PART 2
Sahih Bukhari
Book10: Call for Prayers كتاب الأذان
60. If the Imam prolongs the Salat and somebody has an urgent work or need and so he leaves the congregation and offers Salat alone
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ
جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، كَانَ يُصَلِّي
مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَؤُمُّ قَوْمَهُ
Narrated By Mu'adh bin Jabal : I used to pray the 'Isha prayer with the Prophet and then go to lead my people in the prayer.
ہم سے مسلم بن ابرا ہیم نے بیا ن
کیا کہ اہم سے شعبہ نے اُنہوں نے عمرو بن دینا ر سے انہوں نے جابر بن
عبداللہ انصاری سے اُنہوں نے کہا معا ذ بن جبلؓ نبی ﷺ کے سا تھ (فرض)
نما ز پڑھا کرتے تھے پھر جا کر اپنی قو م کی امامت کرتے ( وہی نما ز اُن کو
پڑھا تے ) ۔
قَالَ وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ،
قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ
عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ
صلى الله عليه وسلم ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَؤُمُّ قَوْمَهُ، فَصَلَّى
الْعِشَاءَ فَقَرَأَ بِالْبَقَرَةِ، فَانْصَرَفَ الرَّجُلُ، فَكَأَنَّ
مُعَاذًا تَنَاوَلَ مِنْهُ، فَبَلَغَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم
فَقَالَ " فَتَّانٌ فَتَّانٌ فَتَّانٌ " ثَلاَثَ مِرَارٍ أَوْ قَالَ
" فَاتِنًا فَاتِنًا فَاتِنٌ " وَأَمَرَهُ بِسُورَتَيْنِ مِنْ أَوْسَطِ
الْمُفَصَّلِ. قَالَ عَمْرٌو لاَ أَحْفَظُهُمَا
Narrated By 'Amr : Jabir bin 'Abdullah said, "Mu'adh bin Jabal used to
pray with the Prophet and then go to lead his people in prayer Once he
led the 'Isha prayer and recited Surat "Al-Baqra." Somebody left the
prayer and Mu'adh criticized him. The news reached the Prophet and he
said to Mu'adh, 'You are putting the people to trial,' and repeated it
thrice (or said something similar) and ordered him to recite two medium
Suras of Mufassal." ('Amr said that he had forgotten the names of those
Suras).
اور امام بخاری نے کہا مجھ سے
محمد بن بشا ر نے بیا ن کیا کہا ہم سے غندر محمدبن جعفر نے کہا ہم سے
شعبہ نے اُنہوں نے عمرو بن دینا ر سے اُنہوں نے کہا میں نے جا بر بن
عبداللہ انصا ری سے سُنا اُنہوں نے کہا معا ذ بن جبلؓ نبیﷺ کےسا تھ (فرض)
نما ز پڑھ لیتے پھر لو ٹ جا کر اپنی قوم کی امامت کرتے ایک با ر ایسا ہوا
اُنہوں نے عشا ء کی نما ز پڑھائی تو سو رت بقرہ شروع کی (مقتدیوں میں سے )
ایک شخص ( نما ز توڑ کر ) چل دیا معا ذ اس کو بُرا کہنے لگے یہ خبر نبیﷺ کو
پہنچی (اس شخص نے جا کر معا ذ کی شکا یت کی) آپ نے معا ذ کو فر ما یا تو
بَلا میں ڈا لنے وا لا ہے ، بَلا میں ڈا لنے وا لا، بَلا میں ڈا لنے وا لا
تین با ر فر مایا یوں فرمایا تو فسا دی ہے فسا دی ہے فسا دی اور آپ ﷺ نے
معاذ کو یہ حکم دیا کہ مفصل کی بیچ کی دو سو رتیں پڑھا کرے عمرو بن دینا ر
نے کہا مجھے یا د نہ رہیں کو نسی سورتیں ۔
61. The shortening of the Qiyam (standing) by the Imam but performing the bowings and the prostrations perfectly
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ سَمِعْتُ قَيْسًا، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو
مَسْعُودٍ، أَنَّ رَجُلاً، قَالَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي
لأَتَأَخَّرُ عَنْ صَلاَةِ الْغَدَاةِ مِنْ أَجْلِ فُلاَنٍ مِمَّا يُطِيلُ
بِنَا. فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي
مَوْعِظَةٍ أَشَدَّ غَضَبًا مِنْهُ يَوْمَئِذٍ ثُمَّ قَالَ " إِنَّ
مِنْكُمْ مُنَفِّرِينَ، فَأَيُّكُمْ مَا صَلَّى بِالنَّاسِ
فَلْيَتَجَوَّزْ، فَإِنَّ فِيهِمُ الضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ وَذَا
الْحَاجَةِ "
Narrated By Abu
Mas'ud : A man came and said, "O Allah's Apostle! By Allah, I keep away
from the morning prayer only because So and so prolongs the prayer when
he leads us in it." The narrator said, "I never saw Allah's Apostle more
furious in giving advice than he was at that time. He then said, "Some
of you make people dislike good deeds (the prayer). So whoever among you
leads the people in prayer should shorten it because among them are the
weak, the old and the needy."
ہم سے احمد بن یو نس نے بیا ن
کیا کہا ہم سے زہیر بن معا ویہ نے کہا ہم سے اسمٰعیل بن ابی خا لد نے کہا
میں نے قیس بن ابی حا زم سے سُنا کہا مجھ سے ابو مسعود انصا ری عقبہ بن
عمرو نے بیا ن کیا اُنہوں نے کہا ایک شحض نے آپﷺ سے عر ض کیا یا رسو ل
اللہ خدا کی قسم میں صبح کی نما ز میں (جما عت میں ) اس وجہ سے نہیں آیا
کہ فلاں صا حب نما ز کو لمبا کرتے ہیں ، ابو مسعودؓ نے کہا میں رسول اللہﷺ
کو کبھی کسی وعظ او رنصیحت میں اس دن سے زیا دہ غصّے نہیں دیکھا آپ نے
فرمایا تم میں کچھ لو گ یہ چا ہتے ہیں کہ (عبا دت سے یا دین سے) نفرت کرا
دیں دیکھو جو کو ئی تم میں لو گو ں کو نما ز پڑھائےوہ ہلکی نما ز پڑھے کیو
نکہ لو گو ں میں کوئی نا تواں ہو تا ہے کوئی بو ڑھا کوئی کا م وا لا ۔
62. When offering Salat alone, one can prolong the Salat as much as one wishes
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ،
عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ
رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ
لِلنَّاسِ فَلْيُخَفِّفْ، فَإِنَّ مِنْهُمُ الضَّعِيفَ وَالسَّقِيمَ
وَالْكَبِيرَ، وَإِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ لِنَفْسِهِ فَلْيُطَوِّلْ مَا
شَاءَ "
Narrated By Abu Huraira :
Allah's Apostle said, "If anyone of you leads the people in the prayer,
he should shorten it for amongst them are the weak, the sick and the
old; and if anyone among your prays alone then he may prolong (the
prayer) as much as he wishes."
ہم سے عبداللہ بن یو سف تنیسی
نے بیا ن کیا کہا ہم کو امام ما لک نے خبر دی اُنہوں نے ابو الزنا د
عبداللہ بن ذکوا ن سے انہوں نے عبدالرحمٰن بن ہر مز اعرج سے انہوں نے ابو
ہریرہؓ سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فر ما یا جب کوئی تم میں سے لو گو ں کو نما ز
پڑھائےتو ہلکی نما ز پڑھے اس لئے کہ ان میں کوئی نا تواں ہوتا ہے کوئی
بیما رکوئی بو ڑھا اور جب کوئی تم میں سے اکیلا اپنے لئے نما ز پڑھے تو
جتنی چا ہے لمبی کرے۔
63. Complaining against one's Imam if he prolongs the prayer
Abu Usaid said, "O my son! You have prolonged the prayer."
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ
إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ
أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي
لأَتَأَخَّرُ عَنِ الصَّلاَةِ فِي الْفَجْرِ مِمَّا يُطِيلُ بِنَا فُلاَنٌ
فِيهَا. فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا رَأَيْتُهُ
غَضِبَ فِي مَوْضِعٍ كَانَ أَشَدَّ غَضَبًا مِنْهُ يَوْمَئِذٍ ثُمَّ قَالَ
" يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِّرِينَ، فَمَنْ أَمَّ
النَّاسَ فَلْيَتَجَوَّزْ، فَإِنَّ خَلْفَهُ الضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ وَذَا
الْحَاجَةِ ".
Narrated By Abu
Mas'ud : A man came and said, "O Allah's Apostle! I keep away from the
morning prayer because so-and-so (Imam) prolongs it too much." Allah's
Apostle became furious and I had never seen him more furious than he was
on that day. The Prophet said, "O people! Some of you make others
dislike the prayer, so whoever becomes an Imam he should shorten the
prayer, as behind him are the weak, the old and the needy."
ہم سے محمد بن یو سف فریا بی نے
بیا ن کیا کہا ہم سے سفیا ن ثوری نے اُنہوں نے اسمٰعیل بن ابی خا لد سے
اُنہوں نے قیس بن ابی حا زم سے اُ نہوں نے ابو مسعو دؓ (انصا ری صحابی)
سے انہوں نے کہا ایک شخص نے (انصاری ایک لڑکے نے) آپﷺ سے عرض کیا میں جو
صبح کی جما عت میں حا ضر نہیں ہو تا تو فلا ں صاحب ( ابی بن کعب کی وجہ
سے)وہ نما ز کو لمبا کرتے ہیں یہ سُن کر رسول اللہ ﷺ ایسے غصّے ہوئے کہ
اس دن سے زیا دہ غصّے میں آپ کو کسی وعظ اور نصیحت میں نہیں دیکھا پھر
آپ نے یہ فرمایا لو گو دیکھو تم میں کچھ لو گ نفرت دلا نا چا ہتے ہیں جو
کو ئی تم میں سے امام بنے وہ ہلکی نما ز پڑھے اس لئے کہ اس کے پیچھے
کوئی نا توا ن ہو تا ہے کو ئی بو ڑھا کو ئی کا م کا ج وا لا ۔
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ
حَدَّثَنَا مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ
اللَّهِ الأَنْصَارِيَّ، قَالَ أَقْبَلَ رَجُلٌ بِنَاضِحَيْنِ وَقَدْ
جَنَحَ اللَّيْلُ، فَوَافَقَ مُعَاذًا يُصَلِّي، فَتَرَكَ نَاضِحَهُ
وَأَقْبَلَ إِلَى مُعَاذٍ، فَقَرَأَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ أَوِ
النِّسَاءِ، فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ، وَبَلَغَهُ أَنَّ مُعَاذًا نَالَ
مِنْهُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَشَكَا إِلَيْهِ مُعَاذًا،
فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " يَا مُعَاذُ أَفَتَّانٌ أَنْتَ
ـ أَوْ فَاتِنٌ ثَلاَثَ مِرَارٍ ـ فَلَوْلاَ صَلَّيْتَ بِسَبِّحِ اسْمَ
رَبِّكَ، وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا، وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى، فَإِنَّهُ
يُصَلِّي وَرَاءَكَ الْكَبِيرُ وَالضَّعِيفُ وَذُو الْحَاجَةِ ".
أَحْسِبُ هَذَا فِي الْحَدِيثِ. قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَتَابَعَهُ
سَعِيدُ بْنُ مَسْرُوقٍ وَمِسْعَرٌ وَالشَّيْبَانِيُّ. قَالَ عَمْرٌو
وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مِقْسَمٍ وَأَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَرَأَ
مُعَاذٌ فِي الْعِشَاءِ بِالْبَقَرَةِ. وَتَابَعَهُ الأَعْمَشُ عَنْ
مُحَارِبٍ
Narrated By Jabir bin
'Abdullah Al-Ansari : Once a man was driving two Nadihas (camels used
for agricultural purposes) and night had fallen. He found Mu'adh praying
so he made his camel kneel and joined Mu'adh in the prayer. The latter
recited Surat 'Al-Baqara" or Surat "An-Nisa", (so) the man left the
prayer and went away. When he came to know that Mu'adh had criticized
him, he went to the Prophet, and complained against Mu'adh. The Prophet
said thrice, "O Mu'adh ! Are you putting the people to trial?" It would
have been better if you had recited "Sabbih Isma Rabbika-l-a-la (87)",
Wash-Shamsi wadu-haha (91)", or "Wal-laili Idha yaghsha (92)", for the
old, the weak and the needy pray behind you." Jabir said that Mu'adh
recited Sura Al-Baqara in the 'Isha prayer.
ہم سے آدم بن ابی ایا س نے بیا
ن کیا کہا ہم سے شعبہ نے کہا ہم سے محا رب بن دِثا ر نے کہا میں نے جا بر
بن عبداللہ انصا ری (صحا بی ) سے سُنا ( ایسا ہوا ) ایک شحص پا نی اُٹھا
نے وا لے دو اونٹ لے کر آیا رات اندھیری ہو گئی تھی اس نے معا ذؓ کو (عشاء
کی) نما ز پڑھتے پا یا تو اپنے اونٹو ں کو بٹھلا یا معا ذؓ کی طرف آیا
(کہ نماز میں شریک ہو) معاذ نے سورت بقرہ یا سورہ نساء شروع کی وہ (نماز
چھوڑ کر ) چل دیا اس سے کسی نے کہا کہ معا ذ نے تجھ کو بُرا بھلا کہا وہ
نبی ﷺ کی خدمت میں حا ضر ہو ا اور معا ذؓ کی شکا یت کی آپ نے( معا ذؓ
سے) فر ما یا اے معا ذؓ تو بلا میں ڈا لنے وا لا فسا دی ہے تین بار یہی فر
ما یا بھلا تو نے سبّح اسم ربک الاعلیٰ اور والشمس وضحٰھا اور والیل اذا
یغشیٰ یہ سو رتیں کیو ں نہیں پڑھیں ( کیا تو نہیں جا نتا ) تیرے پیچھے بو
ڑھے اور نا تواں اور کا م ضرورت وا لے نما ز پڑھتے ہیں ۔ شعبہ نے کہا میں
سمجھتا ہوں یہ جملہ (فا نہ یصلّی وراءک ) حدیث میں داخل ہے شعبہ کے سا
تھ اس حدیث کو سعد بن مسرو ق اور مسعر اور ابو اسحٰق شیبا نی نے بھی روا یت
کیا اور عمرو بن دینار اور عبید اللہ بن مقسم اور ابو الزبیر نے بھی اس
حدیث کو جا برؓ سے روا یت کیا اس میں یُوں ہے کہ معا ذ نے عشا ء کی نما ز
میں سو رت بقرہ پڑھی اور شعبہ کے سا تھ اعمش نے بھی اس کو محا رب سے روا
یت کیا ۔
64. The shortening and perfection of the prayer (by the Imam)
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى
الله عليه وسلم يُوجِزُ الصَّلاَةَ وَيُكْمِلُهَا
Narrated By Anas : The Prophet used to pray a short prayer (in congregation) but used to offer it in a perfect manner.
ہم سے ابو معمر عبداللہ بن عمرو
نے بیا ن کیا کہا ہم سے عبدالوا رث بن سعید نے کہا ہم سے عبدالعزیز بن
صہیب نے اُنہوں نے انس بن ما لکؓ سے اُنہوں نے کہا نبی ﷺ نما ز مختصر اور
پو ری پڑھتے تھے ۔
65. Whoever cuts shot As-Salat on hearing the cries of the child
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، قَالَ أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ،
قَالَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ
عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنِ
النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنِّي لأَقُومُ فِي الصَّلاَةِ
أُرِيدُ أَنْ أُطَوِّلَ فِيهَا، فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ،
فَأَتَجَوَّزُ فِي صَلاَتِي كَرَاهِيَةَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمِّهِ ".
تَابَعَهُ بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ وَابْنُ الْمُبَارَكِ وَبَقِيَّةُ عَنِ
الأَوْزَاعِيِّ
Narrated By
'Abdullah bin 'Abi Qatada : My father said, "The Prophet said, 'When I
stand for prayer, I intend to prolong it but on hearing the cries of a
child, I cut it short, as I dislike to trouble the child's mother.'"
ہم سے ابرا ہیم بن مو سیٰ نے
بیا ن کیا کہا ہم سے ولید بن مسلم نے کہا ہم سے امام عبدالر حمٰن بن عمرو
اوزاعی نے اُنہوں نے یحیٰی بن ابی کثیر سے اُنہوں نے عبداللہ بن ابی کثیر
سے اُنہوں نے اپنے باپ ابو قتادہ حا رث بن ربعی انصا ری صحا بی سے اُنہوں
نےنبی ﷺ سے آپ نے فر ما یا میں نما ز میں کھڑا ہو تا ہو ں اس کو لمبا کر
نا چا ہتا ہو ں ، پھر بچے کا رو نا سنتا ہو ں تو نما ز کو مختصر کر دیتا ہو
ں اس کی ما ں کو تکلیف میں ڈا لنا بُرا سمجھتا ہو ں ولید بن مسلم کے سا تھ
اس حدیث کو بشر بن بکر اور بقیہ بن ولید اور عبداللہ بن مبا رک نے بھی او
زا عی سےروا یت کیا ہے ۔
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ
بِلاَلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ سَمِعْتُ
أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ إِمَامٍ قَطُّ أَخَفَّ
صَلاَةً وَلاَ أَتَمَّ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، وَإِنْ كَانَ
لَيَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ فَيُخَفِّفُ مَخَافَةَ أَنْ تُفْتَنَ
أُمُّهُ
Narrated Anas bin
Malik(R.A.) : I never offered prayers behind any Imam a Salat(prayer)
lighter and more perfect than that behind the Prophet(s.a.w.) ; and he
used to cut it short whenever he heard the cries of the hild lest he
should put the hild's mother to trail.
ہم سےخا لد بن مخلدنے بیا ن کیا کہا ہم سے سلیما ن بن بلا ل تیمی نے کہا
ہم سے شریک بن عبداللہ بن ابی نمر قرشی نے کہا میں نے انس بن ما لکؓ سے
سُنا وہ کہتے تھے میں نے کبھی کسی امام کے پیچھے نبی ﷺ سے زیا دہ ہلکی
اور پُو ری نما ز نہیں پڑھی اور آپ کا یہ حا ل تھا کہ نما ز میں بچّہ کے
رو نے کی آوا ز سنتے تو نما ز کو ہلکا کر دیتے کہیں اسکی ماں کو پریشا
نی نہ ہو۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ
زُرَيْعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، أَنَّ
أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" إِنِّي لأَدْخُلُ فِي الصَّلاَةِ وَأَنَا أُرِيدُ إِطَالَتَهَا،
فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ، فَأَتَجَوَّزُ فِي صَلاَتِي مِمَّا
أَعْلَمُ مِنْ شِدَّةِ وَجْدِ أُمِّهِ مِنْ بُكَائِهِ ".
Narrated By Anas bin Malik : The
Prophet said, "When I start the prayer I intend to prolong it, but on
hearing the cries of a child, I cut short the prayer because I know that
the cries of the child will incite its mother's passions."
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے
بیا ن کیا کہا ہم سے یزید بن زُریع نے کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے کہا
ہم سے قتا دہ نے ان سے انس بن ما لکؓ نے بیا ن کیا کہ نبی ﷺ نے فر ما یا
میں نما ز شروع کر دیتا ہوں اور چا ہتا ہوں کہ لمبی نما ز پڑھوں پھر میں
بچے کا رو نا سُنتا ہوں تو اپنی نما ز کو مختصر کر دیتا ہوں کیو نکہ میں جا
نتا ہو ں ماں کے دل پر بچے کے رو نے سے کیسے چو ٹ پڑتی ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي
عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ
النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنِّي لأَدْخُلُ فِي الصَّلاَةِ
فَأُرِيدُ إِطَالَتَهَا، فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ، فَأَتَجَوَّزُ
مِمَّا أَعْلَمُ مِنْ شِدَّةِ وَجْدِ أُمِّهِ مِنْ بُكَائِهِ " وَقَالَ
مُوسَى حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ،
عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ
Narrated By Anas bin Malik : The Prophet, said, "Whenever I start the
prayer I intend to prolong it, but on hearing the cries of a child, I
cut short the prayer because I know that the cries of the child will
incite its mother's passions."
ہم سےمحمد بن بشا ر نے بیا ن
کیا کہا ہم سےمحمد بن ابرا ہیم بن ابی عدی نے انہوں نے سعید ابن ابی عرو بہ
سے انہوں نے قتا دہ سے انہوں نے انس بن ما لک سے انہوں نے نبیﷺ سے آپ
نے فر ما یا میں نما ز شرو ع کر دیتا ہو ں اور میری نیّت اس کو لمبا کر نے
کی ہو تی ہے پھر بچہ کا رو نا سن کر نما ز کو ہلکا کر دیتا ہو ں کیو نکہ
میں جا نتا ہو ں جو بچہ کے رو نے سے اس کی ما ں کو درد ہو تا ہے اور مو
سیٰ بن اسمٰعیل نے کہا ہم سے ابا ن بن یزید نے بیا ن کیا کہا ہم سے قتا
دہ نے کہا ہم کو انسؓ نے خبر دی نبی ﷺ سے یہی حدیث.
66. If one offers Salat and then leads the people in Salat
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو النُّعْمَانِ، قَالاَ
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ
دِينَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كَانَ مُعَاذٌ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صلى
الله عليه وسلم ثُمَّ يَأْتِي قَوْمَهُ فَيُصَلِّي بِهِمْ
Narrated By Jabir bin 'Abdullah : Mu'adh used to pray with the Prophet and then go and lead his people (tribe) in the prayer.
ہم سے سلیمان بن حرب اور ابو
النعمان محمد بن فضل نے بیان کیا کہا ہم سے حماد بن زید نے انہوں نے ابو
ایوب سختیانی سے انہوں نے عمرو بن دینار سے انہوں نے جابرؓ سے کہ معاذ ابن
جبل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ لیتے پھر اپنی قوم کے پاس جا
کر ان کی امامت کرتے ۔
67. One who repeats the Takbir (Allahu-Akber) of the Imam so that the people may hear it
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ،
قَالَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ
عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ لَمَّا مَرِضَ النَّبِيُّ صلى الله
عليه وسلم مَرَضَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ أَتَاهُ بِلاَلٌ يُؤْذِنُهُ
بِالصَّلاَةِ فَقَالَ " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ ". قُلْتُ
إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ، إِنْ يَقُمْ مَقَامَكَ يَبْكِي فَلاَ
يَقْدِرُ عَلَى الْقِرَاءَةِ. قَالَ " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ
". فَقُلْتُ مِثْلَهُ فَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ "
إِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ، مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ ".
فَصَلَّى وَخَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُهَادَى بَيْنَ
رَجُلَيْنِ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَخُطُّ بِرِجْلَيْهِ الأَرْضَ،
فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ يَتَأَخَّرُ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ أَنْ
صَلِّ، فَتَأَخَّرَ أَبُو بَكْرٍ ـ رضى الله عنه ـ وَقَعَدَ النَّبِيُّ صلى
الله عليه وسلم إِلَى جَنْبِهِ، وَأَبُو بَكْرٍ يُسْمِعُ النَّاسَ
التَّكْبِيرَ. تَابَعَهُ مُحَاضِرٌ عَنِ الأَعْمَشِ
Narrated By 'Aisha : When the Prophet, became ill in his fatal illness,
Someone came to inform him about the prayer, and the Prophet told him
to tell Abu Bakr to lead the people in the prayer. I said, "Abu Bakr is a
soft-hearted man and if he stands for the prayer in your place, he
would weep and would not be able to recite the Qur'an." The Prophet
said, "Tell Abu Bakr to lead the prayer." I said the same as before. He
(repeated the same order and) on the third or the fourth time he said,
"You are the companions of Joseph. Tell Abu Bakr to lead the prayer." So
Abu Bakr led the prayer and meanwhile the Prophet felt better and came
out with the help of two men; as if I see him just now dragging his feet
on the ground. When Abu Bakr saw him, he tried to retreat but the
Prophet beckoned him to carry on. Abu Bakr retreated a bit and the
Prophet sat on his (left) side. Abu Bakr was repeating the Takbir
(Allahu Akbar) of Allah's Apostle for the people to hear.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان
کیا کہا ہم سے عبد اللہ بن داؤد نے کہا ہم کو اعمش نے خبر دی انہوں نے
ابراہیم نخعی سے انہوں نے اسود سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے کہا جب
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ بیماری ہوئی جس میں آپ نے وفات پائی تو
بلالؓ نماز کی خبر دینے کو آپ کے پاس آئے آپ نے فرمایا ابو بکرؓ سے کہو
وہ نماز پڑھائیں میں نے عرض کیا ابو بکرؓ کچدلے (نرم دل) آدمی ہیں وہ جب
آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے رو دیں گےقرآن نہ پڑھ سکیں گے آپ نے ( پھر )
فرمایا ابو بکرؓ سے کہووہ نماز پڑھائیں میں نے پھر وہی عرض کیا آخر تیسری
یا چوتھی بار آپ نے فرمایا تم تو یوسفؑ کے ساتھ والیاں ہو ابو بکر سے کہو
وہ نماز پڑھائیں خیر انہوں نے نماز شروع کر دی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم
(ذرا اپنا مزاج ہلکا پا کر )دو آدمیوں پر ٹیکا دیئے نکلے جیسے میں (اس
وقت) آپ کو دیکھ رہی ہوں آپ کے پاؤں زمین پر لکیر کر رہے تھے ابو بکرؓ نے
آپ کو دیکھا تو پیچھے سرکنا چاہا آپؐ نے اشارے سے ان کو فرمایا نماز
پڑھائے جاؤ ابو بکرؓ تھوڑا پیچھے سرک گئے اور آپ ابو بکرؓ کے پہلو میں (
ان کے برابر ) بیٹھ گئے ۔ابو بکرؓ آپ کی تکبیر لوگوں کو سناتے تھے۔عبد
اللہ بن داؤد کے ساتھ اس حدیث کومحاضر نے بھی اعمش سے روایت کیا ۔
68. If a person follows the Imam and the others follow that person (then it is all right).
The Prophet (s.a.w) said, "You should follow me and the people behind you should follow you."
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ،
عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ،
قَالَتْ لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَاءَ بِلاَلٌ
يُؤْذِنُهُ بِالصَّلاَةِ فَقَالَ " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ
بِالنَّاسِ ". فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ
رَجُلٌ أَسِيفٌ، وَإِنَّهُ مَتَى مَا يَقُمْ مَقَامَكَ لاَ يُسْمِعُ
النَّاسَ، فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ. فَقَالَ " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ
يُصَلِّي بِالنَّاسِ ". فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ قُولِي لَهُ إِنَّ أَبَا
بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ، وَإِنَّهُ مَتَى يَقُمْ مَقَامَكَ لاَ يُسْمِعِ
النَّاسَ، فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ. قَالَ " إِنَّكُنَّ لأَنْتُنَّ
صَوَاحِبُ يُوسُفَ، مُرُوا أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ ".
فَلَمَّا دَخَلَ فِي الصَّلاَةِ وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
فِي نَفْسِهِ خِفَّةً، فَقَامَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ، وَرِجْلاَهُ
يَخُطَّانِ فِي الأَرْضِ حَتَّى دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَلَمَّا سَمِعَ أَبُو
بَكْرٍ حِسَّهُ ذَهَبَ أَبُو بَكْرٍ يَتَأَخَّرُ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ
رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله
عليه وسلم حَتَّى جَلَسَ عَنْ يَسَارِ أَبِي بَكْرٍ، فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ
يُصَلِّي قَائِمًا، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي
قَاعِدًا، يَقْتَدِي أَبُو بَكْرٍ بِصَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه
وسلم وَالنَّاسُ مُقْتَدُونَ بِصَلاَةِ أَبِي بَكْرٍ رضى الله عنه
Narrated By 'Aisha : When Allah's Apostle became seriously ill, Bilal
came to him for the prayer. He said, "Tell Abu Bakr to lead the people
in the prayer." I said, "O Allah's Apostle! Abu Bakr is a soft-hearted
man and if he stands in your place, he would not be able to make the
people hear him. Will you order 'Umar (to lead the prayer)?" The Prophet
said, "Tell Abu Bakr to lead the people in the prayer." Then I said to
Hafsa, "Tell him, Abu Bakr is a soft-hearted man and if he stands in his
place, he would not be able to make the people hear him. Would you
order 'Umar to lead the prayer?' " Hafsa did so. The Prophet said,
"Verily you are the companions of Joseph. Tell Abu Bakr to lead the
people in the prayer." So Abu- Bakr stood for the prayer. In the
meantime Allah's Apostle felt better and came out with the help of two
persons and both of his legs were dragging on the ground till he entered
the mosque. When Abu Bakr heard him coming, he tried to retreat but
Allah's Apostle beckoned him to carry on. The Prophet sat on his left
side. Abu Bakr was praying while standing and Allah's Apostle was
leading the prayer while sitting. Abu Bakr was following the Prophet and
the people were following Abu Bakr (in the prayer).
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان
کیا کہا ہم کو ابو معاویہ محمد بن خازم نے خبر دی انہوں نے اعمش سے انہوں
نے ابراہیم نخعی سے انہوں نے اسود بن یزید سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے
انہوں نے کہا جب رسول اللہ ﷺ بیمار ہو گئے( موت کی بیماری میں ) تو بلالؓ
نماز کے لیے آپ کو بلانے کو آئے آپ نے فرمایا ابو بکرؓ سے کہو وہ لوگوں
کو نماز پڑھائیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ابو بکرؓ نرم دل آدمی ہیں
وہ جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو( رو رو کر ) اپنی آواز لوگوں کو نہ سنا
سکیں گے بہتر ہو اگر آپ عمرؓ کو نماز پڑھانے کا حکم دیں آپ نے فرمایا ابو
بکر ؓ سے کہو نماز پڑھائیں میں نے حضرت حفصہؓ سے کہا تم عرض کرو کہ ابو
بکرؓ نرم دل آدمی ہیں وہ جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گےتو ان کی آواز نہ نکل
سکے گی ( رو دیں گے )کاش آپ عمر ؓ کو نماز پڑھانے کے لیے فرمائیں آپ نے
فرمایا تم تو یوسف کے ساتھ والیاں ہو ،ابو بکرؓ سے کہو وہ لوگوں کو نماز
پڑھائیں ۔جب ابو بکرؓ نماز پڑھانے لگے تو رسول اللہ ﷺ نے ذرا اپنا مزاج
ہلکا پایا ۔آپ دو آدمیوں پر ٹیکا دے کے کھڑے ہوئے اور آپ کے پاؤں زمین
پر نشان کر رہے تھے اسی طرح سے چل کر مسجد میں آئے ابو بکرؓ نے آپ کی
آہٹ پائی تو لگے پیچھے سرکنے ،رسول اللہ ﷺنے ان کواشارہ کیا ( اپنی جگہ
رہو ) پھر آپ تشریف لائے اور ابو بکرؓ کے بائیں طرف بیٹھ گئے تو ابو بکرؓ
توکھڑے کھڑے نماز پڑھ رہے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے
بیٹھے ابو بکرؓ رسول اللہ ﷺ کی نماز کی پیروی کر رہے تھے اور لوگ ابو
بکرؓ کی نماز کی ۔
69. Can the Imam depend on the people's saying if he is in doubt?
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ،
عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ
بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله
عليه وسلم انْصَرَفَ مِنَ اثْنَتَيْنِ، فَقَالَ لَهُ ذُو الْيَدَيْنِ
أَقَصُرَتِ الصَّلاَةُ أَمْ نَسِيتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ
اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ ". فَقَالَ
النَّاسُ نَعَمْ. فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّى
اثْنَتَيْنِ أُخْرَيَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ
سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ
Narrated
By Abu Huraira : Once Allah's Apostle prayed two Rakat (instead of
four) and finished his prayer. Dhu-l-yadain asked him whether the prayer
had been reduced or whether he had forgotten. Allah's Apostle asked the
people whether Dhu-l-yadain was telling the truth. The people replied
in the affirmative. Then Allah's Apostle stood up, offered the remaining
two Rakat and then finished his prayer with Taslim and then said,
"Allahu Akbar." He followed it with two prostrations like ordinary
prostrations or a bit longer.
ہم سے عبد اللہ بن مسلمہ قعنبی
نے بیان کیا انہوں نے مالک ابن انس سے انہو ں نے ایوب بن ابی تمیمہ سختیانی
سے انہوں نے محمد بن سیرین سے انہوں نےابوہریرہؓ سے کہ رسول اللہ ﷺ (ظہر
کی نماز میں) دو رکعتیں پڑھ کر اٹھ کھڑے ہوئے ( سلام پھیر دیا )ذوالیدین نے
عرض کیا کیا نماز کم ہو گئی ( خدا کی طرف سے دو ہی رکعتیں رہ گئیں ) یا
آپ بھول گئے یا رسول اللہ آپ نے ( اور لوگوں کی طرف دیکھ کر ) فرمایا
کیا ذوالیدین سچ کہتا ہے لوگوں نے عرض کیا جی ہاں ( سچ کہتا ہے آپ نے دو
ہی رکعتیں پڑھیں )اس وقت آپ کھڑے ہوئے اور پچھلی دو رکعتیں پڑھیں پھر سلام
پھیرا پھر اللہ اکبر کہا اور اپنے سجدہ کی طرح سجدہ کیا یا اس سے کچھ لمبا
۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ
بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ
صَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ، فَقِيلَ
صَلَّيْتَ رَكْعَتَيْنِ. فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ
سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ
Narrated By
Abu Huraira : The Prophet prayed two Rakat of Zuhr prayer (instead of
four) and he was told that he had prayed two Rakat only. Then he prayed
two more Rakat and finished them with the Taslim followed by two
prostrations.
ہم سے ابو الولید ہشام بن عبد
الملک نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے انہوں نے سعد بن ابراہیم سے انہوں نے
ابو سلمہ ابن عبد الرحمٰن سے انہوں نے ابو ہریرہؓ سے انہوں نے کہا نبی صلی
اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی دو ہی رکعتیں پڑھیں لوگوں نے آپ سے عرض کیا کہ
آپ نے دو رکعتیں پڑھیں اس وقت آپ نے دو رکعتیں اور پڑھیں پھر سلام پھیرا
پھر سہو کے دو سجدے کئے ۔
70. If the Imam weeps in As-Salat?
Abdullah
bin Shaddad said, "I heard Umar weeping while I was in the last row and
Umar (r.a) was reciting '... I only complain of my grief and sorrows to
Allah ...'." (V.12:86)
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ
هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ
الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فِي
مَرَضِهِ " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ ". قَالَتْ
عَائِشَةُ قُلْتُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ إِذَا قَامَ فِي مَقَامِكَ لَمْ
يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ، فَمُرْ عُمَرَ فَلْيُصَلِّ. فَقَالَ
" مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ لِلنَّاسِ ". قَالَتْ عَائِشَةُ
لِحَفْصَةَ قُولِي لَهُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ إِذَا قَامَ فِي مَقَامِكَ لَمْ
يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ، فَمُرْ عُمَرَ فَلْيُصَلِّ
لِلنَّاسِ. فَفَعَلَتْ حَفْصَةُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله
عليه وسلم " مَهْ، إِنَّكُنَّ لأَنْتُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ، مُرُوا
أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ لِلنَّاسِ ". قَالَتْ حَفْصَةُ لِعَائِشَةَ
مَا كُنْتُ لأُصِيبَ مِنْكِ خَيْرًا
Narrated By 'Aisha : The mother of the faithful believers: Allah's
Apostle in his last illness said, "Tell Abu Bakr to lead the people in
the prayer." I said, "If Abu Bakr stood in your place, he would not be
able to make the people hear him owing to his weeping. So please order
'Umar to lead the prayer." He said, "Tell Abu Bakr to lead the people in
the prayer." I said to Hafsa, "Say to him, 'Abu Bakr is a soft-hearted
man and if he stood in your place he would not be able to make the
people hear him owing to his weeping. So order 'Umar to lead the people
in the prayer.' " Hafsa did so but Allah's Apostle said, "Keep quiet.
Verily you are the companions of (Prophet) Joseph. Tell Abu Bakr to lead
the people in the prayer." Hafsa said to me, "I never got any good from
you."
ہم سے اسمٰعیل بن ابی اویس نے
بیان کیا کہا مجھ سے امام مالکؒ نے انہوں نے ہشام بن عروہ سے انہوں نے اپنے
باپ سے انہوں نے حضرت عائشہؓ ام المومنین سے کہ رسول اللہ ﷺ نے ( اپنی
موت ) کی بیماری میں فرمایا ابو بکرؓ سے کہو وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں
حضرت عائشہؓ نے عرض کیا ابو بکرؓ تو جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو روتے
روتے اپنی آواز بھی لوگوں کو سنانا ان کو مشکل ہو گا اس لئے عمرؓ سے
فرمائیے وہ نماز پڑھائیں آپ نے فرمایا(نہیں )ابو بکرؓ سے کہو وہ نماز
پڑھائیں ۔حضرت عائشہؓ نےحضرت حفصہؓ سے کہا تم بھی تو آپﷺسے عرض کروکہ ابو
بکرؓ جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو( آپ کو یاد کر کے ) لوگوں کو قرآن نہ
سنا سکیں گے اس لئے عمرؓ کو حکم دیجیئے وہ نماز پڑھائیں حضرت حفصہؓ نے عرض
کیا آپ نے فرمایا بس چپ رہ تم تو یوسفؑ کی ساتھ والیاں ہو ، ابو بکرؓ
سےکہو وہ نماز پڑھائیں پھر حضرت حفصہؓ حضرت عائشہؓ سے کہہ اٹھیں بھلا مجھ
کو تم سےکہیں بھلائی ہونا ہے ۔
71. Straightening the rows during and after Iqama
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ قَالَ
حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، قَالَ
سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ، قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ
بَشِيرٍ، يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لَتُسَوُّنَّ
صُفُوفَكُمْ أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ "
Narrated By An-Nu'man bin 'Bashir : The Prophet said, "Straighten your rows or Allah will alter your faces."
ہم سے ابو الولید ہشام بن عبد
الملک نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے کہا مجھ سے عمرو بن مرہ نے کہا میں نے
سالم بن ابی الجعد سے سنا کہا میں نے نعمان بن بشیر سے سنا وہ کہتے تھے
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( نماز میں ) اپنی صفیں برابر رکھو نہیں
تو پروردگار تمہارے منہ الٹ دے گا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ
عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم
قَالَ " أَقِيمُوا الصُّفُوفَ فَإِنِّي أَرَاكُمْ خَلْفَ ظَهْرِي "
Narrated By Anas : The Prophet said, "Straighten your rows, for I see you from behind my back.'
ہم سے ابو معمر نے بیان کیا کہا
ہم سے عبد الوارث نے انہوں نے عبد العزیز بن صہیب سے انہوں نے انسؓ سے کہ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صفیں ٹھیک رکھو میں تم کو اپنی پیٹھ کے
پیچھے سے دیکھ رہا ہوں ۔
72. Facing of the Imam towards his followers while straightening the rows
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي رَجَاءٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ
بْنُ عَمْرٍو، قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ
حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ، قَالَ أُقِيمَتِ
الصَّلاَةُ فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
بِوَجْهِهِ فَقَالَ " أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ وَتَرَاصُّوا، فَإِنِّي
أَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي "
Narrated By Anas bin Malik : Once the Iqama was pronounced and Allah's
Apostle faced us and said, "Straighten your rows and stand closer
together, for I see you from behind my back."
ہم سے احمد بن ابی رجاء نے بیان
کیا کہا ہم کو معاویہ بن عمروؓ نے خبر دی کہا ہم کو زائدہ بن قدامہ نے کہا
ہم کو حمید طویل نے کہا ہم کو انس بن مالکؓ نے انہوں نے کہا نماز کی تکبیر
ہوئی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف منہ کیا اور فرمایا
دیکھو صفوں کو برابر رکھو اور مل کر کھڑے ہومیں تم کو اپنی پیٹھ کے پیچھے
سے دیکھ رہا ہوں ۔
73. The first row
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَىٍّ، عَنْ أَبِي
صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه
وسلم " الشُّهَدَاءُ الْغَرِقُ وَالْمَطْعُونُ وَالْمَبْطُونُ
وَالْهَدْمُ "
Narrated By Abu
Huraira : The Prophet said, "Martyrs are those who die because of
drowning, plague, an abdominal disease, or of being buried alive by a
falling building."
ہم سے ابو
عاصم ضحاک بن مخلد نے بیان کیا انہوں نے امام مالک سے انہوں نے سمی سے
انہوں نے ابو صالح ذکوان سے انہوں نے ابو ہریرہؓ سے کہ نبی صلی اللہ علیہ
وسلم نے فرمایا وہ بھی شہید ہو جو ڈوب جائے اور پیٹ کی بیماری سے مرے اور
جو طاعون سے مرے اور جو دب کر ( عمارت گرنے سے ) مرے ۔
قَالَ " وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي التَّهْجِيرِ لاَسْتَبَقُوا
{إِلَيْهِ} وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ
لأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي الصَّفِّ
الْمُقَدَّمِ لاَسْتَهَمُوا "
And then he added, "If the people knew the Reward for the Zuhr prayer in
its early time, they would race for it. If they knew the reward for the
'Isha and the Fajr prayers in congregation, they would join them even
if they had to crawl. If they knew the reward for the first row, they
would draw lots for it."
اور
آپ نے فرمایا اگر لوگ جانیں جو ثواب نماز کےلیے جلدی آنے میں ہے تو ایک
دوسرے سے آگے بڑھیں اور اگر جان لیں جو ثواب عشاء اور صبح کی نماز میں ہے
تو گھٹنوں کے بل گھسٹتے ہوئے ان میں آئیں اور اگر جان لیں جو ثواب آگے
کی صف میں ہے تو ( اس کے لیے ) قرعہ ڈالیں ۔
74. The straightening of the rows is amongst those obligatory and the good things which makes your As- Salat correct and perfect
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ
الرَّزَّاقِ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي
هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ "
إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَلاَ تَخْتَلِفُوا عَلَيْهِ،
فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ
حَمِدَهُ. فَقُولُوا رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ. وَإِذَا سَجَدَ
فَاسْجُدُوا، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ،
وَأَقِيمُوا الصَّفَّ فِي الصَّلاَةِ، فَإِنَّ إِقَامَةَ الصَّفِّ مِنْ
حُسْنِ الصَّلاَةِ "
Narrated By
Abu Huraira : The Prophet said, "The Imam is (appointed) to be followed.
So do not differ from him, bow when he bows, and say, "Rabbana-lakal
hamd" if he says "Sami'a-l-lahu Liman hamida"; and if he prostrates,
prostrate (after him), and if he prays sitting, pray sitting all
together, and straighten the rows for the prayer, as the straightening
of the rows is amongst those things which make your prayer a correct and
perfect one.
ہم سے عبدا للہ بن
محمد سندی نے بیان کیا کہا ہم کو عبد الرزاق نے خبر دی کہا ہم کو معمر نے
انہوں نے ہمام بن منبہ سے انہوں نے ابو ہریرہؓ سے انہوں نے نبی صلی اللہ
علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا امام اس لیے مقرر ہوا ہے کہ اس کی پیروی کی
جائے تو اس سے اختلاف نہ کرو جب وہ رکوع کرے تم بھی رکوع کرو اور جب وہ
سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم ربنا لک الحمد کہو اور جب وہ سجدہ کرے تم بھی
سجدہ کرو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تم بھی سب بیٹھ کر پڑھو اور نماز
میں صف برابر رکھو اس لیے کہ صف برابر کرنا نماز کا حسن ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ،
عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " سَوُّوا
صُفُوفَكُمْ فَإِنَّ تَسْوِيَةَ الصُّفُوفِ مِنْ إِقَامَةِ الصَّلاَةِ "
Narrated By Anas bin Malik : The Prophet said, "Straighten your rows as
the straightening of rows is essential for a perfect and correct
prayer."
ہم سے ابو الولید ہشام بن عبد
الملک نے بیان کیا کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی انہوں نے قتادہ سے انہوں نے
انسؓ سے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا اپنی صفیں برابر
کرو کیونکہ صف برابر کرنا نماز کے قائم کرنے میں داخل ہے ۔
75. The sin of the person who does not complete the rows (who is out of alignment) for the Salat
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ أَسَدٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ
مُوسَى، قَالَ أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّائِيُّ، عَنْ
بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ
قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَقِيلَ لَهُ مَا أَنْكَرْتَ مِنَّا مُنْذُ يَوْمِ
عَهِدْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ مَا أَنْكَرْتُ شَيْئًا
إِلاَّ أَنَّكُمْ لاَ تُقِيمُونَ الصُّفُوفَ. وَقَالَ عُقْبَةُ بْنُ
عُبَيْدٍ عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ قَدِمَ عَلَيْنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
الْمَدِينَةَ بِهَذَا
Narrated
By Anas bin Malik : I arrived at Medina and was asked whether I found
any change since the days of Allah's Apostle. I said, "I have not found
any change except that you do not stand in alignment in your prayers."
ہم سے معاذ بن اسد نے بیان کیا
کہا ہم کو فضل بن موسیٰ نے خبر دی کہا ہم کو سعید بن عبید طائی نے انہوں نے
بشیر بن یسار انصاری سے انہوں نے انس بن مالکؓ سے وہ ( بصرے سے )مدینہ میں
آئے لوگوں نے ان سے کہا دیکھو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد سے تم
نے کونسی بات ہم میں خلاف پائی انہوں نے کہا میں نے تو اس کے خلاف تم میں
کوئی بات نہیں پائی بس ایک یہ ہے کہ تم(نماز میں ) صفیں برابر نہیں کرتے
۔عقبہ بن عبید نے بشیر بن یسار سے یوں روایت کیا کہ انسؓ مدینہ میں ہم
لوگوں کےپاس آئے پھر یہی حدیث بیان کی ۔
76. To stand shoulder to shoulder and foot to foot in the row
And An-Nauman bin Bashir said, "I saw that everyone of us used to put his heel with heel of his companion."
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ
حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ "
أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي ".
وَكَانَ أَحَدُنَا يُلْزِقُ مَنْكِبَهُ بِمَنْكِبِ صَاحِبِهِ وَقَدَمَهُ
بِقَدَمِهِ
Narrated By Anas bin
Malik : The Prophet said, "Straighten your rows for I see you from
behind my back." Anas added, "Everyone of us used to put his shoulder
with the shoulder of his companion and his foot with the foot of his
companion."
ہم سے عمرو بن خالد نے بیان کیا
کہا ہم کو زہیر بن معاویہ نے خبر دی انہوں نے حمید سے انہوں نے انسؓ سے
انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا اپنی صفیں برابر رکھو
میں تم کو پیٹھ کے پیچھے سے دیکھتا ہوں اور ہم میں سے ہر شخص یہ کرتا ( صف
میں ) اپنا مونڈھا اپنے ساتھی کے مونڈھے سے اور اپنا قدم اس کے قدم سے ملا
دیتا ۔
77. If a person stands by the left side of the Imam, and the Imam draws him to the right from behind, his Salat is correct
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ
عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ
عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله
عليه وسلم ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَأَخَذَ رَسُولُ
اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِرَأْسِي مِنْ وَرَائِي، فَجَعَلَنِي عَنْ
يَمِينِهِ، فَصَلَّى وَرَقَدَ فَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ، فَقَامَ وَصَلَّى
وَلَمْ يَتَوَضَّأْ
Narrated By
Ibn 'Abbas : I prayed with the Prophet one night and stood on his left
side. Allah's Apostle caught hold of my head from behind and drew me to
his right and then offered the prayer and slept. Later the Mu'adh-dhin
came and the Prophet stood up for prayer without performing ablution.
ہم سے قتیبہ بن سعید نےبیان کیا
کہا ہم سےداؤد بن عبد الرحمٰن نے انہوں نے عمرو بن دینار سے انہوں نے کریب
سے جو عبد اللہ ابن عباسؓ کے غلام تھے انہوں نے کہا میں نے نبی صلی اللہ
علیہ وسلم کے ساتھ ایک رات ( تہجد کی) نماز پڑھی میں آپ کے بائیں طرف کھڑا
ہوا آپ نے پیچھے سے میرا سر تھاما اور (گھما کر) اپنے دائیں طرف کر لیا
پھر نماز پڑھ کر آپ سو رہے ،بعد اس کے مؤذن آیا آپ کھڑے ہوئے اور ( صبح
کی ) نماز پڑھائی وضو نہیں کیا ۔
78. One woman can form a row
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ،
عَنْ إِسْحَاقَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ صَلَّيْتُ أَنَا
وَيَتِيمٌ، فِي بَيْتِنَا خَلْفَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأُمِّي
أُمُّ سُلَيْمٍ خَلْفَنَا
Narrated By Anas bin Malik : One night an orphan and I offered the
prayers behind the Prophet in my house and my mother (Um Sulaim) was
standing behind us (by herself forming a row).
ہم سے عبد اللہ بن مسندی نے
بیان کیا کہا ہم سے سفیان ابن عینیہ نے انہوں نے اسحٰق بن عبد اللہ بن ابی
طلحہ سے انہوں نے انس بن مالکؓ سے انہوں نے کہا میں نے اور ایک یتیم لڑکے (
ضمیرہ بن ابی ضمیرہ ) نے جو ہمارے گھر میں تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے
پیچھے نماز پڑھی اور میری ماں ام سلیم ہمارے پیچھے تھی۔
79. The right side of the masjid and the place to the right of the Imam
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ،
عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قُمْتُ
لَيْلَةً أُصَلِّي عَنْ يَسَارِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَخَذَ
بِيَدِي أَوْ بِعَضُدِي حَتَّى أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ، وَقَالَ
بِيَدِهِ مِنْ وَرَائِي
Narrated
By Ibn 'Abbas : One night I stood to the left of the Prophet in the
prayer but he caught hold of me by the hand or by the shoulder (arm)
till he made me stand on his right and beckoned with his hand (for me)
to go from behind (him).
ہم سے
موسیٰ بن اسمٰعیل نے بیان کیا کہا ہم سے ثابت بن یزید نے کہا ہم سے عاصم
احول نے انہوں نے عامر شعبی سے انہوں نے عبد اللہ بن عباسؓ سے انہوں نے کہا
میں ایک رات ( تہجد کی ) نماز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف کھڑے
ہو کر پڑھنے لگا آپ نے میرا ہاتھ یا بازو تھاما اور مجھ کو اپنی داہنی طرف
کھڑا کر دیا آپ نے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ پیچھے سے گھوم آ۔
80. If there is a wall or a Sutra between the Imam and followers
Al-Hasan
said, "There is no harm in offering Salat if there is a river between
you and the Imam."
Abu Mijlaz said, "One can follow the Imam even if there is a road or a
wall between the Imam and followers provided the Takbir (Allahu Akber)
is audible."
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ
سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ
رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ فِي
حُجْرَتِهِ، وَجِدَارُ الْحُجْرَةِ قَصِيرٌ، فَرَأَى النَّاسُ شَخْصَ
النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَامَ أُنَاسٌ يُصَلُّونَ بِصَلاَتِهِ،
فَأَصْبَحُوا فَتَحَدَّثُوا بِذَلِكَ، فَقَامَ لَيْلَةَ الثَّانِيَةِ،
فَقَامَ مَعَهُ أُنَاسٌ يُصَلُّونَ بِصَلاَتِهِ، صَنَعُوا ذَلِكَ
لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلاَثَةً، حَتَّى إِذَا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ جَلَسَ
رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يَخْرُجْ، فَلَمَّا أَصْبَحَ
ذَكَرَ ذَلِكَ النَّاسُ فَقَالَ " إِنِّي خَشِيتُ أَنْ تُكْتَبَ
عَلَيْكُمْ صَلاَةُ اللَّيْلِ "
Narrated By 'Aisha : Allah's Apostle used to pray in his room at night.
As the wall of the room was LOW, the people saw him and some of them
stood up to follow him in the prayer. In the morning they spread the
news. The following night the Prophet stood for the prayer and the
people followed him. This went on for two or three nights. Thereupon
Allah's Apostle did not stand for the prayer the following night, and
did not come out. In the morning, the people asked him about it. He
replied, that he way afraid that the night prayer might become
compulsory.
ہم سے محمد بن سلام بیکندی نے
بیان کیا کہا ہم سے عبدہ بن سلیمان نے انہوں نے یحییٰ بن سعید انصاری سے
انہوں نے عمرہ بنت عبد الرحمٰن سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اپنے حجرے میں ( تہجد کی ) نماز پڑھا
کرتے اور حجرے کی دیوار پست تھی لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم
مبارک دیکھ لیا اور کچھ لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھتے رہے جب صبح
ہوئی تو اس کا چرچا کرنے لگے پھر دوسری رات آپ کھڑے ہوئے تب بھی چند لوگ
آپ کے ساتھ نماز پڑھتے رہے دو یا تین راتوں تک وہ ایسا ہی کرتے رہے اس کے
بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ رہے اور نماز کے مقام پر تشریف
لائے ہی نہیں جب صبح ہوئی تو لوگوں نے اس کا ذکر کیا آپ نے فرمایا میں ڈر
گیا کہیں رات کی نماز ( تہجد ) تم پر فرض نہ ہو جائے ۔
81. The night prayer
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي
فُدَيْكٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ،
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله
عنها ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ لَهُ حَصِيرٌ يَبْسُطُهُ
بِالنَّهَارِ، وَيَحْتَجِرُهُ بِاللَّيْلِ، فَثَابَ إِلَيْهِ نَاسٌ،
فَصَلَّوْا وَرَاءَهُ
Narrated By
'Aisha : The Prophet had a mat which he used to spread during the day
and use as a curtain at night. So a number of people gathered at night
facing it and prayed behind him.
ہم سے ابراہیم بن منذر نے بیان کیا کہا ہم سے محمد بن اسمٰعیل بن ابی فدیک
نے کہا ہم کو محمد بن عبد الرحمٰن بن ابی ذئب نے خبر دی انہوں نے سعید بن
ابی سعید مقبری سے انہوں نے ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن سے انہوں نے حضرت
عائشہؓ سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بوریا تھا جس کو آپ دن کو
بچھایا کرتے اور رات کو اس کی اوٹ ( پردہ ) کر لیتے چند لوگ آپ کے پاس
کھڑے ہوئے یا آپ کی طرف جھکے اور آپ کے پیچھے صف باندھی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ،
قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ،
عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ رَسُولَ
اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اتَّخَذَ حُجْرَةً ـ قَالَ حَسِبْتُ أَنَّهُ
قَالَ ـ مِنْ حَصِيرٍ فِي رَمَضَانَ فَصَلَّى فِيهَا لَيَالِيَ، فَصَلَّى
بِصَلاَتِهِ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا عَلِمَ بِهِمْ جَعَلَ
يَقْعُدُ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ " قَدْ عَرَفْتُ الَّذِي رَأَيْتُ
مِنْ صَنِيعِكُمْ، فَصَلُّوا أَيُّهَا النَّاسُ فِي بُيُوتِكُمْ، فَإِنَّ
أَفْضَلَ الصَّلاَةِ صَلاَةُ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلاَّ الْمَكْتُوبَةَ
" قَالَ عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا مُوسَى، سَمِعْتُ
أَبَا النَّضْرِ، عَنْ بُسْرٍ، عَنْ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه
وسلم
Narrated By Zaid bin
Thabit : Allah's Apostle made a small room in the month of Ramadan
(Sa'id said, "I think that Zaid bin Thabit said that it was made of a
mat") and he prayed there for a few nights, and so some of his
companions prayed behind him. When he came to know about it, he kept on
sitting. In the morning, he went out to them and said, "I have seen and
understood what you did. You should pray in your houses, for the best
prayer of a person is that which he prays in his house except the
compulsory prayers."
ہم سے عبد الاعلیٰ بن حماد نے
بیان کیا کہا ہم سے وہیب ابن خالد نےکہا ہم سے موسیٰ بن عقبیٰ نے انہوں نے
سالم ابو النضر سے انہوں نے بسر بن سعید سے انہوں نے زید بن ثابت سے کہ
رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں ایک حجرہ بنا لیا یا اوٹ بسر بن سعید
نے کہا میں سمجھتا ہوں وہ بوریے کا تھا اس کے اندر کئی راتوں تک آپ نماز
پڑھتے رہے آپ کے ساتھ آپ کے اصحاب بھی کئی لوگوں نے نماز پڑھی جب آپ کو
ان کا حال معلوم ہوا تو آپ نے بیٹھ رہنا شروع کیا (نماز موقوف رکھی ) پھر
برآمد ہوئے اور فرمایا تم نے جو کیا وہ مجھ کو معلوم ہے لیکن لوگو تم
اپنے گھروں میں نماز پڑھتے رہو کیونکہ بہتر نماز آدمی کی وہی ہے جو اس کے
گھر میں ہو مگر فرض نماز ( مسجد میں پڑھنا افضل ہے ) اور عفان ابن مسلم نے
کہا ہم کو وہیب نے خبر دی کہا ہم کو موسیٰ بن عقبہ نے کہا میں نے ابو النضر
بن ابی امیہ سے سنا انھوں نے بسر بن سعید سے انہوں نے زید بن ثابت سے
انہوں نےنبی صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
82. The necessity of saying the Takbir and the commencement of As-Salat
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ
الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ الأَنْصَارِيُّ،
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَكِبَ فَرَسًا، فَجُحِشَ
شِقُّهُ الأَيْمَنُ، قَالَ أَنَسٌ ـ رضى الله عنه ـ فَصَلَّى لَنَا
يَوْمَئِذٍ صَلاَةً مِنَ الصَّلَوَاتِ وَهْوَ قَاعِدٌ، فَصَلَّيْنَا
وَرَاءَهُ قُعُودًا، ثُمَّ قَالَ لَمَّا سَلَّمَ " إِنَّمَا جُعِلَ
الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا،
وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِذَا سَجَدَ
فَاسْجُدُوا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ. فَقُولُوا
رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ "
Narrated By Anas bin Malik Al-Ansari : Allah's Apostle rode a horse and
fell down and the right side of his body was injured. On that day he
prayed one of the prayers sitting and we also prayed behind him sitting.
When the Prophet finished the prayer with Taslim, he said, "The Imam is
to be followed and if he prays standing then pray standing, and bow
when he bows, and raise your heads when he raises his head; prostrate
when he prostrates; and if he says 'Sami'a-l-lahu Liman hamida', you
should say, 'Rabbana wa-laka-l hamd.'"
ہم سے ابو الیمان حکم بن نافع
نے بیان کیا کہا ہم کو شعیب نے خبر دی انہوں نے زہری سے انہوں نے کہا مجھ
کو انس بن مالکؓ انصاری نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک
گھوڑے پر سوار ہوئے ( اس پر سے گر پڑے ) آپ کا داہنا پہلو چھل گیا آپ نے
اس دن کوئی نماز ان (فرض) نمازوں میں سے بیٹھ کر پڑھائی ہم نے بھی آپ کے
پیچھے بیٹھ کر پڑھی پھر آپ نے جب سلام پھیرا تو فرمایا امام اس لئے مقرر
ہوا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے جب وہ کھڑے ہوکر نماز پڑھے تم بھی کھڑے ہو
کر پڑھو اور جب وہ رکوع کرے تم بھی رکوع کرو اور جب وہ سر اٹھائے تم بھی
سر اٹھاؤ اور جب وہ سجدہ کرے تم بھی سجدہ کرو اور جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ
کہے تو تم ربنا و لک الحمد کہو۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ
شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ خَرَّ رَسُولُ اللَّهِ
صلى الله عليه وسلم عَنْ فَرَسٍ فَجُحِشَ فَصَلَّى لَنَا قَاعِدًا
فَصَلَّيْنَا مَعَهُ قُعُودًا، ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ " إِنَّمَا
الإِمَامُ ـ أَوْ إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ ـ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا
كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ
فَارْفَعُوا، وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ. فَقُولُوا
رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ. وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا "
Narrated By Anas bin Malik : Allah's Apostle fell from a horse and got
injured so he led the prayer sitting and we also prayed sitting. When he
completed the prayer he said, "The Imam is to be followed; if he says
Takbir then say Takbir, bow if he bows; raise your heads when he raises
his head, when he says, 'Sami' a-l-lahu Liman hamida say, 'Rabbana
laka-l-hamd', and prostrate when he prostrates."
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان
کیا کہا ہم سے لیث بن سعد نے انہوں نے ابن شہاب زہری سے انہوں نے انس بن
مالکؓ سے انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے پر سے گر پڑے
آپ کا بدن چھل گیا آپ نے بیٹھ کر ہم کو نماز پڑھائی ہم نے بھی آپ کے
ساتھ بیٹھ کر نماز پڑھی جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا امام اس لئے مقرر
ہوا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے جب وہ تکبیر کہے تم بھی تکبیر کہو جب وہ
رکوع کرے تم بھی رکوع کرو اور جب وہ (رکوع سے ) سر اٹھائے تم بھی اٹھاؤ اور
جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم ربنا و لک الحمد کہو اور جب وہ سجدہ
کرے تم بھی سجدہ کرو۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ
حَدَّثَنِي أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،
قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ
لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا رَكَعَ
فَارْكَعُوا، وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ. فَقُولُوا
رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ. وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَإِذَا صَلَّى
جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ "
Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "The Imam is to be
followed. Say the Takbir when he says it; bow if he bows; if he says
'Sami a-l-lahu Liman hamida', say, ' Rabbana wa-laka-l-hamd', prostrate
if he prostrates and pray sitting altogether if he prays sitting."
ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا
کہا ہم کو شعیب نے خبر دی کہا مجھ سے ابو الزناد نے بیان کیا انہوں نے اعرج
سے انہوں نے ابو ہریرہؓ سے کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امام اس
لئے مقرر ہوا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے پھر جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی
تکبیر کہو اور جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب وہ سمع اللہ لمن
حمدہ کہے تو تم ربنا و لک الحمد کہو اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو
اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے توتم سب بیٹھ کر نماز پڑھو۔
83. To raise both hands on saying the first Takbir simultaneously with opening the Salat
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ
شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ
اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ
إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَةَ، وَإِذَا كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ، وَإِذَا رَفَعَ
رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا كَذَلِكَ أَيْضًا وَقَالَ " سَمِعَ
اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ". وَكَانَ لاَ
يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ
Narrated By Salim bin 'Abdullah : My father said, "Allah's Apostle used
to raise both his hands up to the level of his shoulders when opening
the prayer; and on saying the Takbir for bowing. And on raising his head
from bowing he used to do the same and then say "Sami a-l-lahu Liman
hamida, Rabbana walaka-l-hamd." And he did not do that (i.e. raising his
hands) in prostrations.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی
نے بیان کیا انہوں نے امام مالکؒ سے انہوں نے ابن شہاب سے انہوں نے سالم
ابن عبد اللہ سے انہوں نے اپنے باپ (عبد اللہ بن عمرؓ)سے کہ رسول صلی اللہ
علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو دونوں مونڈھوں تک ہاتھ اٹھاتے اور جب رکوع
کی تکبیر کرتے اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تب بھی اسی طرح دونوں ہاتھ
اٹھاتے اور سمع اللہ لمن حمدہ ربنا و لک الحمد کہتے اور سجدوں کے بیچ میں
ہاتھ نہ اٹھاتے ۔
84. To raise both hands while saying Takbir and while bowing and on raising up the head (after bowing)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ،
قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ
عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، رضى الله عنهما قَالَ
رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا قَامَ فِي الصَّلاَةِ
رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَكَانَ يَفْعَلُ
ذَلِكَ حِينَ يُكَبِّرُ لِلرُّكُوعِ، وَيَفْعَلُ ذَلِكَ إِذَا رَفَعَ
رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ وَيَقُولُ " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ
". وَلاَ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ
Narrated By 'Abdullah bin 'Umar : I saw that whenever Allah's Apostle
stood for the prayer, he used to raise both his hands up to the
shoulders, and used to do the same on saying the Takbir for bowing and
on raising his head from it and used to say, "Sami a-l-lahu Liman
hamida". But he did not do that (i.e. raising his hands) in
prostrations.
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان
کیا کہا ہم کو عبد اللہ بن مبارک نے خبر دی کہا ہم کو یونس بن یزید ایلی نے
انہوں نے زہری سے انہوں نے کہا مجھ کو سالم بن عبد اللہ بن عمرؓ نے انہوں
نے عبد اللہ بن عمر ؓ سے انہوں نے کہا میں نے دیکھا رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم جب نماز میں کھڑے ہوتے تو ( تکبیر تحریمہ کے وقت) اپنے دونوں
ہاتھ مونڈھوں کے برابر اٹھاتے اور جب رکوع کے لئے تکبیر کہتے جب بھی ایسا
ہی کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے اس وقت بھی ایسا ہی کرتے اور فرماتے سمع
اللہ لمن حمدہ ۔البتہ سجدوں کے بیچ میں ہاتھ نہ اٹھاتے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْوَاسِطِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ
عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، أَنَّهُ رَأَى
مَالِكَ بْنَ الْحُوَيْرِثِ إِذَا صَلَّى كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ،
وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ
مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَ يَدَيْهِ، وَحَدَّثَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى
الله عليه وسلم صَنَعَ هَكَذَا
Narrated By Abu Qilaba : I saw Malik bin Huwairith saying Takbir and
raising both his hands (on starting the prayers and raising his hands on
bowing and also on raising his head after bowing. Malik bin Huwairith
said, "Allah's Apostle did the same."
ہم سے اسحٰق بن شاہین واسطی نے
بیان کیا کہا ہم سے خالد بن عبد اللہ طحان نے انہوں نے خالد خدا ء سے
انہوں نے ابو قلابہ سے انہوں نے مالک بن حویرثؓ (صحابی) کو دیکھا جب وہ
نماز شروع کرتے تو اللہ اکبر کہتے اور دونوں ہاتھ اٹھاتے اور جب رکوع کرنے
لگتے تو بھی دونوں ہاتھ اٹھاتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی دونوں ہاتھ
اٹھاتے اور بیان کرتے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسا ہی کرتے دیکھا ۔
85. To what level should one raise one's hands?
In the presence of his companions Abu Humaid said, "The Prophet (s.a.w) raised his hands up to his shoulders."
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ
الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنَا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ
عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ
صلى الله عليه وسلم افْتَتَحَ التَّكْبِيرَ فِي الصَّلاَةِ، فَرَفَعَ
يَدَيْهِ حِينَ يُكَبِّرُ حَتَّى يَجْعَلَهُمَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ،
وَإِذَا كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ فَعَلَ مِثْلَهُ، وَإِذَا قَالَ سَمِعَ
اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ. فَعَلَ مِثْلَهُ وَقَالَ " رَبَّنَا وَلَكَ
الْحَمْدُ ". وَلاَ يَفْعَلُ ذَلِكَ حِينَ يَسْجُدُ وَلاَ حِينَ
يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ
Narrated By 'Abdullah bin 'Umar : I saw Allah's Apostle opening the
prayer with the Takbir and raising his hands to the level of his
shoulders at the time of saying the Takbir, and on saying the Takbir for
bowing he did the same; and when he said, "Sami a-l-lahu Liman hamida
", he did the same and then said, "Rabbana wa laka-l-hamd." But he did
not do the same on prostrating and on lifting the head from it."
ہم سے ابو الیمان حکم بن نافع
نے بیان کیا کہا ہم کو شعیب نے خبر دی انہوں نے زہری سے انہوں نے کہا مجھ
کو سالم بن عبد اللہ بن عمرؓ نے کہ عبد اللہ بن عمرؓ نے کہا میں نے نبی ﷺ
کو دیکھا آپ نے اللہ اکبر کہہ کے نماز شروع کی اور اللہ اکبر کہتے وقت
دونوں ہاتھ اٹھائے یہاں تک کہ ان کو مونڈھوں کے برابر کر دیا اور رکوع کی
تکبیر کے وقت بھی ایسا ہی کیا اور جب سمع اللہ لمن حمدہ کہا تو بھی ایسا ہی
کیا اور فرمایا ربنا و لک الحمد اور سجدہ میں ایسا نہیں کرتے (یعنی ہاتھ
نہیں اٹھاتے ) اور نہ جب سجدے سے سر اٹھاتے ۔
86. To raise one's hands after finishing the second Raka (when standing for the third Raka)
حَدَّثَنَا عَيَّاشٌ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، قَالَ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ
إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلاَةِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ
رَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ. رَفَعَ
يَدَيْهِ، وَإِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ رَفَعَ يَدَيْهِ. وَرَفَعَ
ذَلِكَ ابْنُ عُمَرَ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم. رَوَاهُ
حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ
عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. وَرَوَاهُ ابْنُ طَهْمَانَ عَنْ
أَيُّوبَ وَمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ مُخْتَصَرًا
Narrated By Nafi' : Whenever Ibn 'Umar started the prayer with Takbir,
he used to raise his hands: whenever he bowed, he used to raise his
hands (before bowing) and also used to raise his hands on saying, "Sami
a-l-lahu Liman hamida", and he used to do the same on rising from the
second Rak'a (for the 3rd Rak'a). Ibn 'Umar said: "The Prophet used to
do the same."
ہم سے عیاش بن ولید نے بیان کی
کہا ہم سے عبد الا علیٰ بن عبد الاعلیٰ نے کہا ہم سے عبید اللہ عمری نے
انہوں نے نافع سے کہ عبد اللہ بن عمرؓ جب نماز میں داخل ہوتے تو تکبیر کہتے
اور دونوں ہاتھ اٹھاتے اور جب رکوع کرتے تو بھی دونوں ہاتھ اٹھاتے اور جب
سمع اللہ لمن حمدہ کہتے تب بھی دونوں ہاتھ اٹھاتے اور جب دورکعتیں پڑھ کر
اٹھتے جب بھی دونوں ہاتھ اٹھاتے اور عبد اللہ بن عمرؓ نے اس کو نبی ﷺ تک
پہنچایا اس حدیث کو حماد بن سلمہ نے ایوب سختیانی سے انہوں نے نافع سے
انہوں نے ابن عمرؓ سے انہوں نے نبی ﷺ سے مرفوعًا روایت کیا اور ابراہیم بن
طہمان نے اس کو ایوب اور موسیٰ بن عقبہ سے اختصار کے ساتھ روایت کیا۔
87. To place the right hand on the left
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي
حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ كَانَ النَّاسُ يُؤْمَرُونَ أَنْ
يَضَعَ الرَّجُلُ الْيَدَ الْيُمْنَى عَلَى ذِرَاعِهِ الْيُسْرَى فِي
الصَّلاَةِ. قَالَ أَبُو حَازِمٍ لاَ أَعْلَمُهُ إِلاَّ يَنْمِي ذَلِكَ
إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. قَالَ إِسْمَاعِيلُ يُنْمَى
ذَلِكَ. وَلَمْ يَقُلْ يَنْمِي
Narrated By Sahl bin Sa'd : The people were ordered to place the right
hand on the left forearm in the prayer. Abu Hazim said, "I knew that the
order was from the Prophet."
ہم سے عبد اللہ بن مسلمہ قعنبی
نے بیان کیا انہوں نے امام مالکؒ سے انہوں نے ابو حازم بن دینار سے انہوں
نے سہل بن سعد سے انہوں نے کہا لوگوں کو یہ حکم دیا جاتا تھا کہ نماز میں
ہر آدمی اپنا داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھے اور ابو حازم نے کہا میں تو
یہی سمجھتا ہوں کہ سہل اس بات کو نبی ﷺ تک پہنچاتے تھے اسمٰعیل بن ابی
اویس نے کہا یہ بات آپ ﷺ تک پہنچائی جاتی تھی ۔ یوں نہیں کہا پہنچاتے تھے ۔
88. Submissiveness in As-Salat
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي
الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ
اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " هَلْ تَرَوْنَ قِبْلَتِي هَا هُنَا
وَاللَّهِ مَا يَخْفَى عَلَىَّ رُكُوعُكُمْ وَلاَ خُشُوعُكُمْ، وَإِنِّي
لأَرَاكُمْ وَرَاءَ ظَهْرِي "
Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "You see me facing the
Qibla; but, by Allah, nothing is hidden from me regarding your bowing
and submissiveness and I see you from behind my back."
ہم سے اسمٰعیل بن ابی اویس نے
بیان کیا کہا مجھ سےامام مالکؒ نے انہوں نے ابو الزناد سے انہوں نے اعرج سے
انہوں نے ابو ہریرہؓ سے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کیا تم سمجھتے ہو میرا
منہ ادھر( قبلے کی طرف ہے ) قسم خدا کی تمہارا رکوع اور تمہارا خشوع مجھ
پر کچھ چھپا ہوا نہیں اور میں تم کو اپنی پیٹھ کے پیچھے سے ہی دیکھتا ہوں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، قَالَ
حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ،
عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَقِيمُوا الرُّكُوعَ
وَالسُّجُودَ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لأَرَاكُمْ مِنْ بَعْدِي ـ وَرُبَّمَا
قَالَ مِنْ بَعْدِ ظَهْرِي ـ إِذَا رَكَعْتُمْ وَسَجَدْتُمْ "
Narrated By Anas bin Malik : The Prophet said, "Perform the bowing and
the prostrations properly. By Allah, I see you from behind me (or from
behind my back) when you bow or prostrate."
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا
کہا ہم سے غندر نے کہا ہم سے شعبہ نے کہا میں نے قتادہ سے سنا انہوں نے
انسؓ سے کہ نبی ﷺ نے فرمایا رکوع اور سجدہ ٹھیک طور سے کرو کیونکہ قسم
خدا کی جب تم رکوع اور سجدہ کرتے ہو تو میں تم کو اپنے پیچھے سے یا فرمایا
اپنی پیٹھ کے پیچھے سے دیکھتا ہوں۔
89. What to say after the Takbir
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ
قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَأَبَا
بَكْرٍ وَعُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ كَانُوا يَفْتَتِحُونَ الصَّلاَةَ بِ ـ
{الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ}
Narrated By Anas bin Malik : The
Prophet, Abu Bakr and 'Umar used to start the prayer with "Al-hamdu
lil-lahi Rabbil-'ala-min (All praises are for Allah the Lord of the
Worlds)."
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا
کہا ہم سے شعبہ نے انہوں نے قتادہ سے انہوں نے انسؓ سے کہ نبی ﷺ اور ابو
بکرؓاور عمرؓ نماز میں قراءت الحمد للہ رب العالمین سے شروع کرتےتھے ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ
الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ،
قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ،
قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَسْكُتُ بَيْنَ
التَّكْبِيرِ وَبَيْنَ الْقِرَاءَةِ إِسْكَاتَةً ـ قَالَ أَحْسِبُهُ قَالَ
هُنَيَّةً ـ فَقُلْتُ بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِسْكَاتُكَ
بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ مَا تَقُولُ قَالَ " أَقُولُ
اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَاىَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ
الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا
يُنَقَّى الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْ
خَطَايَاىَ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ "
Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle used to keep silent between
the Takbir and the recitation of Qur'an and that interval of silence
used to be a short one. I said to the Prophet "May my parents be
sacrificed for you! What do you say in the pause between Takbir and
recitation?" The Prophet said, "I say, 'Allahumma, ba'id baini wa baina
khatayaya kama ba'adta baina-l-mashriqi wa-l-maghrib. Allahumma, naqqim
min khatayaya kama yunaqqa-ththawbu-l-abyadu mina-ddanas. Allahumma,
ighsil khatayaya bil-ma'i wa-th-thalji wal-barad (O Allah! Set me apart
from my sins (faults) as the East and West are set apart from each other
and clean me from sins as a white garment is cleaned of dirt (after
thorough washing). O Allah! Wash off my sins with water, snow and
hail.)"
ہم سے موسیٰ بن اسمٰعیل نے بیان
کیا کہا ہم سے عبد الواحد ابن زیاد نے کہا ہم سے عمارہ بن قعقاع نے کہا ہم
سے ابو زرعہ ہرمز نے کہا مجھ سے ابو ہریرہؓ نے انہوں نے کہا رسول اللہﷺ
تکبیر تحریمہ اور قراءت کے درمیان (ذرا) چپ رہتے ابوزرعہ نے کہا میں سمجھتا
ہوں ابو ہریرہؓ نے کہا تھوڑی دیر تو میں نے عرض کیا یارسول اللہﷺ میرے ماں
باپ آپ پر قربان آپ تکبیر اور قراءت کے درمیان جو چپ رہتے ہیں اس میں
کیا پڑھتے ہیں ،آپ نے فرمایا میں یہ کہتا ہوں یا اللہ مجھ سے میرے گناہ
اتنے دور کر دے جیسے پورب سے پچھم ، یا اللہ مجھ کو گناہوں سے ایسا پاک کر
دے جیسے سفید کپڑا میل کچیل سے پاک ہو جاتا ہے ، یا اللہ میرے گناہ پانی
اور برف اور اولوں سے دھو ڈال ۔
90. Chapter
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ،
قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي
بَكْرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى صَلاَةَ الْكُسُوفِ،
فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ
قَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ثُمَّ
رَفَعَ، ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ، ثُمَّ رَفَعَ، ثُمَّ سَجَدَ
فَأَطَالَ السُّجُودَ، ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَكَعَ
فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَكَعَ
فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ثُمَّ رَفَعَ فَسَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ، ثُمَّ
رَفَعَ، ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ "
قَدْ دَنَتْ مِنِّي الْجَنَّةُ حَتَّى لَوِ اجْتَرَأْتُ عَلَيْهَا
لَجِئْتُكُمْ بِقِطَافٍ مِنْ قِطَافِهَا، وَدَنَتْ مِنِّي النَّارُ حَتَّى
قُلْتُ أَىْ رَبِّ وَأَنَا مَعَهُمْ فَإِذَا امْرَأَةٌ ـ حَسِبْتُ أَنَّهُ
قَالَ ـ تَخْدِشُهَا هِرَّةٌ قُلْتُ مَا شَأْنُ هَذِهِ قَالُوا حَبَسَتْهَا
حَتَّى مَاتَتْ جُوعًا، لاَ أَطْعَمَتْهَا، وَلاَ أَرْسَلَتْهَا تَأْكُلُ
". قَالَ نَافِعٌ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ " مِنْ خَشِيشِ أَوْ
خُشَاشِ الأَرْضِ "
Narrated By
Asma' bint Abi Bakr : The Prophet once offered the eclipse prayer. He
stood for a long time and then did a prolonged bowing. He stood up
straight again and kept on standing for a long time, then bowed a long
bowing and then stood up straight and then prostrated a prolonged
prostration and then lifted his head and prostrated a prolonged
prostration. And then he stood up for a long time and then did a
prolonged bowing and then stood up straight again and kept on standing
for a long time. Then he bowed a long bowing and then stood up straight
and then prostrated a prolonged prostration and then lifted his head and
went for a prolonged prostration. On completion o the prayer, he said,
"Paradise became s near to me that if I had dared, I would have plucked
one of its bunches for you and Hell became so near to me that said, 'O
my Lord will I be among those people?' Then suddenly I saw a woman and a
cat was lacerating her with it claws. On inquiring, it was said that
the woman had imprisoned the cat till it died of starvation and she
neither fed it no freed it so that it could feed itself."
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان
کیا کہا ہم کو نافع بن عمر نے خبر دی کہا مجھ سے ابن ابی ملیکہ نے بیان
کیا کہا انہوں نے اسماء بنت ابی بکر سے کہ نبی ﷺنے سورج گہن کی نماز پڑھی
آپ کھڑے ہوئے تو دیر تک کھڑے رہے پھر رکوع کیا تو دیر تک رکوع میں رہے پھر
کھڑے ہوئے اور دیر تک کھڑے رہے پھر رکوع کیا اور دیر تک رکوع میں رہے پھر
سر اٹھایا پھر سجدہ کیا اور دیر تک سجدہ میں رہے پھرسر اٹھایا پھر سجدہ
کیا تو دیر تک سجدہ میں رہے پھر کھڑے ہوئے اور دیر تک کھڑے رہے پھر رکوع
کیا اور دیر تک رکوع میں رہے پھر سر اٹھایا اور دیر تک کھڑے رہے پھر رکوع
کیااور دیر تک رکوع میں رہے پھر سر اٹھایا اور سجدہ کیا دیر تک سجدے میں
رہے پھر سر اٹھایا پھر سجدہ کیا دیر تک سجدے میں رہے پھر نماز سے فارغ ہو
کر فرمایا بہشت میرے نزدیک آگئی تھی اتنی کہ اگر میں جرأت کرتا تو اس کے
خوشوں میں سے ایک خوشہ تم کو لا دیتا اور دوزخ بھی مجھ سے اتنی نزدیک ہو
گئی تھی کہ میں کہہ اٹھا مالک میرے کیا میں بھی ان دوزخ والوں میں ہوں پھر
کیا دیکھتا ہوں ایک عورت ہے نافع نے کہا میں سمجھتا ہوں ابن ابی ملیکہ نے
یوں کہا اس کو بلّی نوچ رہی تھی میں نے پوچھا کیوں اس عورت کو کیا ہوا
انہوں نے کہا اس نے دنیا میں بلّی کو باندھ دیا تھا نہ اس کو کھانا دیا نہ
چھوڑا کہ وہ کچھ کھاتی آخر مر گئی نافع نے کہا میں یوں سمجھتا ہوں ابن
ملیکہ نے یوں کہا نہ چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے وغیرہ کھا لیتی ۔
91. To cast a look at the Imam during As-Salat
Aisha
(r.a) said, "The Prophet (s.a.w) was narrating about the Salat of
eclipse and said, 'I saw Hell, and one its sides was destroying the
other. (That was) when you saw me retreating (in Salat)'."
حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، قَالَ حَدَّثَنَا
الأَعْمَشُ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، قَالَ
قُلْنَا لِخَبَّابٍ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ
فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ قَالَ نَعَمْ. قُلْنَا بِمَ كُنْتُمْ
تَعْرِفُونَ ذَاكَ قَالَ بِاضْطِرَابِ لِحْيَتِهِ
Narrated By Abu Ma'mar : We asked Khabbab whether Allah's Apostle used
to recite (the Qur'an) in the Zuhr and the 'Asr prayers. He replied in
the affirmative. We said, "How did you come to know about it?" He said,
"By the movement of his beard."
ہم سے موسیٰ بن اسمٰعیل نے بیان
کیا کہا ہم سے عبد الواحد نے کہا ہم سے اعمش نے انہوں نے عمارہ بن عمیر سے
انہوں نے ابو معمر ( عبداللہ بن سنجرہ )سے انہوں نے کہا ہم نے خباب بن ارت
صحابی سے پوچھا کیا رسول اللہ ﷺ ظہر اور عصر کی نماز میں فاتحہ کے سوا اور
کچھ قرآن پڑھتے تھے انہوں نے کہا ہاں ہم نے پوچھا تم کو کیسے معلوم ہوا
انہوں نے کہا آپ کی مبارک ڈاڑھی ہلنے سے ۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو
إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ، يَخْطُبُ قَالَ
حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ، وَكَانَ، غَيْرَ كَذُوبٍ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا
صَلَّوْا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَرَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ
الرُّكُوعِ قَامُوا قِيَامًا حَتَّى يَرَوْنَهُ قَدْ سَجَدَ
Narrated By Al-Bara : (And Al-Bara was not a liar) Whenever we offered
prayer with the Prophet and he raised his head from the bowing, we used
to remain standing till we saw him prostrating.
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان
کیا کہا ہم سے شعبہ نے کہا ہم کو ابو اسحاق عمرو بن عبد اللہ سبیعی نے خبر
دی کہا میں نے عبد اللہ بن یزید (صحابی) سے سنا وہ خطبہ سنا رہے تھے انہوں
نے کہا مجھ سے براء بن عازب نے بیان کیا وہ جھوٹے نہ تھے انہوں نے کہا
صحابہؓ جب نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے آپ رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو وہ آپ
کو دیکھتے کھڑے رہتے یہاں تک کہ جب آپ سجدے میں جا لیتے (اس وقت وہ بھی
سجدے میں جاتے )۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ
أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ،
رضى الله عنهما قَالَ خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى
الله عليه وسلم فَصَلَّى، قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْنَاكَ
تَنَاوَلُ شَيْئًا فِي مَقَامِكَ، ثُمَّ رَأَيْنَاكَ تَكَعْكَعْتَ. قَالَ
" إِنِّي أُرِيتُ الْجَنَّةَ، فَتَنَاوَلْتُ مِنْهَا عُنْقُودًا، وَلَوْ
أَخَذْتُهُ لأَكَلْتُمْ مِنْهُ مَا بَقِيَتِ الدُّنْيَا "
Narrated By 'Abdullah bin 'Abbas : Once solar eclipse occurred during
the lifetime of Allah's Apostle. He offered the eclipse prayer. His
companions asked, "O Allah's Apostle! We saw you trying to take
something while standing at your place and then we saw you retreating."
The Prophet said, "I was shown Paradise and wanted to have a bunch of
fruit from it. Had I taken it, you would have eaten from it as long as
the world remains."
ہم سے اسمٰعیل نے بیان کیا کہا
ہم سے امام مالک نے انہوں نے زید بن اسلم سے انہوں نے عطاء بن یسار سے
انہوں نے عبد اللہ بن عباسؓ سے انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺکے زمانے میں سورج
گہن ہوا آپ نے (گہن کی) نماز پڑھائی لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺہم نے
دیکھا آپ (نماز ہی میں) اپنی جگہ پر رہ کر کچھ لینے کو بڑھے پھر ہم نے
دیکھا آپ پیچھے ہٹے آپ نے فرمایا پہلے میں نے بہشت کو دیکھا میں اس میں
سے ایک خوشہ لینے لگا اور جو لے لیتا تو جب تک دنیا قائم ہے تم اس میں سے
کھاتے رہتے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، قَالَ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، قَالَ
حَدَّثَنَا هِلاَلُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ صَلَّى
لَنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ رَقَا الْمِنْبَرَ، فَأَشَارَ
بِيَدَيْهِ قِبَلَ قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ ثُمَّ قَالَ " لَقَدْ رَأَيْتُ
الآنَ مُنْذُ صَلَّيْتُ لَكُمُ الصَّلاَةَ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ
مُمَثَّلَتَيْنِ فِي قِبْلَةِ هَذَا الْجِدَارِ، فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ
فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ " ثَلاَثًا
Narrated By Anas bin Malik : The Prophet led us in prayer and then went
up to the pulpit and beckoned with both hands towards the Qibla of the
mosque and then said, "When I started leading you in prayer, I saw the
display of Paradise and Hell on the wall of the mosque (facing the
Qibla). I never saw good and bad as I have seen today." He repeated the
last statement thrice.
ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا
کہا ہم سے فلیح بن سلیمان نے کہا ہم سے ہلال بن علی نے انہوں نے انس بن
مالکؓ سے انہوں نے کہا نبی ﷺ نے ہم کو نماز پڑھائی پھر آپ منبر پر چڑھے
آپ نے دونوں ہاتھوں سے مسجد کے قبلے کی جانب اشارہ کر کے فرمایا میں نے
ابھی ابھی جب تم کو نماز پڑھائی بہشت اور دوزخ کو دیکھا ان کی تصویریں اس
دیوار میں قبلے کی طرف نمودار ہوئیں تو میں نے آج کے دن کی طرح نہ بھلائی
دیکھی نہ برائی تین بار یہ فرمایا ۔
92. Looking towards the sky during As-Salat.
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ
سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا
قَتَادَةُ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، حَدَّثَهُمْ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ
صلى الله عليه وسلم " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ
إِلَى السَّمَاءِ فِي صَلاَتِهِمْ ". فَاشْتَدَّ قَوْلُهُ فِي ذَلِكَ
حَتَّى قَالَ " لَيَنْتَهُنَّ عَنْ ذَلِكَ أَوْ لَتُخْطَفَنَّ
أَبْصَارُهُمْ "
Narrated By
Anas bin Malik : The Prophet said, "What is wrong with those people who
look towards the sky during the prayer?" His talk grew stern while
delivering this speech and he said, "They should stop (looking towards
the sky during the prayer); otherwise their eye-sight would be taken
away."
ہم سے علی بن عبد اللہ مدینی نے
بیان کیا کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے کہا ہم سے سعید بن مہران بن ابی
عروبہ نے کہا ہم سے قتادہ نے ان سے انس بن مالک انصاریؓ ( صحابی) نے کہا
نبیﷺ نے فرمایا لوگوں کو کیا ہوا ہے نماز میں اپنی نگاہیں آسمان کی طرف
اٹھاتے ہیں آپ نے اس باب میں بہت سختی سے ارشاد کیا یہاں تک کہ فرمایا کہ
ان کو اس سے باز آنا چاہیے ورنہ ان کی بینائی اچک لی جائے گی۔
93. To look here and there in As-Salat
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، قَالَ
حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ
عَائِشَةَ، قَالَتْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ
الاِلْتِفَاتِ فِي الصَّلاَةِ فَقَالَ " هُوَ اخْتِلاَسٌ يَخْتَلِسُهُ
الشَّيْطَانُ مِنْ صَلاَةِ الْعَبْدِ "
Narrated By 'Aisha : I asked Allah's Apostle about looking hither and
thither in prayer. He replied, "It is a way of stealing by which Satan
takes away (a portion) from the prayer of a person."
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان
کیا کہا ہم سے ابو الاحواص سلام بن سلیم نےکہا ہم سے اشعث بن سلیم نے
انہوں نے اپنے باپ سلیم بن اسود سے انہوں نے مسروق بن اجدع سے انہوں نے
حضرت عائشہؓ سے انہوں نے کہا میں نے رسول اللہﷺ سے پوچھا نماز میں ادھر
ادھر دیکھنا کیسا ہے آپ نے فرمایا یہ شیطان کی جھپٹ ہے وہ آدمی کی نماز
پر ایک جھپٹ مارتا ہے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ،
عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم
صَلَّى فِي خَمِيصَةٍ لَهَا أَعْلاَمٌ فَقَالَ " شَغَلَتْنِي أَعْلاَمُ
هَذِهِ، اذْهَبُوا بِهَا إِلَى أَبِي جَهْمٍ وَأْتُونِي بِأَنْبِجَانِيَّةٍ
"
Narrated By 'Aisha : Once the
Prophet prayed on a Khamisa with marks on it and said, "The marks on it
diverted my attention, take this Khamisa to Abu Jahm and bring an
Inbijaniya (from him.)"
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان
کیا کہا ہم سے سفیان بن عینیہ نے انہوں نے زہری سے انہوں نے عروہ سے ،انہوں
نے حضرت عائشہؓ سے کہ نبی ﷺ نے ایک نقشی کالی لوئی میں نماز پڑھی پھر (
نماز کے بعد) فرمایا اس کے بیل بوٹے نے مجھ کو غافل کردیا یہ ابو جہم کے
پاس واپس لے جاؤاور مجھ کو اس کی سادہ لوئی لا دو ۔
94. Is it permissible for one to look around in Salat if something happens to one? Or can one look at something like expectoration in the direction of Qiblah?
Sahl said, "Abu Bakr (r.a) turned and saw the Prophet (s.a.w) (during Salat)"
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ
نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ رَأَى النَّبِيُّ صلى الله عليه
وسلم نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، وَهْوَ يُصَلِّي بَيْنَ يَدَىِ
النَّاسِ، فَحَتَّهَا ثُمَّ قَالَ حِينَ انْصَرَفَ " إِنَّ أَحَدَكُمْ
إِذَا كَانَ فِي الصَّلاَةِ فَإِنَّ اللَّهَ قِبَلَ وَجْهِهِ، فَلاَ
يَتَنَخَّمَنَّ أَحَدٌ قِبَلَ وَجْهِهِ فِي الصَّلاَةِ ". رَوَاهُ
مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ وَابْنُ أَبِي رَوَّادٍ عَنْ نَافِعٍ
Narrated By Ibn 'Umar : The Prophet saw expectoration in the direction
of the Qibla of the mosque while he was leading the prayer, and
scratched it off. After finishing the prayer, he said, "Whenever any of
you is in prayer he should know that Allah is in front of him. So none
should spit in front of him in the prayer."
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان
کیا کہا ہم سے لیث بن سعد نے انہوں نے نافع سے انہوں نے عبد اللہ بن عمرؓ
سے انہوں نے کہا نبی ﷺ نے مسجد میں قبلے کی دیوار پر بلغم دیکھا آپ لوگوں
کو آگے کھڑے ہوئے نماز پڑھا رہے تھے آپ نے (نماز ہی میں) اس کو کھرچ ڈالا
جب نماز پڑھ چکے تو فرمایا جب کوئی تم میں نماز پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ
اس کے منہ کے سامنے ہوتا ہےاس کو چاہیئے کہ نماز میں اپنے منہ کے سامنے
کھنکار ( بلغم ) نہ ڈالے ۔ اس حدیث کو موسیٰ بن عقبہ اور عبد العزیز بن ابی
رواد نے بھی نافع نے روایت کیا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ،
عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسٌ، قَالَ
بَيْنَمَا الْمُسْلِمُونَ فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ لَمْ يَفْجَأْهُمْ إِلاَّ
رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَشَفَ سِتْرَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ
فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ وَهُمْ صُفُوفٌ، فَتَبَسَّمَ يَضْحَكُ، وَنَكَصَ أَبُو
بَكْرٍ رضى الله عنه عَلَى عَقِبَيْهِ لِيَصِلَ لَهُ الصَّفَّ فَظَنَّ
أَنَّهُ يُرِيدُ الْخُرُوجَ، وَهَمَّ الْمُسْلِمُونَ أَنْ يَفْتَتِنُوا فِي
صَلاَتِهِمْ، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَتِمُّوا صَلاَتَكُمْ، فَأَرْخَى
السِّتْرَ، وَتُوُفِّيَ مِنْ آخِرِ ذَلِكَ الْيَوْمِ
Narrated By Anas : While the Muslims were offering the Fajr prayer,
Allah's Apostle suddenly appeared before them by living the curtain of
the dwelling place of 'Aisha, looked towards the Muslims who were
standing in rows. He smiled with pleasure. Abu Bakr started retreating
to join the row on the assumption that the Prophet wanted to come out
for the prayer. The Muslims intended to leave the prayer (and were on
the verge of being put to trial), but the Prophet beckoned them to
complete their prayer and then he let the curtain fall. He died in the
last hours of that day.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان
کیا کہا ہم سے لیث بن سعد نے انہوں نے عقیل بن خالد سے انہوں نے ابن شہاب
سے انہوں نے کہا مجھ کو انس بن مالکؓ نے خبر دی انہوں نے کہا ایک بار
مسلمان صبح کی نماز پڑھ رہے تھے پھر رسول اللہﷺ کی وجہ سے وہ گھبرا گئے
آپ نے ( ایکبارگی) حضرت عائشہؓ کے حجرے کا پردہ اٹھایا اور ان کو دیکھا وہ
صفیں باندھے ہوئے تھےآپ مسکرا کر ہنسے اور ابو بکرؓ الٹے پاؤں پیچھے ہٹے
اس لیے کہ صف میں مل جائیں سمجھے کہ آپﷺ برآمد ہونا چاہتے ہیں اور
مسلمانوں نے( خوشی کے مارے) یہ قصد کیا کہ نماز ہی چھوڑ دیں آپ نے اشارے
سے ان کو فرمایا اپنی نماز پوری کرو اور پردہ چھوڑ دیا اور اسی دن شام کو
آپ نے وفات پائی۔
95. Recitation of the Quran (Surah Al-Fatiha) is compulsory for the Imam and the followers, at home and on journey, in every Salat whether the recitation is done silently or aloud
حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ شَكَا
أَهْلُ الْكُوفَةِ سَعْدًا إِلَى عُمَرَ ـ رضى الله عنه ـ فَعَزَلَهُ
وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ عَمَّارًا، فَشَكَوْا حَتَّى ذَكَرُوا أَنَّهُ
لاَ يُحْسِنُ يُصَلِّي، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَقَالَ يَا أَبَا إِسْحَاقَ
إِنَّ هَؤُلاَءِ يَزْعُمُونَ أَنَّكَ لاَ تُحْسِنُ تُصَلِّي قَالَ أَبُو
إِسْحَاقَ أَمَّا أَنَا وَاللَّهِ فَإِنِّي كُنْتُ أُصَلِّي بِهِمْ صَلاَةَ
رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا أَخْرِمُ عَنْهَا، أُصَلِّي
صَلاَةَ الْعِشَاءِ فَأَرْكُدُ فِي الأُولَيَيْنِ وَأُخِفُّ فِي
الأُخْرَيَيْنِ. قَالَ ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ يَا أَبَا إِسْحَاقَ.
فَأَرْسَلَ مَعَهُ رَجُلاً أَوْ رِجَالاً إِلَى الْكُوفَةِ، فَسَأَلَ
عَنْهُ أَهْلَ الْكُوفَةِ، وَلَمْ يَدَعْ مَسْجِدًا إِلاَّ سَأَلَ عَنْهُ،
وَيُثْنُونَ مَعْرُوفًا، حَتَّى دَخَلَ مَسْجِدًا لِبَنِي عَبْسٍ، فَقَامَ
رَجُلٌ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ أُسَامَةُ بْنُ قَتَادَةَ يُكْنَى أَبَا
سَعْدَةَ قَالَ أَمَّا إِذْ نَشَدْتَنَا فَإِنَّ سَعْدًا كَانَ لاَ يَسِيرُ
بِالسَّرِيَّةِ، وَلاَ يَقْسِمُ بِالسَّوِيَّةِ، وَلاَ يَعْدِلُ فِي
الْقَضِيَّةِ. قَالَ سَعْدٌ أَمَا وَاللَّهِ لأَدْعُوَنَّ بِثَلاَثٍ،
اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ عَبْدُكَ هَذَا كَاذِبًا، قَامَ رِيَاءً وَسُمْعَةً
فَأَطِلْ عُمْرَهُ، وَأَطِلْ فَقْرَهُ، وَعَرِّضْهُ بِالْفِتَنِ، وَكَانَ
بَعْدُ إِذَا سُئِلَ يَقُولُ شَيْخٌ كَبِيرٌ مَفْتُونٌ، أَصَابَتْنِي
دَعْوَةُ سَعْدٍ. قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ فَأَنَا رَأَيْتُهُ بَعْدُ قَدْ
سَقَطَ حَاجِبَاهُ عَلَى عَيْنَيْهِ مِنَ الْكِبَرِ، وَإِنَّهُ
لَيَتَعَرَّضُ لِلْجَوَارِي فِي الطُّرُقِ يَغْمِزُهُنَّ
Narrated By Jabir bin Samura : The People of Kufa complained against
Sa'd to 'Umar and the latter dismissed him and appointed 'Ammar as their
chief. They lodged many complaints against Sa'd and even they alleged
that he did not pray properly. 'Umar sent for him and said, "O Aba
Ishaq! These people claim that you do not pray properly." Abu Ishaq
said, "By Allah, I used to pray with them a prayer similar to that of
Allah's Apostle and I never reduced anything of it. I used to prolong
the first two Rakat of 'Isha prayer and shorten the last two Rakat."
'Umar said, "O Aba Ishaq, this was what I thought about you." And then
he sent one or more persons with him to Kufa so as to ask the people
about him. So they went there and did not leave any mosque without
asking about him. All the people praised him till they came to the
mosque of the tribe of Bani 'Abs; one of the men called Usama bin Qatada
with a surname of Aba Sa'da stood up and said, "As you have put us
under an oath; I am bound to tell you that Sa'd never went himself with
the army and never distributed (the war booty) equally and never did
justice in legal verdicts." (On hearing it) Sa'd said, "I pray to Allah
for three things: O Allah! If this slave of yours is a liar and got up
for showing off, give him a long life, increase his poverty and put him
to trials." (And so it happened). Later on when that person was asked
how he was, he used to reply that he was an old man in trial as the
result of Sad's curse. 'Abdul Malik, the sub narrator, said that he had
seen him afterwards and his eyebrows were over-hanging his eyes owing to
old age and he used to tease and assault the small girls in the way.
ہم سے موسی بن اسمٰعیل نے بیان
کیا کہا ہم سے ابو عوانہ وضاح یشکری نے کہا ہم سے عبد الملک بن عمیر نے
انہوں نے جابر بن سمرہ سے انہوں نے کہا کوفہ والوں نے سعد بن ابی وقاصؓ کی
شکایت حضرت عمرؓ سے کی حضرت عمرؓ نے ان کو برطرف کر دیا اور عمار بن یاسرؓ
کو ان کا حاکم بنایا تو کوفہ والوں نے سعد کی کئی شکایتیں کیں یہ بھی کہ
دیا کہ وہ اچھی طرح نماز بھی نہیں پڑھا سکتے حضرت عمرؓ نے سعدؓ کو بلا
بھیجا اور کہا اے ابو اسحٰق (یہ کنیت ہے سعد کی) کوفہ کے یہ لوگ کہتے ہیں
کہ تم اچھی طرح نماز بھی نہیں پڑھا سکتے انہوں نے کہا میں تو قسم خدا کی ان
کو اسی طرح نماز پڑھاتا تھا جس طرح رسول اللہﷺ پڑھایا کرتے تھے میں نے
اس میں ذرا کوتاہی نہیں کی عشاء کی نماز جب میں پڑھاتا تو پہلی دو رکعتوں
کو لمبا کرتا اور پچھلی دو رکعتوں کو ہلکا حضرت عمرؓ نے فرمایا تم سے تو
اے ابو اسحاق یہی گمان ہے پھر حضرت عمرؓ نے سعد کے ساتھ ایک آدمی یا کئی
آدمی کر کے ان کو کوفہ کی طرف بھیجا کہ کوفہ والوں سے سعد کی شکایتوں کی
دریافت کریں انہوں نے کوئی مسجد نہ چھوڑی جہاں سعد کا حال نہ پوچھا ہو سب
نے ان کی تعریف کی پھر بنی عبس کی مسجد میں گئے وہاں ان میں کا ایک شخص
کھڑا ہو جس کو اسامہ بن قتادہ کہتے تھے اس کی کنیت ابو سعدہ تھی اس نے کہا
جب تم ہم کو قسم دیتے ہوتو سچ تو یہ ہے کہ سعد کسی فوج کے ساتھ ( لڑائی کے
لیے نہیں جاتے تھے ) ( لوٹ کا مال ) برابر تقسیم نہیں کرتے تھے مقدمہ میں
انصاف نہیں کرتے تھے سعد نے یہ سن کر کہا قسم خدا کی میں تم کو تین بد
دعائیں دوں گا۔ یا اللہ اگر تیرا یہ بندہ جھوٹا ہے اور صرف لوگوں کو دکھانے
اور سنانے کے لیئے ( جھوٹ بات مشہور کرنے کے لیے) کھڑا ہوا ہے تو اس کی
عمر لمبی کر اور مدت تک کوڑی کوڑی کو محتاج کر دے اور آفتوں میں پھنسا دے ۔
پھر اس شخص کا یہی حال ہوا جب کوئی اس کا حال پوچھتا تو کہتا میں ایک
بوڑھا ہوں آفت رسیدہ سعد کی بد دعا مجھ کو لگ گئی ۔ عبد الملک نے کہا میں
نے بھی اس کو دیکھا تھا اتنا بوڑھا ہو گیا تھا کہ بھویں آنکھوں پر آ گئی
تھیں ( اور رستہ میں کھڑا ہو کر ) چھوکریوں کو چھیڑتا ان کی چٹکیاں لیتا ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ،
قَالَ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ
عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
قَالَ " لاَ صَلاَةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ "
Narrated By 'Ubada bin As-Samit : Allah's Apostle said, "Whoever does
not recite Al-Fatiha in his prayer, his prayer is invalid."
ہم سے علی بن عبد اللہ مدینی نے
بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے کہا ہم سے زہری نے انہوں نے محمود
بن ربیع سے انہوں نے عبادہ بن صامت سے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جس شخص نے
سورت فاتحہ نہ پڑھی اس کے نماز ہی نہیں ہوئی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ
عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ
أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ
صلى الله عليه وسلم فَرَدَّ وَقَالَ " ارْجِعْ فَصَلِّ، فَإِنَّكَ لَمْ
تُصَلِّ ". فَرَجَعَ يُصَلِّي كَمَا صَلَّى ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ
عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " ارْجِعْ فَصَلِّ
فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ " ثَلاَثًا. فَقَالَ وَالَّذِي بَعَثَكَ
بِالْحَقِّ مَا أُحْسِنُ غَيْرَهُ فَعَلِّمْنِي. فَقَالَ " إِذَا
قُمْتَ إِلَى الصَّلاَةِ فَكَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ
مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ
ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ
سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا، وَافْعَلْ ذَلِكَ
فِي صَلاَتِكَ كُلِّهَا "
Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle entered the mosque and a
person followed him. The man prayed and went to the Prophet and greeted
him. The Prophet returned the greeting and said to him, "Go back and
pray, for you have not prayed." The man went back prayed in the same way
as before, returned and greeted the Prophet who said, "Go back and
pray, for you have not prayed." This happened thrice. The man said, "By
Him Who sent you with the Truth, I cannot offer the prayer in a better
way than this. Please, teach me how to pray." The Prophet said, "When
you stand for Prayer say Takbir and then recite from the Holy Qur'an (of
what you know by heart) and then bow till you feel at ease. Then raise
your head and stand up straight, then prostrate till you feel at ease
during your prostration, then sit with calmness till you feel at ease
(do not hurry) and do the same in all your prayers."
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا
کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے انہوں نے عبید اللہ عمری سے انہوں نے
کہا مجھ سے سعید بن ابی سعید مقبری نے انہوں نے اپنے باپ ابو سعید مقبری
سے انہوں نے ابو ہریرہؓ سے کہ رسول اللہﷺ مسجد میں تشریف لے گئے اتنے میں
ایک شخص آیا اس نے نماز پڑھی پھر نبی ﷺ کو سلام کیا آپ نے سلام کا جواب
دیا اور فرمایا جا پھر نماز پڑھ تو نے نماز نہیں پڑھی وہ لوٹ گیا اور
پھر اسی طرح نماز پڑھی ۔ جیسے پہلے نماز پڑھی تھی پھر آیا اور نبیﷺ کو
سلام کیا آپ نے فرمایا جا نماز پڑھ لے تو نے نماز نہیں پڑھی تین بار ایسا
ہی ہوا آخر اس نے عرض کیا قسم اس (خدا) کی جس نے آپ کو سچ مچ بھیجا میں
اس سے اچھی نماز نہیں پڑھ سکتا مجھے سکھلائیے آپ نے فرمایا تو جب نماز کے
لیے کھڑا ہو تو اللہ اکبر کہ پھر جو قرآن تجھ کو یاد ہے آسانی سے پڑھ سکے
پڑھ پھر اطمینان کے ساتھ رکوع کر پھر سر اٹھا سیدھا کھڑا ہو جا پھر
اطمینان کے ساتھ سجدہ کر پھر سجدے سے سر اٹھا کر اطمینان کے ساتھ بیٹھ (
پھر دوسرا سجدہ کر) اسی طرح ساری نماز پڑھ ۔
96. The recitation of the Quran in the Zuhr prayer
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ
الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ قَالَ سَعْدٌ
كُنْتُ أُصَلِّي بِهِمْ صَلاَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
صَلاَتَىِ الْعَشِيِّ لاَ أَخْرِمُ عَنْهَا، أَرْكُدُ فِي الأُولَيَيْنِ
وَأَحْذِفُ فِي الأُخْرَيَيْنِ. فَقَالَ عُمَرُ ـ رضى الله عنه ـ ذَلِكَ
الظَّنُّ بِكَ
Narrated By Jabir
bin Samura : Sa'd said, "I used to pray with them a prayer similar to
that of Allah's Apostle (the prayer of Zuhr and 'Asr) reducing nothing
from them. I used to prolong the first two Rakat and shorten the last
two Rak'at." 'Umar said to Sa'd "This was what we thought about you."
ہم سے ابو النعمان محمد بن فضل
نے بیان کیا کہا ہم سے ابو عوانہ وضاح یشکری نے انہوں نے عبد الملک بن
عمیر سے انہوں نے جابر بن سمرہ سے کہا سعد بن ابی وقاصؓ نے حضرت عمرؓ سے
کہا ( جب کوفہ والوں نے ان کی شکایت کی ) میں تو ان کو رسول اللہﷺ کی نماز
کی طرح ظہر اور عصر کی نماز پڑھاتا تھا کوئی کوتاہی نہیں کرتا پہلی دو
رکعتوں کو لمبا کرتا تھا اور پچھلی دو رکعتوں کو مختصر حضرت عمرؓ نے کہا تم
سے یہی گمان ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى،
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَ
النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ
مِنْ صَلاَةِ الظُّهْرِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَتَيْنِ، يُطَوِّلُ
فِي الأُولَى، وَيُقَصِّرُ فِي الثَّانِيَةِ، وَيُسْمِعُ الآيَةَ
أَحْيَانًا، وَكَانَ يَقْرَأُ فِي الْعَصْرِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ
وَسُورَتَيْنِ، وَكَانَ يُطَوِّلُ فِي الأُولَى، وَكَانَ يُطَوِّلُ فِي
الرَّكْعَةِ الأُولَى مِنْ صَلاَةِ الصُّبْحِ، وَيُقَصِّرُ فِي
الثَّانِيَةِ
Narrated By
'Abdullah bin Abi Qatada : My father said, "The Prophet in Zuhr prayers
used to recite Al-Fatiha along with two other Suras in the first two
Rakat: a long one in the first Rak'a and a shorter (Sura) in the second,
and at times the verses were audible. In the 'Asr prayer the Prophet
used to recite Al-Fatiha and two more Suras in the first two Rakat and
used to prolong the first Rak'a. And he used to prolong the first Rak'a
of the Fajr prayer and shorten the second.
ہم سے ابو نعیم فضل بن دکین نے
بیان کیا کہا ہم سے شیبان نے انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے انہوں نے عبد
اللہ ابن ابی قتادہ سے انہوں نے اپنے باپ ( ابو قتادہ حارث بن ربعی
صحابی)سے کہ نبیﷺ ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سورت فاتحہ اور دو سورتیں (
ہر رکعت میں ایک سورت ) پڑھتے تھے پہلی رکعت کو لمبا کرتے تھے اور دوسری
کوچھوٹا اور پڑھتے پڑھتےکبھی کبھی ایک آدھ آیت ہم کو سنا دیتے اور عصر کی
نماز میں بھی سورت فاتحہ اور دو سورتیں پڑھتے ( ہر رکعت میں ایک سورت )
اور پہلی رکعت دوسری رکعت سے لمبی کرتے اور صبح کی نماز میں بھی پہلی رکعت
لمبی پڑھتے اور دوسری رکعت اس سے کم ۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا
الأَعْمَشُ، حَدَّثَنِي عُمَارَةُ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، قَالَ سَأَلْنَا
خَبَّابًا أَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ
وَالْعَصْرِ قَالَ نَعَمْ. قُلْنَا بِأَىِّ شَىْءٍ كُنْتُمْ تَعْرِفُونَ
قَالَ بِاضْطِرَابِ لِحْيَتِهِ
Narrated By Abu Ma'mar : I asked Khabbab whether the Prophet used to
recite the Qur'an in the Zuhr and the 'Asr prayers. He replied in the
affirmative. We said, "How did you come to know that?" He said, "From
the movement of his beard."
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا
کہا ہم سے میرے باپ (حفص ابن غیاث ) نے کہا ہم سے سلیمان بن مہران اعمش نے
کہا مجھ سے عمارہ بن عمیر نے انہوں نے ابو معمر عبد اللہ بن سنجرہ سے کہا
ہم نے خبات بن ارت صحابیؓ سے پوچھا کیا نبیﷺ ظہر اور عصر کی نماز میں
قراءت کرتے تھے انہوں نے کہا ہاں ہم نے کہا تم کو کیسے معلوم ہوا، انہوں نے
کہا آپ کی ڈاڑھی ہلنے سے ۔
97. The recitation of the Quran in the Asr prayer
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ
الأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، قَالَ
قُلْتُ لِخَبَّابِ بْنِ الأَرَتِّ أَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم
يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ قَالَ نَعَمْ. قَالَ قُلْتُ بِأَىِّ
شَىْءٍ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ قِرَاءَتَهُ قَالَ بِاضْطِرَابِ لِحْيَتِهِ
Narrated By Abu Ma'mar : I asked Khabbab bin Al-Art whether the Prophet
used to recite the Qur'an in the Zuhr and the 'Asr prayers. He replied
in the affirmative. I said, "How did you come to know that?" He replied,
"From the movement of his beard."
ہم سے محمد بن یوسف بیکندی نے
بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عینیہ نے انہوں نے اعمش سے انہوں نے عمارہ بن
عمیر سے انہوں نے ابو معمر سے انہوں نے کہا میں نے خبات بن ارت سے پوچھا
کیا نبیﷺ ظہر اور عصر کی نماز میں قراءت کرتے تھے انہوں نے کہا ہاں ہم نے
کہا تم کو کیسے معلوم ہوا کہ آپ قراءت کرتے تھے انہوں نے کہا آپ کی ریش
مبارک کی حرکت سے ۔
حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ يَحْيَى
بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ
أَبِيهِ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي
الرَّكْعَتَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ،
وَسُورَةٍ سُورَةٍ، وَيُسْمِعُنَا الآيَةَ أَحْيَانًا
Narrated By 'Abdullah bin Abi Qatada : My father said, "The Prophet
used to recite Al-Fatiha along with another Sura in the first two Rakat
of the Zuhr and the 'Asr prayers and at times a t verse or so was
audible to us."
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان
کیا انہوں نے ہشام دستوائی سے انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے انہوں نے عبد
اللہ بن ابی قتادہ سے انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے کہا نبیﷺ ظہر اور عصر
کی نماز میں پہلی دو رکعتوں میں سورت فاتحہ اور ایک ایک سورت پڑھتے تھے
اور کبھی کبھی پڑھتے پڑھتے ایک آدھ آیت ہم کو سنا دیتے ۔
98. The recitation of the Quran in the Maghrib prayer
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ
ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ،
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ أُمَّ
الْفَضْلِ سَمِعَتْهُ وَهُوَ يَقْرَأُ {وَالْمُرْسَلاَتِ عُرْفًا}
فَقَالَتْ يَا بُنَىَّ وَاللَّهِ لَقَدْ ذَكَّرْتَنِي بِقِرَاءَتِكَ هَذِهِ
السُّورَةَ، إِنَّهَا لآخِرُ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله
عليه وسلم يَقْرَأُ بِهَا فِي الْمَغْرِبِ
Narrated By Ibn 'Abbas : (My mother) Umu-l-Fadl heard me reciting "Wal
Mursalati 'Urfan" (77) and said, "O my son! By Allah, your recitation
made me remember that it was the last Sura I heard from Allah's Apostle.
He recited it in the Maghrib prayer."
ہم سے عبد اللہ بن یوسف تنیسی
سے بیان کیا کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی انہوں نے ابن ہشام سے انہوں نے
عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ سے انہوں نے عبد اللہ ابن عباسؓ سے ام
الفضل( ان کی ماں ) نے ان کو سورت والمرسلات عرفاً پڑھتے سنا اور کہنے لگیں
بیٹا تو نے یہ سورت پڑھ کر مجھ کو یاد دلا یا ۔ یہ آخری سورت ہے جو میں
نے رسول اللہﷺسے سنی آپ اس کو مغرب کی نماز میں پڑھ رہے تھے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي
مُلَيْكَةَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ
الْحَكَمِ، قَالَ قَالَ لِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ مَا لَكَ تَقْرَأُ فِي
الْمَغْرِبِ بِقِصَارٍ، وَقَدْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم
يَقْرَأُ بِطُولِ الطُّولَيَيْنِ
Narrated By Marwan bin Al-Hakam : Zaid bin Thabit said to me, "Why do
you recite very short Suras in the Maghrib prayer while I heard the
Prophet reciting the longer of the two long Suras?"
ہم سے ابو عاصم نبیل نے بیان
کیا انہوں نے عبد الملک بن جریج سے انہوں نے ابن ابی ملیکہ (زہیر بن عبد
اللہ ) سے انہوں نے عروہ بن زبیر سے انہوں نے مروان بن حکم سے اس نے کہا
مجھ سے زید بن ثابتؓ ( صحابی)نے کہا تجھے کیا ہوا ہے مغرب میں چھوٹی
چھوٹی سورتیں پڑھتا ہے اور میں نے تو نبیﷺ کو دیکھا آپ ان میں دو لمبی
سورتوں میں سے زیادہ لمبی سورت پڑھتے ۔
99. To recite aloud in the Maghrib prayer
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ
ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ
أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَرَأَ فِي
الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ
Narrated By Jubair bin Mut'im : My father said, "I heard Allah's Apostle reciting "At-Tur" (52) in the Maghrib prayer."
ہم سے عبد اللہ بن یوسف تنیسی
نے بیان کیا کہا ہم کو امام مالکؒ نے خبر دی انہوں نے ابن شہاب سے انہوں نے
محمد بن جبیر بن مطعم سے انہوں نےاپنے باپ (جبیر بن مطعم) سے انہوں نے کہا
میں نے رسول اللہﷺ کو سنا آپ مغرب میں سورت والطّور پڑھتے تھے۔
100. To recite aloud in the Isha prayer
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ
أَبِيهِ، عَنْ بَكْرٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي
هُرَيْرَةَ الْعَتَمَةَ فَقَرَأَ {إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ}
فَسَجَدَ فَقُلْتُ لَهُ قَالَ سَجَدْتُ خَلْفَ أَبِي الْقَاسِمِ صلى الله
عليه وسلم فَلاَ أَزَالُ أَسْجُدُ بِهَا حَتَّى أَلْقَاهُ
Narrated By Abu Rafi : I offered the 'Isha prayer behind Abu Huraira
and he recited, "Idha-s-Sama'u-n-Shaqqat" (84) and prostrated. On my
inquiring, he said, "I prostrated behind Abu-l-Qasim (the Prophet) (when
he recited that Sura) and I will go on doing it till I meet him."
ہم سے ابو النعمان محمد بن فضل
نے بیان کیا کہا ہم سے معتمر ابن سلیمان نے انہوں نے اپنےباپ سلیمان بن
طرخان سے انہوں نے بکر بن عبد اللہ سے انہوں نے ابو رافع سے انہوں نے کہا
میں نے ابو ہریرہؓ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی انہوں نے اذا السماء انشقت
پڑھی اور سجدہ تلاوت کیا میں نے ان سے پوچھا یہ سجدہ کیسا انہوں نے کہا میں
نے ابو القاسمﷺ کے پیچھے اس سورت میں سجدہ کیا میں تو برابر اس میں سجدہ
کرتا رہوں گا جب تک ( مروں اور ) آپ سے مل جاؤں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيٍّ،
قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ فِي
سَفَرٍ فَقَرَأَ فِي الْعِشَاءِ فِي إِحْدَى الرَّكْعَتَيْنِ بِالتِّينِ
وَالزَّيْتُونِ
Narrated By
Al-Bara : The Prophet was on a journey and recited in one of the first
two Rakat of the 'Isha prayer "Wat-tini waz-zaituni." (95)
ہم سے ابو الولید ہشام بن عبد
الملک نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے انہوں نے عدی بن ثابت سے انہوں نےکہا
میں نے براء بن عازب سے سنا نبیﷺ سفر میں تھے آپ نے عشاء کی نماز میں ایک
رکعت میں والتین والزیتون پڑھی۔
101. To recite in the Isha prayer, with As-Sajda (prostration)
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ
حَدَّثَنِي التَّيْمِيُّ، عَنْ بَكْرٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ
صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ الْعَتَمَةَ فَقَرَأَ {إِذَا السَّمَاءُ
انْشَقَّتْ} فَسَجَدَ فَقُلْتُ مَا هَذِهِ قَالَ سَجَدْتُ بِهَا خَلْفَ
أَبِي الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم فَلاَ أَزَالُ أَسْجُدُ بِهَا حَتَّى
أَلْقَاهُ
Narrated By Abu Rafi' :
Once I prayed the 'Isha prayer with Abu Huraira and he recited,
"Idha-s-Sama' u-nShaqqat" (84) and prostrated. I said, "What is that?"
He said, "I prostrated behind Abu-l-Qasim, (the Prophet) (when he
recited that Sura) and I will go on doing it till I meet him."
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان
کیا کہا ہم سے یزید بن زریع نے کہا ہم سے سلیمان بن طرخان تیمی نے انہوں نے
ابو بکر سے انہوں نے ابو رافع (نفیع) سے انہوں نے کہا میں نے ابو ہریرہؓ
کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی تو انہوں نے سورت اذا السماء انشقت پڑھی اور
سجدہ کیا میں نے کہا یہ سجدہ کیسا انہوں نے کہا میں نے تو اس سورت میں ابو
القاسم ﷺ کے پیچھے ( نماز میں )سجدہ کیا ہے میں تو برابر اس میں سجدہ کرتا
رہوں گا یہاں تک کہ آپ سے مل جاؤں ۔
102. Recitation in the Isha prayer
حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، قَالَ
حَدَّثَنَا عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، سَمِعَ الْبَرَاءَ، رضى الله عنه قَالَ
سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ {وَالتِّينِ
وَالزَّيْتُونِ} فِي الْعِشَاءِ، وَمَا سَمِعْتُ أَحَدًا أَحْسَنَ
صَوْتًا مِنْهُ أَوْ قِرَاءَةً
Narrated By Al-Bara : I heard the Prophet reciting wat-tini wazzaituni"
(95) in the 'Isha prayer, and I never heard a sweeter voice or a better
way of recitation than that of the Prophet.
ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان
کیا کہا ہم سے معسر بن کدام نے کہا مجھ سے عدی بن ثابت نے انہوں نے براء بن
عازبؓ سے سنا انہوں نے کہا میں نے نبیﷺ کو سنا آپ عشاء کے نماز میں سورت
والتین والزیتون پڑھتے اور میں نے آپﷺ سے بڑھ کر نہ کسی کو خوش آواز پایا
نہ قاری ۔
103. Prolonging the first two Raka and shortening the last two
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ
أَبِي عَوْنٍ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، قَالَ قَالَ عُمَرُ
لِسَعْدٍ لَقَدْ شَكَوْكَ فِي كُلِّ شَىْءٍ حَتَّى الصَّلاَةِ. قَالَ
أَمَّا أَنَا فَأَمُدُّ فِي الأُولَيَيْنِ، وَأَحْذِفُ فِي الأُخْرَيَيْنِ،
وَلاَ آلُو مَا اقْتَدَيْتُ بِهِ مِنْ صَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله
عليه وسلم. قَالَ صَدَقْتَ، ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ، أَوْ ظَنِّي بِكَ
Narrated By Jabir bin Samura : 'Umar said to Sa'd, "The people
complained against you in everything, even in prayer." Sa'd replied,
"Really I used to prolong the first two Rakat and shorten the last two
and I will never shorten the prayer in which I follow Allah's Apostle."
'Umar said, "You are telling the truth and that is what I think a tout
you."
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان
کیا کہا ہم سے شعبہ نے انہوں نے ابو عوان محمد بن عبد اللہ ثقفی سے انہوں
نے کہا میں نے جابر بن سمرہ سے سنا انہوں نے کہا حضرت عمرؓ نے سعد بن ابی
وقاص سے کہا کوفہ والوں نے ہر بات میں تمہاری شکایت کی یہاں تک کہ نماز میں
بھی۔انہوں نے کہا میں تو (عشاء کی) پہلی دو رکعتیں لمبی پڑھتا تھا اور
پچھلی دو رکعتیں مختصر اور میں نےرسول اللہﷺ کی نماز کی پیروی کرنے میں
کوئی کوتاہی نہیں کی حضرت عمرؓ نے کہا تم سچ کہتے ہو تم سے یہی گمان ہے یا
میرا تم سے یہی گمان ہے ۔
104. The recitation of the Quran in the Fajr prayer
And Umm Salama said, "The Prophet (s.a.w) Recited Surat At-Tur"
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سَيَّارُ
بْنُ سَلاَمَةَ، قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَأَبِي، عَلَى أَبِي بَرْزَةَ
الأَسْلَمِيِّ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَوَاتِ، فَقَالَ كَانَ
النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي الظُّهْرَ حِينَ تَزُولُ
الشَّمْسُ، وَالْعَصْرَ وَيَرْجِعُ الرَّجُلُ إِلَى أَقْصَى الْمَدِينَةِ
وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ، وَنَسِيتُ مَا قَالَ فِي الْمَغْرِبِ، وَلاَ يُبَالِي
بِتَأْخِيرِ الْعِشَاءِ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ وَلاَ يُحِبُّ النَّوْمَ
قَبْلَهَا، وَلاَ الْحَدِيثَ بَعْدَهَا، وَيُصَلِّي الصُّبْحَ فَيَنْصَرِفُ
الرَّجُلُ فَيَعْرِفُ جَلِيسَهُ، وَكَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ
أَوْ إِحْدَاهُمَا مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ
Narrated By Saiyar bin Salama : My father and I went to Abu
Barza-al-Aslami to ask him about the stated times for the prayers. He
replied, "The Prophet used to offer the Zuhr prayer when the sun just
declined from its highest position at noon; the 'Asr at a time when if a
man went to the farthest place in Medina (after praying) he would find
the sun still hot (bright). (The sub narrator said: I have forgotten
what Abu Barza said about the Maghrib prayer). The Prophet never found
any harm in delaying the 'Isha prayer to the first third of the night
and he never liked to sleep before it and to talk after it. He used to
offer the morning prayer at a time when after finishing it one could
recognize the person sitting beside him and used to recite between 60 to
100 verses in one or both the Rakat."
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان
کیا کہا ہم سے شعبہ نے کہا ہم سے سیار بن سلامہ نے کہا میں اور میرا باپ
دونوں ابو برزہ اسلمی (نضلہ بن عبید صحابیؓ) کے پاس گئے ان سے نمازوں کے
وقت پوچھے انہوں نے کہا نبیﷺ ظہر کی نماز سورج ڈھلنے پر پڑھتے تھے اور عصر
کی نماز پڑھ چکنے کے بعدکوئی شخص شہر کے کنارے پہنچ جاتا اور سورج تیز رہتا
سیار نے کہا ابو برزہ نے مغرب کا جو وقت بیان کیا وہ میں بھول گیا ابو
برزہ نے کہا آپﷺ عشاء کی نماز میں تہائی رات تک دیر کرنے میں کچھ پرواہ
نہیں کرتے تھے اور اس سے پہلے سو جانا اور اس کے بعد باتیں کرنا پسند نہیں
کرتے تھے اور صبح کی نماز اس وقت پڑھتے تھے کہ نماز سے فارغ ہو کر آدمی
اپنے پاس بیٹھنے والے کو پہچان لیتا اور صبح کی دونوں رکعتوں میں یا ایک
رکعت میں ساٹھ آیتوں سے لے کر سوآیتوں تک پڑھتے تھے ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،
قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، أَنَّهُ
سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ فِي كُلِّ صَلاَةٍ
يُقْرَأُ، فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
أَسْمَعْنَاكُمْ، وَمَا أَخْفَى عَنَّا أَخْفَيْنَا عَنْكُمْ، وَإِنْ لَمْ
تَزِدْ عَلَى أُمِّ الْقُرْآنِ أَجْزَأَتْ، وَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ
Narrated By Abu Huraira : The Qur'an is recited in every prayer and in
those prayers in which Allah's Apostle recited aloud for us, we recite
aloud in the same prayers for you; and the prayers in which the Prophet
recited quietly, we recite quietly. If you recite "Al-Fatiha" only it is
sufficient but if you recite something else in addition, it is better.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان
کیا کہا ہم سے اسمعیل بن ابراہیم نے کہا ہم کو عبدالملک بن جریج نے خبر دی
کہا ہم کو عطاء بن ابی رباح نے انہوں نے ابو ہریرہؓ سے سنا وہ کہتے تھے ہر
نماز میں قراءت کرنا چاہئے پھر جس نماز میں رسول اللہﷺ نے ہم کو سنایا
(جہر کے ساتھ قراءت کی) ہم نے بھی تم کو سنایا اور جس نماز میں آپ نے
چھپایا (آہستہ پڑھایا) ہم نے بھی تم سے چھپایا اور اگر تو بس فقط سورت
الفاتحہ پڑھے تو بھی کافی ہے اور اگر زیادہ پڑھے تو اچھا ہے ۔
105. To recite aloud in the Fajr prayer
And
Umm Salama said, "I was performing Tawaf behind the people while the
Prophet (s.a.w) was offering Salat and reciting Surat At-Tur"
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي
بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما
ـ قَالَ انْطَلَقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي طَائِفَةٍ مِنْ
أَصْحَابِهِ عَامِدِينَ إِلَى سُوقِ عُكَاظٍ، وَقَدْ حِيلَ بَيْنَ
الشَّيَاطِينِ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ، وَأُرْسِلَتْ عَلَيْهِمُ
الشُّهُبُ، فَرَجَعَتِ الشَّيَاطِينُ إِلَى قَوْمِهِمْ. فَقَالُوا مَا
لَكُمْ فَقَالُوا حِيلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ،
وَأُرْسِلَتْ عَلَيْنَا الشُّهُبُ. قَالُوا مَا حَالَ بَيْنَكُمْ
وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ إِلاَّ شَىْءٌ حَدَثَ، فَاضْرِبُوا مَشَارِقَ
الأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا، فَانْظُرُوا مَا هَذَا الَّذِي حَالَ بَيْنَكُمْ
وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ فَانْصَرَفَ أُولَئِكَ الَّذِينَ تَوَجَّهُوا
نَحْوَ تِهَامَةَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ بِنَخْلَةَ،
عَامِدِينَ إِلَى سُوقِ عُكَاظٍ وَهْوَ يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ صَلاَةَ
الْفَجْرِ، فَلَمَّا سَمِعُوا الْقُرْآنَ اسْتَمَعُوا لَهُ فَقَالُوا هَذَا
وَاللَّهِ الَّذِي حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ.
فَهُنَالِكَ حِينَ رَجَعُوا إِلَى قَوْمِهِمْ وَقَالُوا يَا قَوْمَنَا
{إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا * يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا
بِهِ وَلَنْ نُشْرِكَ بِرَبِّنَا أَحَدًا} فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى
نَبِيِّهِ صلى الله عليه وسلم {قُلْ أُوحِيَ إِلَىَّ} وَإِنَّمَا
أُوحِيَ إِلَيْهِ قَوْلُ الْجِنِّ
Narrated By Ibn 'Abbas : The Prophet set out with the intention of
going to Suq 'Ukaz (market of 'Ukaz) along with some of his companions.
At the same time, a barrier was put between the devils and the news of
heaven. Fire commenced to be thrown at them. The Devils went to their
people, who asked them, "What is wrong with you?" They said, "A barrier
has been placed between us and the news of heaven. And fire has been
thrown at us." They said, "The thing which has put a barrier between you
and the news of heaven must be something which has happened recently.
Go eastward and westward and see what has put a barrier between you and
the news of heaven." Those who went towards Tuhama came across the
Prophet at a place called Nakhla and it was on the way to Suq 'Ukaz and
the Prophet was offering the Fajr prayer with his companions. When they
heard the Qur'an they listened to it and said, "By Allah, this is the
thing which has put a barrier between us and the news of heaven." They
went to their people and said, "O our people; verily we have heard a
wonderful recital (Qur'an) which shows the true path; we believed in it
and would not ascribe partners to our Lord." Allah revealed the
following verses to his Prophet (Sura 'Jinn') (72): "Say: It has been
revealed to me." And what was revealed to him was the conversation of
the Jinns.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان
کیا کہا ہم سے ابو عوانہ وضاح یشکری نے انہوں نے ابو بشر جعفر بن ابی وحشیہ
سے انہوں نے سعید بن جبیر سے انہوں نے عبد اللہ بن عباسؓ سے انہوں نے کہا
نبیﷺ اپنے کئی صحابہ کے ساتھ عکاظ کے بازار میں جانے کی نیت سے چلے ان
دنوں شیطان آسمان کی خبر لینے سے روک دیئے گئے تھے اور ان پر انگاروں کی
مار ہونے لگی تھی تو وہ اپنے لوگوں کی طرف لوٹ کر آئے انہوں نے پوچھا کیوں
کیا حال ہے وہ کہنے لگے( کیا کہیں ) آسمان کی خبر ہم سے روک دی گئی ہے
اور ہم پر انگارے برسائے گئے انہوں نے کہا یہ جو آسمان کی خبر تم سے روکی
گئی ہے اس کی وجہ ہو نہ ہو کوئی نئی بات ہے تو ذرا زمین کے پورب اور پچھم (
سب طرف)پھر کر دیکھو کون سی نئی بات ہوئی ہے جس کی وجہ سے آسمان کی خبر
تم سے روک دی گئی ہے ( یہ سن کر وہ چاروں طرف پھرنے لگے )ان میں جو جنات
تہامہ کی طرف نکلے تھے وہ نبیﷺکے پاس آ پہنچے آپ اس وقت نخلہ میں تھے
عکاظ کی منڈی کو جانے کی نیت رکھتے تھے اور اپنے اصحاب کو صبح کی نماز پڑھا
رہے تھے جب ان جنوں نے قرآن سنا تو ادھر کان لگا دیااور کہنے لگے خدا کی
قسم یہی وہ ہے جس لئے ہم سے آسمان کی خبر روک دی گئی ہےاسی موقع پر جب وہ
اپنے لوگوں کے پاس لوٹ کر گئے تو کہنے لگے بھا ئیو ہم تو ایک عجیب قرآن سن
کر آئے ہیں جو سیدھا رستہ بتلاتا ہے ہم تو اس پر ایمان لائےاور ہم ہرگز
اپنے مالک کا کسی کو شریک نہیں بنانے کے تب اللہ تعالٰی نے اپنے نبیﷺ پر یہ
سورت اتاری قل اوحی الیّ اور جنوں نے جو بات ( اپنی قوم سے) کہی تھی وہ
وحی سے آپ کو بتلا دی گئی ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنَا
أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَرَأَ النَّبِيُّ
صلى الله عليه وسلم فِيمَا أُمِرَ، وَسَكَتَ فِيمَا أُمِرَ {وَمَا كَانَ
رَبُّكَ نَسِيًّا} {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ
حَسَنَةٌ}
Narrated By Ibn
'Abbas : The Prophet recited aloud in the prayers in which he was
ordered to do so and quietly in the prayers in which he was ordered to
do so. "And your Lord is not forgetful." "Verily there was a good
example for you in the ways of the Prophet."
ہم سے مسدد نے بیان کیا کہا ہم
سے اسمٰعیل بن علیہ نے کہا ہم سے ایوب سختیانی نے انہوں نے عکرمہ سے انہوں
نے عبد اللہ بن عباسؓ سے انہوں نے کہا جس نماز میں نبیﷺ کو جہر کا حکم ہوا
آپ نے جہر کیا اور جس میں آہستہ پڑھنے کا حکم ہوا آہستہ پڑھا اور تیرا
مالک ( یعنی خدا تعالیٰ ) بھولنے والا نہیں اور تم کو اللہ کےرسول کی پیروی
اچھی پیروی ہے ۔
106. To recite two Surah in one Raka and to recite the last Verses of some Surah, or to recite the Surah in their reverse order, or to recite the beginning of a Surah
Narrated
Abdullah bin As-Saib, "The Prophet (s.a.w) recited Surah Al-Muminun in
the Fajr prayer and when he reached the story of Musa (e.s) and Harun
(e.s) or Esa (e.s) he got cough and bowed. Umar recited 120 Ayat from
Surah Al-Baqara in the first Raka and in the second Raka he recited a
Surah from the Mathani (Surah with less than 100 Ayat). Ahnaf recited in
the first Raka Surah Al-Kahf and in the second Raka Surah Yusuf or
Surah Yunus and said that he had offered the Fajr with Umar reciting the
same Surah. Ibn Masood recited recited 40 Ayat from Surah Al-Anfal and
in the second Raka, a Surah from Mufassal Surah (Surahs starting from
Surah Qaf till the end of the Quran)."
Qatada said about a person who recited one Surah divided between two
Raka or repeated the same Surah in both Raka that he can do so as all
those Ayat are from the Book of Allah.
وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ
كَانَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ يَؤُمُّهُمْ فِي مَسْجِدِ قُبَاءٍ، وَكَانَ
كُلَّمَا افْتَتَحَ سُورَةً يَقْرَأُ بِهَا لَهُمْ فِي الصَّلاَةِ مِمَّا
يَقْرَأُ بِهِ افْتَتَحَ بِ ـ {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} حَتَّى
يَفْرُغَ مِنْهَا، ثُمَّ يَقْرَأُ سُورَةً أُخْرَى مَعَهَا، وَكَانَ
يَصْنَعُ ذَلِكَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، فَكَلَّمَهُ أَصْحَابُهُ فَقَالُوا
إِنَّكَ تَفْتَتِحُ بِهَذِهِ السُّورَةِ، ثُمَّ لاَ تَرَى أَنَّهَا
تُجْزِئُكَ حَتَّى تَقْرَأَ بِأُخْرَى، فَإِمَّا أَنْ تَقْرَأَ بِهَا
وَإِمَّا أَنْ تَدَعَهَا وَتَقْرَأَ بِأُخْرَى. فَقَالَ مَا أَنَا
بِتَارِكِهَا، إِنْ أَحْبَبْتُمْ أَنْ أَؤُمَّكُمْ بِذَلِكَ فَعَلْتُ،
وَإِنْ كَرِهْتُمْ تَرَكْتُكُمْ. وَكَانُوا يَرَوْنَ أَنَّهُ مِنْ
أَفْضَلِهِمْ، وَكَرِهُوا أَنْ يَؤُمَّهُمْ غَيْرُهُ، فَلَمَّا أَتَاهُمُ
النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرُوهُ الْخَبَرَ فَقَالَ " يَا
فُلاَنُ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَفْعَلَ مَا يَأْمُرُكَ بِهِ أَصْحَابُكَ
وَمَا يَحْمِلُكَ عَلَى لُزُومِ هَذِهِ السُّورَةِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ
". فَقَالَ إِنِّي أُحِبُّهَا. فَقَالَ " حُبُّكَ إِيَّاهَا
أَدْخَلَكَ الْجَنَّةَ ".
Narrated By Ibn 'Abbas : The Prophet recited aloud in the prayers in
which he was ordered to do so and quietly in the prayers in which he was
ordered to do so. "And your Lord is not forgetful." "Verily there was a
good example for you in the ways of the Prophet."
اور عبیداللہ عمری نے ثابت سے
انہوں نے انسؓ سے روایت کی کہ ایک انصاری مرد (کلثوم بن ہدم) مسجد قبا میں
لوگوں کی امامت کیا کرتا تھا وہ جب ان سورتوں میں سے جو نماز میں پڑھی جاتی
ہیں کوئی سورت شروع کرتا تو پہلے قل ھو اللہ احد (سورت اخلاص) پڑھ لیتا
پھر اس کو پڑھ لینے کے بعد دوسری سورت اس کے ساتھ ملا کر پڑھتا ہر رکعت میں
ایسا ہی کیا کرتا۔ اس کے ساتھیوں نے اس پر اعتراض کیا اور کہنے لگے تو اس
سورت یعنی قل ھو اللہ کو شروع کرتا ہے پھر کیا یہ سمجھتا ہے کہ یہ سورت
کافی نہیں تب دوسری سورت اس کے ساتھ ملاتا ہے تو یا تو آئندہ یہی سورۃ قل
ھو اللہ فقط پڑھا کر یا اس کو چھوڑ دے اور دوسری سورت پڑھا کر۔ اس نے کہا
میں تو قل اللہ چھوڑنے والا نہیں اگر تم راضی ہو تو میں تمھاری امامت کروں
گا اور جو ناراض ہو تو میں امامت چھوڑ دوں گا اور لوگ اس کو اپنے میں سے
سب سے بہتر جانتے تھے دوسرے کی امامت ان کو پسند نہ تھی۔ جب نبی ﷺ ان لوگوں
کے پاس (یعنی قبا والوں کے پاس) تشریف لائے تو انہوں نے یہ حال آپؐ سے
عرض کیا۔ آپؐ نے اس سے پوچھا مردِ خدا تو ایسا کیوں نہیں کرتا جیسے تیرے
ساتھی کہتے ہیں اورسبب کیا ہے جو تو نے قل ھو اللہ ہر رکعت میں لازم کر
لیا ہے۔ اس نے جواب دیا (یا رسول اللہﷺ) مجھے اس سورت سے محبت ہے۔ آپؐ نے
فرمایا پس اس کی محبت نے تجھ کو بہشت دلا دی۔
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ
مُرَّةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ
مَسْعُودٍ فَقَالَ قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ اللَّيْلَةَ فِي رَكْعَةٍ.
فَقَالَ هَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ لَقَدْ عَرَفْتُ النَّظَائِرَ الَّتِي
كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقْرِنُ بَيْنَهُنَّ فَذَكَرَ
عِشْرِينَ سُورَةً مِنَ الْمُفَصَّلِ سُورَتَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ
Narrated By Abu Wa'il : A man came to Ibn Mas'ud and said, "I recited
the Mufassal (Suras) at night in one Rak'a." Ibn Mas'ud said, "This
recitation is (too quick) like the recitation of poetry. I know the
identical Suras which the Prophet used to recite in pairs." Ibn Mas'ud
then mentioned 20 Mufassal Suras including two Suras from the family of
(i.e. those verses which begin with) AL, HA, MIM (which the Prophet used
to recite) in each Rak'a.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان
کیا کہا ہم سے شعبہ نے کہا ہم سے عمرو بن مرّہ نے انہوں نے کہا میں نے ابو
وائل شقیق بن سلمہ سے سنا وہ کہتے تھے ایک شخص ( نہیک بن سنان) عبد اللہ
بن مسعودؓ کے پاس آیا اور کہنے لگا میں نے تو رات کو مفصل کی ساری سورتیں
ایک رکعت میں پڑھ ڈالیں عبد اللہ نے کہا جیسے جلدی جلدی شعر یں پڑھتا ہے
ویسے پڑھ گیا میں ان جوڑ جوڑ سورتوں کو جانتا ہوں جن کو نبیﷺ ملا کر ( ایک
ایک رکعت میں ) پڑھا کرتے پھر عبد اللہ نے مفصل کی بیس سورتیں بیان کی ہر
رکعت میں دو دو سورتیں ۔
107. To recite only Surat Al-Fatiha in the last two Raka during a four Raka Salat
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ
يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ
النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ فِي
الأُولَيَيْنِ بِأُمِّ الْكِتَابِ وَسُورَتَيْنِ، وَفِي الرَّكْعَتَيْنِ
الأُخْرَيَيْنِ بِأُمِّ الْكِتَابِ، وَيُسْمِعُنَا الآيَةَ، وَيُطَوِّلُ
فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى مَا لاَ يُطَوِّلُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ،
وَهَكَذَا فِي الْعَصْرِ وَهَكَذَا فِي الصُّبْحِ
Narrated By 'Abdullah bin Abi Qatada : My father said, "The Prophet
uses to recite Al-Fatiha followed by another Sura in the first two Rakat
of the prayer and used to recite only Al-Fatiha in the last two Rakat
of the Zuhr prayer. Sometimes a verse or so was audible and he used to
prolong the first Rak'a more than the second and used to do the same in
the 'Asr and Fajr prayers."
ہم سے موسیٰ بن اسمٰعیل نے بیان
کیا کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے انہوں نے
عبد اللہ ابن ابی قتادہ سے انہوں نے اپنے باپ ابو قتادہ سے کہ نبیﷺ ظہر کی
پہلی دو رکعتوں میں سورت فاتحہ اور دو سورتیں ( ہر رکعت میں ایک ) پڑھتے
اور پچھلی دو رکعتوں میں صرف سورت فاتحہ پڑھتے اور (کبھی) ایک آدھ آیت
ہم کو سنا دیتے اور پہلی رکعت دوسری رکعت سے لمبی پڑھتے اور ایسا ہی عصر
اور فجر کی نماز میں کرتے ۔
108. To recite quietly in the Zuhr and Asr prayers
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ
الأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، قُلْتُ
لِخَبَّابٍ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي
الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ قَالَ نَعَمْ. قُلْنَا مِنْ أَيْنَ عَلِمْتَ قَالَ
بِاضْطِرَابِ لِحْيَتِهِ
Narrated
By Abu Ma'mar : We said to Khabbab "Did Allah's Apostle used to recite
in Zuhr and 'Asr prayers?" He replied in the affirmative. We said, "How
did you come to know about it?" He said, "By the movement of his beard."
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان
کیا کہا ہم سے جریربن عبد الحمید نے انہوں نے اعمش سے انہوں نے عمارہ بن
عمیر سے انہوں نے ابو معمر عبد اللہ بن سنجرہ سے انہوں نے کہا ہم نے خباب
بن ارت سے کہا کیا رسول اللہ ﷺ ظہر اور عصر کی نماز میں قراءت کرتے تھے
انہوں نے کہا ہاں ہم نے کہا تم کو کیسے معلوم ہوا انہوں نے کہا آپ کی
مبارک ریش ہلتی تھی ۔
109. (In a quiet prayer) if the Imam recites an ayat or so audibly
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ،
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ
أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ
يَقْرَأُ بِأُمِّ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ مَعَهَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ
الأُولَيَيْنِ مِنْ صَلاَةِ الظُّهْرِ وَصَلاَةِ الْعَصْرِ، وَيُسْمِعُنَا
الآيَةَ أَحْيَانًا، وَكَانَ يُطِيلُ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى
Narrated By 'Abdullah bin Abi Qatada : My father said, "The Prophet
used to recite Al-Fatiha along with another Sura in the first two Rakat
of the Zuhr and 'Asr prayers. A verse or so was audible at times and he
used to prolong the first Rak'a."
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے
بیان کیا کہا ہم سے امام عبد الرحمٰن اوزاعی نے کہا مجھ سے یحییٰ بن ابی
کثیر نے کہا مجھ سے عبد اللہ بن ابی قتادہ نے انہوں نے اپنے باپ ابو قتادہؓ
( صحابی) سے نبیﷺ ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سورۃ فاتحہ اور ایک ایک سورت
اس کے ساتھ پڑھتے اسی طرح عصر کی نماز میں کبھی کبھی ایک آدھ آیت ہم کو
سنا دیتے اور پہلی رکعت ( دوسری رکعت سے) لمبی کرتے ۔
110. To prolong the first Raka
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي
كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ
النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُطَوِّلُ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى
مِنْ صَلاَةِ الظُّهْرِ، وَيُقَصِّرُ فِي الثَّانِيَةِ، وَيَفْعَلُ ذَلِكَ
فِي صَلاَةِ الصُّبْحِ
Narrated
By 'Abdullah bin Abi Qatada : My father said, "The Prophet used to
prolong the first Rak'a of the Zuhr prayer and shorten the second one
and used to do the same in the Fajr prayer."
ہم سے ابو نعیم فضل بن دکین نے
بیان کیا کہا ہم سے ہشام دستوائی نے انہوں نےیحییٰ بن ابی کثیر سے انہوں نے
عبد اللہ بن ابی قتادہ سے انہوں نے اپنے باپ ابو قتادہؓ سے کہ نبیﷺ ظہر کی
پہلی رکعت لمبی پڑھتے اور دوسری رکعت چھوٹی اور صبح کی نماز میں بھی ایسا
ہی کرتے ۔
111. Saying of Amin aloud by the Imam
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ
ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَأَبِي، سَلَمَةَ بْنِ
عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ
النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا أَمَّنَ الإِمَامُ
فَأَمِّنُوا فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلاَئِكَةِ
غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ". وَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ
وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " آمِينَ "
Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "Say Amin" when the Imam
says it and if the Amin of any one of you coincides with that of the
angels then all his past sins will be forgiven." Ibn Shihab said,
"Allah's Apostle used to Say "Amin."
ہم سے عبد اللہ بن یوسف تنیسی
نے بیان کیاکہا ہم کو امام مالک نے خبر دی انہوں نے ابن شہاب سے انہوں نے
سعید بن مسیب اور ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن بن عوف سے ان دونوں نے ابو
ہریرہؓ سے کہ نبیﷺ نے فرمایا جب امام آمین کہے تم بھی آمین کہو ،کیونکہ
جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے لڑ جائے گی اس کے اگلے گناہ بخش دیئے
جائیں گے ابن شہاب نے کہا رسول اللہﷺبھی آمین کہا کرتے تھے ۔
112. Superiority of saying Amin
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ
أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا قَالَ
أَحَدُكُمْ آمِينَ. وَقَالَتِ الْمَلاَئِكَةُ فِي السَّمَاءِ آمِينَ.
فَوَافَقَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ
ذَنْبِهِ "
Narrated By Abu
Huraira : Allah's Apostle said, "If any one of you says, "Amin" and the
angels in the heavens say "Amin" and the former coincides with the
latter, all his past sins will be forgiven."
ہم سے عبد اللہ بن یوسف تنیسی
نے بیان کیا کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی انہوں نے ابو الزناد سے انہوں
نے اعرج سے انہوں نے ابو ہریرہؓ سے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جب کوئی تم میں
سے آمین کہے اور فرشتے ( جو) آسمان پر آمین ( کہا کرتے ہیں وہ بھی )
کہیں پھر دونوں آمینیں لڑ جائیں تو اس کے اگلے گناہ بخش دیئے جائینگے ۔
113. Saying of Amin aloud by the followers
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَىٍّ،
مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ
رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا قَالَ الإِمَامُ
{غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ} فَقُولُوا
آمِينَ. فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلاَئِكَةِ غُفِرَ
لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ". تَابَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه
وسلم وَنُعَيْمٌ الْمُجْمِرُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضى الله عنه
Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "Say Amen' when the
Imam says "Ghair-il-maghdubi 'alaihim wala-ddal-lin; not the path of
those who earn Your Anger (such as Jews) nor of those who go astray
(such as Christians); all the past sins of the person whose saying (of
Amin) coincides with that of the angels, will be forgiven.
ہم سے عبد اللہ بن مسلمہ قعنبی
نے بیان کیا انہوں نے امام مالکؒ سے انہوں نے سمّی سے جو ابو بکر بن عبد
الرحمٰن کے غلام تھے انہوں نے ابو صالح روغن فروش سے انہوں نے ابو ہریرہؓ
سے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جب امام غیر المغضوب علیہم ولاالضالین کہے اور
( آمین کہنا چاہتا ہو) تو تم آمین کہو اس لئے کہ جس کا آمین کہنا
فرشتوں کے آمین کہنے سے لڑ جائے گا اس کے اگلے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔
سمی کے ساتھ اس حدیث کو محمد بن عمرو نے بھی ابو سلمہ سے انہوں نے ابو
ہریرہؓ سے انہوں نے نبیﷺ سے روایت کیا اور نعیم مجمر نے بھی ابو ہریرہؓ سے
انہوں نے نبیﷺ سے ۔
114. If someone bowed behind the rows (on entering the masjid and before joining the rows of Salat)
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنِ
الأَعْلَمِ ـ وَهْوَ زِيَادٌ ـ عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ،
أَنَّهُ انْتَهَى إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ رَاكِعٌ،
فَرَكَعَ قَبْلَ أَنْ يَصِلَ إِلَى الصَّفِّ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ
صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا وَلاَ تَعُدْ "
Narrated By Abu Bakra : I reached the Prophet in the mosque while he
was bowing in prayer and I too bowed before joining the row mentioned it
to the Prophet and he said to me, "May Allah increase your love for the
good. But do not repeat it again (bowing in that way)."
ہم سے موسیٰ بن اسمٰعیل نے بیان
کیا کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے انہوں نے زیاد بن حسان اعلم سے انہوں نے
امام حسن بصری سے انہوں نے ابو بکرہ ( نفیع بن حارث صحابی ) سے وہ نبیﷺ کے
پاس اس وقت پہنچے جب آپ رکوع میں تھے تو صف میں شامل ہونے سے پہلےانہوں
نے رکوع کر لیا پھر نبیﷺ سےیہ بیان کیا تو آپ نے فرمایا اللہ اس سے زیادہ
تجھ کو ( نیک کام کی) حرص دے لیکن پھر ایسا نہ کر ۔
115. Itmam At-takbir (i.e., to end the number of Takbir or to say the Takbir perfectly) on bowing
Ibn Abbas narrated it from the Prophet (s.a.w). One of the narrators of the Hadith is Malik bin Huwairith (r.a)
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْوَاسِطِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنِ
الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْعَلاَءِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ
بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ صَلَّى مَعَ عَلِيٍّ ـ رضى الله عنه ـ بِالْبَصْرَةِ
فَقَالَ ذَكَّرَنَا هَذَا الرَّجُلُ صَلاَةً كُنَّا نُصَلِّيهَا مَعَ
رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم. فَذَكَرَ أَنَّهُ كَانَ يُكَبِّرُ
كُلَّمَا رَفَعَ وَكُلَّمَا وَضَعَ
Narrated By Imran bin Husain : I offered the prayer with 'Ali in Basra
and he made us remember the prayer which we used to pray with Allah's
Apostle. 'Ali said Takbir on each rising and bowing.
ہم سے اسحٰق بن شاہین واسطی نے
بیان کیا کہا ہم سے خالد ابن عبد اللہ طحان نے انہوں نے سعید بن ایاس جریری
سے انہوں نے ابو العلاء یزید بن عبد اللہ سے انہوں نے مطرف ابن عبد اللہ
سے انہوں نے عمران بن حصین صحابی سے انہوں نے بصرے میں حضرت علیؓ کے ساتھ
نماز پڑھی اور کہا انہوں نے ہم کو وہ نماز یاد دلائی جو رسول اللہﷺ کے
ساتھ پڑھا کرتے تھے پھر کہا کہ حضرت علیؓ جب سر اٹھاتے اور جب سر جھکاتے اس
وقت تکبیر کہتے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ،
عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ
كَانَ يُصَلِّي بِهِمْ، فَيُكَبِّرُ كُلَّمَا خَفَضَ وَرَفَعَ، فَإِذَا
انْصَرَفَ قَالَ إِنِّي لأَشْبَهُكُمْ صَلاَةً بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله
عليه وسلم
Narrated By Abu Salama
: When Abu Huraira led us in prayer he used to say Takbir on each
bowing and rising. On the completion of the prayer he used to say, "My
prayer is more similar to the prayer of Allah's Apostle than that of
anyone of you."
ہم سے عبد اللہ بن یوسف تنیسی
نے بیان کیا کہا ہم کو امام مالکؒ نے خبر دی انہوں نے ابن شہاب سے انہوں نے
ابو سلمہؒ ابن عبد الرحمٰن سے انہوں نے ابو ہریرہؓ سے وہ لوگوں کو نماز
پڑھاتے تھے تو ہر جھکتے اور اٹھتےوقت تکبیر کہتے اور جب نماز پڑھ چکتے تو
کہتے میری نماز بہت مشابہ ہے رسول اللہﷺ کی نماز سے بہ نسبت تمہاری نماز
کے ۔
116. Itmam At-Takbir (i.e. to end the number of Takbir, or to say the Takbir perfectly) on prostrating
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ
غَيْلاَنَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ
صَلَّيْتُ خَلْفَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَا
وَعِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ،، فَكَانَ إِذَا سَجَدَ كَبَّرَ، وَإِذَا رَفَعَ
رَأْسَهُ كَبَّرَ، وَإِذَا نَهَضَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ، فَلَمَّا
قَضَى الصَّلاَةَ أَخَذَ بِيَدِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ فَقَالَ قَدْ
ذَكَّرَنِي هَذَا صَلاَةَ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم. أَوْ قَالَ
لَقَدْ صَلَّى بِنَا صَلاَةَ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم
Narrated By Mutarrif bin 'Abdullah : 'Imran bin Husain and I offered
the prayer behind Ali bin Abi Talib. When 'Ali prostrated, he said the
Takbir, when he raised his head, he said the Takbir and when he got up
for the third Rak'a he said the Takbir. On completion of the prayer
Imran took my hand and said, "This (i.e. 'Ali) made me remember the
prayer of Muhammad(s.a.w)" Or he said, "He led us in a prayer like that
of Muhammad.(s.a.w)"
ہم سے ابو النعمان محمد بن فضل
نے بیان کیا کہا ہم سے حماد ابن زید نے انہوں نے غیلان بن جریر سے انہوں نے
مطرف بن عبد اللہ بن شخیر سے انہوں نے کہا میں نے اور عمران بن حصین نے
حضرت علی بن ابی طالب کے پیچھے نماز پڑھی تو وہ جب سجدے میں جاتے اللہ اکبر
کہتے اور جب سجدے سے سر اٹھاتے اللہ اکبر کہتے اور جب دو رکعتیں پڑھ کر (
قعدہ کر کے) اٹھتےتکبیر کہتے جب نماز پڑھ چکے تو عمران بن حصین نے میرا
ہاتھ پکڑا اور کہنے لگے آج اس شخص نے ( یعنی حضرت علیؓ) نے حضرت محمد ﷺ
کی نماز مجھ کو یاد دلا دی یا یوں کہا اس شخص نے ہم کو محمد ﷺ کی سی نماز
پڑھائی ۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي
بِشْرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ رَأَيْتُ رَجُلاً عِنْدَ الْمَقَامِ
يُكَبِّرُ فِي كُلِّ خَفْضٍ وَرَفْعٍ وَإِذَا قَامَ وَإِذَا وَضَعَ،
فَأَخْبَرْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَوَلَيْسَ تِلْكَ
صَلاَةَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لاَ أُمَّ لَكَ
Narrated By 'Ikrima : I saw a person praying at Muqam-lbrahim (the
place of Abraham by the Ka'ba) and he was saying Takbir on every bowing,
rising, standing and sitting. I asked Ibn 'Abbas (about this prayer).
He admonished me saying: "Isn't that the prayer of the Prophet?"
ہم سے عمرو بن عون نے بیان کیا کہا ہم کو ہشیم بن بشیر نے خبر دی انہوں نے
ابو بشر حفص بن ابی وحشیہ سے انہوں نے عکرمہ سے انہوں نے کہا میں نے ایک
شخص کو مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑھتے دیکھا وہ جب جھکتا اور اٹھتا اور جب
کھڑا ہوتا اور سجدے میں جاتا تو تکبیر کہتا میں نے تعجب اور انکار کی راہ
سے یہ ابن عباس سے بیان کیا انہوں نے کہا ارے تیری ماں مرے کیا یہ نبیﷺ
کی سی نماز نہیں ہے ۔
117. Saying the Takbir on raising from the prostration
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، عَنْ
قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ شَيْخٍ بِمَكَّةَ
فَكَبَّرَ ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ تَكْبِيرَةً، فَقُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ
إِنَّهُ أَحْمَقُ. فَقَالَ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ، سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ
صلى الله عليه وسلم.
وَقَالَ مُوسَى حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ
وَقَالَ مُوسَى حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ
Narrated By 'Ikrima : I prayed behind a Sheikh at Mecca and he said
twenty two Takbirs (during the prayer). I told Ibn 'Abbas that he (i.e.
that Sheikh) was foolish. Ibn 'Abbas admonished me and said, "This is
the tradition of Abu-l-Qasim."
ہم سے موسیٰ بن اسمٰعیل نے بیان کیا کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے انہوں نے
قتادہ سے انہوں نے عکرمہ سے انہوں نے کہا میں نے مکہ میں ایک بڈھے کے
پیچھے نماز پڑھی ( ظہر کی) اس نے بائیس تکبیریں کہیں میں نے ابن عباسؓ سے
کہا یہ بڈھا بے وقوف ہے انہوں نے کہا ( ارے جوانا مرگ) تیری ماں تجھ پر
روئے یہ تو حضرت ابو القاسم ﷺ کی سنت ہے اور موسیٰ بن اسمٰعیل نے اس حدیث
کو یوں بھی روایت کیا ہم سے ابان نے بیان کیا کہا ہم سے قتادہ نے کہا ہم
سے عکرمہ نے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ
عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ
الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاَةِ
يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُولُ
سَمِعَ اللَّهُ لَمِنْ حَمِدَهُ. حِينَ يَرْفَعُ صُلْبَهُ مِنَ
الرَّكْعَةِ، ثُمَّ يَقُولُ وَهُوَ قَائِمٌ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ـ
قَالَ عَبْدُ اللَّهِ {بْنُ صَالِحٍ عَنِ اللَّيْثِ} وَلَكَ الْحَمْدُ ـ
ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَهْوِي، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ،
ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَسْجُدُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ
رَأْسَهُ، ثُمَّ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي الصَّلاَةِ كُلِّهَا حَتَّى
يَقْضِيَهَا، وَيُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ مِنَ الثِّنْتَيْنِ بَعْدَ
الْجُلُوسِ
And narrated Abu
Huraira: Whenever Allah's Apostle stood for the prayer, he said Takbir
on starting the prayer and then on bowing. On rising from bowing he
said, "Sami' a-l-lahu liman hamida," and then while standing straight he
used to say, "Rabbana laka-l hamd" (Al-Laith said, "(The Prophet said),
'Walaka-l-hamd'." He used to say Takbir on prostrating and on raising
his head from prostration; again he would Say Takbir on prostrating and
raising his head. He would then do the same in the whole of the prayer
till it was completed. On rising from the second Rak'a (after sitting
for At-Tahiyyat), he used to say Takbir.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان
کیا کہا ہم سے لیث بن سعد نے انہوں نے عقیل بن خالد سے انہوں نے ابن شہاب
سے انہوں نے کہا مجھ سے ابو بکر بن عبد الرحمٰن بن حارث نے بیان کیا انہوں
نے ابو ہریرہؓ سے سنا رسول اللہﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر
کہتے ( تکبیر تحریمہ) پھر جب رکوع کرتے تو تکبیر کہتے پھر فرماتے سمع اللہ
لمن حمدہ جب رکوع سے اپنی پیٹھ اٹھاتے پھر کھڑے ہی کھڑے ربنا لک الحمد کہتے
پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے جھکتے ( سجدے کےلیے ) پھر جب سجدے سے سر اٹھاتے
اللہ اکبر کہتے پھر دوسرا سجدہ کرتے وقت اللہ اکبر کہتے پھر سر اٹھاتے وقت
اللہ اکبر کہتے پھر ایسا ہی ساری نماز میں کرتے (ہر رکعت میں پانچ تکبیریں )
نماز پوری ہوئے تک اور جب دو رکعتیں پڑھ کر بیٹھ کے اٹھتے اس وقت بھی اللہ
اکبر کہتے ( عبد اللہ ابن صالح نے لیث سے اس حدیث میں یوں نقل کیا
۔رَبّنَا وَلَکَ الحَمدُ)۔
118. To put the hands on both knees while bowing
While in the company of his companions, Abu Humaid said, "The Prophet (s.a.w) used to put both his hands on his knees."
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي
يَعْفُورٍ، قَالَ سَمِعْتُ مُصْعَبَ بْنَ سَعْدٍ، يَقُولُ صَلَّيْتُ إِلَى
جَنْبِ أَبِي فَطَبَّقْتُ بَيْنَ كَفَّىَّ ثُمَّ وَضَعْتُهُمَا بَيْنَ
فَخِذَىَّ، فَنَهَانِي أَبِي وَقَالَ كُنَّا نَفْعَلُهُ فَنُهِينَا عَنْهُ،
وَأُمِرْنَا أَنْ نَضَعَ أَيْدِيَنَا عَلَى الرُّكَبِ
Narrated By Mus'ab bin Sa'd : I offered prayer beside my father and
approximated both my hands and placed them in between the knees. My
father told me not to do so and said, "We used to do the same but we
were forbidden (by the Prophet) to do it and were ordered to place the
hands on the knees."
ہم سے ابو الولید ہشام بن عبد
الملک نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے انہوں نے ابو یعفور (وقدان اکبر ) سے
انہوں نے کہا میں نے مصعب بن سعد سے سنا انہوں نے کہا میں نے اپنے باپ سعد
بن ابی وقاصؓ کے پہلو میں نماز پڑھی میں نے ( رکوع میں )ہتھیلیاں ملائیں
اور رانوں میں رکھ لیں میرے باپ نے منع کیا اور کہا پہلے ہم ایسا کیا
کرتے تھے پھر اس سے منع کئے گئے اور یہ حکم ہوا کہ ہاتھوں کو گھٹنوں پر
رکھیں ۔
119. Not bowing perfectly
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ
سُلَيْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ، قَالَ رَأَى حُذَيْفَةُ
رَجُلاً لاَ يُتِمُّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ قَالَ مَا صَلَّيْتَ، وَلَوْ
مُتَّ مُتَّ عَلَى غَيْرِ الْفِطْرَةِ الَّتِي فَطَرَ اللَّهُ مُحَمَّدًا
صلى الله عليه وسلم
Narrated By
Zaid bin Wahb : Hudhaifa saw a person who was not performing the bowing
and prostrations perfectly. He said to him, "You have not prayed and if
you should die you would die on a religion other than that of Muhammad."
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا
کہا ہم سے شعبہ نے انہوں نے سلیمان اعمش سے انہوں نے کہا میں نے زید بن
وہیب سے سنا انہوں نے کہا حذیفہ بن یمانؓ صحابی نے ایک شخص کو نماز پڑھتے
دیکھا وہ رکوع اور سجدہ پوری طرح نہیں کرتا تھا حذیفہ نے اس سے کہا تو نے
نماز ہی نہیں پڑھی اور تو مرے گا تو اس طریق پر نہیں مرے گا جس پر اللہ
تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو پیدا کیا تھا ۔
120. To keep the back straight in bowing
In the presence of his companions, Abu Humaid said, "The Prophet (s.a.w) bowed and kept his back straight."
121. And what is said regarding the limit of the completion of bowing and of keeping the back straight and the calmness with which it is performed
حَدَّثَنَا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ
أَخْبَرَنِي الْحَكَمُ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ
كَانَ رُكُوعُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَسُجُودُهُ وَبَيْنَ
السَّجْدَتَيْنِ وَإِذَا رَفَعَ مِنَ الرُّكُوعِ، مَا خَلاَ الْقِيَامَ
وَالْقُعُودَ، قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ
Narrated By Al-Bara : The bowing, the prostration the sitting in
between the two prostrations and the standing after the bowing of the
Prophet but not Qiyam (standing in the prayer) and Qu'ud (sitting in the
prayer) used to be approximately equal (in duration).
ہم سے بدل بن محبر نے بیان کیا
کہا ہم سے شعبہ نے کہا مجھ کو حاکم بن عتبہ نے خبر دی انہوں نے ابن ابی
لیلیٰ سے انہوں نے براء بن عازبؓ سے انہوں نے کہا نبیﷺکا رکوع اور سجدہ
اور دونوں سجدوں کے بیچ میں بیٹھنا اور رکوع کے بعد قومہ یہ سب قریب قریب
برابر تھے سوائے قیام اور تشہد کے قعود کے ۔
122. The order of the Prophet (s.a.w) to a person who did not perform his bowing perfectly that he should repeat his Salat
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ
عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ،
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ
الْمَسْجِدَ فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى
النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَرَدَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم
عَلَيْهِ السَّلاَمَ فَقَالَ " ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ
" فَصَلَّى، ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم
فَقَالَ " ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ ". ثَلاَثًا.
فَقَالَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ فَمَا أُحْسِنُ غَيْرَهُ
فَعَلِّمْنِي. قَالَ " إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلاَةِ فَكَبِّرْ، ثُمَّ
اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى
تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا، ثُمَّ
اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ
جَالِسًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ افْعَلْ
ذَلِكَ فِي صَلاَتِكَ كُلِّهَا "
Narrated By Abu Huraira : Once the Prophet entered the mosque, a man
came in, offered the prayer and greeted the Prophet. The Prophet
returned his greeting and said to him, "Go back and pray again for you
have not prayed." The man offered the prayer again, came back and
greeted the Prophet. He said to him thrice, "Go back and pray again for
you have not prayed." The man said, "By Him Who has sent you with the
truth! I do not know a better way of praying. Kindly teach Me how to
pray." He said, "When you stand for the prayer, say Takbir and then
recite from the Qur'an what you know and then bow with calmness till you
feel at ease, then rise from bowing till you stand straight. Afterwards
prostrate calmly till you feel at ease and then raise (your head) and
sit with Calmness till you feel at ease and then prostrate with calmness
till you feel at ease in prostration and do the same in the whole of
your prayer."
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان
کیا کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے انہوں نے عبید اللہ عمری سے انہوں نے
کہا مجھ سے سعید بن ابی سعید مقبری نے انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے ابو
ہریرہؓ سے کہ نبیﷺ مسجد میں تشریف لے گئے اتنے میں ایک شخص آیا ( خلاد
بن رافع) اس نے نماز پڑھی پھر آ کر آپ کو سلام کیا آپ نے سلام کا جواب
دیا اور فرمایا جا پھر نماز پڑھ تو نے نماز نہیں پڑھی،وہ گیا اور پھر نماز
پڑھی پھر آن کر آپ کو سلام کیا آپ نے فرمایا جا نماز پڑھ تو نے نماز
نہیں پڑھی تین بار یہی ہوا آخر وہ کہنے لگا قسم اس کی جس نے سچ مچ آپ کو
بھیجا میں تو اس سے اچھی نماز نہیں پڑھ سکتا مجھے سکھلائیے تو یہی آپ نے
فرمایا جب تو نماز کے لیے کھڑا ہو تو تکبیر کہہ پھر جو کچھ تجھ کو یاد ہو
اور آسانی کے ساتھ پڑھ سکے وہ پڑھ پھر اطمینان سے ٹھہر کر رکوع کر پھر سر
اٹھا یہاں تک کہ سیدھا کھڑا ہو جائے پھر اطمینان سے ٹھہر کر سجدہ کر ،پھر
سجدے سے سر اٹھا اور اطمینان سے بیٹھ پھر دوسرا سجدہ اطمینان سے ٹھہر کر
ادا کر پھر اسی طرح ساری نماز پڑھ۔
123. Invocation in bowing
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ
مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى
الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ فِي
رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ،
اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي "
Narrated By 'Aisha : The Prophet used to say in his bowing and
prostrations, "Subhanaka-Allahumma Rabbana wa-bihamdika
Allahumma-ighfirli.' (I honour Allah from all what (unsuitable things)
is ascribed to Him. O Allah Our Lord! And all the praises are for You. O
Allah! Forgive me)."
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا
کہا ہم سے شعبہ نے انہوں نے منصور بن معتمر سے انہوں نے ابو الضحیٰ مسلم
ابن صبیح سے انہوں نے مسروق سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے کہا نبیﷺ
رکوع اور سجدے میں یہ کہتے سُبحَانَکَ اللَّھُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمدِکَ
اَللَّھُمَّ اغفِرلِی ۔
124. What the Imam and the followers say on raising their heads from bowing
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ
الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله
عليه وسلم إِذَا قَالَ " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ". قَالَ
" اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ". وَكَانَ النَّبِيُّ صلى
الله عليه وسلم إِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ يُكَبِّرُ، وَإِذَا
قَامَ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ قَالَ " اللَّهُ أَكْبَرُ "
Narrated By Abu Huraira : When the Prophet said, "Sami' a-l-lahu Liman
hamida," (Allah heard those who sent praises to Him), he would say,
"Rabbana wa-laka-l-hamd." On bowing and raising his head from it the
Prophet used to say Takbir. He also used to say Takbir on rising after
the two prostrations.
ہم سے
آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا کہا ہم سے ابن ابی ذنب نے انہوں نے سعید
مقبری سے انہوں نے ابو ہریرہؓ سے انہوں نے کہا نبیﷺ جب سمع اللہ لمن حمدہ
فرماتے تو اس کے بعد یوں کہتے اللھم ربنا ولک الحمد اور نبیﷺ جب رکوع کرتے
اور جب سجدے سے سر اٹھاتے تو اللہ اکبر کہتے اور جب دونوں سجدے کر کے کھڑے
ہوتے تب بھی اللہ اکبر کہتے ۔
125. The superiority of saying Allahumma Rabbana lakal hamd (O Allah! Our Lord! All the praises and thanks are for You)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ،
عَنْ سُمَىٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا قَالَ
الإِمَامُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ. فَقُولُوا اللَّهُمَّ
رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ. فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ
الْمَلاَئِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ "
Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "When the Imam says,
"Sami' a-l-lahu Liman hamida," you should say, "Allahumma Rabbana
laka-l-hamd." And if the saying of any one of you coincides with that of
the angels, all his past sins will be forgiven."
ہم سے عبد اللہ بن یوسف تنیسی
نے بیان کیا کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی انہوں نے سمّی سے انہوں نے ابو
صالح ذکوان سے انہوں نے ابو ہریرہؓ سے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جب امام سمع
اللہ لمن حمدہ کہے تو تم اللھم ربنا ولک الحمد کہو کیونکہ جس کا یہ کہنا
فرشتوں کے کہنے سے لڑ جائے گا اس کے اگلے گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔
126. Chapter
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ
يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ لأُقَرِّبَنَّ
صَلاَةَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ ـ رضى
الله عنه ـ يَقْنُتُ فِي الرَّكْعَةِ الآخِرَةِ مِنْ صَلاَةِ الظُّهْرِ
وَصَلاَةِ الْعِشَاءِ، وَصَلاَةِ الصُّبْحِ، بَعْدَ مَا يَقُولُ سَمِعَ
اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ. فَيَدْعُو لِلْمُؤْمِنِينَ وَيَلْعَنُ
الْكُفَّارَ
Narrated Abu Salma:
Abu Hurairah said, " No doubt, my Salat (prayer) is similar to that of
the prophet (s.a.w.)" Abu Hurairah(R.A.)used to recite Qanut(invocation)
after saying Sami Allahu liman hamida in the last Raka of the Zuhr,
Isha and Fajr prayers.He would ask Allah's Forgiveness for the true
believers and curse the disbelievers.
ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا انہوں نے کہا ہشام دستوائی سے انہوں نے
یحییٰ بن ابی کثیر سے انہوں نے ابو سلمہ سے انہوں نے ابو ہریرہؓ سے انہوں
نے کہا میں تمہاری نماز نبیﷺ کی نماز کے قریب قریب کر دوں گا تو ابو
ہریرہؓ ظہر کی اخیر رکعت میں اور عشاء کی اخیر رکعت میں اور صبح کی اخیر
رکعت میں سمع اللہ لمن حمدہ کہنے کے بعد مسلمانوں کےلیے دعا کرتے اور
کافروں پر لعنت کرتے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الأَسْوَدِ، قَالَ حَدَّثَنَا
إِسْمَاعِيلُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ
أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ الْقُنُوتُ فِي الْمَغْرِبِ
وَالْفَجْرِ
Narrated By Anas : The Qunut used to be recited in the Maghrib and the Fajr prayers.
ہم سے عبد اللہ بن ابی الاسود
نے بیان کیا کہا ہم سے اسمٰعیل بن علیہ نے انہوں نے خالد حذاء سے انہوں نے
ابو قلابہ ( عبد اللہ بن زید ) سے انہوں نے انس سے انہوں نے کہا دعائےقنوت
فجر اور مغرب کی نماز میں پڑھی جاتی تھی ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نُعَيْمِ
بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلاَّدٍ
الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيِّ،
قَالَ كُنَّا يَوْمًا نُصَلِّي وَرَاءَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم
فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ قَالَ " سَمِعَ اللَّهُ
لِمَنْ حَمِدَهُ ". قَالَ رَجُلٌ وَرَاءَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ،
حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ
" مَنِ الْمُتَكَلِّمُ ". قَالَ أَنَا. قَالَ " رَأَيْتُ
بِضْعَةً وَثَلاَثِينَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا، أَيُّهُمْ يَكْتُبُهَا
أَوَّلُ "
Narrated By Rifa'a bin
Rafi AzZuraqi : One day we were praying behind the Prophet. When he
raised his head from bowing, he said, "Sami'a-l-lahu Liman hamida." A
man behind him said, "Rabbana walaka-l hamd hamdan Kathiran taiyiban
mubarakan fihi" (O our Lord! All the praises are for You, many good and
blessed praises). When the Prophet completed the prayer, he asked, "Who
has said these words?" The man replied, "I." The Prophet said, "I saw
over thirty angels competing to write it first.
ہم سے عبد اللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا انہوں نے امام مالک سے انہوں
نے نعیم بن عبد اللہ مجمر سے انہوں نے علی بن یحییٰ بن خلاد زرقی سے انہوں
نے اپنے باپ یحییٰ بن خلاد سے انہوں نے رفاعہ بن رافع زرقی صحابی سے انہوں
نے کہا ہم ایک دن نبیﷺکے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے جب آپ نے رکوع سے سر
اٹھایا تو فرمایا سمع اللہ لمن حمدہ ۔ایک شخص نے (خود رفاعہ نے ) آپ کے
پیچھے یوں کہا ربنا ولک الحمد حمدًا کثیرًا طیِّباً مبارکاً فیہ جب آپ
نماز پڑھ چکے تو پوچھا ۔یہ کلام کس نے کیا تھا وہ شخص بولا میں نے آپ نے
فرمایا میں نے کچھ اوپر تیس فرشتوں کو دیکھا ہر ایک لپک رہا تھا کون پہلے
اس کو لکھتا ہے ۔
127. To stand straight with calmness on raising the head from bowing
And
Abu Humaid said, "The Prophet (s.a.w) rose (from bowing) and stood
straight till all the vertebra of his spinal column came to a natural
position."
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ ثَابِتٍ،
قَالَ كَانَ أَنَسٌ يَنْعَتُ لَنَا صَلاَةَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم
فَكَانَ يُصَلِّي وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَامَ حَتَّى
نَقُولَ قَدْ نَسِيَ
Narrated By
Thabit : Anas used to demonstrate to us the prayer of the Prophet and
while demonstrating, he used to raise his head from bowing and stand so
long that we would say that he had forgotten (the prostration).
ہم سے ابو الولید نے بیان کیا
کہا ہم سے شعبہ نے انہوں نے ثابت بنانی سے انہوں نے کہا انسؓ نبیﷺ کی
نماز ہم کو دکھلاتے تھے تو نماز میں کھڑے ہوتے جب رکوع سے سر اٹھاتے تو
اتنی دیر تک کھڑے رہتے کہ ہم کہتے وہ بھول گئے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ،
عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ
رُكُوعُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَسُجُودُهُ وَإِذَا رَفَعَ
رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ وَبَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ قَرِيبًا مِنَ
السَّوَاءِ
Narrated By Al-Bara' :
The bowing, the prostrations, the period of standing after bowing and
the interval between the two prostrations of the Prophet used to be
equal in duration.
ہم ابو الولید ہشام بن عبد
الملک نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے انہوں نے حکم سے انہوں نے ابن ابی
لیلیٰ سے انہوں نے براء بن عازبؓ سے انہوں نے کہا نبیﷺ کا رکوع اور سجدہ
اور رکوع سے سر اٹھا کر کھڑا رہنا اور دونوں سجدوں کے بیچ میں بیٹھنا قریب
قریب برابر ہوتا ۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ
زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، قَالَ كَانَ مَالِكُ بْنُ
الْحُوَيْرِثِ يُرِينَا كَيْفَ كَانَ صَلاَةُ النَّبِيِّ صلى الله عليه
وسلم وَذَاكَ فِي غَيْرِ وَقْتِ صَلاَةٍ، فَقَامَ فَأَمْكَنَ الْقِيَامَ،
ثُمَّ رَكَعَ فَأَمْكَنَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَنْصَتَ
هُنَيَّةً، قَالَ فَصَلَّى بِنَا صَلاَةَ شَيْخِنَا هَذَا أَبِي
بُرَيْدٍ. وَكَانَ أَبُو بُرَيْدٍ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ
السَّجْدَةِ الآخِرَةِ اسْتَوَى قَاعِدًا ثُمَّ نَهَضَ
Narrated By Aiyub : Abu Qilaba said, "Malik bin Huwairith used to
demonstrate to us the prayer of the Prophet at times other than that of
the compulsory prayers. So (once) he stood up for prayer and performed a
perfect Qiyam (standing and reciting from the Holy Qur'an) and then
bowed and performed bowing perfectly; then he raised his head and stood
straight for a while." Abu Qilaba added, "Malik bin Huwairith in that
demonstration prayed like this Sheikh of ours, Abu Yazid." Abu, Yazid
used to sit (for a while) on raising his head from the second
prostration before getting up.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان
کیا کہا ہم سےحماد بن زید نے انہوں نے ایوب سختیانی سے انہوں نے ابو قلابہ
سے کہ مالک بن حویرث صحابی ہم کو نبیﷺ کی نماز پڑھ کر دکھلاتے تھے اور یہ
نماز کے وقت پر نہ تھا غرض مالک بن حویرث کھڑے رہے (دیر تک ) پھر رکوع کیا
اچھی طرح پھر رکوع سے سر اٹھایا اور تھوڑی دیر سیدھے کھڑے رہے ابو قلابہ نے
کہا تو مالک نے ہمارے اس شیخ ابو یزید کی طرح نماز پڑھی ابو یزیدجب دوسرے
سجدے سے سر اٹھاتے تو ( فوراً کھڑے نہیں ہوتےبلکہ) سیدھے بیٹھ جاتے پھر
کھڑے ہوتے ۔
128. One should say Takbir while going in prostration
Nafi said, "Ibn Umar used to place both his hands (on the ground) before his knees."
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ
الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ
بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ
أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، كَانَ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ صَلاَةٍ مِنَ
الْمَكْتُوبَةِ وَغَيْرِهَا فِي رَمَضَانَ وَغَيْرِهِ، فَيُكَبِّرُ حِينَ
يَقُومُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُولُ سَمِعَ اللَّهُ
لِمَنْ حَمِدَهُ. ثُمَّ يَقُولُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ. قَبْلَ
أَنْ يَسْجُدَ، ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ أَكْبَرُ. حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا،
ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ، ثُمَّ
يُكَبِّرُ حِينَ يَسْجُدُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ
السُّجُودِ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ مِنَ الْجُلُوسِ فِي
الاِثْنَتَيْنِ، وَيَفْعَلُ ذَلِكَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ حَتَّى يَفْرُغَ
مِنَ الصَّلاَةِ، ثُمَّ يَقُولُ حِينَ يَنْصَرِفُ وَالَّذِي نَفْسِي
بِيَدِهِ إِنِّي لأَقْرَبُكُمْ شَبَهًا بِصَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله
عليه وسلم إِنْ كَانَتْ هَذِهِ لَصَلاَتَهُ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا
Narrated By Abu Bakr bin 'Abdur Rahman Ibn Harith bin Hisham and Abu
Salama bin 'Abdur Rahman : Abu Huraira used to say Takbir in all the
prayers, compulsory and optional in the month of Ramadan or other
months. He used to say Takbir on standing for prayer and on bowing; then
he would say, "Salmi'a-l-lahu Liman hamida," and before prostrating he
would say "Rabbana walaka-l-hamd." Then he would say Takbir on
prostrating and on raising his head from the prostration, then another
Takbir on prostrating (for the second time), and on raising his head
from the prostration. He also would say the Takbir on standing from the
second Rak'a. He used to do the same in every Rak'a till he completed
the prayer. On completion of the prayer, he would say, "By Him in Whose
Hands my soul is! No doubt my prayer is closer to that of Allah's
Apostle than yours, and this was His prayer till he left this world."
ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا کہا ہم کو شعیب نے خبر دی انہوں نے زہری سے
انہوں نے کہا مجھ کو ابو بکر بن عبد الرحمٰن بن حارث بن ہشام اور ابو سلمہ
بن عبد الرحمٰن نے خبر دی کہ ابو ہریرہؓ ہر ایک فرض اور نفل نماز میں
رمضان میں یا کسی اور مہینے میں جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر
کہتے پھر رکوع کرتے وقت تکبیر کہتے پھر رکوع سے سر اٹھا کر سمع اللہ لمن
حمدہ کہتے پھر ربنا ولک الحمد سجدہ کرنے سے پہلے پھر جب سجدہ کےلیے جھکتے
تو اللہ اکبر کہتے پھر جب سجدے سے سر اٹھاتے تو اللہ اکبر کہتے پھر دوسرا
سجدہ کرتے وقت اللہ اکبر کہتے پھر سجدے سے سر اٹھاتے وقت اللہ اکبر کہتے
پھر جب دو رکعتیں پڑھ کر قعدہ کر کے کھڑے ہونے لگتے اور اللہ اکبر کہتے ہر
رکعت میں ایسا ہی کیا کرتے نماز سے فارغ ہونے تک پھر نماز پڑھ چکتے تو
کہتے قسم اس (خدا ) کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم سب لوگوں میں میری
نماز رسول اللہﷺ کی نماز سے زیادہ مشابہہ ہے اور آپ اسی طرح نماز پڑھتے
رہے یہاں تک کہ دنیا سے تشریف لے گئے ۔
قَالاَ وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ وَكَانَ رَسُولُ
اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ يَقُولُ سَمِعَ
اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ. يَدْعُو لِرِجَالٍ
فَيُسَمِّيهِمْ بِأَسْمَائِهِمْ فَيَقُولُ " اللَّهُمَّ أَنْجِ
الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي
رَبِيعَةَ، وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ
وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي
يُوسُفَ ". وَأَهْلُ الْمَشْرِقِ يَوْمَئِذٍ مِنْ مُضَرَ مُخَالِفُونَ
لَهُ
And Abu Huraira said, "When
Allah's Apostle raised his head from (bowing) he used to say "Sami'
a-l-lahu Liman hamida, Rabbana walakal-hamd." He Would invoke Allah for
some people by naming them: "O Allah! Save Al-Walid bin Al-Walid and
Salama bin Hisham and 'Aiyash bin Abi Rabi'a and the weak and the
helpless people among the faithful believers O Allah! Be hard on the
tribe of Mudar and let them suffer from famine years like that of the
time of Joseph." In those days the Eastern section of the tribe of Mudar
was against the Prophet.
ابو بکرؓ اور ابو سلمہؓ دونوں
نے کہا ابو ہریرہؓ کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ جب ( رکوع سے ) سر اٹھاتے تو
سمع اللہ لمن حمدہ ربنا و لک الحمد کہہ کر چند آدمیوں کے لیے دعا کرتے ان
کا نام لے کر آپ فرماتے یا اللہ ولید بن ولید اور سلمہ بن ہشام اور عیاش
بن ابی ربیعہ اور غریب مسلمانوں کو ( جو کافروں کے ہاتھ میں پھنسے تھے )
چھڑا دے یا اللہ مضر کے کافروں پر سخت مار کر اور ان پر ایسا قحط بھیج جیسا
حضرت یوسفؑ کے وقت میں قحط ہوا تھا( ابو ہریرہؓ نے کہا ) اور اس زمانے میں
پورب والے مضر کے لوگ آپﷺ کے دشمن تھے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ،
غَيْرَ مَرَّةٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ،
يَقُولُ سَقَطَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ فَرَسٍ ـ
وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ مِنْ فَرَسٍ ـ فَجُحِشَ شِقُّهُ الأَيْمَنُ،
فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ نَعُودُهُ، فَحَضَرَتِ الصَّلاَةُ، فَصَلَّى بِنَا
قَاعِدًا وَقَعَدْنَا ـ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً صَلَّيْنَا قُعُودًا ـ
فَلَمَّا قَضَى الصَّلاَةَ قَالَ " إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ
لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا رَكَعَ
فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ
لِمَنْ حَمِدَهُ. فَقُولُوا رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ. وَإِذَا سَجَدَ
فَاسْجُدُوا ". قَالَ سُفْيَانُ كَذَا جَاءَ بِهِ مَعْمَرٌ قُلْتُ
نَعَمْ. قَالَ لَقَدْ حَفِظَ، كَذَا قَالَ الزُّهْرِيُّ وَلَكَ
الْحَمْدُ. حَفِظْتُ مِنْ شِقِّهِ الأَيْمَنِ. فَلَمَّا خَرَجْنَا مِنْ
عِنْدِ الزُّهْرِيِّ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ ـ وَأَنَا عِنْدَهُ ـ فَجُحِشَ
سَاقُهُ الأَيْمَنُ
Narrated By
Anas bin Malik : Allah's Apostle fell from a horse and the right side of
his body was injured. We went to enquire about his health meanwhile it
was time for the prayer and he led the prayer sitting and we also prayed
while sitting. On completion of the prayer he said, "The Imam is to be
followed; say Takbir when he says it; bow when he bows; rise when he
rises and when he says "Sami'a-l-lahu Liman hamida," say, "Rabbana
walaka-lhamd", and prostrate if he prostrates." Sufyan narrated the same
from Ma'mar. Ibn Juraij said that his (the Prophet's) right leg had
been injured.
ہم سے علی بن عبد اللہ مدینی نے
بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عینیہ نے کئی بار بیان کیا انہوں نے زہری سے
انہوں نے کہا میں نے انس بن مالک سے سنا وہ کہتے تھے رسول اللہﷺ گھوڑے پر
سے گر پڑے کبھی سفیان نے یہ بھی کہا کہ آپ کا داہنا پہلو چھل گیا تو ہم
آپ کے پوچھنے کو گئے اتنے میں نماز کا وقت آ گیا آپ نے بیٹھ کر نماز
پڑھائی ہم بھی بیٹھ گئے اور ایک بار سفیان نے یوں کہا ہم نے بھی بیٹھ کر
نماز پڑھی جب آپ نماز پڑھ چکے تو فرمایا امام اس لیے مقرر ہوا ہے کہ اس کی
پیروی کی جائے جب وہ تکبیر کہے تم بھی تکبیر کہو اور جب وہ رکوع کرے تم
بھی رکوع کرو اور جب وہ سر اٹھائے تم بھی سر اٹھاؤ اور جب وہ سمع اللہ لمن
حمدہ کہے تو تم ربنا ولک الحمد کہو اور جب وہ سجدہ کرے تم بھی سجدہ کرو (
سفیان نے علی بن مدینی سے پوچھا کیا ) معمر نے اس حدیث کو اس طرح روایت کیا
؟ علی نے کہا ہاں سفیان نے کہا معمر نے بیشک یاد رکھا زہری نے یوں ہی کہا
ولک الحمد ۔سفیان نے یہ بھی کہا مجھے یاد ہے کہ زہری نے یوں کہا آپ کا
داہنا پہلو چھل گیا جب ہم زہری کے پاس سے نکلے ابن جریح نے کہا میں زہری
کے پاس موجود تھا تو انہوں نے یوں کہا آپ کی داہنی پنڈلی چھل گئی ۔
129. Superiority of prostrating
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ
الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَعَطَاءُ
بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، أَخْبَرَهُمَا أَنَّ
النَّاسَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ
الْقِيَامَةِ قَالَ " هَلْ تُمَارُونَ فِي الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ
لَيْسَ دُونَهُ سَحَابٌ ". قَالُوا لاَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ
" فَهَلْ تُمَارُونَ فِي الشَّمْسِ لَيْسَ دُونَهَا سَحَابٌ ".
قَالُوا لاَ. قَالَ " فَإِنَّكُمْ تَرَوْنَهُ كَذَلِكَ، يُحْشَرُ
النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَقُولُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ شَيْئًا
فَلْيَتَّبِعْ. فَمِنْهُمْ مَنْ يَتَّبِعُ الشَّمْسَ، وَمِنْهُمْ مَنْ
يَتَّبِعُ الْقَمَرَ وَمِنْهُمْ مَنْ يَتَّبِعُ الطَّوَاغِيتَ، وَتَبْقَى
هَذِهِ الأُمَّةُ فِيهَا مُنَافِقُوهَا، فَيَأْتِيهِمُ اللَّهُ فَيَقُولُ
أَنَا رَبُّكُمْ فَيَقُولُونَ هَذَا مَكَانُنَا حَتَّى يَأْتِيَنَا
رَبُّنَا، فَإِذَا جَاءَ رَبُّنَا عَرَفْنَاهُ. فَيَأْتِيهِمُ اللَّهُ
فَيَقُولُ أَنَا رَبُّكُمْ. فَيَقُولُونَ أَنْتَ رَبُّنَا.
فَيَدْعُوهُمْ فَيُضْرَبُ الصِّرَاطُ بَيْنَ ظَهْرَانَىْ جَهَنَّمَ،
فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يَجُوزُ مِنَ الرُّسُلِ بِأُمَّتِهِ، وَلاَ
يَتَكَلَّمُ يَوْمَئِذٍ أَحَدٌ إِلاَّ الرُّسُلُ، وَكَلاَمُ الرُّسُلِ
يَوْمَئِذٍ اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ. وَفِي جَهَنَّمَ كَلاَلِيبُ
مِثْلُ شَوْكِ السَّعْدَانِ، هَلْ رَأَيْتُمْ شَوْكَ السَّعْدَانِ ".
قَالُوا نَعَمْ. قَالَ " فَإِنَّهَا مِثْلُ شَوْكِ السَّعْدَانِ،
غَيْرَ أَنَّهُ لاَ يَعْلَمُ قَدْرَ عِظَمِهَا إِلاَّ اللَّهُ، تَخْطَفُ
النَّاسَ بِأَعْمَالِهِمْ، فَمِنْهُمْ مَنْ يُوبَقُ بِعَمَلِهِ، وَمِنْهُمْ
مَنْ يُخَرْدَلُ ثُمَّ يَنْجُو، حَتَّى إِذَا أَرَادَ اللَّهُ رَحْمَةَ
مَنْ أَرَادَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، أَمَرَ اللَّهُ الْمَلاَئِكَةَ أَنْ
يُخْرِجُوا مَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ، فَيُخْرِجُونَهُمْ
وَيَعْرِفُونَهُمْ بِآثَارِ السُّجُودِ، وَحَرَّمَ اللَّهُ عَلَى النَّارِ
أَنْ تَأْكُلَ أَثَرَ السُّجُودِ فَيَخْرُجُونَ مِنَ النَّارِ، فَكُلُّ
ابْنِ آدَمَ تَأْكُلُهُ النَّارُ إِلاَّ أَثَرَ السُّجُودِ، فَيَخْرُجُونَ
مِنَ النَّارِ قَدِ امْتَحَشُوا، فَيُصَبُّ عَلَيْهِمْ مَاءُ الْحَيَاةِ،
فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ، ثُمَّ
يَفْرُغُ اللَّهُ مِنَ الْقَضَاءِ بَيْنَ الْعِبَادِ، وَيَبْقَى رَجُلٌ
بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، وَهْوَ آخِرُ أَهْلِ النَّارِ دُخُولاً
الْجَنَّةَ، مُقْبِلٌ بِوَجْهِهِ قِبَلَ النَّارِ فَيَقُولُ يَا رَبِّ
اصْرِفْ وَجْهِي عَنِ النَّارِ، قَدْ قَشَبَنِي رِيحُهَا، وَأَحْرَقَنِي
ذَكَاؤُهَا. فَيَقُولُ هَلْ عَسَيْتَ إِنْ فُعِلَ ذَلِكَ بِكَ أَنْ
تَسْأَلَ غَيْرَ ذَلِكَ فَيَقُولُ لاَ وَعِزَّتِكَ. فَيُعْطِي اللَّهَ
مَا يَشَاءُ مِنْ عَهْدٍ وَمِيثَاقٍ، فَيَصْرِفُ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنِ
النَّارِ، فَإِذَا أَقْبَلَ بِهِ عَلَى الْجَنَّةِ رَأَى بَهْجَتَهَا
سَكَتَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَسْكُتَ، ثُمَّ قَالَ يَا رَبِّ قَدِّمْنِي
عِنْدَ باب الْجَنَّةِ. فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ أَلَيْسَ قَدْ
أَعْطَيْتَ الْعُهُودَ وَالْمَوَاثِيقَ أَنْ لاَ تَسْأَلَ غَيْرَ الَّذِي
كُنْتَ سَأَلْتَ فَيَقُولُ يَا رَبِّ لاَ أَكُونُ أَشْقَى خَلْقِكَ.
فَيَقُولُ فَمَا عَسَيْتَ إِنْ أُعْطِيتَ ذَلِكَ أَنْ لاَ تَسْأَلَ
غَيْرَهُ فَيَقُولُ لاَ وَعِزَّتِكَ لاَ أَسْأَلُ غَيْرَ ذَلِكَ.
فَيُعْطِي رَبَّهُ مَا شَاءَ مِنْ عَهْدٍ وَمِيثَاقٍ، فَيُقَدِّمُهُ إِلَى
باب الْجَنَّةِ، فَإِذَا بَلَغَ بَابَهَا، فَرَأَى زَهْرَتَهَا وَمَا
فِيهَا مِنَ النَّضْرَةِ وَالسُّرُورِ، فَيَسْكُتُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ
يَسْكُتَ، فَيَقُولُ يَا رَبِّ أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ. فَيَقُولُ
اللَّهُ وَيْحَكَ يَا ابْنَ آدَمَ مَا أَغْدَرَكَ، أَلَيْسَ قَدْ
أَعْطَيْتَ الْعَهْدَ وَالْمِيثَاقَ أَنْ لاَ تَسْأَلَ غَيْرَ الَّذِي
أُعْطِيتَ فَيَقُولُ يَا رَبِّ لاَ تَجْعَلْنِي أَشْقَى خَلْقِكَ.
فَيَضْحَكُ اللَّهُ ـ عَزَّ وَجَلَّ ـ مِنْهُ، ثُمَّ يَأْذَنُ لَهُ فِي
دُخُولِ الْجَنَّةِ فَيَقُولُ تَمَنَّ. فَيَتَمَنَّى حَتَّى إِذَا
انْقَطَعَتْ أُمْنِيَّتُهُ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تَمَنَّ كَذَا
وَكَذَا. أَقْبَلَ يُذَكِّرُهُ رَبُّهُ، حَتَّى إِذَا انْتَهَتْ بِهِ
الأَمَانِيُّ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى لَكَ ذَلِكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ ".
قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ لأَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنهما ـ
إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " قَالَ اللَّهُ لَكَ
ذَلِكَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ ". قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ لَمْ
أَحْفَظْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ قَوْلَهُ "
لَكَ ذَلِكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ ". قَالَ أَبُو سَعِيدٍ إِنِّي
سَمِعْتُهُ يَقُولُ " ذَلِكَ لَكَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ "
Narrated By Abu Huraira : The people said, "O Allah's Apostle! Shall we
see our Lord on the Day of Resurrection?" He replied, "Do you have any
doubt in seeing the full moon on a clear (not cloudy) night?" They
replied, "No, O Allah's Apostle!" He said, "Do you have any doubt in
seeing the sun when there are no clouds?" They replied in the negative.
He said, "You will see Allah (your Lord) in the same way. On the Day of
Resurrection, people will be gathered and He will order the people to
follow what they used to worship. So some of them will follow the sun,
some will follow the moon, and some will follow other deities; and only
this nation (Muslims) will be left with its hypocrites. Allah will come
to them and say, 'I am Your Lord.' They will say, 'We shall stay in this
place till our Lord comes to us and when our Lord will come, we will
recognize Him. Then Allah will come to them again and say, 'I am your
Lord.' They will say, 'You are our Lord.' Allah will call them, and
As-Sirat (a bridge) will be laid across Hell and I (Muhammad) shall be
the first amongst the Apostles to cross it with my followers. Nobody
except the Apostles will then be able to speak and they will be saying
then, 'O Allah! Save us. O Allah Save us.'
There will be hooks like the thorns of Sa'dan in Hell. Have you seen the thorns of Sa'dan?" The people said, "Yes." He said, "These hooks will be like the thorns of Sa'dan but nobody except Allah knows their greatness in size and these will entangle the people according to their deeds; some of them will fall and stay in Hell forever; others will receive punishment (torn into small pieces) and will get out of Hell, till when Allah intends mercy on whomever He likes amongst the people of Hell, He will order the angels to take out of Hell those who worshipped none but Him alone. The angels will take them out by recognizing them from the traces of prostrations, for Allah has forbidden the (Hell) fire to eat away those traces. So they will come out of the Fire, it will eat away from the whole of the human body except the marks of the prostrations. At that time they will come out of the Fire as mere skeletons. The Water of Life will be poured on them and as a result they will grow like the seeds growing on the bank of flowing water. Then when Allah had finished from the Judgments amongst his creations, one man will be left between Hell and Paradise and he will be the last man from the people of Hell to enter paradise. He will be facing Hell, and will say, 'O Allah! Turn my face from the fire as its wind has dried me and its steam has burnt me.' Allah will ask him, "Will you ask for anything more in case this favour is granted to you?' He will say, "No by Your (Honour) Power!" And he will give to his Lord (Allah) what he will of the pledges and the covenants. Allah will then turn his face from the Fire. When he will face Paradise and will see its charm, he will remain quiet as long as Allah will. He then will say, 'O my Lord! Let me go to the gate of Paradise.' Allah will ask him, 'Didn't you give pledges and make covenants (to the effect) that you would not ask for anything more than what you requested at first?' He will say, 'O my Lord! Do not make me the most wretched, amongst Your creatures.' Allah will say, 'If this request is granted, will you then ask for anything else?' He will say, 'No! By Your Power! I shall not ask for anything else.' Then he will give to his Lord what He will of the pledges and the covenants. Allah will then let him go to the gate of Paradise. On reaching then and seeing its life, charm, and pleasure, he will remain quiet as long as Allah wills and then will say, 'O my Lord ! Let me enter Paradise.' Allah will say, May Allah be merciful unto you, O son of Adam! How treacherous you are! Haven't you made covenants and given pledges that you will not ask for anything more that what you have been given?' He will say, 'O my Lord! Do not make me the most wretched amongst Your creatures.' So Allah will laugh and allow him to enter Paradise and will ask him to request as much as he likes. He will do so till all his desires have been fulfilled. Then Allah will say, 'Request more of such and such things.' Allah will remind him and when all his desires and wishes; have been fulfilled, Allah will say "All this is granted to you and a similar amount besides." Abu Said Al-Khudri, said to Abu Huraira, 'Allah's Apostle said, "Allah said, 'That is for you and ten times more like it.' "Abu Huraira said, "I do not remember from Allah's Apostle except (his saying), 'All this is granted to you and a similar amount besides." Abu Sahd said, "I heard him saying, 'That is for you and ten times more the like of it."
There will be hooks like the thorns of Sa'dan in Hell. Have you seen the thorns of Sa'dan?" The people said, "Yes." He said, "These hooks will be like the thorns of Sa'dan but nobody except Allah knows their greatness in size and these will entangle the people according to their deeds; some of them will fall and stay in Hell forever; others will receive punishment (torn into small pieces) and will get out of Hell, till when Allah intends mercy on whomever He likes amongst the people of Hell, He will order the angels to take out of Hell those who worshipped none but Him alone. The angels will take them out by recognizing them from the traces of prostrations, for Allah has forbidden the (Hell) fire to eat away those traces. So they will come out of the Fire, it will eat away from the whole of the human body except the marks of the prostrations. At that time they will come out of the Fire as mere skeletons. The Water of Life will be poured on them and as a result they will grow like the seeds growing on the bank of flowing water. Then when Allah had finished from the Judgments amongst his creations, one man will be left between Hell and Paradise and he will be the last man from the people of Hell to enter paradise. He will be facing Hell, and will say, 'O Allah! Turn my face from the fire as its wind has dried me and its steam has burnt me.' Allah will ask him, "Will you ask for anything more in case this favour is granted to you?' He will say, "No by Your (Honour) Power!" And he will give to his Lord (Allah) what he will of the pledges and the covenants. Allah will then turn his face from the Fire. When he will face Paradise and will see its charm, he will remain quiet as long as Allah will. He then will say, 'O my Lord! Let me go to the gate of Paradise.' Allah will ask him, 'Didn't you give pledges and make covenants (to the effect) that you would not ask for anything more than what you requested at first?' He will say, 'O my Lord! Do not make me the most wretched, amongst Your creatures.' Allah will say, 'If this request is granted, will you then ask for anything else?' He will say, 'No! By Your Power! I shall not ask for anything else.' Then he will give to his Lord what He will of the pledges and the covenants. Allah will then let him go to the gate of Paradise. On reaching then and seeing its life, charm, and pleasure, he will remain quiet as long as Allah wills and then will say, 'O my Lord ! Let me enter Paradise.' Allah will say, May Allah be merciful unto you, O son of Adam! How treacherous you are! Haven't you made covenants and given pledges that you will not ask for anything more that what you have been given?' He will say, 'O my Lord! Do not make me the most wretched amongst Your creatures.' So Allah will laugh and allow him to enter Paradise and will ask him to request as much as he likes. He will do so till all his desires have been fulfilled. Then Allah will say, 'Request more of such and such things.' Allah will remind him and when all his desires and wishes; have been fulfilled, Allah will say "All this is granted to you and a similar amount besides." Abu Said Al-Khudri, said to Abu Huraira, 'Allah's Apostle said, "Allah said, 'That is for you and ten times more like it.' "Abu Huraira said, "I do not remember from Allah's Apostle except (his saying), 'All this is granted to you and a similar amount besides." Abu Sahd said, "I heard him saying, 'That is for you and ten times more the like of it."
ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا
کہا ہم کو شعیب نے خبر دی انہوں نے زہری سے انہوں نے کہا مجھ کو سعید بن
مسیب اور عطاء بن یزید لیثی نے خبر دی ان دونوں سے ابو ہریرہؓ نے بیان کیا
لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ ہم قیامت کے دن اپنے مالک کو دیکھیں گے آپ
نے فرمایا چودہویں رات کے چاند دیکھنے میں کیا تم کو شک رہتا ہے جب اس پر
ابر نہ ہو ( مطلع صاف ہو ) انہوں نے کہا (ہرگز ) نہیں یا رسول اللہﷺ آپ نے
فرمایا بھلا سورج کے دیکھنے میں تم کو کچھ شبہ رہتا ہے جب ابر نہ ہو ،
انہوں نے کہ نہیں ( بالکل) نہیں ( شک کا کیا موقع ہے صاف دیکھتے ہیں ) آپ
نے فرمایا تو اسی طرح ( بے شک و شبہ ) تم اپنے مالک کو بھی دیکھو گے قیامت
کے دن لوگ اکٹھا کئے جائیں گے پھر پروردگار فرمائے گا جو کوئی جس کو پوجتا
تھا وہ اس کے ساتھ ہو جائے ۔ تب کوئی سورج کے ساتھ ہو جائےگا اور کوئی چاند
کے اور کوئی شیطانوں اور بتوں اور ٹھاکروں کے۔ اس امت کے لوگ ( مسلمان) رہ
جائیں گے ان میں منافق وغیرہ سب ملے جلے ہوں گے پھر اللہ جل جلالہ (ایک
نئی صورت میں) ان کے پاس آئے گا اور فرمائے گا میں تمہارا خدا ہوں وہ کہیں
گے ہم یہیں رہیں گے جب تک ہمارا مالک آئے جب ہمارا مالک آئے گا تو ہم اس
کو پہچان لیں گے پھر اللہ تعالیٰ ( اگلی صورت میں ) ان کے پاس آئے گا اور
فرمائے گا میں تمہارا خدا ہوں وہ کہیں گے ( بیشک ) تو ہمارا خدا ہے پھر ان
کو بلا لے گا اور پل صراط دوزخ کے بیچا بیچ رکھا جائے گا آپﷺ فرماتے ہیں
سب رسولوں سے پہلے میں اپنی امت لے کر پار ہو جاؤں گا اس دن سوائےرسولوں کے
کوئی بات تک نہ کر سکے گا اوررسول یہی بات یا یہی دعا کریں گے یا اللہ
بچائیو بچائیو اور ( دیکھو ) دوزخ میں سعدان کے کانٹوں کی شکل کےآنکڑے
ہوں گے تم نے سعدان کا کانٹا دیکھا ہے صحابہ نے عرض کیا جی ہاں دیکھا ہے
آپ نے فرمایا بس وہ آنکڑے اسی سعدان کے کانٹوں کی شکل کے ہوں گے مگر
اتنےاتنے بڑے کہ اللہ ہی ان کی بڑائی جانتا ہے وہ لوگوں کو ان کے اعمال کے
موافق جھپٹ لیں گےکوئی تو اپنے ( برے ) عمل کی وجہ سے بالکل ہلاک ہو جائے
گا اور کوئی چکنا چور ہو کر پھر بچ جائے گا جب اللہ تعالیٰ دوزخیوں میں سے
بعضوں پر رحم کرنا چاہے گا تو فرشتوں کو حکم دے گا( دیکھو دوزخ کی طرف جاؤ
اور ) جو اللہ کو پوجتا تھا اس کو نکال لو فرشتے ایسے ( موحد ) لوگوں کو
نکال لیں گے اور سجدے کے نشان سے دوزخیوں میں ان کو پہچان لیں گے اور اللہ
نے دوزخ پر حرام کر دیا ہے وہ سجدے کا مقام نہیں کھا سکتی تو یہ لوگ دوزخ
سے نکالے جائیں گے آدمی کا سارا بدن آگ کھا لے گی پر سجدے کا نشان رہ
جائے گا یہ لوگ کوئلہ کی طرح جلے ہوئے دوزخ سے نکلیں گے پھر ان پر آب حیات
ڈالا جائے گاتو اس طرح ابھر آئیں گے جیسے دانہ نالے کے کچرے کوڑے میں
ابھر آتا ہے پھر اللہ تعالیٰ ( حساب کتاب شروع کرے گا ) بندوں کا فیصلہ
چکا دے گا اور ایک شخص بہشت اور دوزخ کے بیچ میں رہ جائے گا وہ سب دوزخیوں
کے بعد بہشت میں جائے گا اس کا منہ دوزخ کی طرف ہو گا وہ عرض کرے گا میرے
مالک میرا منہ دوزخ کی طرف سے پھیر دے کیونکہ اس کی بد بو مجھ کو مار ڈالتی
ہے اور اس کی چمک مجھے جلائے دیتی ہے ،اللہ فرمائے گا اچھا اگر میں یہ کر
دوں تو پھر تو تُو اور درخواست نہیں کرے گا وہ عرض کرے گا ہرگز نہیں تیری
بزرگی کی قسم اور جیسے جیسے اللہ چاہے گا وہ قول وقرار کرے گا آخر اللہ
تعالیٰ اس کا منہ دوزخ کی طرف سے پھرا دے گا جب وہ بہشت کی طرف منہ کرے گا
تو وہاں کی بہار ( ترو تازگی ) دیکھ کر جتنی دیر اللہ کو منظور ہے خاموش
رہے گا پھر دوسرا معروضہ کرے گا یارب میرے مجھ کو بہشت کے دروازے پر پہنچا
دے ( وہاں پڑا رہوں گا ) اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو نے کیا کیا قول وقرار
کیے تھے کہ اب میں کوئی درخواست نہیں کرنے کا بندہ عرض کرے گا پروردگار (
بے شک ) مگر کیا تیری ساری مخلوق میں ایک میں ہی بے نصیب رہوں ارشاد ہو گا
اچھا اگر میں یہ درخواست بھی تیری پوری کر دوں تو پھر اور تو کچھ نہیں
مانگنے کا ۔ عرض کرے گا ہرگز نہیں تیری بزرگی کی قسم میں اب کچھ نہیں
مانگوں گا اور جو جو اللہ کو منظور ہیں ویسے ویسے قول و قرار کرے گا آخر
پروردگار اس کو بہشت کے دروازے پر پہنچا دے گا پھر بہشت کے دروازے پر پہنچے
گا وہاں کی بہار ( رونق) تازگی فرحت دیکھ کر جتنی دیر اللہ کو منظور ہے
خاموش رہے گا پھر( تیسرا ) معروضہ کرے گا پروردگار مجھ کو بہشت میں پہنچا
دے اللہ تعالی فرمائے گا آدم کے بیٹے تجھ پر افسوس تو ایسا دغا باز کیوں
بن گیا ارے کیا تو نے ایسے ایسے قول و قرار نہیں کئے تھے کہ اب میں کوئی
اور درخواست نہیں کرنے کا وہ عرض کرے گابیشک کئے تھے مگر میرے مالک مجھ کو
اپنی ساری مخلوق میں بےنصیب مت بنا ، یہ سن کر اللہ تعالی ہنس دے گا اور اس
کو بہشت میں جانے کی پروانگی دے گا اور فرمائے گا آرزوئیں کر (یہ ہونا وہ
ہونا ) جب اس کی سب آرزوئیں ختم ہو جائیں گی تو ارشاد ہو گا یہ بھی تو
مانگ یہ بھی تو مانگ خود پروردگار اس کو یاد دلائے گا جب ساری آرزوئیں کر
چکے گا تو پروردگار فرمائے گا یہ سب تجھ کو دیں اور اتنی اور ۔ابو سعید
خدریؓ صحابی نے ابو ہریرہؓ سے کہا رسول اللہﷺ نے ( اس حدیث میں ) یوں
فرمایا تھا اللہ تعالی فرمائے گا یہ سب تجھ کو دیں اور دس گنی اور تو ابو
ہریرہؓ نے کہا مجھے تو یہ یاد نہیں کہ رسول اللہﷺ نے ایسا فرمایا ہو آپ نے
یہی فرمایا تھا یہ سب تجھ کو دیں اور اتنی اور ، ابو سعید نے کہا میں نے
آپﷺسے سنا آپ فرماتے تھے یہ سب تجھ کو دیں اور دس گنی اور۔
130. During the prostrations one should keep one's arms away from one's side and the abdomen should be kept away from the thighs
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي بَكْرُ بْنُ مُضَرَ،
عَنْ جَعْفَرٍ، عَنِ ابْنِ هُرْمُزَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ
ابْنِ بُحَيْنَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا صَلَّى
فَرَّجَ بَيْنَ يَدَيْهِ حَتَّى يَبْدُوَ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ. وَقَالَ
اللَّيْثُ حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ نَحْوَهُ
Narrated By 'Abdullah bin Malik bin Buhaina : Whenever the Prophet used
to offer prayer he used to keep arms away (from the body) so that the
whiteness of his armpits was visible.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان
کیا کہا مجھ سے بکر بن مضر نے انہوں نے جعفر بن ربیعہ سے انہوں نے عبد
الرحمن بن ہرمز اعرج سے انہوں نے عبد اللہ بن مالک ابن بحینہ سے کہ نبیﷺ
جب نماز پڑھتے تو (سجدے میں ) اپنے دونوں ہاتھ ( پہلو سے ) الگ رکھتے یہاں
تک کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی کھل جاتی اور لیث بن سعد نے کہا مجھ سے بھی
جعفر بن ربیعہ نے ایسی ہی حدیث بیان کی۔
131. One should keep the toes in the direction of Qiblah
Abu Humaid As-Saidi narrated this from the Prophet (s.a.w)
132. If one does not perform the prostrations perfectly
حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ، عَنْ
وَاصِلٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، رَأَى رَجُلاً لاَ يُتِمُّ
رُكُوعَهُ وَلاَ سُجُودَهُ، فَلَمَّا قَضَى صَلاَتَهُ قَالَ لَهُ
حُذَيْفَةُ مَا صَلَّيْتَ ـ قَالَ وَأَحْسِبُهُ قَالَ ـ وَلَوْ مُتَّ مُتَّ
عَلَى غَيْرِ سُنَّةِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم
Narrated By Abu Wail : Hudhaifa said, "I saw a person not performing
his bowing and prostrations perfectly. When he completed the prayer, I
told him that he had not prayed." I think that Hudhaifa added (i.e. said
to the man), "Had you died, you would have died on a tradition other
than that of the Prophet Muhammad(s.a.w)."
ہم سے صلت بن محمد بصری نے بیان
کیا کہا ہم سے مہدی ابن میمون نے انہوں نے واصل سے انہوں نے ابو وائل شفیق
بن سلمہ سے انہوں نے حذیفہ سے انہوں نے ایک شخص کو دیکھا جو رکوع اور
سجدہ پوری طرح نہیں کرتا تھا جب نماز پڑھ چکا تو حذیفہ نے اس سے کہا تو نے
نماز ہی نہیں پڑھی ابو وائل نے کہا میں سمجھتا ہوں حذیفہ نے یہ کہا کہ تو
مرے گا تو محمدﷺ کے طریق پر نہیں مرے گا ۔
133. To prostrate on seven bones
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ
دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أُمِرَ النَّبِيُّ صلى الله
عليه وسلم أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْضَاءٍ، وَلاَ يَكُفَّ شَعَرًا
وَلاَ ثَوْبًا الْجَبْهَةِ وَالْيَدَيْنِ وَالرُّكْبَتَيْنِ
وَالرِّجْلَيْنِ
Narrated By Ibn
'Abbas : The Prophet was ordered (by Allah) to prostrate on seven parts
and not to tuck up the clothes or hair (while praying). Those parts are:
the forehead (along with the tip of nose), both hands, both knees, and
(toes of) both feet.
ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان
کیا کہا ہم سے سفیان ثوری نے انہوں نے عمرو بن دینار سے انہوں نے طاؤس سے
انہوں نے ابن عباسؓ سے انہوں نے کہا نبیﷺ کو سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا اور
بال اور کپڑے نہ سمیٹنے کا حکم ہوا سات اعضاء یہ ہیں ۔پیشانی اور دونوں
ہاتھ اور دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں ۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ
عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ
النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أُمِرْنَا أَنْ نَسْجُدَ عَلَى
سَبْعَةِ أَعْظُمٍ وَلاَ نَكُفَّ ثَوْبًا وَلاَ شَعَرًا "
Narrated By Ibn 'Abbas : The Prophet said, "We have been ordered to
prostrates on seven bones and not to tuck up the clothes or hair."
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان
کیا کہا ہم سے شعبہ نے انہوں نے عمرو بن دینار سے انہوں نے طاؤس سے انہوں
نے عبد اللہ بن عباس سے انہوں نے نبیﷺ سے آپ نے فرمایا ہم کو سات ہڈیوں پر
سجدہ کرنے کا اور بال اور کپڑے نہ سمیٹنے کا حکم ہوا ۔
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ
عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ، حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ بْنُ
عَازِبٍ ـ وَهْوَ غَيْرُ كَذُوبٍ ـ قَالَ كُنَّا نُصَلِّي خَلْفَ
النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ
حَمِدَهُ. لَمْ يَحْنِ أَحَدٌ مِنَّا ظَهْرَهُ حَتَّى يَضَعَ النَّبِيُّ
صلى الله عليه وسلم جَبْهَتَهُ عَلَى الأَرْضِ
Narrated By Al-Bara' bin 'Azib : (And he was not a liar) We used to
pray behind the Prophet and when he said, "Sami' a-l-lahu Liman hamida",
none of us would bend his back (to go for prostration) till the Prophet
had placed his, forehead on the ground.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان
کیا کہا ہم سے اسرائیل نے انہوں نے ابو اسحٰق سے انہوں نے عبد اللہ بن
یزید سے انہوں نے کہا ہم سے براء بن عازب نے بیان کیا وہ جھوٹے نہ تھے
انہوں نے کہا ہم نبیﷺکے پیچھے نماز پڑھتے تھے آپ جب سمع اللہ لمن حمدہ
کہتے تو ہم میں سے کوئی ( سجدہ میں جانے کو) اپنی پیٹھ نہ جھکاتا یہاں تک
کہ آپ اپنی پیشانی زمین پر رکھ دیتے ۔
134. To prostrate on the nose
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ عَبْدِ
اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما
قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ
عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ عَلَى الْجَبْهَةِ ـ وَأَشَارَ بِيَدِهِ عَلَى
أَنْفِهِ ـ وَالْيَدَيْنِ، وَالرُّكْبَتَيْنِ وَأَطْرَافِ الْقَدَمَيْنِ،
وَلاَ نَكْفِتَ الثِّيَابَ وَالشَّعَرَ "
Narrated By Ibn 'Abbas : The Prophet said, "I have been ordered to
prostrate on seven bones i.e. on the forehead along with the tip of the
nose and the Prophet pointed towards his nose, both hands, both knees
and the toes of both feet and not to gather the clothes or the hair."
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا
کہا ہم سےوہیب بن خالد نے انہوں نے عبد اللہ بن طاؤس سے انہوں نے اپنے باپ
طاؤس سے انہوں نے عبد اللہ بن عباسؓ سے کہ نبیﷺ نے فرمایا مجھے سات ہڈیوں
پر سجدہ کرنے کا حکم ہوا پیشانی پر اور آپ نے ( پیشانی سے لیکر) ناک تک
ہاتھ پھرا یا اور دونوں ہاتھوں پر اور دونوں گھٹنوں پر اور دونوں پاؤں کی
انگلیوں پر اور یہ بھی حکم ہوا کہ ہم کپڑوں اور بالوں کو نہ سمیٹیں ۔
135. To prostrate on the nose and in the mud
حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي
سَلَمَةَ، قَالَ انْطَلَقْتُ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فَقُلْتُ
أَلاَ تَخْرُجُ بِنَا إِلَى النَّخْلِ نَتَحَدَّثْ فَخَرَجَ. فَقَالَ
قُلْتُ حَدِّثْنِي مَا، سَمِعْتَ مِنَ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم فِي
لَيْلَةِ الْقَدْرِ. قَالَ اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
عَشْرَ الأُوَلِ مِنْ رَمَضَانَ، وَاعْتَكَفْنَا مَعَهُ، فَأَتَاهُ
جِبْرِيلُ فَقَالَ إِنَّ الَّذِي تَطْلُبُ أَمَامَكَ. فَاعْتَكَفَ
الْعَشْرَ الأَوْسَطَ، فَاعْتَكَفْنَا مَعَهُ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ
إِنَّ الَّذِي تَطْلُبُ أَمَامَكَ. فَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه
وسلم خَطِيبًا صَبِيحَةَ عِشْرِينَ مِنْ رَمَضَانَ فَقَالَ " مَنْ كَانَ
اعْتَكَفَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَلْيَرْجِعْ، فَإِنِّي
أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ، وَإِنِّي نُسِّيتُهَا، وَإِنَّهَا فِي
الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ فِي وِتْرٍ، وَإِنِّي رَأَيْتُ كَأَنِّي أَسْجُدُ
فِي طِينٍ وَمَاءٍ ". وَكَانَ سَقْفُ الْمَسْجِدِ جَرِيدَ النَّخْلِ
وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ شَيْئًا، فَجَاءَتْ قَزْعَةٌ فَأُمْطِرْنَا،
فَصَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى رَأَيْتُ أَثَرَ
الطِّينِ وَالْمَاءِ عَلَى جَبْهَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
وَأَرْنَبَتِهِ تَصْدِيقَ رُؤْيَاهُ.
Narrated By Abu Salama : Once I went to Abu- Sa'id Al-Khudri and asked
him, "Won't you come with us to the date-palm trees to have a talk?" So
Abu Said went out and I asked him, "Tell me what you heard from the
Prophet about the Night of Qadr." Abu Said replied, "Once Allah's
Apostle performed I'tikaf (seclusion) on the first ten days of the month
of Ramadan and we did the same with him. Gabriel came to him and said,
'The night you are looking for is ahead of you.' So the Prophet
performed the I'tikaf in the middle (second) ten days of the month of
Ramadan and we too performed I'tikaf with him. Gabriel came to him and
said, 'The night which you are looking for is ahead of you.' In the
morning of the 20th of Ramadan the Prophet delivered a sermon saying,
'Whoever has performed I'tikaf with me should continue it. I have been
shown the Night of "Qadr", but have forgotten its date, but it is in the
odd nights of the last ten nights. I saw in my dream that I was
prostrating in mud and water.' In those days the roof of the mosque was
made of branches of date-palm trees. At that time the sky was clear and
no cloud was visible, but suddenly a cloud came and it rained. The
Prophet led us in the prayer and I saw the traces of mud on the forehead
and on the nose of Allah's Apostle. So it was the confirmation of that
dream."
ہم سے موسیٰ بن اسمٰعیل
نے بیان کیا کہا ہم سے ہمام ابن یحییٰ نے انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے
انہوں نے ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن سے انہوں نے کہا میں ابو سعید خدری کے
پاس گیا اور ان سے کہا چلو ذرا کھجور کے باغ کی سیر کریں گے باتیں کریں گے
وہ نکلے ابو سلمہ نے کہا میں نے ( راہ میں ) ابو سعید سے کہا تم نے شب قدر
کے بارے میں جو نبیﷺسے سنا ہو بیان کرو ابو سعید نے کہا رسول اللہﷺ نے (
پہلے) رمضان کے اوّل عشرے میں اعتکاف کیا ہم نے بھی آپ کے ساتھ اعتکاف کیا
پھر حضرت جبریلؑ آپ کے پاس آئے اور کہنے لگے تم جس ( رات ) کو چاہتے ہو
( یعنی شب قدر کو ) وہ آگے ہے تو آپ نے بیچ کے عشرے میں اعتکاف کیا ہم
نے بھی آپ کے ساتھ اعتکاف کیا پھر حضرت جبریلؑ آپ کے پاس آئے اور کہنے
لگے ابھی جس ( رات ) کوتم چاہتے ہو وہ آگے ہے یہ سن کر آپ کھڑے ہوئے اور
رمضان کی بیسویں تاریخ کو خطبہ سنایا اور فرمایا جس نے میرے ساتھ اعتکاف
کیا وہ لوٹ آئے ( پھر اعتکاف کرے)کیونکہ شب قدر مجھ کو دکھائی گئی لیکن
میں بھول گیا اور یہ شب رمضان کے آخری عشرے میں ہے طاق راتوں میں اور
میں نے یہ بھی دیکھا گویا اس شب کو میں پانی اور کیچڑ میں سجدہ کر رہا ہوں
ابو سعیدؓ نے کہا مسجد کی چھت کھجور کی ڈالیوں کی تھی اور آسمان میں ابر
وبر کچھ نہیں معلوم ہوتا تھا اتنے میں ایک پتلا سا بادل نمودار ہوا اور
پانی پڑا ، رسول اللہﷺ نے نماز پڑھائی تو میں نے کیچڑ پانی کا نشان آپ
کی پیشانی اور ناک کی نوک پر دیکھا آپ کا خواب سچا ہوا۔
136. To tie the clothes and wrap them properly (in Salat) and whoever gathered his clothes for fear that his private parts may become exposed
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ
أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ كَانَ النَّاسُ يُصَلُّونَ
مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُمْ عَاقِدُو أُزْرِهِمْ مِنَ
الصِّغَرِ عَلَى رِقَابِهِمْ فَقِيلَ لِلنِّسَاءِ لاَ تَرْفَعْنَ
رُءُوسَكُنَّ حَتَّى يَسْتَوِيَ الرِّجَالُ جُلُوسًا
Narrated By Sahl bin Sa'd : The people used to pray with the Prophet
tying their Izars around their necks because of their small sizes and
the women were directed that they should not raise their heads from the
prostrations till the men had sat straight.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان
کیا کہا ہم سے سفیان ثوری نے، انہوں نے ابو حازم سلمہ بن دینار سے، انہوں
نے سہل بن سعد سے، انہوں نے کہا نبیﷺ کے ساتھ لوگ اپنے تہبندوں میں گردن
پر گرہ لگا کر نماز پڑھا کرتے کیونکہ تہبند چھوٹے تھے اور عورتوں سے کہہ
دیا گیا تھا تم اپنا سر (سجدے سے) اس وقت تک نہ اٹھاؤ جب تک مرد سیدھے ہو
کر بیٹھ نہ جائیں۔
137. One should not tuck up the hair
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ـ وَهْوَ
ابْنُ زَيْدٍ ـ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ
عَبَّاسٍ، قَالَ أُمِرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَسْجُدَ عَلَى
سَبْعَةِ أَعْظُمٍ، وَلاَ يَكُفَّ ثَوْبَهُ وَلاَ شَعَرَهُ
Narrated By Ibn 'Abbas : The Prophet was ordered to prostrate on seven bony parts and not to tuck up his clothes or hair.
ہم سے ابو النعمان محمد بن فضل
نے بیان کیا کہا ہم سے حماد بن زید نے، انہوں نے عمرو بن دینار سے، انہوں
نے طاؤس سے، انہوں نے عبداللہ بن عباسؓ سے، انہوں نے کہا نبیﷺ کو سات ہڈیوں
پر سجدہ کرنے کا اور سجدے میں بال اور کپڑے نہ سمیٹنے کا حکم ہوا۔
138. One should not tuck up his garment in As-Salat
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ،
عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ
النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى
سَبْعَةٍ، لاَ أَكُفُّ شَعَرًا وَلاَ ثَوْبًا "
Narrated By Ibn 'Abbas : The Prophet said, "I have been ordered to
prostrate on seven (bones) and not to tuck up the hair or garment."
ہم سے موسٰی بن اسمٰعیل نے بیان
کیا کہا ہم سے ابو عوانہ وضاح نے، انہوں نے عمرو بن دینار سے، انہوں نے
طاؤس سے، انہوں نے ابن عباسؓ سے، انہوں نے نبیﷺ سے، آپؐ نے فرمایا مجھ کو
سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم ہوا اور بال اور کپڑے نہ سمیٹنے کا۔
139. To invoke and glorify Allah in prostration
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ
حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ ـ
رضى الله عنها ـ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم
يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ " سُبْحَانَكَ
اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي " يَتَأَوَّلُ
الْقُرْآنَ
Narrated By 'Aisha :
The Prophet used to say frequently in his bowing and prostrations
"Subhanaka-Allahumma Rabbana Wabihamdika, Allahumma Ighfir-li" (I honour
Allah from all what (unsuitable things) is ascribed to Him, O Allah!
Our Lord! All praises are for You. O Allah! Forgive me). In this way he
was acting on what was explained to him in the Holy Qur'an.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان
کیا، کہا ہم سے یحیٰی بن سعید قطان نے، انہوں نے سفیان ثوری سےانہوں نے کہا
مجھ سے منصور بن معتمر نے بیان کیا، انہوں نے مسلم بن صبیح سے، انہوں نے
مسروق سے، انہوں نے حضرت عائشہؓ سے، انہوں نے کہا نبیﷺ اکثر رکوع اور سجدے
میں یہ کہا کرتے تھے سبحانک اللہ اللٰھم ربّنا و بحمدک اللّٰھم اغفرلی۔ آپؐ
قرآن میں جو حکم اترا اس پر عمل کرتے تھے۔
140. To sit for a while between the two prostrations
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ
أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، أَنَّ مَالِكَ بْنَ الْحُوَيْرِثِ، قَالَ
لأَصْحَابِهِ أَلاَ أُنَبِّئُكُمْ صَلاَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه
وسلم قَالَ وَذَاكَ فِي غَيْرِ حِينِ صَلاَةٍ، فَقَامَ، ثُمَّ رَكَعَ
فَكَبَّرَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَامَ هُنَيَّةً، ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ
رَفَعَ رَأْسَهُ هُنَيَّةً، فَصَلَّى صَلاَةَ عَمْرِو بْنِ سَلِمَةَ
شَيْخِنَا هَذَا. قَالَ أَيُّوبُ كَانَ يَفْعَلُ شَيْئًا لَمْ أَرَهُمْ
يَفْعَلُونَهُ، كَانَ يَقْعُدُ فِي الثَّالِثَةِ وَالرَّابِعَةِ
Narrated By Abu Qilaba : Once Malik bin Huwairith said to his friends,
"Shall I show you how Allah's Apostle used to offer his prayers?" And it
was not the time for any of the compulsory congregational prayers. So
he stood up (for the prayer) bowed and said the Takbir, then he raised
his head and remained standing for a while and then prostrated and
raised his head for a while (sat up for a while). He prayed like our
Sheikh 'Amr Ibn Salama. (Aiyub said, "The latter used to do a thing
which I did not see the people doing i.e. he used to sit between the
third and the fourth Rak'a).
ہم
سے ابو النعمان محمد بن فضل نے بیان کیا کہا ہم سے حماد بن زید نے، انہوں
نے ایوب سختیانی سے، انہوں ابو قلابہ عبداللہ ابن زید سے۔ انہوں نے کہا
مالک بن حویرث صحابی نے اپنے یاروں سے کہا کیا میں تم کو رسول اللہﷺ کی
نماز نہ بتاؤں؟ ابو قلابہ نے کہا اس وقت کوئی فرض نماز کا وقت نہ تھا، وہ
کھڑے ہوئے پھر رکوع کیا اور تکبیر کہی پھر (رکوع سے) سر اٹھایا اور تھوڑی
دیر کھڑے رہے پھر سجدہ کیا پھر سر اٹھایا تھوڑی دیر ٹھہرے رہے (پھر دوسرا
سجدہ کیا پھر تھوڑی دیر سر اٹھا کر بیٹھے رہے) غرض انہوں نے ہمارے شیخ عمرو
بن سلمہ کی طرح نماز پڑھی۔ ایوب سختیانی نے کہا عمرو بن سلمہ ایک ایسی بات
کیا کرتا تھا جو میں نے اور لوگوں کو کرتے نہیں دیکھا۔ وہ بیٹھتا تھا
تیسری رکعت کے بعد یا چوتھی رکعت کے شروع میں ۔
قَالَ فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ
فَقَالَ " لَوْ رَجَعْتُمْ إِلَى أَهْلِيكُمْ صَلُّوا صَلاَةَ كَذَا فِي
حِينِ كَذَا، صَلُّوا صَلاَةَ كَذَا فِي حِينِ كَذَا، فَإِذَا حَضَرَتِ
الصَّلاَةُ فَلْيُؤَذِّنْ أَحَدُكُمْ وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ "
Malik bin Huwairith said, "We came to the Prophet (after embracing
Islam) and stayed with him. He said to us, 'When you go back to your
families, pray such and such a prayer at such and such a time, pray such
and such a prayer at such and such a time, and when there is the time
for the prayer then only of you should pronounce the Adhan for the
prayer and the oldest of you should lead the prayer."
مالک بن حویرث نے کہا ہم تو (اپنی قوم کی طرف سے) نبیﷺ کے پاس آئے اور
ٹھہرے رہے پھر آپﷺ نے فرمایا تم لوگ اپنے لوگوں کے پاس لوٹ جاؤ تو بہتر
ہے۔ دیکھو یہ نماز فلاں وقت نماز پڑھنا، یہ نماز فلاں وقت۔ جب نماز کا وقت
آئے تم میں سے کوئی اذان دے اور جو تم میں بڑا ہو وہ امامت کرے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو
أَحْمَدَ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا
مِسْعَرٌ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى،
عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ كَانَ سُجُودُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم
وَرُكُوعُهُ، وَقُعُودُهُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ قَرِيبًا مِنَ
السَّوَاءِ
Narrated By Al-Bara' :
The time taken by the Prophet in prostrations, bowing, and the sitting
interval between the two prostrations was about the same.
ہم سے محمد بن عبدالرحیم صاعقہ
نے بیان کیا کہا ہم سے ابو احمد محمد ابن عبداللہ زبیری نے کہا ہم سے مسعر
بن کدام نے انہوں نے حکم ابن عتیبہ کوفی سے انہوں نے عبدالرحمٰن بن ابی
لیلیٰ سے انہوں نے براء بن عازبؓ صحابی سے انہوں نے کہا نبیﷺ کا سجدہ اور
رکوع اور دونوں سجدوں کے بیچ میں بیٹھنا برابر ہوتا۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ
زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ إِنِّي لاَ آلُو
أَنْ أُصَلِّيَ بِكُمْ كَمَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم
يُصَلِّي بِنَا. قَالَ ثَابِتٌ كَانَ أَنَسٌ يَصْنَعُ شَيْئًا لَمْ
أَرَكُمْ تَصْنَعُونَهُ، كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ
قَامَ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ قَدْ نَسِيَ. وَبَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ
حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ قَدْ نَسِيَ
Narrated By Thabit : Anas said, "I will leave no stone unturned in
making you offer the prayer as I have seen the Prophet making us offer
it." Anas used to do a thing which I have not seen you doing. He used to
stand after the bowing for such a long time that one would think that
he had forgotten (the prostrations) and he used to sit in-between the
prostrations so long that one would think that he had forgotten the
second prostration.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان
کیا کہا ہم سے حماد بن زید نے، انہوں نے ثابت سے، انہوں نے انسؓ سے، انہوں
نے کہا میں کوتاہی نہیں کرنے کا تم کو اسی طرح نماز پڑھاؤں گا جس طرح نبیﷺ
کو نماز پڑھاتے دیکھا ہے۔ ثابت نے کہا انسؓ ایک ایسی بات (نماز میں) کیا
کرتے تھے جو میں تم کو کرتے نہیں دیکھتا، وہ کیا تھی انسؓ جب رکوع کر کے
اپنا سر اٹھاتے تو اتنی دیر کھڑے رہتے کہ کوئی کہنے والا کہے بھول گئے۔ اسی
طرح دونوں سجدوں کے بیچ میں اتنا بیٹھتے کہ کوئی کہنے والا کہے بھول گئے۔
141. One should not put forearms on the ground during prostrations
Abu
Humaid said, "The Prophet (s.a.w) prostrated and put his hands (on the
ground) with the forearms away from the ground and away from the body"
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ
جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ، عَنْ
أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ "
اعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ، وَلاَ يَبْسُطْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ
انْبِسَاطَ الْكَلْبِ "
Narrated By Anas bin Malik : The Prophet said, "Be straight in the
prostrations and none of you should put his forearms on the ground (in
the prostration) like a dog."
ہم سے محمد بن بشار نےبیان
کیاکہا ہم سے محمد بن جعفر نے کہا ہم سے شعبہ نے کہا میں نے قتادہ سے سنا،
انہوں نے انس بن مالکؓ سے انہوں نے نبیﷺؑ سے آپؐ نے فرمایا سجدہ ٹھیک طور
سے کرو اور کوئی تم میں سے کتے کی طرح اپنی باہیں زمین پر نہ بچھائے۔
142. Sitting straight in a Witr prayer and then getting up
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَ أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ،
قَالَ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، قَالَ
أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ اللَّيْثِيُّ، أَنَّهُ رَأَى
النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي، فَإِذَا كَانَ فِي وِتْرٍ مِنْ
صَلاَتِهِ لَمْ يَنْهَضْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَاعِدًا
Narrated By Malik bin Huwairith Al-Laithi : I saw the Prophet praying
and in the odd Rakat, he used to sit for a moment before getting up.
ہم سے محمد بن صباح نے بیان کیا
کہا ہم کو ہُشَیم نے خبر دی کہا کہا ہم کو خالد حذاء نے انہوں نے ابو
قلابہ سے کہا ہم کو مالک بن حویرث نے خبر دی۔ انہوں نے نبیﷺ کو دیکھا نماز
پڑھتے ہوئے۔ جب آپﷺ طاق رکعت یا رکعتیں پڑھ چکتے تو کھڑے نہ ہوتے جب تک کہ
سیدھے بیٹھ نہ جاتے ۔
143. How to support oneself on the ground while standing after finishing the Raka ( after the two prostration)
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ
أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، قَالَ جَاءَنَا مَالِكُ بْنُ
الْحُوَيْرِثِ فَصَلَّى بِنَا فِي مَسْجِدِنَا هَذَا فَقَالَ إِنِّي
لأُصَلِّي بِكُمْ، وَمَا أُرِيدُ الصَّلاَةَ، وَلَكِنْ أُرِيدُ أَنْ
أُرِيَكُمْ كَيْفَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي.
قَالَ أَيُّوبُ فَقُلْتُ لأَبِي قِلاَبَةَ وَكَيْفَ كَانَتْ صَلاَتُهُ
قَالَ مِثْلَ صَلاَةِ شَيْخِنَا هَذَا ـ يَعْنِي عَمْرَو بْنَ سَلِمَةَ ـ
قَالَ أَيُّوبُ وَكَانَ ذَلِكَ الشَّيْخُ يُتِمُّ التَّكْبِيرَ، وَإِذَا
رَفَعَ رَأْسَهُ عَنِ السَّجْدَةِ الثَّانِيَةِ جَلَسَ وَاعْتَمَدَ عَلَى
الأَرْضِ، ثُمَّ قَامَ
Narrated
By Aiyub : Abu Qilaba said, "Malik bin Huwairith came to us and led us
in the prayer in this mosque of ours and said, 'I lead you in prayer but
I do not want to offer the prayer but just to show you how Allah's
Apostle performed his prayers." I asked Abu Qilaba, "How was the prayer
of Malik bin Huwairith?" He replied, "Like the prayer of this Sheikh of
ours i.e. 'Amr bin Salima." That Sheikh used to pronounce the Takbir
perfectly and when he raised his head from the second prostration he
would sit for a while and then support himself on the ground and get up.
ہم سے معلّی بن اسد نے بیان کیا
کہا ہم کو وہیب نے انہوں نے ایوب سختیانی سے، انہوں نے ابو قلابہ سے انہوں
نے کہا مالک ابن حویرث ہمارے پاس آئے اس مسجد میں نماز پڑھائی۔ کہنے لگے
میں تم کو نماز پڑھاتا ہوں۔ میری نیت (صرف) نماز پڑھنے کی نہیں ہے بلکہ میں
تم کو یہ بتلانا چاہتا ہوں کہ رسول اللہﷺ کو میں نے کیسے نماز پڑھتے
دیکھا۔ ایوب سختیانی نے کہا میں نے ابو قلابہ سے پوچھا مالک نے کیونکر نماز
پڑھی؟ انہوں نے کہا ہمارے اس شیخ عمرو ابن سلمہ کی طرح، ایوب نے کہا عمرو
ابن سلمہ پوری (بائیس) تکبیریں کہتا اور جب دوسرا سجدہ کر کے (پہلی اور
تیسری رکعت میں) سر اٹھاتا تو بیٹھ جاتا اور زمین پر ٹیکا دے کر پھر اٹھتا ۔
144. Saying Takbir on rising from the two prostrations
Ibn Az-Zubair used to say the Takbir on rising
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، قَالَ حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ
سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ صَلَّى لَنَا أَبُو
سَعِيدٍ فَجَهَرَ بِالتَّكْبِيرِ حِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ،
وَحِينَ سَجَدَ، وَحِينَ رَفَعَ، وَحِينَ قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ
وَقَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم
Narrated By Said bin Al-Harith : Abu Said led us in the prayer and said
the Takbir aloud on arising from the prostration, and on prostrating,
on rising again, and on getting up from the second Rak'a. Abu Said said,
"I saw the Prophet doing the same."
ہم سے یحیٰی بن صالح نے بیان
کیا کہا ہم سے فلیح بن سلیمان نے انہوں نے سعید بن حارث سے انہوں نے کہا
ابو سعید خدریؓ نے ہم کو نماز پڑھائی جب انہوں نے سجدے سے سر اٹھایا تو
پکار کر تکبیر کہی پھر جب سجدہ کیا تو ایسا ہی کیا۔ اسی طرح جب دو رکعتیں
پڑھ کر کھڑے ہوئے اور کہنے لگے میں نے نبیﷺ کو ایسے ہی نماز پڑھتے دیکھا۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ
زَيْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا غَيْلاَنُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، قَالَ
صَلَّيْتُ أَنَا وَعِمْرَانُ، صَلاَةً خَلْفَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ـ
رضى الله عنه ـ فَكَانَ إِذَا سَجَدَ كَبَّرَ، وَإِذَا رَفَعَ كَبَّرَ،
وَإِذَا نَهَضَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ، فَلَمَّا سَلَّمَ أَخَذَ
عِمْرَانُ بِيَدِي فَقَالَ لَقَدْ صَلَّى بِنَا هَذَا صَلاَةَ مُحَمَّدٍ
صلى الله عليه وسلم. أَوْ قَالَ لَقَدْ ذَكَّرَنِي هَذَا صَلاَةَ
مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم
Narrated By Mutarrif : 'Imran and I prayed behind 'Ali bin Abi Talib and
he said Takbir on prostrating, on rising and on getting up after the
two Rakat (i.e. after the second Rak'a). When the prayer was finished,
'Imran took me by the hand and said, "He ('Ali) has prayed the prayer of
Muhammad(s.a.w)" (or said, "He made us remember the prayer of
Muhammad)."
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان
کیا کہا ہم سے حماد بن زید نے کہا ہم سے غیلان بن جریر نے، انہوں نے مطرف
بن عبداللہ ابن شخیر سے، انہوں نے کہا میں نے اور عمران بن حصینؓ (صحابی)
نے حضرت علی مرتضیٰؓ کے پیچھے نماز پڑھی (بصری میں) وہ جب سجدے کرتے تو
تکبیر کہتے اور جب سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے اور جب دو رکعتیں پڑھ کر اٹھتے
تو تکبیر کہتے ۔ جب انہوں نے سلام پھیرا تو عمران نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا
انہوں نے (یعنی حضرت علیؓ نے) ایسی نماز پڑھائی جیسی محمدﷺ ہم کو پڑھاتے
تھے یا یوں کہا انہوں نے مجھ کو محمدﷺ کی نماز یاد دلائی۔
145. The Prophet’s (s.a.w) sunnah from the sitting in the Tashahud (in Salat)
Umm Ad-Darda used to sit in the Salat like men and she was a woman well–versed (in religious knowledge)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ
الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ،
أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، كَانَ يَرَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ـ رضى
الله عنهما ـ يَتَرَبَّعُ فِي الصَّلاَةِ إِذَا جَلَسَ، فَفَعَلْتُهُ
وَأَنَا يَوْمَئِذٍ حَدِيثُ السِّنِّ، فَنَهَانِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ
عُمَرَ وَقَالَ إِنَّمَا سُنَّةُ الصَّلاَةِ أَنْ تَنْصِبَ رِجْلَكَ
الْيُمْنَى وَتَثْنِيَ الْيُسْرَى. فَقُلْتُ إِنَّكَ تَفْعَلُ ذَلِكَ.
فَقَالَ إِنَّ رِجْلَىَّ لاَ تَحْمِلاَنِي
Narrated By 'Abdullah bin 'Abdullah : I saw 'Abdullah bin 'Umar
crossing his legs while sitting in the prayer and I, a mere youngster in
those days, did the same. Ibn 'Umar forbade me to do so, and said, "The
proper way is to keep the right foot propped up and bend the left in
the prayer." I said questioningly, "But you are doing so (crossing the
legs)." He said, "My feet cannot bear my weight."
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی
نے بیان کیا، انہوں نے امام مالکؒ سے، انہوں نے عبد الرحمٰن بن قاسم سے
انہوں نے عبداللہ بن عبداللہ سے وہ اپنے باپ عبداللہ بن عمرؓ کو دیکھتے
نماز میں دو زانو ہو کر بیٹھتے (پالتی مار کر) میں بھی اسی طرح بیٹھا ان
دنوں میں کم سن تھا۔ عبداللہ بن عمرؓ نے مجھ کو منع کیا اور کہا کہ نماز
میں یوں بیٹھنا سنت ہے کہ داہنا پاؤں کھڑا کر کے اور بائیں کو موڑ دے (اس
پر بیٹھے) میں نے کہا (باوا) تم تو چار زانو بیٹھتے ہو، انہوں نے کہا میرے
پاؤں میرا بوجھ اٹھا نہیں سکتے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ
خَالِدٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ، عَنْ
مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ،. وَحَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ
يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، وَيَزِيدَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ
بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ،
أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا مَعَ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله
عليه وسلم فَذَكَرْنَا صَلاَةَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ
أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ أَنَا كُنْتُ أَحْفَظَكُمْ لِصَلاَةِ رَسُولِ
اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَيْتُهُ إِذَا كَبَّرَ جَعَلَ يَدَيْهِ
حِذَاءَ مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ أَمْكَنَ يَدَيْهِ مِنْ
رُكْبَتَيْهِ، ثُمَّ هَصَرَ ظَهْرَهُ، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ اسْتَوَى
حَتَّى يَعُودَ كُلُّ فَقَارٍ مَكَانَهُ، فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَ يَدَيْهِ
غَيْرَ مُفْتَرِشٍ وَلاَ قَابِضِهِمَا، وَاسْتَقْبَلَ بِأَطْرَافِ
أَصَابِعِ رِجْلَيْهِ الْقِبْلَةَ، فَإِذَا جَلَسَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ
جَلَسَ عَلَى رِجْلِهِ الْيُسْرَى وَنَصَبَ الْيُمْنَى، وَإِذَا جَلَسَ فِي
الرَّكْعَةِ الآخِرَةِ قَدَّمَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَنَصَبَ الأُخْرَى
وَقَعَدَ عَلَى مَقْعَدَتِهِ. وَسَمِعَ اللَّيْثُ يَزِيدَ بْنَ أَبِي
حَبِيبٍ وَيَزِيدُ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَلْحَلَةَ وَابْنُ حَلْحَلَةَ مِنَ
ابْنِ عَطَاءٍ. قَالَ أَبُو صَالِحٍ عَنِ اللَّيْثِ كُلُّ فَقَارٍ.
وَقَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ قَالَ حَدَّثَنِي
يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرٍو حَدَّثَهُ كُلُّ
فَقَارٍ.
Narrated By Muhammad bin 'Amr
bin 'Ata' : I was sitting with some of the companions of Allah's Apostle
and we were discussing about the way of praying of the Prophet. Abu
Humaid As-Saidi said, "I remember the prayer of Allah's Apostle better
than any one of you. I saw him raising both his hands up to the level of
the shoulders on saying the Takbir; and on bowing he placed his hands
on both knees and bent his back straight, then he stood up straight from
bowing till all the vertebrate took their normal positions. In
prostrations, he placed both his hands on the ground with the forearms
away from the ground and away from his body, and his toes were facing
the Qibla. On sitting In the second Rak'a he sat on his left foot and
propped up the right one; and in the last Rak'a he pushed his left foot
forward and kept the other foot propped up and sat over the buttocks."
ہم سے یحیٰی بن بکیر نے بیان
کیا کہا ہم سے لیث بن سعد نے انہوں نے خالد بن یزید سے، انہوں نے سعید بن
ابی حلال سے، انہوں نے محمد بن عمرو بن حلحلہ سے انہوں نےمحمد بن عمرو بن
عطاء سے دوسری سند یحیٰی بن بکیر نے کہا مجھ سے لیث نے بیان کیا، انہوں نے
یزید ابن ابی حبیب اور یزید بن محمد قرشی سے، انہوں نے محمد بن عمرو بن
حلحلہ سے، انہوں نے محمد بن عمرو بن عطاء سے وہ محمدﷺ کے کئی اصحاب کے ساتھ
بیٹھے تھے۔ پھر نبیﷺ کی نماز کا ذکر آیا تو ابو حمید ساعدیؓ نے کہا میں تم
سب میں رسول اللہﷺ کی نماز کو خوب یاد رکھنے والا ہوں۔ میں نے دیکھا آپؐ
جب تکبیر تحریمہ کہتے تو اپنے دونوں ہاتھ دونوں مونڈھوں کے برابر لے جاتے
اور رکوع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ دونوں گھٹنوں پر جما دیتے پھر اپنی پیٹھ
جھکا کر سر اور گردن کے برابر کر دیتے پھر سر اٹھا کر سیدھے کھڑے ہو جاتے۔
آپؐ کی پیٹھ کی ہر پسلی اپنی جگہ پر آجاتی۔ اور جب سجدہ کرتے دونوں ہاتھ
زمین پر رکھتے، نہ بانہوں کو بچھاتے نہ سمیٹ کر پہلو سے لگادیتے اور پاؤں
کی انگلیوں کی نوکیں قبلے کی طرف رکھتے۔ جب دو رکعتیں پڑھ چکتے تو بایاں
پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھتے اور داہنا پاؤں کھڑا رکھتے، جب اخیر رکعت پڑھ
چکتے تو بایاں پاؤں آگے کرتے اور داہنا پاؤں کھڑا رکھتے اور سیرین کے بل
بیٹھتے۔ اور لیثٖ نے یزید بن ابی حبیب سے اور یزید نے محمد بن حلحلہ سے سنا
ہے اور محمد بن حلحلہ نے محمد بن عمرو ابن عطاء سے سنا ہے (تو یہ حدیث
منقطع نہیں ہے) اور ابو صالح نے لیث سے یوں نقل کیا ہے ہر پسلی اپنی جگہ آ
جاتی ۔ اور عبداللہ ابن مبارک نے اس حدیث کو یحیٰی بن ایوب سے روایت کیا
کہا مجھ سے یزید بن ابی حبیب نے بیان کیا ان سے محمد بن عمرو بن حلحلہ نے
اس میں یوں ہے ہر پسلی آپؐ کی۔
146. Whoever considered that the first Tashahud is not compulsory
As the Prophet (s.a.w) stood up after the second Raka (without sitting for Tashahud) and did not perform it.
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ
الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هُرْمُزَ، مَوْلَى
بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ـ وَقَالَ مَرَّةً مَوْلَى رَبِيعَةَ بْنِ
الْحَارِثِ ـ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ ابْنَ بُحَيْنَةَ ـ وَهْوَ مِنْ أَزْدِ
شَنُوءَةَ وَهْوَ حَلِيفٌ لِبَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ
النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم
صَلَّى بِهِمُ الظُّهْرَ فَقَامَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ لَمْ
يَجْلِسْ، فَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ حَتَّى إِذَا قَضَى الصَّلاَةَ،
وَانْتَظَرَ النَّاسُ تَسْلِيمَهُ، كَبَّرَ وَهْوَ جَالِسٌ، فَسَجَدَ
سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ ثُمَّ سَلَّمَ
Narrated By 'Abdullah bin Buhaina : (he was from the tribe of Uzd
Shan'u'a and was the ally of the tribe of 'Abdul-Manaf and was one of
the companions of the Prophet): Once the Prophet led us in the Zuhr
prayer and stood up after the second Rak'a and did not sit down. The
people stood up with him. When the prayer was about to end and the
people were waiting for him to say the Taslim, he said Takbir while
sitting and prostrated twice before saying the Taslim and then he said
the Taslim."
ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا
کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہوں نے زہری سے کہا مجھ سے عبدالرحمٰن بن
ہرمزاعرج نے بیان کیا جو بنی عبدالمطلب کے غلام تھے اور کبھی زہری نے یوں
کہا جو ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب کے غلام تھے کہ عبداللہ بن بحیینہ نے
کہا جو ازدشنُوءہ کے قبیلے سے اور بنی عبد مناف کے حلیف اور نبیﷺ کے صحابہ
میں سے تھے کہ نبیﷺ نےان کو ظہر کی نماز ان کو پڑھائی اور پہلی دو رکعتیں
پڑھ کے کھڑے ہو گئے بیٹھے نہیں، لوگ بھی آپؐ کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ جب نماز
پوری کر چکے تو لوگ انتظار میں تھے کہ آپؐ اب سلام پھیریں گے تو آپؐ نے
بیٹھے بیٹھے اللہ اکبر کہا، پھر دو سجدے کئے، سلام سے پہلے پھر سلام پھیرا۔
147. (Saying of the) Tashahud in the first sitting
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا بَكْرٌ، عَنْ
جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ
مَالِكٍ ابْنِ بُحَيْنَةَ، قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله
عليه وسلم الظُّهْرَ فَقَامَ وَعَلَيْهِ جُلُوسٌ، فَلَمَّا كَانَ فِي آخِرِ
صَلاَتِهِ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهْوَ جَالِسٌ.
Narrated By 'Abdullah bin Malik bin Buhaina : Once Allah's Apostle led
us in the Zuhr prayer and got up (after the prostrations of the second
Rak'a) although he should have sat (for the Tashah-hud). So at the end
of the prayer, he prostrated twice while sitting (prostrations of
Sahuw).
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان
کیا کہا ہم سے بکر بن مضر نے انہوں نے جعفر بن ربیعہ سے، انہوں نے اعرج سے
انہوں نے عبداللہ بن مالک ابن بحینہ سے انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نےہم کو
ظہر کی نماز پڑھائی (دو رکعتوں کے بعد) تشہد آپؐ کو پڑھنا تھا لیکن کھڑے ہو
گئے۔ جب نماز ختم ہوئی تو آپؐ نے بیٹھے بیٹھے (سہو کے) دو سجدے کئے۔
148. (Saying of the) Tashahud in the last Raka
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقِ
بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ
النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قُلْنَا السَّلاَمُ عَلَى جِبْرِيلَ
وَمِيكَائِيلَ، السَّلاَمُ عَلَى فُلاَنٍ وَفُلاَنٍ. فَالْتَفَتَ
إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " إِنَّ اللَّهَ
هُوَ السَّلاَمُ، فَإِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلِ التَّحِيَّاتُ
لِلَّهِ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا
النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلاَمُ عَلَيْنَا
وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ. فَإِنَّكُمْ إِذَا قُلْتُمُوهَا
أَصَابَتْ كُلَّ عَبْدٍ لِلَّهِ صَالِحٍ فِي السَّمَاءِ وَالأَرْضِ،
أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا
عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ "
Narrated By Shaqiq bin Salma : 'Abdullah said, "Whenever we prayed
behind the Prophet we used to recite (in sitting) 'Peace be on Gabriel,
Michael, peace be on so and so. Once Allah's Apostle looked back at us
and said, 'Allah Himself is As-Salam (Peace), and if anyone of you prays
then he should say, At-Tahiyatu lil-lahi wassalawatu wat-taiyibatu.
AsSalamu 'alalika aiyuha-n-Nabiyu wa rahmatu-l-lahi wa barakatuhu.
As-Salam alaina wa ala ibadil-lah is-salihin. (All the compliments,
prayers and good things are due to Allah: peace be on you, O Prophet and
Allah's mercy and blessings be on you. Peace be on us an on the true
pious slaves of Allah). (If you say that, it will be for all the slaves
in the heaven and the earth). Ash-hadu an la-ilaha illa-l-lahu wa
ash-hadu anna Muhammadan 'abduhu wa Rasuluhu. (I testify that none has
the right to be worshipped but Allah and I also testify that Muhammad is
His slave and His Apostle)."
ہم سے ابو نعیم فضل بن دکین نے
بیان کیا کہا ہم سے اعمش نے، انہوں نے شقیق بن سلمہ سے انہوں نے کہا
عبداللہ بن مسعودؓ نے کہا ہم (پہلے پہل) جب نبیﷺ کے پیچھے نماز پڑھا کرتے
تو (سلام کے وقت) یوں کہتے جبرئیل پر سلام اور میکائیل پر سلام فلانے پر
سلام، فلانے پر سلام (اللہ پر سلام) پھر (ایک روز ایسا ہوا کہ) رسول اللہﷺ
نے ہماری طرف منہ کیا اور فر مایا (تم اللہ کو کیا سلام کرتے ہو) اللہ کا
تو نام خود سلام ہے جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو یوں کہے التّحیّات
للہِ وَ الصَّلَوَاتُ وَا لطَّیِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَیۡکَ اَیُّھَا
النَّبِیُّ وَ رَحۡمَۃُ اللہِ وَ بَرَکَاتُہُ، السَّلَامُ عَلَیۡنَا
وَعَلَی عِبَادِاللہِ الصَالِحِیۡنَ جب تم یہ کہو گے تو تمھارا سلام آسمان
اور زمین میں جہاں کوئی اللہ کا نیک بندہ ہے اس کو پہنچ جائے گا اَشۡھَدُ
اَنۡ لَا اِلَہَ اِلَّا اللہُ وَ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبۡدُہُ وَ رَسُولُہُ۔
149. Invocation before the Taslim
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ
الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنَا عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ
عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهُ أَنَّ
رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَدْعُو فِي الصَّلاَةِ "
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِكَ
مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ
الْمَحْيَا وَفِتْنَةِ الْمَمَاتِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ
الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ ". فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ مَا أَكْثَرَ مَا
تَسْتَعِيذُ مِنَ الْمَغْرَمِ فَقَالَ " إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَرِمَ
حَدَّثَ فَكَذَبَ، وَوَعَدَ فَأَخْلَفَ "
Narrated By 'Aisha : (The wife of the Prophet) Allah's Apostle used to
invoke Allah in the prayer saying "Allahumma inni a'udhu bika min
adhabil-qabri, wa a'udhu bika min fitnatil-masihid-dajjal, wa a'udhu
bika min fitnatil-mahya wa fitnatil-mamati. Allahumma inni a'udhu bika
minal-ma thami wal-maghrami. (O Allah, I seek refuge with You from the
punishment of the grave and from the afflictions of Masiah Ad-Dajjal and
from the afflictions of life and death. O Allah, I seek refuge with You
from the sins and from being in debt)." Somebody said to him, "Why do
you so frequently seek refuge with Allah from being in debt?" The
Prophet replied, "A person in debt tells lies whenever he speaks, and
breaks promises whenever he makes (them)."
ہم سے ابو الیمان نے بیان کہا کہا ہم کو شعیب نے خبر دی انہوں نے زہری سے
کہا ہم کو عروہ بن زبیر نے خبر دی، انہوں نے حضرت عائشہؓ سے جو نبیﷺ کی بی
بی تھیں، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ نماز میں (تشہد کے بعد) یہ دعا
پڑھتے تھے یا اللہ تیری پناہ قبر کے عذاب سےاور تیری پناہ کانے دجال کے
بہکانے سے اور تیری پناہ زندگی اور موت کے فتنے سے یا اللہ تیری پناہ گناہ
سے اور قرضداری سے۔ ایک شخص (حضرت عائشہؓ نے) آپؐ سے عرض کیا سبب کیاہے جو
آپؐ قرضداری سے بہت پناہ مانگتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا آدمی جب قرضدار ہوتا ہے
تو اس کی بات جھوٹ ہو جاتی ہے اور وعدہ خلاف ہو جاتا ہے۔
وَعَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى
الله عنها ـ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
يَسْتَعِيذُ فِي صَلاَتِهِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ
'Aisha also narrated: I heard Allah's Apostle in his prayer seeking refuge with Allah from the afflictions of Ad-dajjal.
زہری نے کہا مجھ کو عروہ بن
زبیرؓ نے خبر دی کہ حضرت عائشہؓ نے کہا میں نے رسول اللہﷺ سے سنا آپؐ نماز
میں دجال کے بہکانے سے پناہ مانگتے تھے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ
يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ
بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ـ رضى الله عنه ـ. أَنَّهُ
قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلِّمْنِي دُعَاءً أَدْعُو
بِهِ فِي صَلاَتِي. قَالَ " قُلِ اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي
ظُلْمًا كَثِيرًا وَلاَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ أَنْتَ، فَاغْفِرْ لِي
مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ، وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ
الرَّحِيمُ "
Narrated By Abu
Bakr As-Siddiq : I asked Allah's Apostle to teach me an invocation so
that I may invoke Allah with it in my prayer. He told me to say,
"Allahumma inni zalumtu nafsi zulman kathiran, Wala yaghfirudhdhunuba
illa anta faghfirli maghfiratan min 'Indika, war-hamni innaka
antal-ghafururrahim (O Allah! I have done great injustice to myself and
none except You forgives sins, so please forgive me and be Merciful to
me as You are the Forgiver, the Merciful)."
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان
کیا کہا ہم سے لیث بن سعد نے، انہوں نے یزید بن ابی حبیب سے، انہوں نے
ابوالخیر مرثد ابن عبداللہ سے، انہوں نے عبداللہ بن عمرؓو سے، انہوں نے
حضرت ابو بکر صدیقؓ سے انہوں نے رسول اللہﷺ سے عرض کیا مجھے کوئی ایسی دعا
سکھلائیےجس کو میں نماز میں پڑھا کروں۔ آپؐ نے فرمایا یوں کہہ یا اللہ میں
نے اپنی جان کو (گناہ کر کے) بہت مصیبت میں ڈالا اور گناہوں کو بخشنے والا
تیرے سوا کوئی نہیں ہےتو اپنی بخشش سے مجھ کو بخش دے اور مجھ پر رحم کر
بیشک تو بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔
150. What optional invocation may be selected after the Tashahud and it is not obligatory
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ الأَعْمَشِ،
حَدَّثَنِي شَقِيقٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا إِذَا كُنَّا مَعَ
النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الصَّلاَةِ قُلْنَا السَّلاَمُ عَلَى
اللَّهِ مِنْ عِبَادِهِ، السَّلاَمُ عَلَى فُلاَنٍ وَفُلاَنٍ. فَقَالَ
النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَقُولُوا السَّلاَمُ عَلَى
اللَّهِ. فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلاَمُ، وَلَكِنْ قُولُوا
التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلاَمُ
عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ،
السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ.
فَإِنَّكُمْ إِذَا قُلْتُمْ أَصَابَ كُلَّ عَبْدٍ فِي السَّمَاءِ أَوْ
بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ، أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ،
وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ يَتَخَيَّرُ مِنَ
الدُّعَاءِ أَعْجَبَهُ إِلَيْهِ فَيَدْعُو "
Narrated By 'Abdullah : When we prayed with the Prophet we used to say,
"Peace be on Allah from His slaves and peace be on so and so." The
Prophet said, "Don't say As-Salam be on Allah, for He Himself is
As-Salam, but say, 'At-tahiyatu lil-lahi was-salawatu wat-taiyibatu.
As-salamu 'Alaika aiyuhan-Nabiyu warahmatu-l-lahi wa barakatuhu.
As-salamu 'alaina wa 'ala ibadillahis-salihin. (If you say this then it
will be for all the slaves in heaven or between heaven and earth).
Ashhadu an la-ilaha illallahu wa ashhadu anna Muhammadan 'Abduhu wa
Rasuluhu.' Then select the invocation you like best and recite it."
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا کہا ہم سے یحیٰی بن سعید ابن قطان نے،
انہوں نے اعمش سے، انہوں نے کہا مجھ سے شقیق نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ
بن مسعودؓ سے، انہوں نے کہا ہم (پہلے) جب نبیﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے تھے تو
یوں کہا کرتے تھے اللہ کے بندوں کی طرف سے اللہ پر سلام فلانے پر سلام
فلانے پر سلام۔ پھر نبیﷺ نے فرمایا یہ مت کہو اللہ پر سلام اللہ تو خود
سلام ہے (سب کا سلامت رکھنے والا) بلکہ یوں کہو آداب بندگیاں اللہ ہی کے
لئے ہیں اور نماز اور پاکیزہ خیراتیں، سلام تم پر اے نبی اور اللہ کی رحمت
اور برکتیں۔ سلام ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر۔ اور جب تم یہ کہو گے تو
آسمان و زمین میں جہاں کوئی اللہ کا نیک بندہ ہے اس کو تمھارا سلام پہنچ
جائے گا۔ میں گواہی دیتا ہوں ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور
میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ اس کے بندے اور رسولؐ ہیں۔ پھر دعاؤں میں سے
جو دعا اس کو پسند ہو وہ دعا مانگے۔
151. No cleaning (rubbing) one's forehead and nose till one has completed As-Salat.
And
Abu Abdullah said, "I saw Al-Humaidi quoting this Hadith to support his
argument that the forehead should not be cleaned (rubbed) in As-Salat".
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ
يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ سَأَلْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
فَقَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَسْجُدُ فِي
الْمَاءِ وَالطِّينِ حَتَّى رَأَيْتُ أَثَرَ الطِّينِ فِي جَبْهَتِهِ
Narrated By Abu Said Al-Khudri : I saw Allah's Apostle prostrating in mud and water and saw the mark of mud on his forehead.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان
کیا کہا ہم سے ہشام دستوائی نے، انہوں نے یحیٰی بن ابی کثیر سے، انہوں نے
ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن سے، انہوں نے کہا میں نے ابو سعید خدریؓ سے (شب قدر
کو) پوچھا انہوں نے کہا میں نے (اس رات میں) دیکھا کہ رسول اللہﷺ پانی اور
کیچڑ میں سجدہ کر رہے تھے یہاں تک کہ آپؐ کی پیشانی میں میں نے کیچڑ کا
نشان دیکھا۔
152. Taslim (turnig the face to the right and then to the left at the end of the Salat)
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ
سَعْدٍ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ هِنْدٍ بِنْتِ الْحَارِثِ، أَنَّ
أُمَّ سَلَمَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله
عليه وسلم إِذَا سَلَّمَ قَامَ النِّسَاءُ حِينَ يَقْضِي تَسْلِيمَهُ،
وَمَكَثَ يَسِيرًا قَبْلَ أَنْ يَقُومَ. قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَأُرَى ـ
وَاللَّهُ أَعْلَمُ ـ أَنَّ مُكْثَهُ لِكَىْ يَنْفُذَ النِّسَاءُ قَبْلَ
أَنْ يُدْرِكَهُنَّ مَنِ انْصَرَفَ مِنَ الْقَوْمِ
Narrated By Um Salama : Whenever Allah's Apostle finished his prayers
with Taslim, the women would get up and he would stay on for a while in
his place before getting up. Ibn Shihab said, "I think (and Allah knows
better), that the purpose of his stay was that the women might leave
before the men who had finished their prayer. "
ہم سے موسیٰ بن اسمٰعیل نے بیان
کیا کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے ، کہا ہم سے ابن شہاب زہری نے ، انہوں نے
ہند بنت حارث سے کہ ام المومنین حضرت ام سلمہؓ نے کہا رسول اللہﷺ جب(
نماز سے) سلام پھیرتے تو عورتیں سلام پھیرتے ہی کھڑی ہو کر چل دیتیں اور
آپؐ تھوڑی دیر ویسے ہی بیٹھے رہتے ۔ ابن شہاب نے کہا میں سمجھتا ہوں اور
پورا علم تو اللہ ہی کو ہے آپؐ اس لئے ٹھہر جاتے تھے کہ عورتیں چل دیں اور
مرد نماز سے فارغ ہو کر ان کو نہ پائیں۔
153. To finish the Salat Taslim along with the Imam
Ibn Umar (r.a) liked for those offering Salat behind the Imam to say Taslim (immediately) after the Imam had said it.
حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ،
قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ
الرَّبِيعِ، عَنْ عِتْبَانَ، قَالَ صَلَّيْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله
عليه وسلم فَسَلَّمْنَا حِينَ سَلَّمَ.
Narrated By 'Itban bin Malik : We prayed with the Prophet and used to finish our prayer with the Taslim along with him.
ہم سے حبان بن مو سیٰ نے بیان
کیا کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی کہا ہم کو معمر بن راشد نے ،
انہوں نے زہری سے، انہوں نے محمود بن ربیع انصاری سے ، انہوں نے عتبان بن
مالک انصاری سے انہوں نے کہا ہم نے نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپؐ نے جب
سلام پھیرا ہم نے بھی پھیرا۔
154. Whoever did not say (Taslim) in addition to the Taslim of the Imam but thought that Taslim of the Salat was sufficient
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ
أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ
بْنُ الرَّبِيعِ،، وَزَعَمَ، أَنَّهُ عَقَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه
وسلم وَعَقَلَ مَجَّةً مَجَّهَا مِنْ دَلْوٍ كَانَ فِي دَارِهِمْ
Narrated By Mahmud bin Ar-Rabi' : I remember Allah's Apostle and also
the mouthful of water which he took from a bucket in our house and
ejected (on me).
ہم سے عبدان نے
بیان کیا کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی۔ انہوں
نے زہری سے۔ انہوں نے کہا مجھ کو محمود بن ربیع نے خبر دی وہ کہتے تھے مجھ
کو رسول اللہﷺ (پوری طرح سے) یاد ہیں اور وہ کلی بھی آپؐ کی یاد ہے جو
آپؐ نے ان کے گھر میں ایک ڈول سے لے کر محمود کے منہ پر ڈال دی تھی۔
قَالَ سَمِعْتُ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ الأَنْصَارِيَّ، ثُمَّ أَحَدَ
بَنِي سَالِمٍ قَالَ كُنْتُ أُصَلِّي لِقَوْمِي بَنِي سَالِمٍ، فَأَتَيْتُ
النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ إِنِّي أَنْكَرْتُ بَصَرِي،
وَإِنَّ السُّيُولَ تَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَ مَسْجِدِ قَوْمِي،
فَلَوَدِدْتُ أَنَّكَ جِئْتَ فَصَلَّيْتَ فِي بَيْتِي مَكَانًا، حَتَّى
أَتَّخِذَهُ مَسْجِدًا فَقَالَ " أَفْعَلُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ".
فَغَدَا عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو بَكْرٍ مَعَهُ
بَعْدَ مَا اشْتَدَّ النَّهَارُ، فَاسْتَأْذَنَ النَّبِيُّ صلى الله عليه
وسلم فَأَذِنْتُ لَهُ، فَلَمْ يَجْلِسْ حَتَّى قَالَ " أَيْنَ تُحِبُّ
أَنْ أُصَلِّيَ مِنْ بَيْتِكَ ". فَأَشَارَ إِلَيْهِ مِنَ الْمَكَانِ
الَّذِي أَحَبَّ أَنْ يُصَلِّيَ فِيهِ، فَقَامَ فَصَفَفْنَا خَلْفَهُ ثُمَّ
سَلَّمَ، وَسَلَّمْنَا حِينَ سَلَّمَ.
he said:I heard from Itban bin
Malik Al-Ansari, who was one from Bani Salim, saying, "I used to lead my
tribe of Bani Salim in prayer. Once I went to the Prophet and said to
him, 'I have weak eye-sight and at times the rainwater flood intervenes
between me and the mosque of my tribe and I wish that you would come to
my house and pray at some place so that I could take that place as a
place for praying (mosque). He said, "Allah willing, I shall do that."
Next day Allah's Apostle along with Abu Bakr, came to my house after the
sun had risen high and he asked permission to enter. I gave him
permission, but he didn't sit till he said to me, "Where do you want me
to pray in your house?" I pointed to a place in the house where I wanted
him to pray. So he stood up for the prayer and we aligned behind him.
He completed the prayer with Taslim and we did the same simultaneously."
انہوں نے کہا میں نے عتبان بن مالک انصاری سے سنا جو بنی سالم میں ایک شخص
تھے انہوں نے کہا میں اپنی قوم بنی سالم کی امامت کیا کرتا تھا تو میں
نبیﷺ کے پاس آیا میں نے عرض کیا میری نگاہ میں خلل آ گیا ہےاور کبھی پانی
کے نالے میرے اور میری قوم کے درمیان بہنے لگتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں آپؐ
میرے مکان پر تشریف لائیے اور وہاں کسی جائے پر نماز پڑھ دیجئیے میں اس
جائے کو مسجد مقرر کر لوں۔ آپؐ نے فرمایا انشاءاللہ۔ پھر صبح کو رسول
اللہﷺ ابو بکرؓ کو ساتھ لیکر اس وقت تشریف لائے جب دن چڑھ گیا تھا۔ نبیﷺ نے
اندر آنے کی اجازت مانگی۔ میں نے اجازت دی۔ آپؐ بیٹھے بھی نہیں اور فرمایا
تم اپنے گھر میں کس جگہ چاہتے ہو کہ میں نماز پڑھوں؟ عتبہ نے ایک جائے
پسند کر کے نماز کے لئے بتلائی۔ آپؐ کھڑے ہوئے اور ہم لوگوں نے آپؐ کے
پیچھے صف باندھی۔ جب آپؐ نے سلام پھیرا ہم نے بھی سلام پھیرا۔
155. The Dhikr (remembering Allah) after the Salat
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ
أَبَا مَعْبَدٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ
رضى الله عنهما ـ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَفْعَ الصَّوْتِ بِالذِّكْرِ حِينَ
يَنْصَرِفُ النَّاسُ مِنَ الْمَكْتُوبَةِ كَانَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ
صلى الله عليه وسلم. وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ كُنْتُ أَعْلَمُ إِذَا
انْصَرَفُوا بِذَلِكَ إِذَا سَمِعْتُهُ
Narrated By Abu Ma'bad : (The freed slave of Ibn 'Abbas) Ibn 'Abbas
told me, "In the lifetime of the Prophet it was the custom to celebrate
Allah's praises aloud after the compulsory congregational prayers." Ibn
'Abbas further said, "When I heard the Dhikr, I would learn that the
compulsory congregational prayer had ended."
ہم سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا
کہا ہم کو عبدالرزاق بن ہمام نے خبر دی کہا ہم کو عبدالملک بن جریج نے کہا
مجھ کو عمرو بن دینار نے ان سے ابو معبد (نافذ) نے بیان کیا جو ابن عباسؓ
کے غلام تھے، ان کو عبداللہ بن عباسؓ نے خبر دی کہ فرض نماز سے فارغ ہو کر
ذکر کرنا نبیﷺ کے زمانے سے جاری تھا اور ابن عباسؓ نے کہا مجھ کو تو لوگوں
کا نماز سے فراغت ہونا اسی ذکر کی آواز سن کر معلوم ہوتا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ،
{عَنْ عَمْرٍو،} قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ
عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كُنْتُ أَعْرِفُ انْقِضَاءَ صَلاَةِ
النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِالتَّكْبِيرِ
Narrated By Ibn 'Abbas : I used to recognize the completion of the prayer of the Prophet by hearing Takbir.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے
بیان کیا کہا ہم سے سفیان ابن عینیہ نے کہا مجھ کو ابو معبد نے خبر دی،
انہوں نے ابن عباسؓ سے انہوں نے کہا میں نبیﷺ کی نماز کا ختم ہونا اس وقت
پہچانتا جب تکبیر کی آواز سنتا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ،
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ سُمَىٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي
هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ جَاءَ الْفُقَرَاءُ إِلَى النَّبِيِّ
صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ مِنَ الأَمْوَالِ
بِالدَّرَجَاتِ الْعُلاَ وَالنَّعِيمِ الْمُقِيمِ، يُصَلُّونَ كَمَا
نُصَلِّي، وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ، وَلَهُمْ فَضْلٌ مِنْ أَمْوَالٍ
يَحُجُّونَ بِهَا، وَيَعْتَمِرُونَ، وَيُجَاهِدُونَ، وَيَتَصَدَّقُونَ
قَالَ " أَلاَ أُحَدِّثُكُمْ بِأَمْرٍ إِنْ أَخَذْتُمْ بِهِ أَدْرَكْتُمْ
مَنْ سَبَقَكُمْ وَلَمْ يُدْرِكْكُمْ أَحَدٌ بَعْدَكُمْ، وَكُنْتُمْ
خَيْرَ مَنْ أَنْتُمْ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِ، إِلاَّ مَنْ عَمِلَ مِثْلَهُ
تُسَبِّحُونَ وَتَحْمَدُونَ، وَتُكَبِّرُونَ خَلْفَ كُلِّ صَلاَةٍ ثَلاَثًا
وَثَلاَثِينَ ". فَاخْتَلَفْنَا بَيْنَنَا فَقَالَ بَعْضُنَا
نُسَبِّحُ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ، وَنَحْمَدُ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ،
وَنُكَبِّرُ أَرْبَعًا وَثَلاَثِينَ. فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ "
تَقُولُ سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ،
حَتَّى يَكُونَ مِنْهُنَّ كُلِّهِنَّ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ ".
Narrated By Abu Huraira : Some poor people came to the Prophet and
said, "The wealthy people will get higher grades and will have permanent
enjoyment and they pray like us and fast as we do. They have more money
by which they perform the Hajj, and 'Umra; fight and struggle in
Allah's Cause and give in charity." The Prophet said, "Shall I not tell
you a thing upon which if you acted you would catch up with those who
have surpassed you? Nobody would overtake you and you would be better
than the people amongst whom you live except those who would do the
same. Say "Sub-han-al-lah", "Alhamdu-lillah" and "Allahu Akbar" thirty
three times each after every (compulsory) prayer." We differed and some
of us said that we should say, "Subhan-al-lah" thirty three times and
"Alhamdu lillah" thirty three times and "Allahu Akbar" thirty four
times. I went to the Prophet who said, "Say, "Subhan-al-lah" and
"Alhamdu lillah" and "Allahu Akbar" all together for thirty three
times."
ہم سے محمد بن ابی بکر نے بیان
کیا کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے انہوں نے عبیداللہ عمری سے۔ا نہوں نے سمی
سے انہوں نے ابو صالح ذکوان سے، انہوں نے ابو ہریرہؓ سے انہوں نے کہا
محتاج نادار لوگ نبیﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے مالدار و دولتمند لوگوں نے
(سارے) بلند درجے کما لئے اور ہمیشہ کا چین لوٹ لیا۔ ہماری طرح وہ نماز
پڑھتے ہیں، ہماری طرح وہ روزے رکھتے ہیں اور ان کے پیسے علاوہ ہیں جس سے حج
کرتے ہیں اور عمرہ اور جہاد اور صدقہ (اور ہم محتاجی کی وجہ سے ان کاموں
کو نہیں کر سکتے) آپؐ نے فرمایا میں تم کو ایسی بات نہ بتاؤں کہ اگر تم اس
کو کرو تو آگے بڑھنے والوں کو پکڑ لو اور تم کو کوئی نہ پا سکے جو تمھارے
پیچھے ہے اور تم اپنے زمانے والوں میں سب سے اچھے ہو مگر ہاں جو وہی بات
بجا لائے (وہ تمھارے برابر رہے گا) تم ہر نماز کے بعد تینتیس تینتیس بار
سبحان اللہ اور الحمدللہ اور اللہ اکبر کہہ لیا کرو۔ سمی نے کہا پھر لوگوں
نے اس حدیث میں اختلاف کیا بعضے کہنے لگے سبحان اللہ تینتیس بار اور
الحمدللہ تینتیس بار اور اللہ اکبر ۳۴ بار کہنا چاہئیے۔ آخر میں پھر ابو
صالح کے پاس گیا انہوں نے کہا نہیں سبحان اللہ اور الحمدللہ اور اللہ اکبر
سب تینتیس تینتیس بار کہو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ
عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ وَرَّادٍ، كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ بْنِ
شُعْبَةَ قَالَ أَمْلَى عَلَىَّ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فِي كِتَابٍ
إِلَى مُعَاوِيَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ فِي
دُبُرِ كُلِّ صَلاَةٍ مَكْتُوبَةٍ " لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ
لاَ شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهْوَ عَلَى كُلِّ
شَىْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلاَ مُعْطِيَ
لِمَا مَنَعْتَ، وَلاَ يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ ".
وَقَالَ شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بِهَذَا، وَعَنِ الْحَكَمِ عَنِ
الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ عَنْ وَرَّادٍ بِهَذَا. وَقَالَ الْحَسَنُ
الْجَدُّ غِنًى.
Narrated By
Warrad : (The clerk of Al-Mughira bin Shu'ba) Once Al-Mughira dictated
to me in a letter addressed to Mu'awiya that the Prophet used to say
after every compulsory prayer, "La ilaha ilallah wahdahu la sharika
lahu, lahul-mulku wa-lahul-hamdu, wahuwa ala kulli shai in qadir.
Allahumma la mani 'a lima a'taita, wa la mu'tiya lima mana'ta, wa la
yanfa'u dhal-jaddi minka-l-jadd. (None has the right to be worshipped
but Allah and He has no partner in Lordship or in worship or in the
Names and the Qualities, and for Him is the Kingdom and all the praises
are for Him and He is omnipotent. O Allah! Nobody can hold back what you
give and nobody can give what You hold back. Hard (efforts by anyone
for anything cannot benefit one against Your Will)." And Al-Hasan said,
"Al-jadd' means prosperity."
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے
بیان کیا کہا ہم سے سفیان ثوری نے انہوں نے عبدالملک بن عمیر سے انہوں نے
وراد سے جو جو مغیرہ ابن شعبہؓ کے منشی تھے، انہوں نے کہا مغیرہ بن شعبہؓ
نے ایک خط میں جو معاویہ کے نام تھا مجھ سے یہ لکھوایا کہ نبیﷺ ہر فرض نماز
کے بعد یہ کہتے: لاالہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد و ھو
علی کل شیٔ قدیر۔ اللھم لا مانع لمااعطیت ولا معطی لمامنعت ولا ینفع ذاالجد
منک الجد اور شعبہ نے بھی عبدالملک سے ایسی ہی روایت کی ہے اور شعبہ ہی نے
اس حدیث کو حکم بن عمیر سے بھی انہوں نے قاسم بن مخیرمہ سے، انہوں نے
ورّاد سے بھی روایت کیا اور امام حسن بصری نے کہا جَدّ کہتے ہیں مالداری
کو۔
156. The Imam should face the followers after finishing the prayer with Taslim
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ
حَازِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ،
قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا صَلَّى صَلاَةً أَقْبَلَ
عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ
Narrated By Samura bin Jundab : The Prophet used to face us on completion of the prayer.
ہم سے موسٰی بن اسمٰعیل نے بیان
کیا کہا ہم سے جریر بن حازم نے کہا ہم سے ابو رجاء عمران بن تمیم نے انہوں
نے سمرہ بن جندبؓ سے انہوں نے کہا نبیﷺ جب (فرض) نماز پڑھا چکتے تو
ہماری طرف منہ کرتے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَالِحِ
بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ
بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُ قَالَ
صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلاَةَ الصُّبْحِ
بِالْحُدَيْبِيَةِ عَلَى إِثْرِ سَمَاءٍ كَانَتْ مِنَ اللَّيْلَةِ،
فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ " هَلْ تَدْرُونَ
مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ ". قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ.
قَالَ " أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ، فَأَمَّا مَنْ
قَالَ مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللَّهِ وَرَحْمَتِهِ فَذَلِكَ مُؤْمِنٌ بِي
وَكَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ، وَأَمَّا مَنْ قَالَ بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا
فَذَلِكَ كَافِرٌ بِي وَمُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ "
Narrated By Zaid bin Khalid Al-Juhani : The Prophet led us in the Fajr
prayer at Hudaibiya after a rainy night. On completion of the prayer, he
faced the people and said, "Do you know what your Lord has said
(revealed)?" The people replied, "Allah and His Apostle know better." He
said, "Allah has said, 'In this morning some of my slaves remained as
true believers and some became non-believers; whoever said that the rain
was due to the Blessings and the Mercy of Allah had belief in Me and he
disbelieves in the stars, and whoever said that it rained because of a
particular star had no belief in Me but believes in that star.'"
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی
نے بیان کیا انہوں نے امام مالک سے انہوں نے صالح بن کیسان سے انہوں نے
عبیداللہ ابن عبداللہ بن عتبہ بن مسعودؓ سے انہوں نے زید بن خلاد جُہنّی سے
انہوں نے کہا نبیﷺ نے حدیبیہ میں ہم کو صبح کی نماز پڑھائی اور رات کو
پانی برس چکا تھا۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف منہ کیا اور
فرمایا تم جانتے ہو تمھارا پروردگار کیا فرماتا ہے؟ انہوں نے عرض کیا اللہ
اور اس کا رسولﷺ خوب جانتا ہے۔ آپؐ نے فرمایا اللہ تعالٰی فرماتا ہے آج
صبح کو کچھ بندے میرے مومن ہوئے ،کچھ کافر، جس نے کہا اللہ کے فضل سے اور
رحمت سے بارش ہوئی تو وہ میرا مؤمن ہے اور ستاروں کا منکر۔ اور جس نے کہا
فلانے ستارے کے فلاں جگہ آنے سے بارش ہوئی تو وہ میرا منکر ہے اور ستاروں
کا مومن۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، سَمِعَ يَزِيدَ، قَالَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ،
عَنْ أَنَسٍ، قَالَ أَخَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
الصَّلاَةَ ذَاتَ لَيْلَةٍ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا،
فَلَمَّا صَلَّى أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ " إِنَّ
النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا وَرَقَدُوا، وَإِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا فِي
صَلاَةٍ مَا انْتَظَرْتُمُ الصَّلاَةَ "
Narrated By Anas bin Malik : Once the Prophet delayed the 'Isha prayer
until midnight and then came to us. Having prayed he faced us and said,
"The people had prayed and slept but you were in the prayer as long as
you were waiting for it."
ہم سے عبداللہ بن منیر نے بیان
کیا، انہوں نے یزید بن ہارون سے انہوں نے کہا مجھ کو حمید طویل نے خبر دی،
انہوں نے انسؓ بن مالک سے، انہوں نے کہا ایک رات نبیﷺ نے (عشاءکی) نماز میں
آدھی رات تک دیر کی۔ پھر حجرے سے برآمد ہوئے۔ جب نماز پڑھا چکے تو ہماری
طرف منہ کیا اور فرمایا دوسرے لوگ تو نماز پڑھ چکے اور سو بھی رہے اور تم
لوگ تو جب تک نماز کا انتظار کرتے رہے گویا نماز ہی میں رہے۔
157. The staying of the Imam at his Musalla (praying place) after Taslim
وَقَالَ لَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ،
قَالَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُصَلِّي فِي مَكَانِهِ الَّذِي صَلَّى فِيهِ
الْفَرِيضَةَ. وَفَعَلَهُ الْقَاسِمُ. وَيُذْكَرُ عَنْ أَبِي
هُرَيْرَةَ رَفَعَهُ لاَ يَتَطَوَّعُ الإِمَامُ فِي مَكَانِهِ. وَلَمْ
يَصِحَّ
Narrated Nafi: Ibn Umar
(R.A.) used to offer prayers(Nawafil) at the place where he had offered
the compulsory prayer.Al-Qasim (bin Muhammad bin Abi Bakr) did the same.
The narration coming from Abu Huraira (R.A.) (from the Prophet SAW) forbidding the imam from offering prayers (optional prayer) at the same place where he has offered the compulsory prayer(is incorrect).
The narration coming from Abu Huraira (R.A.) (from the Prophet SAW) forbidding the imam from offering prayers (optional prayer) at the same place where he has offered the compulsory prayer(is incorrect).
اور ہم سے آدم بن ابی ایاس نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا انہوں نے
ایوب سختیانی سے انہوں نے نافع سے کہ عبداللہ بن عمرؓ جس جگہ فرض پڑھتے
وہیں (نفل) نماز پڑھتے اور قاسم بن محمد بن ابی بکرؓ نے بھی ایسا کیا ہے۔
ابو ہریرہؓ سے مرفوعًا روایت ہے کہ امام اپنے فرض نماز کی جگہ میں نفل نہ
پڑھے اور یہ صحیح نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ،
حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ هِنْدٍ بِنْتِ الْحَارِثِ، عَنْ أُمِّ
سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا سَلَّمَ
يَمْكُثُ فِي مَكَانِهِ يَسِيرًا. قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَنُرَى ـ
وَاللَّهُ أَعْلَمُ ـ لِكَىْ يَنْفُذَ مَنْ يَنْصَرِفُ مِنَ النِّسَاءِ.
Narrated By Um Salama : "The Prophet after finishing the prayer with
Taslim used to stay at his place for a while." Ibn Shihab said, "I think
(and Allah knows better), that he used to wait for the departure of the
women who had prayed."
ہم سے
ابو الولید ہشام بن عبدالملک نے بیان کیا کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے کہا
ہم سے ابن شہاب زہری نے انہوں نے ہند بنت حارث سے انہوں نے ام سلمہؓ سے کہ
نبیﷺ جب سلام پھیرتے تو تھوڑی دیر وہاں ٹھیرے رہتے۔ ابن شہاب نے کہا ہم تو
یہ سمجھتے ہیں، آگے اللہ جانے آپؐ اس لئے ٹھیرے رہتے کہ جو عورتیں نماز
پڑھ چکی ہیں وہ چل دیں۔
وَقَالَ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ
أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، كَتَبَ
إِلَيْهِ قَالَ حَدَّثَتْنِي هِنْدُ بِنْتُ الْحَارِثِ الْفِرَاسِيَّةُ،
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَكَانَتْ مِنْ
صَوَاحِبَاتِهَا قَالَتْ كَانَ يُسَلِّمُ فَيَنْصَرِفُ النِّسَاءُ،
فَيَدْخُلْنَ بُيُوتَهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَنْصَرِفَ رَسُولُ اللَّهِ
صلى الله عليه وسلم. وَقَالَ ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ عَنِ ابْنِ
شِهَابٍ أَخْبَرَتْنِي هِنْدُ الْفِرَاسِيَّةُ. وَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ
عُمَرَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَتْنِي هِنْدُ
الْفِرَاسِيَّةُ. وَقَالَ الزُّبَيْدِيُّ أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ أَنَّ
هِنْدَ بِنْتَ الْحَارِثِ الْقُرَشِيَّةَ أَخْبَرَتْهُ، وَكَانَتْ تَحْتَ
مَعْبَدِ بْنِ الْمِقْدَادِ ـ وَهْوَ حَلِيفُ بَنِي زُهْرَةَ ـ وَكَانَتْ
تَدْخُلُ عَلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. وَقَالَ
شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَتْنِي هِنْدُ الْقُرَشِيَّةُ. وَقَالَ
ابْنُ أَبِي عَتِيقٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ هِنْدٍ الْفِرَاسِيَّةِ.
وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ عَنِ ابْنِ
شِهَابٍ عَنِ امْرَأَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ حَدَّثَتْهُ عَنِ النَّبِيِّ صلى
الله عليه وسلم
Ibn Shihab wrote
that he had heard it from Hind bint Al-Harith Al-Firasiya from Um
Salama, the wife of the Prophet (Hind was from the companions of Um
Salama) who said, "When the Prophet finished the prayer with Taslim, the
women would depart and enter their houses before Allah's Apostle
departed."
اور سعید بن ابی مریم نے کہا ہم
کو نافع بن یزید نے خبر دی کہا مجھ سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا کہ ابن
شہاب نے انہوں یہ لکھ بھیجا کہ مجھ سے ہند بنت حارث فراسیہ نے بیان کیا اس
نے ام المومنین ام سلمہؓ سے جو نبیﷺ کی بی بی تھیں اور ہند ان کی صحبت میں
رہتی تھی، انہوں نے کہا آپؐ سلام پھیرتے تو عورتیں لوٹ کر اپنے گھروں میں آ
جاتیں، ابھی رسول اللہﷺ اپنی نماز کی جگہ سے نہ لوٹتے اور عبداللہ بن وہب
نے کہا انہوں نے یونس بن یزید سے روایت کی، انہوں نے ابن شہاب سے انہوں نے
کہا مجھ کو ہند فراسیہ نے خبر دی اور عثمان بن عمرؓ نے کہا ہم کو یونس نے
خبر دی، انہوں نے زہری سے انہوں نے کہا مجھ سے ہند قرشیہ نے بیان کیا اور
محمد بن ولید زبیدی نے کہا مجھ کو زہری نے خبر دی ان کو ہند بنت حارث قرشیہ
نے اور وہ معبد بن مقداد کی بیوی تھی اور معبد بنی زہرہ کا حلیف تھا اور
وہ نبیﷺ کی بی بیوں کے پاس آیا جایا کرتی تھی اور شعیب نے زہری سے اس حدیث
کو روایت کیا۔ انہوں نے کہا مجھ سے ہند قرشیہ نے بیان کیا اور محمد بن
عبداللہ بن ابی عتیق نے بھی زہری سے، انہوں نے یند فراسیہ سے اور لیث بن
سعید نے کہا مجھ سے یحیٰی بن سعید نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، انہوں
نے قریش کی ایک عورت سے اس نے نبیﷺ سے۔
158. Whoever led the people in Salat and remembered an urgent matter or necessity and had to pass over the people
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ
يُونُسَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي
مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ، قَالَ صَلَّيْتُ وَرَاءَ النَّبِيِّ صلى الله
عليه وسلم بِالْمَدِينَةِ الْعَصْرَ فَسَلَّمَ ثُمَّ قَامَ مُسْرِعًا،
فَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ إِلَى بَعْضِ حُجَرِ نِسَائِهِ، فَفَزِعَ
النَّاسُ مِنْ سُرْعَتِهِ فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ، فَرَأَى أَنَّهُمْ عَجِبُوا
مِنْ سُرْعَتِهِ فَقَالَ " ذَكَرْتُ شَيْئًا مِنْ تِبْرٍ عِنْدَنَا
فَكَرِهْتُ أَنْ يَحْبِسَنِي، فَأَمَرْتُ بِقِسْمَتِهِ "
Narrated By 'Uqba : I offered the 'Asr prayer behind the Prophet at
Medina. When he had finished the prayer with Taslim, he got up hurriedly
and went out by crossing the rows of the people to one of the dwellings
of his wives. The people got scared at his speed. The Prophet came back
and found the people surprised at his haste and said to them, "I
remembered a piece of gold Lying in my house and I did not like it to
divert my attention from Allah's worship, so I have ordered it to be
distributed (in charity)."
ہم سے محمد بن عبید نے بیان کیا
کہا ہم سے عیسٰی بن یونس نے انہوں نے عمر بن سعید سے کہا مجھ کو ابن ابی
ملیکہ نے خبر دی، انہوں نے عقبہ بن حارث سے انہوں نے کہا میں نے مدینہ میں
عصر کی نماز نبیﷺ کے پیچھے پڑھی ۔آپؐ نے سلام پھیرا اور جلدی سے اٹھ کھڑے
ہوئے، لوگوں کی گردنیں پھاندتے اپنی بی بی کے حجرے میں گئے، لوگ گھبرا گئے
۔آپؐ کی جلدی دیکھ کر ۔ پھر آپؐ باہر نکلے دیکھا تو لوگ آپؐ کے جلد جانے
پر متعجب ہیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ ہمارے پاس سونے کا ایک ڈلا رہ گیا تھا۔
مجھے اس میں دل لگا رہنا برا معلوم ہوا۔ میں نے اس کو بانٹ دینے کا حکم دے
دیا۔
159. To leave or depart from the right and from the left after finishing from the Salat
Anas
bin Malik used to leave off from his right and from his left, and he
used to criticize all those who always aimed to leave from their right
side only
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ
سُلَيْمَانَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ الأَسْوَدِ، قَالَ قَالَ
عَبْدُ اللَّهِ لاَ يَجْعَلْ أَحَدُكُمْ لِلشَّيْطَانِ شَيْئًا مِنْ
صَلاَتِهِ، يَرَى أَنَّ حَقًّا عَلَيْهِ أَنْ لاَ يَنْصَرِفَ إِلاَّ عَنْ
يَمِينِهِ، لَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَثِيرًا
يَنْصَرِفُ عَنْ يَسَارِهِ
Narrated By 'Abdullah : You should not give away a part of your prayer
to Satan by thinking that it is necessary to depart (after finishing the
prayer) from one's right side only; I have seen the Prophet often leave
from the left side.
ہم سے ابو الولید نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے انہوں نے سلیمان اعمش سے، انہوں نے عمارہ بن عمیر سے انہوں نے اسود ابن یزید سے، انہوں نے کہا عبداللہ بن مسعودؓ نے کہا تم میں کوئی اپنی نماز میں شیطان کا حصہ نہ لگائے کہ خواہ مخواہ نماز پڑھ کر داہنی ہی طرف سے لوٹے۔ میں نے نبیﷺ کو دیکھا ہے کہ آپؐ بہت ایسا ہوتا کہ بائیں طرف سے لوٹتے۔
160. What has been said about uncooked garlic, onion and leek
And
the statement of the Prophet (s.a.w), "Whoever has eaten garlic or
onion because of hunger or otherwise should not come near our masjid."
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ،
قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ
النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ فِي غَزْوَةِ خَيْبَرَ " مَنْ
أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ ـ يَعْنِي الثُّومَ ـ فَلاَ يَقْرَبَنَّ
مَسْجِدَنَا "
Narrated By Ibn
'Umar : During the holy battle of Khaibar the Prophet said, "Whoever ate
from this plant (i.e. garlic) should not enter our mosque."
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان
کیا کہا ہم سے یحیٰی بن سعید قطان نے، انہوں نے عبیداللہ عمری سے، انہوں نے
کہا مجھ سے نافع نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن عمرؓ سے کہ نبیﷺ نے جنگ
خیبر میں فرمایا جو شخص اس درخت لہسن میں سے کھائے وہ ہماری مسجد کے پاس
نہ پھٹکے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو
عَاصِمٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ،
قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى
الله عليه وسلم " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ ـ يُرِيدُ
الثُّومَ ـ فَلاَ يَغْشَانَا فِي مَسَاجِدِنَا ". قُلْتُ مَا يَعْنِي
بِهِ قَالَ مَا أُرَاهُ يَعْنِي إِلاَّ نِيئَهُ. وَقَالَ مَخْلَدُ بْنُ
يَزِيدَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ إِلاَّ نَتْنَهُ.
Narrated By 'Ata' : I heard Jabir bin 'Abdullah saying, "The Prophet
said, 'Whoever eats (from) this plant (he meant garlic) should keep away
from our mosque." I said, "What does he mean by that?" He replied, "I
think he means only raw garlic."
ہم سے عبیداللہ بن محمد مسندی
نے بیان کیا کہا ہم سے ابو عاصم ضحاک بن مخلد نے کہا ہم کو ابن جریج نے خبر
دی کہا ہم کو عطاء ابن ابی رباح نے کہا میں نے جابر بن عبداللہ انصاریؓ سے
سنا کہا کہ نبیﷺ نے فرمایا جو کوئی اس درخت یعنی لہسن میں سے کھائے وہ
ہماری مسجد میں نہ آئے۔ عطاء نے کہا میں نے جابرؓ سے پوچھا کچی لہسن مراد
ہے یا پکی؟ انہوں نے کہا میں سمجھتا ہہوں کچی لہسن مراد ہے اور مخلد بن
یزید نے ابن جریج سے یوں روایت کیا کہ اس کی بدبو مراد ہے۔ اور احمد بن
صالح نے ابن وہب سے یوں نقل کیا کہ آپؐ کے سامنے ایک بدر لایا گیا ابن وہب
نے کہا یعنی طباق (تھال) اس میں ہری ترکاریاں تھیں۔ اور لیث اور ابو صفوان
عبداللہ بن سعید نے نے یونس سے ہانڈی کا قصہ نہیں بیان کیا۔ امام بخاری نے
(یا سعید یا ابن وہب نے) کہا میں نہیں جانتا یہ زہری کا کلام ہےیا حدیث
میں داخل ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ
يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، زَعَمَ عَطَاءٌ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ
اللَّهِ، زَعَمَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ
أَكَلَ ثُومًا أَوْ بَصَلاً فَلْيَعْتَزِلْنَا ـ أَوْ قَالَ ـ
فَلْيَعْتَزِلْ مَسْجِدَنَا، وَلْيَقْعُدْ فِي بَيْتِهِ ". وَأَنَّ
النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أُتِيَ بِقِدْرٍ فِيهِ خَضِرَاتٌ مِنْ
بُقُولٍ، فَوَجَدَ لَهَا رِيحًا فَسَأَلَ فَأُخْبِرَ بِمَا فِيهَا مِنَ
الْبُقُولِ فَقَالَ " قَرِّبُوهَا " إِلَى بَعْضِ أَصْحَابِهِ كَانَ
مَعَهُ، فَلَمَّا رَآهُ كَرِهَ أَكْلَهَا قَالَ " كُلْ فَإِنِّي أُنَاجِي
مَنْ لاَ تُنَاجِي ". وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ
وَهْبٍ أُتِيَ بِبَدْرٍ. قَالَ ابْنُ وَهْبٍ يَعْنِي طَبَقًا فِيهِ
خُضَرَاتٌ. وَلَمْ يَذْكُرِ اللَّيْثُ وَأَبُو صَفْوَانَ عَنْ يُونُسَ
قِصَّةَ الْقِدْرِ، فَلاَ أَدْرِي هُوَ مِنْ قَوْلِ الزُّهْرِيِّ أَوْ فِي
الْحَدِيثِ
Narrated By Jabir bin
'Abdullah : The Prophet said, "Whoever eats garlic or onion should keep
away from our mosque or should remain in his house." (Jabir bin
'Abdullah, in another narration said, "Once a big pot containing cooked
vegetables was brought. On finding unpleasant smell coming from it, the
Prophet asked, 'What is in it?' He was told all the names of the
vegetables that were in it. The Prophet ordered that it should be
brought near to some of his companions who were with him. When the
Prophet saw it he disliked to eat it and said, 'Eat. (I don't eat) for I
converse with those whom you don't converse with (i.e. the angels)."
ہم سے سعید بن کثیر بن عفیر نے
بیان کیا کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے ، انہوں نے یونس بن یزید سے انہوں نے
ابن شہاب سے، انہوں نے کہا عطاء بن ابی رباح نے کہا کہ جابر بن عبداللہؓ
انصاری کہتے تھےکہ نبیﷺ نے فرمایا کہ جو شخص لہسن یا پیاز کھائے وہ ہماری
مسجد سے الگ رہے، اپنے گھر بیٹھا رہے (وہیں نماز پڑھ لے) اور نبیﷺ کے پاس
ایک ہانڈی لائی گئی۔ اس میں قسم قسم کی ہری ترکاریاں تھیں (پیاز یا گندنا
بھی) آپؐ کو اس کی بو معلوم ہوئی۔ پوچھا تو لوگوں نے کہہ دیا جو ترکاریاں
اس میں تھیں۔ آپؐ نے فرمایا فلاں صحابی کو دے دو جو آپؐ کے ساتھ تھا۔ جب وہ
کھانا اس نے دیکھا تو اس نے بھی نا پسند کیا (کیونکہ آپﷺ نے اس میں سے
نہیں کھایا تھا) آپؐ نے فرمایا تو کھا لے میں ان سے کانا پھوسی کرتا ہوں جن
سے تو نہیں کرتا۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ
عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ أَنَسًا مَا سَمِعْتَ نَبِيَّ
اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الثُّومِ فَقَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى
الله عليه وسلم " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَلاَ
يَقْرَبْنَا، أَوْ لاَ يُصَلِّيَنَّ مَعَنَا "
Narrated By 'Abdul 'Aziz : A man asked Anas, "What did you hear from
the Prophet about garlic?" He said, "The Prophet said, 'Whoever has
eaten this plant should neither come near us nor pray with us."
ہم سے ابو معمر نے بیان کیا کہا
ہم سے عبدالوارث سے بن سعید نے، انہوں نے عبدالعزیز بن صہیب سے انہوں نے
کہا ایک شخص نے انس بن مالکؓ سے پوچھا تم نے نبیﷺ سے لہسن کے باب میں کیا
سنا ہے۔ انہوں نے کہا نبیﷺ نے فرمایا جو کوئی اس درخت یعنی لہسن میں سے
کھائے وہ ہمارے نزدیک نہ آئے اور ہمارے ساتھ نماز نہ پڑھے۔
161. The ablution for boys.When they should perform Ghusl (take a bath) and Tuhur (purification). Their attendance at congregational prayers, Eid prayers and funeral prayers and their rows in the prayers
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنِي غُنْدَرٌ، قَالَ
حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيَّ، قَالَ
سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، قَالَ أَخْبَرَنِي مَنْ، مَرَّ مَعَ النَّبِيِّ صلى
الله عليه وسلم عَلَى قَبْرٍ مَنْبُوذٍ، فَأَمَّهُمْ وَصَفُّوا
عَلَيْهِ. فَقُلْتُ يَا أَبَا عَمْرٍو مَنْ حَدَّثَكَ فَقَالَ ابْنُ
عَبَّاسٍ
Narrated By Sulaiman
Ash-Shaibani : I heard Ash-Sha'bi saying, "A person who was accompanying
the Prophet passed by a grave that was separated from the other graves
told me that the Prophet once led the people in the (funeral) prayer and
the people had aligned behind him. I said, "O Aba 'Amr! Who told you
about it?" He said, "Ibn Abbas."
مجھ سے محمد بن مثنٰی نے بیان
کیا کہا ہم سے غندر محمد بن جعفر نے کہا ہم سے شعبہ نے کہا میں نے سلیمان
شیبانی سے سنا کہا میں نے شعبی سے سنا کہا مجھ کو اس شخص (صحابی) نے خبر د ی
جو نبیﷺ کےساتھ ایک اکیلی الگ تھلگ قبر پر گیا تھا، آپؐ نے امامت کی اور
لوگوں نے صف باندھی میں نے شعبی سے پوچھا تم سے یہ کس نے بیان کیا؟ انہوں
نے کہا ابن عباسؓ نے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ،
قَالَ حَدَّثَنِي صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ،
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم
قَالَ " الْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ "
Narrated By Abu Said Al-Khudri : The Prophet said, "Ghusl (taking a
bath) on Friday is compulsory for every Muslim reaching the age of
puberty."
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے
بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عینیہ نےکہا مجھ سے صفوان بن سلیم نے انہوں
نے عطاء بن یسار سے، انہوں نے ابو سعید خدریؓ سے، انہوں نے نبیﷺ سے آپؐ نے
فرمایا ہر جوان آدمی پر جمعہ کے دن غسل کرنا واجب ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ،
عَنْ عَمْرٍو، قَالَ أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله
عنهما ـ قَالَ بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ لَيْلَةً، فَنَامَ
النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا كَانَ فِي بَعْضِ اللَّيْلِ قَامَ
رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَتَوَضَّأَ مِنْ شَنٍّ مُعَلَّقٍ
وُضُوءًا خَفِيفًا ـ يُخَفِّفُهُ عَمْرٌو وَيُقَلِّلُهُ جِدًّا ـ ثُمَّ
قَامَ يُصَلِّي، فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ نَحْوًا مِمَّا تَوَضَّأَ، ثُمَّ
جِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَحَوَّلَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ،
ثُمَّ صَلَّى مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ،
فَأَتَاهُ الْمُنَادِي يُؤْذِنُهُ بِالصَّلاَةِ فَقَامَ مَعَهُ إِلَى
الصَّلاَةِ، فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ. قُلْنَا لِعَمْرٍو إِنَّ
نَاسًا يَقُولُونَ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم تَنَامُ عَيْنُهُ
وَلاَ يَنَامُ قَلْبُهُ. قَالَ عَمْرٌو سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ
يَقُولُ إِنَّ رُؤْيَا الأَنْبِيَاءِ وَحْىٌ ثُمَّ قَرَأَ {إِنِّي أَرَى
فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ}
Narrated By Ibn 'Abbas : One night I slept at the house of my aunt
Maimuna and the Prophet slept (too). He got up (for prayer) in the last
hours of the night and performed a light ablution from a hanging leather
skin. ('Amr, the sub-narrator described that the ablution was very
light). Then he stood up for prayer and I got up too and performed the
ablution in the same way and joined him on his left side. He pulled me
to the right and prayed as much as Allah will. Then he lay down and
slept and I heard his breath sounds till the Mu'adh-dhin came to him to
inform him about the (Fajr) prayer. He left with him for the prayer and
prayed without repeating the ablution. (Sufyan the sub-narrator said: We
said to 'Amr, "Some people say, 'The eyes of the Prophet sleep but his
heart never sleeps.' " 'Amr said, "'Ubai bin 'Umar said, 'The dreams of
the Prophets are Divine Inspirations. Then he recited, '(O my son), I
have seen in dream that I was slaughtering you (offering you in
sacrifice).") (37.102)
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے
بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عینیہ نے، انہوں نے عمرو بن دینار سے انہوں
نے کہا مجھ سے کریب نے بیان کیا،انہوں نے ابن عباسؓ سے انہوں نے کہا میں
ایک رات اپنی خالہ ام المومنین میمونہؓ کے پاس رہا۔ پہلے نبیﷺ (شروع رات
میں) سو رہے۔ جب رات کا ایک حصہ گزر گیا تو آپؐ کھڑے ہوئے اور ایک پرانی
مشک سے جو لٹک رہی تھی، ہلکا سا وضو کیا۔ عمرو بن دینار کہتے تھے وہ بہت ہی
ہلکا پھلکا وضو تھا پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے میں نے بھی آپؐ ہی کا
سا وضو کیا اور آپؐ کی بائیں طرف آن کر کھڑا ہو گیا۔ آپؐ نے مجھ کو گھما کر
اپنی داہنی طرف کر لیا پھر جتنی اللہ کو منظور تھی اتنی نماز آپؐ نے پڑھی
پھر لیٹ رہے سو گئے یہاں تک کہ خراٹے لینے لگے۔ بعد اس کے موذن نماز کی
خبر دینے کو آیا آپؐ اس کے ساتھ نماز کے لئے کھڑے ہوئے اور نماز پڑھائی وضو
نہیں کیا۔ سفیان نے کہا ہم نے عمرو بن دینار سے کہا لوگ کہتے ہیں کہ نبیﷺ
کی آنکھیں سوتی تھیں،دل نہیں سوتا تھا۔ عمرو نے کہا میں نے عبید بن عمیر سے
سنا وہ کہتے تھےانبیاء کا خواب وہی ہوتاہے پھر عبید نے یہ آیت پڑھی اِنِّی
أرَی فِی المَنَامَ اَنِّی اَذۡبَحُکَ ۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ
عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ
جَدَّتَهُ، مُلَيْكَةَ دَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
لِطَعَامٍ صَنَعَتْهُ، فَأَكَلَ مِنْهُ فَقَالَ " قُومُوا فَلأُصَلِّيَ
بِكُمْ ". فَقُمْتُ إِلَى حَصِيرٍ لَنَا قَدِ اسْوَدَّ مِنْ طُولِ مَا
لُبِسَ، فَنَضَحْتُهُ بِمَاءٍ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
وَالْيَتِيمُ مَعِي، وَالْعَجُوزُ مِنْ وَرَائِنَا، فَصَلَّى بِنَا
رَكْعَتَيْنِ
Narrated By Anas
bin Malik : My grandmother Mulaika invited Allah's Apostle for a meal
which she had prepared specially for him. He ate some of it and said,
"Get up. I shall lead you in the prayer." I brought a mat that had
become black owing to excessive use and I sprinkled water on it. Allah's
Apostle stood on it and prayed two Rakat; and the orphan was with me
(in the first row), and the old lady stood behind us and prayed two
rakat with us.
ہم سے اسماعیل بن اویس نے بیان
کیا کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، انہوں نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی
طلحہ سے، انہوں نے انس بن مالکؓ سے، (ان کی ماں) اسحاق کی دادی ملیکہ نے
رسول اللہﷺ کی ضیافت کی کچھ کھانا آپؐ کے لئے پکا کر۔ آپؐ نے اس میں سے
کھایا پھر فرمایاچلو کھڑے ہو میں تم کو نماز پڑھاؤں۔ میں کھڑا ہو کر اور
ایک بوریا ہمارے پاس تھا جو استعمال کرتے کرتے کالا پڑ گیا تھا اس کو لیکر
پانی سے دھویا۔ (اس پر) رسول اللہﷺ کھڑے ہوئے اور میں میرےساتھ ایک یتیم
لڑکا بھی (ضمیرہ بن سعد) اور بڑھیا (ملیکہ ام سلیم) ہمارے پیچھے۔ پھر آپؐ
نے دو رکعتیں پڑھائیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ
شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ
ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّهُ قَالَ أَقْبَلْتُ رَاكِبًا
عَلَى حِمَارٍ أَتَانٍ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ نَاهَزْتُ الاِحْتِلاَمَ
وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِمِنًى إِلَى
غَيْرِ جِدَارٍ، فَمَرَرْتُ بَيْنَ يَدَىْ بَعْضِ الصَّفِّ، فَنَزَلْتُ
وَأَرْسَلْتُ الأَتَانَ تَرْتَعُ وَدَخَلْتُ فِي الصَّفِّ، فَلَمْ يُنْكِرْ
ذَلِكَ عَلَىَّ أَحَدٌ
Narrated
By Ibn 'Abbas : Once I came riding a she-ass and I, then, had just
attained the age of puberty. Allah's Apostle was leading the people in
prayer at Mina facing no wall. I passed in front of the row and let
loose the she-ass for grazing and joined the row and no one objected to
my deed.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی
نے بیان کیا، انہوں نے امام مالکؒ سے، انہوں نے ابن شہاب زہری سے، انہوں نے
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے، انہوں نے عبداللہ بن عباسؓ سے، انہوں نے
کہا میں ایک مادہ گدھی پر سوار ہو کر آیا۔ ان دنوں میں جوانی کے قریب تھا
(لیکن جوان نہ تھا)۔ اور رسول اللہﷺ منیٰ میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔
آپؐ کے سامنے دیوار (آڑ وغیرہ) نہ تھی۔ تھوڑی صف کے تو میں سامنے سے گزر
گیا۔ پھر گدھی سے اترا۔ اس کو چرنے کے لئے چھوڑ دیا اور صف میں شریک ہو
گیا۔ کسی نے مجھ پر اعتراض نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ
الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ
عَائِشَةَ، قَالَتْ أَعْتَمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم. وَقَالَ
عَيَّاشٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ
الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ
أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْعِشَاءِ حَتَّى
نَادَاهُ عُمَرُ قَدْ نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ. فَخَرَجَ رَسُولُ
اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ
أَهْلِ الأَرْضِ يُصَلِّي هَذِهِ الصَّلاَةَ غَيْرُكُمْ ". وَلَمْ
يَكُنْ أَحَدٌ يَوْمَئِذٍ يُصَلِّي غَيْرَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ
Narrated By 'Aisha : Once Allah's Apostle delayed the 'Isha prayer till
'Umar informed him that the women and children had slept. Then Allah's
Apostle came out and said: "None from amongst the dwellers of earth have
prayed this prayer except you." In those days none but the people of
Medina prayed.
ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا،
کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہوں نے زہری سے، انہوں نے کہا مجھ کو عروہ بن
زبیر نے، انہوں نے کہا حضرت عائشہؓ نے بیان کیا کہ نبیﷺ نے (ایک رات) عشاء
کی نماز میں دیر کی۔ اور عیاش نے یوں کہا ہم سے عبد الاعلٰی نے بیان کیا،
کہا ہم سے معمر نے، انہوں نے زہری سے، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے حضرت
عائشہؓ سے، انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے (ایک رات) عشاء کی نماز میں دیر کی
یہاں تک کہ حضرت عمرؓ نے آپؐ کو آواز دی کہ عورتیں اور بچے سو گئے۔ حضرت
عائشہؓ نے کہا پھر آپؐ برآمد ہوئے اور فرمایا دیکھو ساری زمین میں سوائے
تمھارے (اس وقت) کوئی اس نماز کا پڑھنے والا نہیں۔ اور اس وقت یہی حال
تھاکہ مدینہ کے سوا اور کہیں لوگ نماز نہیں پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَابِسٍ،
سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لَهُ رَجُلٌ شَهِدْتَ
الْخُرُوجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ نَعَمْ،
وَلَوْلاَ مَكَانِي مِنْهُ مَا شَهِدْتُهُ ـ يَعْنِي مِنْ صِغَرِهِ ـ أَتَى
الْعَلَمَ الَّذِي عِنْدَ دَارِ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ، ثُمَّ خَطَبَ
ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ فَوَعَظَهُنَّ وَذَكَّرَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ أَنْ
يَتَصَدَّقْنَ فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُهْوِي بِيَدِهَا إِلَى حَلْقِهَا
تُلْقِي فِي ثَوْبِ بِلاَلٍ، ثُمَّ أَتَى هُوَ وَبِلاَلٌ الْبَيْتَ
Narrated By 'Abdur Rahman bin 'Abis : A person asked Ibn Abbas, "Have
you ever presented yourself at the ('Id) prayer with Allah's Apostle?"
He replied, "Yes." And had it not been for my kinship (position) with
the Prophet it would not have been possible for me to do so (for he was
too young). The Prophet went to the mark near the house of Kathir bin
As-Salt and delivered a sermon. He then went towards the women. He
advised and reminded them and asked them to give alms. So the woman
would bring her hand near her neck and take off her necklace and put it
in the garment of Bilal. Then the Prophet and Bilal came to the house."
ہم سے عمرو بن علی فلاس نے بیان
کیا، کہا ہم سے یحیٰی بن سعید قطان نے، کہا ہم سے سفیان ثوری نے، کہا ہم
سے عبد الرحمٰن عابس نے، کہا میں نے ابن عباسؓ سے سنا ان سے ایک شخص نے کہا
کیا تم نے (عورتوں کا) نکلنا عید کے دن رسول اللہﷺ کے ساتھ دیکھا ہے۔
انہوں نے کہا ہاں دیکھا ہے۔ اگر میں آپؐ کا عزیز رشتہ دار نہ ہوتا تو کبھی
نہ دیکھتا (یعنی میری کمسنی اور قرابت کی وجہ سے آپﷺ مجھ کو اپنے ساتھ
رکھتے تھے)۔ آپؐ پہلے اس نشان کے پاس آئے جو کثیر بن صلت کے گھر پر تھا۔
وہاں خطبہ سنایا پھر عورتوں کے پاس تشریف لائے۔ ان کو وعظ و نصیحت کی۔
خیرات کرنے کا حکم دیا۔ کوئی کوئی عورت تو اپنے ہاتھ کو جھکا کر چھلے یا
انگوٹھیاں بلالؓ کے کپڑے میں ڈالنے لگی۔ پھر آپؐ بلالؓ سمیت گھر (لوٹ کر)
آئے۔
162. Going of women to the masajid at night and in darkness
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ
الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ
عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله
عليه وسلم بِالْعَتَمَةِ حَتَّى نَادَاهُ عُمَرُ نَامَ النِّسَاءُ
وَالصِّبْيَانُ. فَخَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " مَا
يَنْتَظِرُهَا أَحَدٌ غَيْرُكُمْ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ ". وَلاَ
يُصَلَّى يَوْمَئِذٍ إِلاَّ بِالْمَدِينَةِ، وَكَانُوا يُصَلُّونَ
الْعَتَمَةَ فِيمَا بَيْنَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ
الأَوَّلِ
Narrated By 'Aisha :
Once Allah's Apostle delayed the 'Isha prayer till 'Umar informed him
that the women and children had slept. The Prophet came out and said,
"None except you from amongst the dwellers of earth is waiting for this
prayer." In those days, there was no prayer except in Medina and they
used to pray the 'Isha prayer between the disappearance of the twilight
and the first third of the night.
ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا،
کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہوں نے زہری سے، انہوں نے کہا مجھ کو عروہ بن
زبیر نے خبر دی، انہوں نے عائشہؓ سے، انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے (ایک رات)
عشاء کی نماز میں دیر کی یہاں تک کہ حضرت عمرؓ نے آپؐ کو آواز دی کہ
عورتیں اور بچے سو گئے۔ اس وقت آپؐ (حجرے سے) برآمد ہوئے اور فرمایا دیکھو
ساری زمین میں (اس وقت) تمھارے سوا کوئی اس نماز کا انتظار نہیں کر رہا
اور ان دنوں مدینہ کے سوا اور کہیں نمازیں نہیں ہوتی تھی۔ اور لوگ عشاء کی
نماز شفق ڈوبنے کے بعد سے رات کی پہلی تہائی گزرنے تک پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ حَنْظَلَةَ، عَنْ سَالِمِ
بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ
النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا اسْتَأْذَنَكُمْ
نِسَاؤُكُمْ بِاللَّيْلِ إِلَى الْمَسْجِدِ فَأْذَنُوا لَهُنَّ ".
تَابَعَهُ شُعْبَةُ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ
النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
Narrated By Ibn 'Umar : The Prophet said, "If your women ask permission to go to the mosque at night, allow them."
ہم سے عبیداللہ بن موسٰی نے
بیان کیا، انہوں نے حنظلہ ابن ابی سفیان سے، انہوں نے سالم بن عبداللہ بن
عمرؓ سے، انہوں نے اپنے باپ عبداللہ بن عمرؓ سے، انہوں نےنبیﷺ سے، آپؐ نے
فرمایا جب تمھاری عورتیں رات کو مسجد میں جانے کی اجازت مانگیں تو ان کو
اجازت دو۔ عبیداللہ کے ساتھ اس حدیث کو شعبہ نے بھی اعمش سے روایت کیا،
انہوں نے مجاہد سے، انہوں نے ابن عمرؓ سے، انہوں نے نبیﷺ سے۔
163. The waiting of the people for the religious learned Imam to get up (after the prayer to depart)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ
عُمَرَ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَتْنِي
هِنْدُ بِنْتُ الْحَارِثِ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى
الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهَا أَنَّ النِّسَاءَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ
صلى الله عليه وسلم كُنَّ إِذَا سَلَّمْنَ مِنَ الْمَكْتُوبَةِ قُمْنَ،
وَثَبَتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَنْ صَلَّى مِنَ
الرِّجَالِ مَا شَاءَ اللَّهُ، فَإِذَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله
عليه وسلم قَامَ الرِّجَالُ
Narrated By Um Salama : (The wife of the Prophet) In the lifetime of
Allah's Apostle the women used to get up when they finished their
compulsory prayers with Taslim. The Prophet and the men would stay on at
their places as long as Allah will. When the Prophet got up, the men
would then get up.
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے
بیان کیا، انہوں نے کہاہم سے عثمان بن عمر نے، انہوں نے کہا ہم کو یونس بن
یزید نے خبر دی، انہوں نے زہری سے، انہوں نے کہا مجھ سے ہند بنت حارث نے
بیان کیا کہ ام المومنین امّ سلمہؓ نے جو نبیﷺ کی بی بی تھیں ان کو خبر دی
کہ رسول اللہﷺ کے زمانے میں ان کو عورتیں (جماعت میں شریک ہوتیں) جب فرض
نماز پڑھ کر سلام پھیرتیں تو (اسی وقت) کھڑی ہو کر چل دیتیں۔ اور رسول
اللہﷺ اور مرد جو آپؐ کے پیچھے نماز میں ہوتے وہ ٹھرے رہتے جب تک اللہ کو
منظور ہوتا۔ پھر جب نبیﷺ کھڑے ہوتے تو وہ بھی کھڑے ہوتے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَحَدَّثَنَا
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى
بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ،
قَالَتْ إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيُصَلِّي
الصُّبْحَ، فَيَنْصَرِفُ النِّسَاءُ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ، مَا
يُعْرَفْنَ مِنَ الْغَلَسِ
Narrated By 'Aisha : When Allah's Apostle finished the Fajr prayer, the
women would leave covered in their sheets and were not recognized owing
to the darkness.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی
نے بیان کیا، انہوں نے امام مالک سے۔ دوسری سند اور ہم سے عبداللہ بن یوسف
تینسی نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہوں نے یحیٰی بن سعید
انصاری سے، انہوں نے عمرہ بنت عبدالرحمٰن سے، انہوں نے حضرت عائشہؓ سے،
انہوں نے کہا رسول اللہﷺ صبح کی نماز پڑھ لیتے پھر عورتیں چادریں لپیٹے
(اپنے گھروں کو) لوٹتیں۔ اندھیرے سے ان کی پہچان نہ ہو سکتی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينٍ، قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرٌ،
أَخْبَرَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ
عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي لأَقُومُ إِلَى
الصَّلاَةِ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُطَوِّلَ فِيهَا، فَأَسْمَعُ بُكَاءَ
الصَّبِيِّ، فَأَتَجَوَّزُ فِي صَلاَتِي كَرَاهِيَةَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى
أُمِّهِ "
Narrated By 'Abdullah
bin Abi Qatada Al-Ansari : My father said, "Allah's Apostle said,
"Whenever I stand for prayer, I want to prolong it but on hearing the
cries of a child, I would shorten it as I dislike to put its mother in
trouble."
ہم سے محمد بن مسکین نے بیان
کیا، کہا ہم سے بشر بن بکر نے بیان کیا، انہوں نے کہاہم کو امام اوزاعی نے
خبر دی، کہا مجھ سے یحیٰی بن ابی کثیر نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن
ابی قتادہؓ انصاری سے، انہوں نے اپنے باپ ابو قتادہؓ (صحابی) سے، انہوں نے
کہا رسول اللہﷺ نے فرمایا میں نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہوں اور میری نیت یہ
ہوتی ہے کہ لمبی نماز پڑھوں گا۔ پھر میں بچے کا رونا سنتا ہوں تو نماز کو
مختصر کر دیتا ہوں۔ مجھے اس کی ماں کو تکلیف دینا برا معلوم ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ،
عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها
ـ قَالَتْ لَوْ أَدْرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا أَحْدَثَ
النِّسَاءُ لَمَنَعَهُنَّ كَمَا مُنِعَتْ نِسَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ.
قُلْتُ لِعَمْرَةَ أَوَ مُنِعْنَ قَالَتْ نَعَمْ
Narrated By 'Aisha : Had Allah's Apostle known what the women were
doing, he would have forbidden them from going to the mosque as the
women of Bani Israel had been forbidden. Yahya bin Said (a sub-narrator)
asked 'Amra (another sub-narrator), "Were the women of Bani Israel
forbidden?" She replied "Yes."
ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے
بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہوں نے یحیٰی بن سعید سے،
انہوں نے عمرہ بنت عبدالرحمٰن سے، انہوں نے عائشہؓ سے، انہوں نے کہا اگر
نبیﷺ ان عورتوں کے کرتوتوں کو دیکھتے جو انہوں نے بعد کو نکالے تو ضرور ان
کو مسجد میں جانے سے منع کر دیتے جیسے بنی اسرائیل کی عورتیں منع کی گئی
تھیں۔ یحیٰی نے کہا میں نے عمرہ سے پوچھا کیا بنی اسرائیل کی عورتیں منع کی
گئی تھیں؟ انہوں نے کہا ہاں۔
164. The Salat of women behind men
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ
سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ هِنْدٍ بِنْتِ الْحَارِثِ، عَنْ أُمِّ
سَلَمَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه
وسلم إِذَا سَلَّمَ قَامَ النِّسَاءُ حِينَ يَقْضِي تَسْلِيمَهُ،
وَيَمْكُثُ هُوَ فِي مَقَامِهِ يَسِيرًا قَبْلَ أَنْ يَقُومَ. قَالَ
نَرَى ـ وَاللَّهُ أَعْلَمُ ـ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ لِكَىْ يَنْصَرِفَ
النِّسَاءُ قَبْلَ أَنْ يُدْرِكَهُنَّ أَحَدٌ مِنَ الرِّجَالِ
Narrated By Umm Salama : Whenever Allah's Apostle completed the prayer
with Taslim, the women used to get up immediately and Allah's Apostle
would remain at his place for someone before getting up. (The
sub-narrator (Az-Zuhri) said, "We think, and Allah knows better, that he
did so, so that the women might leave before men could get in touch
with them)."
ہم سے یحیی بن قزعہ نے بیان
کیا کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے انہوں نے زہری سے انہوں نے ہند بنت حارث
سے انہوں نے ام الؤمنین ام سلمہؓ سے ، انہوں نے کہا رسول اللہﷺ جب سلام
پھیرتے تو آپؐ کے سلام پھیرتے ہی عورتیں جانے کے لئے کھڑی ہو جاتیں اور
آپؐ تھوڑی دیر ٹھہرے رہتے کھڑے نہ ہوتے ابن شہاب نے کہا ہم یہ سمجھتے ہیں
آگے اللہ جانے یہ آپؐ اس لئے کرتے کہ عورتیں اس سے پہلے نکل جائیں کہ مرد
راہ میں ان کو پالیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ
إِسْحَاقَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ صَلَّى النَّبِيُّ صلى الله
عليه وسلم فِي بَيْتِ أُمِّ سُلَيْمٍ، فَقُمْتُ وَيَتِيمٌ خَلْفَهُ،
وَأُمُّ سُلَيْمٍ خَلْفَنَا
Narrated By Anas : The Prophet prayed in the house of Um Sulaim; and I,
along with an orphan stood behind him while Um Sulaim (stood) behind us.
ہم سے ابو نعیم فضل بن دکین نے
بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ابن عیینہ نے، انہوں نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی
طلحہ سے، انہوں نے انسؓ سے، انہوں نے کہا نبیﷺ نے ام سلیم (میری ماں) کے
گھر میں نماز پڑھی۔میں اور یتیم مل کر آپؐ کے پیچھے کھڑے ہوئے اور ام سلیمؓ
ہمارے پیچھے۔
165. Returning of the women immediately after the Fajr prayer and their staying in the masjid for a short period only
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ،
حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ
أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله
عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي الصُّبْحَ بِغَلَسٍ فَيَنْصَرِفْنَ نِسَاءُ
الْمُؤْمِنِينَ، لاَ يُعْرَفْنَ مِنَ الْغَلَسِ، أَوْ لاَ يَعْرِفُ
بَعْضُهُنَّ بَعْضًا.
Narrated By 'Aisha : Allah's
Apostle used to offer the Fajr prayer when it was still dark and the
believing women used to return (after finishing their prayer) and nobody
could recognize them owing to darkness, or they could not recognize one
another.
ہم سے یحیٰی بن موسٰی نے بیان
کیا، کہا ہم سے سعید بن منصور نے، کہا ہم سے فلیح بن سلیمان نے، انہوں نے
عبدالرحمٰن ابن قاسم سے، انہوں نے اپنے باپ (قاسم بن محمد بن ابی بکرؓ)
سے، انہوں نے عائشہؓ سے کہ رسول اللہﷺ صبح کی نماز اندھیرے میں پڑھا کرتے۔
پھر مسلمانوں کی عورتیں لوٹ کر گھر کو جاتیں۔ اندھیرے سے ان کی پہچان نہ
ہوتی یا وہ ایک دوسری کو پہچان نہ سکتیں۔
166. A woman shall ask her husband's permission (on wishing) to go to the masjid
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ مَعْمَرٍ،
عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ
النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. " إِذَا اسْتَأْذَنَتِ امْرَأَةُ
أَحَدِكُمْ فَلاَ يَمْنَعْهَا ".
Narrated By Salim bin 'Abdullah :
My father said, "The Prophet said, 'If the wife of any one of you asks
permission (to go to the mosque) do not forbid her."
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان
کیا کہا ہم سے یزید بن زریع نے ، انہوں نے معمر سے، انہوں نے زہری سے انہوں
نے سالم بن عبد اللہ بن عمرؓ سے، انہوں نے اپنے باپ سے ، انہوں نے نبیﷺ سے
آپؐ نے فرمایا تم میں سے جب کسی کی بیوی ( مسجد میں جانے یا اور کسی کام
کے لئے ) نکلنے کی اجازت چاہے تو اس کو نہ روکے۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ
إِسْحَاقَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ صَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي
بَيْتِ أُمِّ سُلَيْمٍ، فَقُمْتُ وَيَتِيمٌ خَلْفَهُ، وَأُمُّ سُلَيْمٍ
خَلْفَنَا.
Narrated Anas (ra): The Prophet
(saw) offered Salat (prayers) in the house of Umm Sulaim; and I, along
with an orphan stood behind him while Umm Sulaim (stood) behind us.
ہم سے ابو نعیم فضل بن دکین نے
بیان کیا کہا ہم سے سفیان ابن عیینہ نے انہوں نے اسحٰق بن عبداللہ بن ابی
طلحہ سے انہوں نے انسؓ سے انہوں نے کہا نبیﷺ نے ام سلیم (میری ماں) کے گھر
میں نماز پڑھی ۔ میں اور یتیم مل کر آپؐ کے پیچھے کھڑے ہوئے اور ام سلیم
ہمارے پیچھے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَي بنُ قَزَعَةَ حَدَّثَنَا اِبْرَاهِيمُ بن سعد عَنِ
الزُّهْرِىِّ عَن هند بنتِ الحَارثِ عَن أُم سَلْمَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُو
لُ اللهِ صلى عليه وسلم اِذَا سَلَّمَ قَامَ النّسا ءُ حِينَ يَقضِى
تَسلِيمَةُ ، وَهُوَ يَمْكُثُ فِى مَقَامِهِ يَسِيرًا قَبْلَ أَن يَقُوْمَ .
قَالَ : نَرَى _ وَاللهُ أَعْلَمُ _ أَنْ ذَلِكَ كَانَ لَكِى يَنْصَرِفِ
النِّسَا ءُ قَبلَ أَن يُدْرِكهنَّ الرِّجَالِ."
Narrated Umm Salama (ra): Whenever Allah’s Messenger (saw) completed
the Salat (prayer) with Taslim, the women used to get up immediately and
Allah’s Messenger (saw) would remain at his place for sometime before
getting up. [The subnarrator (Az-Zuhri) said, “We think, and Allah knows
better, that he did so, so that the women might leave before the men
could catch up with them].”
ہم سے یحیی بن قزعہ نے بیان
کیا کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے انہوں نے زہری سے انہوں نے ہند بنت حارث
سے انہوں نے ام الؤمنین ام سلمہؓ سے ، انہوں نے کہا رسول اللہﷺ جب سلام
پھیرتے تو آپؐ کے سلام پھیرتے ہی عورتیں جانے کے لئے کھڑی ہو جاتیں اور
آپؐ تھوڑی دیر ٹھہرے رہتے کھڑے نہ ہوتے ابن شہاب نے کہا ہم یہ سمجھتے ہیں
آگے اللہ جانے یہ آپؐ اس لئے کرتے کہ عورتیں اس سے پہلے نکل جائیں کہ مرد
راہ میں ان کو پالیں۔
No comments:
Post a Comment