Book:2 Belief كتاب الإيمان
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، قَالَ أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ
بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ
رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم "
بُنِيَ الإِسْلاَمُ عَلَى خَمْسٍ شَهَادَةِ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ
وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلاَةِ، وَإِيتَاءِ
الزَّكَاةِ، وَالْحَجِّ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ "
Narrated By Ibn 'Umar : Allah's Apostle said: Islam is based on (the following) five (principles):
1. To testify that none has the right to be worshipped but Allah and Muhammad is Allah's Apostle.
2. To offer the (compulsory congregational) prayers dutifully and perfectly.
3. To pay Zakat. (i.e. obligatory charity)
4. To perform Hajj. (i.e. Pilgrimage to Mecca)
5. To observe fast during the month of Ramadan.
ہم
سے بیان کیا عبیداللہ بن موسیٰ نے انہوں نے کہا ہم کو خبر دی حنظلہ ابن
ابی سفیان نے انہوں نےسنا عکرمہ بن خالد سے انہوں نے ابنِ عمرؓ سے روایت
کی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے،
اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ،محمد ﷺ
اللہ کے رسول ہیں ،نماز قائم کرنا ، زکوٰۃ ادا کرنا ،حج کرنا اور رمضان کے
روزے رکھنا۔
And
the Saying of Allah: "It is not Al-Birr(piety, righteousness and every
act of obediance to Allah) that you turn your faces to east and (or)
west (in prayers); but Al-Birr is (the quality of) the one who believes
in Allah, the Last Day, the Angels, the Book (Holy Scripture), the
Prophets and gives his wealth, inspite of the love for it, to the
kinsfolk and to the orphans and to Al-Masakin (the poor) and to the
wayfarer and to those who ask, and to set slaves free; and perform
As-Salat (Iqamat-as-Salat) and gives the Zakat, and who fulfil their
covenant when they make it, and who are patient (in severe poverty), and
ailment (disease) and at the time of fighting (during the battles).
Such are the people of truth, and they are Al-Muttaqun." (V.2:177)
"Successful indeed are the believers." (V.23:1)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو
عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ
عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ
رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الإِيمَانُ
بِضْعٌ وَسِتُّونَ شُعْبَةً، وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الإِيمَانِ "
Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "Faith (Belief) consists of
more than sixty branches (i.e. parts). And Haya (This term "Haya"
covers a large number of concepts which are to be taken together;
amongst them are self respect, modesty, bashfulness, and scruple, etc.)
is a part of faith."
ہم سے بیان
کیا عبداللہ بن محمد(جعفی) نے انہوں نے کہا ہم سے بیان کیا ابو عامر عقدی
نے انہوں نے کہا ہم سے بیان کیا سلیمان بن بلال نے انہوں نے عبداللہ بن
دینار سے انہوں نے ابو صالح سے انہوں نے ا بو ہریرہؓ سے روایت کی کہ نبی ﷺ
نے فرمایا ایمان کی ساٹھ سے کچھ اوپر شاخیں ہیں اور حیا (شرم) بھی ایمان
کی ایک شاخ ہے۔
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ
عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، وَإِسْمَاعِيلَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ،
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى
الله عليه وسلم قَالَ " الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ
لِسَانِهِ وَيَدِهِ، وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ
". قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَقَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا
دَاوُدُ عَنْ عَامِرٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى
الله عليه وسلم. وَقَالَ عَبْدُ الأَعْلَى عَنْ دَاوُدَ عَنْ عَامِرٍ
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم
Narrated By 'Abdullah bin 'Amr : The Prophet said, "A Muslim is the one
who avoids harming Muslims with his tongue and hands. And a Muhajir
(emigrant) is the one who gives up (abandons) all what Allah has
forbidden."
ہم سے بیان کیا آدم
بن ابی ایاس نےانہوں نے کہا ہم سے بیان کیا شعبہ نے انھوں نے عبداللہ بن
ابی السفر اور اسمٰعیل ابن ابی خالد سے انہوں نے عامر شعبی سے انہوں نے
عبداللہ بن عمرو بن عاص سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا مسلمان وہ ہے جس کی
زبان اور ہاتھ سے (دوسرے)مسلمان محفوظ ہوں، اور مہاجر وہ ہے جو ان کاموں
کو چھوڑ دے جن سے اللہ نے منع کیا ہے۔ امام بخاریؒ فرماتے ہیں کہ ابو
معاویہ کہتے ہیں کہ ہم سے بیان کیا داؤد نے انہوں نے عامر شعبی سےانہوں نے
کہا میں نے عبداللہ بن عمرو سے سنا انہوں نے نبیﷺ سے سنا(پھر یہی حدیث
بیان کی)۔ اور عبدالاعلیٰ نے اس کو داؤد سے روایت کیا انہوں نے عامر سے
انہوں نے عبداللہ سے انہوں نےنبی ﷺسے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقُرَشِيِّ، قَالَ
حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ
بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله
عنه ـ قَالَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ الإِسْلاَمِ أَفْضَلُ قَالَ
" مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ "
Narrated By Abu Musa : Some people asked Allah's Apostle, "Whose Islam
is the best? i.e. (Who is a very good Muslim)?" He replied, "One who
avoids harming the Muslims with his tongue and hands."
ہم سے بیان کیا سعید بن یحیٰ بن سعید قرشی نے انہوں نے کہا ہم سے بیان کیا
میرے والد نے انہوں نے کہا ہم سے بیان کیا ابوبردہ بن عبداللہ بن ابی
بردہ نے انہوں نے ابو بردہ سے انہوں نے ابو موسٰی اشعریؓ سے روایت کرتے
ہیں کہ صحابہؓ نے عرض کی یارسول اللہ ﷺ: کون سا مسلمان افضل ہے ؟ آپﷺ نے
فرمایا جس کے ہاتھ اور زبان سے مسلمان محفوظ رہیں ۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ
يَزِيدَ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ـ رضى
الله عنهما ـ أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَىُّ
الإِسْلاَمِ خَيْرٌ قَالَ " تُطْعِمُ الطَّعَامَ، وَتَقْرَأُ السَّلاَمَ
عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ "
Narrated By 'Abdullah bin 'Amr : A man asked the Prophet , "What sort
of deeds or (what qualities of) Islam are good?" The Prophet replied,
'To feed (the poor) and greet those whom you know and those whom you do
not know'
ہم سے بیان کیا عمرو بن
خالد نے انہوں نے کہا ہم سے بیان کیا لیث نے انہوں نے یزید سے انہوں نے
ابوالخیر سے انہوں نے عبداللہ بن عمروؓ سے روایت کی کہ ایک شخص نےنبی ﷺسے
پوچھا اسلام کی کون سی خصلت بہتر ہے؟ آپﷺ نے فرمایا کھانا کھلانا اور
(ہر مسلمان کو) سلام کرنا خواہ آپ اسے جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ
قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ عََنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه
وسلم. وَعَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ
أَنَسٍ، ععَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لا يُؤْمِنُ
أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ "
Narrated By Anas : The Prophet said, "None of you will have faith till
he wishes for his (Muslim) brother what he likes for himself."
ہم سے بیان کیا مسدد نے انہوں نے کہا ہم سے بیان کیا یحیٰ نے انہوں نے
روایت کی شعبہ سے انہوں نے قتادہ سے انہوں نے انسؓ سے انہوں نے نبی ﷺ سے
،دوسری سند یحیٰ نے روایت کی حسین معلم سے انہوں نے کہا ہم سے بیان کیا
قتادہ نے انہوں نے روایت کی انس رضی اللہ عنہ سےکہ نبی ﷺ نے فرمایا : تم
میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک اپنے بھائی کے لیے وہ
پسند نہ کرے جو اپنے لیے کر رہا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ
رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ "
فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لاَ يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ
أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ "
Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "By Him in Whose Hands
my life is, none of you will have faith till he loves me more than his
father and his children."
ہم
سےبیان کیا ابوالیمان نےانہوں نے کہا ہم کو خبر دی شعیب نے انہوں نے کہا
ہم سے بیان کیا ابو الزناد نے انہوں نے روایت کی اعرج سے انہوں نے
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا قسم ہے اُس (اللہ) کی
جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا
جب تک وہ اپنے ماں باپ اور اولاد سے بڑھ کر مجھ سے محبت نہ کرے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ
عُلَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ
النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ح وَحَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ حَدَّثَنَا
شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله
عليه وسلم " لاَ يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ
مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ "
Narrated By Anas : The Prophet said "None of you will have faith till
he loves me more than his father, his children and all mankind."
ہم سے بیان کیا یعقوب بن ابراہیم نےانہوں نے کہا ہم سے بیان کیا ابنِ
علیّہ نے انہوں نے روایت کی عبد العزیزبن صہیب سے انہوں نے انسؓ سے انہوں
نے نبی ﷺسے، (دوسری سند )اور ہم سے بیان کیا آدم بن ابی ایاس نے انہوں نے
کہا ہم سے بیان کیا شعبہ نے انہوں نے روایت کی قتادہ سے انہوں نے انسؓ سے
کہ نبی ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اُس وقت تک (کامل) مومن نہیں
ہوسکتا جب تک وہ اپنے ماں باپ، اولاد اور تمام لوگوں سے بڑھ کر مجھ سے
محبت نہ کرے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ
الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي
قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ "
ثَلاَثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ حَلاَوَةَ الإِيمَانِ أَنْ يَكُونَ
اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا، وَأَنْ يُحِبَّ
الْمَرْءَ لاَ يُحِبُّهُ إِلاَّ لِلَّهِ، وَأَنْ يَكْرَهَ أَنْ يَعُودَ فِي
الْكُفْرِ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ "
Narrated By Anas : The Prophet said, "Whoever possesses the following
three qualities will have the sweetness (delight) of faith:
1. The one to whom Allah and His Apostle becomes dearer than anything else.
2. Who loves a person and he loves him only for Allah's sake.
3. Who hates to revert to Atheism (disbelief) as he hates to be thrown into the fire."
ہم
سے بیان کیا محمد بن مثنیٰ نےانہوں نے کہا ہم سے بیان کیا عبدالوہاب ثقفی
نے انہوں نے کہا ہم سے بیان کیا ایوب نے انہوں نے روایت کی ابو قلابہ سے
انہوں نے۔ انس رضی اللہ عنہ سے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جس میں تین باتیں ہوں
گی وہ ایمان کا مزہ پا لے گا ایک یہ کہ اللہ اور اُس کے رسول ﷺ اس کے نزدیک
سب سے زیادہ محبوب ہوں،دوسرے یہ کہ فقط اللہ کے لئے کسی سے محبت رکھے
،تیسرے یہ کہ دوبارہ کافر بننا اُس کو اتنا ہی ناگوار ہو جتنا آگ میں ڈالا
جانا ناگوار ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ
أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ، قَالَ
سَمِعْتُ أَنَسًا، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " آيَةُ
الإِيمَانِ حُبُّ الأَنْصَارِ، وَآيَةُ النِّفَاقِ بُغْضُ الأَنْصَارِ "
Narrated By Anas : The Prophet said, "Love for the Ansar is a sign of faith and hatred for the Ansar is a sign of hypocrisy.
ہم
سے بیان کیا ابو الولید نےانہوں نے کہا ہم سے بیان کیا شعبہ نے انہوں نے
کہا مجھ کو خبر دی عبد اللہ بن عبداللہ بن جبر نےانہوں نے کہا میں نے انس
بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی ﷺ نے فرمایا انصار سے محبت رکھنا
ایمان کی نشانی ہے اور انصار سے بغض رکھنا نفاق کی نشانی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ
الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ، عَائِذُ اللَّهِ بْنُ
عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ ـ رضى الله عنه ـ وَكَانَ
شَهِدَ بَدْرًا، وَهُوَ أَحَدُ النُّقَبَاءِ لَيْلَةَ الْعَقَبَةِ ـ أَنَّ
رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ وَحَوْلَهُ عِصَابَةٌ مِنْ
أَصْحَابِهِ " بَايِعُونِي عَلَى أَنْ لاَ تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا،
وَلاَ تَسْرِقُوا، وَلاَ تَزْنُوا، وَلاَ تَقْتُلُوا أَوْلاَدَكُمْ، وَلاَ
تَأْتُوا بِبُهْتَانٍ تَفْتَرُونَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ وَأَرْجُلِكُمْ،
وَلاَ تَعْصُوا فِي مَعْرُوفٍ، فَمَنْ وَفَى مِنْكُمْ فَأَجْرُهُ عَلَى
اللَّهِ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَعُوقِبَ فِي الدُّنْيَا
فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا ثُمَّ
سَتَرَهُ اللَّهُ، فَهُوَ إِلَى اللَّهِ إِنْ شَاءَ عَفَا عَنْهُ، وَإِنْ
شَاءَ عَاقَبَهُ ". فَبَايَعْنَاهُ عَلَى ذَلِكَ
Narrated By 'Ubada bin As-Samit : Who took part in the battle of Badr
and was a Naqib (a person heading a group of six persons), on the night
of Al-'Aqaba pledge: Allah's Apostle said while a group of his
companions were around him, "Swear allegiance to me for:
1. Not to join anything in worship along with Allah.
2. Not to steal.
3. Not to commit illegal sexual intercourse.
4. Not to kill your children.
5. Not to accuse an innocent person (to spread such an accusation among people).
6. Not to be disobedient (when ordered) to do good deed."
The Prophet added: "Whoever among you fulfils his pledge will be
rewarded by Allah. And whoever indulges in any one of them (except the
ascription of partners to Allah) and gets the punishment in this world,
that punishment will be an expiation for that sin. And if one indulges
in any of them, and Allah conceals his sin, it is up to Him to forgive
or punish him (in the Hereafter)." 'Ubada bin As-Samit added: "So we
swore allegiance for these." (points to Allah's Apostle)
ہم سے بیان کیا ابوالیمان نے انہوں نے کہا ہم کو خبر دی شعیب نے انہوں نے
زہری سے کہا کہ ہم کو خبر دی ابو ادریس عائذ اللہ بن عبداللہ نے انہوں نے
بیان کیا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے جو بدر کی لڑائی میں بھی شریک تھے
اور عقبہ کی رات میں ایک نقیب تھے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک
جماعت نبیﷺکے سامنے بیٹھی تھی، آپ ﷺ نےفرمایاتم مجھ سے اس بات پر بیعت
کرو کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ گے ،چوری نہ کرو گے ، زنا نہ
کرو گے ، اپنی اولاد کو نہ مارو گے اور نا حق کسی پہ کوئی بہتان نہیں
باندھو گئے، اور نیک کاموں میں نافرمانی نہ کرو گے پھر جو کوئی تم میں یہ
اقرار پورا کرے اُس کا اجر اللہ پر ہے اور جو کوئی ان (گناہوں) میں سے کسی
کا ارتکاب کر بیٹھے اور (اسلامی قانون کے مطابق )اسکو سزا مل جاے تو وہ اس
کے لیے کفارہ بن جاے گی، اور اگر اللہ تعالی اس پہ پردہ ڈال دے تو وہ
اللہ کے حوالے ہے اگر چاہے (آخرت میں بھی) اُس کو معاف کر دے اور اگر چاہے
عذاب دے پھر ہم نے ان باتوں پر آپﷺ سے بیعت کر لی ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ
الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي
صَعْصَعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ قَالَ
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ
خَيْرَ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ
وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ، يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنَ الْفِتَنِ "
Narrated By Abu Said Al-Khudri : Allah's Apostle said, "A time will
come that the best property of a Muslim will be sheep which he will take
on the top of mountains and the places of rainfall (valleys) so as to
flee with his religion from afflictions."
ہم
سے بیان کیا عبداللہ بن مسلمہ(قعنبی) نے اُنہوں نے امام مالکؓ سے انہوں نے
عبدالرحمن بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی صعصعہ سے اُنہوں نے اپنے باپ
(عبداللہ ) سے انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول
اللہﷺ نے فرمایا وہ زمانہ قریب ہے جب مسلمان کا بہترین مال وہ بکریاں ہوں
گی جنہیں لئے وہ پہاڑ کی چوٹیوں اور بارش کی وادیوں میں اپنا دین بچانے کے
لیے چلا جائے گا۔
And
knowledge is the act of the heart as it is referred to by the Statement
of Allah, "But He will call you to account for that which your hearts
have earned." (V.2:225)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ الْبِيكَنْدِيُّ ، قَالَ أَخْبَرَنَا
عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ
رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَمَرَهُمْ أَمَرَهُمْ مِنَ
الأَعْمَالِ بِمَا يُطِيقُونَ قَالُوا إِنَّا لَسْنَا كَهَيْئَتِكَ يَا
رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ غَفَرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ
ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ. فَيَغْضَبُ حَتَّى يُعْرَفَ الْغَضَبُ فِي
وَجْهِهِ ثُمَّ يَقُولُ " إِنَّ أَتْقَاكُمْ وَأَعْلَمَكُمْ بِاللَّهِ
أَنَا "
Narrated By 'Aisha :
Whenever Allah's Apostle ordered the Muslims to do something, he used to
order them deeds which were easy for them to do, (according to their
strength endurance). They said, "O Allah's Apostle! We are not like you.
Allah has forgiven your past and future sins." So Allah's Apostle
became angry and it was apparent on his face. He said, "I am the most
Allah fearing, and know Allah better than all of you do."
ہم
سے بیان کیا محمد بن سلام بیکندی نےانہوں نے کہا خبر دی ہم کو عبدہ نے
اُنہوں نے ہشام سے اُنہوں نے اپنے باپ (عروہ) سے اُنہوں نے حضرت عائشہ رضی
اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ صحابہ رضی اللہ عنہم کو ایسے کام کا
حکم دیتے تھے جس کا کرنا ان کے لیے آسان ہوتا، صحابہ نے عرض کی یا رسول
اللہ ﷺ ہم آپ کی طرح نہیں (آپ معصوم عن الخطأ ہیں) آپ کے تو اللہ نے اگلے
پچھلے سب گناہ معاف کر دیئے ہیں (لہذا آپ اس سے زیادہ کا ہمیں حکم
دیجیئے)یہ سُن کر آپﷺ اتنا غصہ ہوئے کہ چہرے(مبارک)سے غصہ ظاہر ہونے لگا،
پھر آپﷺ نے فرمایا (کیا تم کو معلوم نہیں ) تم سب میں زیادہ پرہیز گار
اور اللہ کو زیادہ جاننے والا میں ہوں۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ
قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه
وسلم قَالَ " ثَلاَثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ حَلاَوَةَ الإِيمَانِ مَنْ
كَانَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا، وَمَنْ
أَحَبَّ عَبْدًا لاَ يُحِبُّهُ إِلاَّ لِلَّهِ، وَمَنْ يَكْرَهُ أَنْ
يَعُودَ فِي الْكُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنْقَذَهُ اللَّهُ، كَمَا يَكْرَهُ
أَنْ يُلْقَى فِي النَّارِ "
Narrated By Anas : The Prophet said, "Whoever possesses the following three qualities will taste the sweetness of faith:
1. The one to whom Allah and His Apostle become dearer than anything else.
2. Who loves a person and he loves him only for Allah's sake.
3. Who hates to revert to disbelief (Atheism) after Allah has brought
(saved) him out from it, as he hates to be thrown in fire."
ہم
سے بیان کیا سلیمان بن حرب نے انہوں نے کہا ہم سے بیان کیا شعبہ نے انہوں
قتادہ سے انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ آپ ﷺ نے فرمایا
جس میں تین باتیں ہوں گی وہ ایمان کا مزہ پالے گا ایک تو اللہ اور اُس کے
رسول کی محبت اُس کو سب سے زیادہ ہو دوسرے کسی بندے سے خالص اللہ کے لئے
دوستی ہو ،تیسرے جسے اللہ تعالی نے کفر سے بچا لیا ہے وہ دوبارہ کفر کی
طرف جانا اتنا ہی ناپسند سمجھے جتنا آگ میں ڈالا جانا۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ
يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ،
رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَدْخُلُ
أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ، ثُمَّ يَقُولُ
اللَّهُ تَعَالَى أَخْرِجُوا مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ
مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ. فَيُخْرَجُونَ مِنْهَا قَدِ اسْوَدُّوا
فَيُلْقَوْنَ فِي نَهَرِ الْحَيَا ـ أَوِ الْحَيَاةِ، شَكَّ مَالِكٌ ـ
فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي جَانِبِ السَّيْلِ، أَلَمْ
تَرَ أَنَّهَا تَخْرُجُ صَفْرَاءَ مُلْتَوِيَةً ". قَالَ وُهَيْبٌ
حَدَّثَنَا عَمْرٌو " الْحَيَاةِ ". وَقَالَ " خَرْدَلٍ مِنْ
خَيْرٍ "
Narrated By Abu Said
Al-Khudri : The Prophet said, "When the people of Paradise will enter
Paradise and the people of Hell will go to Hell, Allah will order those
who have had faith equal to the weight of a grain of mustard seed to be
taken out from Hell. So they will be taken out but (by then) they will
be blackened (charred). Then they will be put in the river of Haya'
(rain) or Hayat (life) (the Narrator is in doubt as to which is the
right term), and they will revive like a grain that grows near the bank
of a flood channel. Don't you see that it comes out yellow and twisted."
ہم سے بیان کیا اسمعیل(بن ابی اویس) نے انہوں نے کہا مجھ سے بیان کیا
امام مالکؒ نے انہوں نے عمرو بن یحییٰ مازنی سے انہوں نے اپنے باپ (یحییٰ
مازنی) سے انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ آپ ﷺ نے
فرمایا (حساب کتاب کے بعد) جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں داخل ہو جائیں
گے پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا جس شخص کے دل میں رائی کے دانے کے برابر
ایمان ہو اس کو دوزخ سے نکال لو پھر ایسے لوگ دوزخ سے نکالے جائیں گے وہ(جل
کر) کوئلہ بن چکے ہوں گے پھر برساتی یا زندگی کی نہر میں ڈالے جائیں گے
امام مالکؒ کو شک ہے۔ وہ اس طرح (نئے سرے سے ) اُگیں گے جیسے دانہ ندی کے
کنارے اُگتا ہے، کیا تو نہیں دیکھتا کیسے دانہ زردی مائل اگتا ہے وہیب نے
کہا مجھ سے عمرو بن یحییٰ نے یہ حدیث بیان کی اس میں (حیا)کے بجائے (حیاۃ ،
زندگی)او (خردل من ایمان) کے بجاے (خردل من خیر ) بیان کیاہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا
إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي
أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ،
يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " بَيْنَا أَنَا
نَائِمٌ رَأَيْتُ النَّاسَ يُعْرَضُونَ عَلَىَّ، وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ
مِنْهَا مَا يَبْلُغُ الثُّدِيَّ، وَمِنْهَا مَا دُونَ ذَلِكَ، وَعُرِضَ
عَلَىَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ يَجُرُّهُ ".
قَالُوا فَمَا أَوَّلْتَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " الدِّينَ "
Narrated By Abu Said Al-Khudri : Allah's Apostle said, "While I was
sleeping I saw (in a dream) some people wearing shirts of which some
were reaching up to the breasts only while others were even shorter than
that. Umar bin Al-Khattab was shown wearing a shirt that he was
dragging." The people asked, "How did you interpret it? (What is its
interpretation) O Allah's Apostle?" He (the Prophet) replied, "It is the
Religion."
ہم سے بیان کیا محمد
بن عبیداللہ نے انہوں نے کہا ہم سے بیان کیا ابراہیم بن سعد نے اُنہوں
نےصالح سے انہوں نے ابنِ شہاب سے انہوں نے ابوامامہ بن سہل بن حنیف سے
انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ میں سو رہا تھا ( خواب میں) کچھ لوگوں کو دیکھا
جو میرے سامنے پیش کیے جا رہے ہیں، اور وہ کُرتے پہنے ہوئے ہیں کسی کا کرتہ
سینے تک اور کسی کا اس سے بھی کم، اور عمر بن خطاب میرے سامنے لائے گئے وہ
ایسا کرتا پہنے ہوئے تھے جس کو گھسیٹ رہے تھے صحابہ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ
اس کی کیا تعبیر ہے آپﷺ نے فر مایا دین۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ
أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ
أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَرَّ عَلَى رَجُلٍ
مِنَ الأَنْصَارِ وَهُوَ يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ، فَقَالَ رَسُولُ
اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " دَعْهُ فَإِنَّ الْحَيَاءَ مِنَ الإِيمَانِ
"
Narrated By 'Abdullah (bin
'Umar) : Once Allah's Apostle passed by an Ansari (man) who was
admonishing to his brother regarding Haya'. On that Allah's Apostle
said, "Leave him as Haya' is a part of faith." (See Hadith No. 8)
ہم سے بیان کیا عبداللہ بن یوسف نے انہوں نے کہا ہم کو خبر دی (امام) مالک
بن انسؓ نے انہوں نے ابن شہاب سے انہوں نے سالم بن عبداللہ سے انہوں نے
اپنے باپ (عبد اللہ بن عمر سے روایت کی ) کہ رسول اللہ ﷺ ایک انصاری مرد کے
پاس سےگزرے اور وہ اپنے بھائی کو سمجھا رہا تھا اتنی شرم کیوں کرتا ہےرسول
اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا اسکو اسکے حال پہ رہنے دو کیوں کہ شرم تو ایمان
کا حصہ ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُسْنَدِيُّ، قَالَ
حَدَّثَنَا أَبُو رَوْحٍ الْحَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا
شُعْبَةُ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ،
عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ "
أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لاَ إِلَهَ
إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَيُقِيمُوا
الصَّلاَةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ عَصَمُوا
مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلاَّ بِحَقِّ الإِسْلاَمِ،
وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ "
Narrated By Ibn 'Umar : Allah's Apostle said: "I have been ordered (by
Allah) to fight against the people until they testify that none has the
right to be worshipped but Allah and that Muhammad is Allah's Apostle,
and offer the prayers perfectly and give the obligatory charity, so if
they perform a that, then they save their lives an property from me
except for Islamic laws and then their reckoning (accounts) will be done
by Allah."
ہم سے بیان کیا
عبداللہ بن محمد نےانہوں نے کہا ہم سے بیان کیا ابو روح بن عمارہ نے انہوں
نے کہا ہم سے بیان کیا شعبہ نے انہوں نے واقد بن محمد سے انہوں نے اپنے باپ
سے اور انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روا یت کی کہ رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے (اللہ کی طرف سے یہ) حکم ہوا ہے کہ لوگوں سے اس وقت
تک لڑوں جب تک وہ یہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ
اس کے رسول ہیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں جب وہ یہ کرنے لگیں تو
اپنی جانوں اور مالوں کو مجھ سے محفوظ کر لیں گئے، مگر اسلام کے حق سے اور
ان (کے دل کی باتوں) کا حساب اللہ پر رہے گا۔
Referring
to the Statement of Allah: "And this is the Paradise which you have
been made to inherit because of your deeds which you used to do (in the
life of the world)", (V.43:72) a number of religious learned men
explained the Verse. "So by your Lord, We shall certainly call all of
them to account for all that they used to do" (V.15:92,93). And the
Statement: "No has the right to be worshipped but Allah".
And Allah said, "For the like of this let the workers work" (V.37:61)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالاَ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ،
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ
اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ أَىُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ فَقَالَ "
إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ". قِيلَ ثُمَّ مَاذَا قَالَ "
الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ". قِيلَ ثُمَّ مَاذَا قَالَ " حَجٌّ
مَبْرُورٌ "
Narrated By Abu
Huraira : Allah's Apostle was asked, "What is the best deed?" He
replied, "To believe in Allah and His Apostle (Muhammad). The questioner
then asked, "What is the next (in goodness)? He replied, "To
participate in Jihad (religious fighting) in Allah's Cause." The
questioner again asked, "What is the next (in goodness)?" He replied,
"To perform Hajj (Pilgrim age to Mecca) 'Mubrur, (which is accepted by
Allah and is performed with the intention of seeking Allah's pleasure
only and not to show off and without committing a sin and in accordance
with the traditions of the Prophet)."
ہم
سے بیان کیا احمد بن یونس اور موسیٰ بن اسمعیٰل نےانہوں نے کہا ہم سے بیان
کیا ابراہیم بن سعد نےانہوں نے کہا ہم سے بیان کیا ابن شہاب نے انہوں نے
سعید بن مسیب سے انہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ (لوگوں
نے)رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کونساعمل افضل ہے آپﷺ نے فرمایا اللہ اور اس کے
رسول پر ایمان لانا پوچھا گیا پھر کونسا (عمل) فرمایا اللہ کی راہ میں جہاد
کرنا ، پوچھا گیا پھر کونسا (عمل) آپﷺ نے فرمایا حج مبرور(مقبول)۔
According
to the Statement of Allah: "The bedouins say, 'We believe.' Say (O
Muhammad (s.a.w)), 'You believe not but you can only say we have
surrendered (in Islam)'" (V.49:14)
And if they had embraced Islam truly their Islam would have been as is
referred to in the Statement of Allah: "Truly, the religion with Allah
is Islam." (V.3:19). "And whoever seeks a religion other than Islam, it
will never be accepted of him, and in the Hereafter he will be one of
the losers." (V.3:85)
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ
الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ،
عَنْ سَعْدٍ، رضى الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
أَعْطَى رَهْطًا وَسَعْدٌ جَالِسٌ، فَتَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه
وسلم رَجُلاً هُوَ أَعْجَبُهُمْ إِلَىَّ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا
لَكَ عَنْ فُلاَنٍ فَوَاللَّهِ إِنِّي لأَرَاهُ مُؤْمِنًا. فَقَالَ "
أَوْ مُسْلِمًا ". فَسَكَتُّ قَلِيلاً، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ
مِنْهُ فَعُدْتُ لِمَقَالَتِي فَقُلْتُ مَا لَكَ عَنْ فُلاَنٍ فَوَاللَّهِ
إِنِّي لأَرَاهُ مُؤْمِنًا فَقَالَ " أَوْ مُسْلِمًا ". ثُمَّ
غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ مِنْهُ فَعُدْتُ لِمَقَالَتِي وَعَادَ رَسُولُ
اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ " يَا سَعْدُ، إِنِّي لأُعْطِي
الرَّجُلَ وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْهُ، خَشْيَةَ أَنْ يَكُبَّهُ
اللَّهُ فِي النَّارِ ". وَرَوَاهُ يُونُسُ وَصَالِحٌ وَمَعْمَرٌ
وَابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ عَنِ الزُّهْرِيِّ
Narrated By Sa'd : Allah's Apostle distributed (Zakat) amongst (a group
of) people while I was sitting there but Allah's Apostle left a man
whom I thought the best of the lot. I asked, "O Allah's Apostle! Why
have you left that person? By Allah I regard him as a faithful
believer." The Prophet commented: "Or merely a Muslim." I remained quiet
for a while, but could not help repeating my question because of what I
knew about him. And then asked Allah's Apostle, "Why have you left so
and so? By Allah! He is a faithful believer." The Prophet again said,
"Or merely a Muslim." And I could not help repeating my question because
of what I knew about him. Then the Prophet said, "O Sa'd! I give to a
person while another is dearer to me, for fear that he might be thrown
on his face in the Fire by Allah."
ہم
سے بیان کیا ابو الیمان(حکم بن نافع) نےانہوں نے کہا ہم کو خبر دی شعیب نے
انہوں نے زہری سے انہوں نے کہا مجھ کو خبر دی عامر بن سعد بن ابی وقاصؓ نے
انہوں نے اپنے باپ سعد بن ابی وقاصؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے چند
لوگوں کو کچھ مال دیا اور میں وہاں بیٹھا ہوا تھا، آپﷺ نے ایک شخص (جعیل
بن سراقہ) کو کچھ نہ دیا حالاںکہ وہ ان سب سے اچھے تھے، میں نے کہا
یارسول اللہ آپ نے فلاں شخص کو چھوڑ دیا قسم خدا کی میں تو اس کو مومن
سمجھتا ہوں آپﷺ نے فرمایا مؤمن یامسلم ؟تھوڑی دیر خاموش رہنےکے بعد میں
نے دوبارہ عرض کیا آپ نے فلاں شخص کو کیوں چھوڑ دیا قسم خدا کی میں تو اس
کو مومن جانتا ہوں آپ ﷺ نے وہی جواب دہرایا، پھر تھوڑی دیر خاموش رہنےکے
بعد میں نے تیسری بار وہی عرض کیا اوررسول اللہ ﷺ نے وہی جواب دیا اور
فرمایا اے سعد! میں باوجود کسی کو اچھا سمجھنے کے اسکو مال نہیں دیتا اس
لیے کہ کہیں اللہ اس کو اوندھا منہ دوزخ میں نہ دھکیل دے ۔ اس حدیث کو یونس
، صالح ،معمر اور زہری کے بھتیجے نے (شعیب کی طرح) زہری سے روایت کیا۔
And Ammar said, "Whoever acquires the following three qualities will acquire faith:
1. To treat others as one likes to be treated by others.
2. To greet everybody (known and unknown).
3. To spend in Allah's Cause, in spite of poverty."
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ
أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو،
أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَىُّ
الإِسْلاَمِ خَيْرٌ قَالَ " تُطْعِمُ الطَّعَامَ، وَتَقْرَأُ السَّلاَمَ
عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ "
Narrated By 'Abdullah bin 'Amr : A person asked Allah's Apostle. "What
(sort of) deeds in or (what qualities of) Islam are good?" He replied,
"To feed (the poor) and greet those whom you know and those whom you
don't know."
ہم سے بیان کیا
قتیبہ نےانہوں نے کہا ہم سے بیان کیا لیث نے انہوں نے سنا یزید بن ابی
حبیب سے انہوں نے ابو الخیر سے انہوں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص سےروایت کی
کہ ایک شخص نےرسول اللہ ﷺ سے پوچھا اسلام کی کونسی خصلت بہتر ہے آپﷺ نے
فرمایا کھانا کھلانا اور ہر ایک کو سلام کرنا خواہ آپ اسے جانتے ہوں یا نہ
جانتے ہوں۔
This is narrated by Abu Sa'id Al-Khudri on the authority of the Prophet.
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ
بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ
قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أُرِيتُ النَّارَ فَإِذَا
أَكْثَرُ أَهْلِهَا النِّسَاءُ يَكْفُرْنَ ". قِيلَ أَيَكْفُرْنَ
بِاللَّهِ قَالَ " يَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ، وَيَكْفُرْنَ الإِحْسَانَ،
لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَى إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ ثُمَّ رَأَتْ مِنْكَ شَيْئًا
قَالَتْ مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ "
Narrated By Ibn 'Abbas : The Prophet said: "I was shown the Hell-fire
and that the majority of its dwellers were women who were ungrateful."
It was asked, "Do they disbelieve in Allah?" (or are they ungrateful to
Allah?) He replied, "They are ungrateful to their husbands and are
ungrateful for the favours and the good (charitable deeds) done to them.
If you have always been good (benevolent) to one of them and then she
sees something in you (not of her liking), she will say, 'I have never
received any good from you."
ہم
سے بیان کیا عبداللہ بن مسلمہ نے انہوں نے امام مالک سے انہوں نے زید بن
اسلم سے انہوں نے عطاء بن یسار سے انہوں نے ابنِ عباس رضی اللہ عنہما
سےروایت کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا (ایک لمبی حدیث میں) اور میں نے دوزخ کو
دیکھا کیا دیکھتا ہوں کہ عورتیں بہت ہیں وہ کفر کرتی ہیں لوگوں نے کہا کیا
اللہ کے ساتھ کفر کرتی ہیں آپﷺ نے فرمایا (نہیں) خاوند کا کفر ( ناشکری)
کرتی ہیں اور احسان نہیں مانتیں اگر تو ایک عورت سے ساری عمر احسان کرے
پھر وہ (ایک ذرا سی) کوئی بات تجھ سے دیکھے (جس کو پسند نہ کرتی ہو) تو
کہنے لگتی ہے میں نے تجھ میں کبھی کوئی خیر نہیں دیکھی۔
According to the statement of
the Prophet (s.a.w), "You still have some characteristics of ignorance."
And the Statement of Allah: "Verily, Allah forgives not that partners
should be set up with Him but He forgives except that to whom He wills."
(V.4:48)
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ
وَاصِلٍ الأَحْدَبِ، عَنِ الْمَعْرُورِ، قَالَ لَقِيتُ أَبَا ذَرٍّ
بِالرَّبَذَةِ، وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ، وَعَلَى غُلاَمِهِ حُلَّةٌ،
فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ إِنِّي سَابَبْتُ رَجُلاً،
فَعَيَّرْتُهُ بِأُمِّهِ، فَقَالَ لِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم "
يَا أَبَا ذَرٍّ أَعَيَّرْتَهُ بِأُمِّهِ إِنَّكَ امْرُؤٌ فِيكَ
جَاهِلِيَّةٌ، إِخْوَانُكُمْ خَوَلُكُمْ، جَعَلَهُمُ اللَّهُ تَحْتَ
أَيْدِيكُمْ، فَمَنْ كَانَ أَخُوهُ تَحْتَ يَدِهِ فَلْيُطْعِمْهُ مِمَّا
يَأْكُلُ، وَلْيُلْبِسْهُ مِمَّا يَلْبَسُ، وَلاَ تُكَلِّفُوهُمْ مَا
يَغْلِبُهُمْ، فَإِنْ كَلَّفْتُمُوهُمْ فَأَعِينُوهُمْ "
Narrated By Al-Ma'rur : At Ar-Rabadha I met Abu Dhar who was wearing a
cloak, and his slave, too, was wearing a similar one. I asked about the
reason for it. He replied, "I abused a person by calling his mother with
bad names." The Prophet said to me, 'O Abu Dhar! Did you abuse him by
calling his mother with bad names You still have some characteristics of
ignorance. Your slaves are your brothers and Allah has put them under
your command. So whoever has a brother under his command should feed him
of what he eats and dress him of what he wears. Do not ask them
(slaves) to do things beyond their capacity (power) and if you do so,
then help them.'"
ہم سے بیان کیا
سلیمان بن حرب نےانہوں نے کہا ہم سے بیان کیا شعبہ نے اُنہوں نے واصل
احدب سے اُنہوں نے معرور سے، وہ کہتے ہیں کہ میں ابو ذر رضی اللہ عنہ سے
ربذہ میں ملا اور کیا دیکھتا ہوں کہ جیسے کپڑے انہوں نے پہن رکھے ہیں ویسے
ہی اپنے غلام کو بھی پہنائے ہوے ہیں،میں نے اس کا سبب پوچھا تو اُنہوں نے
بتایا کہ میں نے ایک مرتبہ اپنے ایک غلام کو ماں کا طعنہ دیا تو نبی ﷺ
نےمجھ سے فرمایا تو نے اس کو ماں کا طعنہ دیا ہے؟ تیرے اندر ابھی تک
جاہلیت کے اثرات باقی ہیں،یہ غلام تمھارے بھائی ہیں ، اللہ نے ان کو تمھارے
ماتحت (کسی مصلحت کی خاطر )کیا ہے، لہذا اپنے ان بھائیوں کو وہی کھلاو جو
خود کھاو اور وہ پہناو جو خود پہنو، اور طاقت سے زیادہ ان پہ بوجھ نہ
ڈالو، وگرنہ ان کا ہاتھ بٹاو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ
بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، وَيُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ
الأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ ذَهَبْتُ لأَنْصُرَ هَذَا الرَّجُلَ،
فَلَقِيَنِي أَبُو بَكْرَةَ فَقَالَ أَيْنَ تُرِيدُ قُلْتُ أَنْصُرُ هَذَا
الرَّجُلَ. قَالَ ارْجِعْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله
عليه وسلم يَقُولُ " إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا
فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ ". فَقُلْتُ يَا رَسُولَ
اللَّهِ هَذَا الْقَاتِلُ فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ قَالَ " إِنَّهُ
كَانَ حَرِيصًا عَلَى قَتْلِ صَاحِبِهِ "
Narrated By Al-Ahnaf bin Qais : While I was going to help this man
('Ali Ibn Abi Talib), Abu Bakra met me and asked, "Where are you going?"
I replied, "I am going to help that person." He said, "Go back for I
have heard Allah's Apostle saying, 'When two Muslims fight (meet) each
other with their swords, both the murderer as well as the murdered will
go to the Hell-fire.' I said, 'O Allah's Apostle! It is all right for
the murderer but what about the murdered one?' Allah's Apostle replied,
"He surely had the intention to kill his companion."
ہم
سے بیان کیا عبد الرحمٰن بن مبارک نےانہوں نے کہا ہم سے بیان کیا حماد بن
زید نے انہوں نے کہا ہم سے بیان کیا ایوب اور یونس نے انہوں نے حسن سے
اُنہوں نے احنف بن قیس سےانہوں نے کہا کہ میں ایک شخص کی مدد کے لیے
جارہا تھا کہ (راستہ میں ) مجھ کو ابو بکرہؓ ملے پُوچھا کہاں جارہے ہو؟
میں نے کہا اس شخص کی مدد کرنے کے لیے، ابو بکرہؓ نے کہا واپس چلے جاو،
میں نےرسول اللہﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ جو دو مسلمان ایک دوسرے کے خلاف
اپنی اپنی تلواریں نکالتے ہیں تو وہ دونوں دوزخی ہیں ۔ میں نے عرض کیا یا
رسول اللہ ﷺ قاتل تو خیر(دوزخی ہے ہی) مقتول کیوں دوزخ میں جائے گا فرمایا
وہ بھی اپنے ساتھی کو مارنا چاہتا تھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح. قَالَ
وَحَدَّثَنِي بِشْرٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ
سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ،
قَالَ لَمَّا نَزَلَتِ {الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا
إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ} قَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه
وسلم أَيُّنَا لَمْ يَظْلِمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ {إِنَّ الشِّرْكَ
لَظُلْمٌ عَظِيمٌ}
Narrated By
'Abdullah : When the following Verse was revealed: "It is those who
believe and confuse not their belief with wrong (worshipping others
besides Allah.)" (6:83), the companions of Allah's Apostle asked, "Who
is amongst us who had not done injustice (wrong)?" Allah revealed: "No
doubt, joining others in worship with Allah is a great injustice (wrong)
indeed." (31.13)
ہم سے بیان کیا
ابو الولید نےانہوں نے کہا ہم سے بیان کیا شعبہ نے، (دوسری سند )امام
بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھ سےبیان کیا بشر نےانہوں نے کہا ہم سے بیان
کیا محمد نے انہوں نے شعبہ سے اُنہوں نے سلیمان سے اُنہوں نے ابراہیم سے
انہوں نے علقمہ سے ، اُنہوں نے عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت کی کہ جب
(سورت انعام) کی یہ آیت اتری جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان
میں گناہوں کی آمیزش نہیں کی تو صحابہ نے کہا (یا رسول اللہﷺ یہ تو بڑی
مشکل بات ہے) ہم میں کون ایسا ہے جس نے گناہ نہیں کیا تب اللہ نے (سورت
لقمان کی) یہ آیت اتاری شرک بڑا ظلم ہے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ أَبُو الرَّبِيعِ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ
بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ
أَبُو سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى
الله عليه وسلم قَالَ " آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلاَثٌ إِذَا حَدَّثَ
كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ "
Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "The signs of a hypocrite are three:
1. Whenever he speaks, he tells a lie.
2. Whenever he promises, he always breaks it (his promise).
3. If you trust him, he proves to be dishonest. (If you keep something as a trust with him, he will not return it.)"
ہم سے بیان کیا سلیمان ابو الربیع نےانہوں نے کہا ہم سے بیان کیا اسمٰعیل
ابن جعفر نے انہوں نے کہا ہم سے بیان کیا نافع بن مالک بن ابی عامر نے جن
کی کنیت ابو سہیل ہے اُنہوں نے اپنے باپ مالک بن ابی عامر سے اُنہوں نے ابو
ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا منافق کی تین
نشانیاں ہیں جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے خلاف ورزی کرے اور جب
اس کے پاس امانت رکھیں تو خیانت کرے۔
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ
الأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ
عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" أَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا، وَمَنْ كَانَتْ
فِيهِ خَصْلَةٌ مِنْهُنَّ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ حَتَّى
يَدَعَهَا إِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ وَإِذَا حَدَّثَ كَذَبَ وَإِذَا عَاهَدَ
غَدَرَ، وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ ". تَابَعَهُ شُعْبَةُ عَنِ الأَعْمَشِ
Narrated By 'Abdullah bin 'Amr : The Prophet said, "Whoever has the
following four (characteristics) will be a pure hypocrite and whoever
has one of the following four characteristics will have one
characteristic of hypocrisy unless and until he gives it up.
1. Whenever he is entrusted, he betrays.
2. Whenever he speaks, he tells a lie.
3. Whenever he makes a covenant, he proves treacherous.
4. Whenever he quarrels, he behaves in a very imprudent, evil and insulting manner."
ہم سے بیان کیا قبیصہ بن عقبہ نےانہوں نے کہا ہم سے بیان کیا سفیان نے
اُنہوں نے اعمش سے اُنہوں نے عبداللہ بن مرّہ سے اُنہوں نے مسروق سے انہوں
نے عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ سے روایت کی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا چار
خصلتیں جس میں ہوں گی وہ پکا منافق ہو گا اور جس میں ان چاروں میں سے کوئی
ایک بات ہو گی اس میں نفاق کی ایک خصلت ہو گی جب تک وہ اس کو چھوڑ نہ دے ۔
امانت میں خیانت ، بات بات پہ جھوٹ ، عہد توڑنا، اور جھگڑے کے وقت
گالیاں ۔ سفیان کے ساتھ شعبہ نے بھی اس حدیث کو اعمش سے روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،
قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ يَقُمْ لَيْلَةَ
الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ
ذَنْبِهِ "
Narrated By Abu
Huraira : Allah's Apostle said, "Whoever establishes the prayers on the
night of Qadr out of sincere faith and hoping to attain Allah's rewards
(not to show off) then all his past sins will be forgiven."
ہم
سے بیان کیا ابو الیمان نےانہوں نے کہا ہم کو خبر دی شعیب نے انہوں نے کہا
ہم سے بیان کیا ابوالزناد نے اُنہوں نے اعرج سے اُنہوں نے ابوہریرہ رضی
اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص لیلۃ القدر کی عبادت
ایمان اور ثواب کی نیت سے کرےاس کے گزشتہ سارے گناہ معاف کر دیے جائیں
گئے۔
حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ،
قَالَ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ بْنُ عَمْرِو
بْنِ جَرِيرٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله
عليه وسلم قَالَ " انْتَدَبَ اللَّهُ لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِهِ لاَ
يُخْرِجُهُ إِلاَّ إِيمَانٌ بِي وَتَصْدِيقٌ بِرُسُلِي أَنْ أُرْجِعَهُ
بِمَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ، أَوْ أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ،
وَلَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي مَا قَعَدْتُ خَلْفَ سَرِيَّةٍ،
وَلَوَدِدْتُ أَنِّي أُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ أُحْيَا، ثُمَّ
أُقْتَلُ ثُمَّ أُحْيَا، ثُمَّ أُقْتَلُ "
Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "The person who
participates in (Holy battles) in Allah's cause and nothing compels him
to do so except belief in Allah and His Apostles, will be recompensed by
Allah either with a reward, or booty (if he survives) or will be
admitted to Paradise (if he is killed in the battle as a martyr). Had I
not found it difficult for my followers, then I would not remain behind
any sariya going for Jihad and I would have loved to be martyred in
Allah's cause and then made alive, and then martyred and then made
alive, and then again martyred in His cause."
ہم
سے بیان کیا حرمی بن حفص نے انہوں نے کہا ہم سے بیان کیا عبدالواحد بن
زیاد نے انہوں نے کہا ہم سے بیان کیا عمارہ نے انہوں نے کہا ہم سے بیان کیا
ابو زرعہ بن عمروبن جریر نے انہوں نے کہا میں نے ابو ہریرہؓ سے سنا کہ نبی
ﷺ نے فرمایا (اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے) جو شخص مجھ پر ایمان اور میرے
رسولوں کی تصدیق کرتے ہوئے اپنے گھر سے صر ف میری راہ میں جہاد کی غرض سے
نکلا تو میں اسے (جہاد کے) ثواب اور مالِ غنیمت کے ساتھ واپس گھر لوٹاؤں
گا، (اور اگر وہ شہید ہو گیا تو ) اسے جنت میں داخل کروں گا، اور اگر میری
امت پر مشکل نہ ہوتا تو میں ہر لشکر کے ساتھ جہاد پہ جاتا، اور میری یہ
تمنا ہے کہ میں اللہ کی راہ میں شہید کر دیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں ، پھر
شہید کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں، پھر شہید کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں ۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ،
عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ
رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ قَامَ رَمَضَانَ
إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ "
Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said: "Whoever establishes
prayers during the nights of Ramadan faithfully out of sincere faith and
hoping to attain Allah's rewards (not for showing off), all his past
sins will be forgiven."
ہم سے
بیان کیا اسمٰعیل نےانہوں نے کہا مجھ سے بیان کیا امام مالکؒ نے اُنہوں نے
ابنِ شہاب سے انہوں نے حمید بن عبدالرحمٰن سے اُنہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ
عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے ایمان اور ثواب کی نیت سے
رمضان کا قیام کیا اسکے گزشتہ سارے گناہ معاف کر دیئے جائیں گئے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ سَلاَمٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ،
قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي
هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ
صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ
ذَنْبِهِ "
Narrated By Abu
Huraira : Allah's Apostle said, "Whoever observes fasts during the month
of Ramadan out of sincere faith, and hoping to attain Allah's rewards,
then all his past sins will be forgiven."
ہم سے بیان کیا محمد بن سلام بیکندی نےانہوں نے کہا ہم کو خبر دی محمد بن
فضیل نے انہوں نے کہا ہم سے بیان کیا یحیٰی بن سعید نے اُنہوں نے ابو سلمہ
سے انہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
جس نے ایمان اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے اس کے گزشتہ سارےگناہ
معاف کر دیئے جائیں گئے۔
And the statement of the Prophet (s.a.w) "The most beloved religion to Allah is the tolerant Hanifiya (Islamic Monotheism)"
حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ مُطَهَّرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عُمَرُ
بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ مَعْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْغِفَارِيِّ، عَنْ سَعِيدِ
بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ
النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ الدِّينَ يُسْرٌ، وَلَنْ
يُشَادَّ الدِّينَ أَحَدٌ إِلاَّ غَلَبَهُ، فَسَدِّدُوا وَقَارِبُوا
وَأَبْشِرُوا، وَاسْتَعِينُوا بِالْغَدْوَةِ وَالرَّوْحَةِ وَشَىْءٍ مِنَ
الدُّلْجَةِ "
Narrated By Abu
Huraira : The Prophet said, "Religion is very easy and whoever
overburdens himself in his religion will not be able to continue in that
way. So you should not be extremists, but try to be near to perfection
and receive the good tidings that you will be rewarded; and gain
strength by worshipping in the mornings, the nights." (See Fath-ul-Bari,
Page 102, Vol 1).
ہم سے عبد
السلام بن مطہر نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے عمر بن علی نے بیان کیا
اُنہوں نے معن بن محمد غفاری سے اُنہوں نے سعید بن ابی سعید مقبری سے
اُنہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا بے شک
دین آسان ہے اگر اس میں کوئی سختی کرے گا تو وہ (دین) اس پر غالب آجائے
گا اس لئے درمیانی راہ(میانہ روی) اختیار کرو، خوش ہو جاو، اور صبح ،
دوپہر ، شام اور، رات کے کچھ حصے میں (عبادت سے) مدد حاصل کرو ۔
And
the Statement of Allah, "And Allah would never make your faith
(prayers) to be lost." (V.2:143) (i.e., your prayers which you offered
in the past facing Jerusalem)
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ
حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله
عليه وسلم كَانَ أَوَّلَ مَا قَدِمَ الْمَدِينَةَ نَزَلَ عَلَى أَجْدَادِهِ
ـ أَوْ قَالَ أَخْوَالِهِ ـ مِنَ الأَنْصَارِ، وَأَنَّهُ صَلَّى قِبَلَ
بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا، أَوْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا،
وَكَانَ يُعْجِبُهُ أَنْ تَكُونَ قِبْلَتُهُ قِبَلَ الْبَيْتِ، وَأَنَّهُ
صَلَّى أَوَّلَ صَلاَةٍ صَلاَّهَا صَلاَةَ الْعَصْرِ، وَصَلَّى مَعَهُ
قَوْمٌ، فَخَرَجَ رَجُلٌ مِمَّنْ صَلَّى مَعَهُ، فَمَرَّ عَلَى أَهْلِ
مَسْجِدٍ، وَهُمْ رَاكِعُونَ فَقَالَ أَشْهَدُ بِاللَّهِ لَقَدْ صَلَّيْتُ
مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قِبَلَ مَكَّةَ، فَدَارُوا كَمَا
هُمْ قِبَلَ الْبَيْتِ، وَكَانَتِ الْيَهُودُ قَدْ أَعْجَبَهُمْ إِذْ كَانَ
يُصَلِّي قِبَلَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، وَأَهْلُ الْكِتَابِ، فَلَمَّا
وَلَّى وَجْهَهُ قِبَلَ الْبَيْتِ أَنْكَرُوا ذَلِكَ. قَالَ زُهَيْرٌ
حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ فِي حَدِيثِهِ هَذَا أَنَّهُ
مَاتَ عَلَى الْقِبْلَةِ قَبْلَ أَنْ تُحَوَّلَ رِجَالٌ وَقُتِلُوا، فَلَمْ
نَدْرِ مَا نَقُولُ فِيهِمْ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى {وَمَا كَانَ
اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ}
Narrated By Al-Bara' (bin 'Azib) : When the Prophet came to Medina, he
stayed first with his grandfathers or maternal uncles from Ansar. He
offered his prayers facing Baitul-Maqdis (Jerusalem) for sixteen or
seventeen months, but he wished that he could pray facing the Ka'ba (at
Mecca). The first prayer which he offered facing the Ka'ba was the 'Asr
prayer in the company of some people. Then one of those who had offered
that prayer with him came out and passed by some people in a mosque who
were bowing during their prayers (facing Jerusalem). He said addressing
them, "By Allah, I testify that I have prayed with Allah's Apostle
facing Mecca (Ka'ba).' Hearing that, those people changed their
direction towards the Ka'ba immediately. Jews and the people of the
scriptures used to be pleased to see the Prophet facing Jerusalem in
prayers but when he changed his direction towards the Ka'ba, during the
prayers, they disapproved of it.
Al-Bara' added, "Before we changed our direction towards the Ka'ba
(Mecca) in prayers, some Muslims had died or had been killed and we did
not know what to say about them (regarding their prayers.) Allah then
revealed: And Allah would never make your faith (prayers) to be lost
(i.e. the prayers of those Muslims were valid).'" (2:143).
ہم
سے عمرو بن خالد نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا
انہوں نےکہا ہم سے ابو اسحٰق نے بیان کیا اُنہوں نے براء رضی اللہ عنہ سے
روایت کی کہ نبیﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو اپنے ننہیال میں ٹھرے جو انصاری
لوگوں میں سے تھے اور آپﷺ سولہ یا سترہ مہینے بیت المقدس کی طرف رخ کر
کے نماز پڑھتے رہے اور آپﷺکی یہ خواہش تھی کہ بیت اللہ قبلہ بن جائے لہذا (
تحویل قبلہ کے بعد) سب سے پہلے جو نماز بیت اللہ کی طرف رخ کرکے پڑھی گئی
وہ عصر کی نماز تھی ، اس کے بعد ایک شخص کا گزر ( جس نے آپ ﷺ کے ساتھ
نماز پڑھی تھی ) ایک مسجد کے پاس سے ہوا وہاں لوگ بیت المقدس کی طرف رخ
کر کے نماز پڑھ رہے تھے، اس نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ میں
نے(ابھی)رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کعبے کی طرف رخ کر کےنماز پڑھی ہے یہ سنتے ہی
وہ لوگ نماز ہی میں کعبے کی طرف پھر گئے اور جب آپﷺ بیت المقدس کی طرف
نماز پڑھا کرتے تھے تو یہودی اورعیسائی خوش تھے جب آپﷺ نے اپنا منہ کعبے
کی طرف پھیر لیا تو اُنہوں نے بُرا مانا ۔ زہیر کہتے ہیں کہ ہم سے ابو
اسحاق نے بیان کیا کہ اُنہوں نے براؓء سے اسی حدیث میں اس بات کا ذکر بھی
کیا ہے کہ ہم ان لوگوں کے بارے میں کیا کہیں جو تحویل قبلہ سے پہلے شہید
یا فوت ہو گئے تھے کہ ( انہیں نماز کا ثواب ملا یا نہیں ) تب اللہ تعالیٰ
نے یہ آیت اتاری کہ اللہ تمہارے ایمان (نماز) کو ضائع کرنے والا نہیں ہے۔
قَالَ مَالِكٌ أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ
يَسَارٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ،
سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِذَا أَسْلَمَ
الْعَبْدُ فَحَسُنَ إِسْلاَمُهُ يُكَفِّرُ اللَّهُ عَنْهُ كُلَّ سَيِّئَةٍ
كَانَ زَلَفَهَا، وَكَانَ بَعْدَ ذَلِكَ الْقِصَاصُ، الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ
أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ، وَالسَّيِّئَةُ بِمِثْلِهَا
إِلاَّ أَنْ يَتَجَاوَزَ اللَّهُ عَنْهَا "
Narrated Abu Sa'id Al-Khudri(R.A.) : Allah's Messenger (s.a.w.) said,
"If a person embraces Islam sincerely, then Allah shall forgive all his
past sins, and after that starts the settlenment of accounts, the reward
of his good deeds will be ten times to seven hundred times for each
good deed and an evil deed will be recorded as it is unless Allah
foqives it."
امام مالکؒ نے کہا
مجھ کو زید بن اسلم نے خبر دی ان کو عطار بن یسار نے خبر دی ان کو ابو
سعید خدری رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نےرسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا
کہ جب کوئی بندہ مسلمان ہو جائے اور اسکا اسلام عمدہ ہو جائے تو یہ اس کے
گزشتہ سارے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے، او ر اس کے بعد بدلہ شروع ہو جاتا
ہے کہ ایک نیکی کے بدلے دس سے لے کر سات سو گنا تک نیکیاں اور ایک برائی
کے بدلے صرف ایک برائی اور اگر اللہ تعالی چائے تو اسے بھی معاف فرما دے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ
الرَّزَّاقِ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي
هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا
أَحْسَنَ أَحَدُكُمْ إِسْلاَمَهُ، فَكُلُّ حَسَنَةٍ يَعْمَلُهَا تُكْتَبُ
لَهُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ، وَكُلُّ سَيِّئَةٍ
يَعْمَلُهَا تُكْتَبُ لَهُ بِمِثْلِهَا "
Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "If any one of you
improve (follows strictly) his Islamic religion then his good deeds will
be rewarded ten times to seven hundred times for each good deed and a
bad deed will be recorded as it is."
ہم
سے بیان کیا اسحٰق بن منصور نے انہوں نے کہا ہم کو خبر دی عبد الرزاق نے
انہوں نے کہا ہم کو خبر دی معمر نے اُنہوں نے ہمام سے اُنہوں نے ابوہریرہ
رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اچھی
طرح مسلمان ہو تو اس کے بعد ہر نیک کام جو وہ کرئے گا دس سے سات سو گنا
تک بڑھا دیا جائے گا اور ہر برا کام جو وہ کرئے گا اتنا ہی لکھا جائے گا
جتنا اس نے کیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ
هِشَامٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى
الله عليه وسلم دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا امْرَأَةٌ قَالَ " مَنْ
هَذِهِ ". قَالَتْ فُلاَنَةُ. تَذْكُرُ مِنْ صَلاَتِهَا. قَالَ "
مَهْ، عَلَيْكُمْ بِمَا تُطِيقُونَ، فَوَاللَّهِ لاَ يَمَلُّ اللَّهُ
حَتَّى تَمَلُّوا ". وَكَانَ أَحَبَّ الدِّينِ إِلَيْهِ مَا دَامَ
عَلَيْهِ صَاحِبُهُ
Narrated By
'Aisha : Once the Prophet came while a woman was sitting with me. He
said, "Who is she?" I replied, "She is so and so," and told him about
her (excessive) praying. He said disapprovingly, "Do (good) deeds which
is within your capacity (without being overtaxed) as Allah does not get
tired (of giving rewards) but (surely) you will get tired and the best
deed (act of Worship) in the sight of Allah is that which is done
regularly."
ہم سے بیان کیا محمد
بن مثنی نے انہوں نے کہا ہم سے بیان کیا یحییٰ نے انہوں نے ہشام سے انہوں
نے کہا مجھ کو خبر دی میرے باپ(عروہ) نے اُنہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے
روایت کی کہ نبی ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور وہاں ایک عورت(بیٹھی) تھی
آپﷺ نے پوچھا یہ کون ہے۔ حضرت عائشہؓ نے کہا فلاں ۔ اور اس کی نماز کا
حال بیان کرنے لگیں آپﷺ نے فرمایا بس بس وہ کام کرو جو(ہمیشہ) کر سکتے ہو
کیونکہ قسم خدا کی اللہ تو (ثواب دینے سے) نہیں تھکے گا بلکہ تم ہی تھک
جاؤ گے اور نبی ﷺ کو وہ عمل بہت پسند تھا جس کا کرنے والا اس کو ہمیشہ کرے۔
And
the Statement of Allah, "We increased them in guidance." (V.18:13)
"And the believers may increase in faith." (V.74:31) And Allah said,
"This day I have perfected your Deen (complete code of life) for you."
(V.5:3)
If someone leaves a part of (from) the perfection of the deen then his
deen is incomplete.
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ
حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم
قَالَ " يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ،
وَفِي قَلْبِهِ وَزْنُ شَعِيرَةٍ مِنْ خَيْرٍ، وَيَخْرُجُ مِنَ النَّارِ
مَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، وَفِي قَلْبِهِ وَزْنُ بُرَّةٍ مِنْ
خَيْرٍ، وَيَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ،
وَفِي قَلْبِهِ وَزْنُ ذَرَّةٍ مِنْ خَيْرٍ ". قَالَ أَبُو عَبْدِ
اللَّهِ قَالَ أَبَانُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ حَدَّثَنَا أَنَسٌ عَنِ
النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " مِنْ إِيمَانٍ ". مَكَانَ " مِنْ
خَيْرٍ "
Narrated By Anas : The
Prophet said, "Whoever said "None has the right to be worshipped but
Allah and has in his heart good (faith) equal to the weight of a barley
grain will be taken out of Hell. And whoever said: "None has the right
to be worshipped but Allah and has in his heart good (faith) equal to
the weight of a wheat grain will be taken out of Hell. And whoever said,
"None has the right to be worshipped but Allah and has in his heart
good (faith) equal to the weight of an atom will be taken out of Hell."
ہم
سے بیان کیا مسلم بن ابراہیم نےانہوں نے کہا ہم سے بیان کیا ہشام نے انہوں
نے کہا ہم سے بیان کیا قتادہ نے اُنہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی
کہ نبیﷺ نے فرمایا جس نے لا الہ الا اللہ کہا اور اس کے دل میں جو برابر
بھلائی(ایمان) ہو تو وہ (ایک نہ ایک دن) دوزخ سے نکلے گا اور جس نے لا الہ
الا اللہ کہا اور اس کے دل میں گندم کے برابر بھلائی ہو وہ (ایک نہ ایک
دن) دوزخ سے نکلے گا اور جس نے لا الہ الا اللہ کہا اور اس کے دل میں ذرے
(چیونٹی) برابر بھلائی ہو وہ بھی(ایک نہ ایک دن) دوزخ سے نکلے گا امام
بخاری فرماتے ہیں کہ ابان نے بروایت قتادہ بواسطہ انس رضی اللہ عنہ نبی ﷺ
سے خیر کے بجائے ایمان کا ذکر کیا ہے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ، سَمِعَ جَعْفَرَ بْنَ عَوْنٍ،
حَدَّثَنَا أَبُو الْعُمَيْسِ، أَخْبَرَنَا قَيْسُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ
طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّ رَجُلاً، مِنَ
الْيَهُودِ قَالَ لَهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، آيَةٌ فِي كِتَابِكُمْ
تَقْرَءُونَهَا لَوْ عَلَيْنَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ نَزَلَتْ لاَتَّخَذْنَا
ذَلِكَ الْيَوْمَ عِيدًا. قَالَ أَىُّ آيَةٍ قَالَ {الْيَوْمَ
أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ
لَكُمُ الإِسْلاَمَ دِينًا}. قَالَ عُمَرُ قَدْ عَرَفْنَا ذَلِكَ
الْيَوْمَ وَالْمَكَانَ الَّذِي نَزَلَتْ فِيهِ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله
عليه وسلم وَهُوَ قَائِمٌ بِعَرَفَةَ يَوْمَ جُمُعَةٍ
Narrated By 'Umar bin Al-Khattab : Once a Jew said to me, "O the chief
of believers! There is a verse in your Holy Book Which is read by all of
you (Muslims), and had it been revealed to us, we would have taken that
day (on which it was revealed as a day of celebration." 'Umar bin
Al-Khattab asked, "Which is that verse?" The Jew replied, "This day I
have perfected your religion For you, completed My favour upon you, And
have chosen for you Islam as your religion." (5:3) 'Umar replied, "No
doubt, we know when and where this verse was revealed to the Prophet. It
was Friday and the Prophet was standing at 'Arafat (i.e. the Day of
Hajj)"
ہم سے بیان کیا حسن بن
صباح نے انہوں نے جعفر بن عون سے سنا انہوں نے کہا ہم سے بیان کیا ابو
العمیس نےانہوں نے کہا ہم کو خبر دی قیس بن مسلم نے انہوں نے طارق بن شہاب
سے انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک یہودی نے آپ سے
کہا اے امیر المؤمنین آپ لوگوں کی کتاب (قرآن) میں ایک ایسی آیت ہے جس
کو آپ پڑھتے ہیں اگر وہ آیت ہم یہود یوں پر اترتی تو ہم اس دن کو (جس دن
وہ آیت اترتی) عید کا دن ٹھہرا لیتے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا وہ
کون سی آیت ہے یہودی نے کہا یہ آیت: آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین
پورا کیا اور اپنا احسان تم پر تمام کر دیا اور اسلام بطورِ دین تمہارے
لئے پسند کیا ، حضرت عمرؓ نے کہا ہم اس دن کو جانتے ہیں اور اس جگہ کو بھی
جس میں یہ آیت نبی ﷺ پر ( اتری ہے یہ آیت آپﷺ پر) جمعہ کے دن اتری جب
آپﷺ عرفات میں کھڑے تھے ، (یعنی ہم تو اس دن عید ہی مناتے ہیں)
And
the Statement of Allah: "And they were commanded not, but that they
should worship Allah, and worship none but Him alone and to perform
As-Salat and give Zakat, and that is the right religion" (V.98:5)
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ
عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ
طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ، يَقُولُ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ
اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ، ثَائِرُ الرَّأْسِ،
يُسْمَعُ دَوِيُّ صَوْتِهِ، وَلاَ يُفْقَهُ مَا يَقُولُ حَتَّى دَنَا،
فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُ عَنِ الإِسْلاَمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى
الله عليه وسلم " خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ ".
فَقَالَ هَلْ عَلَىَّ غَيْرُهَا قَالَ " لاَ، إِلاَّ أَنْ تَطَوَّعَ
". قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَصِيَامُ رَمَضَانَ
". قَالَ هَلْ عَلَىَّ غَيْرُهُ قَالَ " لاَ، إِلاَّ أَنْ تَطَوَّعَ
". قَالَ وَذَكَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
الزَّكَاةَ. قَالَ هَلْ عَلَىَّ غَيْرُهَا قَالَ " لاَ، إِلاَّ أَنْ
تَطَوَّعَ ". قَالَ فَأَدْبَرَ الرَّجُلُ وَهُوَ يَقُولُ وَاللَّهِ لاَ
أَزِيدُ عَلَى هَذَا وَلاَ أَنْقُصُ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله
عليه وسلم " أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ "
Narrated By Talha bin 'Ubaidullah : A man from Najd with unkempt hair
came to Allah's Apostle and we heard his loud voice but could not
understand what he was saying, till he came near and then we came to
know that he was asking about Islam. Allah's Apostle said, "You have to
offer prayers perfectly five times in a day and night (24 hours)." The
man asked, "Is there any more (praying)?" Allah's Apostle replied, "No,
but if you want to offer the Nawafil prayers (you can)." Allah's Apostle
further said to him: "You have to observe fasts during the month of
Ramad, an." The man asked, "Is there any more fasting?" Allah's Apostle
replied, "No, but if you want to observe the Nawafil fasts (you can.)"
Then Allah's Apostle further said to him, "You have to pay the Zakat
(obligatory charity)." The man asked, "Is there any thing other than the
Zakat for me to pay?" Allah's Apostle replied, "No, unless you want to
give alms of your own." And then that man retreated saying, "By Allah! I
will neither do less nor more than this." Allah's Apostle said, "If
what he said is true, then he will be successful (i.e. he will be
granted Paradise)."
ہم سے
اسمعٰیل نے بیان کیا انہوں نےکہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا انھوں نے
اپنے چچا ابو سہیل بن مالک سے انہوں نے اپنے باپ مالک بن ابی عامر سے انہوں
نے طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اہلِ نجد سے ایک شخص
رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا جس کے بال بکھرے ہوئے تھے اور اس کی آواز کی بن
بناہٹ کی وجہ سے ہمیں کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا کہ وہ کیا کہ رہا ہے،
خیر جب قریب آیا تو معلوم ہوا کہ وہ اسلام کے بارے میں پوچھ رہا ہے، رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا اسلام دن رات میں پانچ نمازیں پڑھنے کا نام ہے اس نےکہا
بس اس کے سوا تو کوئی اور نماز مجھ پر نہیں؟، آپﷺ نے فرمایا نہیں ہاں
اگر نوافل ادا کرو ( تو اور بات ہے) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور رمضان کے
روزے رکھنا اس نے کہا اور تو کوئی روزہ مجھ پر نہیں؟ آپﷺ نے فرمایا نہیں
مگر تو نفل روزے رکھے (تو اور بات ہے) طلحہؓ نے کہا اور رسول اللہ ﷺ نے
اس کو زکوۃ کے بارے میں بھی بتایا، وہ کہنے لگا کیا اس کے علاوہ تو کوئی
اور صدقہ مجھ پر نہیں ہے؟ آپﷺ نے فرمایا نہیں مگر نفلی صدقہ کرے (تو
اور بات ہے) راوی نے کہا پھر وہ شخص یہ کہتے ہوے چلا گیا کہ قسم خدا کی
میں اس میں کمی یا زیادتی نہیں کروں گا، تو آپ ﷺ نے فرمایا اگر یہ سچا ہے
تو کامیاب ہو گیا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيٍّ الْمَنْجُوفِيُّ،
قَالَ حَدَّثَنَا رَوْحٌ، قَالَ حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنِ الْحَسَنِ،
وَمُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه
وسلم قَالَ " مَنِ اتَّبَعَ جَنَازَةَ مُسْلِمٍ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا،
وَكَانَ مَعَهُ حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهَا، وَيَفْرُغَ مِنْ دَفْنِهَا،
فَإِنَّهُ يَرْجِعُ مِنَ الأَجْرِ بِقِيرَاطَيْنِ، كُلُّ قِيرَاطٍ مِثْلُ
أُحُدٍ، وَمَنْ صَلَّى عَلَيْهَا ثُمَّ رَجَعَ قَبْلَ أَنْ تُدْفَنَ
فَإِنَّهُ يَرْجِعُ بِقِيرَاطٍ ". تَابَعَهُ عُثْمَانُ الْمُؤَذِّنُ
قَالَ حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ
النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ
Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "(A believer) who
accompanies the funeral procession of a Muslim out of sincere faith and
hoping to attain Allah's reward and remains with it till the funeral
prayer is offered and the burial ceremonies are over, he will return
with a reward of two Qirats. Each Qirat is like the size of the (Mount)
Uhud. He who offers the funeral prayer only and returns before the
burial, will return with the reward of one Qirat only."
ہم
سے احمد بن عبداللہ بن علی منجوفی نے بیان کیا انہوں نےکہا ہم سے روح نے
بیان کیا انہوں نےکہا ہم سے عوف نے بیان کیا اُنہوں نے حسن بصری اور محمد
بن سیرین سے اُنہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ
نے فرمایا جو کوئی ایمان اور ثواب کی نیت سے کسی مسلمان کے جنازے کے ساتھ
جائے اور نماز کے بعد تدفین تک اس کے ساتھ رہے تو وہ دو قیراط ثواب لے کر
لوٹے گا۔ اور ایک قیراط احد پہاڑ جتنا ہے، اور جو شخص صرف نمازِ جنازہ پڑھ
کر لوٹ آئے تو وہ ایک قیراط ثواب لے کر لوٹے گا۔ روح کے ساتھ اس حدیث کو
عثمان موذن نے بھی روایت کیا ہے کہ ہم سے عوف نے بیان کیا کہ اُنہوں نے
محمد بن سیرین سے سنا انہوں نے ابو ہریرہ سے اُنہوں نےنبی ﷺ سے اسی روایت
کی طرح۔
And
Ibrahim At-Taimi said, "When I compare my talks with my deeds, I am
afraid my deeds deny what I talk." And Ibn Abi Mulaika said, "I met
thirty Companions of the Prophet and each of them was afraid of becoming
a hypocrite and none of them said that he was strong in belief as the
angels Jibril (Gabriel) or Mikael (Michael)."
And Hasan Al-Basri said, "It is only a faithful believer who dreads
hypocrisy and only a hypocrite considers himself safe (from hypocrisy)."
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ
زُبَيْدٍ، قَالَ سَأَلْتُ أَبَا وَائِلٍ عَنِ الْمُرْجِئَةِ،، فَقَالَ
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ "
سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ "
Narrated By 'Abdullah : The Prophet said, "Abusing a Muslim is Fusuq (an evil doing) and killing him is Kufr (disbelief)."
ہم
سے بیان کیا محمد بن عرعرہ نے انہوں نے کہا ہم سے بیان کیا شعبہ نے
اُنہوں نے زبید بن حارث سے کہا میں نے ابو وائل سے مرحبۂ کے بارے میں
پوچھا (جو کہتے ہیں گناہ سے آدمی فاسق نہیں ہوتا) اُنہوں نے کہا مجھ سے
عبداللہ بن مسعودؓ نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا مسلمان کو گالی دینا
فسق اور اس سے لڑنا کفر ہے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ
جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَادَةُ بْنُ
الصَّامِتِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ يُخْبِرُ
بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ، فَتَلاَحَى رَجُلاَنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ
" إِنِّي خَرَجْتُ لأُخْبِرَكُمْ بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ، وَإِنَّهُ
تَلاَحَى فُلاَنٌ وَفُلاَنٌ فَرُفِعَتْ وَعَسَى أَنْ يَكُونَ خَيْرًا
لَكُمُ الْتَمِسُوهَا فِي السَّبْعِ وَالتِّسْعِ وَالْخَمْسِ "
Narrated 'Ubada bin As-Samit: "Allah's Apostle went out to inform the
people about the (date of the) night of decree (Al-Qadr) but there
happened a quarrel between two Muslim men. The Prophet said, "I came out
to inform you about (the date of) the night of Al-Qadr, but as so and
so and so and so quarrelled, its knowledge was taken away (I forgot it)
and maybe it was better for you. Now look for it in the 7th, the 9th and
the 5th (of the last 10 nights of the month of Ramadan)."
ہم
سے بیان کیا قتیبہ بن سعید نےانہوں نے کہا ہم سے بیان کیا اسمٰعیل بن جعفر
نے اُنہوں نے حمید سے اُنہوں نے انسؓ سے انہوں نے کہا مجھ کو خبر دی
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں کو شبِ قدر کے بارے
میں بتانے کے لیے (اپنے حجرے سے) باہر تشریف لائے اور راستے میں دو آدمیوں
کو لڑتے ہوے پایا تو شبِ قدر کی تعیین آپ ﷺ سے اٹھا لی گئی تو آپ ﷺ نے
فرمایا: میں اس لئے نکلا تھا کہ شبِ قدر کے بارے میں آپ لوگوں کو خبر دوں
لیکن فلاں فلاں لڑ رہے تھے جس کی وجہ سے وہ میرے دل سے اٹھا لی گئی، شاید
اسی میں تمہارے لیے بہتری ہو۔ لہذا اب اسے رمضان کی ستائیسویں
،اُنتیسویں اور پچیسویں رات میں تلاش کرو۔
And their
explanation given to him by the Prophet (s.a.w). Then the Prophet
(s.a.w) said, "Jibril came to teach you your religion." So the Prophet
(s.a.w) regarded all that is religion. And all that which the Prophet
(s.a.w) explained to the delegation of Abdul Qais was a part of faith.
And the Statement of Allah, "And whoever seeks a deen (way of life)
other than Islam, it will never be accepted of him." (V.3:85)
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،
أَخْبَرَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي
هُرَيْرَةَ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَارِزًا يَوْمًا
لِلنَّاسِ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ مَا الإِيمَانُ قَالَ "
الإِيمَانُ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلاَئِكَتِهِ وَبِلِقَائِهِ
وَرُسُلِهِ، وَتُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ ". قَالَ مَا الإِسْلاَمُ قَالَ
" الإِسْلاَمُ أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ وَلاَ تُشْرِكَ بِهِ، وَتُقِيمَ
الصَّلاَةَ، وَتُؤَدِّيَ الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ
". قَالَ مَا الإِحْسَانُ قَالَ " أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ
تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ ". قَالَ مَتَى
السَّاعَةُ قَالَ " مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ
السَّائِلِ، وَسَأُخْبِرُكَ عَنْ أَشْرَاطِهَا إِذَا وَلَدَتِ الأَمَةُ
رَبَّهَا، وَإِذَا تَطَاوَلَ رُعَاةُ الإِبِلِ الْبُهْمُ فِي الْبُنْيَانِ،
فِي خَمْسٍ لاَ يَعْلَمُهُنَّ إِلاَّ اللَّهُ ". ثُمَّ تَلاَ
النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم {إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ
السَّاعَةِ} الآيَةَ. ثُمَّ أَدْبَرَ فَقَالَ " رُدُّوهُ ".
فَلَمْ يَرَوْا شَيْئًا. فَقَالَ " هَذَا جِبْرِيلُ جَاءَ يُعَلِّمُ
النَّاسَ دِينَهُمْ ". قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ جَعَلَ ذَلِكَ
كُلَّهُ مِنَ الإِيمَانِ
Narrated
By Abu Huraira : One day while the Prophet was sitting in the company of
some people, (The angel) Gabriel came and asked, "What is faith?"
Allah's Apostle replied, 'Faith is to believe in Allah, His angels,
(the) meeting with Him, His Apostles, and to believe in Resurrection."
Then he further asked, "What is Islam?" Allah's Apostle replied, "To
worship Allah Alone and none else, to offer prayers perfectly to pay the
compulsory charity (Zakat) and to observe fasts during the month of
Ramadan." Then he further asked, "What is Ihsan (perfection)?" Allah's
Apostle replied, "To worship Allah as if you see Him, and if you cannot
achieve this state of devotion then you must consider that He is looking
at you." Then he further asked, "When will the Hour be established?"
Allah's Apostle replied, "The answerer has no better knowledge than the
questioner. But I will inform you about its portents.1. When a slave
(lady) gives birth to her master.
2. When the shepherds of black camels start boasting and competing with
others in the construction of higher buildings. And the Hour is one of
five things which nobody knows except Allah.
The Prophet then recited: "Verily, with Allah (Alone) is the knowledge
of the Hour..." (31. 34) Then that man (Gabriel) left and the Prophet
asked his companions to call him back, but they could not see him. Then
the Prophet said, "That was Gabriel who came to teach the people their
religion." Abu 'Abdullah said: He (the Prophet) considered all that as a
part of faith.
ہم سے بیان کیا
مسدد نے انہوں نے کہا ہم سے بیان کیا اسمعٰیل بن ابراہیم نے انہوں نے کہا
ہم کو خبر دی ابو حیان تیمی نے اُنہوں نے ابو زرعہ سے اُنہوں نے ابو ہریرہ
رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک دن نبی ﷺ لوگوں میں تشریف فرما تھے کہ
ایک شخص آیا اور پوچھنے لگا کہ ایمان کسے کہتے ہیں آپﷺ نے فرمایا ایمان
یہ ہے کہ تو اللہ تعالی ، اس کے فرشتوں ، اس کی ملاقات ، اس کے رسولوں اور
روزے قیامت پر ایمان رکھے، اس نے پوچھا اسلام کیا ہے آپﷺ نے فرمایا
اسلام یہ ہے کہ اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناو، نماز
قائم کرو، زکوۃ ادا کرو، اور رمضان کے روزے رکھو، اس نے پوچھا احسا ن کیا
ہے؟ آپﷺ نے فرمایا احسان یہ ہے اللہ کی اس طرح عبادت کرو کہ گویا تم اسے
دیکھ رہے ہو اور اگر ایسا نہ ہو سکو تو اتنا خیال رکھو کہ وہ تمہیں دیکھ
رہا ہے۔ اس نے کہا قیامت کب آئے گی آپﷺ نے فرمایا اس کے بارے میں جواب
دینے والا پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا، البتہ میں تمہیں اسکی(چند)
نشانیاں بتا دیتا ہوں، وہ یہ کہ جب لونڈی اپنے آقا کو جنے گی اور جب سیاہ
اونٹوں کے چرانے والے بڑی بڑی عمارتیں بنا کر ایک دوسرے پر فخر کریں
گئے، اور قیامت(غیب کی ان) پانچ باتوں میں سے ایک ہے جنہیں اللہ کے سوا
اور کوئی نہیں جانتا پھر نبی ﷺ نے (سورۃ لقمان کی ) یہ آیت بے شک اللہ
ہی جانتا ہے قیامت کب آئے گی اخیر تک تلاوت فرمائی، پھر جب وہ شخص چلا
گیا تو نبی ﷺ نے فرمایا اسے واپس بلاو (لوگ گئے) تو اسے نہ پایا ، تب آپﷺ
نے فرمایا یہ جبریل علیہ السلام تھے جو تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے
تھے امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں نبیﷺ نے ان سب باتوں کو (دین کہہ کر)
ایمان میں شریک کر دیا۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ
بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ
بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَهُ
قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سُفْيَانَ، أَنَّ هِرَقْلَ، قَالَ لَهُ سَأَلْتُكَ
هَلْ يَزِيدُونَ أَمْ يَنْقُصُونَ، فَزَعَمْتَ أَنَّهُمْ يَزِيدُونَ،
وَكَذَلِكَ الإِيمَانُ حَتَّى يَتِمَّ. وَسَأَلْتُكَ هَلْ يَرْتَدُّ
أَحَدٌ سَخْطَةً لِدِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ، فَزَعَمْتَ أَنْ
لاَ، وَكَذَلِكَ الإِيمَانُ حِينَ تُخَالِطُ بَشَاشَتُهُ الْقُلُوبَ، لاَ
يَسْخَطُهُ أَحَدٌ
Narrated By
'Abdullah bin 'Abbas : I was informed by Abu Sufyan that Heraclius said
to him, "I asked you whether they (followers of Muhammad) were
increasing or decreasing. You replied that they were increasing. And in
fact, this is the way of true Faith till it is complete in all respects.
I further asked you whether there was anybody, who, after embracing his
(the Prophets) religion (Islam) became displeased and discarded it. You
replied in the negative, and in fact, this is (a sign of) true faith.
When its delight enters the heart and mixes with them completely, nobody
can be displeased with it."
ہم
سے ابراہیم بن حمزہ نے بیان کیاانہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان
کیا اُنہوں نے صالح بن کیسان سے اُنہوں نے ابنِ شہاب سے اُنہوں نے عبیداللہ
بن عبداللہ سے ان کو عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ مجھے
ابو سفیان نے بتلایا کہ ہرقل(شاہِ روم) نے اُن سے کہا میں نے تجھ سے پوچھا
اس پیغمبر کے تابعدار بڑھ رہے ہیں یا گھٹ رہے ہیں تو نے کہا بڑھ رہے ہیں
اور ایمان کا یہی حال رہتا ہے یہاں تک کہ وہ پورا ہو جاتا ہے، اور میں نے
تجھ سے پوچھا کوئی اس کے دین میں آ کر پھر اس کو برا سمجھ کر مرتد ہوا ؟
تو نے کہا نہیں اور ایمان کا یہی حال ہے جب اس کی خوشی دل میں سما جاتی ہے
تو کوئی اس کو برا نہیں سمجھتا۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ
سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ
صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الْحَلاَلُ بَيِّنٌ وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ،
وَبَيْنَهُمَا مُشَبَّهَاتٌ لاَ يَعْلَمُهَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ، فَمَنِ
اتَّقَى الْمُشَبَّهَاتِ اسْتَبْرَأَ لِدِيِنِهِ وَعِرْضِهِ، وَمَنْ
وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ كَرَاعٍ يَرْعَى حَوْلَ الْحِمَى، يُوشِكُ أَنْ
يُوَاقِعَهُ. أَلاَ وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى، أَلاَ إِنَّ حِمَى
اللَّهِ فِي أَرْضِهِ مَحَارِمُهُ، أَلاَ وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً
إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ
الْجَسَدُ كُلُّهُ. أَلاَ وَهِيَ الْقَلْبُ "
Narrated By An-Nu'man bin Bashir : I heard Allah's Apostle saying,
'Both legal and illegal things are evident but in between them there are
doubtful (suspicious) things and most of the people have no knowledge
about them. So whoever saves himself from these suspicious things saves
his religion and his honor. And whoever indulges in these suspicious
things is like a shepherd who grazes (his animals) near the Hima
(private pasture) of someone else and at any moment he is liable to get
in it. (O people!) Beware! Every king has a Hima and the Hima of Allah
on the earth is His illegal (forbidden) things. Beware! There is a piece
of flesh in the body if it becomes good (reformed) the whole body
becomes good but if it gets spoilt the whole body gets spoilt and that
is the heart.
ہم سے ابو نعیم نے
بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے زکریا نے بیان کیا اُنہوں نے عامر سے روایت
کی انہوں نے کہا میں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہتے تھے
میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ،
اور ان کے درمیان کچھ مشتبہ چیزیں ہیں، جنہیں بہت سے لوگ نہیں جانتے (
کہ حلال ہیں یا حرام) پھر جو شخص ان مشتبہ چیزوں سے بچا اس نے اپنے دین اور
عزت کو بچا لیا اور جو ان میں پڑ گیا اس کی مثال اس چرواہے کی سی ہے جو
چرا گاہ کے آس پاس اپنے جانوروں کو چراتا ہے اور قریب ہے کہ اس میں گھس
جائے، اور سن لو کہ ہر بادشاہ کی ایک چرا گاہ ہوتی ہے اور اللہ کی
چراہگاہ اس کی زمین پر وہ چیزیں ہیں جو اسکی حرام کردہ ہیں، (لہذا ان سے
بچو) یاد رکھو انسانی جسم میں ایک ایسا ٹکڑا ہے اگر وہ صحیح ہو جائے تو
سارا جسم صحیح اور اگر وہ خراب ہو جائے تو سارا جسم خراب سن لو وہ دل ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ
أَبِي جَمْرَةَ، قَالَ كُنْتُ أَقْعُدُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ، يُجْلِسُنِي
عَلَى سَرِيرِهِ فَقَالَ أَقِمْ عِنْدِي حَتَّى أَجْعَلَ لَكَ سَهْمًا مِنْ
مَالِي، فَأَقَمْتُ مَعَهُ شَهْرَيْنِ، ثُمَّ قَالَ إِنَّ وَفْدَ عَبْدِ
الْقَيْسِ لَمَّا أَتَوُا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنِ
الْقَوْمُ أَوْ مَنِ الْوَفْدُ ". قَالُوا رَبِيعَةُ. قَالَ "
مَرْحَبًا بِالْقَوْمِ ـ أَوْ بِالْوَفْدِ ـ غَيْرَ خَزَايَا وَلاَ
نَدَامَى ". فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لاَ نَسْتَطِيعُ
أَنْ نَأْتِيَكَ إِلاَّ فِي شَهْرِ الْحَرَامِ، وَبَيْنَنَا وَبَيْنَكَ
هَذَا الْحَىُّ مِنْ كُفَّارِ مُضَرَ، فَمُرْنَا بِأَمْرٍ فَصْلٍ، نُخْبِرْ
بِهِ مَنْ وَرَاءَنَا، وَنَدْخُلْ بِهِ الْجَنَّةَ. وَسَأَلُوهُ عَنِ
الأَشْرِبَةِ. فَأَمَرَهُمْ بِأَرْبَعٍ، وَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ،
أَمَرَهُمْ بِالإِيمَانِ بِاللَّهِ وَحْدَهُ. قَالَ " أَتَدْرُونَ مَا
الإِيمَانُ بِاللَّهِ وَحْدَهُ ". قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ
أَعْلَمُ. قَالَ " شَهَادَةُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ
مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامُ الصَّلاَةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ،
وَصِيَامُ رَمَضَانَ، وَأَنْ تُعْطُوا مِنَ الْمَغْنَمِ الْخُمُسَ ".
وَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ عَنِ الْحَنْتَمِ وَالدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ
وَالْمُزَفَّتِ. وَرُبَّمَا قَالَ الْمُقَيَّرِ. وَقَالَ "
احْفَظُوهُنَّ وَأَخْبِرُوا بِهِنَّ مَنْ وَرَاءَكُمْ "
Narrated By Abu Jamra : I used to sit with Ibn 'Abbas and he made me
sit on his sitting place. He requested me to stay with him in order that
he might give me a share from his property. So I stayed with him for
two months. Once he told (me) that when the delegation of the tribe of
'Abdul Qais came to the Prophet, the Prophet asked them, "Who are the
people (i.e. you)? (Or) who are the delegate?" They replied, "We are
from the tribe of Rabi'a." Then the Prophet said to them, "Welcome! O
people (or O delegation of 'Abdul Qais)! Neither will you have disgrace
nor will you regret." They said, "O Allah's Apostle! We cannot come to
you except in the sacred month and there is the infidel tribe of Mudar
intervening between you and us. So please order us to do something good
(religious deeds) so that we may inform our people whom we have left
behind (at home), and that we may enter Paradise (by acting on them)."
Then they asked about drinks (what is legal and what is illegal). The
Prophet ordered them to do four things and forbade them from four
things. He ordered them to believe in Allah Alone and asked them, "Do
you know what is meant by believing in Allah Alone?" They replied,
"Allah and His Apostle know better." Thereupon the Prophet said, "It
means:
1. To testify that none has the right to be worshipped but Allah and Muhammad is Allah's Apostle.
2. To offer prayers perfectly.
3. To pay the Zakat (obligatory charity).
4. To observe fast during the month of Ramadan.
5. And to pay Al-Khumus (one fifth of the booty to be given in Allah's Cause).
Then he forbade them four things, namely, Hantam, Dubba,' Naqir Ann
Muzaffat or Muqaiyar; (These were the names of pots in which Alcoholic
drinks were prepared) (The Prophet mentioned the container of wine and
he meant the wine itself). The Prophet further said (to them): "Memorize
them (these instructions) and convey them to the people whom you have
left behind."
ہم سے بیان کیا علی
بن جعد نے انہوں نے کہا ہمیں خبر دی شعبہ نے اُنہوں نے ابو جمرہ سے نقل
کیا کہ میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھا کرتا تھا وہ
مجھے خاص اپنے تخت پر بٹھاتے (ایک بار) کہنے لگے میرے پاس ہی رہ جاو میں
اپنے مال میں تیرا حصہ مقرر کر دیتا ہوں تو میں دو مہینے تک ان کے پاس
رہاپھر کہنے لگے عبد القیس کے بھیجے ہوئے لوگ جب نبی ﷺ کے پاس آئے تو آپﷺ
نے فرمایا یہ کون لوگ ہیں یا یہ وفد کہاں سے آیا ہے؟ اُنہوں نے کہا
ربیعہ کے لوگ ہیں آپﷺ نے فرمایا مرحبا ان لوگوں کو یا اس وفد کو نہ
ذلیل ہوئے نہ شرمندہ وہ کہنے لگے یا رسول اللہ ﷺ ہم آپ کی خدمت میں صرف
حرمت والے مہینوں میں آ سکتے ہیں، کیونکہ ہمارے اور آپ کے درمیان مضر کے
کافروں کا یہ قبیلہ آبادہے تو آپ ہمیں ایسی قطعی چیز بتلائیے جس کی خبر
ہم اپنے ان لوگوں کو بھی دیں جو یہاں نہیں آئے، اور خود بھٰی اس پر عمل
پیرا ہو کر جنت میں داخل ہو سکیں، اور انہوں نے نبی ﷺ سے برتنوں کے بارے
میں بھی پوچھا آپ ﷺ نے انہیں چار باتوں کا حکم دیا اور چار قسم کے برتنوں
کے استعمال سے منع فرمایا، حکم یہ دیا کہ اللہ وحدہ لا شریک پر ایمان
لاو پھر آپ ﷺ نے پوچھا کیا آپ کو اس کا علم ہے؟انہوں نے کہا اللہ اور
اسکے رسول ہی بہتر جاتنے ہیں، آپﷺ نے فرمایا اس بات کی گواہی دینا کہ
اللہ کے سوا اور کوئی عبادت کے لائق نہیں ،محمد ﷺ اس کے سچے رسول ہیں ،
نماز قائم کرنا ، زکوٰۃ دینا ، رمضان کے روزے رکھنا اور مال غنیمت سے جو
ملے اس کا پانچواں حصہ بیت المال میں جمع کروانا، اور چار برتنوں سے ان
کو منع کیا سبز لاکھی مرتبان ، کدو کے تونبے ، کرید کئے ہوئے لکڑی کے برتن
اور مزفت یا مقیر (یعنی روغنی برتن) سے ( یہ وہ برتن ہیں جن میں دور
جاہلیت میں لوگ شراب بنایا کرتے تھے) اور فرمایا ان باتوں کو یاد رکھو اور
جو لوگ تمہارے پیچھے(اپنے ملک میں ہیں) ان کو بھی بتلا دو۔
And every person will get the reward according to what he has intended.
And this includes faith, ablution, As-Salat, Zakat, Hajj, As-Saum (Fasting) and all the Ahkam (Orders) of Allah.
Allah said, "Say, Each one does (deeds) according to his intentions and religion" (V.17:84)
And the spending of a man for his family with the intention of having a reward from Allah, will be regarded as alms.
And the Prophet (s.a.w) said, "Jihad and intenstions."
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ،
عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ
عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، عَنْ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله
عليه وسلم قَالَ " الأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ، وَلِكُلِّ امْرِئٍ مَا
نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، فَهِجْرَتُهُ
إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا
يُصِيبُهَا، أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا
هَاجَرَ إِلَيْهِ "
Narrated By
'Umar bin Al-Khattab : Allah's Apostle said, "The reward of deeds
depends upon the intention and every person will get the reward
according to what he has intended. So whoever emigrated for Allah and
His Apostle, then his emigration was for Allah and His Apostle. And
whoever emigrated for worldly benefits or for a woman to marry, his
emigration was for what he emigrated for."
ہم
سے بیان کیا عبداللہ بن مسلمہ نے انہوں نےکہا ہم کو امام مالک نے خبر دی
اُنہوں نے یحییٰ بن سعید سے اُنہوں نے محمد بن ابراہیم سے اُنہوں نے علقمہ
بن وقاص سے اُنہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ
نے فرمایا تمام اعمال کا دارومدار نیت پہ ہے، انسان کو ویسا ہی (بدلہ)
ملے گا جیسی وہ نیت کرے گا، لہذا جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی رضا کے
لیےہجرت کرے گا اس نے واقعی اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہجرت کی، اور جو
کوئی دنیا کمانے یا کسی عورت سے شادی کرنے کی غرض سے ہجرت کرے گا تو اس
کی ہجرت ان ہی کاموں کے لیے سمجھی جائے گی (یعنی وہ اتنے بڑے عمل ہجرت کے
ثواب سے محروم رہے گا)
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ
أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ
يَزِيدَ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" إِذَا أَنْفَقَ الرَّجُلُ عَلَى أَهْلِهِ يَحْتَسِبُهَا فَهُوَ لَهُ
صَدَقَةٌ "
Narrated By Abu
Mas'ud : The Prophet said, "If a man spends on his family (with the
intention of having a reward from Allah) sincerely for Allah's sake then
it is a (kind of) alms-giving in reward for him."
ہم
سے حجاج بن منہال نے بیان کیا انہوں نےکہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا انہوں
نےکہا مجھ کو عدی بن ثابت نے خبر د ی انہوں نے کہا میں نے عبداللہ بن
یزید سے سنا اُنہوں نے ابومسعودؓ سے نقل کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب
آدمی ثواب کی نیت سے اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے تو وہ بھی اس کے لیے
صدقہ بن جاتا ہے۔
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ
الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ
أَبِي وَقَّاصٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه
وسلم قَالَ " إِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ
اللَّهِ إِلاَّ أُجِرْتَ عَلَيْهَا، حَتَّى مَا تَجْعَلُ فِي فِي
امْرَأَتِكَ "
Narrated By Sa'd
bin Abi Waqqas : Allah's Apostle said, "You will be rewarded for
whatever you spend for Allah's sake even if it were a morsel which you
put in your wife's mouth."
ہم سے
ابو الیمان حکم بن نافع نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی
اُنہوں نے زہری سے انہوں نے کہا مجھ سے عامر بن سعد نے بیان کیا اُنہوں نے
سعد بن ابی وقاص سے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالی کی رضامندی
کی خاطر جو کچھ بھی تو خرچ کرے اس کا تجھے اجر ملے گا حتی کہ اپنی بیوی
کے منہ میں لقمہ ڈالنا بھٰی باعثِ اجر ہے۔
And the Statement of Allah, "If they are sincere to Allah and His Messenger." (V.9:91)
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ،
قَالَ حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ
اللَّهِ، قال بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
عَلَى إِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالنُّصْحِ لِكُلِّ
مُسْلِمٍ
Narrated By Jarir bin Abdullah : I gave the pledge of allegiance to Allah's Apostle for the following:
1. Offer prayers perfectly.
2. Pay the Zakat. (obligatory charity)
3. And be sincere and true to every Muslim.
ہم
سے بیان کیا مسدد نے انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا
انہوں نے اسمعٰیل سے انہوں نے کہا مجھ سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا
اُنہوں نے جریر بن عبداللہ بجلی سے روایت کی کہ میں نے رسول اللہﷺ سے
نماز قائم کرنے ، زکوۃ دینے اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے پر بیعت
کی۔
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ
زِيَادِ بْنِ عِلاَقَةَ، قَالَ سَمِعْتُ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ،
يَقُولُ يَوْمَ مَاتَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ قَامَ فَحَمِدَ اللَّهَ
وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَقَالَ عَلَيْكُمْ بِاتِّقَاءِ اللَّهِ وَحْدَهُ لاَ
شَرِيكَ لَهُ، وَالْوَقَارِ وَالسَّكِينَةِ حَتَّى يَأْتِيَكُمْ أَمِيرٌ،
فَإِنَّمَا يَأْتِيكُمُ الآنَ، ثُمَّ قَالَ اسْتَعْفُوا لأَمِيرِكُمْ،
فَإِنَّهُ كَانَ يُحِبُّ الْعَفْوَ. ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي
أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قُلْتُ أُبَايِعُكَ عَلَى
الإِسْلاَمِ. فَشَرَطَ عَلَىَّ وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ.
فَبَايَعْتُهُ عَلَى هَذَا، وَرَبِّ هَذَا الْمَسْجِدِ إِنِّي لَنَاصِحٌ
لَكُمْ. ثُمَّ اسْتَغْفَرَ وَنَزَلَ
Narrated By Ziyad bin'Ilaqa : I heard Jarir bin 'Abdullah (Praising
Allah). On the day when Al-Mughira bin Shu'ba died, he (Jarir) got up
(on the pulpit) and thanked and praised Allah and said, "Be afraid of
Allah alone Who has none along with Him to be worshipped.(You should) be
calm and quiet till the (new) chief comes to you and he will come to
you soon. Ask Allah's forgiveness for your (late) chief because he
himself loved to forgive others." Jarir added, "Amma badu (now then), I
went to the Prophet and said, 'I give my pledge of allegiance to you for
Islam." The Prophet conditioned (my pledge) for me to be sincere and
true to every Muslim so I gave my pledge to him for this. By the Lord of
this mosque! I am sincere and true to you (Muslims). Then Jarir asked
for Allah's forgiveness and came down (from the pulpit).
ہم
سے ابو نعمان نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے ابو عوانہ نے بیان کیا
اُنہوں نے زیاد بن علاقہ سے روایت کی کہ جس دن مغیرہ بن شعبہؓ (حاکمِ
کوفہ) وفات پا گئے تو جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ خطبہ کے لئے کھڑے ہوئے
اور حمد وثنا کے بعد فرمایا تمہیں اللہ وحدہ لا شریک کا خوف رکھنا
چاہیے، اور اس وقت تک تحمل وبردباری کے ساتھ رہنا چاہیے جب تک دوسرا حاکم
نہ آجائے، اور وہ ابھی آنے والا ہی ہے، پھر فرمایا اپنے فوت ہونے
والے حاکم کے لئے دعائے مغفرت کرو، کیونکہ وہ بھی معافی کو پسند کرتے تھے
اور تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ایک دفعہ میں نبی ﷺ کے پاس گیا، اور عرض
کی میں آپ سے اسلام پر بیعت کرنا چاہتا ہوں آپﷺ نے مجھ پہ ہر مسلمان کے
ساتھ خیر خواہی کی شرط لگائی، تو میں نے اسی شرط پر آپ ﷺ سے بیعت کی ، اس
مسجد کے رب کی قسم میں آپ لوگوں کا خیر خواہ ہوں ، پھر استغفار کیا اور
منبر سے اتر گئے۔
No comments:
Post a Comment