انہوں نےکہا پھر تو قیامت تک جڑنے کے قابل نہ رہے گا شقیق نے کہا ہم مسروق سے بولے تم حذیفہؓ سے پوچھو عمر کو معلوم تھا وہ دروازہ کون ہے انہوں نے پوچھا حذیفہ نے کہا ہاں وہ ایسا جانتے تھے جیسے آج کی رات کل کے دن سے نزدیک ہے۔

4. Ar-Raiyan (one of the gates of Paradise) is for the people observing Saum (fast).



حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ بَابًا يُقَالُ لَهُ الرَّيَّانُ، يَدْخُلُ مِنْهُ الصَّائِمُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، لاَ يَدْخُلُ مِنْهُ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ يُقَالُ أَيْنَ الصَّائِمُونَ فَيَقُومُونَ، لاَ يَدْخُلُ مِنْهُ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ، فَإِذَا دَخَلُوا أُغْلِقَ، فَلَمْ يَدْخُلْ مِنْهُ أَحَدٌ ‏"‏‏.

Narrated By Sahl : The Prophet said, "There is a gate in Paradise called Ar-Raiyan, and those who observe fasts will enter through it on the Day of Resurrection and none except them will enter through it. It will be said, 'Where are those who used to observe fasts?' They will get up, and none except them will enter through it. After their entry the gate will be closed and nobody will enter through it."

ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا کہا ہم سےسلیمان بن بلال نے کہا مجھ سے ابوحازم سلمہ بن دینار نے انہوں نے سہل بن سعد ساعدیؓ سے انہوں نے نبی ﷺ سے آپؐ نے فرمایا جنت میں ایک دروازہ ہے جس کو ریّان کہتے ہیں روزہ دار لوگ بہشت میں اس دروازہ سے جائیں گے روزہ داروں کے سوا اور کوئی اس میں سے نہ جائے گا پکارا جائے گا روزہ دار کہاں ہیں وہ اٹھ کھڑے ہوں گے ان کے سوا اس میں سے کوئی نہ جائے گا جب وہ جا چکیں گے تو دروازہ بند ہو جائے گا کوئی اور اس میں سے نہ جا سکے گا ۔





حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَعْنٌ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ نُودِيَ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ يَا عَبْدَ اللَّهِ، هَذَا خَيْرٌ‏.‏ فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلاَةِ دُعِيَ مِنْ باب الصَّلاَةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ دُعِيَ مِنْ باب الْجِهَادِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ دُعِيَ مِنْ باب الرَّيَّانِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ دُعِيَ مِنْ باب الصَّدَقَةِ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ ـ رضى الله عنه ـ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا عَلَى مَنْ دُعِيَ مِنْ تِلْكَ الأَبْوَابِ مِنْ ضَرُورَةٍ، فَهَلْ يُدْعَى أَحَدٌ مِنْ تِلْكَ الأَبْوَابِ كُلِّهَا قَالَ ‏"‏ نَعَمْ‏.‏ وَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ ‏"‏‏.‏

Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "Whoever gives two kinds (of things or property) in charity for Allah's Cause, will be called from the gates of Paradise and will be addressed, 'O slaves of Allah! Here is prosperity.' So, whoever was amongst the people who used to offer their prayers, will be called from the gate of the prayer; and whoever was amongst the people who used to participate in Jihad, will be called from the gate of Jihad; and whoever was amongst those who used to observe fasts, will be called from the gate of Ar-Raiyan; whoever was amongst those who used to give in charity, will be called from the gate of charity." Abu Bakr said, "Let my parents be sacrificed for you, O Allah's Apostle! No distress or need will befall him who will be called from those gates. Will there be any one who will be called from all these gates?" The Prophet replied, "Yes, and I hope you will be one of them."

ہم سے ابراہیم بن منذر نے بیان کیا کہا مجھ سے معن بن عیسٰی نے کہا مجھ سے امام ما لک نے انہو ں نے ابن شہا ب سے انہو ں نے حمید بن
عبد الر حمٰن سے انہو ں نے ابو ہریرہؓ سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فر ما یا جو شخص اللہ کی راہ میں جو ڑا (دو رو پیہ یا دو کپڑے یا اور کو ئی دو چیزیں )خرچ کرے گااسکو (فرشتے) بہشت کے دروازوں سے پکاریں گے خدا کے بند ے یہ دروازہ اچھا ہے پھر جو کوئی نمازی ہو گا وہ نماز کے دروازے سےبلایا جائے گا اور جو کوئی مجاہد ہو گا وہ جہا د کے دروازے سے بلا یا جائے گا اور جو کوئی روزہ دار ہو گا وہ ریان کے دروازے سے بلا یا جائے گا اور جو زکٰوۃ دینے والا ہو گا وہ زکٰوۃ کےدروازے سے بلایا جائے گا ابو بکر صد یقؓ نے یہ سن کر عرض کیا میرے ما ں باپ آ پ پر صدقے یا رسو ل اللہﷺ اگر کوئی ان دروازوں میں سے کسی ایک دروا زے سے بھی بلایا جائے تو بھی کوئی حرج نہیں لیکن کوئی ایسا بھی ہو گا جو ان سب دروازوں سے بلایا جائے
آ پؐ نے فرما یا ہاں ایسے لوگ بھی ہوں گے اور مجھے امید ہے ایسے لوگوں میں تم ہو گے ۔

5. Should it be said "Ramadan" or 'the month of Ramadan?' And whoever thinks that both are permissible.

And the Prophet (s.a.w) said, "Whoever observes Fast in Ramadan." And also said, "Do not observe Fasting before Ramadan."


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِذَا جَاءَ رَمَضَانُ فُتِحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ ‏"‏‏.‏

Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "When Ramadan begins, the gates of Paradise are opened."

ہم سے قتیبہ نے بیان کیا کہا ہم سے اسمٰعیل بن جعفر نے انہوں نے ابو سہیل سے انہوں نےاپنے باپ سے انہوں نے ابوہریرہؓ سے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جب رمضان آتا ہے تو بہشت کے دروازے کھولے جاتے ہیں۔





حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي أَنَسٍ، مَوْلَى التَّيْمِيِّينَ أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِذَا دَخَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ، وَسُلْسِلَتِ الشَّيَاطِينُ ‏"

Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "When the month of Ramadan starts, the gates of the heaven are opened and the gates of Hell are closed and the devils are chained."

مجھ سے یحیٰی بن بکیر نے بیان کیا کہا مجھ سے لیث بن سعد نے انہوں نےعقیل سے انہوں نے ابنِ شہاب سےانہوں نے کہا مجھ سے ابو سہیل بن انس نے بیان کیا جو یتیموں کا غلام تھا ان سے ان کے باپ نے انہوں نے ابوہریرہؓ سے وہ کہتے تھےرسول اللہﷺ نےفرمایا جب ماہ رمضان آتا ہےتو آسمان کے دروازےکھولے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کئےجاتے ہیں اور شیطان زنجیروں میں کس دیے جاتے ہیں ۔





حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ إِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَصُومُوا، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ غَيْرُهُ عَنِ اللَّيْثِ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ وَيُونُسُ لِهِلاَلِ رَمَضَانَ‏

Narrated By Ibn Umar : I heard Allah's Apostle saying, "When you see the crescent (of the month of Ramadan), start fasting, and when you see the crescent (of the month of Shawwal), stop fasting; and if the sky is overcast (and you can't see It) then regard the crescent (month) of Ramadan (as of 30 days)".

ہم سے یحیٰی بن بکیر نے بیان کیا کہا مجھ سے لیث بن سعد نے انہوں نے عقیل سے انہوں نے ابنِ شہاب سے انہوں نےکہا مجھ کو سالم نے خبر دی عبداللہ بن عمرؓ کہتے تھے میں نے رسول اللہﷺ سے سنا آپؐ فرماتے تھے جب تم رمضان کا چاند دیکھو تو روزہ رکھو جب شوال کا چاند دیکھو تو روزہ موقوف کرو اگر ابر ہو جائے تو تیس دن پورے کر لو یحیٰی کے سوا اور لوگوں نے لیث سے یوں روایت کی مجھ سے عقیل اور یونس نے بیان کیا رمضان کے چاند کے تیس دن پورے کرو۔

6. Whoever observed fast in Ramadan out of sincere faith, hoping for a reward from Allah and with honest intention (i.e., only for Allah's sake).

And Aisha (r.a) narrated from the Prophet (s.a.w), "The people will be resurrected according to their intentions."


حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَمَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ‏"‏‏.‏

Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "Whoever established prayers on the night of Qadr out of sincere faith and hoping for a reward from Allah, then all his previous sins will be forgiven; and whoever fasts in the month of Ramadan out of sincere faith, and hoping for a reward from Allah, then all his previous sins will be forgiven."


ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا کہا ہم سے ہشام دستوائی نے کہا ہم سے یحیٰی بن ابی کثیر نے انہوں نے ابوسلمہ سے انہوں نے ابوہریرہؓ سے انہوں نے نبیﷺ سے آپ نے فرمایا جو کوئی شب قدر میں ایمان رکھ کر ثواب کی نیت سے عبادت میں کھڑا ہو اسکے اگلے گناہ بخش دیےجائیں گے اور جو کوئی رمضان کے روزے ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے رکھے اسکے اگلے گناہ بخش دیے جائیں گے۔

7. The Prophet (s.a.w) used to be most generous in the month of Ramadan.



حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَجْوَدَ النَّاسِ بِالْخَيْرِ، وَكَانَ أَجْوَدُ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ، حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ، وَكَانَ جِبْرِيلُ ـ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ـ يَلْقَاهُ كُلَّ لَيْلَةٍ فِي رَمَضَانَ حَتَّى يَنْسَلِخَ، يَعْرِضُ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْقُرْآنَ، فَإِذَا لَقِيَهُ جِبْرِيلُ ـ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ـ كَانَ أَجْوَدَ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ‏

Narrated By Ibn 'Abbas : The Prophet was the most generous amongst the people, and he used to be more so in the month of Ramadan when Gabriel visited him, and Gabriel used to meet him on every night of Ramadan till the end of the month. The Prophet used to recite the Holy Qur'an to Gabriel, and when Gabriel met him, he used to be more generous than a fast wind (which causes rain and welfare).

ہم سے موسٰی بن اسمعیل نے بیان کیا کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے کہا ہم کو ابنِ شہاب نے خبر دی انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے کہ عبداللہ بن عباسؓ نے کہا نبیﷺ سب لوگوں سے زیادہ سخی تھے بھلائی پہنچانے میں اور رمضان میں جب جبرئیل آپﷺ سے ملتے رہتے تو آپﷺ اور دنوں سے زیادہ سخاوت کر تے جبرئیل رمضان میں ہر رات آپﷺ سے ملا کرتے رمضان گزرنے تک وہ آپ سے قرآن کا دور کیا کرتے تو جن دنوں جبرئیل آپﷺ سے ملتے رہتے آپﷺ چلتی ہوا سے بھی زیادہ بھلائی پہنچانے میں سخی ہوتے۔

8. Whoever does not give up lying speech (i.e., telling lies) and acting on those observing Saum (Fasts).



حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ ‏"‏‏

Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "Whoever does not give up forged speech and evil actions, Allah is not in need of his leaving his food and drink (i.e. Allah will not accept his fasting.)"

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا کہا ہم سے ابنِ ابی ذئب نے کہا ہم سے سعید مقبری نے انہوں نے اپنے باپ(کیسان) سے انہوں نے ابوہریرہؓ سے کہ نبیﷺ نے فرمایا جو شخص جھوٹ بولنا اور دغابازی کرنا نہ چھوڑے تو اللہ کو یہ احتیاج نہیں کہ کوئی اپنا کھانا پینا چھوڑ ے۔

9. Should one say, 'I am observing fast' on being abused.



حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الزَّيَّاتِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ قَالَ اللَّهُ كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلاَّ الصِّيَامَ، فَإِنَّهُ لِي، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ‏.‏ وَالصِّيَامُ جُنَّةٌ، وَإِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ، فَلاَ يَرْفُثْ وَلاَ يَصْخَبْ، فَإِنْ سَابَّهُ أَحَدٌ، أَوْ قَاتَلَهُ فَلْيَقُلْ إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ‏.‏ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ، لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ يَفْرَحُهُمَا إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ، وَإِذَا لَقِيَ رَبَّهُ فَرِحَ بِصَوْمِهِ ‏"‏‏

Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "Allah said, 'All the deeds of Adam's sons (people) are for them, except fasting which is for Me, and I will give the reward for it.' Fasting is a shield or protection from the fire and from committing sins. If one of you is fasting, he should avoid sexual relation with his wife and quarrelling, and if somebody should fight or quarrel with him, he should say, 'I am fasting.' By Him in Whose Hands my soul is' The unpleasant smell coming out from the mouth of a fasting person is better in the sight of Allah than the smell of musk. There are two pleasures for the fasting person, one at the time of breaking his fast, and the other at the time when he will meet his Lord; then he will be pleased because of his fasting."

ہم سے ابراہیم ابنِ موسٰی نے بیان کیا کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے انہوں نے ابنِ جریج سے کہا مجھ کو عطاء نے خبر دی انہوں نے ابو صالح سے جو گھی بیچتا تھا اس نے ابوہریرہؓ سےوہ کہتے تھے رسول اللہﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتاہےآدمی کا ہر عمل اسی کے کام کا ہےلیکن روزہ وہ خاص میرے لیے ہے اور میں ہی اسکا بدلہ دوں گا اور روزہ گناہوں کی سپر ہے اور جب تم میں کوئی روزہ رکھے تو فحش باتیں نہ کرے نہ غل مچائے اگر کوئی اس کو گالی دے یا اس سے لڑے تو کہہ دے میں روزہ دار ہوں قسم اس کی جس کے ہاتھ میں محمدﷺ کی جان ہے روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کو مشک کی خوشبو سے زیادہ پسند ہے روزہ دار کو دو خوشیاں ہیں ایک تو روزہ کھولتے وقت خوش ہوتا ہے دوسرے جب اپنے مالک سے ملے گا تو روزے کا ثواب دیکھ کر خوش ہو گا ۔

10. As Saum (is recommended) for those who fear committing illegal sexual acts, i.e., those who are unmarried.



حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ بَيْنَا أَنَا أَمْشِي، مَعَ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ فَقَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ مَنِ اسْتَطَاعَ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ، فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ ‏"‏‏

Narrated By 'Alqama : While I was walking with 'Abdullah he said, "We were in the company of the Prophet and he said, 'He who can afford to marry should marry, because it will help him refrain from looking at other women, and save his private parts from looking at other women, and save his private parts from committing illegal sexual relation; and he who cannot afford to marry is advised to fast, as fasting will diminish his sexual power."

ہم سے عبدان نے بیان کیا انہوں نے ابو حمزہ سے انہوں نے ابو اعمش سے انہوں نے ابراہیم سے انہوں نے علقمہ سے انہوں نےکہا ایک بار میں عبداللہ بن مسعودؓ کے ساتھ جا رہا تھا انہوں نے کہا ہم آپﷺ کے ساتھ تھے آپ نے فرمایا جو شخص جورو کرنے کی طاقت رکھتا ہو وہ نکاح کر لے نکاح آدمی کی نگاہ نیچی رکھتا ہے شرمگاہ کو بد فعلی سے روکے رہتاہے اور جس کو یہ طاقت نہ ہو وہ روزہ رکھے روزہ اس کو خصی کردیتاہے۔

11. The statement of the Prophet (s.a.w), "Start observing Saum on seeing the crescent moon of Ramadan, and stop observing Saum on seeing the crescent moon of (Shawwal)."

And Ammar said, "Whoever observes Saum on a doubtful day is disobeying Abul-Qasim (The Prophet (s.a.w))"


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَكَرَ رَمَضَانَ فَقَالَ ‏"‏ لاَ تَصُومُوا حَتَّى تَرَوُا الْهِلاَلَ، وَلاَ تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ ‏"‏‏

Narrated By Abdullah bin Umar : Allah's Apostle mentioned Ramadan and said, "Do not fast unless you see the crescent (of Ramadan), and do not give up fasting till you see the crescent (of Shawwal), but if the sky is overcast (if you cannot see it), then act on estimation (i.e. count Sha'ban as 30 days)."

ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا انہوں نے مالک سے انہوں نے نافع سے انہوں نے عبداللہ بن عمرؓ سے کہ رسول اللہﷺ نےرمضان کا ذکر کیا تو فرمایاتم اس وقت روزہ نہ رکھو جب تک رمضان کا چاند نہ دیکھ لو اور روزہ موقوف بھی نہ کرو جب تک عید کا چاند نہ دیکھ لو اگر ابر چھا جائے تو تیس دن پورے کر لو۔





حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً، فَلاَ تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلاَثِينَ ‏"‏‏

Narrated By Abdullah bin Umar : Allah's Apostle said, "The month (can be) 29 nights (i.e. days), and do not fast till you see the moon, and if the sky is overcast, then complete Sha'ban as thirty days."


ہم سےعبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا کہا ہم سے امام مالک نےانہوں نے عبداللہ بن دینار سے انہوں نے عبداللہ بن عمرؓ سے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا مہینہ کبھی انتیس راتوں کا بھی ہوتا ہے تو جب تک چاند نہ دیکھو تو روزہ نہ رکھو اگر ابر ہو جائے تو تیس دن شمار پورا کر لو۔





حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا ‏"‏‏.‏ وَخَنَسَ الإِبْهَامَ فِي الثَّالِثَةِ

Narrated By Ibn 'Umar : The Prophet said, "The month is like this and this," (at the same time he showed the fingers of both his hands thrice) and left out one thumb on the third time.

ہم سے ابوالولید نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے انہوں نے جبلہ بن سحیم سے انہوں نے کہا میں نے عبداللہ بن عمرؓ سے سنا وہ کہتے تھے نبیﷺ نے فرمایا مہینہ اتنے دنوں اور اتنے دنوں کا ہوتا ہے اور تیسری بار میں انگوٹھا دبالیا(دسوں انگلیوں سے تین بار بتلایا)





حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَوْ قَالَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ غُبِّيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا عِدَّةَ شَعْبَانَ ثَلاَثِينَ ‏"

Narrated By Abu Huraira : The Prophet or Abu-l-Qasim said, "Start fasting on seeing the crescent (of Ramadan), and give up fasting on seeing the crescent (of Shawwal), and if the sky is overcast (and you cannot see it), complete thirty days of Sha'ban."

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے کہا ہم سے محمد ابن زیاد نے کہا میں نے ابو ہریرہؓ سے سنا وہ کہتے تھے نبیﷺ نے فرمایا یا ابو القاسم ﷺ نے فرمایا چاند دیکھ کر روزے شروع کرو اور چاند دیکھ کر موقوف بھی کرو اگر ابر ہو جائے تو شعبان کے تیس دن پورے کرو ۔





حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم آلَى مِنْ نِسَائِهِ شَهْرًا، فَلَمَّا مَضَى تِسْعَةٌ وَعِشْرُونَ يَوْمًا غَدَا أَوْ رَاحَ فَقِيلَ لَهُ إِنَّكَ حَلَفْتَ أَنْ لاَ تَدْخُلَ شَهْرًا‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ الشَّهْرَ يَكُونُ تِسْعَةً وَعِشْرِينَ يَوْمًا ‏"‏‏

Narrated By Um Salama : The Prophet vowed to keep aloof from his wives for a period of one month, and after the completion of 29 days he went either in the morning or in the afternoon to his wives. Someone said to him "You vowed that you would not go to your wives for one month." He replied, "The month is of 29 days."

ہم سے ابو عاصم نے بیان کیا کہا انہوں نے ابنِ جریج سے انہوں نے یحیٰی بن عبداللہ بن صیفی سے انہوں نےعکرمہ بن عبدالرحمان سے انہوں نے ام سلمہؓ سے کہ نبیﷺ نے اپنی بیبیوں سے ایک مہینے کا ایلا کیا (صحبت نہ کرنے کی قسم کھائی) جب انتیس دن گزر گئے تو صبح سویرے یا تیسرے پہر کو آپ ان کے پاس آگئے لوگوں نے عرض کیا آپ نے ایک مہینہ الگ رہنے کی قسم کھائی تھی آپ نے فرمایا مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔





حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ آلَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ نِسَائِهِ، وَكَانَتِ انْفَكَّتْ رِجْلُهُ، فَأَقَامَ فِي مَشْرُبَةٍ تِسْعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً، ثُمَّ نَزَلَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ آلَيْتَ شَهْرًا‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ الشَّهْرَ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ ‏"

Narrated By Anas : Allah's Apostle vowed to keep aloof from his wives for one month, and he had dislocation of his leg. So, he stayed in a Mashruba for 29 nights and then came down. Some people said, "O Allah's Apostle! You vowed to stay aloof for one month," He replied, "The month is of 29 days."

ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا کہا ہم سے سلیمان ابنِ بلال نے انہوں نے حمید سے انہوں نے انسؓ آپ نے فرمایا رسول اللہﷺ نے اپنی عورتوں سے ایلا کیا آپ کے پاؤں میں سوج آگئی تھی آپ انتیس راتوں تک ایک بالاخانے میں رہے پھر وہاں سے اترے لوگوں نے عرض کیا یارسول اللہﷺ آپ نے ایک مہینہ کا ایلا کیا تھاآپؐ نے فرمایا مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔

12. The two months of Eid do not decrease.

Narrated by Abu Abdullah, "Ishaq said that if Ramadan is of 29 days, even then it is complete (in its superiority)." Muhammad said, "It will not happen that there will be any decrease in their number and superiority."


حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ سَمِعْتُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ وَحَدَّثَنِي مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ شَهْرَانِ لاَ يَنْقُصَانِ شَهْرَا عِيدٍ رَمَضَانُ وَذُو الْحَجَّةِ ‏"

Narrated By Abu Bakra : The Prophet said, "The two months of 'Id i.e. Ramadan and Dhul-Hijja, do not decrease (in superiority)."

ہم سے مسدد نے بیان کیا کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے کہا میں نے اسحاق بن سوید سے سنا انہوں نے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ سے انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے نبیﷺسے دوسری سند اور مجھ سے مسدد نے بیان کیا کہا ہم سے معتمر نے انہوں نے خالد حذاء نے کہا مجھ کو عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے خبر دی انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے نبیﷺ سے آپؐ نے فرمایادو مہینے(رمضان اور ذی الحجہ) عید کے کم نہیں ہوتے (یعنی دونوں میں انتیس دن کے ہوں یا تیس دن کے ہوں تیس کا ثواب ملتا ہے)۔

13. The statement of the Prophet (s.a.w), "We neither write nor know accounts."



حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ، لاَ نَكْتُبُ وَلاَ نَحْسُبُ الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا ‏"‏‏.‏ يَعْنِي مَرَّةً تِسْعَةً وَعِشْرِينَ، وَمَرَّةً ثَلاَثِينَ‏

Narrated By Ibn 'Umar : The Prophet said, "We are an illiterate nation; we neither write, nor know accounts. The month is like this and this, i.e. sometimes of 29 days and sometimes of thirty days."

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے کہا ہم سےاسود بن قیس نے کہا ہم سےسعید بن عمرو نے انہو ں نےعبداللہ بن عمرؓ سے انہوں نے نبیﷺ سے آپ نے فرمایا ہم لوگ امی لوگ ہیں(ان پڑھ) مہینہ کبھی اتنا ہوتا ہے(دسوں انگلیوں سے تین بار بتلایا)کبھی اتنا(ایک انگلی کم) یعنی کبھی انتیس دن کا کبھی تیس دن کا۔

14. Not to observe Saum for a day or two ahead of Ramadan.



حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لاَ يَتَقَدَّمَنَّ أَحَدُكُمْ رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ، إِلاَّ أَنْ يَكُونَ رَجُلٌ كَانَ يَصُومُ صَوْمَهُ فَلْيَصُمْ ذَلِكَ الْيَوْمَ ‏"‏‏

Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "None of you should fast a day or two before the month of Ramadan unless he has the habit of fasting (Nawafil) (and if his fasting coincides with that day) then he can fast that day."


ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا کہا ہم سے ہشام نے کہا ہم سے یحیٰی بن ابی کثیر نے انہوں نے ابو سلمہ سے انہوں نے ابو ہریرہؓ سے کہ نبیﷺ نے فرمایا کوئی تم میں رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزے نہ رکھے مگر ہاں کسی شخص کے روزے رکھنے کا دن آجائے جس دن وہ ہمیشہ روزہ رکھا کرتا تھاتو اس دن روزہ رکھ لے۔





حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم إِذَا كَانَ الرَّجُلُ صَائِمًا، فَحَضَرَ الإِفْطَارُ، فَنَامَ قَبْلَ أَنْ يُفْطِرَ لَمْ يَأْكُلْ لَيْلَتَهُ وَلاَ يَوْمَهُ، حَتَّى يُمْسِيَ، وَإِنَّ قَيْسَ بْنَ صِرْمَةَ الأَنْصَارِيَّ كَانَ صَائِمًا، فَلَمَّا حَضَرَ الإِفْطَارُ أَتَى امْرَأَتَهُ، فَقَالَ لَهَا أَعِنْدَكِ طَعَامٌ قَالَتْ لاَ وَلَكِنْ أَنْطَلِقُ، فَأَطْلُبُ لَكَ‏.‏ وَكَانَ يَوْمَهُ يَعْمَلُ، فَغَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ، فَجَاءَتْهُ امْرَأَتُهُ، فَلَمَّا رَأَتْهُ قَالَتْ خَيْبَةً لَكَ‏.‏ فَلَمَّا انْتَصَفَ النَّهَارُ غُشِيَ عَلَيْهِ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ‏{‏أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ‏}‏ فَفَرِحُوا بِهَا فَرَحًا شَدِيدًا، وَنَزَلَتْ ‏{‏وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ‏}‏‏

Narrated By Al-Bara : It was the custom among the companions of Muhammad that if any of them was fasting and the food was presented (for breaking his fast), but he slept before eating, he would not eat that night and the following day till sunset.

Qais bin Sirma-al-Ansari was fasting and came to his wife at the time of Iftar (breaking one's fast) and asked her whether she had anything to eat. She replied, "No, but I would go and bring some for you." He used to do hard work during the day, so he was overwhelmed by sleep and slept. When his wife came and saw him, she said, "Disappointment for you." When it was midday on the following day, he fainted and the Prophet was informed about the whole matter and the following verses were revealed: "You are permitted To go to your wives (for sexual relation) At the night of fasting." So, they were overjoyed by it. And then Allah also revealed: "And eat and drink Until the white thread Of dawn appears to you Distinct from the black thread (of the night)." (2.187)


ہم سے عبیداللہ بن موسٰی نے بیان کیا انہوں نے اسرائیل سے انہوں نے ابو اسحاق سے انہوں نے برا ً سے انہوں نےکہا محمدﷺ کے اصحاب کا قاعدہ یہ تھا کہ ان میں کوئی روزہ دار ہوتا اور افطار کے وقت وہ افطار سے پہلے سو جاتا تو پھر رات کو کچھ نہ کھاتا نہ دوسرے دن جب شام ہوتی تو کھا سکتا ایسا ہوا کہ قیس بن صرمہ انصاری روزہ دار تھےافطار کے وقت وہ اپنی بی بی کے پاس آئے اور پوچھا کچھ کھا نے کو ہے انہوں نے کہا نہیں لیکن میں جاتی ہوں کہیں سے کچھ ڈھونڈ کر لاتی ہوں قیس سارے دن مزدوری محنت کیا کرتے تھے ان کی آنکھ لگ گئی جورو لوٹ کر آئی دیکھا تو وہ سو گئے ہیں اس نے کہا ہائے بد نصیب دوسرے دن دوپہر وہ بےہوش ہوگئے(بھوک کے مارے) نبیﷺ سے اس کا ذکر آیا اس وقت یہ آیت اتری روزے کی رات میں تم کو اپنی عورتوں سے صحبت درست کی گئی اس پر صحابہ بہت خوش ہوئے اور یہ آیت بھی اتری جب تک سفید دھاری کالی دھاری سے تم پر کھل نہ جائے کھاتے پیتے رہو۔

15. The Statement of Allah, "It is made lawful for you to have sexual relations with your wives on the night of the As-Saum.They are libas (clothing) for you, and you are the same for them. Allah knows that you used to deceive yourselves, So He turned to you (accepted your repentance) and forgave you. So, now have sexual relations with them and seek that which Allah has ordained for you (offspring) ..." (V.2:187)


16. The Statement of Allah, "... And eat and drink until the white thread (light) of dawn appears to you distinct from the black thread (darkness of night), then complete your Saum till the nightfall ..." (V.2:187)

Narrated by Al-Bara (r.a) that the Prophet (s.a.w) said as above.


حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ أَخْبَرَنِي حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ ‏{‏حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ‏}‏ عَمَدْتُ إِلَى عِقَالٍ أَسْوَدَ وَإِلَى عِقَالٍ أَبْيَضَ، فَجَعَلْتُهُمَا تَحْتَ وِسَادَتِي، فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ فِي اللَّيْلِ، فَلاَ يَسْتَبِينُ لِي، فَغَدَوْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرْتُ لَهُ ذَلِكَ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّمَا ذَلِكَ سَوَادُ اللَّيْلِ وَبَيَاضُ النَّهَارِ ‏"‏‏

Narrated By 'Adi bin Hatim : When the above verses were revealed: 'Until the white thread appears to you, distinct from the black thread,' I took two (hair) strings, one black and the other white, and kept them under my pillow and went on looking at them throughout the night but could not make anything out of it. So, the next morning I went to Allah's Apostle and told him the whole story. He explained to me, "That verse means the darkness of the night and the whiteness of the dawn."

ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا کہا ہم سے ہشیم نے کہا مجھ کو حصین بن عبدالرحمٰن نے خبر دی انہوں نے شعبی سے انہوں نے عدی بن حاتم سے انہوں نے کہا جب یہ آیت اتری یہاں تک کہ سفید دھاگہ کالے دھاگے سے تم پر کھل جائے تو میں نے دو رسیاں لے لیں ایک کالی اور ایک سفید ان کو اپنے تکیے کے تلے رکھ لیا اور رات کو دیکھتا رہا مجھ کو انکے رنگ نہ کھلے صبح کو میں نے رسول اللہﷺ سے اسکا ذکر کیا (آپ ہنسے)اور فرمایا کالے دھاگے سے رات کی سیاہی اور سفید دھاگے سے دن کی روشنی مراد ہے۔





حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، ح‏.‏ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ أُنْزِلَتْ ‏{‏وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ‏}‏ وَلَمْ يَنْزِلْ مِنَ الْفَجْرِ، فَكَانَ رِجَالٌ إِذَا أَرَادُوا الصَّوْمَ رَبَطَ أَحَدُهُمْ فِي رِجْلِهِ الْخَيْطَ الأَبْيَضَ وَالْخَيْطَ الأَسْوَدَ، وَلَمْ يَزَلْ يَأْكُلُ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُ رُؤْيَتُهُمَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ بَعْدُ ‏{‏مِنَ الْفَجْرِ‏}‏ فَعَلِمُوا أَنَّهُ إِنَّمَا يَعْنِي اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ‏

Narrated By Sahl bin Saud : When the following verses were revealed: 'Eat and drink until the white thread appears to you, distinct from the black thread' and of dawn was not revealed, some people who intended to fast, tied black and white threads to their legs and went on eating till they differentiated between the two. Allah then revealed the words, 'of dawn', and it became clear that meant night and day.


ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا کہا ہم سے ابنِ ابی حازم نے بیان کیا انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے سہل بن سعد سے دوسری سند ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کہا ہم سے ابو غسان محمد بن مطرف نے بیان کیا کہا مجھ سے ابو حازم نے انہوں نے سہل بن سعد سے کہا کہ یہ آیت اتری کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ سفید دھاگہ کالے دھاگے سے تم پر کھل نہ جائے اور لفظ من الفجر نہیں اترا بعضے لوگوں نے کیا کیا اپنے پاؤں میں سفید دھاگہ اور کالا دھاگہ باندھ لیا اور اس وقت تک کھاتے رہے جب تک ان کا رنگ نہیں کھلا پھر اللہ تعالیٰ نے یہ لفظ اتارا من الفجر جب سمجھے کہ کالے اور سفید دھاگے سے رات دن مراد ہیں۔

17. The statement of the Prophet (s.a.w), "The Adhan of Bilal should not stop you from taking the Sahur (late night meals)".



حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ‏، وَالْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ بِلاَلاً، كَانَ يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ كُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَإِنَّهُ لاَ يُؤَذِّنُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ ‏"‏‏.‏ قَالَ الْقَاسِمُ وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَ أَذَانِهِمَا إِلاَّ أَنْ يَرْقَى ذَا وَيَنْزِلَ ذَا‏

Narrated By 'Aisha : Bilal used to pronounce the Adhan at night, so Allah's Apostle? said, "Carry on taking your meals (eat and drink) till Ibn Um Maktum pronounces the Adhan, for he does not pronounce it till it is dawn.


ہم سے عبید بن اسمٰعیل نے بیان کیا انہوں نے ابو اسامہ سے انہوں نے عبیداللہ سے انہوں نے نافع سے انہوں نے ابنِ عمرؓاور قاسم بن محمد سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے کہا کہ بلال رات رہے سے اذان دے دیا کرتے تھے تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا تم کھاتے پیتے رہا کرو یہاں تک کہ عبداللہ بن ام مکتوم اذان دے وہ اس وقت تک اذان نہیں دیتے جب تک صبح نہیں ہوتی قاسم نے کہا بلال اور ابنِ مکتوم دونوں کی اذان میں اتنا ہی فرق ہوتا کہ ایک اترتا اور ایک چڑھتا۔





حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ‏، وَالْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ بِلاَلاً، كَانَ يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ كُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَإِنَّهُ لاَ يُؤَذِّنُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ ‏"‏‏.‏ قَالَ الْقَاسِمُ وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَ أَذَانِهِمَا إِلاَّ أَنْ يَرْقَى ذَا وَيَنْزِلَ ذَا‏

Narrated By 'Aisha : Bilal used to pronounce the Adhan at night, so Allah's Apostle? said, "Carry on taking your meals (eat and drink) till Ibn Um Maktum pronounces the Adhan, for he does not pronounce it till it is dawn.


ہم سے عبید بن اسمٰعیل نے بیان کیا انہوں نے ابو اسامہ سے انہوں نے عبیداللہ سے انہوں نے نافع سے انہوں نے ابنِ عمرؓاور قاسم بن محمد سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے کہا کہ بلال رات رہے سے اذان دے دیا کرتے تھے تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا تم کھاتے پیتے رہا کرو یہاں تک کہ عبداللہ بن ام مکتوم اذان دے وہ اس وقت تک اذان نہیں دیتے جب تک صبح نہیں ہوتی قاسم نے کہا بلال اور ابنِ مکتوم کی اذان میں اتنا ہی فرق ہوتا کہ ایک اترتا اور ایک چڑھتا۔

18. Taking the Sahur (late night meals taken before dawn) hurriedly (shortly before dawn).



حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنْتُ أَتَسَحَّرُ فِي أَهْلِي، ثُمَّ تَكُونُ سُرْعَتِي أَنْ أُدْرِكَ السُّجُودَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏

Narrated By Sahl bin Sad : I used to take my Suhur meals with my family and then hurry up for presenting myself for the (Fajr) prayer with Allah's Apostle.

ہم سے محمد بن عبیداللہ نے بیان کیا کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے انہوں نے ابو حازم سے انہوں نے سہل بن سعدؓ سے انہوں نے کہا میں اپنے گھر میں سحری کھاتا پھر مجھ کو جلدی ہوتی کہ رسول اللہﷺ کے ساتھ صبح کی نماز پالوں۔

19. What is the interval between the (end of) Sahur and the Fajr prayer?



حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ تَسَحَّرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلاَةِ‏.‏ قُلْتُ كَمْ كَانَ بَيْنَ الأَذَانِ وَالسَّحُورِ قَالَ قَدْرُ خَمْسِينَ آيَةً

Narrated By Anas : Zaid bin Thabit said, "We took the Suhur with the Prophet. Then he stood for the prayer." I asked, "What was the interval between the Suhur and the Adhan?" He replied, "The interval was sufficient to recite fifty verses of the Qur'an."

ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا کہا ہم سے ہشام نے کہا ہم سے قتادہ نے انہوں نے انس سے انہوں نے زید بن ثابت سے انہوں نے کہا ہم نے نبیﷺ کے ساتھ سحری کھائی پھر آپؐ صبح کی نماز کے لیے کھڑے ہوئے انس نے کہا میں نے پوچھا سحری میں اور صبح کی اذان میں کتنا فاصلہ ہوتا انہوں نے کہا پچاس آیتیں پڑھنے کے موافق۔

20. The Sahur (late night meals) is a blessing but it is not compulsory.

For the Prophet (s.a.w) and his companions kept observing fasting continuously for more than one day and no Sahur was taken (during the prolonged Saum).


حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَاصَلَ فَوَاصَلَ النَّاسُ فَشَقَّ عَلَيْهِمْ، فَنَهَاهُمْ‏.‏ قَالُوا إِنَّكَ تُوَاصِلُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ، إِنِّي أَظَلُّ أُطْعَمُ وَأُسْقَى ‏"‏‏

Narrated By 'Abdullah : The Prophet fasted for days continuously; the people also did the same but it was difficult for them. So, the Prophet forbade them (to fast continuously for more than one day). They slid, "But you fast without break (no food was taken in the evening or in the morning)." The Prophet replied, "I am not like you, for I am provided with food and drink (by Allah)."

ہم سے موسیٰ بن اسمٰعیل نے بیان کیا کہا ہم سے جویریہ نے انہوں نے نافع سے انہوں نے عبداللہ بن عمرؓ سے کہ نبیﷺ نے تہ کے روزے رکھے ان کو یہ شاق گزرا کہ آپ نے ان کو منع فرمایا انہوں نے کہا آپ تو تہ کے روزے رکھتے ہیں آپ نے فرمایا میں تمھاری طرح تھوڑے ہوں میں تو برابر کھلایا پلایا جاتا ہوں۔





حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً ‏"‏‏

Narrated By Anas bin Malik : The Prophet said, "Take Suhur as there is a blessing in it."

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے کہا ہم سے عبدالعزیز بن صہیب سے کہا میں نے انس بن مالک سے سنا کہ نبیﷺ نے فرمایا سحر کھایا کرو اس میں برکت ہوتی ہے (ثواب ملتا ہے)۔

21. If the intention of observing Saum was made in the daytime

Umm Ad-Darda said, Abu Ad-Darda used to ask, "Do you have food?" If we answered in the negative, he would say, "Then I am observing Saum today." Abu Talha, Abu Hurairah, Ibn Abbas and Hudhaifa did the same.


حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ رَجُلاً يُنَادِي فِي النَّاسِ، يَوْمَ عَاشُورَاءَ ‏"‏ أَنْ مَنْ أَكَلَ فَلْيُتِمَّ أَوْ فَلْيَصُمْ، وَمَنْ لَمْ يَأْكُلْ فَلاَ يَأْكُلْ ‏"‏‏

Narrated By Salama bin Al-Akwa : Once the Prophet ordered a person on 'Ashura (the tenth of Muharram) to announce, "Whoever has eaten, should not eat any more, but fast, and who has not eaten should not eat, but complete his fast (till the end of the day).

ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا انہوں نے یزید بن ابی عبید سے انہوں نے سلمہ بن ابی اکوع سے انہوں نے کہا نبیﷺ نے ایک شخص کو عاشورے کے دن یہ منادی کرنے کو بھیجا کہ جس نے آج کچھ کھا لیا وہ شام تک اب کچھ نہ کھائے یا روزہ رکھے اور جس نے نہیں کھایا وہ شام تک نہ کھائے ۔

22. If a person observing Saum gets up in the morning in the state of Janaba (will his Saum be valid?)



حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَىٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ كُنْتُ أَنَا وَأَبِي، حِينَ دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ ح‏: وَحَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّ أَبَاهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَ مَرْوَانَ، أَنَّ عَائِشَةَ، وَأُمَّ سَلَمَةَ أَخْبَرَتَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُدْرِكُهُ الْفَجْرُ وَهُوَ جُنُبٌ مِنْ أَهْلِهِ، ثُمَّ يَغْتَسِلُ وَيَصُومُ‏.‏ وَقَالَ مَرْوَانُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ أُقْسِمُ بِاللَّهِ لَتُقَرِّعَنَّ بِهَا أَبَا هُرَيْرَةَ‏.‏ وَمَرْوَانُ يَوْمَئِذٍ عَلَى الْمَدِينَةِ‏.‏ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ فَكَرِهَ ذَلِكَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ثُمَّ قُدِّرَ لَنَا أَنْ نَجْتَمِعَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، وَكَانَتْ لأَبِي هُرَيْرَةَ هُنَالِكَ أَرْضٌ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لأَبِي هُرَيْرَةَ إِنِّي ذَاكِرٌ لَكَ أَمْرًا، وَلَوْلاَ مَرْوَانُ أَقْسَمَ عَلَىَّ فِيهِ لَمْ أَذْكُرْهُ لَكَ‏.‏ فَذَكَرَ قَوْلَ عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ‏.‏ فَقَالَ كَذَلِكَ حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ، وَهُنَّ أَعْلَمُ، وَقَالَ هَمَّامٌ وَابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُ بِالْفِطْرِ‏.‏ وَالأَوَّلُ أَسْنَدُ‏

Narrated By 'Aisha and Um Salama : At times Allah's Apostle used to get up in the morning in the state of Janaba after having sexual relations with his wives. He would then take a bath and fast.

ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا انہو ں نے امام مالک سے انہوں نے سُمی سے جو ابو بکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام بن مغیرہ کے غلام تھے انہوں نے ابو بکر بن عبدالرحمٰن سے سنا انہوں نے کہا میں اور میرا باپ دونوں جب حضرت عائشہ اور ام سلمہ کے پاس گئے دوسری سند ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا کہا ہم کو شعیب نے خبر دی انہوں نے زہری سے انہوں نے کہا مجھ کو ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام نے خبر دی کہ ان کے باپ عبدالرحمٰن نے مروان سے بیان کیا ان سے حضرت عائشہؓ اور ام سلمہؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ کو اپنے گھر والوں میں صبح ہو جا تی اور آپؐ جنب ہوتے پھر غسل کرتے اور روزہ رکھتے اور مروان بن حکم نے عبدالرحمٰن بن حارث سے کہا میں تجھ کو خدا کی قسم دیتا ہوں کہ تم یہ حدیث ابو ہریرہؓ کو ٹھوک بجا کر سنا دو اور ان دنوں مروان مدینہ کا حاکم تھا ابوبکر بن عبدالرحمٰن نے کہا عبدالرحمٰن نے اس بات کو پسند نہیں کیا پھر ایسا اتفاق ہوا کہ ہم سب ذوالخلیفہ میں اکھٹے ہوئے وہاں ابوہریرہؓ کی زمین تھی تو عبدالرحمٰن نے ابوہریرہؓ سے کہا میں تم سے ایک بات بیان کرتا ہوں اور جو مروان نے مجھ کو قسم نہ دی ہوتی تو میں اس کو تم سے بیان نہ کرتا پھر انہوں نے حضرت عائشہؓ اور ام سلمہؓ کی حدیث بیان کی ابوہریرہؓ نے کہا (میں کیا کروں) فضل بن عباس نے مجھ سے حدیث بیان کی وہ جانیں اور ہمام اور ابنِ عبداللہ بن عمرؓ نے ابو ہریرہؓ سے یوں روایت کی ہے کہ ایسی صورت میں نبیﷺ افطار کا حکم دیتے مگر حضرت عائشہؓ اور حضرت ام سلمہؓ کی روایت زیادہ معتبرہے۔





حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَىٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ كُنْتُ أَنَا وَأَبِي، حِينَ دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ ح‏: وَحَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّ أَبَاهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَ مَرْوَانَ، أَنَّ عَائِشَةَ، وَأُمَّ سَلَمَةَ أَخْبَرَتَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُدْرِكُهُ الْفَجْرُ وَهُوَ جُنُبٌ مِنْ أَهْلِهِ، ثُمَّ يَغْتَسِلُ وَيَصُومُ‏.‏ وَقَالَ مَرْوَانُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ أُقْسِمُ بِاللَّهِ لَتُقَرِّعَنَّ بِهَا أَبَا هُرَيْرَةَ‏.‏ وَمَرْوَانُ يَوْمَئِذٍ عَلَى الْمَدِينَةِ‏.‏ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ فَكَرِهَ ذَلِكَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ثُمَّ قُدِّرَ لَنَا أَنْ نَجْتَمِعَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، وَكَانَتْ لأَبِي هُرَيْرَةَ هُنَالِكَ أَرْضٌ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لأَبِي هُرَيْرَةَ إِنِّي ذَاكِرٌ لَكَ أَمْرًا، وَلَوْلاَ مَرْوَانُ أَقْسَمَ عَلَىَّ فِيهِ لَمْ أَذْكُرْهُ لَكَ‏.‏ فَذَكَرَ قَوْلَ عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ‏.‏ فَقَالَ كَذَلِكَ حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ، وَهُنَّ أَعْلَمُ، وَقَالَ هَمَّامٌ وَابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُ بِالْفِطْرِ‏.‏ وَالأَوَّلُ أَسْنَدُ‏

Narrated By 'Aisha and Um Salama : At times Allah's Apostle used to get up in the morning in the state of Janaba after having sexual relations with his wives. He would then take a bath and fast.

ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا انہو ں نے امام مالک سے انہوں نے سُمی سے جو ابو بکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام بن مغیرہ کے غلام تھے انہوں نے ابو بکر بن عبدالرحمٰن سے سنا انہوں نے کہا میں اور میرا باپ دونوں جب حضرت عائشہ اور ام سلمہ کے پاس گئے دوسری سند ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا کہا ہم کو شعیب نے خبر دی انہوں نے زہری سے انہوں نے کہا مجھ کو ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام نے خبر دی کہ ان کے باپ عبدالرحمٰن نے مروان سے بیان کیا ان سے حضرت عائشہؓ اور ام سلمہؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ کو اپنے گھر والوں میں صبح ہو جا تی اور آپؐ جنب ہوتے پھر غسل کرتے اور روزہ رکھتے اور مروان بن حکم نے عبدالرحمٰن بن حارث سے کہا میں تجھ کو خدا کی قسم دیتا ہوں کہ تم یہ حدیث ابو ہریرہؓ کو ٹھوک بجا کر سنا دو اور ان دنوں مروان مدینہ کا حاکم تھا ابوبکر بن عبدالرحمٰن نے کہا عبدالرحمٰن نے اس بات کو پسند نہیں کیا پھر ایسا اتفاق ہوا کہ ہم سب ذوالخلیفہ میں اکھٹے ہوئے وہاں ابوہریرہؓ کی زمین تھی تو عبدالرحمٰن نے ابوہریرہؓ سے کہا میں تم سے ایک بات بیان کرتا ہوں اور جو مروان نے مجھ کو قسم نہ دی ہوتی تو میں اس کو تم سے بیان نہ کرتا پھر انہوں نے حضرت عائشہؓ اور ام سلمہؓ کی حدیث بیان کی ابوہریرہؓ نے کہا (میں کیا کروں) فضل بن عباس نے مجھ سے حدیث بیان کی وہ جانیں اور ہمام اور ابنِ عبداللہ بن عمرؓ نے ابو ہریرہؓ سے یوں روایت کی ہے کہ ایسی صورت میں نبیﷺ افطار کا حکم دیتے مگر حضرت عائشہؓ اور حضرت ام سلمہؓ کی روایت زیادہ معتبرہے۔

23. To embrace while one is observing Saum.

Aisha (r.a) said, "A person observing Saum is forbidden to have sexual intercourse."


حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُقَبِّلُ وَيُبَاشِرُ، وَهُوَ صَائِمٌ، وَكَانَ أَمْلَكَكُمْ لإِرْبِهِ‏.‏ وَقَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ‏{‏مَآرِبُ‏}‏ حَاجَةٌ‏.‏ قَالَ طَاوُسٌ ‏{‏أُولِي الإِرْبَةِ‏}‏ الأَحْمَقُ لاَ حَاجَةَ لَهُ فِي النِّسَاءِ‏.وَقَالَ جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ إِنْ نَظَرَ فَأَمْنَى يُتِمُّ صَوْمَهُ‏

Narrated By 'Aisha : The Prophet used to kiss and embrace (his wives) while he was fasting, and he had more power to control his desires than any of you. Said Jabir, "The person who gets discharge after casting a look (on his wife) should complete his fast."

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا انہوں نے شعبہ سے انہوں نے حکم سے انہوں نے ابراہیم سے انہوں نے اسود سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے کہ نبیﷺ بوسہ لیتے اور مباشرت کرتے اور آپؐ روزہ دار ہوتے مگر بات یہ ہے کہ آپؐ تم سب سے زیادہ اپنی خواہش پر اختیار رکھتے تھے ابنِ عباس نے کہا(سورت طہ میں جو)مأ رب کا لفظ ہےاس کےمعنی حاجتیں طاؤس نے کہا سورت نور میں جو غیر اولی الاربہ آیا ہے اس کے معنی بےوقوف جس کو عورتوں سے غرض نہ ہو اور جابر ابنِ زید نے کہا اگر عورت کو دیکھا اور انزال ہو گیا تو روزہ پورا کر لے(ٹوٹا نہیں)۔

24. What is said regarding kissing by a fasting person?



حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيُقَبِّلُ بَعْضَ أَزْوَاجِهِ وَهُوَ صَائِمٌ‏.‏ ثُمَّ ضَحِكَتْ‏.

Narrated By Hisham's father : 'Aisha said, "Allah's Apostle used to kiss some of his wives while he was fasting," and then she smiled.

ہم سے محمد بن مثنٰی نے بیان کیا کہا ہم سے یحیٰی بن سعید قطان نے انہوں نے ہشام سے کہا مجھ کو میرے باپ عروہ نے خبر دی انہوں نے حضرت عائشہ سے انہوں نے انہوں نے نبیﷺ سے دوسری سند اور ہم سےعبداللہ بن مسلمہ نے بیان انہوں نےامام مالک سے انہوں نے ہشام بن عروہ سے انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے حضرت عائشہ سے انہوں نے کہا رسول اللہﷺ اپنی بعضی بی بیوں کا بوسہ لیتے اور آپؐ روزہ دار ہوتے پھر ہنس دیں۔





حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّهَا ـ رضى الله عنهما ـ قَالَتْ بَيْنَمَا أَنَا مَعَ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْخَمِيلَةِ إِذْ حِضْتُ فَانْسَلَلْتُ، فَأَخَذْتُ ثِيَابَ حِيضَتِي فَقَالَ ‏"‏ مَا لَكِ أَنُفِسْتِ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ‏.‏ فَدَخَلْتُ مَعَهُ فِي الْخَمِيلَةِ، وَكَانَتْ هِيَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَغْتَسِلاَنِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، وَكَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ‏

Narrated By Zainab : (Daughter of Um Salama) that her mother said, "While I was (lying) with Allah's Apostle underneath a woollen sheet, I got the menstruation, and then slipped away and put on the clothes (which I used to wear) in menses. He asked, "What is the matter? Did you get your menses?" I replied in the affirmative and then entered underneath that woollen sheet. I and Allah's Apostle used to take a bath from one water pot and he used to kiss me while he was fasting."

ہم سے مسدد نے بیان کیا کہا ہم سے یحیٰی بن سعید قطان نے انہوں نے ہشام بن ابی عبداللہ سے کہا ہم سے یحیٰی بن ابی کثیر نے انہوں نے ابو سلمہ سے انہوں نے زینب سے جو ام سلمہؓ کی بیٹی تھیں انہوں نے اپنی والدہ(بی بی ام سلمہؓ)سے انہوں نے کہا ایک بار ایسا ہوا میں ایک چادر میں رسول اللہﷺ کے ساتھ (لیٹی)تھی اتنے میں مجھ کو حیض آگیا میں چپکے سے نکل بھاگی اور حیض کے کپڑے سنبھالے آپ نے پوچھا کیا ہوا کیا حیض آگیا میں نے عرض کیا جی پھر میں چادر میں آپ کے ساتھ گھس گئی اور ام سلمہؓ اور رسول اللہﷺ دونوں مل کر ایک ہی برتن میں غسل کیا کرتے اور آپؐ روزے میں ان کا بوسہ لیا کرتے۔

25. Taking a bath by a person observing Saum.

Ibn Umar (r.a) soaked a garment in water and then put it over himself while he was observing Saum. Ash-Shabi entered a bathroom while he was observing Saum. Ibn Abbas said, "There is no harm in tasting the food of the pots or other meals." Al-Hasan said, "There is no harm for the person observing Saum to rinse his mouth with water and to cool his body." Ibn Masood said, "At the night of your fasting day, you had better oil and comb your hair." Anas said, "I had a tub in which I used to sit while observing Saum." It is mentioned that the Prophet (s.a.w) cleaned his teeth with Siwak while observing Saum and Ibn Umar used to clean his teeth with Siwak in the early and late hours of the day without swallowing the resultant saliva. Ata said, "The swallowing of saliva does not break the Saum." Ibn Sirin said, "There is no harm in cleaning the teeth with a green fresh Siwak." He was told that it had taste. Ibn Sirin replied, "Water also has taste yet you rinse your mouth with it." Anas, Al-Hasan and Ibrahim did not see any harm in smearing one's eyes with kohl while observing Saum.


حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، وَأَبِي، بَكْرٍ قَالَتْ عَائِشَةُ ـ رضى الله عنها ـ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُدْرِكُهُ الْفَجْرُ ‏{‏جُنُبًا‏}‏ فِي رَمَضَانَ، مِنْ غَيْرِ حُلُمٍ فَيَغْتَسِلُ وَيَصُومُ‏

Narrated By 'Aisha : (At times) in Ramadan the Prophet used to take a bath in the morning not because of a wet dream and would continue his fast.

ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے کہا ہم سے یونس نے انہوں نے ابنِ شہاب سے انہوں نے عروہ اور ابو بکرؓ سے انہوں نے کہا حضرت عائشہؓ نے کہا نبیﷺ کو نہانے کی حاجت ہوتی اور احتلام سے نہیں (بلکہ جماع سے) اور صبح ہو جاتی آپ نہاتے اور روزہ رکھتے۔





حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ سُمَىٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، كُنْتُ أَنَا وَأَبِي،، فَذَهَبْتُ مَعَهُ، حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنْ كَانَ لَيُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ جِمَاعٍ غَيْرِ احْتِلاَمٍ، ثُمَّ يَصُومُهُ‏

Narrated By Abu Bakr bin 'Abdur-Rahman : My father and I went to 'Aisha and she said, "I testify that Allah's Apostle at times used to get up in the morning in a state of Janaba from sexual intercourse, not from a wet dream and then he would fast that day."

ہم سے اسمٰعیل بن اویس نے بیان کیا کہا مجھ سے امام مالک نے انہوں نے سمی سے جو ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام بن مغیرہ کے غلام تھے انہوں نے ابو بکر بن عبدالرحمٰن سے سنا وہ کہتے تھے میں اپنے والد کے ساتھ مل کر حضرت عائشہؓ کے پاس گیا انہوں نے کہا میں گواہی دیتی ہوں کہ رسول اللہﷺکو جماع سے جنابت ہوتی نہ احتلام سے پھر صبح ہو جاتی اورآپ اس دن روزہ رکھتے ۔





ثُمَّ دَخَلْنَا على أُمِّ سَلَمَةَ ، فَقَالَتْ مِثْلَ ذَلِكَ.

Then we went to Um Salama and she also narrated a similar thing.

پھر ہم ام سلمہؓ کے پاس گئے انہوں نے بھی ایسا ہی کہا۔

26. If a person observing Saum ate or drank forgetfully

Ata said, "There is no harm if water goes in the throat and one is unable to bring it out while putting it in the nose and then blowing it out." Al-Hasan said, "If a fly enters one's throat, there is no harm in it." Al-Hasan and Mujahid said, "If one has sexual intercourse forgetfully then no penalty will be imposed on him."


حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِذَا نَسِيَ فَأَكَلَ وَشَرِبَ فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ، فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ ‏"‏‏

Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "If somebody eats or drinks forgetfully then he should complete his fast, for what he has eaten or drunk, has been given to him by Allah."

ہم سے عبدان نے بیان کیا کہا ہم کو یزید بن زریع نے خبر دی کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا کہا ہم سے محمد بن سیرین نے انہوں نے ابوہریرہؓ سے انہوں نے نبیﷺ سے آپ نے فرمایا جب بھولے سے کوئی کھا پی لے تو اپناروزہ پورا کرے اللہ نے اس کو کھلایا پلایا۔

27. Dry or green Siwak for the person observing Saum.

Narrated by Amir bin Rabia, "I saw the Prophet (s.a.w) cleaning his teeth with Siwak while he was observing Saum so many times that I can't count." Narrated by Abu Hurairah, the Prophet (s.a.w) said, "But for my fear that it would be hard for my followers, I would have ordered them to clean their teeth with Siwak on every performance of ablution." The same is narrated by Jabir and Zaid bin Khalid from the Prophet (s.a.w) who did not differentiate between fasting and non-fasting person in this respect. Aisha said, The Prophet (s.a.w) said, "It (Siwak) is a purification for the mouth and it is a way of seeking Allah's pleasures." Ata and Qatada said, "There is no harm in swallowing the resultant saliva."


حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ حُمْرَانَ، رَأَيْتُ عُثْمَانَ ـ رضى الله عنه ـ تَوَضَّأَ، فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ ثَلاَثًا، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاَثًا، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْمَرْفِقِ ثَلاَثًا، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى إِلَى الْمَرْفِقِ ثَلاَثًا، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى ثَلاَثًا، ثُمَّ الْيُسْرَى ثَلاَثًا، ثُمَّ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا، ثُمَّ قَالَ ‏"‏ مَنْ تَوَضَّأَ وُضُوئِي هَذَا، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، لاَ يُحَدِّثُ نَفْسَهُ فِيهِمَا بِشَىْءٍ، إِلاَّ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ‏"‏‏

Narrated By Humran : I saw 'Uthman performing ablution; he washed his hands thrice, rinsed his mouth and then washed his nose, by putting water in it and then blowing it out, and washed his face thrice, and then washed his right forearm up to the elbow thrice, and then the left-forearm up to the elbow thrice, then smeared his head with water, washed his right foot thrice, and then his left foot thrice and said, "I saw Allah's Apostle performing ablution similar to my present ablution, and then he said, 'Whoever performs ablution like my present ablution and then offers two Rakat in which he does not think of worldly things, all his previous sins will be forgiven."


ہم سے عبدان نے بیان کیا کہا ہم کو معمر نے خبر دی کہا مجھ سے زہری نے بیان کیا انہوں نے عطاء بن یزید سے انہوں نےحمران سے انہوں نے کہا میں نے حضرت عثمانؓ کو دیکھا انہوں نے وضو کیا تو دونوں ہاتھوں پر تین بار پانی ڈالاپھر کلی کی ناک سنکی پھر تین بار منہ دھویا پھر داہنا ہاتھ کہنی تک تین بار پھر بایاں ہاتھ کہنی تک تین بار پھر سر پر مسح کیا پھر داہنا پاؤں تین بار دھویا پھر بایاں پاؤں تین بار پھر کہنے لگے میں نے رسول اللہﷺ کو اسی طرح جیسے میں نے وضو کیا وضو کرتے دیکھا پھر آپ نے فرمایا جو شخص میرے اس وضو کی طرح وضو کرے پھر دو رکعتیں (تحیۃالوضو کی) پڑھے ان میں واہی تباہی خیال نہ کرے تو اس کے اگلے گناہ بخش دیے جائیں گے۔

28. The statement of the Prophet (s.a.w), "Whoever performs ablution should put water in his nose and then blow it out." The Prophet (s.a.w) did not differentiate between the fasting and the non fasting person.

Al-Hasan said, "There is no harm for a person observing Saum." Al-Hasan said, "There is no harm for a person observing Saum to use snuff if it does not reach the throat, or to smear his eyes with kohl." Ata said, "If a person observing Saum, after rinsing his mouth with water, throws it out, then, there is no harm unless he swallows his saliva and what is left in his mouth. And he should not chew gum, for if he swallows his saliva, I do not say that it will break his Saum but it is prohibited and if during the putting of water in the nose and then blowing it out, some water enters the throat and he is unable to bring it back, there is no harm in that."

29. Whoever has a sexual intercourse with his wife in Ramadan (intentionally, he has to pay expiation).

Narrated Abu Hurairah on the authority of the Prophet (s.a.w), "Whoever did not observe Saum for one day of Ramadan without genuine excuse or a disease, then even if he observed Saum for a complete year, it would not compensate for that day." The same is narrated by Ibn Masood. Said bin Al-Musaiyab, Ash-Shabi, Ibn Jubair, Ibrahim, Qatada and Hammad said, "He should observe Saum one day in lieu of that missed day."


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ، سَمِعَ يَزِيدَ بْنَ هَارُونَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ـ هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ ـ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ، أَخْبَرَهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ بْنِ خُوَيْلِدٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ تَقُولُ إِنَّ رَجُلاً أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّهُ احْتَرَقَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَالَكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَصَبْتُ أَهْلِي فِي رَمَضَانَ‏.‏ فَأُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِمِكْتَلٍ، يُدْعَى الْعَرَقَ فَقَالَ ‏"‏ أَيْنَ الْمُحْتَرِقُ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَنَا‏.‏ قَالَ ‏"‏ تَصَدَّقْ بِهَذَا ‏"

Narrated By 'Aisha : A man came to the Prophet and said that he had been burnt (ruined). The Prophet asked him what was the matter. He replied, "I had sexual intercourse with my wife in Ramadan (while I was fasting)." Then a basket full of dates was brought to the Prophet and he asked, "Where is the burnt (ruined) man?" He replied, "I am present." The Prophet told him to give that basket in charity (as expiation).


ہم سے عبداللہ بن منیر نے بیان کیا انہوں نے یزید بن ہارون سے سنا کہا ہم سے یحیٰی بن سعید نے بیان کیا ان کو عبدالرحمٰن بن قاسم بن محمد نے خبر دی انہوں نے محمد ابنِ جعفر بن زبیر بن عوام بن خویلد سے انہوں نے عباد بن عبداللہ بن زبیر سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے سنا وہ کہتی تھیں ایک شخص (سلمہ یا سلمان بن صخر) نبیﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا میں دوزخ میں جل چکا آپ نے فرمایا کیوں کیا ہوا کہنے لگا میں نے رمضان میں اپنی عورت سے صحبت کی پھر آپ کے پاس کھجور کا ایک تھیلہ آیا جس کو عرق کہتے ہیں آپ نے فرمایا وہ دوزخ میں جلنے والا کہاں ہے۔ اس نے کہا میں حاضر ہوں یا رسول اللہﷺ اس سے فرمایا تو یہ خیرات کر دے۔

30. If somebody had a sexual intercourse with his wife in Ramadan and has got nothing, then if he is given something in charity, he should give the expiation of that sinful act.



حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكْتُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَا لَكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي وَأَنَا صَائِمٌ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هَلْ تَجِدُ رَقَبَةً تُعْتِقُهَا ‏"‏‏.‏ قَالَ لاَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ‏"‏‏.‏ قَالَ لاَ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ فَهَلْ تَجِدُ إِطْعَامَ سِتِّينَ مِسْكِينًا ‏"‏‏.‏ قَالَ لاَ‏.‏ قَالَ فَمَكَثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم، فَبَيْنَا نَحْنُ عَلَى ذَلِكَ أُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِعَرَقٍ فِيهَا تَمْرٌ ـ وَالْعَرَقُ الْمِكْتَلُ ـ قَالَ ‏"‏ أَيْنَ السَّائِلُ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ أَنَا‏.‏ قَالَ ‏"‏ خُذْهَا فَتَصَدَّقْ بِهِ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ الرَّجُلُ أَعَلَى أَفْقَرَ مِنِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَوَاللَّهِ مَا بَيْنَ لاَبَتَيْهَا ـ يُرِيدُ الْحَرَّتَيْنِ ـ أَهْلُ بَيْتٍ أَفْقَرُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي، فَضَحِكَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَطْعِمْهُ أَهْلَكَ ‏"

Narrated By Abu Huraira : While we were sitting with the Prophet a man came and said, "O Allah's Apostle! I have been ruined." Allah's Apostle asked what was the matter with him. He replied "I had sexual intercourse with my wife while I was fasting." Allah's Apostle asked him, "Can you afford to manumit a slave?" He replied in the negative. Allah's Apostle asked him, "Can you fast for two successive months?" He replied in the negative. The Prophet asked him, "Can you afford to feed sixty poor persons?" He replied in the negative. The Prophet kept silent and while we were in that state, a big basket full of dates was brought to the Prophet. He asked, "Where is the questioner?" He replied, "I (am here)." The Prophet said (to him), "Take this (basket of dates) and give it in charity." The man said, "Should I give it to a person poorer than I? By Allah; there is no family between its (i.e. Medina's) two mountains who are poorer than I." The Prophet smiled till his pre-molar teeth became visible and then said, 'Feed your family with it."

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا کہا ہم کو شعیب نے خبر دی انہوں نے زہری سے کہا مجھ کو حمید بن عبدالرحمٰن نے خبر دی کہ ابوہریرہؓ نے کہا ایسا ہوا ایک بار ہم نبیﷺ کے پاس بیٹھے تھے اتنے میں ایک شخص آیا (سلمہ بن صخر یاسلمان بن صخر ) اس نے عرض کیا یارسول اللہﷺ میں تباہ ہو گیا آپ نے فرمایا کیوں کیا ہوا ۔وہ کہنے لگا میں اپنی جورو سے لگ گیا اور میں روزہ دار تھا آپ نے فرمایا تجھ کو آزاد کرنے کے لئے ایک بردہ مل سکتا ہے اس نے کہا نہیں آپ نے فرمایا خیر تو دو مہینے کے لگاتار روزے رکھ سکتا ہے کہنے لگا نہیں آپ نے فرمایا تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتا ہے اس نے کہا نہیں یہ سن کر آپ ٹھہرے رہے ہم لوگ بھی سب بیٹھے تھے اتنے میں نبیﷺ کے پاس کھجور کا ایک تھیلا آیا (جس کو عرق کہتے ہیں خرمے کی چھال سے بنتے ہیں) آپ نے پوچھا وہ شخص کہاں گیا کہنے لگا حاضر ہوں آپ نے فرمایا ہی تھیلا لے لے اور خیرات کر دے وہ کہنے لگا خیرات تو اس پر کروں جو مجھ سے زیادہ محتاج ہو قسم خدا کی مدینہ کی دونوں طرف کی پتھریلے کناروں میں کوئی گھر والے مجھ سے زیادہ محتاج نہیں ہیں یہ سن کر نبیﷺ ہنس دیے ہیں تک کہ آپؐ کی کچلیاں کھل گئیں آپ نے فرمایا اچھا اپنے گھر والوں کو کھلا دے۔

31. Can a person who has had sexual intercourse in Ramadan feed his family from things given as expiation of his sin if they are needy?



حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّ الأَخِرَ وَقَعَ عَلَى امْرَأَتِهِ فِي رَمَضَانَ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَتَجِدُ مَا تُحَرِّرُ رَقَبَةً ‏"‏‏.‏ قَالَ لاَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَتَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ‏"‏‏.‏ قَالَ لاَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَفَتَجِدُ مَا تُطْعِمُ بِهِ سِتِّينَ مِسْكِينًا ‏"‏‏.‏ قَالَ لاَ‏.‏ قَالَ فَأُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ ـ وَهُوَ الزَّبِيلُ ـ قَالَ ‏"‏ أَطْعِمْ هَذَا عَنْكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ عَلَى أَحْوَجَ مِنَّا مَا بَيْنَ لاَبَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجُ مِنَّا‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَأَطْعِمْهُ أَهْلَكَ ‏"

Narrated By Abu Huraira : A man came to the Prophet and said, "I had sexual intercourse with my wife on Ramadan (while fasting)." The Prophet asked him, "Can you afford to manumit a slave?" He replied in the negative. The Prophet asked him, "Can you fast for two successive months?" He replied in the negative. He asked him, "Can you afford to feed sixty poor persons?" He replied in the negative. (Abu Huraira added): Then a basket full of dates was brought to the Prophet and he said (to that man), "Feed (poor people) with this by way of atonement." He said, "(Should I feed it) to poorer people than we? There is no poorer house than ours between its (Medina's) mountains." The Prophet said, "Then feed your family with it."

ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا کہا ہم سے جریر نے انہوں نے منصور سے انہوں نے زہری سے انہوں نے حمید بن عبدالرحمٰن سے انہوں نے ابوہریرہؓ سے ایک شخص (وہی سلمہ یا سلمان بن صخر) نبیﷺ کے پاس آیا کہنے لگا یہ بد نصیب رمضان میں اپنی عورت سے لگ گیا آپ نے فرمایا تو ایک بردہ آزاد کر سکتا ہے اس نے کہا نہیں آپ نے فرمایا اچھا دو مہینے لگاتار روزے رکھ سکتا ہے کہنے لگا نہیں آپ نے فرمایا اچھا دو مہینے کے لگاتار روزے رکھ سکتا ہے کہنے لگا نہیں آپ نے فرمایا اچھا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتا ہے کہنے لگا نہیں پھر ایسا ہوا کہ آپ کے پاس کھجور کا ایک تھیلا آیا جس کو عرق کہتے ہیں آپ نے فرمایا تو فقیروں کو یہ اپنی طرف سے کھلا دے اس نے عرض کیا مدینہ کے دونوں پتھریلے کناروں میں ہم سے زیادہ کوئی محتاج نہیں آپ نے فرمایا خیر اپنے گھر والوں کو ہی کھلا دے ۔

32. Cupping (letting out blood medically) and vomiting of a person observing Saum (fast).

Narrated by Abu Hurairah (r.a), "If a person observing Saum vomits, that does not break his Saum for while he vomits he expels something and does not swallow anything." It is mentioned from Abu Hurairah that vomiting breaks the Saum, but the former narration is more authentic. Ibn Abbas and Ikrima said, "Observing Saum means to stop taking food in, not taking it out." And Ibn Umar (r.a) used to be cupped while he was observing Saum but later on he abandoned it and began to be cupped at night. Abu Musa was cupped at night. It is narrated That Saad, Zaid bin Arqam and Umm Salama were cupped while observing Saum. Bukair said, Umm Alqama said, "We used to be cupped in Aisha's presence and she did not object." Al-Hasan and others narrate on the authority of the Prophet (s.a.w), "The cupping and the cupped persons break Saum on practising this operation while Saum." Aisha told me (Bukhari) that Abdul-Ala narrated from Yunus from Al-Hasan as above. Somebody asked him, "Was that statement reported from the Prophet (s.a.w)?" He replied, "Yes" and then added "Allah knows best."


حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم احْتَجَمَ، وَهْوَ مُحْرِمٌ وَاحْتَجَمَ وَهْوَ صَائِمٌ‏

Narrated By Ibn Abbas : The Prophet was cupped while he was in the state of Ihram, and also while he was observing a fast.


ہم سے معلیٰ بن اسد نے بیان کیا کہا ہم سے وہیب نے انہوں نے ایوب سے انہوں نے عکرمہ سے انہوں نے عبداللہ بن عباسؓ سے کہ نبیﷺ نے احرام کی حالت میں اور جب آپ روزہ دار تھےپچھنی لگوائی۔





حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ احْتَجَمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ صَائِمٌ‏

Narrated By Ibn 'Abbas : The Prophet was cupped while he was fasting.

ہم سے ابو معمر عبداللہ بن عمری نے بیان کیا کہا ہم سے عبدالوارث بن سعید نے کہا ہم سے ایوب سختیانی نے انہوں نے عکرمہ سے انہوں نے ابنِ عباسؓ سے کہ نبیﷺ نے روزے میں پچھنی لگوائی۔





حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ ثَابِتًا الْبُنَانِيَّ، يَسْأَلُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ أَكُنْتُمْ تَكْرَهُونَ الْحِجَامَةَ لِلصَّائِمِ قَالَ لاَ‏.‏ إِلاَّ مِنْ أَجْلِ الضَّعْفِ‏.‏ وَزَادَ شَبَابَةُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏

Narrated By Thabit Al-Bunani : Anas bin Malik was asked whether they disliked the cupping for a fasting person. He replied in the negative and said, "Only if it causes weakness."

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے کہا میں نے ثابت بنانی سے سنا کہا انس بن مالکؓ سے پوچھا گیا کہاتم روزہ دار کو پچھنی لگوانا مکروہ سمجھتے تھے انہوں نے کہا نہیں فقط ضعف کے خیال سے ہم اس کو برا جانتے تھے اور شبابہ نے شعبہ سے اس روایت میں اتنا زیادہ کیا کہ نبیﷺکے زمانہ میں۔

33. To observe Saum or not to observe Saum during journeys.



حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، سَمِعَ ابْنَ أَبِي أَوْفَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ فَقَالَ لِرَجُلٍ ‏"‏ انْزِلْ فَاجْدَحْ لِي ‏"‏‏.‏ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الشَّمْسُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ انْزِلْ فَاجْدَحْ لِي ‏"‏‏.‏ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الشَّمْسُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ انْزِلْ فَاجْدَحْ لِي ‏"‏‏.‏ فَنَزَلَ، فَجَدَحَ لَهُ، فَشَرِبَ، ثُمَّ رَمَى بِيَدِهِ هَا هُنَا، ثُمَّ قَالَ ‏"‏ إِذَا رَأَيْتُمُ اللَّيْلَ أَقْبَلَ مِنْ هَا هُنَا فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ ‏"‏‏.‏ تَابَعَهُ جَرِيرٌ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنِ الشَّيْبَانِيِّ عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ

Narrated By Ibn Abi Aufa : We were in the company of Allah's Apostle on a journey. He said to a man, "Get down and mix Sawiq (powdered barley) with water for me." The man said, "The sun (has not set yet), O Allah's Apostle." The Prophet again said to him, "Get down and mix Sawiq with water for me." The man again said, "O Allah's Apostle! The sun!" The Prophet said to him (for the third time) "Get down and mix Sawiq with water for me." The man dismounted and mixed Sawiq with water for him. The Prophet drank it and then beckoned with his hand (towards the East) and said, "When you see the night falling from this side, then a fasting person should break his fast."

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے انہوں نے ابو اسحاق سلیمان شیبانی انہوں نے عبداللہ بن ابی اوفیٰؓ سے سنا انہوں نے کہا ہم ایک سفر (غزوہ فتح) میں رسول اللہﷺ کےساتھ تھےآپ نےایک آدمی(بلالؓ)سےفرمایا اتر میرے لیے ستو گھول وہ کہنے لگے یا رسول اللہﷺ ابھی تو سورج کی روشنی ہے آپ نے فرمایا اتر ستو گھول وہ کہنے لگےیا رسول اللہ ابھی تو سورج کی روشنی ہےآپ نے فرمایا اتر ستو گھول آخر وہ اترےاور ستو گھولا آپ نے پی لیا پھر اپنے ہاتھ سے پورب کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا جب ادھر سے رات کا اندھیرا شروع ہو تو روزہ افطار کا وقت آگیا سفیان کے ساتھ اس حدیث کو جریراور ابو بکر بن عیاش نے بھی شیبانی سے روایت کیا انہوں نے عبداللہ بن اوفیٰ سے انہوں نے کہا میں ایک سفر میں نبیﷺ کے ساتھ تھا۔





حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو الأَسْلَمِيَّ، قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَسْرُدُ الصَّوْمَ‏

Narrated By 'Aisha : Hamza bin 'Amr Al-Aslami said, "O Allah's Apostle! I fast continuously."

ہم سے مسدد نے بیان کیا کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے انہوں نے ہشام بن عروہ سے کہا مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا انہوں نے حضرت عائشہؓ سے کہ حمزہ بن عمرو اسلمی نے کہا یا رسول اللہﷺ میں لگاتار روزے رکھتا ہوں۔





حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو الأَسْلَمِيَّ قَالَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَأَصُومُ فِي السَّفَرِ وَكَانَ كَثِيرَ الصِّيَامِ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ إِنْ شِئْتَ فَصُمْ، وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ ‏"‏‏

Narrated By 'Aisha : (The wife of the Prophet) Hamza bin 'Amr Al-Aslami asked the Prophet, "Should I fast while travelling?" The Prophet replied, "You may fast if you wish, and you may not fast if you wish."


ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی انہوں نے ہشام بن عروہ سے انہوں نےاپنے باپ سےانہوں نے حضرت عائشہؓ سےجو بی بی تھیں نبیﷺ کی کہ حمزہ بن عمرو اسلمی نے نبیﷺ سے عرض کیا کیا میں سفر میں روزہ رکھوں ؟وہ روزے بہت رکھا کرتے تھے آپ نے فرمایا تیرا اختیار ہے روزہ رکھ یا افطار کر۔

34. If a person observed Saum some days of Ramadan and then went on a journey.



حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ فِي رَمَضَانَ فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ الْكَدِيدَ أَفْطَرَ، فَأَفْطَرَ النَّاسُ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَالْكَدِيدُ مَاءٌ بَيْنَ عُسْفَانَ وَقُدَيْدٍ‏

Narrated By Ibn 'Abbas : Allah's Apostle set out for Mecca in Ramadan and he fasted, and when he reached Al-Kadid, he broke his fast and the people (with him) broke their fast too. (Abu 'Abdullah said, "Al-Kadid is a land covered with water between Usfan and Qudaid.")

ہم سے عبداللہ یوسف تنیسی نے بیان کیا کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی انہوں نے ابنِ شہاب سے انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے انہوں نے ابنِ عباسؓ سے رسول اللہﷺ رمضان میں مکہ کی طرف روانہ ہوئے(غزوہ فتح میں چار شنبہ کے دن عصر کے بعد) آپ روزے سے تھے جب کدید میں پہنچے تو روزہ افطار کر ڈالا لوگوں نے بھی افطار کیا امام بخاری نے کہا کدید(مدینہ سے سات منزل پر ) عسفان اور قدید کے بیچ میں پانی کا ایک چشمہ ہے۔

35. Chapter



حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، أَنَّ إِسْمَاعِيلَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَهُ عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فِي يَوْمٍ حَارٍّ حَتَّى يَضَعَ الرَّجُلُ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ، وَمَا فِينَا صَائِمٌ إِلاَّ مَا كَانَ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَابْنِ رَوَاحَةَ

Narrated By Abu Ad-Darda : We set out with Allah's Apostle on one of his journeys on a very hot day, and it was so hot that one had to put his hand over his head because of the severity of heat. None of us was fasting except the Prophet and Ibn Rawaha.

ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا کہا ہم سے یحییٰ بن حمزہ نے انہوں نے عبدالرحمٰن بن یزید سے ان سے اسمٰعیل بن عبیداللہ نے بیان کیا انہوں نےام درداؓء سےانہوں نے ابوالدرداؓءسے انہوں نے کہا ہم کسی سفر میں رسول اللہﷺ کے ساتھ نکلے ایسی گرمی تھی کہ آدمی سر پر اپنا ہاتھ رکھتا گرمی کی شدت سے اور ہم میں سے کوئی روزہ دار نہ تھا صرف نبی ﷺ اور عبداللہ بن رواحہ روزہ دار تھے۔

36. The saying of the Prophet (s.a.w) to the person observing Saum who was being shaded on a very hot day, "It is not righteousness to observe As-Saum on a journey."



حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهم ـ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ، فَرَأَى زِحَامًا، وَرَجُلاً قَدْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ، فَقَالَ ‏"‏ مَا هَذَا ‏"‏‏.‏ فَقَالُوا صَائِمٌ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصَّوْمُ فِي السَّفَرِ ‏"‏‏

Narrated By Jabir bin 'Abdullah : Allah's Apostle was on a journey and saw a crowd of people, and a man was being shaded (by them). He asked, "What is the matter?" They said, "He (the man) is fasting." The Prophet said, "It is not righteousness that you fast on a journey."

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہؓ نے کہا ہم سے محمد بن عبدالرحمٰن انصاری نے انہوں نے کہا میں نے محمد بن عمرو بن حسن بن علی سے سنا انہوں نے جابر بن عبداللہ انصاریؓ سے انہوں نے کہا رسول اللہﷺ ایک سفر(غزوہ فتح) میں تھے ایک جگہ ہجوم پایا اور ایک شخص(قیس عامری) کو دیکھا لوگ اس پر سایہ کیے تھے آپ نے حال پوچھا لوگوں نے کہا روزہ دار ہے آپﷺ نے فرمایا سفر میں روزہ رکھنا کچھ اچھا کام نہیں۔

37. The companions of the Prophet (s.a.w) did not criticize each other for observing Saum or not observing Saum (on journeys).



حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كُنَّا نُسَافِرُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يَعِبِ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ، وَلاَ الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ

Narrated By Anas bin Malik : We used to travel with the Prophet and neither did the fasting persons criticize those who were not fasting, nor did those who were not fasting criticize the fasting ones.

ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا انہوں نے امام مالک سے انہوں نے حمید طویل سے انہوں نے انس بن مالکؓ سے انہوں نے کہا ہم نبیﷺ کے ساتھ سفر کرتے روزہ رکھنے والا افطار کرنے والے پر عیب نہ لگاتا اور نہ افطارکرنے والا روزہ دار پر۔

38. Whoever broke his Saum on a journey (publicly) so that people might see him?



حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ، فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ عُسْفَانَ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَرَفَعَهُ إِلَى يَدَيْهِ لِيُرِيَهُ النَّاسَ فَأَفْطَرَ، حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ، وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ قَدْ صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَفْطَرَ، فَمَنْ شَاءَ صَامَ، وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ‏

Narrated By Tawus : Ibn 'Abbas said, "Allah's Apostle set out from Medina to Mecca and he fasted till he reached 'Usfan, where he asked for water and raised his hand to let the people see him, and then broke the fast, and did not fast after that till he reached Mecca, and that happened in Ramadan." Ibn 'Abbas used to say, "Allah's Apostle (sometimes) fasted and (sometimes) did not fast during the journeys so whoever wished to fast could fast, and whoever wished not to fast, could do so."


ہم سے موسیٰ بن اسمٰعیل نے بیان کیا کہا ہم سے ابوعوانہ نے انہوں نے منصور سے انہوں نے مجاہد سے انہوں نے طاؤس سے انہوں نے ابنِ عباسؓ سے انہوں نے کہا رسول اللہﷺ (غزوہ فتح میں) مدینہ سے مکہ کی طرف روانہ ہوئے اور عسفان تک روزہ رکھتےرہے عسفان میں آپﷺ نے پانی منگوایا اور دونوں ہاتھ لمبے کر کے پانی کو اٹھایا تاکہ لوگ دیکھیں پھر افطار کیا یہاں تک کہ مکہ پہنچے یہ رمضان کا ذکر ہے۔ ابنِ عباس کہتے تھے رسول اللہﷺنے (سفر میں) روزہ بھی رکھا ہے اور افطار بھی کیاہے اب جس کا جی چاہے سفر میں روزہ رکھے جس کا جی چاہے نہ رکھے۔

39. Chapter

"And as for those who can fast with difficulty (e.g. the aged etc.) they have (a choice either to fast or) to feed a poor person (for every day)." (V.2:184) Ibn Umar and Salama bin Al-Akwa said that the provision of the above Verse was abrogated by the following Verse: "The month of Ramadan in which the Quran was revealed ... for having guided you, so that you may be grateful to Him." (V.2:185) Narrated by Ibn Abi Laila, the companions of Prophet Muhammad (s.a.w) said that when observing Saum in Ramadan was prescribed, they could not endure it. So, whoever fed a poor person every day (of Ramadan) did not observe Saum and was permitted to do so. Then this order was cancelled by the Verse: "... And that you observe Saum is better for you." (V.2:184), so they were ordered to observe Saum.


حَدَّثَنَا عَيَّاشٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَرَأَ فِدْيَةٌ طَعَامُ مَسَاكِينَ‏.‏ قَالَ هِيَ مَنْسُوخَةٌ

Narrated By Nafi : Ibn 'Umar recited the verse: "They had a choice either to fast or to feed a poor person for every day, and said that the order of this Verse was cancelled.


ہم سے غیاث نے بیان کیا کہا ہم سے عبدالاعلیٰ نے کہا ہم سے عبیداللہ نے انہوں نے نافع سے انہوں نے ابنِ عمرؓ سے انہوں نے یہ آیت پڑھی فدیۃ طعام مساکین اور کہا یہ منسوخ ہے۔

40. When to make up for the missed days of fasting of Ramadan.

Ibn Abbas (r.a) said, "There is no harm to observe fasting (missed day) irregularly, as the Statement of Allah shows '... The same number (of days) from other days ...' (V.2:185)" Saeed bin Al-Musaiyab said, "The ten days of Saum (of Dhul-Hijjah) should not be observed till the fasting in lieu of the missed days of Ramadan were completed." Ibrahim said, "If somebody did not observe Saum in lieu of the missed days of Ramadan till the next Ramadan then he should observe Saum of the present Ramadan and then the missed days of the previous Ramadan." Ibrahim did not think that the person should feed the poor (as Fidya). Narrated by Abu Hurairah indirectly on the authority of the Prophet (s.a.w) and Ibn Abbas that he should feed the poor. But Allah does not mention the feeding of the poor but only says: "... The same number (of days) from other days ..." (V.2:185)


حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ تَقُولُ كَانَ يَكُونُ عَلَىَّ الصَّوْمُ مِنْ رَمَضَانَ، فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَقْضِيَ إِلاَّ فِي شَعْبَانَ‏.‏ قَالَ يَحْيَى الشُّغْلُ مِنَ النَّبِيِّ أَوْ بِالنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏

Narrated By 'Aisha : Sometimes I missed some days of Ramadan, but could not fast in lieu of them except in the month of Sha'ban." Said Yahya, a sub-narrator, "She used to be busy serving the Prophet."

ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا کہا ہم سے زہیر نے انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سےانہوں نے ابو سلمہ سے انہوں نے کہا میں نے حضرت عائشہؓ سے سنا وہ کہتی تھیں مجھ پر رمضان کی قضا باقی ہوتی تھی میں اس کو رکھ نہ سکتی یہاں تک کہ شعبان آجاتا یحییٰ نے کہا اسکی وجہ یہ تھی کہ حضرت عائشہؓ نبیﷺ کی خدمت میں مشغول رہتیں۔

41. The menstruating women should leave the Saum and Salat.

Abu Az-Zinad said, "Very often the Sunnah and the truth go against the opinions, and for the Muslims there is no way out except to follow the truth and the Sunnah of the Prophet (s.a.w) and an example of that a menstruating woman should observe Saum in lieu of her missed Saum, but she is not to offer the Salat in lieu of her missed Salat."


حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي زَيْدٌ، عَنْ عِيَاضٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَلَيْسَ إِذَا حَاضَتْ لَمْ تُصَلِّ، وَلَمْ تَصُمْ فَذَلِكَ نُقْصَانُ دِينِهَا ‏"‏‏

Narrated By Abu Said : The Prophet said, "Isn't it true that a woman does not pray and does not fast on menstruating? And that is the defect (a loss) in her religion."

ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا کہا ہم سے محمد بن جعفر نے کہا مجھ سے زید بن اسلم نے بیان کیا انہوں نے عیاض بن عبداللہ سے انہوں نے ابو سعید خدری سے انہوں نے کہا نبیﷺ نے فرمایا کیا عورت کو جب حیض آتا ہے تو وہ نماز روزہ نہیں چھوڑ دیتی یہی اس کے دین کا نقصان ہے۔

42. Whoever died and he ought to have observed Saum (the missed days of Ramadan, can somebody else observe Saum instead of him?)

Al-Hasan said, "If thirty men observe Saum one day on his behalf then it will be sufficient."


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرٍ، حَدَّثَهُ عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامٌ صَامَ عَنْهُ وَلِيُّهُ ‏"‏‏.‏ تَابَعَهُ ابْنُ وَهْبٍ عَنْ عَمْرٍو‏.‏ وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ أَبِي جَعْفَرٍ‏

Narrated By 'Aisha : Allah's Apostle said, "Whoever died and he ought to have fasted (the missed days of Ramadan) then his guardians must fast on his behalf."

ہم سے محمد بن خالد نے بیان کیا کہا ہم سے محمد بن موسیٰ بن اعین نے کہا مجھ سے میرے باپ نے انہوں نے عمرو بن حارث سے انہوں نے عبیداللہ ابنِ ابی جعفر سے ان سے محمد بن جعفر نے بیان کیا انہوں نے عروہ سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے فرمایا جو کوئی مر جائے اور اس کے ذمے پر روزے ہوں تو اس کا وارث اس کی طرف سے روزے رکھ لے موسیٰ کے ساتھ اس حدیث کو ابن وہب نے بھی عمرو سے روایت کیا اور یحییٰ بن ایوب نے بھی ابنِ جعفر سے۔





حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ، وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ، أَفَأَقْضِيهِ عَنْهَا قَالَ ‏"‏ نَعَمْ ـ قَالَ ـ فَدَيْنُ اللَّهِ أَحَقُّ أَنْ يُقْضَى ‏"‏‏.‏ قَالَ سُلَيْمَانُ فَقَالَ الْحَكَمُ وَسَلَمَةُ، وَنَحْنُ جَمِيعًا جُلُوسٌ حِينَ حَدَّثَ مُسْلِمٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالاَ سَمِعْنَا مُجَاهِدًا يَذْكُرُ هَذَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ‏ وَيُذْكَرُ عَنْ أَبِي خَالِدٍ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنِ الْحَكَمِ، وَمُسْلِمٍ الْبَطِينِ، وَسَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَعَطَاءٍ، وَمُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَتِ امْرَأَةٌ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِنَّ أُخْتِي مَاتَتْ‏.‏ وَقَالَ يَحْيَى وَأَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَتِ امْرَأَةٌ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ‏.‏ وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَتِ امْرَأَةٌ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ نَذْرٍ‏.‏ وَقَالَ أَبُو حَرِيزٍ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَتِ امْرَأَةٌ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَاتَتْ أُمِّي وَعَلَيْهَا صَوْمُ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا‏

Narrated By Ibn Abbas : A man came to the Prophet and said, "O Allah's Apostle! My mother died and she ought to have fasted one month (for her missed Ramadan). Shall I fast on her behalf?" The Prophet replied in the affirmative and said, "Allah's debts have more right to be paid." In another narration a woman is reported to have said, "My sister died..."

Narrated Ibn 'Abbas: A woman said to the Prophet "My mother died and she had vowed to fast but she didn't fast." In another narration Ibn 'Abbas is reported to have said, "A woman said to the Prophet, "My mother died while she ought to have fasted for fifteen days."

ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا کہا ہم سے معاویہ بن عمرو نے کہا ہم سے زائدہ نے انہوں نے اعمش سے انہوں نے مسلم بطین سے انہوں نے سعید بن جبیر سے انہوں نے ابنِ عباسؓ سے انہوں نے کہا ایک شخص(جس کا نام نہیں معلوم ) نبیﷺکے پاس آیا اور کہنے لگا یارسول اللہﷺ میری ماں مر گئی اس پر ایک مہینے کے روزے ہیں کیا میں اس کی طرف سے قضا رکھ لوں آپ نے فرمایا ہاں اللہ کا قرض ضرور ادا کرنا چاہیے سلیمان اعمش نے کہا جب مسلم بطین نے یہ حدیث بیان کی تو ہم سب بیٹھے ہوئے تھے حکم اور سلمہ نے کہاہم نے بھی مجاہد سے سنا وہ اس حدیث کو ابنِ عباسؓ سے نقل کرتے تھے اور ابو خالد سلیمان بن حیان سے منقول ہے ہم سے اعمش نے بیان کیا انہوں نے حکم اور مسلم بطین اور سلمہ بن کہیل سے انہوں نے سعید بن جبیر او ر عطاء اور مجاہد سے انہوں نے ابنِ عباسؓ سے انہوں نے کہا ایک عورت نے(اس کا نام معلوم نہیں ہوا) نبیﷺ سے عرض کیا میری بہن مر گئی پھر یہی قصّہ بیان کیا اور یحییٰ بن سعید اور ابو معاویہ نے کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا انہوں نے مسلم سے انہوں نے سعیدسے انہوں نے ابنِ عباسؓ سے انہوں نے کہا ایک عورت نے نبیﷺ سے عرض کیا کہ میری ماں مر گئی اور عبیداللہ نے زید بن ابی انیسہ سے بیان کیا انہوں نے حکم سے انہوں نےسعید بن جبیر سےانہوں نےابنِ عباسؓ سے انہوں نے کہاایک عورت نےنبیﷺسے عرض کیا میری ماں مر گئی اور اس پرنذر کاایک روزہ تھااورابوجریر(عبداللہ بن حسین) نے کہا ہم سے عکرمہ نے بیان کیا انہوں نے ابنِ عباسؓ سے انہوں نے کہا ایک عورت نے نبیﷺسے عرض کیا میری ماں مرگئی اور اس پر پندرہ روزے تھے۔

43. When should the person observing Saum break his Saum?

Abu Saeed Al-Khudri broke his Saum as soon as the sun set


حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ، سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ أَبِيهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ مِنْ هَا هُنَا، وَأَدْبَرَ النَّهَارُ مِنْ هَا هُنَا، وَغَرَبَتِ الشَّمْسُ، فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ ‏"

Narrated By Umar bin Al-Khattab : Allah's Apostle said, "When night falls from this side and the day vanishes from this side and the sun sets, then the fasting person should break his fast."

ہم سے حمیدی نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے کہامیں نے اپنے باپ سے سنا وہ کہتے تھےمیں نے عاصم بن عمر سے سنا انہوں نے اپنے باپ حضرت عمرؓ سے انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے فرمایا جب رات ادھر سے(پورب سے) رخ کرے اور دن ادھر سے(پچھم سے) پیٹھ موڑے اور سورج ڈوب جائے تو روزے کے افطار کا وقت آگیا۔





حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ، وَهُوَ صَائِمٌ، فَلَمَّا غَرَبَتِ الشَّمْسُ قَالَ لِبَعْضِ الْقَوْمِ ‏"‏ يَا فُلاَنُ قُمْ، فَاجْدَحْ لَنَا ‏"‏‏.‏ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ أَمْسَيْتَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ انْزِلْ، فَاجْدَحْ لَنَا ‏"‏‏.‏ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَوْ أَمْسَيْتَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ انْزِلْ، فَاجْدَحْ لَنَا ‏"‏‏.‏ قَالَ إِنَّ عَلَيْكَ نَهَارًا‏.‏ قَالَ ‏"‏ انْزِلْ، فَاجْدَحْ لَنَا ‏"‏‏.‏ فَنَزَلَ فَجَدَحَ لَهُمْ، فَشَرِبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ ‏"‏ إِذَا رَأَيْتُمُ اللَّيْلَ قَدْ أَقْبَلَ مِنْ هَا هُنَا، فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ ‏"‏‏

Narrated By Abdullah bin Abi Aufa : We were in the company of the Prophet on a journey and he was fasting, and when the sun set, he addressed somebody, "O so-and-so, get up and mix Sawiq with water for us." He replied, "O Allah's Apostle! (Will you wait) till it is evening?" The Prophet said, "Get down and mix Sawiq with water for us." He replied, "O Allah's Apostle! (If you wait) till it is evening." The Prophet said again, "Get down and mix Sawiq with water for us." He replied, "It is still daytime."(1) The Prophet said again, "Get down and mix Sawiq with water for us." He got down and mixed Sawiq for them. The Prophet drank it and then said, "When you see night falling from this side, the fasting person should break his fast."

ہم سے اسحاق بن شاہین واسطی نے بیان کیا کہا ہم سے خالد نے انہوں نے سلیمان شیبانی سے انہوں نے عبداللہ بن ابی اوفیٰ سے انہوں نے کہا ہم ایک سفر میں(غزوہ فتح جورمضان میں ہوا) نبیﷺ کے ساتھ تھے آپ کا روزہ تھا جب سورج ڈوباتو آپﷺ نے بعضے لوگوں(بلالؓ) سے کہا اٹھ ہمارے لیے ستو گھول انہوں نے کہا شام تو ہونے دیجیےآپ نے فرمایا نہیں اتر ستو گھول پھر انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ شام تو ہونے دیجیے آپ نے فرمایا نہیں اتر ستو گھول انہوں نےکہا ابھی تو دن ہے آپ نے فرمایا اتر ستو گھول آخر وہ اترے اور لوگوں کے لیے ستو گھولے آپ نے پیا پھر فرمایا جب تم دیکھو رات کی تاریکی ادھر پورب سے آن پہنچی تو روزہ دار کے افطار کا وقت آ گیا ۔

44. Iftar (to break the Saum) with the available water or anything else.



حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ صَائِمٌ، فَلَمَّا غَرَبَتِ الشَّمْسُ قَالَ ‏"‏ انْزِلْ، فَاجْدَحْ لَنَا ‏"‏‏.‏ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ أَمْسَيْتَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ انْزِلْ، فَاجْدَحْ لَنَا ‏"‏‏.‏ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عَلَيْكَ نَهَارًا‏.‏ قَالَ ‏"‏ انْزِلْ، فَاجْدَحْ لَنَا ‏"‏‏.‏ فَنَزَلَ، فَجَدَحَ، ثُمَّ قَالَ ‏"‏ إِذَا رَأَيْتُمُ اللَّيْلَ أَقْبَلَ مِنْ هَا هُنَا فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ ‏"‏‏.‏ وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ قِبَلَ الْمَشْرِقِ

Narrated By 'Abdullah bin Abi Aufa : We were travelling with Allah's Apostle and he was fasting, and when the sun set, he said to (someone), "Get down and mix Sawiq with water for us." He replied, "O Allah's Apostle! (Will you wait) till it is evening?" The Prophet again said, "Get down and mix Sawiq with water for us." He replied, "O Allah's Apostle! It is still daytime." The Prophet said again, "Get down and mix Sawiq with water for us." So, he got down and carried out that order. The Prophet then said, "When you see night falling from this side, the fasting person should break his fast," and he beckoned with his finger towards the east.

ہم سے مسدد بن سلیمان نے بیان کیا کہا ہم سے عبدالواحد نے کہا ہم سے سلیمان شیبانی نے کہا میں نے عبداللہ بن ابی اوفیٰ سے سنا وہ کہتے تھے ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ (سفرمیں)چل رہے تھےآپ روزہ دار تھےجب سورج ڈوب گیا تو آپؐ نے ( ایک شخص سے )فرمایااتر ہمارے لیے ستوگھول اس نےکہا یا رسول اللہﷺشام تو ہونے دیجیے آپؐ نے فرمایا اتر ہمارے لیے ستو گھول اس نےکہایا رسول اللہﷺ ابھی تو دن ہے آپؐ نے فرمایااتر(تجھے کیا کام) ستو گھول آخر وہ اترا اس نے ستو گھولا پھر آپؐ نے فرمایا جب تم دیکھو رات کی تاریکی (ادھر پورب) کی طرف سے آن پہنچی تو روزے کے افطار کا وقت آگیااور آپؐ نے انگلی سے پورب کی طرف اشارہ کیا ۔

45. To hasten the Iftar (breaking of the Saum).



حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لاَ يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ ‏"‏‏

Narrated By Sahl bin Sad : Allah's Apostle said, "The people will remain on the right path as long as they hasten the breaking of the fast."


ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی انہوں نے ابو حازم( سلمہ بن دینار) سے انہوں نے سہل بن سعد سے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا میری امت کے لوگ ہمیشہ اچھے رہیں گے جب تک روزہ جلد افطار کرتے رہیں گے۔





حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ، فَصَامَ حَتَّى أَمْسَى، قَالَ لِرَجُلٍ ‏"‏ انْزِلْ، فَاجْدَحْ لِي ‏"‏‏.‏ قَالَ لَوِ انْتَظَرْتَ حَتَّى تُمْسِيَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ انْزِلْ، فَاجْدَحْ لِي، إِذَا رَأَيْتَ اللَّيْلَ قَدْ أَقْبَلَ مِنْ هَا هُنَا فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ ‏"

Narrated By Ibn Abi Aufa : I was with the Prophet on a journey, and he observed the fast till evening. The Prophet said to a man, "Get down and mix Sawiq with water for me." He replied, "Will you wait till it is evening?" The Prophet said, "Get down and mix Sawiq with water for me; when you see night falling from this side, the fasting person should break his fast."

ہم سے احمد بن یوسف نے بیان کیاکہا ہم سے ابوبکر بن عیاش نے انہوں نے سلیمان شیبانی سے انہوں نے ابنِ ابی اوفیٰؓ سے انہوں نے کہا میں نبیﷺکے ساتھ تھا سفر میں آپؐ نے روزہ رکھاجب شام ہوئی تو ایک شخص سے فرمایا اونٹ سے اتر اور میرے لیے ستو گھول وہ کہنے لگا ذرا انتظار کرتے شام تک تو اچھا ہوتا آپؐ نے فرمایا اتر میرے لیے ستو گھول جب رات ادھر(پورب) کی طرف سے آئے تو روزہ دار کے روزہ کھولنے کا وقت آگیا۔

46. If somebody Aftara (breaks the Saum) thinking that the sun has set and then sees the sun still visible



حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَتْ أَفْطَرْنَا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ غَيْمٍ، ثُمَّ طَلَعَتِ الشَّمْسُ‏.‏ قِيلَ لِهِشَامٍ فَأُمِرُوا بِالْقَضَاءِ قَالَ بُدٌّ مِنْ قَضَاءٍ‏.‏ وَقَالَ مَعْمَرٌ سَمِعْتُ هِشَامًا لاَ أَدْرِي أَقْضَوْا أَمْ لاَ

Narrated By Abu Usama from Hisham bin 'Urwa from Fatima : Asma bint Abi Bakr said, "We broke our fast during the lifetime of the Prophet on a cloudy day and then the sun appeared." Hisham was asked, "Were they ordered to fast in lieu of that day?" He replied, "It had to be made up for." Ma'mar said, "I heard Hisham saying, "I don't know whether they fasted in lieu of that day or not."


مجھ سے عبداللہ بن ابی شیبہ نے بیان کیا کہا ہم سے ابو اسامہ نے انہوں نے ہشام بن عروہ سے انہوں نے فاطمہ بنتِ منذر سے انہوں نے اسماء بنتِ ابی بکر سے انہوں نے کہا نبیﷺ کے زمانے میں ایک دن ابر تھا ہم نے روزہ کھول ڈالا پھر ابر کھل گیا سورج نکل آیا لوگوں نے ہشام سے پوچھا پھر قضا رکھنے کا حکم ہوا انہوں نے کہا اور کیا علاج ہے اور معمر نے ہشام سے یوں نقل کیا معلوم نہیں انہوں نے قضا رکھی یا نہیں۔

47. Saum of boys (children etc.)

And Umar (r.a) said to a drunk in the month of Ramadan, "Woe to you! (Even) our boys are observing Saum." And then he gave him the legal punishment.


حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ ذَكْوَانَ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ، قَالَتْ أَرْسَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم غَدَاةَ عَاشُورَاءَ إِلَى قُرَى الأَنْصَارِ ‏"‏ مَنْ أَصْبَحَ مُفْطِرًا فَلْيُتِمَّ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ، وَمَنْ أَصْبَحَ صَائِمًا فَلْيَصُمْ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ فَكُنَّا نَصُومُهُ بَعْدُ، وَنُصَوِّمُ صِبْيَانَنَا، وَنَجْعَلُ لَهُمُ اللُّعْبَةَ مِنَ الْعِهْنِ، فَإِذَا بَكَى أَحَدُهُمْ عَلَى الطَّعَامِ أَعْطَيْنَاهُ ذَاكَ، حَتَّى يَكُونَ عِنْدَ الإِفْطَارِ‏

Narrated By Ar-Rubi' bint Mu'awadh : "The Prophet sent a messenger to the village of the Ansar in the morning of the day of 'Ashura (10th of Muharram) to announce: 'Whoever has eaten something should not eat but complete the fast, and whoever is observing the fast should complete it.' "She further said, "Since then we used to fast on that day regularly and also make our boys fast. We used to make toys of wool for the boys and if anyone of them cried for, he was given those toys till it was the time of the breaking of the fast."

ہم سے مسدد نے بیان کیا کہا ہم سے مبشر بن مفضل نے انہوں نے خلد بن ذکوان سے انہوں نے ربیع بنتِ معوذ سے انہوں نے کہا نبیﷺ نے عاشورے کے دن صبح کو انصار کی بستیوں میں کہلا بھیجا کہ جس نے آج روزہ نہ رکھا ہو وہ بھی باقی دن کچھ نہ کھائے اور جس نے روزہ رکھا ہو وہ روزے سے رہے ربیع کہتے ہیں اس حکم کے بعد ہم عاشورے کے دن روزہ رکھتے اور اپنے بچوں کو بھی رکھاتے اور ان کے لئے اُون کا ایک کھلونا بنا دیتے جب ان میں کوئی کھانےکےلیے رونے لگتا تو ہم اس کو یہ کھلونا دے دیتے(وہ بہل جاتا) یہاں تک کہ افطار کا وقت آپہنچتا۔

48. Al-Wisal (i.e., to observe Saum continuously without eating or drinking anything by day or night, may be for a day or two or more.)

And whoever says that there is no Saum at night according to the Statement of Allah, "Then complete your fast till the nightfall ..." (V.2:187). And the Prophet (s.a.w) forbade it with mercy to them and to keep them healthy. And what is hated as regards excessive practices of worshipping.


حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لاَ تُوَاصِلُوا ‏"‏‏.‏ قَالُوا إِنَّكَ تُوَاصِلُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ، إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَى، أَوْ إِنِّي أَبِيتُ أُطْعَمُ وَأُسْقَى ‏"‏‏

Narrated By Anas : The Prophet said, "Do not practice Al-Wisal (fasting continuously without breaking one's fast in the evening or eating before the following dawn)." The people said to the Prophet, "But you practice Al-Wisal?" The Prophet replied, "I am not like any of you, for I am given food and drink (by Allah) during the night."


ہم سے مسدد نے بیان کیا کہا مجھ سے یحییٰ بن سعید قطان نے انہوں نے شعبہ سے کہا مجھ سے قتادہ نے بیان کیا انہوں نے انسؓ سے انہوں نے نبیﷺ سے آپ نے فرمایا طے کے روزے مت رکھو لوگوں نے کہا آپ تو رکھتے ہیں آپ نے فرمایا میں تمھاری طرح نہیں مجھ کو تو کھلایا پلایا جاتا ہے یا رات کو مجھے کھلایا پلایاجاتا ہے۔





حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْوِصَالِ‏.‏ قَالُوا إِنَّكَ تُوَاصِلُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ، إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَى ‏"‏‏

Narrated By Abdullah bin Umar : Allah's Apostle forbade Al-Wisal. The people said (to him), "But you practice it?" He said, "I am not like you, for I am given food and drink by Allah."

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی انہوں نے نافع سے انہوں نے عبداللہ بن عمرؓ سے انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے طے کے روزے رکھنے سے منع فرمایا لوگوں نے کہاآپﷺ تو رکھتے ہیں آپ نے فرمایا میں تمھاری طرح نہیں مجھے تو کھلایا پلایا جاتا ہے۔





حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ لاَ تُوَاصِلُوا، فَأَيُّكُمْ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُوَاصِلَ فَلْيُوَاصِلْ حَتَّى السَّحَرِ ‏"‏‏.‏ قَالُوا فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنِّي لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ، إِنِّي أَبِيتُ لِي مُطْعِمٌ يُطْعِمُنِي وَسَاقٍ يَسْقِينِ ‏"‏‏

Narrated By Abu Sa'id : That he had heard the Prophet saying, "Do not fast continuously (practise Al-Wisal), and if you intend to lengthen your fast, then carry it on only till the Suhur (before the following dawn)." The people said to him, "But you practice (Al-Wisal), O Allah's Apostle!" He replied, "I am not similar to you, for during my sleep I have One Who makes me eat and drink."

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا کہا ہم سے لیث بن سعد نے کہا مجھ سے یزید بن ہاد نے انہوں نے عبداللہ بن خباب سے انہوں نے ابو سعید خدریؓ سے انہوں نے نبیﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے طے کے روزے مت رکھو اگر کوئی رکھنا چاہے توخیر سحر تک نہ کھائے (پھر سحر کو کچھ کھا لے) لوگوں نے عرض کیا آپ توطے کے روزے رکھتے ہیں آپؐ نے فرمایا میں تم برابر نہیں مجھ کو تو رات میں ایک کھلانے والا کھلاتا ہے پلا نے والا پلاتا ہے۔





حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدٌ، قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْوِصَالِ، رَحْمَةً لَهُمْ فَقَالُوا إِنَّكَ تُوَاصِلُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنِّي لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ، إِنِّي يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ لَمْ يَذْكُرْ عُثْمَانُ رَحْمَةً لَهُمْ‏

Narrated By 'Aisha : Allah's Apostle forbade Al-Wisal out of mercy to them. They said to him, "But you practice Al-Wisal?" He said, "I am not similar to you, for my Lord gives me food and drink."

ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نےاور محمد بن سلام نے بیان کیا دونوں نے کہا ہم کو عبدہ نے خبر دی انہوں نے ہشام بن عروہ سے انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے طے کے روزے رکھنے سے منع فرمایا لوگوں پر رحم کیا انہوں نےعرض کیا آپ تو رکھتے ہیں آپ نے فرمایا میں تمھاری طرح تھوڑے ہوں مجھے تو میرا پروردگار کھلا پلا دیتا ہے عثمانؓ کی روایت میں یہ لفظ نہیں ہے لوگوں پر رحم کیا۔

49. The punishment for the persons who practices Al-Wisal very often.

This is narrated by Anas on the authority of the Prophet (s.a.w)


حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْوِصَالِ فِي الصَّوْمِ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ وَأَيُّكُمْ مِثْلِي إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِ ‏"‏‏.‏ فَلَمَّا أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا عَنِ الْوِصَالِ وَاصَلَ بِهِمْ يَوْمًا ثُمَّ يَوْمًا، ثُمَّ رَأَوُا الْهِلاَلَ، فَقَالَ ‏"‏ لَوْ تَأَخَّرَ لَزِدْتُكُمْ ‏"‏‏.‏ كَالتَّنْكِيلِ لَهُمْ، حِينَ أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا‏

Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle forbade Al-Wisal in fasting. So, one of the Muslims said to him, "But you practice Al-Wisal. O Allah's Apostle!" The Prophet replied, "Who amongst you is similar to me? I am given food and drink during my sleep by my Lord." So, when the people refused to stop Al-Wisal (fasting continuously), the Prophet fasted day and night continuously along with them for a day and then another day and then they saw the crescent moon (of the month of Shawwal). The Prophet said to them (angrily), "If It (the crescent) had not appeared, I would have made you fast for a longer period." That was as a punishment for them when they refused to stop (practising Al-Wisal).


ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا کہا ہم کو شعیب نے خبر دی انہوں نے زہری سے کہا مجھ سے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن نے کہ ابو ہریرہؓ نے کہا رسول اللہﷺ نے طے کے روزے رکھنے سے منع فرمایا ایک شخص نے مسلمانوں میں سے آپ سے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺآپ تو طے کے روزے رکھتے ہیں آپ نے فرمایا تم میں میری طرح کوئی اور بھی ہے مجھے تو میرا مالک کھلا پلا دیتا ہے جب وہ طے کے روزے رکھنے سے باز نہ آئے تو آپ نے ایک دن ان کے ساتھ کچھ نہ کھایا دوسرے دن بھی کچھ نہ کھایا پھر عید کا چاند ہو گیا آپ نے فرمایا اگر چاند نہ ہوتا تو میں اور (کئی دن) نہ کھاتا گویا ان کو سزا دینے کے لیے یہ کہا جب وہ طے کے روزوں سے باز نہ آئے۔





حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ ‏"‏‏.‏ مَرَّتَيْنِ قِيلَ إِنَّكَ تُوَاصِلُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِ، فَاكْلَفُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ ‏"‏‏

Narrated By Abu Huraira : The Prophet said twice, "(O you people) Be cautious! Do not practice Al-Wisal." The people said to him, "But you practice Al-Wisal?" The Prophet replied, "My Lord gives me food and drink during my sleep. Do that much of deeds which is within your ability."

ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا کہا ہم سے عبدالرزاق نے انہوں نے معمر سے انہوں نے ہمام سے انہوں نے ابوہریرہؓ سے سنا انہوں نے نبیﷺ سےآپؐ نے دو بار فرمایا تم طے کے روزوں سے بچے رہو لوگوں نےکہا آپ تو رکھتے ہیں آپ نے فرمایامجھ کو تو میرا مالک رات کو کھلا پلا دیتا ہے تم اتنی ہی تکلیف اٹھاؤ جتنی تم کو طاقت ہے۔

50. To observe Saum continuously day and night (Al-Wisal) till the time of Sahar.



حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ لاَ تُوَاصِلُوا، فَأَيُّكُمْ أَرَادَ أَنْ يُوَاصِلَ فَلْيُوَاصِلْ حَتَّى السَّحَرِ ‏"‏‏.‏ قَالُوا فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ، يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ، إِنِّي أَبِيتُ لِي مُطْعِمٌ يُطْعِمُنِي وَسَاقٍ يَسْقِينِ ‏"‏‏

Narrated By Abu Said Al-Khudri : Allah's Apostle said, "Do not fast continuously day and night (practise Al-Wisal) and if anyone of you intends to fast continuously day and night, he should continue till the Suhur time." They said, "But you practise Al-Wisal, O Allah's Apostle!" The Prophet said, "I am not similar to you;. during my sleep I have One Who makes me eat and drink."

ہم سے ابراہیم بن حمزہ نے بیان کیا کہا مجھ سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے انہوں نے یزید بن ہاد سے انہوں نے عبداللہ بن خباب سے انہوں نے ابوسعید خدریؓ سے انہوں نے رسول اللہﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے طے کے روزے مت رکھو اگر کوئی تم میں سے طے کا روزہ رکھنا چاہے تو خیر سحری تک نہ کھائے لوگوں نے عرض کیا آپ تو رکھتے ہیں یا رسول اللہﷺ آپ نے فرمایا میں تمھاری طرح نہیں ہوں مجھے تو رات کو ایک کھلانے والا کھلا دیتا ہے اور پلانے والا پلا دیتاہے۔

51. If somebody forces his Muslim brother to break his (Nafal) fast, by giving him an oath, the person observing Saum has not to observe Saum in lieu of it if the giving up of the Saum was better for him.



حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعُمَيْسِ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ آخَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ سَلْمَانَ، وَأَبِي الدَّرْدَاءِ، فَزَارَ سَلْمَانُ أَبَا الدَّرْدَاءِ، فَرَأَى أُمَّ الدَّرْدَاءِ مُتَبَذِّلَةً‏.‏ فَقَالَ لَهَا مَا شَأْنُكِ قَالَتْ أَخُوكَ أَبُو الدَّرْدَاءِ لَيْسَ لَهُ حَاجَةٌ فِي الدُّنْيَا‏.‏ فَجَاءَ أَبُو الدَّرْدَاءِ، فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا‏.‏ فَقَالَ كُلْ‏.‏ قَالَ فَإِنِّي صَائِمٌ‏.‏ قَالَ مَا أَنَا بِآكِلٍ حَتَّى تَأْكُلَ‏.‏ قَالَ فَأَكَلَ‏.‏ فَلَمَّا كَانَ اللَّيْلُ ذَهَبَ أَبُو الدَّرْدَاءِ يَقُومُ‏.‏ قَالَ نَمْ‏.‏ فَنَامَ، ثُمَّ ذَهَبَ يَقُومُ‏.‏ فَقَالَ نَمْ‏.‏ فَلَمَّا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ قَالَ سَلْمَانُ قُمِ الآنَ‏.‏ فَصَلَّيَا، فَقَالَ لَهُ سَلْمَانُ إِنَّ لِرَبِّكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَلِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَلأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، فَأَعْطِ كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ‏.‏ فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ صَدَقَ سَلْمَانُ ‏"‏‏

Narrated By Abu Juhaifa : The Prophet made a bond of brotherhood between Salman and Abu Ad-Darda.' Salman paid a visit to Abu Ad-Darda' and found Um Ad-Darda' dressed in shabby clothes and asked her why she was in that state. She replied, "Your brother Abu Ad-Darda' is not interested in (the luxuries of) this world." In the meantime Abu Ad-Darda' came and prepared a meal for Salman. Salman requested Abu Ad-Darda' to eat (with him), but Abu Ad-Darda' said, "I am fasting." Salman said, "I am not going to eat unless you eat." So, Abu Ad-Darda' ate(with Salman). When it was night and (a part of the night passed), Abu Ad-Darda' got up (to offer the night prayer), but Salman told him to sleep and Abu Ad-Darda' slept. After sometime Abu Ad-Darda' again got up but Salman told him to sleep. When it was the last hours of the night, Salman told him to get up then, and both of them offered the prayer. Salman told Abu Ad-Darda', "Your Lord has a right on you, your soul has a right on you, and your family has a right on you; so you should give the rights of all those who has a right on you." Abu Ad-Darda' came to the Prophet and narrated the whole story. The Prophet said, "Salman has spoken the truth."


ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا کہا ہم سے جعفر بن عون نے کہا ہم سے ابوالعمیس عتبہ بن عبداللہ نے انہوں نے عون بن ابی جحیفہ سے انہوں نے اپنے باپ وہب بن عبداللہ سوائی سے انہوں نے کہا نبیﷺ نے سلمان اور ابوالدرداء کو بھائی بھائی بنا دیا تھا سلمان ابوالدرداء سے ملنے گئے دیکھا تو ام درداء (انکی جورو) میلی کچیلی ہیں انہوں نےحال پوچھا توکہا تمھارا بھائی ابوالدرداء تارک الدنیا ہو گیا ہے ۔ اتنے میں ابوالدرداء بھی آ گئے اور سلمان کے لیے کھانا تیار کیا اور کہنے لگے تم کھاؤ میں روزے سے ہوں سلمان نے کہا جب تک تم نہ کھاؤگے میں کھانے کا نہیں خیر ابوالدردأ نے کھا لیا جب رات ہوئی تو ابوالدردأ عبادت کے لیے اٹھے سلمان نے کہا سو رہو وہ سو گئے پھر اٹھنے لگے تو کہا سو رہو جب آخر رات ہوئی تو سلمان نے کہا اب اٹھو پھر دونوں نے نماز پڑھی بعد اس کے سلمان نے انکو سمجھایا بھائی دیکھو اللہ کا بھی تم پر حق ہے اور تمھاری جان کا بھی اور تمھاری جورو کا بھی پس ہر ایک کا حق ادا کرو یہ سن کر ابوالدرداء نبیﷺ کے پاس آئے اور آپ سے بیان کیا آپ نے فرمایا سلمان سچ کہتا ہے۔

52. Saum in the month of Shaban.



حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لاَ يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لاَ يَصُومُ‏.‏ فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْتَكْمَلَ صِيَامَ شَهْرٍ إِلاَّ رَمَضَانَ، وَمَا رَأَيْتُهُ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ‏

Narrated By 'Aisha : Allah's Apostle used to fast till one would say that he would never stop fasting, and he would abandon fasting till one would say that he would never fast. I never saw Allah's Apostle fasting for a whole month except the month of Ramadan, and did not see him fasting in any month more than in the month of Sha'ban.


ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی انہوں نے ابو النضر سے انہوں نے ابوسلمہ سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نفل روزے اتنے رکھتے تھے کہ ہم کہتے اب افطار نہ کریں گے اور افطار اتنا کرتے کہ ہم کہتے اب روزے نہ رکھیں گے اور میں نے نہیں دیکھا کہ رسول اللہﷺ نے رمضان کے علاوہ کسی اور مہینے کے پورے روزے رکھےہوں اور میں نے آپ کو شعبان سے زیادہ کسی مہینے میں روزے رکھتے نہیں دیکھا۔





حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ حَدَّثَتْهُ قَالَتْ، لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَصُومُ شَهْرًا أَكْثَرَ مِنْ شَعْبَانَ، فَإِنَّهُ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ، وَكَانَ يَقُولُ ‏"‏ خُذُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ، فَإِنَّ اللَّهَ لاَ يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا، وَأَحَبُّ الصَّلاَةِ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَا دُووِمَ عَلَيْهِ، وَإِنْ قَلَّتْ ‏"‏ وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلاَةً دَاوَمَ عَلَيْهَا‏

Narrated By 'Aisha : The Prophet never fasted in any month more than in the month of Sha'ban. He used to say, "Do those deeds which you can do easily, as Allah will not get tired (of giving rewards) till you get bored and tired (of performing religious deeds)." The most beloved prayer to the Prophet was the one that was done regularly (throughout the life) even if it were little. And whenever the Prophet offered a prayer he used to offer it regularly.

ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا کہا ہم سے ہشام نے انہوں نے یحییٰ سے انہوں نے ابوسلمہ سے ان سے حضرت عائشہؓ نے بیان کیا انہوں نے کہا نبیﷺ شعبان سے زیادہ کسی مہینے میں روزے نہ رکھتے آپ پورے شعبان روزے رکھتے اور فرماتے اتناہی(نیک)عمل کرو جتنے کی تم میں طاقت ہے کیونکہ اللہ تو ثواب دینے سے تھکے گا نہیں تم ہی تھک جاؤگے اور نبیﷺ کو وہ نماز بہت پسند تھی جو ہمیشہ پڑھی جائے اگرچہ تھوڑی ہو اور آپ جب کوئی(نفل)نماز پڑھنا شروع کرتے تو ہمیشہ اس کو پڑھتے۔

53. What is said about the fasting and the non fasting (periods) of the Prophet (s.a.w)



حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ مَا صَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم شَهْرًا كَامِلاً قَطُّ غَيْرَ رَمَضَانَ، وَيَصُومُ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ لاَ وَاللَّهِ لاَ يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ لاَ وَاللَّهِ لاَ يَصُومُ‏

Narrated By Ibn 'Abbas : The Prophet never fasted a full month except the month of Ramadan, and he used to fast till one could say, "By Allah, he will never stop fasting," and he would abandon fasting till one would say, "By Allah, he will never fast."

ہم سے موسیٰ بن اسمٰعیل نے بیان کیا کہا ہم سے ابو عوانہ نے انہوں نے ابوبشر سے انہوں نے سعید بن جبیر سے انہوں نے ابنِ عباسؓ سے انہوں نے کہا نبیﷺ نے رمضان کے سوا اور کسی مہینے کے پورے روزے نہیں رکھے اور آپ جب (نفل) روزے رکھنے شروع کرتے تو اتنے رکھتے کہ کوئی کہتا کہ قسم خدا کی افطار نہ کریں گے اور جب افطار کرتے تو کوئی کہتا خدا کی قسم اب روزے نہیں رکھیں گے۔





حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُفْطِرُ مِنَ الشَّهْرِ، حَتَّى نَظُنَّ أَنْ لاَ يَصُومَ مِنْهُ، وَيَصُومُ حَتَّى نَظُنَّ أَنْ لاَ يُفْطِرَ مِنْهُ شَيْئًا، وَكَانَ لاَ تَشَاءُ تَرَاهُ مِنَ اللَّيْلِ مُصَلِّيًا إِلاَّ رَأَيْتَهُ، وَلاَ نَائِمًا إِلاَّ رَأَيْتَهُ‏.‏ وَقَالَ سُلَيْمَانُ عَنْ حُمَيْدٍ أَنَّهُ سَأَلَ أَنَسًا فِي الصَّوْمِ‏

Narrated By Anas : Allah's Apostle used to leave fasting in a certain month till we thought that he would not fast in that month, and he used to fast in another month till we thought he would not stop fasting at all in that month. And if one wanted to see him praying at night, one could see him (in that condition), and if one wanted to see him sleeping at night, one could see him (in that condition) too.

مجھ سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا کہا مجھ سے محمد ابنِ جعفر نے انہوں نے حمید طویل سے انہوں نے انسؓ سے سنا وہ کہتے تھے رسول اللہﷺ مہینے میں اتنے دنوں تک افطار کرتے کہ ہم سمجھتے اب روزہ نہیں رکھنے کے اور روزے رکھتے تو اتنے دنوں تک کہ ہم سمجھتے اب افطار نہیں کریں گے اور رات کو اگر کسی کو منظور ہوتا کہ آپ کو نماز پڑھتا دیکھے تو اسی طرح دیکھ لیتا اگر یہ منظور ہوتا کہ آپ کو سوتا ہوا دیکھے تو اسی طرح دیکھ لیتااور سلیمان نے حمید سے یوں روایت کی انہوں نے انسؓ سے روزے کے باب میں پوچھا۔





حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، قَالَ سَأَلْتُ أَنَسًا رضى الله عنه عَنْ صِيَامِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ مَا كُنْتُ أُحِبُّ أَنْ أَرَاهُ مِنَ الشَّهْرِ صَائِمًا إِلاَّ رَأَيْتُهُ وَلاَ مُفْطِرًا إِلاَّ رَأَيْتُهُ، وَلاَ مِنَ اللَّيْلِ قَائِمًا إِلاَّ رَأَيْتُهُ، وَلاَ نَائِمًا إِلاَّ رَأَيْتُهُ، وَلاَ مَسِسْتُ خَزَّةً وَلاَ حَرِيرَةً أَلْيَنَ مِنْ كَفِّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، وَلاَ شَمِمْتُ مِسْكَةً وَلاَ عَبِيرَةً أَطْيَبَ رَائِحَةً مِنْ رَائِحَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏

Narrated By Humaid : I asked Anas about the fasting of the Prophet. He said "Whenever I liked to see the Prophet fasting in any month, I could see that, and whenever I liked to see him not fasting, I could see that too, and if I liked to see him praying in any night, I could see that, and if I liked to see him sleeping, I could see that, too." Anas further said, "I never touched silk or velvet softer than the hand of Allah's Apostle and never smelled musk or perfumed smoke more pleasant than the smell of Allah's Apostle."

مجھ سے محمد بن سلام نے بیان کیا کہا ہم کو ابو خالد نے خبر دی کہا ہم کو حمید نے کہا میں نے انسؓ سے پوچھا نبیﷺ (نفل) روزے کیسے رکھتے تھے انہوں نے کہا جب میں چاہتا آپ کو روزہ دار دیکھوں تو روزہ دار دیکھ لیتا اور جب چاہتا افطار کی حالت میں دیکھوں تو ویسا ہی دیکھ لیتا اسی طرح رات کو جب چاہتا آپ کو نماز میں ہوا دیکھتا اور جب چاہتا آپ کو سوتا ہوا دیکھ لیتا اور میں نے سمور اور ریشم کو بھی رسول اللہؐ کی ہتھیلی سے زیادہ نرم نہیں پایا اور مشک اور عنبر کی خوشبو بھی آپ کی خوشبو سے اچھی نہیں سونگھی۔

54. The right of the guest in Saum.



حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رضى الله عنهما قَالَ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ الْحَدِيثَ يَعْنِي ‏"‏ إِنَّ لِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ‏"‏‏.‏ فَقُلْتُ وَمَا صَوْمُ دَاوُدَ قَالَ ‏"‏ نِصْفُ الدَّهْرِ ‏"‏‏

Narrated By 'Abdullah bin 'Amr bin Al-'As : "Once Allah's Apostle came to me," and then he narrated the whole narration, i.e. your guest has a right on you, and your wife has a right on you. I then asked about the fasting of David. The Prophet replied, "Half of the year," (i.e. he used to fast on every alternate day).


ہم سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا کہا ہم کو ہارون بن اسمٰعیل نے خبر دی کہا ہم سے علی بن مبارک نے بیان کیا کہا ہم سے یحییٰ بن ابی کثیر نے کہا مجھ سے ابو سلمہ نے کہا مجھ سے عبداللہ بن عمرو بن عاص نے کہا رسول اللہﷺ میرے پاس تشریف لائے پھر بیان کیا پوری حدیث کو اس میں یوں ہے کہ آپ نے فرمایا تیرے مہمان کا تجھ پر حق ہے اور تیری بی بی کا تجھ پر حق ہے پھر میں نے پوچھا کہ داؤدؑ کیونکر روزہ رکھتے تھے آپ نے فرمایا ایک دن روزہ ایک دن افطار ۔

55. The right of the body in observing As-Saum.



حَدَّثَنَا ابْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رضى الله عنهما قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَا عَبْدَ اللَّهِ أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ النَّهَارَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ ‏"‏‏.‏ فَقُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَلاَ تَفْعَلْ، صُمْ وَأَفْطِرْ، وَقُمْ وَنَمْ، فَإِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِعَيْنِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ بِحَسْبِكَ أَنْ تَصُومَ كُلَّ شَهْرٍ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ، فَإِنَّ لَكَ بِكُلِّ حَسَنَةٍ عَشْرَ أَمْثَالِهَا، فَإِنَّ ذَلِكَ صِيَامُ الدَّهْرِ كُلِّهِ ‏"‏‏.‏ فَشَدَّدْتُ، فَشُدِّدَ عَلَىَّ، قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَصُمْ صِيَامَ نَبِيِّ اللَّهِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ وَلاَ تَزِدْ عَلَيْهِ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ وَمَا كَانَ صِيَامُ نَبِيِّ اللَّهِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ قَالَ ‏"‏ نِصْفَ الدَّهْرِ ‏"‏‏.‏ فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقُولُ بَعْدَ مَا كَبِرَ يَا لَيْتَنِي قَبِلْتُ رُخْصَةَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏

Narrated By 'Abdullah bin 'Amr bin Al-'As : Allah's Apostle said to me, "O 'Abdullah! Have I not been informed that you fast during the day and offer prayers all the night." 'Abdullah replied, "Yes, O Allah's Apostle!" The Prophet said, "Don't do that; fast for few days and then give it up for few days, offer prayers and also sleep at night, as your body has a right on you, and your wife has a right on you, and your guest has a right on you. And it is sufficient for you to fast three days in a month, as the reward of a good deed is multiplied ten times, so it will be like fasting throughout the year." I insisted (on fasting) and so I was given a hard instruction. I said, "O Allah's Apostle! I have power." The Prophet said, "Fast like the fasting of the Prophet David and do not fast more than that." I said, "How was the fasting of the Prophet of Allah, David?" He said, "Half of the year," (i.e. he used to fast on every alternate day).

Afterwards when 'Abdullah became old, he used to say, "It would have been better for me if I had accepted the permission of the Prophet (which he gave me i.e. to fast only three days a month)."

ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے کہا ہم کو اوزاعی نے خبر دی کہا مجھ سے یحییٰ بن ابی کثیر نےبیان کیا کہا مجھ سے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن نے کہا مجھ سے عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ نے کہ رسول اللہﷺ نے ان سے فرمایا عبداللہ مجھ کو یہ خبر پہنچی ہے کہ تو دن کو روزہ رکھتا ہے اور رات کو نماز میں کھڑا رہتا ہے انہوں نے کہا بے شک سچ ہے یا رسول اللہﷺ آپ نے فرمایا تو ایسا مت کر روزہ رکھ اور افطار بھی کر عبادت کر سو بھی کیونکہ تیرے بدن کا تجھ پر حق ہے اور تیری آنکھوں کا بھی تجھ پر حق ہے تیری بی بی کا بھی تجھ پر حق ہے تیرے مہمان کا بھی تجھ پر حق ہے اور تجھے ہر مہینے میں تین روزے بس کرتے ہیں کیونکہ ہر نیکی کا بدلہ دس گنا ملے گا(تین کے تیس ہوئے)تو گویا ساری عمر روزے رکھے عبداللہ نے کہا پھر میں نے اپنے اوپر سختی چاہی تو سختی کی گئی۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ میں اپنے میں زیادہ طاقت پاتا ہوں آپ نے فرمایا تو داؤد پیغمبرؑ کا روزہ رکھ اس سے مت بڑھامیں نے پوچھا داؤدپیغمبر کیونکر روزہ رکھتے تھے آپ نے فرمایا ایک دن روزہ ایک دن افطار ۔ عبداللہ بن عمرؓ جب بوڑھے ہو گئے اس وقت کہتے تھے کاش میں نبیﷺکی رخصت قبول کرلیتا(ہر مہینے میں تین روزے سہل تھے)۔

56. Observing Saum daily throughout the life.



حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، قَالَ أُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنِّي أَقُولُ وَاللَّهِ لأَصُومَنَّ النَّهَارَ، وَلأَقُومَنَّ اللَّيْلَ، مَا عِشْتُ‏.‏ فَقُلْتُ لَهُ قَدْ قُلْتُهُ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّكَ لاَ تَسْتَطِيعُ ذَلِكَ، فَصُمْ وَأَفْطِرْ، وَقُمْ وَنَمْ، وَصُمْ مِنَ الشَّهْرِ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ، فَإِنَّ الْحَسَنَةَ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، وَذَلِكَ مِثْلُ صِيَامِ الدَّهْرِ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَصُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمَيْنِ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَصُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا، فَذَلِكَ صِيَامُ دَاوُدَ ـ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ـ وَهْوَ أَفْضَلُ الصِّيَامِ ‏"‏‏.‏ فَقُلْتُ إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ ‏"‏‏

Narrated By 'Abdullah bin 'Amr : Allah's Apostle was informed that I had taken an oath to fast daily and to pray (every night) all the night throughout my life (so Allah's Apostle came to me and asked whether it was correct): I replied, "Let my parents be sacrificed for you! I said so." The Prophet said, "You can not do that. So, fast for few days and give it up for few days, r ray and sleep. Fast three days a month as the reward of good deeds is multiplied ten times and that will be equal to one year of fasting." I replied, "I can do better than that." The Prophet said to me, "Fast one day and give up fasting for a day and that is the fasting of Prophet David and that is the best fasting." I said, "I have the power to fast better (more) than that." The Prophet said, "There is no better fasting than that."

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا کہا ہم کو شعیب نے خبر دی انہوں نے زہری سے کہا مجھ کو سعید بن مسیب اور ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی کہ عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ نے کہا رسول اللہﷺکو میرے یہ کہنے کی خبر پہنچ گئی قسم خدا کی کہ میں تو دن کو روزہ رکھوں گا اور رات کو عبادت میں کھڑا رہوں گا جب تک جیوں (آپ نے پوچھا) تو میں نے عرض کیا بیشک میں نے ایسا کہا میرے ماں باپ آپ پر صدقے آپ نے فرمایا یہ تو تجھ سے نہ ہو سکے گا تو ایسا کر روزہ رکھ اور افطار بھی کر اور ہر مہینے میں تین روزے رکھا کر اس لئے کہ ہر نیکی کا دس گنا ثواب ملتا ہے تو گویا ساری عمر روزے رکھے۔ میں نے عرض کیامجھ کوتو اس سے زیادہ طاقت ہے آپ نے فرمایا تو ایک دن روزہ رکھ اور دو دن افطار کر میں نے عرض کیا مجھ کو اس سے زیادہ بھی قوت ہے آپ نے فر مایا اچھا ایک دن روزہ رکھ ایک دن افطار کر یہ داؤد پیغمبرؑکا روزہ ہے اور سب روزوں سے افضل ہے میں نے عرض کیا مجھ کو تو اس سے بھی زیادہ بوتہ ہے آپ نے فرمایا اس سے افضل کوئی روزہ نہیں۔

57. The right of the family (wife) in observing As-Saum.

This is narrated by Abu Juhaifa from the Prophet (s.a.w)


حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، سَمِعْتُ عَطَاءً، أَنَّ أَبَا الْعَبَّاسِ الشَّاعِرَ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ـ رضى الله عنهما ـ بَلَغَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَنِّي أَسْرُدُ الصَّوْمَ وَأُصَلِّي اللَّيْلَ، فَإِمَّا أَرْسَلَ إِلَىَّ، وَإِمَّا لَقِيتُهُ، فَقَالَ ‏"‏ أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ وَلاَ تُفْطِرُ، وَتُصَلِّي وَلاَ تَنَامُ، فَصُمْ وَأَفْطِرْ، وَقُمْ وَنَمْ، فَإِنَّ لِعَيْنِكَ عَلَيْكَ حَظًّا، وَإِنَّ لِنَفْسِكَ وَأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَظًّا ‏"‏‏.‏ قَالَ إِنِّي لأَقْوَى لِذَلِكَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَصُمْ صِيَامَ دَاوُدَ ـ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ـ ‏"‏‏.‏ قَالَ وَكَيْفَ قَالَ ‏"‏ كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا، وَلاَ يَفِرُّ إِذَا لاَقَى ‏"‏‏.‏ قَالَ مَنْ لِي بِهَذِهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ عَطَاءٌ لاَ أَدْرِي كَيْفَ ذَكَرَ صِيَامَ الأَبَدِ، قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ صَامَ مَنْ صَامَ الأَبَدَ ‏"‏‏.‏ مَرَّتَيْنِ‏

Narrated By 'Abdullah bin 'Amr : The news of my daily fasting and praying every night throughout the night reached the Prophet. So he sent for me or I met him, and he said, "I have been informed that you fast everyday and pray every night (all the night). Fast (for some days) and give up fasting (for some days); pray and sleep, for your eyes have a right on you, and your body and your family (i.e. wife) have a right on you." I replied, "I have more power than that (fasting)." The Prophet said, "Then fast like the fasts of (the Prophet) David". I said, "How?" He replied, "He used to fast on alternate days, and he used not to flee on meeting the enemy." I said, "From where can I get that chance?" ('Ata' said, "I do not know how the expression of fasting daily throughout the life occurred.") So, the Prophet said, twice, "Whoever fasts daily throughout his life is just as the one who does not fast at all."

ہم سے عمرو بن علی فلاس نے بیان کیا کہا ہم کو ابو عاصم نے خبر دی انہوں نے ابنِ جریج سے کہا میں نے عطاء بن ابی رباح سے سنا ان سے ابو العباس شاعر نے بیان کیا انہوں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص سے سنا کہ نبیﷺ کو یہ خبر پہنچ گئی کہ میں لگا تار روزے رکھتا ہوں اور رات بھر نماز پڑھا کرتا ہوں تو آپ نے مجھے بلا بھیجا یا میں خود آپ سے ملا آپ نے فرمایا کہ مجھ کو یہ خبر پہنچی ہے کہ تو روزے رکھتا ہےافطار نہیں کرتا اور نماز پڑھے جاتا ہے ایسا کر روزہ بھی رکھ افطار بھی کر عبادت بھی کر آرام بھی کر کیونکہ تیری آنکھوں کا تجھ پر حق ہے تیری جان اور تیری بی بی بال بچوں کا تجھ پر حق ہے میں نے عرض کیا مجھے اس سے زیادہ طاقت ہے آپ نے فرمایا خیر تو داؤدؑ کا روزہ رکھ میں نے پوچھا کیونکر آپ نے فرمایا وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے اور دشمن کے مقابلے میں نہ بھاگتے میں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ اس بات کی میری طرف سےکون ذمہ داری کرسکتا ہے عطاء نے کہا میں نہیں جانتا ہمیشہ روزہ رکھنے کی نسبت نبیﷺ نے کیا فرمایااتنا جانتا ہوں کہ آپ نے دو بار یہ فرمایا جس نے ہمیشہ روزے رکھے اس نے روزہ نہیں رکھا۔

58. Saum on alternate days



حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُغِيرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رضى الله عنهما عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ صُمْ مِنَ الشَّهْرِ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ ‏"‏‏.‏ قَالَ أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ‏.‏ فَمَا زَالَ حَتَّى قَالَ ‏"‏ صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا ‏"‏ فَقَالَ ‏"‏ اقْرَإِ الْقُرْآنَ فِي شَهْرٍ ‏"‏‏.‏ قَالَ إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ‏.‏ فَمَا زَالَ حَتَّى قَالَ فِي ثَلاَثٍ‏

Narrated By Mujahid from 'Abdullah bin 'Amr : The Prophet said (to 'Abdullah), "Fast three days a month." 'Abdullah said, (to the Prophet) "I am able to fast more than that." They kept on arguing on this matter till the Prophet said, "Fast on alternate days, and recite the whole Qur'an once a month." 'Abdullah said, "I can recite more (in a month)," and the argument went on till the Prophet said, "Recite the Qur'an once each three days." (i.e. you must not recite the whole Qur'an in less than three days).

ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا کہا ہم سے عنذر نے کہا ہم سے شعبہ نے انہوں نے مغیرہ بن مقسم سے کہا میں نے مجاہد سے سنا انہوں نے عبداللہ بن عمرو سے انہوں نے نبیﷺ سے آپ نے فرمایا ہر مہینے میں تین روزے رکھا کرعبداللہ نے کہا مجھ میں اس سے زیادہ طاقت ہےپھر یہی سوال جواب ہوتا رہا آخر آپ نے فرمایا ایک دن روزہ رکھ ایک دن افطار کر اور فرمایا ہر مہینے میں ایک ختمِ قرآن کر میں نے عرض کیا مجھ میں اس سے زیادہ طاقت ہے پھر یوں ہی گفتگو رہی یہاں تک کہ آپ نے فرمایا تین روز میں سہی۔

59. The Saum of Dawud (e.s)



حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ الْمَكِّيَّ ـ وَكَانَ شَاعِرًا وَكَانَ لاَ يُتَّهَمُ فِي حَدِيثِهِ ـ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ لِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّكَ لَتَصُومُ الدَّهْرَ، وَتَقُومُ اللَّيْلَ ‏"‏‏.‏ فَقُلْتُ نَعَمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ هَجَمَتْ لَهُ الْعَيْنُ وَنَفِهَتْ لَهُ النَّفْسُ، لاَ صَامَ مَنْ صَامَ الدَّهْرَ، صَوْمُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ صَوْمُ الدَّهْرِ كُلِّهِ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ فَإِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَصُمْ صَوْمَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا، وَلاَ يَفِرُّ إِذَا لاَقَى ‏"‏‏

Narrated By 'Abdullah bin 'Amr bin Al-'As : The Prophet said to me, "You fast daily all the year and pray every night all the night?" I replied in the affirmative. The Prophet said, "If you keep on doing this, your eyes will become weak and your body will get tired. He who fasts all the year is as he who did not fast at all. The fasting of three days (a month) will be equal to the tasting of the whole year." I replied, "I have the power for more than this." The Prophet said, "Then fast like the fasting of David who used to fast on alternate days and would never flee from the battle field, on meeting the enemy.

ہم سے آدم نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے کہا ہم سے حبیب بن ابی ثابت نے کہا میں نے ابو العباس شاعر سے سنا ان پر حدیث کی روایت میں تہمت نہ تھی(یعنی معتبر تھے) وہ کہتے تھے کہ میں نے عبدللہ بن عمرو بن عاص سے سنا وہ کہتے تھے نبیﷺ نے مجھ سے فرمایاتو برابر ہر روز روزہ رکھتا ہے اور رات بھر نماز میں کھڑا رہتا ہے میں نے کہا جی آپ نے فرمایا ایسا کریگا تو تیری آنکھوں میں گھڑا پڑ جائے گا جان ناتواں ہو جائے گا جس نے ہمیشہ روزہ رکھا اس نے روزہ ہی نہیں رکھا ہر مہینے میں تین روزے رکھنا ہمیشہ روزے رکھنے کے برابر ہے میں نے عرض کیا مجھ کو تو اس سے زیادہ بل بوتا ہے آپ نے فرمایا تو داؤدؑ کا روزہ رکھ وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار اور جب دشمن سےمڈ بھیڑہو تی تو بھاگتے نہیں۔





حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الْمَلِيحِ، قَالَ دَخَلْتُ مَعَ أَبِيكَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَحَدَّثَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذُكِرَ لَهُ صَوْمِي فَدَخَلَ عَلَىَّ، فَأَلْقَيْتُ لَهُ وِسَادَةً مِنْ أَدَمٍ، حَشْوُهَا لِيفٌ، فَجَلَسَ عَلَى الأَرْضِ، وَصَارَتِ الْوِسَادَةُ بَيْنِي وَبَيْنَهُ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَمَا يَكْفِيكَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلاَثَةُ أَيَّامٍ ‏"‏‏.‏ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ خَمْسًا ‏"‏‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ سَبْعًا ‏"‏‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ تِسْعًا ‏"‏‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِحْدَى عَشْرَةَ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ صَوْمَ فَوْقَ صَوْمِ دَاوُدَ ـ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ـ شَطْرَ الدَّهْرِ، صُمْ يَوْمًا، وَأَفْطِرْ يَوْمًا ‏"‏‏

Narrated By 'Abdullah bin 'Amr : Allah's Apostle was informed about my fasts, and he came to me and I spread for him a leather cushion stuffed with palm fires, but he sat on the ground and the cushion remained between me and him, and then he said, "Isn't it sufficient for you to fast three days a month?" I replied, "O Allah's Apostle! (I can fast more)." He said, "Five?" I replied, "O Allah's Apostle! (I can fast more)." He said, "Seven?" I replied, "O Allah's Apostle! (I can fast more)." He said, "Nine (days per month)?" I replied, "O Allah's Apostle! (I can fast more)" He said, "Eleven (days per month)?" And then the Prophet said, "There is no fast superior to that of the Prophet David it was for half of the year. So, fast on alternate days."

ہم سے اسحاق بن شاہین واسطی نے بیان کیاکہا ہم سے خالد بن عبداللہ نے انہوں نے خالد حذاء سے انہوں نے ابو قلابہ سے انہوں نے کہا مجھ کو ابوالملیح نے خبر دی کہ میں تیرے باپ(زید) کے ساتھ عبداللہ بن عمرو بن عاص کے پاس گیا انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ سےمیرے روزوں کا ذکر ہوا تو آپ میرے پاس تشریف لائے میں نے آپ کے لئے چمڑے کی توشک بچھائی جس میں خرمے کی چھال بھری ہوئی تھی آپ زمین پر بیٹھ گئے اور توشک میرے اور آپ کے بیچ میں رہ گئی پھر آپ نے فرمایا کیا تجھے ہر مہینے میں تین روزے بس نہیں ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ(مجھ کو اس سے زیادہ طاقت ہے) آپ نے فرمایا اچھا پانچ میں نے پھر عرض کیاآپ نے فرمایا اچھا سات میں نے پھر عرض کیا آپ نے فرمایا اچھا نو میں نےپھر عرض کیا آپ نے فرمایا اچھا گیارہ پھر آپﷺ نے فرمایا داؤدؑ کے روزوں سے بڑھ کر کوئی روزہ نہیں ایک دن روزہ رکھ اور ایک دن افطار کر۔

60. To observe Saum the three days (preceding) the full moon night on 13th, 14, and the 15th of the Lunar months.



حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَوْصَانِي خَلِيلِي صلى الله عليه وسلم بِثَلاَثٍ صِيَامِ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَرَكْعَتَىِ الضُّحَى، وَأَنْ أُوتِرَ قَبْلَ أَنْ أَنَامَ‏

Narrated By Abu Huraira : My friend (the Prophet) advised me to observe three things:

1. To fast three days a month.
2. To pray two Rakat of Duha prayer. (fore-noon prayer)
3. To pray Witr before sleeping.

ہم سے ابو معمر نے بیان کیا کہا ہم سے عبدالوارث بن سہیل نے کہا ہم سے ابوالتیاح یزید بن حمید نے کہا مجھ سے ابو عثمان عبدالرحمٰن نہدی نے انہوں نے ابو ہریرہؓ انہوں نے کہا میرے جانی دوست آپﷺ نے مجھ کو ہر مہینے تین روزے رکھنے اور چاشت کی نماز دو رکعتیں اور سونے سے پہلے وتر پڑھنے کی وصیت کی۔

61. Whoever visited some people and did not break his (Nafal) Saum with them.



حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنِي خَالِدٌ هُوَ ابْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ رضى الله عنه دَخَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى أُمِّ سُلَيْمٍ، فَأَتَتْهُ بِتَمْرٍ وَسَمْنٍ، قَالَ ‏"‏ أَعِيدُوا سَمْنَكُمْ فِي سِقَائِهِ، وَتَمْرَكُمْ فِي وِعَائِهِ، فَإِنِّي صَائِمٌ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ قَامَ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ الْبَيْتِ، فَصَلَّى غَيْرَ الْمَكْتُوبَةِ، فَدَعَا لأُمِّ سُلَيْمٍ، وَأَهْلِ بَيْتِهَا، فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي خُوَيْصَةً، قَالَ ‏"‏ مَا هِيَ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ خَادِمُكَ أَنَسٌ‏.‏ فَمَا تَرَكَ خَيْرَ آخِرَةٍ وَلاَ دُنْيَا إِلاَّ دَعَا لِي بِهِ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ ارْزُقْهُ مَالاً وَوَلَدًا وَبَارِكْ لَهُ ‏"‏‏.‏ فَإِنِّي لَمِنْ أَكْثَرِ الأَنْصَارِ مَالاً‏.‏ وَحَدَّثَتْنِي ابْنَتِي أُمَيْنَةُ أَنَّهُ دُفِنَ لِصُلْبِي مَقْدَمَ حَجَّاجٍ الْبَصْرَةَ بِضْعٌ وَعِشْرُونَ وَمِائَةٌ‏ وَ قَالَ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ، سَمِعَ أَنَسًا رضى الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏

Narrated By Anas : The Prophet paid a visit to Um-Sulaim and she placed before him dates and ghee. The Prophet said, "Replace the ghee and dates in their respective containers for I am fasting." Then he stood somewhere in her house and offered an optional prayer and then he invoked good on Um-Sulaim and her family. Then Um-Sulaim said, "O Allah's Apostle! I have a special request (today)." He said, "What is it?" She replied, "(Please invoke for) your servant Anas." So Allah's Apostle did not leave anything good in the world or the Hereafter which he did not invoke (Allah to bestow) on me and said, "O Allah! Give him (i.e. Anas) property and children and bless him." Thus I am one of the richest among the Ansar and my daughter Umaina told me that when A-Hajjaj came to Basra, more than 120 of my offspring had been buried.

ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا کہا مجھ سے خالد بن حارث نے کہا ہم سے حمید نے انہوں نےانسؓ سے انہوں نے کہا نبیﷺ ام سلیم کے پاس گئے وہ آپ کے لیے کھجور اور گھی لائیں آپ نے فرمایا گھی کپی میں ڈال دو اور کھجور تھیلے میں ، میں روزے سے ہوں پھر آپ گھر کے ایک کونے میں جا کھڑے ہوئے اور نفل نماز پڑھی اور ام سلیم اور ان کے گھر والوں کے لئے دعا فرمائی ام سلیم نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ میں ایک خاص شخص کے لئے دعا چاہتی ہوں آپ نے فرمایا وہ کیا ام سلیم نے کہا آپ کے غلام انسؓ کے لئے یہ سن کر آپﷺ نے دنیااور آخرت کی بھلائی کی کوئی بات نہ چھوڑی ہر ایک کی دعا کی آپ نے فرمایا اللہ اس کو مال اور اولاد دے اور اس کو برکت عطا فرما انسؓ کہتے ہیں میں سب انصاری لوگوں سے مالدار ہوں اور مجھ سے میری بیٹی امینہ نے بیان کیاکہ حجاج جب بصرے میں آیااس وقت تک خاص میرے نطفے سے ایک سو بیس پر کچھ زیادہ بچے دفن ہو چکے تھے ۔

62. Fasting the last three days of the month.



حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ، عَنْ غَيْلاَنَ،‏.‏ وَحَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا غَيْلاَنُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ أَنَّهُ سَأَلَهُ ـ أَوْ سَأَلَ رَجُلاً وَعِمْرَانُ يَسْمَعُ ـ فَقَالَ ‏"‏ يَا أَبَا فُلاَنٍ أَمَا صُمْتَ سَرَرَ هَذَا الشَّهْرِ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَظُنُّهُ قَالَ يَعْنِي رَمَضَانَ‏.‏ قَالَ الرَّجُلُ لاَ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِذَا أَفْطَرْتَ فَصُمْ يَوْمَيْنِ ‏"‏‏.‏ لَمْ يَقُلِ الصَّلْتُ أَظُنُّهُ يَعْنِي رَمَضَانَ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَقَالَ ثَابِثٌ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عِمْرَانَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مِنْ سَرَرِ شَعْبَانَ ‏"

Narrated By Mutarrif from 'Imran Ibn Husain : That the Prophet asked him (Imran) or asked a man and Imran was listening, "O Abu so-and-so! Have you fasted the last days of this month?" (The narrator thought that he said, "the month of Ramadan"). The man replied, "No, O Allah's Apostle!" The Prophet said to him, "When you finish your fasting (of Ramadan) fast two days (in Shawwal)." Through another series of narrators 'Imran said, "The Prophet said, '(Have you fasted) the last days of Sha'ban?"


ہم سے صلت بن محمد نے بیان کیا کہا ہم سے مہدی بن میمون نے انہوں نے غیلان سے سنا دوسری سند اور ہم سے ابو النعمان نے بیان کیا کہا ہم سے مہدی بن میمون نے کہا ہم سے غیلان بن جریر نے انہوں نے مطرف بن عبداللہ سے انہوں نے عمران بن حصین(صحابیؓ) سے کہ نبیﷺ نےخود عمران سے یا اورکسی سے پوچھااور عمران سن رہے تھے ارے فلانے تو نے اس مہینےکے اخیر میں روزہ رکھا ابوالنعمان نے کہا میں سمجھتا ہوں رمضان کو فرمایااس نے عرض کیا نہیں یا رسول اللہﷺ آپ نے فرمایا جب تو رمضان میں افطار کرے تو دو روزے رکھ صلت راوی نے یہ نہیں کہا رمضان کو امام بخاری نے کہا ثابت نے مطرف سے انہوں نے عمرانؓ سے انہوں نے نبیﷺ سے یوں روایت کیا شعبان کے اخیر میں۔

63. Observing Saum on Friday. If somebody gets up in the morning of Friday and is observing the Saum he should break it (If he intends to observe Saum only that day)



حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ، قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا ـ رضى الله عنه ـ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ قَالَ نَعَمْ‏.‏ زَادَ غَيْرُ أَبِي عَاصِمٍ أَنْ يَنْفَرِدَ بِصَوْمه

Narrated By Muhammad bin 'Abbas : I asked Jabir "Did the Prophet forbid fasting on Fridays?" He replied, "Yes." (Other narrators added, "If he intends to fast only that day.")


ہم سے ابو عاصم نے بیان کیا انہوں نے ابنِ جریج سے انہوں نے عبدالحمید بن جبیر بن شیبہ سے انہوں نے محمد ابنِ عباد سے انہوں نے کہا میں نے جابرؓ سے پوچھا کہ نبیﷺ نے جمعہ کے روزے سے منع فرمایا ہے انہوں نے کہا ہاں اور راویوں نے ابو عاصم کے سوا یوں کہا یعنی اکیلاجمعہ کا روزہ رکھنے سے۔





حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ لاَ يَصُومَنَّ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، إِلاَّ يَوْمًا قَبْلَهُ أَوْ بَعْدَهُ ‏"‏‏

Narrated By Abu Huraira : I heard the Prophet saying, "None of you should fast on Friday unless he fasts a day before or after it."


ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا کہا مجھ سے میرے باپ نے کہا ہم سے اعمش نے کہا ہم سے ابو صالح نے انہوں نے ابوہریرہؓ سے انہوں نےکہا میں نےنبیﷺ سے سنا آپؐ فرماتے تھے تم میں کوئی شخص جمعہ کے دن روزہ نہ رکھے مگر جب کہ اس سے پہلے یا اس کے بعد ایک دن اور روزہ رکھے۔





حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، ح‏.‏ وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَهْىَ صَائِمَةٌ فَقَالَ ‏"‏ أَصُمْتِ أَمْسِ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ لاَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ تُرِيدِينَ أَنْ تَصُومِي غَدًا ‏"‏‏.‏ قَالَتْ لاَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَأَفْطَرت ‏"

Narrated By Abu Aiyub from Juwairiya bint Al-Harith : The Prophet visited her (Juwairiya) on a Friday and she was fasting. He asked her, "Did you fast yesterday?" She said, "No." He said, "Do you intend to fast tomorrow?" She said, "No." He said, "Then break your fast." Through another series of narrators, Abu Aiyub is reported to have said, "He ordered her and she broke her fast."

ہم سے مسدد نے بیان کیا کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے انہوں نے شعبہ سےدوسری سند اور ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا کہا ہم سے عنذر نے کہا ہم سے شعبہ نے انہوں نے قتادہ سے انہوں نے ابوایوب سے انہوں نے جویریہ بنتِ حارث سے کہ نبیﷺجمعہ کے دن ان کے پاس تشریف لے گئے وہ روزہ دار تھیں آپ نے فرمایا کیا تو نے کل(جمعرات کو) بھی روزہ رکھا تھاانہوں نے کہا نہیں آپ نے فرمایا اچھا کل ہفتے کو روزہ رکھنا چاہتی ہے انہوں نے کہا نہیں آپ نے فرمایا پھر تو روزہ کھول ڈال اور حماد بن جعد نے قتادہ سے سنا انہوں نےکہا مجھ سے ابو ایوب نے بیان کیا ان سے جویریہ نے کہ آپﷺ نے ان کو حکم دیا انہوں نے روزہ کھول ڈالا۔

64. Can one select some special days (for observing Saum)?



حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قُلْتُ لِعَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْتَصُّ مِنَ الأَيَّامِ شَيْئًا قَالَتْ لاَ، كَانَ عَمَلُهُ دِيمَةً، وَأَيُّكُمْ يُطِيقُ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُطِيقُ

Narrated By Alqama : I asked 'Aisha "Did Allah s Apostle, use to choose some special days (for fasting)?" She replied, "No, but he used to be regular (constant) (in his service of worshipping). Who amongst you can endure what Allah's Apostle used to endure?"


ہم سے مسدد نے بیان کیا کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے انہوں نے سفیان ثوری سےانہوں نے منصور سے انہوں نے ابراہیم سے انہوں نے علقمہ سے انہوں نے کہا میں نے حضرت عائشہؓ سے پوچھاکیا رسول اللہﷺ کوئی خاص دن روزہ رکھا کرتے تھے انہوں نے کہا نہیں آپ کا عمل مدامی ہوتا(یعنے ہمیشہ کرتے)اور تم میں کون ہے ایسا جو رسول اللہﷺ کے برابر طاقت رکھتا ہو۔

65. Observing Saum on the day of Arafah.



حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، قَالَ حَدَّثَنِي سَالِمٌ، قَالَ حَدَّثَنِي عُمَيْرٌ، مَوْلَى أُمِّ الْفَضْلِ أَنَّ أُمَّ، الْفَضْلِ حَدَّثَتْهُ ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَبَّاسِ عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ أَنَّ نَاسًا تَمَارَوْا عِنْدَهَا يَوْمَ عَرَفَةَ فِي صَوْمِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ بَعْضُهُمْ هُوَ صَائِمٌ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُهُمْ لَيْسَ بِصَائِمٍ‏.‏ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ بِقَدَحِ لَبَنٍ وَهْوَ وَاقِفٌ عَلَى بَعِيرِهِ فَشَرِبَهُ‏

Narrated By Um Al-Fadl bint Al-Harith : "While the people were with me on the day of 'Arafat they differed as to whether the Prophet was fasting or not; some said that he was fasting while others said that he was not fasting. So, I sent to him a bowl full of milk while he was riding over his camel and he drank it."

ہم سے مسدد نے بیان کیا کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے انہوں نے امام مالک سے انہوں نے کہا مجھ سے سالم نے بیان کیا کہا مجھ سے عمیر نے جو ام فضل کے غلام تھے۔ان سے ام فضل نے دوسری سند اور ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی انہوں نے ابوالنضر سے جو عمر بن عبداللہ کے غلام تھےانہوں نے عمیر سے جو ابنِ عباسؓ کے غلام تھے۔انہوں نے ام فضل بنتِ حارث سے کہ کچھ لوگ ان کے پاس یہ جھگڑا کرنے لگے کہ نبیﷺ نے عرفہ کا روزہ رکھا ہے یا نہیں بعضوں نے کہا آپ روزہ دار ہیں بعضوں نےکہا نہیں آپ روزے سے نہیں ہیں پھر ام فضل نے دودھ کا ایک پیالہ آپ کے پاس بھیجا آپ اونٹ پر سوار تھے آپ نے پی لیا۔





حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَوْ قُرِئَ عَلَيْهِ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ رضى الله عنها أَنَّ النَّاسَ، شَكُّوا فِي صِيَامِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ عَرَفَةَ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ بِحِلاَبٍ وَهْوَ وَاقِفٌ فِي الْمَوْقِفِ، فَشَرِبَ مِنْهُ، وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ‏

Narrated By Maimuna : The people doubted whether the Prophet was fasting on the day of 'Arafat or not, so I sent milk while he was standing at 'Arafat, he drank it and the people were looking at him.

ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا کہا ہم سے عبداللہ نے یاان کے سامنے پڑھا گیا میں نے سنا کہا مجھ سے عمرو بن حارث نے انہوں نے بکیر سے انہوں نے کریب سے انہوں نے ام المومنین میمونہؓ سے انہوں نے کہا لوگوں نے عرفہ کے دن اس میں شک کیا کہ نبیﷺ روزے سے ہیں یا نہیں پھر انہوں نے آپ کے پاس دودھ بھیجا آپ عرفات میں ٹھہرے ہوئے تھے آپ نے اس میں سے کچھ پی لیا اور لوگ دیکھ رہے تھے۔

66. Observing Saum on the first day of Eid-ul-Fitr.



حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ قَالَ شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضى الله عنه فَقَالَ هَذَانِ يَوْمَانِ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ صِيَامِهِمَا يَوْمُ فِطْرِكُمْ مِنْ صِيَامِكُمْ، وَالْيَوْمُ الآخَرُ تَأْكُلُونَ فِيهِ مِنْ نُسُكِكُمْ

Narrated By Abu 'Ubaid : (The slave of Ibn Azhar) I witnessed the 'Id with 'Umar bin Al-Kattab who said, Allah's Apostle has forbidden people to fast on the day on which you break fasting (the fasts of Ramadan) and the day on which you eat the meat of your sacrifices (the first day of 'Id ul Fitr and 'Id ul-Adha).

ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی انہوں نے ابنِ شہاب سے انہوں نےابو عبید سعید بن ازہر کے غلام سے انہوں نے کہا میں عید کے دن حضرت عمرؓ کے ساتھ موجود تھا انہوں نے کہا ان دو دنوں یعنی عیدالفطر اور عید الاضحیٰ میں رسول اللہﷺنے روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے ایک تو روزہ کھولنے کا دن ہے اور دوسرا اپنی قربانی کھانے کا۔





حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَالنَّحْرِ، وَعَنِ الصَّمَّاءِ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ‏

Narrated By Abu Sa'id : The Prophet forbade the fasting of 'Id-ul-Fitr and 'Id-ul-Adha (two feast days) and also the wearing of As-Samma' (a single garment covering the whole body), and sitting with one's leg drawn up while being wrapped in one garment.

ہم سے موسیٰ بن اسمعیل نے بیان کیا کہا ہم سے وہب نے کہا ہم سے عمرو بن یحییٰ نے انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے ابو سعید خدریؓ سے انہوں نے کہا نبیﷺنے عیدالفطر اور عید الاضحیٰ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا اور ایک کپڑا سارے بدن پر لپیٹ لینے سے اور ایک کپڑے میں گوٹھ مار کر بیٹھنے سے ۔





وَعَنْ صَلاَةٍ، بَعْدَ الصُّبْحِ وَالْعَصْرِ‏

He also forbade the prayers after the Fajr (morning) and the 'Asr (afternoon) prayers.

اور صبح اور عصر کے بعد نماز پڑھنے سے۔

67. Observing Saum on the day of Nahr (i.e., first day of Eid-ul-Adha).



حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَا، قَالَ سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضى الله عنه قَالَ يُنْهَى عَنْ صِيَامَيْنِ، وَبَيْعَتَيْنِ الْفِطْرِ، وَالنَّحْرِ،، وَالْمُلاَمَسَةِ، وَالْمُنَابَذَةِ‏.

Narrated By Abu Huraira : Two fasts and two kinds of sale are forbidden: fasting on the day of 'Id-ul-Fitr and 'Id-ul-Adha and the kinds of sale called Mulamasa and Munabadha. (These two kinds of sale used to be practiced in the days of Pre-Islamic period of ignorance; Mulamasa means when you touch something displayed for sale you have to buy it; Munabadha means when the seller throws something to you, you have to buy it.)


ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا کہا ہم کو ہشام نے خبر دی انہوں نے ابنِ جریج سے کہا مجھ کو عمرو بن دینار نے خبر دی انہوں نے عطأ بن مینا سے وہ ابوہریرہؓ سے یہ حدیث نقل کرتے تھے کہ دو روزے اور دو بیعیں منع ہیں عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے روزے اور بیع ملامسہ اور بیع منابذہ۔





حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ فَقَالَ رَجُلٌ نَذَرَ أَنْ يَصُومَ يَوْمًا، قَالَ أَظُنُّهُ قَالَ الاِثْنَيْنِ، فَوَافَقَ يَوْمَ عِيدٍ‏.‏ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ أَمَرَ اللَّهُ بِوَفَاءِ النَّذْرِ، وَنَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ صَوْمِ هَذَا الْيَوْمِ

Narrated By Ziyad bin Jubair : A man went to Ibn 'Umar I. and said, "A man vowed to fast one day (the sub-narrator thinks that he said that the day was Monday), and that day happened to be 'Id day." Ibn 'Umar said, "Allah orders vows to be fulfilled and the Prophet forbade the fasting on this day (i.e. Id)."

ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا کہا ہم سے معاذبن معاذ عنبری نے کہا ہم کو عبداللہ بن عون نے خبر دی انہوں نے زیاد بن جبیر سے انہوں نے کہا ایک شخص عبداللہ بن عمرؓ کے پاس آیا اور پوچھا اگر کسی نے پیر کے دن روزہ رکھنے کی منت مانی اتفاق سے اس دن عیدآگئی(تو کیا کرے) عبداللہ نے کہا اللہ نے تو منت پوری کرنے کا حکم دیا ہے اور نبیﷺ نے عید کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔





حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ قَزَعَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ـ رضى الله عنه ـ وَكَانَ غَزَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثِنْتَىْ عَشْرَةَ غَزْوَةً قَالَ سَمِعْتُ أَرْبَعًا مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَعْجَبْنَنِي قَالَ ‏"‏ لاَ تُسَافِرِ الْمَرْأَةُ مَسِيرَةَ يَوْمَيْنِ إِلاَّ وَمَعَهَا زَوْجُهَا أَوْ ذُو مَحْرَمٍ، وَلاَ صَوْمَ فِي يَوْمَيْنِ الْفِطْرِ وَالأَضْحَى، وَلاَ صَلاَةَ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَلاَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ، وَلاَ تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلاَّ إِلَى ثَلاَثَةِ مَسَاجِدَ مَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدِ الأَقْصَى، وَمَسْجِدِي هَذَا ‏"‏‏

Narrated By Abu Said Al-Khudri : (Who fought in twelve Ghazawat in the company of the Prophet). I heard four things from the Prophet and they won my admiration. He said:

1. "No lady should travel on a journey of two days except with her husband or a Dhi-Mahram.
2. "No fasting is permissible on the two days of Id-ul-Fitr and 'Id-ul-Adha.
3. "No prayer (may be offered) after the morning compulsory prayer until the sun rises; and no prayer after the 'Asr prayer till the sun sets.
4. "One should travel only for visiting three Masajid (Mosques): Masjid-ul-Haram (Mecca), Masjid-ul-Aqsa (Jerusalem), and this (my) Mosque (at Medina)."

ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے کہا ہم سے عبدالملک بن عمیر نے کہا میں نے قزعہ بن یحییٰ سےسنا کہا میں نے ابوسعید خدریؓ سے سنا انہوں نے نبیﷺ کے ساتھ ہو کر بارہ جہاد کیے تھے وہ کہتے تھے کہ میں نے چار باتیں نبیﷺ سے سنیں جو مجھ کو بہت پسند آئیں ایک تو آپ نے یہ فرمایا کہ کوئی عورت دو دن کا سفر نہ کرے مگر جب کہ اس کے ساتھ اس کا شوہر یا محرم رشتہ دار ہو دوسرے دو دن عیدالفطر اور عید الاضحی کو روزہ نہ رکھنا چاہیے تیسرے صبح کی نماز کے بعد سورج نکلنے تک اور عصر کی نماز کے بعد سورج ڈوبے تک نماز نہ پڑھنا چاہیے چوتھے سوا ان تین مسجدوں کے کہیں اور کے لیے کجاوے نہ کَسے جائیں۔مسجد حرام اور مسجد اقصیٰ اور مسجد مدینہ۔

68. Observing Saum on Tashriq days (11th, 12th, and 13th of Dhul-Hijjah).



قَالَ ابُو عَبدِ اللهِ: قَالَ لِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي كَانَتْ، عَائِشَةُ ـ رضى الله عنها ـ تَصُومُ أَيَّامَ مِنًى، وَكَانَ أَبُوهَا يَصُومُهَا‏

Narrated Yahya:Hisham said,"My father said that Aisha(R.A.) used to observe Saum(fast) on the days of Mina."His(Hisham's)father also used to obsrve Saum on those days.

ابو عبد ا للہ (امام بخاری) نے کہا مجھ سے محمد بن مثنٰی نے کہا ہم سے یحیٰی بن سعید نے انہوں نے ہشام سے کہا مجھ کو میرے باپ نے خبر دی انہوں نے کہا حضرت عائشہؓ منٰیٰ کے دنوں میں روزہ رکھا کرتیں اور ہشام کے باپ عروہ بھی ان دنوں میں روزہ رکھا کرتے ۔





حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عِيسَى، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ،‏ وَعَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضى الله عنهم قَالاَ لَمْ يُرَخَّصْ فِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ أَنْ يُصَمْنَ، إِلاَّ لِمَنْ لَمْ يَجِدِ الْهَدْىَ‏

Narrated By 'Aisha and Ibn 'Umar : Nobody was allowed to fast on the days of Tashrlq except those who could not afford the Hadi (Sacrifice).

ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا کہا ہم سے عنذر نے کہا ہم سے شعبہ نے کہا میں نے عبداللہ بن عیسیٰ سے سنا انہوں نے زہری سے انہوں نے عروہ سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے اور زہری نے اس حدیث کوسالم سے بھی سنا انہوں نے ابنِ عمرؓ سے ان دونوں نے کہا ایّامِ تشریق میں روزے رکھنے کی اجازت نہیں مگر اس کے لیے جس کو قربانی کا مقدور نہ ہو۔





حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عِيسَى، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ،‏ وَعَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضى الله عنهم قَالاَ لَمْ يُرَخَّصْ فِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ أَنْ يُصَمْنَ، إِلاَّ لِمَنْ لَمْ يَجِدِ الْهَدْىَ‏

Narrated By 'Aisha and Ibn 'Umar : Nobody was allowed to fast on the days of Tashrlq except those who could not afford the Hadi (Sacrifice).

ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا کہا ہم سے عنذر نے کہا ہم سے شعبہ نے کہا میں نے عبداللہ بن عیسیٰ سے سنا انہوں نے زہری سے انہوں نے عروہ سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے اور زہری نے اس حدیث کوسالم سے بھی سنا انہوں نے ابنِ عمرؓ سے ان دونوں نے کہا ایّامِ تشریق میں روزے رکھنے کی اجازت نہیں مگر اس کے لیے جس کو قربانی کا مقدور نہ ہو۔





حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ الصِّيَامُ لِمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ، إِلَى يَوْمِ عَرَفَةَ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا وَلَمْ يَصُمْ صَامَ أَيَّامَ مِنًى‏.‏ وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ مِثْلَهُ‏.‏ تَابَعَهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ‏

Narrated By Ibn 'Umar : Fasting for those who perform ,Hajj-at-Tamattu' (in lieu of the Hadi which they cannot afford) may be performed up to the day of 'Arafat. And if one does not get a Hadi and has not fasted (before the 'Id) then one should fast of the days of Mina. (11, 12 and 13th of Dhul Hajja).


ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا کہا ہم کو امام مالک نےخبر دی انہوں نے ابنِ شہاب سے انہوں نے سالم بن عبداللہ بن عمرؓ سے انہوں نے ابنِ عمرؓ سے انہوں کہا تمتع کرنے والا (جو عمرہ کر کے حج کرے)عرفہ کے دن تک روزہ رکھ لے اگر قربانی کا مقدور نہ ہو تو منیٰ کے دنوں میں بھی روزہ رکھ لے اور ابنِ شہاب نے عروہ سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے ایسی ہی روایت کی امام مالک کے ساتھ اس حدیث کو ابراہیم بن سعد نے ابنِ شہاب سے روایت کیا۔

69. Observing Saum on the days of Ashura (tenth of Muharram).



حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ عَاشُورَاءَ ‏"‏ إِنْ شَاءَ صَامَ ‏"‏‏

Narrated By Salim's father : The Prophet said, "Whoever wishes may fast on the day of 'Ashura'."

ہم سے ابو عاصم نے بیان کیاانہوں نے عمر بن محمد سے انہوں نے سالم بن عبداللہ بن عمر سے انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے کہا نبیﷺ نے فرمایا عاشورے کے دن جس کا جی چاہے وہ روزہ رکھے۔





حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ بِصِيَامِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ، فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ كَانَ مَنْ شَاءَ صَامَ، وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ‏

Narrated By 'Aisha : Allah's Apostle ordered (the Muslims) to fast on the day of 'Ashura', and when fasting in the month of Ramadan was prescribed, it became optional for one to fast on that day ('Ashura') or not.


ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا کہا ہم کو شعیب نے خبر دی انہوں نے زہری سے کہا مجھ کو عروہ بن زبیر نے خبر دی حضرت عائشہؓ نے کہاکہ رسول اللہﷺ نے عاشورے کے دن روزہ رکھنے کا حکم دیا جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو آپﷺ نے فرمایا اب جو چاہے عاشورے کا روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔





حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ تَصُومُهُ قُرَيْشٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصُومُهُ، فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ صَامَهُ، وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ، فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ تَرَكَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ، وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ‏.

Narrated By 'Aisha : Quraish used to fast on the day of 'Ashura' in the Pre-Islamic period, and Allah's Apostle too, used to fast on that day. When he came to Medina, he fasted on that day and ordered others to fast, too. Later when the fasting of the month of Ramadan was prescribed, he gave up fasting on the day of 'Ashura' and it became optional for one to fast on it or not.


ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا کہاانہوں نے امام مالک سے انہوں نے ہشام بن عروہ سے انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے کہا عاشورے کا روزہ قریش لوگ جاہلیت کے زمانے میں رکھا کرتے تھے اور رسول اللہﷺ بھی رکھنے لگے پھر جب آپ مدینہ میں تشریف لائے تو آپ نے عاشورے کے دن روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی روزے کا حکم دیا جب رمضان فرض ہواتو عاشورے کا روزہ چھوڑ دیا اور فرمایا اب جس کا جی چاہے اس دن روزہ رکھے اور جس کا جی چاہے نہ رکھے۔





حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ ـ رضى الله عنهما ـ يَوْمَ عَاشُورَاءَ عَامَ حَجَّ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ، أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ هَذَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ، وَلَمْ يُكْتَبْ عَلَيْكُمْ صِيَامُهُ، وَأَنَا صَائِمٌ، فَمَنْ شَاءَ فَلْيَصُمْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيُفْطِرْ ‏"

Narrated By Humaid bin 'Abdur Rahman : That he heard Muawiya bin Abi Sufyan on the day of 'Ashura' during the year he performed the Hajj, saying on the pulpit, "O the people of Medina! Where are your Religious Scholars? I heard Allah's Apostle saying, 'This is the day of 'Ashura'. Allah has not enjoined its fasting on you but I am fasting it. You have the choice either to fast or not to fast (on this day).'"

ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا کہاانہوں نے امام مالک سے انہوں نے ہشام بن عروہ سے انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے کہا عاشورے کا روزہ قریش لوگ جاہلیت کے زمانے میں رکھا کرتے تھے اور رسول اللہﷺ بھی رکھنے لگے پھر جب آپ مدینہ میں تشریف لائے تو آپ نے عاشورے کے دن روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی روزے کا حکم دیا جب رمضان فرض ہواتو عاشورے کا روزہ چھوڑ دیا اور فرمایا اب جس کا جی چاہے اس دن روزہ رکھے اور جس کا جی چاہے نہ رکھے۔





حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ، فَرَأَى الْيَهُودَ تَصُومُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ ‏"‏ مَا هَذَا ‏"‏‏.‏ قَالُوا هَذَا يَوْمٌ صَالِحٌ، هَذَا يَوْمٌ نَجَّى اللَّهُ بَنِي إِسْرَائِيلَ مِنْ عَدُوِّهِمْ، فَصَامَهُ مُوسَى‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَأَنَا أَحَقُّ بِمُوسَى مِنْكُمْ ‏"‏‏.‏ فَصَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ‏

Narrated By Ibn 'Abbas : The Prophet came to Medina and saw the Jews fasting on the day of Ashura. He asked them about that. They replied, "This is a good day, the day on which Allah rescued Bani Israel from their enemy. So, Moses fasted this day." The Prophet said, "We have more claim over Moses than you." So, the Prophet fasted on that day and ordered (the Muslims) to fast (on that day).

ہم سے ابو معمر نےبیان کیاکہا ہم سے عبدالوارث نے کہا ہم ایوب نےکہاہم سے عبداللہ بن سعید بن جبیر نے کہا انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے ابن عباسؓ سے انہوں نے کہا نبیﷺ مدینے میں تشریف لائےدوسرے سال یہودیوں کو دیکھا عاشورے کے دن روزہ رکھتے ہوئے آپ نے پوچھا یہ روزہ کیسا؟ انہوں نے کہا یہ عمدہ دن ہے اللہ نے اس دن بنی اسرائیل کو ان کے دشمن(فرعون) سے نجات دی تھی تو حضرت موسیٰ نے اس میں روزہ رکھا تھا آپ نے فرمایامیں تم سے زیادہ موسیٰؑ سے تعلق رکھتاہوں پھر آپ نے اس دن روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی روزے کا حکم دیا۔





حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ أَبِي عُمَيْسٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ تَعُدُّهُ الْيَهُودُ عِيدًا، قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَصُومُوهُ أَنْتُمْ ‏"

Narrated By Abu Musa : The day of 'Ashura' was considered as 'Id day by the Jews. So the Prophet ordered, "I recommend you (Muslims) to fast on this day."

ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا کہا ہم سے ابو اسامہ نے انہوں نے ابو عمیس سے انہوں نے قیس بن مسلم سے انہوں نے طارق بن شہاب سے انہوں نے ابو موسیٰ اشعریؓ سے انہوں نے کہا یہودی عاشورے کےدن کو عید سمجھتے تھے نبیﷺ نے(صحابہ سے فرمایا) تم بھی اس دن روزہ رکھو۔





حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَتَحَرَّى صِيَامَ يَوْمٍ فَضَّلَهُ عَلَى غَيْرِهِ، إِلاَّ هَذَا الْيَوْمَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَهَذَا الشَّهْرَ‏.‏ يَعْنِي شَهْرَ رَمَضَانَ

Narrated By Ibn 'Abbas : I never saw the Prophet seeking to fast on a day more (preferable to him) than this day, the day of 'Ashura', or this month, i.e. the month of Ramadan.

ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا انہوں نے سفیان بن عیینہ سے انہوں نے عبیداللہ بن ابی یزید سے انہوں نے ابنِ عباسؓ سےانہوں نے کہا میں نے نبیﷺ کو قصد کرکے کسی خاص دن کا روزہ یہ سمجھ کر کہ وہ دوسرے دنوں سے افضل ہے رکھتے نہیں دیکھا مگر اس دن کا یعنی عاشورے کے دن کا اور اس مہینے کا یعنی رمضان کا۔





حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ رضى الله عنه قَالَ أَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً مِنْ أَسْلَمَ أَنْ أَذِّنْ فِي النَّاسِ ‏"‏ أَنَّ مَنْ كَانَ أَكَلَ فَلْيَصُمْ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ أَكَلَ فَلْيَصُمْ، فَإِنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ ‏"‏‏

Narrated By Salama bin Al-Akwa : The Prophet ordered a man from the tribe of Bani Aslam to announce amongst the people that whoever had eaten should fast the rest of the day, and whoever had not eaten should continue his fast, as that day was the day of 'Ashura'.

ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیاکہا ہم سے یزید بن ابی عبید نے انہوں نے سلمہ بن الاکوع سے انہوں نے کہا نبیﷺ نے اسلم قبیلے کے ایک شخص کو یہ حکم دیا لوگوں میں منادی کر دے جس نے کچھ کھا لیا ہو وہ بھی باقی دن کچھ نہ کھائے اور جس نے نہیں کھا یا ہو وہ روزہ رکھ لے کیوں کہ یہ عاشورے کا دن ہے ۔

 

No comments:

Post a Comment