Sahih Bukhari
Book11: Friday Prayer ( كتاب الجمعة
1. The Prescription of Friday prayer and Khutba (religious talk)
According
to the Statement of Allah, "When the call is proclaimed for the Salat
(prayer) of Friday (Jumu’ah prayer) come to the rememberance of Allah
and leave off business (and everything)"
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ هُرْمُزَ
الأَعْرَجَ، مَوْلَى رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ
أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى
الله عليه وسلم يَقُولُ " نَحْنُ الآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ
الْقِيَامَةِ، بَيْدَ أَنَّهُمْ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا، ثُمَّ
هَذَا يَوْمُهُمُ الَّذِي فُرِضَ عَلَيْهِمْ فَاخْتَلَفُوا فِيهِ،
فَهَدَانَا اللَّهُ، فَالنَّاسُ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ، الْيَهُودُ غَدًا
وَالنَّصَارَى بَعْدَ غَدٍ "
Narrated By Abu Huraira : I heard Allah's Apostle (p.b.u.h) saying, "We
(Muslims) are the last (to come) but (will be) the foremost on the Day
of Resurrection though the former nations were given the Holy Scriptures
before us. And this was their day (Friday) the celebration of which was
made compulsory for them but they differed about it. So Allah gave us
the guidance for it (Friday) and all the other people are behind us in
this respect: the Jews' (holy day is) tomorrow (i.e. Saturday) and the
Christians' (is) the day after tomorrow (i.e. Sunday)."
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا،
کہا ہم کو شعیب نے خبر دی کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا ان سے عبدالرحمن
بن ہرمزاعرج نے جو ربعیہ بن حارث کے غلام تھے انھوں نے ابوہریرہؓ سے سنا
انھوں نے رسول اللہ ﷺسے آپؐ فرماتے تھے ہم سب امتوں کے بعددنیا میں آئے
لیکن قیامت کے دن سب سے آگے ہوں گے۔ صرف اتنی بات ہی کہ یہود و نصاریٰ کو
ہم سے پہلے کتاب ملی۔ پھر یہی جمعہ کا دن ان کے لیے بھی (عبادت کے واسطے)
مقرر ہوا تھا لیکن انھوں نے اس میں گول مال کیا اور ہم کو اللہ نے یہ دن
بتلا دیاسب لوگ ہمارے پیچھے ہو گئے۔ یہودیوں کا دن کل ہے اور نصاریٰ کا
پرسوں۔
2. The superiority of taking a bath on Friday. And is it necessary for boys and women to attend the Friday (prayer).
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ
نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ
رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمُ
الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ "
Narrated By 'Abdullah bin Umar : Allah's Apostle (p.b.u.h) said, "Anyone
of you attending the Friday (prayers) should take a bath."
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے
بیان کیا، کہا ہم کو امام مالکؒ نے خبر دی انھوں نے نافع سے انھوں نے
عبداللہ بن عمرؓ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے جب کوئی جمعہ کی نماز
کے لیے آنا چاہے تو غسل کرے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، قَالَ
أَخْبَرَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ
بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ
أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، بَيْنَمَا هُوَ قَائِمٌ فِي الْخُطْبَةِ
يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ الأَوَّلِينَ
مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَنَادَاهُ عُمَرُ أَيَّةُ
سَاعَةٍ هَذِهِ قَالَ إِنِّي شُغِلْتُ فَلَمْ أَنْقَلِبْ إِلَى أَهْلِي
حَتَّى سَمِعْتُ التَّأْذِينَ، فَلَمْ أَزِدْ أَنْ تَوَضَّأْتُ. فَقَالَ
وَالْوُضُوءُ أَيْضًا وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه
وسلم كَانَ يَأْمُرُ بِالْغُسْلِ
Narrated By Ibn 'Umar : While Umar bin Al-Khattab was standing and
delivering the sermon on a Friday, one of the companions of the Prophet,
who was one of the foremost Muhajirs (emigrants) came. 'Umar said to
him, "What is the time now?" He replied, "I was busy and could not go
back to my house till I heard the Adhan. I did not perform more than the
ablution." Thereupon 'Umar said to him, "Did you perform only the
ablution although you know that Allah's Apostle (p.b.u.h) used to order
us to take a bath (on Fridays)?"
ہم سے عبداللہ بن محمد بن اسماء
نے بیان کیا انھوں نے کہا ہم سے جویریہ بن اسماء نے انھوں نے امام مالکؒ
سے انھوں نے زہری سے انھوں نے سالم بن عبداللہ بن عمرؓ سے انھوں نے
عبداللہ بن عمرؓ سے کہ حضرت عمرؓ جمعہ کے دن کھڑے خطبہ پڑھ رہے تھے، اتنے
میں ایک صاحب اگلے مہاجرین اور نبی ﷺ کے صحابہؓ میں سے (حضرت عثمانؓ) آئے۔
حضرت عمرؓ نے (عین خطبہ میں) ان کو پکارا بھلا یہ کون سا وقت ہے آنے کا۔
انہوں نے کہا مجھے کچھ کام لگ گیا تھا۔ میں گھر میں بھی نہیں گیا۔ اذان
سنتے ہی بس میں نے وضو کیا (اور چلا آیا)۔ حضرت عمرؓ نے کہا اچھا یہ کہئے
تو آپ نے صرف وضو ہی پر قناعت کی حالانکہ آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ
(جمعہ کے دن) غسل کا حکم دیتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ،
عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي
سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله
عليه وسلم قَالَ " غُسْلُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ
مُحْتَلِمٍ "
Narrated By Ibn
'Umar : While Umar bin Al-Khattab was standing and delivering the sermon
on a Friday, one of the companions of the Prophet, who was one of the
foremost Muhajirs (emigrants) came. 'Umar said to him, "What is the time
now?" He replied, "I was busy and could not go back to my house till I
heard the Adhan. I did not perform more than the ablution." Thereupon
'Umar said to him, "Did you perform only the ablution although you know
that Allah's Apostle (p.b.u.h) used to order us to take a bath (on
Fridays)?"
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی
نے بیان کیا کہا ہم کو امام مالکؒ نے خبر دی انھوں نے صفوان بن سلیم سے
انھوں نے عطاء بن یسار سے، انھوں نے ابوسعید خدریؓ سے کہ رسول اللہ ﷺ نے
فرمایا جمعہ کے دن کا غسل ہر جوان مرد پر واجب ہے۔
3. To perfume before going for the Friday (prayer).
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، قَالَ حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، قَالَ
حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ سُلَيْمٍ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ أَشْهَدُ عَلَى
أَبِي سَعِيدٍ قَالَ أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
قَالَ " الْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ،
وَأَنْ يَسْتَنَّ وَأَنْ يَمَسَّ طِيبًا إِنْ وَجَدَ ". قَالَ عَمْرٌو
أَمَّا الْغُسْلُ فَأَشْهَدُ أَنَّهُ وَاجِبٌ، وَأَمَّا الاِسْتِنَانُ
وَالطِّيبُ فَاللَّهُ أَعْلَمُ أَوَاجِبٌ هُوَ أَمْ لاَ، وَلَكِنْ هَكَذَا
فِي الْحَدِيثِ. قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ هُوَ أَخُو مُحَمَّدِ بْنِ
الْمُنْكَدِرِ وَلَمْ يُسَمَّ أَبُو بَكْرٍ هَذَا. رَوَاهُ عَنْهُ
بُكَيْرُ بْنُ الأَشَجِّ وَسَعِيدُ بْنُ أَبِي هِلاَلٍ وَعِدَّةٌ.
وَكَانَ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ يُكْنَى بِأَبِي بَكْرٍ وَأَبِي
عَبْدِ اللَّهِ
Narrated By Abu
Said : I testify that Allah's Apostle said, "The taking of a bath on
Friday is compulsory for every male Muslim who has attained the age of
puberty and (also) the cleaning of his teeth with Siwak, and the using
of perfume if it is available." Amr (a sub-narrator) said, "I confirm
that the taking of a bath is compulsory, but as for the Siwak and the
using of perfume, Allah knows better whether it is obligatory or not,
but according to the Hadith it is as above.")
ہم سے علی بن عبداللہ بن جعفر
نے بیان کیا کہا ہم کو حرمی بن عمارہ نے خبر دی کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا
انھوں نے ابو بکر ابن منکدر سے انھوں نے کہا مجھ سے عمرو بن سلیم انصاری
نے بیان کیا انھوں نے کہا میں ابو سعید خدری پر گواہی دیتا ہوں انھوں نے
کہا میں رسول اللہ ﷺ پر گواہی دیتا ہوں آپؐ نے فرمایا جمعہ کے دن ہر جوان
شخص پر غسل کرنا واجب ہے اور مسواک کرنا اور اگر میسر ہو تو خوشبو بھی
لگانا۔ عمرو بن سلیم نے کہا غسل کے لئے تو میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ واجب
ہے لیکن مسواک کرنا اور خوشبو لگانا تو اللہ کو معلوم ہے کہ وہ واجب ہے یا
نہیں لیکن حدیث میں یونہی آیا ہے۔ امام بخاریؒ نے کہا ابوبکر ابن منکدر
محمّد بن منکدر کے بھائی ہیں اور ان کا نام معلوم نہیں ہوا، ان سے بکیر ابن
اشج اور سعید بن ابی ہلال اور بہت لوگوں نے روایت کی ہے اور محمّد بن
منکدر کی کنیت ابو بکر اور عبداللہ بھی تھی۔
4. The superiority of Jumu’ah (Prayer & Khutba)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ
سُمَىٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي
صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ
رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ
الْجُمُعَةِ غُسْلَ الْجَنَابَةِ ثُمَّ رَاحَ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ
بَدَنَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّانِيَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ
بَقَرَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّالِثَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ
كَبْشًا أَقْرَنَ، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الرَّابِعَةِ فَكَأَنَّمَا
قَرَّبَ دَجَاجَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الْخَامِسَةِ فَكَأَنَّمَا
قَرَّبَ بَيْضَةً، فَإِذَا خَرَجَ الإِمَامُ حَضَرَتِ الْمَلاَئِكَةُ
يَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ "
Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle (p.b.u.h) said, "Any person
who takes a bath on Friday like the bath of Janaba and then goes for the
prayer (in the first hour i.e. early), it is as if he had sacrificed a
camel (in Allah's cause); and whoever goes in the second hour it is as
if he had sacrificed a cow; and whoever goes in the third hour, then it
is as if he had sacrificed a horned ram; and if one goes in the fourth
hour, then it is as if he had sacrificed a hen; and whoever goes in the
fifth hour then it is as if he had offered an egg. When the Imam comes
out (i.e. starts delivering the Khutba), the angels present themselves
to listen to the Khutba."
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی
نے بیان کیا کہا ہم کو امام مالکؒ نے خبر دی انھوں نے سمی سے جو ابوبکر بن
عبدالرحمن کے غلام تھے انھوں نے ابوصالح سمان سے انھوں نے ابوہریرہؓ سے
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، جو کوئی جمعہ کے دن (جماع کر کے) جنابت کا غسل کرے،
پھر نماز کے لیے چلے تو گویا اس نے ایک اونٹ کی قربانی کی اور جو (اس کے
بعد) دوسری گھڑی میں چلے اس نے گویا ایک گائے قربانی کی اور جو تیسری گھڑی
میں چلے اس نے گویا ایک سینگوں والا مینڈھا قربانی کیا۔ اور جو کوئی چوتھی
گھڑی میں چلے اس نے گویا ایک مرغی قربانی کی اور جو کوئی پانچویں گھڑی میں
چلے اس نے گویا ایک انڈا اللہ کی راہ میں دیا۔ پھر جب امام خطبہ کے لیے
نکلتا ہے تو یہ حاضری لکھنے والے فرشتے بھی مسجد میں آجاتے ہیں، خطبہ سنتے
ہیں۔
5. Chapter
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى،
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ عُمَرَ ـ رضى الله عنه ـ
بَيْنَمَا هُوَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ فَقَالَ
عُمَرُ لِمَ تَحْتَبِسُونَ عَنِ الصَّلاَةِ فَقَالَ الرَّجُلُ مَا هُوَ
إِلاَّ سَمِعْتُ النِّدَاءَ تَوَضَّأْتُ. فَقَالَ أَلَمْ تَسْمَعُوا
النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا رَاحَ أَحَدُكُمْ إِلَى
الْجُمُعَةِ فَلْيَغْتَسِلْ "
Narrated By Abu Huraira : While 'Umar (bin Al-Khattab) was delivering
the Khutba on a Friday, a man entered (the mosque). 'Umar asked him,
"What has detained you from the prayer?" The man said, "It was only that
when I heard the Adhan I performed ablution (for the prayer)." On that
'Umar said, "Did you not hear the Prophet saying: 'Anyone of you going
out for the Jumua prayer should take a bath'?".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا کہا
ہم سے شیبان بن عبدالرحمٰن نے انھوں نے یحیٰی بن ابی کثیر سے انھوں نے
ابوسلمہ بن عبدالرحمن بن عوفؓ سے انھوں نے ابوہریرہؓ سے کہ حضرت عمرؓ جمعہ
کے دن خطبہ پڑھ رہے تھے اتنے میں ایک صاحب آئے (حضرت عثمانؓ) حضرت عمرؓ
نے کہا تم لوگ نماز سے کیوں رک جاتے ہو (اوّل وقت کیوں نہیں آتے) انھوں نے
کہا میں نے تو کچھ دیر نہیں کی، اذان سنتے ہی البتہ وضو کیا اور آگیا۔
حضرت عمرؓ نے کہا (یہ لو اور سہی) کیا تم نے نبی ﷺ سے یہ نہیں سنا آپ
فرماتے تھے جب کوئی تم میں سے جمعہ کی نماز کے لیے آنا چاہے تو غسل کرے۔
6. To use (hair) oil (on getting prepared) for the Friday prayer
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ
الْمَقْبُرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنِ ابْنِ وَدِيعَةَ، عَنْ
سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم "
لاَ يَغْتَسِلُ رَجُلٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَيَتَطَهَّرُ مَا اسْتَطَاعَ
مِنْ طُهْرٍ، وَيَدَّهِنُ مِنْ دُهْنِهِ، أَوْ يَمَسُّ مِنْ طِيبِ بَيْتِهِ
ثُمَّ يَخْرُجُ، فَلاَ يُفَرِّقُ بَيْنَ اثْنَيْنِ، ثُمَّ يُصَلِّي مَا
كُتِبَ لَهُ، ثُمَّ يُنْصِتُ إِذَا تَكَلَّمَ الإِمَامُ، إِلاَّ غُفِرَ
لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الأُخْرَى "
Narrated By Salman-Al-Farsi : The Prophet (p.b.u.h) said, "Whoever
takes a bath on Friday, purifies himself as much as he can, then uses
his (hair) oil or perfumes himself with the scent of his house, then
proceeds (for the Jumua prayer) and does not separate two persons
sitting together (in the mosque), then prays as much as (Allah has)
written for him and then remains silent while the Imam is delivering the
Khutba, his sins in-between the present and the last Friday would be
forgiven."
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان
کیا کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے انھوں نے سعید مقبری سے انھوں نے کہا مجھ کو
میرے باپ (ابوسعیدمقبری) نے خبر دی انھوں نے عبداللہ بن ودیعہ سے انھوں نے
سلمان فارسی سے۔ انھوں نے کہا نبی ﷺ نے فرمایا جو آدمی جمعہ کے دن غسل
کرے اور جہاں تک صفائی کر سکتا ہے کرے اور اپنے تیل میں سے تیل لگائے یا
اپنے گھر (والوں) کی خوشبو میں سے لگائے ۔ پھر نماز کے لیے نکلے (مسجد میں
آئے) تو دو کے بیچ میں نہ گھسے، پھر جتنی نماز اس کی تقدیر میں ہے پڑھے
(یعنی سنّت نفل) اور جب امام خطبہ پڑھتا ہو اس وقت خاموش رہے تو اس جمعہ سے
لے کر دوسرے جمعہ تک کے گناہ اس کے بخش دیے جائیں گے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ
الزُّهْرِيِّ، قَالَ طَاوُسٌ قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ ذَكَرُوا أَنَّ
النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " اغْتَسِلُوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ
وَاغْسِلُوا رُءُوسَكُمْ وَإِنْ لَمْ تَكُونُوا جُنُبًا، وَأَصِيبُوا مِنَ
الطِّيبِ ". قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَمَّا الْغُسْلُ فَنَعَمْ، وَأَمَّا
الطِّيبُ فَلاَ أَدْرِي
Narrated
By Tawus : I said to Ibn 'Abbas, "The people are narrating that the
Prophet said, 'Take a bath on Friday and wash your heads (i.e. take a
thorough bath) even though you were not Junub and use perfume'." On that
Ibn 'Abbas replied, "I know about the bath, (i.e. it is essential) but I
do not know about the perfume (i.e. whether it is essential or not.)"
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا
کہا ہم کو شعیب نے خبر دی انھوں نے زہری سے کہ طاؤس بن کیسان نے ابن عباسؓ
سے پوچھا لوگ کہتے ہیں نبیﷺ نے فرمایا جمعہ کے دن غسل کرو اور اپنے سر دھوؤ
، اگرچہ تم کو نہانے کی حاجت نہ ہو اور خوشبو لگاؤ۔ ابن عباسؓ نے کہا غسل
کا حکم تو (صحیح ہے) بےشک، خوشبو کا حال مجھ کو معلوم نہیں۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، أَنَّ
ابْنَ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ
مَيْسَرَةَ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّهُ
ذَكَرَ قَوْلَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الْغُسْلِ يَوْمَ
الْجُمُعَةِ فَقُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ أَيَمَسُّ طِيبًا أَوْ دُهْنًا إِنْ
كَانَ عِنْدَ أَهْلِهِ فَقَالَ لاَ أَعْلَمُهُ
Narrated By Tawus : Ibn 'Abbas mentioned the statement of the Prophet
regarding the taking of a bath on Friday and then I asked him whether
the Prophet (p.b.u.h) had ordered perfume or (hair) oil to be used if
they could be found in one's house. He (Ibn 'Abbas) replied that he did
not know about it.
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان
کیا کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی ابن جریج نے ان کو خبر دی کہا مجھ
کو ابراہیم بن میسرہ نے خبر دی انھوں نے طاؤس سے انھوں نے ابن عباسؓ سے
انھوں نے نبیﷺ کا فرمانا جمعہ کے غسل کے باب میں بیان کیا ۔طاؤس نے کہا میں
نے ابن عباسؓ سے پوچھا اگر اس کے گھر والوں کے پاس تیل یا خوشبو ہو تو وہ
بھی لگا ئے ، انھوں نے کہا مجھے معلوم نہیں ۔
7. To wear the best available clothes
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ
نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ
الْخَطَّابِ، رَأَى حُلَّةَ سِيَرَاءَ عِنْدَ باب الْمَسْجِدِ فَقَالَ يَا
رَسُولَ اللَّهِ، لَوِ اشْتَرَيْتَ هَذِهِ فَلَبِسْتَهَا يَوْمَ
الْجُمُعَةِ وَلِلْوَفْدِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ. فَقَالَ رَسُولُ
اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لاَ خَلاَقَ
لَهُ فِي الآخِرَةِ ". ثُمَّ جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه
وسلم مِنْهَا حُلَلٌ، فَأَعْطَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ـ رضى الله عنه ـ
مِنْهَا حُلَّةً فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَسَوْتَنِيهَا
وَقَدْ قُلْتَ فِي حُلَّةِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى
الله عليه وسلم " إِنِّي لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا ".
فَكَسَاهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ـ رضى الله عنه ـ أَخًا لَهُ بِمَكَّةَ
مُشْرِكًا
Narrated By 'Abdullah
bin 'Umar : Umar bin Al-Khattab saw a silken cloak (being sold) at the
gate of the Mosque and said to Allah's Apostle, "I wish you would buy
this to wear on Fridays and also on occasions of the arrivals of the
delegations." Allah's Apostle replied, "This will be worn by a person
who will have no share (reward) in the Hereafter." Later on similar
cloaks were given to Allah's Apostle and he gave one of them to 'Umar
bin Al-Khattab. On that 'Umar said, "O Allah's Apostle! You have given
me this cloak although on the cloak of Atarid (a cloak merchant who was
selling that silken cloak at the gate of the mosque) you passed such and
such a remark." Allah's Apostle replied, "I have not given you this to
wear". And so 'Umar bin Al-Khattab gave it to his pagan brother in Mecca
to wear.
ہم سے عبداللہ بن
یوسف تنیسی نے بیان کیا کھا ہم کو امام مالک نے خبر دی انھوں نے نافع سے
انھوں نے عبداللہ ابن عمرؓ سے کہ حضرت عمرؓ نے ( بازار میں ) مسجد
کےدروازے کے پاس ایک ریشمی جوڑا بکتا دیکھا تو کھنے لگے یا رسول اللہ ﷺ کاش
اس کو آپؐ مول لے لیں اور جمعہ کے دن اور جب دوسری قوموں کے قاصد آپؐ
کےپاس آتے ہیں پہنا کریں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ تو وہ پہنے گا جس کا
آخرت میں کو ئی حصہ نہیں۔ پھر چند روز کے بعد ایسا ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کے
پاس اسی قسم کے (ریشمی ) کئ جوڑے آئے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان میں سے ایک جوڑا
حضرت عمرؓ کو بھی دیا ۔انھوں نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ یہ جوڑا مجھ کو
پہنا تے ہیں اور ( پہلے ) آپ ہی نے عطا رد کے جوڑے کے باب میں ایسا فرمایا
تھا ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نےاس لیے تجھے نہیں دیا کہ تو خود پہنے
۔آخر حضرت عمرؓ نے وہ جوڑا اپنے ایک مشرک بھا ئی کو پہنا دیا، جو مکّہ
میں رہتا تھا ۔
8. To clean the teeth with Siwak on Friday.
And Abu Sa'id said that the Prophet (s.a.w) used to clean his teeth
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ،
عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله
عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَوْلاَ أَنْ
أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي ـ أَوْ عَلَى النَّاسِ ـ لأَمَرْتُهُمْ
بِالسِّوَاكِ مَعَ كُلِّ صَلاَةٍ "
Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "If I had not found it
hard for my followers or the people, I would have ordered them to clean
their teeth with Siwak for every prayer."
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے
بیان کیا کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی انھوں نے ابو الزناد سے انھوں نے
اعرج سے انھوں نے ابو ہریرہؓ سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگرمجھے اپنی
امّت کی یا لوگوں کی تکلیف کا خیال نہ ہوتا تو میں ان کو یہ حکم دیتا کہ
ہر نماز پر مسوا ک کیا کریں۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ
حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ الْحَبْحَابِ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ، قَالَ قَالَ
رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَكْثَرْتُ عَلَيْكُمْ فِي
السِّوَاكِ
Narrated By Anas :
Allah's Apostle I said, "I have told you repeatedly to (use) the Siwak.
(The Prophet put emphasis on the use of the Siwak.)"
ہم سے ابو معمر (عبداللہ ) نے
بیان کیا ہم سے عبدالوارث نے کہا ہم سے شعیب بن حبحاب نے کہا ہم سے انس بن
مالک نے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے مسواک کے باب میں تم سے بہت کچھ کہا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ
مَنْصُورٍ، وَحُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ كَانَ
النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَشُوصُ فَاهُ
Narrated By Hudhaifa : When the Prophet (p.b.u.h) got up at night (for the night prayer), he used to clean his mouth.
ہم سے محمّد بن کثیر نے بیان
کیا کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی انہوں نے منصور بن معتمر اور حصین بن
عبد الرحمٰن سے ان دونوں نے ابو وائل (بن شفیق بن سلمہ)سے انھوں نےحذیفہ
ابن یمان سے انھوں نے کہا نبیﷺ جب رات کو (تہجّد کے لیے ) اُٹھتےتو اپنے
مُنہ کو مسواک سے رگڑ تے ۔
9. Whoever cleans his teeth with Siwak belonging to someone else.
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ،
قَالَ قَالَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ ـ
رضى الله عنها ـ قَالَتْ دَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ،
وَمَعَهُ سِوَاكٌ يَسْتَنُّ بِهِ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى
الله عليه وسلم فَقُلْتُ لَهُ أَعْطِنِي هَذَا السِّوَاكَ يَا عَبْدَ
الرَّحْمَنِ. فَأَعْطَانِيهِ فَقَصَمْتُهُ ثُمَّ مَضَغْتُهُ،
فَأَعْطَيْتُهُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَنَّ بِهِ وَهْوَ
مُسْتَسْنِدٌ إِلَى صَدْرِي
Narrated By 'Aisha : AbdurRahman bin Abi Bakr came holding a Siwak with
which he was cleaning his teeth. Allah's Apostle looked at him. I
requested Abdur-Rahman to give the Siwak to me and after he gave it to
me I divided it, chewed it and gave it to Allah's Apostle. Then he
cleaned his teeth with it and (at that time) he was resting against my
chest.
ہم سے اسمٰعیل بن ابی اویس نے بیا ن کیا کہا مجھ سے سلیمان بن بلال نے انھوں نے کہا ہشام بن عروہ نےبیان کیا مجھ کو میرے باپ عروہ بن زبیر نےخبر دی انھوں نے حضرت عائشہؓ سے کہ عبدالرحمٰن بن ابی بکر(حضرت عائشہ کے بھائی حجرے میں ) آ ئے ان کے پاس ایک مسواک تھی جس کو وہ کیا کرتے ۔رسول اللہ ﷺ نے (بیماری کی حالت میں)اس کو دیکھا ،میں نے کہا عبد الرحمٰن یہ مسواک مجھ کو دے دے ۔انھوں نے دیدی ۔میں نے اس کو توڑ ڈالا پھر(دانتوں سے چبا کر نرم کر کے) رسول اللہ ﷺ کو دی ۔ آپ ﷺ نےاس کو استعمال کیا اور آپؐ میرے سینے پر ٹیکا دیے ہوئے تھے ۔
10. What should be recited (from the Quran) in the Fajr prayer on Friday.
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَعْدِ
بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ـ هُوَ ابْنُ هُرْمُزَ ـ عَنْ
أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه
وسلم يَقْرَأُ فِي الْجُمُعَةِ فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ {الم *
تَنْزِيلُ} السَّجْدَةَ وَ{هَلْ أَتَى عَلَى الإِنْسَانِ}
Narrated By Abu Huraira : The Prophet used to recite the following in
the Fajr prayer of Friday, "Alif, Lam, Mim, Tanzil" (Surat-as-Sajda #32)
and "Hal-ata-ala-l-Insani" (i.e. Surah-Ad-Dahr #76).
ہم سے ابو نعیم فضل بن دکین نے
بیان کیا کہا ہم سے سفیان ثوری نے انھوں نے سعد بن ابراہیم سےانھوں نے عبد
الرحمٰن بن ہرمز اعرج سے انھوں نے ابو ہریرہؓ سے۔ انھوں نے کہا نبیﷺ جمعہ
کے دن صبح کی نماز میں سورہ الم سجدہ اور ہل اتی علی الانسان پڑھا کرتے ۔
11. To offer the Friday prayer in villages and towns.
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ
الْعَقَدِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ أَبِي
جَمْرَةَ الضُّبَعِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ إِنَّ أَوَّلَ
جُمُعَةٍ جُمِّعَتْ بَعْدَ جُمُعَةٍ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله
عليه وسلم فِي مَسْجِدِ عَبْدِ الْقَيْسِ بِجُوَاثَى مِنَ الْبَحْرَيْنِ
Narrated By Ibn 'Abbas : The first Jumua prayer which was offered after
a Jumua prayer offered at the mosque of Allah's Apostle took place in
the mosque of the tribe of 'Abdul Qais at Jawathi in Bahrain.
ہم سے محمّد بن مُثنّی نے بیان
کیا کہا ہم سے ابو عامر عقدی نے کہا ہم سے ابراہیم بن طہمان نے انھوں نے
ابو جمرہ نظر ابن عبد الرحمٰن ضبعی سے انھوں نے ابن عباسؓ سے انھوں نے کہا
رسول اللہ ﷺ کی مسجد کے بعد پہلا جمعہ جو ہوا وہ عبد القیس کی مسجد میں جو
بحرین کے ملک میں جواثیٰ میں تھی ۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ،
قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنَا سَالِمُ
بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ
اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " كُلُّكُمْ رَاعٍ ". وَزَادَ
اللَّيْثُ قَالَ يُونُسُ كَتَبَ رُزَيْقُ بْنُ حُكَيْمٍ إِلَى ابْنِ
شِهَابٍ ـ وَأَنَا مَعَهُ يَوْمَئِذٍ بِوَادِي الْقُرَى ـ هَلْ تَرَى أَنْ
أُجَمِّعَ. وَرُزَيْقٌ عَامِلٌ عَلَى أَرْضٍ يَعْمَلُهَا، وَفِيهَا
جَمَاعَةٌ مِنَ السُّودَانِ وَغَيْرِهِمْ، وَرُزَيْقٌ يَوْمَئِذٍ عَلَى
أَيْلَةَ، فَكَتَبَ ابْنُ شِهَابٍ ـ وَأَنَا أَسْمَعُ ـ يَأْمُرُهُ أَنْ
يُجَمِّعَ، يُخْبِرُهُ أَنَّ سَالِمًا حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ
عُمَرَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ "
كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، الإِمَامُ رَاعٍ
وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ فِي أَهْلِهِ وَهْوَ
مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا
وَمَسْئُولَةٌ عَنْ رَعِيَّتِهَا، وَالْخَادِمُ رَاعٍ فِي مَالِ سَيِّدِهِ
وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ـ قَالَ وَحَسِبْتُ أَنْ قَدْ قَالَ ـ
وَالرَّجُلُ رَاعٍ فِي مَالِ أَبِيهِ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ
وَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ "
Narrated By Ibn Umar : I heard Allah's Apostle saying, "All of you are
Guardians." Yunis said: Ruzaiq bin Hukaim wrote to Ibn Shihab while I
was with him at Wadi-al-Qura saying, "Shall I lead the Jumua prayer?"
Ruzaiq was working on the land (i.e farming) and there was a group of
Sudanese people and some others with him; Ruzaiq was then the Governor
of Aila. Ibn Shihab wrote (to Ruzaiq) ordering him to lead the Jumua
prayer and telling him that Salim told him that 'Abdullah bin 'Umar had
said, "I heard Allah's Apostle saying, 'All of you are guardians and
responsible for your wards and the things under your care. The Imam
(i.e. ruler) is the guardian of his subjects and is responsible for them
and a man is the guardian of his family and is responsible for them. A
woman is the guardian of her husband's house and is responsible for it. A
servant is the guardian of his master's belongings and is responsible
for them.' I thought that he also said, 'A man is the guardian of his
father's property and is responsible for it. All of you are guardians
and responsible for your wards and the things under your care."
ہم سےبشر بن محمّد نے بیان کیا
کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی کہا ہم کو یونس بن یزید نے انھوں نے
زہری سے کہا ہم کو سالم نے خبر دی ۔انھوں نے اپنے باپ عبداللہ بن عمرؓ
سےکہا ، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ۔ آپؐ فرماتے تھے تم میں ہر شخص نگہبان
ہے لیث بن سعد نے اپنی روایت میں اتنا زیادہ کیا یونس نے کہا رزیق بن حکیم
نے ابن شہاب کو لکھا میں ان دنوں وادی القریٰ میں ابن شہاب کے پاس تھا
،کیا تم سمجھتے ہو میں جمعہ پڑھوں ان دنوں رزیق اپنی زمین میں کھیتی کراتا
تھا ۔ وہاں کچھ حبشی وغیرہ موجود تھے اور (عمر بن عبدالعزیز کی طرف سے )
ایلہ کا حاکم تھا تو ابن شہاب نے جواب لکھا (اور پڑھا ) میں سن رہا تھا کہ
جمعہ پڑھ اور مجھ سے سالم نے بیان کیا انھوں نے عبداللہ بن عمرؓ سے انھوں
نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپؐ فرماتے تھے تم میں سے ہر ایک نگہبان
ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیّت کی پوچھ ہو گی ۔بادشاہ نگہبان ہے اور اس سے
(قیامت کے دن ) اس کی رعیّت کی پوچھ ہو گی اور مرد اپنے گھر والوں کا
نگہبان ہے اس سے اس کی رعیّت کی پوچھ ہو گی اور عورت اپنے خاوند کے مال کی
محافظ ہے اس سے اس کی رعیّت کی پوچھ ہو گی اور نوکر اپنے مالک کے مال کا
نگہبا ن ہے اور اس سے اس کی رعیّت کی پوچھ ہو گی ۔ابن عمر یا سالم یا یونس
نے کہا میں سمجھتا ہوں کہ آپؐ نے یہ بھی فرمایا اور مرد اپنے باپ کے مال
کا نگہبان ہےاور اس سے اس کی رعیّت کی پوچھ ہو گی۔ غرض تم میں ہر شخص
نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیّت کی پوچھ ہو گی ۔
12. Is the taking of a bath (on Friday) necessary for women, boys, and others who do not present themselves for the Jumu’ah (prayer).
And Ibn Umar said, "A bath is compulsory for those on whom the Friday prayer is obligatory"
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ
الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ
سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ سَمِعْتُ
رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ جَاءَ مِنْكُمُ
الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ "
Narrated By 'Abdullah bin 'Umar : I heard Allah's Apostle saying,
"Anyone of you coming for the Jumua prayer should take a bath."
ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا
کہا ہم کو شعیب نے خبر دی انھوں نے زہری سے کہا مجھ سے سالم بن عبداللہؓ
بن عمرؓ نے بیان کیا انھوں نے عبداللہ بن عمرؓ اپنے والد سے سنا وہ کہتے
تھے میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ، آپؐ فرماتے تھے ، تم میں جو کو ئی جمعہ
کی نماز کے لیے آنا چاہے وہ غسل کرے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَفْوَانَ
بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ
الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
قَالَ " غُسْلُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ "
Narrated By Abu Said Al-Khudri : Allah's Apostle said, "The taking of a
bath on Friday is compulsory for every Muslim who has attained the age
of puberty."
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی
نے بیان کیا انھوں نے امام مالک سے انھوں نے صفوان بن سلیم سے انھوں نے
عطاء بن یسار سے انھوں نے ابو سعید خدری سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جمعہ
کے دن غسل کرنا ہر بالغ ( جوان ) پر واجب ہے ۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ،
قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،
قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " نَحْنُ الآخِرُونَ
السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا،
وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ، فَهَذَا الْيَوْمُ الَّذِي اخْتَلَفُوا
فِيهِ فَهَدَانَا اللَّهُ، فَغَدًا لِلْيَهُودِ وَبَعْدَ غَدٍ لِلنَّصَارَى
". فَسَكَتَ.
Narrated By
Abu Huraira : Allah's Apostle said "We are the last (to come amongst the
nations) but (will be) the foremost on the Day of Resurrection. They
were given the Holy Scripture before us and we were given the Qur'an
after them. And this was the day (Friday) about which they differed and
Allah gave us the guidance (for that). So tomorrow (i.e. Saturday) is
the Jews' (day), and the day after tomorrow (i.e. Sunday) is the
Christians'." The Prophet (p.b.u.h) remained silent (for a while)
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا کہا ہم سے وہیب بن خالد نے کہا ہم سے
عبداللہ بن طاؤس نے انھوں نے اپنے باپ طاؤس بن کیسان سے انھوں نے ابو ہریرہ
سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہم لوگ (یعنی مسلمان ) دنیا میں تو بعد میں
آئے مگر قیامت کے دن سب سے آگے ہوں گے ۔اتنی بات بے شک ہے کہ یہود اور
نصاریٰ کو ہم سے پہلے کتاب ملی ہم کو ان کے بعد ، تو یہ جمعہ کا دن وہ ہے
جس میں انھوں نے اختلاف کیا اللہ نے ہم کو یہ دن بتلا دیا ۔کل یہود کا دن
ہے (ہفتہ) اور پرسوں نصاریٰ کا (اتوار) پھر آپؐ خاموش ہو رہے ۔
ثُمَّ قَالَ " حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ أَنْ يَغْتَسِلَ فِي كُلِّ
سَبْعَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا يَغْسِلُ فِيهِ رَأْسَهُ وَجَسَدَهُ "
and then said, "It is obligatory for every Muslim that he should take a
bath once in seven days, when he should wash his head and body."
اس کےبعد فرمایا ہر مسلمان پر سات دن میں ایک دن (جمعہ کو) اپنا سر اور (سارا) بدن دھونا ضروری ہے ۔
رَوَاهُ أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِي
هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لِلَّهِ
تَعَالَى عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ حَقٌّ أَنْ يَغْتَسِلَ فِي كُلِّ سَبْعَةِ
أَيَّامٍ يَوْمًا "
Narrated Abu
Huraira through different narrators that the Prophet said, "It is
Allah's right on every Muslim that he should take a bath (at least) once
in seven days."
اس حدیث کو
ابان بن صالح نے مجاہد سے روایت کیا انھوں نے طاؤس سے انھوں نے ابو ہریرہ
سےؓ سے کہا کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ کا حق ہے ہر مسلمان پر کہ سات دن میں
ایک دن (یعنی جمعہ کے دن ) نہائے ۔
13. Chapter
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ،
حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ
ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " ائْذَنُوا
لِلنِّسَاءِ بِاللَّيْلِ إِلَى الْمَسَاجِدِ ".
Narrated By Ibn Umar : The Prophet (p.b.u.h) said, "Allow women to go to the Mosques at night."
ہم سے عبداللہ بن محمّد مسندی
نے بیان کیا کہا ہم سے شبابہ نے کہا ہم سے ورقاء بن عمرو نے انھوں نے عمرو
بن دینار سے انھوں نے مجاہد سے انھوں نے عبداللہ بن عمرؓ سے انھوں نے نبی ﷺ
سے آپؐ نے فرمایا عورتوں کو رات کو مسجدوں میں جانے دو ۔
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ
كَانَتِ امْرَأَةٌ لِعُمَرَ تَشْهَدُ صَلاَةَ الصُّبْحِ وَالْعِشَاءِ فِي
الْجَمَاعَةِ فِي الْمَسْجِدِ، فَقِيلَ لَهَا لِمَ تَخْرُجِينَ وَقَدْ
تَعْلَمِينَ أَنَّ عُمَرَ يَكْرَهُ ذَلِكَ وَيَغَارُ قَالَتْ وَمَا
يَمْنَعُهُ أَنْ يَنْهَانِي قَالَ يَمْنَعُهُ قَوْلُ رَسُولِ اللَّهِ صلى
الله عليه وسلم " لاَ تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ مَسَاجِدَ اللَّهِ "
Narrated By Ibn Umar : One of the wives of Umar (bin Al-Khattab) used
to offer the Fajr and the 'Isha prayer in congregation in the Mosque.
She was asked why she had come out for the prayer as she knew that Umar
disliked it, and he has great ghaira (self-respect). She replied, "What
prevents him from stopping me from this act?" The other replied, "The
statement of Allah's Apostle (p.b.u.h) : 'Do not stop Allah's
women-slave from going to Allah s Mosques' prevents him."
ہم سے یوسف بن موسیٰ نے بیان
کیا کہا ہم سے ابو اسامہ حماد بن اسامہ نے کہا ہم سے عبید اللہ بن عمر نے
انھوں نے نافع سے انھوں نے ابن عمرؓ سے انھوں نے کہا حضرت عمرؓ کی ایک عورت
صبح اور عشاء کی جماعت میں مسجد میں آیا کرتی ۔اس سے پوچھا تو کیوں باہر
نکلتی ہے کہ جانتی ہے کہ عمرؓ اس کو برا جانتے ہیں اور ان کو غیرت آتی ہے ۔
اس نے کہا پھر وہ منع کیوں نہیں کرتے ۔ لوگوں نے کہا رسول اللہ ﷺ کی حدیث
کی وجہ سے ۔ آپؐ نے فرمایا اللہ کی باندیوں کو اللہ کی مسجدوں میں آنے سے
نہ روکو۔
14. It is permissible for one not to attend the Friday prayer if it is raining.
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ أَخْبَرَنِي
عَبْدُ الْحَمِيدِ، صَاحِبُ الزِّيَادِيِّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ
اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ابْنُ عَمِّ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ ابْنُ
عَبَّاسٍ لِمُؤَذِّنِهِ فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ إِذَا قُلْتَ أَشْهَدُ أَنَّ
مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ. فَلاَ تَقُلْ حَىَّ عَلَى الصَّلاَةِ.
قُلْ صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ. فَكَأَنَّ النَّاسَ اسْتَنْكَرُوا، قَالَ
فَعَلَهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي، إِنَّ الْجُمُعَةَ عَزْمَةٌ، وَإِنِّي
كَرِهْتُ أَنْ أُخْرِجَكُمْ، فَتَمْشُونَ فِي الطِّينِ وَالدَّحْضِ
Narrated By Muhammad bin Sirin : On a rainy day Ibn Abbas said to his
Muadh-dhin, "After saying, 'Ash-hadu anna Muhammadan Rasulullah' (I
testify that Muhammad is Allah's Apostle), do not say 'Haiya
'Alas-Salat' (come for the prayer) but say 'Pray in your houses'." (The
man did so). But the people disliked it. Ibn Abbas said, "It was done by
one who was much better than I (i.e. the Prophet (p.b.u.h)). No doubt,
the Jumua prayer is compulsory but I dislike to put you to task by
bringing you out walking in mud and slush."
ہم سے مسدد نے بیان کیا کہا ہم
سے اسمٰعیل بن علیہ نے کہا ہم کو عبدالحمید صاحب الزیادی نے خبر دی کہا ہم
سے عبداللہ بن حارث نے بیان کیا جو محمد بن سیرین کے چچا زاد بھائی تھے کہ
ابن عباسؓ نے برسات کے دن میں اپنے مؤذن سے کہا جب تو (اذان میں ) اشہد ان
محمد الرّسول اللہ کہہ لے تو اب حیّ علی الصلٰوۃ مت کہہ بلکہ یوں پکار دے
لوگو اپنے اپنے گھروں میں نماز پڑھو ۔اس بات پر جو لوگ حاضر تھے ان کو
تعجّب ھوا ۔ابن عباسؓ نے کہا یہ تو انہوں نے کیا جو مجھ سے بہتر تے (یعنی
نبی ﷺ نے ) جمعہ فرض ہے اور میں نے پسند نہیں کیا کہ تم کو کیچڑ اور
پھسلوان میں نکال کر چلاؤں۔
15. From where (distance) should one present oneself for the Friday prayer and for whom is the Friday prayer compulsory.
The
Statement of Allah, "... When the call is proclaimed for the Salat on
Friday, come to the remembrance of Allah" (V.62:9)
And Ata said, "If you are in a village and the Adhan is pronounced for
the Friday prayer, it is obligatory for you to present yourself for the
prayer whether you hear the Adhan or not. And at times, Anas used to
establish the Friday prayer at his place and sometimes he did not, while
he was at a place called Az-Zawiya, situated at a distance of two
parasangs (about six miles from Basrah)"
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي
جَعْفَرٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، حَدَّثَهُ عَنْ
عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله
عليه وسلم قَالَتْ كَانَ النَّاسُ يَنْتَابُونَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مِنْ
مَنَازِلِهِمْ وَالْعَوَالِي، فَيَأْتُونَ فِي الْغُبَارِ، يُصِيبُهُمُ
الْغُبَارُ وَالْعَرَقُ، فَيَخْرُجُ مِنْهُمُ الْعَرَقُ، فَأَتَى رَسُولَ
اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنْسَانٌ مِنْهُمْ وَهْوَ عِنْدِي، فَقَالَ
النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لَوْ أَنَّكُمْ تَطَهَّرْتُمْ
لِيَوْمِكُمْ هَذَا "
Narrated
By 'Aisha : (The wife of the Prophet) The people used to come from their
abodes and from Al-'Awali (i.e. outskirts of Medina up to a distance of
four miles or more from Medina). They used to pass through dust and
used to be drenched with sweat and covered with dust; so sweat used to
trickle from them. One of them came to Allah's Apostle who was in my
house. The Prophet said to him, "I wish that you keep yourself clean on
this day of yours (i.e. take a bath)."
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا
کہا ہم سے عبد اللہ بن وہب نے کہا مجھ کو عمرو بن حارث نے خبر دی انھوں نے
عبید اللہ ابن ابی جعفر سے ان سے محمد بن جعفر بن زبیر نے بیان کیا انھوں
نے عروہ بن زبیر سے انھوں نے حضرت عائشہؓ سے جو نبیﷺ کی بی بی تھیں انھوں
نے کہا لوگ اپنے اپنے گھروں اور مدینہ کے اطراف بلند گاؤں سے باری باری
جمعہ میں حاضر ہوتے رستے میں ان پر گرد پڑتی، پسینہ آجاتا، خوب پھوٹ نکلتا
(کپڑوں سے بو آنے لگتی) ان میں سے ایک شخص رسول اللہﷺ کے پاس آیا ۔آپﷺ
میرے پاس بیٹھے تھے ۔نبیﷺ نے فرمایا تم اس دن کے لیے صفائی کیا کرو تو بہتر
ہوگا۔
16. The time for the Jumu’ah (prayer) due when the sun declines, i.e., just after mid-day.
The same was by said by Umar, Ali, An-Numan bin Bashir and Ami bin Huraith
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَأَلَ عَمْرَةَ عَنِ
الْغُسْلِ، يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَتْ قَالَتْ عَائِشَةُ ـ رضى الله
عنها ـ كَانَ النَّاسُ مَهَنَةَ أَنْفُسِهِمْ، وَكَانُوا إِذَا رَاحُوا
إِلَى الْجُمُعَةِ رَاحُوا فِي هَيْئَتِهِمْ فَقِيلَ لَهُمْ لَوِ
اغْتَسَلْتُمْ
Narrated By Yahya
bin Said : I asked 'Amra about taking a bath on Fridays. She replied,
"'Aisha said, 'The people used to work (for their livelihood) and
whenever they went for the Jumua prayer, they used to go to the mosque
in the same shape as they had been in work. So they were asked to take a
bath on Friday.' "
ہم سے عبدان(عبداللہ بن عثمان)
نے بیان کیا کہا ہم کو عبداللہ ابن مبارک نے خبر دی کہا ہم کو یحییٰ بن
سعید نے انھوں نے عمرہ بنت عبدالرحمٰن سے پوچھا جمعہ کے دن غسل کا کیا حکم
ہے انھوں نے کہا حضرت عائشہؓ کہتی تھیں (آپﷺ کے عہد میں ) لوگ اپنے کام کاج
آپ کیا کرتے وہ (سورج ڈھلے پر ) جب جمعہ کے لیے جاتے تو اسی حالت میں
(میلے کچیلے ) جاتے اس لیے ان کو حکم دیا گیا ، اگر تم غسل کر کے آؤ تو
بہتر ہو گا۔
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، قَالَ حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ
سُلَيْمَانَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ
التَّيْمِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رضى الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ
صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي الْجُمُعَةَ حِينَ تَمِيلُ الشَّمْسُ
Narrated By Anas bin Malik : The Prophet used to offer the Jumua prayer immediately after mid-day.
ہم سے سریج بن نعمان نے بیان
کیا کہا ہم سے فلیح بن سلیمان نے انہوں نے عثمان بن عبدالرحمٰن تیمی سے
انھوں نے انس بن مالکؓ سے کہ نبی ﷺ جمعہ کی نماز اس وقت پڑھتے جب سورج ڈھل
جاتا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ
أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كُنَّا نُبَكِّرُ بِالْجُمُعَةِ،
وَنَقِيلُ بَعْدَ الْجُمُعَةِ
Narrated By Anas bin Malik : We used to offer the Jumua prayer early and then have an afternoon nap.
ہم سے عبدان نے بیان کیا کہا
ہم سے عبداللہ بن مبارک نے کہا ہم کو حمید طویل نے خبر دی انھوں نے انس بن
مالکؓ سے انھوں نے کہا ہم جمعہ سویرے پڑھ لیا کرتے اور جمعہ کے دن نماز کے
بعد آرام کرتے۔
17. If it becomes very hot on Friday?
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، قَالَ
حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو خَلْدَةَ ـ
هُوَ خَالِدُ بْنُ دِينَارٍ ـ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ
كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا اشْتَدَّ الْبَرْدُ بَكَّرَ
بِالصَّلاَةِ، وَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ أَبْرَدَ بِالصَّلاَةِ، يَعْنِي
الْجُمُعَةَ. قَالَ يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ أَخْبَرَنَا أَبُو خَلْدَةَ
فَقَالَ بِالصَّلاَةِ، وَلَمْ يَذْكُرِ الْجُمُعَةَ. وَقَالَ بِشْرُ بْنُ
ثَابِتٍ حَدَّثَنَا أَبُو خَلْدَةَ قَالَ صَلَّى بِنَا أَمِيرٌ
الْجُمُعَةَ ثُمَّ قَالَ لأَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ كَيْفَ كَانَ النَّبِيُّ
صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي الظُّهْرَ
Narrated By Anas bin Malik : The Prophet used to offer the prayer
earlier if it was very cold; and if it was very hot he used to delay the
prayer, i.e. the Jumua prayer.
ہم سے محمّد بن ابی بکر مقدّمی
نے بیان کیا کہا ہم سے حرمی بن عمارہ نے کہا ہم سے ابو خلدہ خالد بن دینار
نے کہا میں نے انس بن مالکؓ سے سنا آپ فرما تے تھے نبی ﷺ جب سخت سردی ہو تی
تو جمعہ کی نماز سویرے پڑھ لیتے اور جب سخت گرمی ہوتی تو ٹھنڈے وقت پڑھتے
اور یونس بن بکیر نے ابو خلدہ سے صرف نماز کا لفظ روایت کیا ہے جمعہ کا
ذکر نہیں کیا ۔ اور بشربن ثابت نے کہا ہم سے ابو خلدہ نے بیان کیا کہ ایک
امیر نے ہم کو جمعہ کی نماز پڑھائی پھر انسؓ سے پوچھا کہ نبی ﷺ ظہر کی نماز
کس وقت پڑھتے تھے ۔
18. To go for the Jumu’ah (prayer) walking unhurriedly.
And
the Statement of Allah, "... Come to the remembrance of Allah" (V.62:9)
and whoever said that the meaning of 'come' is to 'prepare and go for
the Salat' as is inferred from the Statement of Allah, "And strives for
it, with the necessary effort due for it..." (V.17:19)
And Ibn Abbas said, "Selling is forbidden at that time." And Ata said,
"All types of work are forbidden." And narrated by Az-Zuhri, "If the
Adhan is pronounced by the Muadhdin on Friday, anyone on a journey
should attend the Salat"
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ
بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ
حَدَّثَنَا عَبَايَةُ بْنُ رِفَاعَةَ، قَالَ أَدْرَكَنِي أَبُو عَبْسٍ
وَأَنَا أَذْهَبُ، إِلَى الْجُمُعَةِ فَقَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله
عليه وسلم يَقُولُ " مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ "
Narrated By Abu 'Abs : I heard the Prophet saying, "Anyone whose feet
are covered with dust in Allah's cause, shall be saved by Allah from the
Hell-Fire."
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے
بیان کیا کہا ہم سے ولید ابن مسلم نے کہا ہم سے یزید بن ابی مریم نے کہا ہم
سے عبایہ ابن رفاعہ بن رافع بن خدیج نے انھوں نے کہا میں جمعہ کی نماز کے
لیے جا رہا تھا ( رستے میں ) ابو عبس عبدالرحمٰن بن جبیرؓ صحابی مجھ سے ملے
انھوں نے کہا میں نے نبی ﷺ سے سنا آپؐ فرماتے تھے اللہ کی راہ میں جس کے
پاؤں پر گرد پڑے تو اللہ اس کو دوزخ پر حرام کردے گا ۔
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، قَالَ
الزُّهْرِيُّ عَنْ سَعِيدٍ، وَأَبِي، سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى
الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. وَحَدَّثَنَا أَبُو
الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ
أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا
هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ
" إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَلاَ تَأْتُوهَا تَسْعَوْنَ، وَأْتُوهَا
تَمْشُونَ عَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا، وَمَا
فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا "
Narrated By Abu Huraira : Heard Allah's Apostles (p.b.u.h) saying, "If the prayer is
started do not run for it but just walk for it calmly and pray whatever you get, and complete whatever is missed."
started do not run for it but just walk for it calmly and pray whatever you get, and complete whatever is missed."
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان
کیا کہا یم سے عبدالرحمٰن ابن ابی ذئب نے کہا ہم سے زہری نے انھوں نے سعید
بن مسیب اور ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن سے انھوں نے ابوہریرہؓ سے انھوں نے
نبیﷺ سے ، دوسری سند:امام بخاریؒ نے کہا اور ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا
کہا ہم کو شعیب نے خبر دی انھوں نے زہری سے انھوں نے کہا مجھ کو ابوسلمہ بن
عبدالرحمٰن نے خبر دی کہ ابوہریرہؓ نے کہا میں نے رسول اللہﷺ سے سنا آپؐ
فرماتے تھے جب نماز کی تکبیر ہو تو نماز کے لیےدوڑتے ہوئےنہ آؤ بلکہ
(معمولی چال سے) چلتے ہوئے اور آہستگی اور اطمینان کو لازم کر لو ۔ پھر
جتنی نماز (امام کے ساتھ) ملے وہ پڑھ لو اور جتنی نہ ملے اس کو پورا کر لو ۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو قُتَيْبَةَ،
قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي
كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ـ لاَ أَعْلَمُهُ
إِلاَّ عَنْ أَبِيهِ ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ
تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي، وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ "
Narrated By 'Abdullah bin Abi Qatada : On the authority of his
father... The Prophet (p.b.u.h) said, "Do not stand up (for prayer)
unless you see me, and observe calmness and solemnity".
ہم سے عمرو بن علی فلاس نے بیان
کیا کہا ہم سے ابوقتیبہ بن قتیبہ نے کہا ہم سے علی بن مبارک نے انھوں نے
یحییٰ بن ابی کثیر سے انھوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ انصاری سے ، امام
بخاریؒ نے کہا میں سمجھتا ہوں انھوں نے اپنے باپ ابو قتادہ سے انھوں نے
نبیﷺ سے آپؐ نے فرمایا جب تک مجھ کو نہ دیکھو نہ اٹھو اور آہستگی سے چلنا
لازم کر لو ۔
19. One should not separate two persons (sitting together in a row) on Fridays.
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ
أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ
أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ وَدِيعَةَ، عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ، قَالَ قَالَ
رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ
الْجُمُعَةِ، وَتَطَهَّرَ بِمَا اسْتَطَاعَ مِنْ طُهْرٍ، ثُمَّ ادَّهَنَ
أَوْ مَسَّ مِنْ طِيبٍ، ثُمَّ رَاحَ فَلَمْ يُفَرِّقْ بَيْنَ اثْنَيْنِ،
فَصَلَّى مَا كُتِبَ لَهُ، ثُمَّ إِذَا خَرَجَ الإِمَامُ أَنْصَتَ، غُفِرَ
لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الأُخْرَى "
Narrated By Salman Al-Farsi : Allah's Apostle (p.b.u.h) said, "Anyone
who takes a bath on Friday and cleans himself as much as he can and puts
oil (on his hair) or scents himself; and then proceeds for the prayer
and does not force his way between two persons (assembled in the mosque
for the Friday prayer), and prays as much as is written for him and
remains quiet when the Imam delivers the Khutba, all his sins in between
the present and the last Friday will be forgiven."
ہم سے عبدان نے بیان کیا کہا ہم
سے عبداللہ بن مبارک نے کہا ہم کو ابن ابی ذئب نے خبر دی انھوں نے سعید
مقبری سے انھوں نے اپنے باپ ابوسعید سے انھوں نے عبداللہ بن ودیعہ سے انھوں
نے سلمان فارسی سے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے اور
جہاں تک صفائی کر سکتا ہے صفائی اور طہارت کرے پھر تیل یا خوشبُو لگائے
پھر چلے اور (مسجد میں آکر) دو کے بیچ میں نہ گھسے اور جتنی اس کی قسمت میں
لکھی ہے (نفل) نماز پڑھے ۔ پھر جب امام برآمد ہو (خطبہ شروع کرے ) تو
خاموش رہے ۔ اس کے گناہ اس جمعہ سےلےکردوسرے جمعہ تک بخش دیے جایئں گے ۔
20. A man should not make his brother get up to sit in his place on Friday.
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ
أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ سَمِعْتُ نَافِعًا، يَقُولُ سَمِعْتُ
ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه
وسلم أَنْ يُقِيمَ الرَّجُلُ أَخَاهُ مِنْ مَقْعَدِهِ وَيَجْلِسَ فِيهِ.
قُلْتُ لِنَافِعٍ الْجُمُعَةَ قَالَ الْجُمُعَةَ وَغَيْرَهَا
Narrated By Ibn Juraij : I heard Nazi' saying, "Ibn Umar, said, 'The Prophet forbade that a
man should make another man to get up to sit in his place' ". I said to Nafi', 'Is it for
Jumua prayer only?' He replied, "For Jumua prayer and any other (prayer)."
man should make another man to get up to sit in his place' ". I said to Nafi', 'Is it for
Jumua prayer only?' He replied, "For Jumua prayer and any other (prayer)."
ہم سے محمد بن سلام بیکندی نے
بیان کیا کہا ہم کو مخلد بن یزید نے خبر دی کہا ہم کو ابن جریج نے کہا میں
نے نافع سے سنا وہ کہتے تھے میں نے عبد اللہ بن عمرؓ سے سنا وہ کہتے تھے
نبیﷺ نے اس سے منع فرمایا کہ کوئی آدمی دوسرے آدمی (مسلمان کو) اس کی جگہ
سے اُٹھا کر خود وہاں بیٹھے ۔ ابن جریج نے کہا میں نے نافع سے پوچھا کیا یہ
جمعہ کے دن کا حکم ہے ۔ انھوں نے کہا جمعہ غیر جمعہ سب میں ۔
21. Adhan on Friday (for the Jumu’ah prayer).
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ
الزُّهْرِيِّ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ كَانَ النِّدَاءُ
يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَوَّلُهُ إِذَا جَلَسَ الإِمَامُ عَلَى الْمِنْبَرِ
عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ـ رضى
الله عنهما ـ فَلَمَّا كَانَ عُثْمَانُ ـ رضى الله عنه ـ وَكَثُرَ
النَّاسُ زَادَ النِّدَاءَ الثَّالِثَ عَلَى الزَّوْرَاءِ
Narrated By As-Saib bin Yazid : In the life-time of the Prophet, Abu Bakr and Umar, the
Adhan for the Jumua prayer used to be pronounced when the Imam sat on the pulpit. But
during the Caliphate of 'Uthman when the Muslims increased in number, a third Adhan at Az
-Zaura' was added. Abu 'Abdullah said, "Az-Zaura' is a place in the market of Medina."
Adhan for the Jumua prayer used to be pronounced when the Imam sat on the pulpit. But
during the Caliphate of 'Uthman when the Muslims increased in number, a third Adhan at Az
-Zaura' was added. Abu 'Abdullah said, "Az-Zaura' is a place in the market of Medina."
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان
کیا کہا ہم سے محمد بن عبد الرحمٰن ابن ابی ذئب نے انھوں نے زہری سے ا
نھوں نے سائب بن یزید سے انھوں نے کہا نبیﷺ کے زمانے میں اور ابوبکرؓ اور
عمرؓ کے زمانے میں بھی جمعہ کے دن پہلی اذان اس وقت ہوا کرتی جب امام (خطبے
کے لیے ) منبر پر بیٹھاکرتا ، حضرت عثمانؓ کے زمانے میں جب لوگ بہت ہوگئے
(مدینہ کی آبادی بڑھ گئی ) انھوں نے زورا ء پر تیسری اذان بڑھائی ۔ امام
بخاریؒ نے کہا زوراءمدینہ کے بازار میں ایک مقام کا نام ہے ۔
22. One Mu’adh-dhin on Friday
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ
أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ
يَزِيدَ، أَنَّ الَّذِي، زَادَ التَّأْذِينَ الثَّالِثَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ
عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ ـ رضى الله عنه ـ حِينَ كَثُرَ أَهْلُ
الْمَدِينَةِ، وَلَمْ يَكُنْ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُؤَذِّنٌ
غَيْرَ وَاحِدٍ، وَكَانَ التَّأْذِينُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ حِينَ يَجْلِسُ
الإِمَامُ، يَعْنِي عَلَى الْمِنْبَرِ
Narrated By As-Saib bin Yazid : The person who increased the number of Adhans for the Jumua
prayers to three was Uthman bin Affan and it was when the number of the (Muslim) people of
Medina had increased. In the life-time of the Prophet there was only one Muadh-dhin and
the Adhan used to be pronounced only after the Imam had taken his seat (i.e. on the
pulpit).
prayers to three was Uthman bin Affan and it was when the number of the (Muslim) people of
Medina had increased. In the life-time of the Prophet there was only one Muadh-dhin and
the Adhan used to be pronounced only after the Imam had taken his seat (i.e. on the
pulpit).
ہم سے ابو نعیم فضل بن دکین نے
بیان کیا کہا ہم سے عبدالعزیز ابن ابی سلمہ ماجشون نے انھوں نے زہری سے
انھوں نے سائب ابن یزید سے انھوں نے کہا تیسری اذان جمعہ کے دن حضرت عثمانؓ
نے بڑھائی جب مدینہ کی آبادی بڑھ گئی تھی اور نبی ﷺ کا ایک ہی مؤذن جمعہ
میں اذان دیتا اور وہ بھی اس وقت جب امام منبر پر بیٹھتا ۔
23. The Imam while sitting on the pulpit, repeats the wording of the Adhan when he hears it.
حَدَّثَنَا ابْنُ مُقَاتِلٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ
أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ
بْنَ أَبِي سُفْيَانَ،، وَهُوَ جَالِسٌ عَلَى الْمِنْبَرِ، أَذَّنَ
الْمُؤَذِّنُ قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ. قَالَ
مُعَاوِيَةُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ. قَالَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ
إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ. فَقَالَ مُعَاوِيَةُ وَأَنَا. فَقَالَ
أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ. فَقَالَ مُعَاوِيَةُ
وَأَنَا. فَلَمَّا أَنْ قَضَى التَّأْذِينَ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ
إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى هَذَا
الْمَجْلِسِ حِينَ أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ يَقُولُ مَا سَمِعْتُمْ مِنِّي
مِنْ مَقَالَتِي
Narrated By Abu Umama bin Sahl bin Hunaif : I heard Muawiya bin Abi Sufyan (repeating the
statements of the Adhan) while he was sitting on the pulpit. When the Muadh-dhin
pronounced the Adhan saying, "Allahu-Akbar, Allahu Akbar", Muawiya said: "Allah Akbar,
Allahu Akbar." And when the Muadh-dhin said, "Ash-hadu an la ilaha illal-lah (I testify
that none has the right to be worshipped but Allah)", Muawiya said, "And (so do) I". When
he said, "Ash-hadu anna Muhammadan Rasulullah" (I testify that Muhammad is Allah's
Apostle), Muawiya said, "And (so do) I". When the Adhan was finished, Muawiya said, "O
people, when the Muadh-dhin pronounced the Adhan I heard Allah's Apostle on this very
pulpit saying what you have just heard me saying".
statements of the Adhan) while he was sitting on the pulpit. When the Muadh-dhin
pronounced the Adhan saying, "Allahu-Akbar, Allahu Akbar", Muawiya said: "Allah Akbar,
Allahu Akbar." And when the Muadh-dhin said, "Ash-hadu an la ilaha illal-lah (I testify
that none has the right to be worshipped but Allah)", Muawiya said, "And (so do) I". When
he said, "Ash-hadu anna Muhammadan Rasulullah" (I testify that Muhammad is Allah's
Apostle), Muawiya said, "And (so do) I". When the Adhan was finished, Muawiya said, "O
people, when the Muadh-dhin pronounced the Adhan I heard Allah's Apostle on this very
pulpit saying what you have just heard me saying".
ہم سے محمّد بن مقاتل نے بیان
کیا کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی کہا ہم کو ابو بکر بن عثمان بن
سہل بن حنیف نے انھوں نے ابو امامہ بن سہل بن حنیف سے انھوں نے کہا میں نے
معاویہ بن ابی سفیان سے سنا وہ منبر پر بیٹھے تھے مؤذن نے اذان دی ۔اس نے
کہا اللہ اکبر اللہ اکبر ، معاویہؓ نے بھی کہا اللہ اکبر اللہ اکبر ۔پھر
مؤذن نے کہا اشہد ان لا الٰہ الاّ اللہ ۔ معاویہؓ نے کہا 'و انا ٗ یعنی میں
بھی یہی گواہی دیتا ہوں ۔ پھر مؤذن نے کہا اشھد ان محمّداً رسول اللہ۔
معاویہ نے کہا و انا ۔ جب مؤذن اذان کہہ چکا تو معاویہؓ نے کہا لوگو ! میں
نے رسول اللہ ﷺ سے سنا اسی جگہ یعنی منبر پر آپؐ بیٹھے تھے مؤذن نے اذان دی
تو آپؐ یہی فرماتے رہے جو تم نے مجھ کو کہتے سنا۔
24. To sit on the pulpit while the Adhan is being pronounced.
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ
عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ، أَخْبَرَهُ
أَنَّ التَّأْذِينَ الثَّانِيَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَمَرَ بِهِ عُثْمَانُ
حِينَ كَثُرَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ، وَكَانَ التَّأْذِينُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ
حِينَ يَجْلِسُ الإِمَامُ
Narrated By As-Sa'ib bin Yazid I : 'Uthman bin 'Affan introduced the second Adhan on
Fridays when the number of the people in the mosque increased. Previously the Adhan on
Fridays used to be pronounced only after the Imam had taken his seat (on the pulpit).
Fridays when the number of the people in the mosque increased. Previously the Adhan on
Fridays used to be pronounced only after the Imam had taken his seat (on the pulpit).
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان
کیا کہا ہم سے لیث بن سعد نے انھوں نے عقیل بن خالد سے انھوں نے ابن شہاب
سے ان سے سائب بن یزید نے بیان کیا کہ جمعہ کے دن دوسری اذان دینے کا حضرت
عثمانؓ نے حکم دیا جب مسجد میں آنے والے بہت ہوگئے اور جمعہ کے دن اذان اس
وقت ہوتی جب امام منبر پر بیٹھتا ۔
25. To pronounce the Adhan before delivering the Khutba.
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ،
قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ السَّائِبَ
بْنَ يَزِيدَ، يَقُولُ إِنَّ الأَذَانَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ كَانَ
أَوَّلُهُ حِينَ يَجْلِسُ الإِمَامُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى الْمِنْبَرِ
فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ـ
رضى الله عنهما ـ فَلَمَّا كَانَ فِي خِلاَفَةِ عُثْمَانَ ـ رضى الله عنه ـ
وَكَثُرُوا، أَمَرَ عُثْمَانُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِالأَذَانِ الثَّالِثِ،
فَأُذِّنَ بِهِ عَلَى الزَّوْرَاءِ، فَثَبَتَ الأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ.
Narrated By Az-Zuhri : I heard As-Saib bin Yazid, saying, "In the
life-time of Allah's Apostle, and Abu Bakr and Umar, the Adhan for the
Jumua prayer used to be pronounced after the Imam had taken his seat on
the pulpit. But when the people increased in number during the caliphate
of 'Uthman, he introduced a third Adhan (on Friday for the Jumua
prayer) and it was pronounced at Az-Zaura' and that new state of affairs
remained so in the succeeding years.
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان
کیا کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی کہا ہم کو یونس بن یزید نے انھوں
نے زہری سے انھوں نے کہا میں نے سائب بن یزید سے سنا وہ کہتے تھے جمعہ کی
پہلی اذان رسول اللہﷺ کےزمانے میں اس وقت ہوتی جب امام (خطبے کے لیے ) منبر
پر بیٹھتا اور ابو بکرؓ اور عمرؓ کے زمانے میں بھی ایسا ہی ہوتا رہا۔ جب
حضرت عثمانؓ کا زمانہ آیا اور نمازی بہت بڑھ گئے تو انھوں نے تیسری اذان کا
حکم دیا ۔ وہ زوراء پر دی گئ پھر یہی دستور قائم رہا ۔
26. (To deliver) the Khutba on the pulpit.
And Anas said, "The Prophet (s.a.w) delivered the Khutba on the pulpit"
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ
عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدٍ
الْقَارِيُّ الْقُرَشِيُّ الإِسْكَنْدَرَانِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو
حَازِمِ بْنُ دِينَارٍ، أَنَّ رِجَالاً، أَتَوْا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ
السَّاعِدِيَّ، وَقَدِ امْتَرَوْا فِي الْمِنْبَرِ مِمَّ عُودُهُ
فَسَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ وَاللَّهِ إِنِّي لأَعْرِفُ مِمَّا هُوَ،
وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ أَوَّلَ يَوْمٍ وُضِعَ، وَأَوَّلَ يَوْمٍ جَلَسَ
عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى
الله عليه وسلم إِلَى فُلاَنَةَ ـ امْرَأَةٍ قَدْ سَمَّاهَا سَهْلٌ ـ "
مُرِي غُلاَمَكِ النَّجَّارَ أَنْ يَعْمَلَ لِي أَعْوَادًا أَجْلِسُ
عَلَيْهِنَّ إِذَا كَلَّمْتُ النَّاسَ ". فَأَمَرَتْهُ فَعَمِلَهَا
مِنْ طَرْفَاءِ الْغَابَةِ ثُمَّ جَاءَ بِهَا، فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ
اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَ بِهَا فَوُضِعَتْ هَا هُنَا، ثُمَّ
رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى عَلَيْهَا، وَكَبَّرَ
وَهْوَ عَلَيْهَا، ثُمَّ رَكَعَ وَهْوَ عَلَيْهَا، ثُمَّ نَزَلَ
الْقَهْقَرَى فَسَجَدَ فِي أَصْلِ الْمِنْبَرِ ثُمَّ عَادَ، فَلَمَّا
فَرَغَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ " أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا
صَنَعْتُ هَذَا لِتَأْتَمُّوا وَلِتَعَلَّمُوا صَلاَتِي ".
Narrated By Abu Hazim bin Dinar : Some people went to Sahl bin Sad As-Sa'idi and told him
that they had different opinions regarding the wood of the pulpit. They asked him about it
and he said, "By Allah, I know of what wood the pulpit was made, and no doubt I saw it on
thy very first day when Allah's Apostle I took his seat on it. Allah's Apostle sent for
such and such an Ansari woman (and Sahl mentioned her name) and said to her, 'Order your
slave-carpenter to prepare for me some pieces of wood (i.e. pulpit) on which I may sit at
the time of addressing the people.' So she ordered her slave-carpenter and he made it from
the tamarisk of the forest and brought it (to the woman). The woman sent that (pulpit) to
Allah's Apostle who ordered it to be placed here. Then I saw Allah's Apostle praying on it
and then bowed on it. Then he stepped back, got down and prostrated on the ground near the
foot of the pulpit and again ascended the pulpit. After finishing the prayer he faced the
people and said, 'I have done this so that you may follow me and learn the way I pray.'"
that they had different opinions regarding the wood of the pulpit. They asked him about it
and he said, "By Allah, I know of what wood the pulpit was made, and no doubt I saw it on
thy very first day when Allah's Apostle I took his seat on it. Allah's Apostle sent for
such and such an Ansari woman (and Sahl mentioned her name) and said to her, 'Order your
slave-carpenter to prepare for me some pieces of wood (i.e. pulpit) on which I may sit at
the time of addressing the people.' So she ordered her slave-carpenter and he made it from
the tamarisk of the forest and brought it (to the woman). The woman sent that (pulpit) to
Allah's Apostle who ordered it to be placed here. Then I saw Allah's Apostle praying on it
and then bowed on it. Then he stepped back, got down and prostrated on the ground near the
foot of the pulpit and again ascended the pulpit. After finishing the prayer he faced the
people and said, 'I have done this so that you may follow me and learn the way I pray.'"
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان
کیا کہا ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن ابن محمد بن عبداللہ بن قاری قرشی
اسکندر رانی نے کہا ہم سے ابوحازم (سلمہ) بن دینار نے کہ کچھ لوگ سہل بن
سعد ساعدی کے پاس آئے وہ آپﷺ کے منبر میں جھگڑ رہے تھے کہ اس کی لکڑی کس
درخت کی تھی۔ ان سے پوچھا انھوں نے کہا قسم خدا کی میں جانتا ہوں وہ کون سی
لکڑی تھی اور جس دن وہ رکھا گیا اور جب پہلے پہل رسول اللہﷺ اس پر بیٹھیے
ہیں اس کو بھی جانتا ہوں ۔ ہوا یہ کہ رسول اللہﷺ نے انصاری فلانی عورت کے
پاس کہلا بھیجا (سہل نے اس کا نام بھی لیا ) اپنے غلام سے کہہ جو بڑھئ ہے
وہ ایسی لکڑیاں مجھ کو بنا دے کہ لوگوں کو وعظ سناتے وقت اس پر بیٹھ جایا
کروں اس نے اپنے غلام کو حکم دیا اور غلام نے غابہ کے جھاؤ کا منبر بنایا
اور اس عورت کے پاس لے آیا ۔ اس نے رسول اللہﷺ کے پاس بھیج دیا ۔ آپؐ نے
حکم دیا وہ (مسجد میں) رکھا گیا ۔ سہل کہتے ہیں پھر میں نے رسول اللہﷺ کو
دیکھا آپؐ نے اسی پر نماز شروع کردی ، تکبیر کہی ،پھر رکوع بھی اسی پر کیا
، پھر رکوع کے بعد الٹے پاؤں نیچے اترے اور اتر کر اس کی جڑ میں سجدہ کیا ۔
پھر منبر پر چلے گئے (دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کیا ) جب نماز سے فارغ
ہوئےتو لوگوں کی طرف منہ کیا فرمایا میں نے یہ اس لیے کیا کہ تم میری پیروی
کرو اور میری نماز سیکھ جاؤ ۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ
بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي
ابْنُ أَنَسٍ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كَانَ
جِذْعٌ يَقُومُ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا وُضِعَ
لَهُ الْمِنْبَرُ سَمِعْنَا لِلْجِذْعِ مِثْلَ أَصْوَاتِ الْعِشَارِ حَتَّى
نَزَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهِ. قَالَ
سُلَيْمَانُ عَنْ يَحْيَى أَخْبَرَنِي حَفْصُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ
أَنَسٍ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا.
Narrated By Jabir bin 'Abdullah : The Prophet used to stand by a stem of a date-palm tree
(while delivering a sermon). When the pulpit was placed for him we heard that stem crying
like a pregnant she-camel till the Prophet got down from the pulpit and placed his hand
over it.
(while delivering a sermon). When the pulpit was placed for him we heard that stem crying
like a pregnant she-camel till the Prophet got down from the pulpit and placed his hand
over it.
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان
کیا کہا ہم سے محمد بن جعفر بن ابی کثیر نے کہا مجھ کو یحییٰ بن سعید
انصاری نے خبر دی کہا مجھ کو حفص بن عبیداللہ بن انس نے انھوں نے جابر بن
عبداللہ انصاریؓ سے سنا (مسجد نبویﷺ میں )ایک کھجور کی کڑی تھی۔ آپؐ خطبہ
سنا تے وقت اس پر کھڑے ہوتے جب آپؐ کے لیے منبر رکھا گیا تو اس کڑی میں سے
ہم نے رونے کی آواز سنی جیسے دس مہینے کی گابھن اونٹنی آواز کرتی ہے ۔ آپؐ
نے جب یہ حال دیکھا تو منبر پر سے اُترے اور اپنا ہاتھ اس پر رکھا (جب وہ
آواز موقوف ہوئی )۔ سلیمان نے یحییٰ سے یوں روایت کی کہ مجھ کو حفص بن
عبیداللہ ابن انس نے خبر دی ۔ انھوں نے جابر سے سنا ۔
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ
الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى
الله عليه وسلم يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ " مَنْ جَاءَ إِلَى
الْجُمُعَةِ فَلْيَغْتَسِلْ "
Narrated By Salim : My father said , "I heard the Prophet delivering the Khutba on the
pulpit and he said, 'Whoever comes for the Jumua prayer should take a bath (before
coming).'"
pulpit and he said, 'Whoever comes for the Jumua prayer should take a bath (before
coming).'"
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان
کیا کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے انھوں نے زہری سے انھوں نے سالم بن عبداللہ
بن عمرؓ سے انھوں نے اپنے باپ عبداللہ بن عمرؓ سے انھوں نے کہا نبیﷺ منبر
پر خطبہ پڑھ رہے تھے ۔میں نے سنا آپؐ فرماتے تھے جو کوئی جمعہ کے لیے آئے
وہ غسل کرے ۔
27. To deliver the Khutba while standing.
And Anas said, "While the Prophet (s.a.w) was delivering the Khutba standing ..."
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، قَالَ
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ،
عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَ
النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ قَائِمًا ثُمَّ يَقْعُدُ ثُمَّ
يَقُومُ، كَمَا تَفْعَلُونَ الآنَ
Narrated By Ibn Umar : The Prophet (p.b.u.h) used to deliver the Khutba while standing and
then he would sit, then stand again as you do now-a-days.
then he would sit, then stand again as you do now-a-days.
ہم سے عبیداللہ بن عمر قواریری
نے بیان کیا کہا ہم سے خالد بن حارث نے کہا ہم سے عبیداللہ بن عمرؓ نےانھوں
نے نافع سے انھوں نے عبداللہ بن عمر سے انھوں نےکہا نبیﷺ کھڑے ہو کر خطبہ
پڑھتے پھر (پہلے خطبہ کے بعد) بیٹھتے ، پھر کھڑے ہوتے جیسے تم اس وقت کرتے
ہو
28. The facing of the Imam towards the people and the facing of the people towards the Imam during the Khutba.
And Ibn Umar and Anas faced the Imam.
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ
يَحْيَى، عَنْ هِلاَلِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ
يَسَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، قَالَ إِنَّ
النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم جَلَسَ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى الْمِنْبَرِ
وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ.
Narrated By Abu Said Al-Khudri : One day the Prophet sat on the pulpit and we sat around him.
ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان
کیا کہا ہم سے ہشام دستوائی نے انہوں نے یحیی بن ابی کثیر سے انہوں نے ہلال
بن ابی میمونہ سے انہوں نے کہا ہم سے عطاء بن یسار نے بیان کیا انہوں نے
ابو سعید خدریؓ سے سنا کہ ایک دن نبی ﷺ منبر پر بیٹھے اور ہم (سب) آپؐ کے
گرداگرد بیٹھے ۔
29. Saying “Amma ba’du” in the Khutba after glorifying and praising Allah.
Ibn Abbas quoted this from the Prophet (s.a.w)
وَقَالَ مَحْمُودٌ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ
بْنُ عُرْوَةَ، قَالَ أَخْبَرَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ الْمُنْذِرِ، عَنْ
أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ ـ رضى
الله عنها ـ وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ قُلْتُ مَا شَأْنُ النَّاسِ فَأَشَارَتْ
بِرَأْسِهَا إِلَى السَّمَاءِ. فَقُلْتُ آيَةٌ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا
أَىْ نَعَمْ. قَالَتْ فَأَطَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
جِدًّا حَتَّى تَجَلاَّنِي الْغَشْىُ وَإِلَى جَنْبِي قِرْبَةٌ فِيهَا
مَاءٌ فَفَتَحْتُهَا فَجَعَلْتُ أَصُبُّ مِنْهَا عَلَى رَأْسِي،
فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ تَجَلَّتِ
الشَّمْسُ، فَخَطَبَ النَّاسَ، وَحَمِدَ اللَّهَ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ
قَالَ " أَمَّا بَعْدُ ". قَالَتْ وَلَغِطَ نِسْوَةٌ مِنَ
الأَنْصَارِ، فَانْكَفَأْتُ إِلَيْهِنَّ لأُسَكِّتَهُنَّ فَقُلْتُ
لِعَائِشَةَ مَا قَالَ قَالَتْ قَالَ " مَا مِنْ شَىْءٍ لَمْ أَكُنْ
أُرِيتُهُ إِلاَّ قَدْ رَأَيْتُهُ فِي مَقَامِي هَذَا حَتَّى الْجَنَّةَ
وَالنَّارَ، وَإِنَّهُ قَدْ أُوحِيَ إِلَىَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي
الْقُبُورِ مِثْلَ ـ أَوْ قَرِيبَ مِنْ ـ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ،
يُؤْتَى أَحَدُكُمْ، فَيُقَالُ لَهُ مَا عِلْمُكَ بِهَذَا الرَّجُلِ
فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ ـ أَوْ قَالَ الْمُوقِنُ شَكَّ هِشَامٌ ـ فَيَقُولُ
هُوَ رَسُولُ اللَّهِ، هُوَ مُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم جَاءَنَا
بِالْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى فَآمَنَّا وَأَجَبْنَا وَاتَّبَعْنَا
وَصَدَّقْنَا. فَيُقَالُ لَهُ نَمْ صَالِحًا، قَدْ كُنَّا نَعْلَمُ إِنْ
كُنْتَ لَتُؤْمِنُ بِهِ. وَأَمَّا الْمُنَافِقُ ـ أَوْ قَالَ
الْمُرْتَابُ شَكَّ هِشَامٌ ـ فَيُقَالُ لَهُ مَا عِلْمُكَ بِهَذَا
الرَّجُلِ فَيَقُولُ لاَ أَدْرِي، سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا
فَقُلْتُهُ ". قَالَ هِشَامٌ فَلَقَدْ قَالَتْ لِي فَاطِمَةُ
فَأَوْعَيْتُهُ، غَيْرَ أَنَّهَا ذَكَرَتْ مَا يُغَلِّظُ عَلَيْهِ.
Narrated Fatima bint Al-Mundhir:Asma bint Abi Bakr Assiddiq said,"I
went to Aisha and the people were praying.I asked her,"what is wrong
with the people? she pointed towards the sky with her head.I asked
her"Is there a sign?'Aisha nodded with her head meaning 'yes' " Asma
added, "Allah's Apostle(s..a.w) prolonged the prayer to such an extent
that i fainted.There was a waterskin by my side and i opened it and
poured some water on my head.When Allah's Apostle(s.a.w.) fininshed (the
prayer), the Solar Eclipse had ended.Then Prophet (s.a.w.) adressed the
people and praised Allah as He deserves and said,"Ama Ba'du'." Asma
further said,"Some Ansari women started talking, so i turned to them in
order to make them quiet.I asked Aisha what the prophet(s.a.w.)had said.
Aisha said he said:"I have seen things at this place of mine which were
never shown to me before;(I have seen) even paradise and hell.And no
doubt it has been inspire to me that you(people) will be put to trail in
your graves like or nearly like the trail of Masih ad-dajjal.( the
Angels) Will come to every one of you and ask him,"What do you know
about this man(The Prophet s.a.w)"? The faithful believer or firm
believer ( Hisham was in doubt which is the right one), will say,"He is
Allah's Apostle and He is Muhammad (s.a.w) who come to us with clear
evidences and guidences.So we believed Him, accepted His teachings and
followed and trusted His teachings.'Then the angels will tell him to
sleep(in peace) as they have come to know that he was a believer.'But
the hypocrite or the doubtful person(Hisham is not sure as to wich word
is the right one) , Will be asked what he knew about this man (The
Prophet s.a.w)"? he will say i do not know but i heared the people
saying something(about Him) so i said the same," Hisham added ,"Fatima
told me that she remeber the narration completely by heart except that
she said about the hypocrite or a doubtful person that he will be
punished severely."
اور محمود بن غیلان (امام بخاری
کے شیخ) نے کہا ہم سے اسامہ نے بیان کیا کہا ہم سے ہشام بن عروہؓ نے کہا
مجھ کو فاطمہ بنت منذر نے خبر دی انہوں نے اسماء بنت ابی بکرؓ سے انہوں نے
کہا میں حضرت عائشہؓ کے پاس گئی۔ اس وقت لوگ(گہن کی) نماز پڑھ رہے تھے۔
میں نے کہا یہ کیا معاملہ ہے ، لوگوں کو کیا ہوا ہے۔ انہوں نے آسمان کی
طرف اشارہ کیا میں نے کہا کوئی(عذاب) کی نشانی ہے انہوں نے سر ہلایا یعنی
ہاں ۔خیر رسول اللہﷺ نے بڑی لمبی نماز پڑھی یہاں تک کہ مجھ کو غشی آنے لگی
اور میرے بازو پانی کی ایک مشک رکھی تھی۔ میں اس کو کھول کر اپنے سر پر
ڈالنے لگی ۔ پھر رسول اللہ ﷺ (نماز سے) فارغ ہوئے۔ اس وقت سورج صاف ہو گیا
تھا آپ نے لوگوں کو خطبہ سنایا اور جیسی اللہ کو سزاوار ہے ویسی اس کی
تعریف کی۔ پھر فرمایا اما بعد اتنا فرمانا تھا کہ کچھ انصاری عورتوں نے
شورو غل شروع کیا۔ میں ان کے چپ کرانے کو ادھر مڑی (آپؐ کاکلام نہ سن سکی)
میں نے حضرت عائشہؓ سے پوچھا آپؐ نے کیا فرمایا؟ انہوں نے کہا آپؐ نے
یہ فرمایا کہ کوئی چیز ایسی نہیں رہی جو مجھ کو نہیں دکھلائی گئی تھی مگر(
آج) اس جگہ میں نے اس کو دیکھ لیا یہاں تک کہ بہشت اور دوزخ کو بھی اور
مجھ پر یہ وحی آئی کہ قبروں میں تمھاری ایسی آزمائش ہو گی جیسے کانے دجال
کے سامنے یا اس کے قریب قریب تم میں سے ہر ایک کے پاس فرشتہ آئے گا۔ تب
اس سے کہا جائے گا تو اس شخص کے باب میں کیا اعتقاد رکھتا تھا ایمان دار یا
یقین والا ہشام راوی نے شک کیا، یوں کہے گا وہ اللہ کے پیغمبرہیں اور محمد
(ﷺ) ہمارے پاس دلیلیں اور ہدایت کی باتیں لے کر آئے ۔ہم ان پر ایمان لائے
اورقبول کیا اور تابع ہوئے اور سچا جانا تب اس سے کہا جائے گا اچھی
طرح(آرام سے) سو جا ہم تو(پہلے ہی سے) جانتے تھے کہ تو ان پر ایمان رکھتا
تھا اور منافق یا شک کرنے والا۔ہشام راوی نے شک کیا اس سے جب کہا جائے گا
تو اس شخص کے باب میں کیا اعتقاد رکھتا تھا۔ وہ کہے گا مجھے کچھ معلوم
نہیں۔ میں نے لوگوں کو کچھ کہتے سنا (کہ شاعر ہے یا جادوگر) میں بھی وہی
کہنے لگا۔ ہشام نے کہا فاطمہ بن منذرؓ نے جو جو کہا میں نے وہ سب یاد رکھا
لیکن انہوں نے منافق پر جو سختی کی جائے گی اس کا بیان بھی کیا (وہ مجھے
یاد نہ رہا)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ،
عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ، يَقُولُ حَدَّثَنَا
عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أُتِيَ
بِمَالٍ أَوْ سَبْىٍ فَقَسَمَهُ، فَأَعْطَى رِجَالاً وَتَرَكَ رِجَالاً
فَبَلَغَهُ أَنَّ الَّذِينَ تَرَكَ عَتَبُوا، فَحَمِدَ اللَّهَ ثُمَّ
أَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ " أَمَّا بَعْدُ، فَوَاللَّهِ إِنِّي
لأُعْطِي الرَّجُلَ، وَأَدَعُ الرَّجُلَ، وَالَّذِي أَدَعُ أَحَبُّ إِلَىَّ
مِنَ الَّذِي أُعْطِي وَلَكِنْ أُعْطِي أَقْوَامًا لِمَا أَرَى فِي
قُلُوبِهِمْ مِنَ الْجَزَعِ وَالْهَلَعِ، وَأَكِلُ أَقْوَامًا إِلَى مَا
جَعَلَ اللَّهُ فِي قُلُوبِهِمْ مِنَ الْغِنَى وَالْخَيْرِ، فِيهِمْ
عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ ". فَوَاللَّهِ مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي
بِكَلِمَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حُمْرَ النَّعَمِ
Narrated By 'Amr bin Taghlib : Some property or something was brought
to Allah's Apostle and he distributed it. He gave to some men and
ignored the others. Later he got the news of his being admonished by
those whom he had ignored. So he glorified and praised Allah and said,
"Amma ba'du. By Allah, I may give to a man and ignore another, although
the one whom I ignore is more beloved to me than the one whom I give.
But I give to some people as I feel that they have no patience and no
contentment in their hearts and I leave those who are patient and
self-contented with the goodness and wealth which Allah has put into
their hearts and 'Amr bin Taghlib is one of them." Amr added, By Allah!
Those words of Allah's Apostle are more beloved to me than the best red
camels.
ہم سے محمّد بن معمر نے بیان
کیا کہا ہم سے ابو عاصم نے انھوں نے جریر بن حازم سے انھوں نے کہا میں نے
امام حسن بصریؒ سے سنا وہ کہتے تھے ہم سے عمرو بن تغلب نے بیان کیا کہ رسول
اللہ ﷺ کے پاس کچھ مال آیا یا کوئی چیز آئی آپؐ نے اس کو بانٹ دیا ۔ بعضوں
کو دیا ، بعضوں کو نہیں دیا۔ پھر آپؐ کو خبر پہنچی کہ جن لوگوں کو نہیں
دیا وہ ناراض ہیں آپؐ نے اللہ کی حمد اور ثناء بیان کی پھر فرمایا امّا
بعد خدا کی قسم ایک شخص کو (مال وغیرہ) دیتا ہوں اور ایک کو نہیں دیتا پھر
جس کو نہیں دیتا میں اس کو اس سے زیادہ چاہتا ہوں جس کو دیتا ہوں لیکن جن
لوگوں کو میں دیتا ہوں اس وجہ سے دیتا ہوں کہ ان کے دلوں میں بے چینی اور
بوکھلا پن پاتا ہوں اور بعضے لوگوں کو (جن کو نہیں دیتا) انکی سیر چشمی اور
بھلائی پر تکیہ کر کے ،جو اللہ نے ان کے دلوں میں رکھی ہے انہی لوگوں میں
عمرو بن تغلب ہے ۔عمرو نے کہا خدا کی قسم جو بات رسول اللہ ﷺ نے (میرے حق
میں ) فرمائی اس کے بدلے اگر سرخ سرخ اونٹ مجھ کو ملتے تو اتنی خوشی نہ
ہوتی ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ
عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، أَنَّ
عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ
ذَاتَ لَيْلَةٍ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ، فَصَلَّى فِي الْمَسْجِدِ، فَصَلَّى
رِجَالٌ بِصَلاَتِهِ فَأَصْبَحَ النَّاسُ فَتَحَدَّثُوا، فَاجْتَمَعَ
أَكْثَرُ مِنْهُمْ فَصَلَّوْا مَعَهُ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ فَتَحَدَّثُوا
فَكَثُرَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ مِنَ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ، فَخَرَجَ
رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّوْا بِصَلاَتِهِ، فَلَمَّا
كَانَتِ اللَّيْلَةُ الرَّابِعَةُ عَجَزَ الْمَسْجِدُ عَنْ أَهْلِهِ حَتَّى
خَرَجَ لِصَلاَةِ الصُّبْحِ، فَلَمَّا قَضَى الْفَجْرَ أَقْبَلَ عَلَى
النَّاسِ، فَتَشَهَّدَ ثُمَّ قَالَ " أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّهُ لَمْ
يَخْفَ عَلَىَّ مَكَانُكُمْ، لَكِنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ
فَتَعْجِزُوا عَنْهَا ". تَابَعَهُ يُونُسُ
Narrated By 'Aisha : Once in the middle of the night Allah's Apostle
(p.b.u.h) went out and prayed in the mosque and some men prayed with
him. The next morning the people spoke about it and so more people
gathered and prayed with him (in the second night). They circulated the
news in the morning, and so, on the third night the number of people
increased greatly. Allah's Apostle (p.b.u.h) came out and they prayed
behind him. On the fourth night the mosque was overwhelmed by the people
till it could not accommodate them. Allah's Apostle came out only for
the Fajr prayer and when he finished the prayer, he faced the people and
recited "Tashah-hud" (I testify that none has the right to be
worshipped but Allah and that Muhammad is His Apostle), and then said,
"Amma ba'du. Verily your presence (in the mosque at night) was not
hidden from me, but I was afraid that this prayer (Prayer of Tahajjud)
might be made compulsory and you might not be able to carry it out."
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان
کیا کہا ہم سے لیث بن سعد نے انھوں نے عقیل بن خالد سے انھوں نے ابن شہاب
سے انھوں نے کہا مجھ کو عروہ نے خبر دی ان کو حضرت عائشہؓ نے ایک بار رسول
اللہ ﷺ آدھی رات کو (اپنے حجرے سے ) باہر برآمد ہوے ۔ آپؐ نے مسجد میں
(تراویح کی) نماز پڑھی ۔ لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی ۔صبح کو لوگوں
نے اس کا چرچا کر دیا تو پہلی رات سے زیادہ لوگ جمع ہوئے ۔ آپؐ کے ساتھ
نماز پڑھی، پھر صبح کو چرچا کیا تو تیسری رات کو مسجد کے لوگ اور زیادہ
اکٹھے ہوے ۔رسول اللہ ﷺ باہر برآمد ہوئے اور لوگوں نے آپؐ کے ساتھ نماز
پڑھی۔ چوتھی رات میں تو اتنے لوگ جمع ہوئے کہ مسجد میں جگہ نہ رہی (لیکن
آپؐ برآمد نہیں ہوئے) صبح کی نماز کے وقت آپؐ باہر آئے۔ جب نماز پڑھ چکے تو
آپؐ نے لوگوں کی طرف منہ کیا اور تشہد پڑھا پھر فرمایا امابعد مجھ کو
معلوم تھا کہ تم لوگ مسجد میں اکٹھے ہو (لیکن میں نہیں نکلا ) اس ڈر سے
کہیں یہ نماز تم پر فرض نہ ہو جائے اور تم سے ہو نہ سکے ۔ عقیل کے ساتھ اس
حدیث کو یونس نے بھی زہری سے روایت کیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ
الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ
السَّاعِدِيِّ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه
وسلم قَامَ عَشِيَّةً بَعْدَ الصَّلاَةِ، فَتَشَهَّدَ وَأَثْنَى عَلَى
اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ " أَمَّا بَعْدُ ".
تَابَعَهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ وَأَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ
عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَمَّا
بَعْدُ ". تَابَعَهُ الْعَدَنِيُّ عَنْ سُفْيَانَ فِي أَمَّا بَعْدُ
Narrated By Abu Hummaid As-Sa'idi : One night Allah's Apostle (p.b.u.h)
stood up after the prayer and recited "Tashah-hud" and then praised
Allah as He deserved and said, "Amma ba'du."
ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا
کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ۔ انھوں نے زہری سے کہا مجھ کو عروہ نے خبر دی ۔
انھوں نے ابو حمید ساعدی سے انھوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ رات کو
(عشاءکی) نماز کے بعد کھڑے ہوئے اور تشہد پڑھا اور جیسے اللہ کو لائق ہے
ویسی اس کی تعریف کی، پھر فرمایا امّا بعد ۔ زہری کے ساتھ اس حدیث کو ابو
معاویہ اور ابو اسامہ نے بھی ہشام بن عروہ سے روایت کیا ۔ انھوں نے عروہ سے
انھوں نے ابو حمید سے انھوں نے نبی ﷺ سے کہ آپؐ نے فرمایا اما بعد اور
ابوالیمان کے ساتھ اس حدیث کو محمّد بن یحییٰ عدنی نے بھی سفیان سے روایت
کیا اس میں صرف امّ بعد ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ
الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنِ الْمِسْوَرِ
بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
فَسَمِعْتُهُ حِينَ تَشَهَّدَ يَقُولُ " أَمَّا بَعْدُ ". تَابَعَهُ
الزُّبَيْدِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ
Narrated By Al-Miswar bin Makhrama : Once Allah's Apostle got up for
delivering the Khutba and I heard him after "Tashah-hud" saying "Amma
ba'du."
ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا
کہا ہم کو شعیب نے خبر دی انھوں نےزہری سے انھوں نے کہا مجھ سے علی بن
حسینؓ نے بیان کیا انھوں نے مسور بن مخرمہؓ سے انھوں نے کہا رسول اللہﷺ
(خطبے کے لیے) کھڑے ہوئے ۔ میں نے خود سنا آپؐ نے تشہّد پڑھ کر امّا بعد
فرمایا ۔ شعیب کے ساتھ اس حدیث کو محمّد بن ولید زبیدی نے بھی زہری سے
روایت کیا ۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ
الْغَسِيلِ، قَالَ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله
عنهما ـ قَالَ صَعِدَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْمِنْبَرَ وَكَانَ
آخِرَ مَجْلِسٍ جَلَسَهُ مُتَعَطِّفًا مِلْحَفَةً عَلَى مَنْكِبَيْهِ، قَدْ
عَصَبَ رَأْسَهُ بِعِصَابَةٍ دَسِمَةٍ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى
عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ " أَيُّهَا النَّاسُ إِلَىَّ ". فَثَابُوا
إِلَيْهِ ثُمَّ قَالَ " أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ هَذَا الْحَىَّ مِنَ
الأَنْصَارِ يَقِلُّونَ، وَيَكْثُرُ النَّاسُ، فَمَنْ وَلِيَ شَيْئًا مِنْ
أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَطَاعَ أَنْ يَضُرَّ فِيهِ
أَحَدًا أَوْ يَنْفَعَ فِيهِ أَحَدًا، فَلْيَقْبَلْ مِنْ مُحْسِنِهِمْ،
وَيَتَجَاوَزْ عَنْ مُسِيِّهِمْ "
Narrated By Ibn Abbas : Once the Prophet ascended the pulpit and it was
the last gathering in which he took part. He was covering his shoulder
with a big cloak and binding his head with an oily bandage. He glorified
and praised Allah and said, "O people! Come to me." So the people came
and gathered around him and he then said, "Amma ba'du." "From now onward
the Ansar will decrease and other people will increase. So anybody who
becomes a ruler of the followers of Muhammad and has the power to harm
or benefit people then he should accept the good from the benevolent
amongst them (Ansar) and overlook the faults of their wrong-doers."
ہم سے اسمٰعیل بن ابان نے بیان کیا کہا ہم سے ابن الغسیل عبدالرحمٰن ابن سلیمان نے کہا ہم سے عکرمہ نے انھوں نے ابن عباس سے انھوں نے کہا نبی ﷺ (موت کی بیماری میں) منبر پر چڑھے اور یہ آپؐ کا آخری بیٹھنا تھا ۔ ایک چادر مونڈھوں پر ڈالے ہوئے ، ایک کالے کپڑے سے سر باندھے ہوئے۔ آپؐ نے اللہ کی حمد و ثناء بیان کی۔پھر فرمایا لوگو! میرے پاس آؤ ۔ وہ (سب) آپؐ کے پاس جمع ہوگئے ۔آپؐ نے فرمایا امّابعد دیکھو یہ انصار کا قبیلہ (جو ، اب بہت ہے) کم ہو جائے گا اور دوسرے لوگ بڑھ جائیں گے پھر محمّد ﷺ کی امّت میں جو کوئی کچھ حکومت پیدا کرے جس کی وجہ سے کسی کو نفع اور نقصان پہنچا سکتا ہے تو اس کو چاہئے کہ انصار کے نیک لوگوں کی نیکی منظور کرے اور ان کے برے کی برائی سے درگزر کرے۔
30. To sit in between the two Khutbas (on Friday).
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، قَالَ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ
كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ خُطْبَتَيْنِ يَقْعُدُ
بَيْنَهُمَا
Narrated By 'Abdullah Ibn Umar : The Prophet used to deliver two Khutbas and sit in between them.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان
کیا کہا ہم سے بشر بن مفضل نے کہا ہم سے عبید اللہ عمری نے ، انھوں نے نافع
سے ، انھوں نے عبداللہ بن عمرؓ سے،انھوں نےکہا نبی ﷺ (جمعہ کے دن) دو خطبے
پڑھتے، ان کے بیچ میں بیٹھتے۔
31. To listen to the Khutba on Friday.
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ
الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الأَغَرِّ، عَنْ أَبِي
هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِذَا كَانَ
يَوْمُ الْجُمُعَةِ، وَقَفَتِ الْمَلاَئِكَةُ عَلَى باب الْمَسْجِدِ
يَكْتُبُونَ الأَوَّلَ فَالأَوَّلَ، وَمَثَلُ الْمُهَجِّرِ كَمَثَلِ
الَّذِي يُهْدِي بَدَنَةً، ثُمَّ كَالَّذِي يُهْدِي بَقَرَةً، ثُمَّ
كَبْشًا، ثُمَّ دَجَاجَةً، ثُمَّ بَيْضَةً، فَإِذَا خَرَجَ الإِمَامُ
طَوَوْا صُحُفَهُمْ، وَيَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ "
Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "When it is a Friday, the
angels stand at the gate of the mosque and keep on writing the names of
the persons coming to the mosque in succession according to their
arrivals. The example of the one who enters the mosque in the earliest
hour is that of one offering a camel (in sacrifice). The one coming next
is like one offering a cow and then a ram and then a chicken and then
an egg respectively. When the Imam comes out (for Jumua prayer) they
(i.e. angels) fold their papers and listen
to the Khutba."
to the Khutba."
ہم سےآدم بن ابی ایاس نے بیان
کیا کہا ہم سے محمّد بن عبدالرحمٰن ابن ابی ذئب نے انھوں نے زہری سے انھوں
نے ابو عبداللہ سلیمان اغر سے انھوں نے ابوہریرہؓ سے انھوں نے کہا نبی ﷺ نے
فرمایا جب جمعہ کا دن آتا ہے تو فرشتے کیا کرتے ہیں (جامع) مسجد کے دروازے
پر کھڑے ہو کر (نمازیوں کے نام ) لکھتے ہیں۔ جو پہلے آتا ہے اس کو پہلےجو
بعد میں آتا ہے اس کو بعد اور جو کوئی سویرے جاتا ہے اس کی مثال ایسے شخص
کی ہے ، جو اونٹ قربانی کرے ، پھر ایسے کی جو گائے قربانی کرے، پھر ایسے کی
جو مینڈھا پھر ایسے کی جو مرغی پھر ایسے کی جو انڈا پھر جب امام (خطبے کے
لیے) نکلتا ہے تو وہ اپنی بہیّاں لپیٹ لیتے ہیں اور خطبہ کان لگا کر سنتے
ہیں۔
32. When the Imam sees a person entering the masjid during the Khutba, he should order him to offer two Rak’a Salat (prayer) before sitting (Tahayyat-ul-masjid)
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ،
عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ
جَاءَ رَجُلٌ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمَ
الْجُمُعَةِ فَقَالَ " أَصَلَّيْتَ يَا فُلاَنُ ". قَالَ لاَ.
قَالَ " قُمْ فَارْكَعْ "
Narrated By Jabir bin 'Abdullah : A person entered the mosque while the
Prophet was delivering the Khutba on a Friday. The Prophet said to him,
"Have you prayed?" The man replied in the negative. The Prophet said,
"Get up and pray two Rakat."
ہم سے ابو النعمان نے بیان کیا
کہا ہم سے حماد بن زید نے انھوں نے عمرو بن دینار سے انھوں نے جابر بن
عبداللہ انصاریؓ سے انھوں نے کہا جمعہ کے دن ایک آدمی (سلیک غطفانی) اس وقت
آیا جب نبی ﷺخطبہ پڑھ رہے تھے۔ آپؐ نے فرمایا بھلے آدمی تو نے (تحیۃ
المسجد کی) نماز پڑھی ؟ اس نے کہا نہیں ، آپﷺ نے فرمایا تو کھڑا ہو ،پڑھ
لے۔
33. Whoever comes when the Imam is delivering the Khutba should offer a light two Rak’a Salat (prayer) (Tahayyat-ul-masjid) .
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ،
عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ جَابِرًا، قَالَ دَخَلَ رَجُلٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ
وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ فَقَالَ " أَصَلَّيْتَ ".
قَالَ لاَ. قَالَ " فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ "
Narrated By Jabir : A man entered the Mosque while the Prophet was
delivering the Khutba. The Prophet said to him, "Have you prayed?" The
man replied in the negative. The Prophet said, "Pray two Rakat."
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے
بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے انھوں نے عمروبن دینار سے انھوں نے
جابرؓ سے سنا ایک شخص جمعہ کے دن اس وقت آیا جب نبیﷺ خطبہ پڑھ رہے تھے ۔آپؐ
نے اس سے پوچھا تُو نے (تحیتہ المسجد کی )نماز پڑھی اس نے کہا نہیں آپﷺ نے
فرمایا۰۰۰ دو رکعتیں پڑھ ۔
34. To raise hands during the Khutba.
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ
عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ،. وَعَنْ يُونُسَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ
أَنَسٍ، قَالَ بَيْنَمَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ يَوْمَ
الْجُمُعَةِ إِذْ قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَكَ
الْكُرَاعُ، وَهَلَكَ الشَّاءُ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَسْقِيَنَا.
فَمَدَّ يَدَيْهِ وَدَعَا
Narrated By Anas : While the Prophet was delivering the Khutba on a
Friday, a man stood up and said, "O, Allah's Apostle! The livestock and
the sheep are dying, so pray to Allah for rain." So he (the Prophet)
raised both his hands and invoked Allah (for it).
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان
کیا کہا ہم سے حماد بن زید نے انھوں نے عبدالعزیز بن انسؓ سے ،دوسری سند،
اور حماد نے یونس سے یہی روایت کی عبدالعزیز اور یونس دونوں نے ثابت سے
انھوں نے انسؓ سے کہ ایک بار نبیﷺ جمعہ کے دن خطبہ پڑھ رہے تھے،اتنے میں
ایک شخص آیا کہنے لگا یا رسول اللہﷺ (برسات نہ ہونے سے ) گھوڑے تباہ ہو
گئےبکریاں مر گئیں تو اللہ سے دعا فرمائیے پانی برسائے۔آپؐ نے دونوں ہاتھ
پھیلائے اور دعا کی .
35. Istisqa’ (invoking Allah for rain) in the Khutba on Friday.
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ،
قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو، قَالَ حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ
اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ أَصَابَتِ
النَّاسَ سَنَةٌ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَبَيْنَا
النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ قَامَ
أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكَ الْمَالُ وَجَاعَ
الْعِيَالُ، فَادْعُ اللَّهَ لَنَا. فَرَفَعَ يَدَيْهِ، وَمَا نَرَى فِي
السَّمَاءِ قَزَعَةً، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا وَضَعَهَا حَتَّى
ثَارَ السَّحَابُ أَمْثَالَ الْجِبَالِ، ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ عَنْ
مِنْبَرِهِ حَتَّى رَأَيْتُ الْمَطَرَ يَتَحَادَرُ عَلَى لِحْيَتِهِ صلى
الله عليه وسلم فَمُطِرْنَا يَوْمَنَا ذَلِكَ، وَمِنَ الْغَدِ، وَبَعْدَ
الْغَدِ وَالَّذِي يَلِيهِ، حَتَّى الْجُمُعَةِ الأُخْرَى، وَقَامَ ذَلِكَ
الأَعْرَابِيُّ ـ أَوْ قَالَ غَيْرُهُ ـ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ،
تَهَدَّمَ الْبِنَاءُ وَغَرِقَ الْمَالُ، فَادْعُ اللَّهَ لَنَا.
فَرَفَعَ يَدَيْهِ، فَقَالَ " اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا، وَلاَ عَلَيْنَا
". فَمَا يُشِيرُ بِيَدِهِ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ السَّحَابِ إِلاَّ
انْفَرَجَتْ، وَصَارَتِ الْمَدِينَةُ مِثْلَ الْجَوْبَةِ، وَسَالَ
الْوَادِي قَنَاةُ شَهْرًا، وَلَمْ يَجِئْ أَحَدٌ مِنْ نَاحِيَةٍ إِلاَّ
حَدَّثَ بِالْجَوْدِ.
Narrated By
Anas bin Malik : Once in the lifetime of the Prophet (p.b.u.h) the
people were afflicted with drought (famine). While the Prophet was
delivering the Khutba on a Friday, a Bedouin stood up and said, "O,
Allah's Apostle! Our possessions are being destroyed and the children
are hungry; Please invoke Allah (for rain)". So the Prophet raised his
hands. At that time there was not a trace of cloud in the sky. By Him in
Whose Hands my soul is as soon as he lowered his hands, clouds gathered
like mountains, and before he got down from the pulpit, I saw the rain
falling on the beard of the Prophet. It rained that day, the next day,
the third day, the fourth day till the next Friday. The same Bedouin or
another man stood up and said, "O Allah's Apostle! The houses have collapsed, our possessions and livestock have been drowned; Please invoke Allah (to protect us)". So the Prophet I raised both his hands and said, "O Allah! Round about us and not on us". So, in whatever direction he pointed with his hands, the clouds dispersed and cleared away, and Medina's (sky) became clear as a hole in between the clouds. The valley of Qanat remained flooded, for one month, none came from outside but talked about the abundant rain.
another man stood up and said, "O Allah's Apostle! The houses have collapsed, our possessions and livestock have been drowned; Please invoke Allah (to protect us)". So the Prophet I raised both his hands and said, "O Allah! Round about us and not on us". So, in whatever direction he pointed with his hands, the clouds dispersed and cleared away, and Medina's (sky) became clear as a hole in between the clouds. The valley of Qanat remained flooded, for one month, none came from outside but talked about the abundant rain.
ہم سے ابراہیم بن منذر نے بیان
کیا کہا ہم سے ولید بن مسلم نے کہا ہم سے امام ابو عمرو او زاعی نے کہا مجھ
سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہؓ نے انھوں نے انس بن مالکؓ سے انھوں نے
کہا نبیﷺ کے زمانے میں لوگوں پر قحط پڑا۔ ایک بارآپؐ جمعہ کے دن خطبہ پڑھ
رہے تھے، اتنے میں ایک گنوار کھڑا ہوا کہنے لگا یا رسول اللہ ﷺ جانور مر
گئے اور بال بچّے بھوکے ہو گئے، اللہ تعا لیٰ سے دعا فرمائیے۔ آپؐ نے دونوں
ہاتھ اٹھائے اور آسمان میں ابر کا ایک ٹکڑا بھی نہیں دکھائی دیتا تھا تو
اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ،آپؐ نے ابھی ہاتھوں کو اتارا نہیں
تھا کہ پہاڑوں کی طرح بادل امنڈ آئے اور منبر سے آپؐ نہیں اترے (پانی برسنا
شروع ہوا) یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ آپؐ کی ریشِ مبارک پر پانی ٹپک رہا
ہے۔غرض اُس دن سارے دِن پانی پڑتا رہا اور کل اور پرسوں اور ترسوں دوسرے
جمعہ تک پھر (دوسرے جمعہ کو) یہی گنوار یا کوئی اور شخص کھڑاہوا کہنے لگا،
یا رسول اللہ ﷺ ! گھر گر گئے اور جانور ڈوب گئے، اللہ سے دعا فرمائیے (اب
پانی موقوف ہو ) آپؐ نے دونوں ہاتھ اٹھائے اور فرمایا اللہ ہمارے گرد
برسا،ہم پر نہ برسا۔ پھر آپؐ ابر کے جس کونے کی طرف اشارہ کرتے ادھر سے ابر
کھل جاتا (کھلتے کھلتے سارے مدینے سے ابر ہٹ گیا ) اور مدینہ گویا ایک گول
دائرہ بن گیا اور قناۃ کا نالہ مہینہ بھر بہتا رہا اورجو کوئی باہر سے آیا
اس نے کہا خوب بارش ہو رہی ہے۔
36. One should keep quiet and listen while the Imam is delivering the Khutba on Friday.
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ
عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ
الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ
صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ
أَنْصِتْ. وَالإِمَامُ يَخْطُبُ فَقَدْ لَغَوْتَ "
Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle (p.b.u.h) said, "When the
Imam is delivering the Khutba, and you ask your companion to keep quiet
and listen, then no doubt you have done an evil act."
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان
کیا کہا ہم سے لیث بن سعد نے انھوں نے عقیل سے انھوں نے ابن شہاب سے انھوں
نے کہا مجھ سے سعید بن مسیب نے بیان کیا ان کو ابوہریرہؓ نے خبر دی کہ رسول
اللہﷺ نے فرمایا جب تو اپنے ساتھی سے جمعہ کے دن یوں کہے چُپ رہ اور امام
خطبہ پڑھ رہا ہوتو تُو نے خود ایک (لغو) حرکت کی۔
37. An hour (opportune) on Friday.
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي
الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ
اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَكَرَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ " فِيهِ
سَاعَةٌ لاَ يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ، وَهْوَ قَائِمٌ يُصَلِّي،
يَسْأَلُ اللَّهَ تَعَالَى شَيْئًا إِلاَّ أَعْطَاهُ إِيَّاهُ ".
وَأَشَارَ بِيَدِهِ يُقَلِّلُهَا
Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle (p.b.u.h) talked about Friday
and said, "There is an hour (opportune time) on Friday and if a Muslim
gets it while praying and asks something from Allah, then Allah will
definitely meet his demand." And he (the Prophet) pointed out the
shortness of that time with his hands.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی
نے بیان کیا انھوں نے امام مالکؒ سے انھوں نے ابو الزناد سے انھوں نے
عبدالرحمٰن اعرج سے انھوں نے ابوہریرہؓ سے کہ رسول اللہﷺ نے جمعہ کے دن کا
ذکر کیا تو فرمایا اس میں ایک ساعت ایسی ہے جب کوئی مسلمان بندہ اس میں
کھڑا ہوا نماز پڑھتا ہو، اللہ سے کچھ مانگے تو اللہ اس کو عنایت فرمائے گا
اور ہاتھ سے اشارہ کر کے آپؐ نے فرمایا کہ وہ ساعت تھوڑی ہے۔
38. If some people leave the Imam during the Friday prayer, the the Salat of the remaining people and the Imam is permissible.
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ
حُصَيْنٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، قَالَ حَدَّثَنَا جَابِرُ
بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صلى
الله عليه وسلم إِذْ أَقْبَلَتْ عِيرٌ تَحْمِلُ طَعَامًا، فَالْتَفَتُوا
إِلَيْهَا حَتَّى مَا بَقِيَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ
اثْنَا عَشَرَ رَجُلاً، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ {وَإِذَا رَأَوْا
تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا}
Narrated By Jabir bin 'Abdullah : While we were praying (Jumua Khutba
& prayer) with the Prophet (p.b.u.h), some camels loaded with food,
arrived (from Sham.~ The people diverted their attention towards the
camels (and left the mosque), and only twelve persons remained with the
Prophet. So this verse was revealed: "But when they see Some bargain or
some amusement, They disperse headlong to it, And leave you standing."
(62.11)
ہم سے معاویہ بن عمرو نے بیان
کیا کہا ہم سے زائدہ نے، انھوں نے حصین سے انھوں نے سالم بن ابی الجعد سے
انھوں نے کہا ہم سے جابر بن عبداللہ انصاری نے بیان کیا ایک بار ہم نبی ﷺ
کے ساتھ نماز میں تھے اتنے میں غلّہ لادے ہوئے ایک قافلہ آن پہنچا لوگ
(خطبہ سننا چھوڑ کر ) ادھر چل دیے ۔نبی ﷺکے پاس بارہ آدمیوں کے سوا کوئی نہ
رہا۔ اس وقت سورت جمعہ کی یہ آیت اُتری اور جب وہ کوئی سودا گری کا مال
یا تماشا دیکھتے ہیں تو ادُھر دوڑ پڑتے ہیں اور تجھ کو کھڑا چھوڑ جاتے ہیں۔
39. To offer As-Salat before and after the Friday prayer.
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ
نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى
الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ رَكْعَتَيْنِ، وَبَعْدَهَا
رَكْعَتَيْنِ، وَبَعْدَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ، وَبَعْدَ
الْعِشَاءِ رَكْعَتَيْنِ وَكَانَ لاَ يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ حَتَّى
يَنْصَرِفَ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ
Narrated By 'Abdullah bin Umar : Allah's Apostle used to pray two Rakat
before the Zuhr prayer and two Rakat after it. He also used to pray two
Rakat after the Maghrib prayer in his house, and two Rakat after the
'Isha prayer. He never prayed after Jumua prayer till he departed (from
the Mosque), and then he would pray two Rakat at home.
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے
بیان کیا کہا ہم کو امام مالکؒ نے خبر دی انھوں نے نافع سے انھوں نے
عبداللہ بن عمرؓ سے کہ رسول اللہ ﷺ ظہر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے اور
ظہر کے بعد دو رکعتیں اور مغرب کے بعد اپنے گھر میں دو رکعتیں اور عشاء کے
بعد دو رکعتیں اور جمعہ کے بعد مسجد میں کچھ نہ پڑھتے ۔جب اپنے گھر میں
لوٹ کر آتے تو دو رکعتیں پڑھتے۔
40. The Statement of Allah:
“When the (Jumuah) Salat is ended, you may disperse through the land, and seek of the bounty of Allah… ”. (V.62:10)
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو
غَسَّانَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلٍ، قَالَ كَانَتْ
فِينَا امْرَأَةٌ تَجْعَلُ عَلَى أَرْبِعَاءَ فِي مَزْرَعَةٍ لَهَا
سِلْقًا، فَكَانَتْ إِذَا كَانَ يَوْمُ جُمُعَةٍ تَنْزِعُ أُصُولَ
السِّلْقِ فَتَجْعَلُهُ فِي قِدْرٍ، ثُمَّ تَجْعَلُ عَلَيْهِ قَبْضَةً مِنْ
شَعِيرٍ تَطْحَنُهَا، فَتَكُونُ أُصُولُ السِّلْقِ عَرْقَهُ، وَكُنَّا
نَنْصَرِفُ مِنْ صَلاَةِ الْجُمُعَةِ فَنُسَلِّمُ عَلَيْهَا، فَتُقَرِّبُ
ذَلِكَ الطَّعَامَ إِلَيْنَا فَنَلْعَقُهُ، وَكُنَّا نَتَمَنَّى يَوْمَ
الْجُمُعَةِ لِطَعَامِهَا ذَلِكَ
Narrated By Sahl bin Sad : There was a woman amongst us who had a farm
and she used to sow Silq (a kind of vegetable) on the edges of streams
in her farm. On Fridays she used to pull out the Silq from its roots and
put the roots in a utensil. Then she would put a handful of powdered
barley over it and cook it. The roots of the Silq were a substitute for
meat. After finishing the Jumua prayer we used to greet her and she
would give us that food which we would eat with our hands, and because
of that meal, we used to look forward to Friday.
مجھ سے سعید بن ابی مریم نے
بیان کیا کہا مجھ سے ابوغسان محمّد بن مطر مدنی نے کہا مجھ سے ابوحازم سلمہ
بن دینار نے انھوں نے سہل بن سعد ساعدی سے انھوں نے کہا ہم لوگوں میں ایک
عورت تھی وہ اپنے کھیت کی نالی پر چقندر بو تی، جمعہ کا دن ہوتا تو چقندر
کی جڑیں نکال کر ایک ہانڈی میں پکاتی، اوُپر سے مُٹھی بھر جو کا آٹا پیس کر
ڈال دیتی تو چقندر کی جڑیں گویا بوٹیاں ہو جاتیں اور ہم لوگ جمعہ کی نماز
پڑھ کر (اس کے گھر پر جاتے) اس کو سلام کرتے۔ وہ یہ کھانا ہمارے سامنے
رکھتی۔ہم اس کو چاٹ جاتے اور اس کھانے کے خیال سےہم کو جمعہ کے دن کی آرزو
رہتی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي
حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلٍ، بِهَذَا وَقَالَ مَا كُنَّا نَقِيلُ
وَلاَ نَتَغَدَّى إِلاَّ بَعْدَ الْجُمُعَةِ
Narrated By Sahl : As above with the addition: We never had an afternoon nap nor meals except after offering the Jumua prayer.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی
نے بیان کیا کہا ہم سے عبدالعزیز ابن ابی حازم نے انھوں نے اپنے باپ سے
انھوں نے سہل بن سعدؓ سے یہی حدیث اتنا زیادہ ہے سہل نے کہا ہم دوپہر کا
سونا اور دن کا کھانا جمعہ کی نماز کے بعد رکھتے۔
41. The afternoon nap after the Jumu’ah (prayer).
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا
أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ حُمَيْدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا،
يَقُولُ كُنَّا نُبَكِّرُ إِلَى الْجُمُعَةِ ثُمَّ نَقِيلُ
Narrated By Anas : We used to offer the Jumua prayer early and then have the afternoon nap.
ہم سے محمّد ابن عقبہ شیبانی نے
بیان کیا کہا ہم سے ابواسحٰق فزاری ابراہیم بن محمّدنے انھوں نے حمید طویل
سے انھوں نے کہا میں نے انسؓ سے سنا وہ کہتے تھے ہم جمعہ کی نماز سویرے
پڑھ لیتے،پھر دوپہر کی نیند لیتے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو
غَسَّانَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلٍ، قَالَ كُنَّا
نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الْجُمُعَةَ ثُمَّ تَكُونُ
الْقَائِلَةُ
Narrated By Sahl : We used to offer the Jumua prayer with the Prophet and then take the afternoon nap.
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان
کیا کہا ہم سے ابوغسان نے کہا مجھ سے ابو حازم نے انھوں نے سہل بن سعد سے
انھوں نے کہا ہم نبی ﷺ کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھ لیتے،پھر دوپہر کی نیند
لیتے۔
No comments:
Post a Comment