Sahih Bukhari
Book: Call for Prayers (10) كتاب الأذان
1. How the Adhan for Salat started
The
Statement of Allah, "And when you pronounce the call to prayer (Adhan),
they take it (but) as a mockery and fun that is because they are people
who don't understand" (V.5:58)
And also the Statement of Allah, "When the call (Adhan) for the prayer
is pronounced on Friday." (V.62:9)
حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ،
حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ
ذَكَرُوا النَّارَ وَالنَّاقُوسَ، فَذَكَرُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى،
فَأُمِرَ بِلاَلٌ أَنْ يَشْفَعَ الأَذَانَ وَأَنْ يُوتِرَ الإِقَامَةَ
Narrated By Anas : The people mentioned the fire and the bell (they
suggested those as signals to indicate the starting of prayers), and by
that they mentioned the Jews and the Christians. Then Bilal was ordered
to pronounce Adhan for the prayer by saying its wordings twice, and for
the Iqama (the call for the actual standing for the prayers in rows) by
saying its wordings once. (Iqama is pronounced when the people are ready
for the prayer).
ہم سے عمران
بن میسرہ نے بیان کیا کہا ہم سے عبدالوارث ابن سعید نےکہا ہم سے خالد حذّاء
نے انہوں نے ابوقلابہ عبداللہ بن زید سے انہوں نے انس سے کہ لوگوں نے
(آپؐ سے) آگ اور گھنٹے کا ذکر کیااور یہود اور نصاریٰ کا حال بیان کیا پھر
بلالؓ کو یہ حکم ہوا کہ دودو بار اذان کے لفظ کہیں اور تکبیر کے ایک ایک
بار۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ
الرَّزَّاقِ، قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي
نَافِعٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ كَانَ الْمُسْلِمُونَ حِينَ
قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَجْتَمِعُونَ فَيَتَحَيَّنُونَ الصَّلاَةَ، لَيْسَ
يُنَادَى لَهَا، فَتَكَلَّمُوا يَوْمًا فِي ذَلِكَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ
اتَّخِذُوا نَاقُوسًا مِثْلَ نَاقُوسِ النَّصَارَى. وَقَالَ بَعْضُهُمْ
بَلْ بُوقًا مِثْلَ قَرْنِ الْيَهُودِ. فَقَالَ عُمَرُ أَوَلاَ
تَبْعَثُونَ رَجُلاً يُنَادِي بِالصَّلاَةِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى
الله عليه وسلم " يَا بِلاَلُ قُمْ فَنَادِ بِالصَّلاَةِ "
Narrated By Ibn 'Umar : When the Muslims arrived at Medina, they used
to assemble for the prayer, and used to guess the time for it. During
those days, the practice of Adhan for the prayers had not been
introduced yet. Once they discussed this problem regarding the call for
prayer. Some people suggested the use of a bell like the Christians,
others proposed a trumpet like the horn used by the Jews, but 'Umar was
the first to suggest that a man should call (the people) for the prayer;
so Allah's Apostle ordered Bilal to get up and pronounce the Adhan for
prayers.
ہم سے محمود بن غیلان
نے بیان کیا کہا ہم سے عبدالرزاق ابن ہمام نے کہا ہم کو عبدالملک بن جریج
نے خبر دی کہا مجھ کو نافع نے کہ عبداللہ بن عمرؓ کہتے تھے مسلمان جب(پہلے
پہل) مدینہ میں آئے تو نماز کے لئے یوں ہی جمع ہو جاتے ایک وقت ٹھہرا
لیتے نماز کے لئے اذان نہیں ہوتی تھی ایک دن انہوں نے اس بارے میں گفتگو
کی تو بعضے کہنے لگے (ایسا کرو) نصاریٰ کی طرح ایک گھنٹہ بنا لو اور بعضوں
نے کہا یہودیوں کی طرح ایک نرسنگا(بگل) بنا لو (اس کو پھونک دیا کرو) حضرت
عمرؓ نے کہا ایسا کیوں نہیں کرتے ایک آدمی کو مقرر کر دو وہ نماز کے لئے
پکار دیا کرے اس وقت رسول اللہ ﷺ نے (اسی رائے کو پسند فرمایا) اور بلالؓ
سے فرمایا اٹھ نماز کے لئے اذان دے۔
2. To repeat the wording of Adhan for the prayers twice
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ
زَيْدٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي
قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ أُمِرَ بِلاَلٌ أَنْ يَشْفَعَ، الأَذَانَ
وَأَنْ يُوتِرَ الإِقَامَةَ إِلاَّ الإِقَامَةَ
Narrated By Anas : Bilal was ordered to repeat the wording of the Adhan
for prayers twice, and to pronounce the wording of the Iqamas once
except "Qad-qamat-is-Salat".
ہم
سے سلیما ن بن حرب نے بیا ن کیا کہا ہم سے حما د بن زید نے اُ نہو ں نے
سما ک بن عطیہ سے اُ نہوں نے ایو ب سختیا نی سے اُنہو ں نے ابو قلا بہ
سے اُنہو ں نے انس سے اُنہوں نے کہا بلا ل کو یہ حکم دیا گیا کہ اذان کے
الفاظ دو دو با ر اور تکبیر کے ایک ایک با ر کہیں مگر قد قا مت الصلٰوۃ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ
أَخْبَرَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ
مَالِكٍ، قَالَ لَمَّا كَثُرَ النَّاسُ قَالَ ـ ذَكَرُوا ـ أَنْ يَعْلَمُوا
وَقْتَ الصَّلاَةِ بِشَىْءٍ يَعْرِفُونَهُ، فَذَكَرُوا أَنْ يُورُوا
نَارًا أَوْ يَضْرِبُوا نَاقُوسًا، فَأُمِرَ بِلاَلٌ أَنْ يَشْفَعَ
الأَذَانَ وَأَنْ يُوتِرَ الإِقَامَةَ
Narrated By Anas bin Malik : When the number of Muslims increased they
discussed the question as to how to know the time for the prayer by some
familiar means. Some suggested that a fire be lit (at the time of the
prayer) and others put forward the proposal to ring the bell. Bilal was
ordered to pronounce the wording of Adhan twice and of the Iqama once
only.
ہم سے محمد بن سلام نے
بیان کیا کہا ہم سے عبدالوہاب ثقفی نے کہا ہم سے خالد بن مہران حذّاء نے
انہوں نے ابو قلابہ عبداللہ بن زید حرمی سے انہوں نے انسؓ سے انہوں نے کہا
جب (مسلمان) لوگ بہت ہو گئے تو انہوں نے یہ تذکرہ کیا کہ نماز کے وقت کی
کوئی نشانی مقرر کرنا چاہیئے جس کو وہ پہچان لیں (اور نماز کے لیئےجمع ہو
جائیں) کسی نے کہا آگ روشن کرو کسی نے کہا گھنٹہ بجاؤ آخربلالؓ کو یہ
حکم ہوا کہ اذان کے لفظ دودو بار کہیں اور تکبیر کے ایک ایک بار۔
3. To pronounce the wording of Iqama once except 'Qad-qamat-is-Salat'
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ
إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسٍ،
قَالَ أُمِرَ بِلاَلٌ أَنْ يَشْفَعَ، الأَذَانَ، وَأَنْ يُوتِرَ
الإِقَامَةَ. قَالَ إِسْمَاعِيلُ فَذَكَرْتُ لأَيُّوبَ فَقَالَ إِلاَّ
الإِقَامَةَ
Narrated By Abu
Qilaba : Anas said, "Bilal was ordered to pronounce the wording of Adhan
twice and of Iqama once only." The sub narrator Isma'li said, "I
mentioned that to Aiyub and he added (to that), "Except Iqama (i.e.
Qad-Qamatis-Salat which should be said twice)."
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا کہا ہم سے اسمٰعیل ابن ابراہیم بن
علیہ نے کہا ہم سے خالد حذّاء نے انہوں نے ابو قلابہ سے انہوں نے انسؓ سے
انہوں نے کہا بلالؓ کو اذان کے لفظ دو دو بار اور تکبیر کے لفظ ایک ایک
بار کہنے کا حکم ہوا اسمٰعیل نے کہا میں نے یہ حدیث ایوب سختیانی سے بیان
کی انہوں نے کہاسوائے قد قامت الصلٰوۃ کے۔
4. Superiority of the Adhan
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ
أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ
اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا نُودِيَ لِلصَّلاَةِ أَدْبَرَ
الشَّيْطَانُ وَلَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لاَ يَسْمَعَ التَّأْذِينَ، فَإِذَا
قَضَى النِّدَاءَ أَقْبَلَ، حَتَّى إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلاَةِ أَدْبَرَ،
حَتَّى إِذَا قَضَى التَّثْوِيبَ أَقْبَلَ حَتَّى يَخْطُرَ بَيْنَ
الْمَرْءِ وَنَفْسِهِ، يَقُولُ اذْكُرْ كَذَا، اذْكُرْ كَذَا. لِمَا لَمْ
يَكُنْ يَذْكُرُ، حَتَّى يَظَلَّ الرَّجُلُ لاَ يَدْرِي كَمْ صَلَّى "
Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "When the Adhan is
pronounced Satan takes to his heels and passes wind with noise during
his flight in order not to hear the Adhan. When the Adhan is completed
he comes back and again takes to his heels when the Iqama is pronounced
and after its completion he returns again till he whispers into the
heart of the person (to divert his attention from his prayer) and makes
him remember things which he does not recall to his mind before the
prayer and that causes him to forget how much he has prayed."
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی
انہوں نے ابو الزناد سے انہوں نے اعرج سے انہوں نے ابوہریرہؓ سے کہ رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا جب نماز کے لئے اذان دی جاتی ہے تو شیطان پادتا ہوا پیٹھ
موڑ کر چل دیتا ہے۔ اس لئے کہ اذان نہ سنے (اس کو اذان سننا ناگوار ہے) جب
اذان ہو چکتی ہے تو پھر آتا ہے جب نماز کی تکبیر ہوتی ہے تو پھر پیٹھ موڑ
کر بھاگتا ہے۔ جب تکبیر ہو چکتی ہے تو پھر آتا ہےاور نمازی اور اس کے دل
میں خیال ڈالتا ہے۔ کہتا ہے فلانی بات یاد کر فلانی بات یاد کر وہ باتیں
یاد دلاتا ہے جو نمازی کو یاد ہی نہ تھیں ۔ آخر وہ بھول جاتا ہے کتنی
رکعتیں پڑھیں۔
5. Raising the voice in making the Adhan
Umar bin Abdul Aziz said, "Pronounce the Adhan clearly and in a straight forward manner, otherwise you must be replaced"
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ
عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ
أَبِي صَعْصَعَةَ الأَنْصَارِيِّ، ثُمَّ الْمَازِنِيِّ عَنْ أَبِيهِ،
أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ قَالَ لَهُ "
إِنِّي أَرَاكَ تُحِبُّ الْغَنَمَ وَالْبَادِيَةَ، فَإِذَا كُنْتَ فِي
غَنَمِكَ أَوْ بَادِيَتِكَ فَأَذَّنْتَ بِالصَّلاَةِ فَارْفَعْ صَوْتَكَ
بِالنِّدَاءِ، فَإِنَّهُ لاَ يَسْمَعُ مَدَى صَوْتِ الْمُؤَذِّنِ جِنٌّ
وَلاَ إِنْسٌ وَلاَ شَىْءٌ إِلاَّ شَهِدَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
قَالَ أَبُو سَعِيدٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
Narrated By 'Abdul Rahman : Abu Sa'id Al-Khudri told my father, "I see
you liking sheep and the wilderness. So whenever you are with your sheep
or in the wilderness and you want to pronounce Adhan for the prayer
raise your voice in doing so, for whoever hears the Adhan, whether a
human being, a jinn or any other creature, will be a witness for you on
the Day of Resurrection." Abu Said added, "I heard it (this narration)
from Allah's Apostle."
ہم سے
عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی انہوں نے
عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی صعصعہ انصاری مازنی سے انہوں
نے اپنے باپ (عبداللہ بن ابی صعصعہ سے) ان سے ابو سعید خدری(صحابیؓ) نے کہا
میں دیکھتا ہوں تجھ کو جنگل کا رہنا اور بکریاں چرانا پسند ہے پس جب تو
اپنی بکریوں یا جنگل میں ہو اور نماز کے لئے اذان دے تو بلند آواز سے اذان
دے کیونکہ جہاں تک مو ذ ن کی آواز پہنچتی ہے جن اور آدمی یا اور کوئی
آواز سنتا ہے وہ قیامت کے دن اس پر (گواہ بنے گا) گواہی دے گا۔ ابو سعید
نے کہا میں نے یہ رسول اللہﷺ سے سنا ہے ۔
6. To stop fighting on hearing the Adhan
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ
جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى
الله عليه وسلم كَانَ إِذَا غَزَا بِنَا قَوْمًا لَمْ يَكُنْ يَغْزُو بِنَا
حَتَّى يُصْبِحَ وَيَنْظُرَ، فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا كَفَّ عَنْهُمْ،
وَإِنْ لَمْ يَسْمَعْ أَذَانًا أَغَارَ عَلَيْهِمْ، قَالَ فَخَرَجْنَا
إِلَى خَيْبَرَ فَانْتَهَيْنَا إِلَيْهِمْ لَيْلاً، فَلَمَّا أَصْبَحَ
وَلَمْ يَسْمَعْ أَذَانًا رَكِبَ وَرَكِبْتُ خَلْفَ أَبِي طَلْحَةَ،
وَإِنَّ قَدَمِي لَتَمَسُّ قَدَمَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. قَالَ
فَخَرَجُوا إِلَيْنَا بِمَكَاتِلِهِمْ وَمَسَاحِيهِمْ فَلَمَّا رَأَوُا
النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالُوا مُحَمَّدٌ وَاللَّهِ، مُحَمَّدٌ
وَالْخَمِيسُ. قَالَ فَلَمَّا رَآهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه
وسلم قَالَ " اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ،
إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ
"
Narrated By Humaid : Anas bin
Malik said, "Whenever the Prophet went out with us to fight (in Allah's
cause) against any nation, he never allowed us to attack till morning
and he would wait and see: if he heard Adhan he would postpone the
attack and if he did not hear Adhan he would attack them." Anas added,
"We reached Khaibar at night and in the morning when he did not hear the
Adhan for the prayer, he (the Prophet) rode and I rode behind Abi Talha
and my foot was touching that of the Prophet.
The inhabitants of Khaibar came out with their baskets and spades and when they saw the Prophet they shouted 'Muhammad! By Allah, Muhammad and his army.' When Allah's Apostle saw them, he said, "Allahu-Akbar! Allahu-Akbar! Khaibar is ruined. Whenever we approach a (hostile) nation (to fight), then evil will be the morning of those who have been warned."
The inhabitants of Khaibar came out with their baskets and spades and when they saw the Prophet they shouted 'Muhammad! By Allah, Muhammad and his army.' When Allah's Apostle saw them, he said, "Allahu-Akbar! Allahu-Akbar! Khaibar is ruined. Whenever we approach a (hostile) nation (to fight), then evil will be the morning of those who have been warned."
ہم سے قتیبہ بن سعید نے
بیا ن کیا کہا ہم سے اسمٰعیل بن جعفر انصا ری نے انہوں نے حمید طویل سے
انہوں نے انسؓ سے اُنہوں نےکہا نبی ﷺ جب ہما رے سا تھ رہ کر کسی قو م پر
جہا د کرتے تو صبح ہو ئے تک ہم کو لو ٹ کا حکم نہ دیتے صبح کی راہ دیکھتے
اگر ان میں اذان کی آوا ز سنتے تو اُن پر ہاتھ نہ ڈالتے اور جو اذان کی
آواز نہ آتی تو ان پر حملہ کرتے (فرا غت سے ان کو لو ٹتے مارتے )انسؓ نے
کہاہم خیبر کی طرف (جہا د کے لئے )روا نہ ہو ئےرات کو وہا ں پہنچےجب صبح ہو
ئی اور اذان کی آواز آپ نے نہیں سنی تو سوار ہو ئے اور میں بھی (ایک گھو
ڑے پر )ابو طلحہ کے پیچھے بیٹھا میرا پاؤں( چلتے میں ) نبی ﷺ کے (مبا
رک)پاؤں سے چھو جا تا ۔انسؓ نے کہا خیبر وا لے یہو دی اپنی ٹوکری اور کدا
لیں لے کر نکلے تھے (ان کو خبر ہی نہ تھی ) جب انہوں نے نبی ﷺ کو دیکھا تو
کہنے لگے قسم خدا کی محمدﷺ پوری فوج سمیت محمد ﷺ آن پہنچے رسول اللہ ﷺ
نےجب ان کو دیکھا تو فرمایا اللہ اکبر اللہ اکبر خیبر خرا ب (ویرا ن ہوا
)بیشک جب ہم کسی قوم کے میدان میں اُترآئیں تو جو لو گ ڈرا ئے گئے ان کی
صبح بُری ہو گی۔
7. What to say on hearing the Adhan
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ
ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي
سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ "
إِذَا سَمِعْتُمُ النِّدَاءَ فَقُولُوا مِثْلَ ما يَقُولُ الْمُؤَذِّنُ
"
Narrated By Abu Said Al-Khudri : Allah's Apostle said, "Whenever you hear the Adhan, say what the Mu'adhdhin is saying.
ہم سے عبداللہ بن یو سف تنیسی نے بیا ن کیا کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی
انہو ں نے ابنِ شہا ب زہری سے اُنہوں نے عطاء ابن یزید لیثی سے اُنہوں
نے ابو سعید خدریؓ سے رسول اللہ ﷺ نے فرا ما یا جب تم اذان سنو تو جو مؤذن
کہتا جا ئےو ہی تم بھی کہتے جا ؤ۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ
يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ
حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ، يَوْمًا
فَقَالَ مِثْلَهُ إِلَى قَوْلِهِ " وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ
اللَّهِ "
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ، قَالَ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، نَحْوَهُ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ، قَالَ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، نَحْوَهُ
Narrated By 'Isa bin Talha : That he had heard Muawiya repeating the
words of Adhan up to "Wa ash-hadu Anna Muhammadan Rasulul-lah (and I
testify that Muhammad is Allah's Apostle.)"
ہم سے معا ذ بن فضا لہ نے بیا ن کیا کہا ہم سے ہشا م دستوائی نے اُنہو ں
نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اُنہوں نے محمد بن ابراہیم ابن حارث سے انہوں نے
کہا مجھ سے عیسیٰ بن طلحہ نے بیا ن کیا اُنہوں نے معا ویہ بن ابی سفیا ن
کو مؤذن کی طرح کہتے سُنا اشھد ان محمد رسول اللہ تک ۔
ہم سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا کہا ہم سے وہب بن جریر نے اُنہوں نے کہا ہم سے ہشا م دستوائی نے اُنہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی طرح جیسے اوپر گزرا ۔
ہم سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا کہا ہم سے وہب بن جریر نے اُنہوں نے کہا ہم سے ہشا م دستوائی نے اُنہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی طرح جیسے اوپر گزرا ۔
قَالَ يَحْيَى وَحَدَّثَنِي بَعْضُ، إِخْوَانِنَا أَنَّهُ قَالَ لَمَّا
قَالَ حَىَّ عَلَى الصَّلاَةِ. قَالَ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ
بِاللَّهِ. وَقَالَ هَكَذَا سَمِعْنَا نَبِيَّكُمْ صلى الله عليه وسلم
يَقُولُ
Narrated By Yahya as
above (586) and added : "Some of my companions told me that Hisham had
said, "When the Mu'adhdhin said, "Haiya alas-sala(t) (come for the
prayer)." Muawiya said, "La hawla wala quwata illa billah (There is
neither might nor any power except with Allah)" and added, "We heard
your Prophet saying the same."
یحییٰ نے کہا مجھ سے میرے ایک
بھا ئی نے کہا جب مؤذن نے حی علی الصلٰو ۃ کہا تو معا ویہ نے لا حول ولا
قوۃ الا با للہ کہا اور کہنے لگے میں نے تمہا رے نبی ﷺ سے ایسا ہی کہتے
سُنا ہے۔
8. Invocation during Adhan
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي
حَمْزَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ
اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ قَالَ
حِينَ يَسْمَعُ النِّدَاءَ اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ
التَّامَّةِ وَالصَّلاَةِ الْقَائِمَةِ آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ
وَالْفَضِيلَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ،
حَلَّتْ لَهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ "
Narrated By Jabir bin 'Abdullah : Allah's Apostle said, "Whoever after
listening to the Adhan says, 'Allahumma Rabba hadhihi-d-da'
watit-tammati was-salatil qa'imati, ati Muhammadan al-wasilata
wal-fadilata, wab' athhu maqaman mahmudan-il-ladhi wa' adtahu (O Allah!
Lord of this perfect call (of not ascribing partners to You) and of the
regular prayer which is going to be established! Kindly give Muhammad
the right of intercession and superiority and send him (on the Day of
Judgment) to the best and the highest place in Paradise which You
promised him)', then intercession for me will be permitted for him on
the Day of Resurrection").
ہم
سے علی بن عیا ش الہا نی نے بیا ن کیا کہا ہم سے شعیب بن ابی حمزہ نے اُنہو
ں نے محمد بن منکدر سے اُنہوں نے جا بر بن عبد اللہ انصا ری (صحا بی) سے
کہ رسول اللہ ﷺنے فر ما یا جو شخص اذان سُن چکے پھر یو ں دعا کرے یا میرے
اللہ جو اس پو ری پکا ر کا صا حب ہے اور قا ئم رہنے وا لی نما ز کا محمدﷺ
کو (قیا مت کے دن ) وسیلہ عنا یت کر اور بڑا مر تبہ اور مقا م محمو د پر
اُن کو کھڑا کر جس کا تو نے اُن سے وعدہ کیا ہے تو
قیا مت کے دن میری شفا عت اس کے لئے ضرور ہو گی۔
قیا مت کے دن میری شفا عت اس کے لئے ضرور ہو گی۔
9. To draw lots for pronouncing Adhan
And it is said that some people differed regarding the pronounciation of Adhan. So Saad drew lots amongst them
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ
سُمَىٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي
هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَوْ
يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الأَوَّلِ، ثُمَّ لَمْ
يَجِدُوا إِلاَّ أَنْ يَسْتَهِمُوا عَلَيْهِ لاَسْتَهَمُوا، وَلَوْ
يَعْلَمُونَ مَا فِي التَّهْجِيرِ لاَسْتَبَقُوا إِلَيْهِ، وَلَوْ
يَعْلَمُونَ مَا فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ لأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا
"
Narrated By Abu Huraira :
Allah's Apostle said, "If the people knew the reward for pronouncing the
Adhan and for standing in the first row (in congregational prayers) and
found no other way to get that except by drawing lots they would draw
lots, and if they knew the reward of the Zuhr prayer (in the early
moments of its stated time) they would race for it (go early) and if
they knew the reward of 'Isha and Fajr (morning) prayers in
congregation, they would come to offer them even if they had to crawl."
ہم سے عبد اللہ بن یو سف تنیسی نے بیا ن کیا کہا ہم کو امام مالک نے خبر
دی اُنہو ں نے سمی سے جو عبد الرّحمٰن بن حا رث کے غلام تھے اُنہو ں نے ابو
صا لح ذکوا ن سے اُنہو ں نے ابو ہریرہ سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فر ما یا
اگر لوگ جانتے ہوتے جو (ثوا ب)اذان اور پہلی صف میں ہے پھر بغیر قرعہ ڈا لے
اُن کو نہ پا سکتے تو بیشک اُن پر قرعہ ڈالتے اور اگر وہ جانتے جو
(ثواب)ظہر کی نماز کے لیے سویرے جا نے میں ہے تو ایک دو سرے سے آگے بڑھتے
اس کے لئے اور اگر جا نتے جو ( ثوا ب) عشا ء اور فجر کی نما ز میں ہے
تو گھِسٹتے ہوئے ان کے لئے آتے۔
10. Conversation during the Adhan
Sulaiman
bin Surad talked while pronouncing Adhan. Al-Hasan said, "There is no
harm if the Mu'adh-dhin laughs while pronouncing the Adhan or Iqama"
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ،
وَعَبْدِ الْحَمِيدِ، صَاحِبِ الزِّيَادِيِّ وَعَاصِمٍ الأَحْوَلِ عَنْ
عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ خَطَبَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ فِي يَوْمٍ
رَدْغٍ، فَلَمَّا بَلَغَ الْمُؤَذِّنُ حَىَّ عَلَى الصَّلاَةِ.
فَأَمَرَهُ أَنْ يُنَادِيَ الصَّلاَةُ فِي الرِّحَالِ. فَنَظَرَ
الْقَوْمُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ فَقَالَ فَعَلَ هَذَا مَنْ هُوَ خَيْرٌ
مِنْهُ وَإِنَّهَا عَزْمَةٌ
Narrated By 'Abdullah bin Al-Harith : Once on a rainy muddy day, Ibn
'Abbas delivered a sermon in our presence and when the Mu'adhdhin
pronounced the Adhan and said, "Haiya ala-s-sala(t) (come for the
prayer)" Ibn 'Abbas ordered him to say 'Pray at your homes.' The people
began to look at each other (surprisingly). Ibn 'Abbas said. "It was
done by one who was much better than I (i.e. the Prophet or his
Mu'adhdhin), and it is a license.'
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیا ن کیا کہا ہم سے حما د بن زید نے انہوں نے
ایوب سختیانی اور عبدالحمید بن دینار صاحب الزیادی اور عا صم احوا ل سے ان
تینو ں نے عبد اللہ بن حا رث بصری سے اُنہو ں نے کہا ابن عباس نے ہم کو
(جمعہ کا ) خُطبہ سُنا یا اُس دن کیچڑ تھی (پا نی پڑ رہا تھا ) جب مؤذن حئی
علی الصلو ۃ کہنے کو تھا اُنہو ں نے اس کو حکم دیا یُوں پُکا رے نما ز
اپنے اپنے ٹھکا نو ں میں پڑھ لو یہ حا ل د یکھ کر لو گ (حیرت سے ) ایک دو
سرے کا منہ تکنے لگے ابنِ عبا س نے کہا مجھ سے جو بہتر تھے اُنہوں نے
ایسا کیا ہے اور اس میں شک نہیں کہ جمعہ وا جب ہے ۔
11. The call of Adhan by a blind man (is allowed) when there is a person to inform him about the time of prayer
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ
شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ
اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ بِلاَلاً يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ،
فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُنَادِيَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ ". ثُمَّ
قَالَ وَكَانَ رَجُلاً أَعْمَى لاَ يُنَادِي حَتَّى يُقَالَ لَهُ
أَصْبَحْتَ أَصْبَحْتَ
Narrated
By Salim bin Abdullah : My father said that Allah s Apostle said, "Bilal
pronounces 'Adhan at night, so keep on eating and drinking (Suhur) till
Ibn Um Maktum pronounces Adhan." Salim added, "He was a blind man who
would not pronounce the Adhan unless he was told that the day had
dawned."
ہم سے عبداللہ مسلمہ
قعنبی نے بیا ن کیا انہوں نے مام مالک سےانہوں نے ابن شہا ب سے اُنہوں نے
سا لم بن عبد اللہ بن عمر سے اُنہوں نے اپنے با پ عبداللہ بن عمر سے کہ
رسول اللہ ﷺ نے فرما یا بلا ل تو رات رہے سے اذان دے دیتا ہے تم لو گ کھا
تے پیتے رہو جب تک ام مکتوم کا بیٹا اذان دے (ابنِ عمر یا ابن شہا ب نے)
کہا اُم مکتو م کا بیٹا ( عبداللہ ) اندھا تھا وہ اس وقت تک اذان نہ دیتا
جب تک اذان نہ دیتا جب تک کہ لو گ یہ نہ کہتے صبح ہو گئی۔
12. The Adhan after dawn (Fajr).
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ
نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ أَخْبَرَتْنِي حَفْصَةُ،
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا اعْتَكَفَ
الْمُؤَذِّنُ لِلصُّبْحِ وَبَدَا الصُّبْحُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ
خَفِيفَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ تُقَامَ الصَّلاَةُ
Narrated By Hafsa : When the Muadh-dhin pronounced the Adhan for Fajr
prayer and the dawn became evident the Prophet ordered a two Rakat light
prayer (Sunna) before the Iqama of the compulsory (congregational)
prayer.
ہم سے عبداللہ بن یو سف
تنیسی نے بیا ن کیا کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی اُنہو ں نے نا فع
سےاُنہوں نے عبداللہ ابن عمر سے اُنہوں نے کہا مجھ سے ام المومنین حفصہؓ
نے بیا ن کیا کہ جب مؤذن صبح کی اذان دیکر اعتکاف کرتا (یعنی بیٹھ جا تا )
اور صبح نمو دار ہو جا تی تو رسول ا للہ ﷺ نما ز کی تکبیر ہو نے سے
پہلے دو ہلکی پھلکی رکعتیں ( فجر کی سنت کی ) پڑھتے۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى،
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم
يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ بَيْنَ النِّدَاءِ وَالإِقَامَةِ
مِنْ صَلاَةِ الصُّبْحِ
Narrated By 'Aisha : The Prophet used to offer two light Rakat between the Adhan and the Iqama of the Fajr prayer.
ہم سے ابو نعیم فضل بن وکین نے بیا ن کیا کہا ہم سے شیبا ن نے اُنہوں نے
یحییٰ بن ابی کثیر سے اُنہو ں نے ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن بن عو ف سے
اُنہو ں نے حضرت عا ئشہ سے کہ نبیﷺ صبح کی اذان اور تکبیر کے بیچ میں دو
ہلکی پھلکی رکعتیں ( سنت کی ) پڑھا کرتے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ
عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ
رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ بِلاَلاً يُنَادِي
بِلَيْلٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُنَادِيَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ
"
Narrated By 'Abdullah bin
'Umar : Allah's Apostle said, "Bilal pronounces the Adhan at night, so
keep on eating and drinking (Suhur) till Ibn Um Maktum pronounces the
Adhan."
ہم سے عبد اللہ بن یو سف
تنیسی نے بیا ن کیا کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی انہوں نے عبداللہ بن
دینار سے اُنہوں نے عبد اللہ بن عمرؓ سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فر ما یا
(دیکھو )بلال را ت رہے سے اذان دے دیتا ہے تو جب تک اُم مکتو م کا بیٹا
اذان نہ دے تم کھاتے پیتے رہو۔
13. The Adhan before dawn (Fajr).
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ،
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم
قَالَ " لاَ يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ ـ أَوْ أَحَدًا مِنْكُمْ ـ أَذَانُ
بِلاَلٍ مِنْ سَحُورِهِ، فَإِنَّهُ يُؤَذِّنُ ـ أَوْ يُنَادِي ـ بِلَيْلٍ،
لِيَرْجِعَ قَائِمَكُمْ وَلِيُنَبِّهَ نَائِمَكُمْ، وَلَيْسَ أَنْ يَقُولَ
الْفَجْرُ أَوِ الصُّبْحُ ". وَقَالَ بِأَصَابِعِهِ وَرَفَعَهَا إِلَى
فَوْقُ وَطَأْطَأَ إِلَى أَسْفَلُ حَتَّى يَقُولَ هَكَذَا. وَقَالَ
زُهَيْرٌ بِسَبَّابَتَيْهِ إِحْدَاهُمَا فَوْقَ الأُخْرَى ثُمَّ مَدَّهَا
عَنْ يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ
Narrated By 'Abdullah bin Mas'ud : The Prophet said, "The Adhan
pronounced by Bilal should not stop you from taking Suhur, for he
pronounces the Adhan at night, so that the one offering the late night
prayer (Tahajjud) from among you might hurry up and the sleeping from
among you might wake up. It does not mean that dawn or morning has
started." Then he (the Prophet) pointed with his fingers and raised them
up (towards the sky) and then lowered them (towards the earth) like
this (Ibn Mas'ud imitated the gesture of the Prophet). Az-Zuhri gestured
with his two index fingers which he put on each other and then
stretched them to the right and left. These gestures illustrate the way
real dawn appears. It spreads left and right horizontally. The dawn that
appears in the high sky and lowers down is not the real dawn).
ہم سے احمد بن یو نس نے بیا ن
کیا کہا ہم سے زہیر بن معا ویہ جعفی نے کہا ہم سے سلیما ن بن طرخان تیمی
نے اُنہو ں نے ابو عثما ن عبد الرحما ن نہدی سےا نہو ں نے عبد اللہ بن
مسعو د سے اُنہو ں نے نبی ﷺ سے، آ پ نے فر ما یا تم میں کسی کو سحری
کھا نے سے بلال کی اذان نہ رو کے کیو نکہ وہ را ت رہے سے اذا ن یا با نگ
دیتا ہے اس لئے کہ عبا دت کرنے وا لا (آرام کے لئے ) لو ٹ جا ئے اور جو
سو تا ہو اس کو جگا دے اور فجر یا صبح اس طرح نہیں ہو تی اور آپ نے
اُنگلیوں کو اُوپر اٹھا کر اور پھر اُن کو نیچے کی طرف جھکا کر بتلا یا
جب تک اس طرح سےنمو د نہ ہو ،اور زہیر راوی نے اس کو یوُں بتلایا کہ
کلمہ کی انگلیوں کو تلے اُوپر رکھا پھر ان کو داہنے اور با ئیں طرف کھینچ
لیا۔
حَدَّثَنى إِسْحَاقُ، قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ عُبَيْدُ
اللَّهِ حَدَّثَنَا عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ،.
وَعَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه
وسلم ح قَالَ وَحَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ عِيسَى الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ،
عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله
عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " إِنَّ بِلاَلاً يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، فَكُلُوا
وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ "
Narrated By 'Aisha : The Prophet said, "Bilal pronounces the Adhan at
night, so eat and drink (Suhur) till Ibn Um Maktum pronounces the
Adhan."
مجھ سے اسحاق بن را ہویہ نے بیا
ن کیا کہا ہم کو ابو اسا مہ حما د بن اسا مہ نے خبر دی کہا ہم سےعبید
اللہ بن عمر نے بیا ن کیا اُنہو ں نے قا سم بن محمد بن ابی بکر صدیق سے
اُنہوں نے حضرت عا ئشہ سے اور عبید اللہ نے نا فع سے بھی روا یت کی اُ نہوں
نے ابن عمر سے کہ رسول اللہ ﷺنے دو سری سند امام بخاری نے کہا اور مجھ
سے یو سف بن عیسیٰ نے بیان کیا ہم سے فضل ابن مو سیٰ نے کہا ہم سےعبید اللہ
بن عمر عمری نے اُنہو ں نے قا سم ابن محمدبن ابی بکر صدیق سے اُنہو ں نے
حضرت عا ئشہ سے اُنہو ں نے نبی ﷺ سے آپ نے فر ما یا بلال را ت رہے اذان
دے دیتا ہے تم کھا تے پیتے رہو جب تک ام مکتو م کا بیٹا اذان دے ۔
حَدَّثَنى إِسْحَاقُ، قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ عُبَيْدُ
اللَّهِ حَدَّثَنَا عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ،.
وَعَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه
وسلم ح قَالَ وَحَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ عِيسَى الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ،
عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله
عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " إِنَّ بِلاَلاً يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، فَكُلُوا
وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ "
Narrated By 'Aisha : The Prophet said, "Bilal pronounces the Adhan at
night, so eat and drink (Suhur) till Ibn Um Maktum pronounces the
Adhan."
مجھ سے اسحاق بن را ہویہ نے بیا
ن کیا کہا ہم کو ابو اسا مہ حما د بن اسا مہ نے خبر دی کہا ہم سےعبید
اللہ بن عمر نے بیا ن کیا اُنہو ں نے قا سم بن محمد بن ابی بکر صدیق سے
اُنہوں نے حضرت عا ئشہ سے اور عبید اللہ نے نا فع سے بھی روا یت کی اُ نہوں
نے ابن عمر سے کہ رسول اللہ ﷺنے دو سری سند امام بخاری نے کہا اور مجھ
سے یو سف بن عیسیٰ نے بیان کیا ہم سے فضل ابن مو سیٰ نے کہا ہم سےعبید اللہ
بن عمر عمری نے اُنہو ں نے قا سم ابن محمدبن ابی بکر صدیق سے اُنہو ں نے
حضرت عا ئشہ سے اُنہو ں نے نبی ﷺ سے آپ نے فر ما یا بلال را ت رہے اذان
دے دیتا ہے تم کھا تے پیتے رہو جب تک ام مکتو م کا بیٹا اذان دے ۔
14. How long should the interval between the Adhan and the Iqama be? The one who waits for the Iqama.
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْوَاسِطِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنِ
الْجُرَيْرِيِّ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ
مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلاَةٌ ـ ثَلاَثًا ـ لِمَنْ شَاءَ "
Narrated By 'Abdullah bin Mughaffal Al-Muzani : Allah's Apostle said
thrice, "There is a prayer between the two Adhans (Adhan and Iqama),"
and added, "For the one who wants to pray."
ہم سے اسحا ق بن شا ھین وا سطی
نے بیان کیا کہا ہم سے خالد ابن عبد اللہ طحان نے اُنہوں نےسعد بن ایا س
جریری سے انہوں نے عبد اللہ بن بریدہ سے اُنہو ں نےعبد اللہ بن مغفل(صحابی )
سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فر ما یا ہر اذا ن اور تکبیر کے بیچ میں جو کو ئی
چاہے (نفل)نما ز پڑھے یہ آپ نے تین مرتبہ فر ما یا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، قَالَ
حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ عَامِرٍ الأَنْصَارِيَّ،
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ الْمُؤَذِّنُ إِذَا أَذَّنَ قَامَ
نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَبْتَدِرُونَ
السَّوَارِيَ حَتَّى يَخْرُجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَهُمْ
كَذَلِكَ يُصَلُّونَ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ، وَلَمْ يَكُنْ
بَيْنَ الأَذَانِ وَالإِقَامَةِ شَىْءٌ. قَالَ عُثْمَانُ بْنُ جَبَلَةَ
وَأَبُو دَاوُدَ عَنْ شُعْبَةَ لَمْ يَكُنْ بَيْنَهُمَا إِلاَّ قَلِيلٌ
Narrated By Anas bin Malik : "When the Mu'adhdhin pronounced the Adhan,
some of the companions of the Prophet would proceed to the pillars of
the mosque (for the prayer) till the Prophet arrived and in this way
they used to pray two Rakat before the Maghrib prayer. There used to be a
little time between the Adhan and the Iqama." Shu'ba said, "There used
to be a very short interval between the two (Adhan and Iqama)."
ہم سے محمد بن بشا ر نے بیا ن
کیا کہا ہم سے محمد بن جعفر غندرنے کہا ہم سے شعبہ بن حجا ج نے کہا میں نے
عمرو بن عا مر انصا ری سے سُنا اُنہو ں نے انس بن ما لک سے اُنہو ں نے کہا
جب مؤذن اذان دیتا ( نبی ﷺکے زما نے میں )تو آپکے صحا بہ(مسجد کے ) ستو
نو ں کی طر ف لپکتے آپ کے بر آمد ہو نے تک وہ اسی حا ل میں رہتے (سنتیں
پڑھتے رہتے ) مغرب سے پہلے بھی دو رکعتیں (سنت کی ) پڑھتےاور اذان اور
تکبیر میں کچھ زیا دہ وقفہ نہ ہو تا اور عثمان بن جبلہ اور ابو دا ؤد
طیالسی نےشعبہ سے یوں نقل کیا ہےاذان اور تکبیر میں تھوڑاہی وقفہ ہو تا ۔
15. Whoever waits for the Iqama
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ
الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ
عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا سَكَتَ
الْمُؤَذِّنُ بِالأُولَى مِنْ صَلاَةِ الْفَجْرِ قَامَ فَرَكَعَ
رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ قَبْلَ صَلاَةِ الْفَجْرِ بَعْدَ أَنْ
يَسْتَبِينَ الْفَجْرُ، ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الأَيْمَنِ حَتَّى
يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ لِلإِقَامَةِ
Narrated By 'Aisha : Allah's Apostle used to pray two light Rakat
before the morning (compulsory) prayer after the day dawned and the
Mu'adhdhin had finished his Adhan. He then would lie on his right side
till the Mu'adhdhin came to pronounce the Iqama.
ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا
کہا ہم کو شعیب نے خبر دی اُنہو ں نے زہری سے اُنہوں نے کہا مجھ سے عروہ
بن زبیر نے بیان کیا کہ حضرت عا ئشہؓ نے کہا رسول اللہﷺ جب مؤذن صبح کی دو
سری اذان دے کر چپ ہو رہتا اُٹھتےاور فرض سے پہلے دو رکعتیں (سنت کی) ہلکی
پھلکی ادا کرتے صبح صا دق رو شن ہو جا نے کے بعد پھر دا ہنی کروٹ پر لیٹ
رہتے یہا ں تک کہ مؤذن تکبیر کہنے کے لئے آپ کے پا س آتا ۔
16. Between every two Adhan (Adhan and Iqama), (Nawwafil) Salat can be offered by the one who wants to
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا كَهْمَسُ بْنُ
الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ
مُغَفَّلٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " بَيْنَ كُلِّ
أَذَانَيْنِ صَلاَةٌ بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلاَةٌ ـ ثُمَّ قَالَ فِي
الثَّالِثَةِ ـ لِمَنْ شَاءَ "
Narrated By 'Abdullah bin Mughaffal : The prophet said, "There is a
prayer between the two Adhans (Adhan and Iqama), there is a prayer
between the two Adhans." And then while saying it the third time he
added, "For the one who wants to (pray)."
ہم سے عبدا للہ بن یزید مقری نے
بیان کیا کہا ہم سے کہمس ابن حسن نے اُنہوں نے عبداللہ بن بریدہ سے اُنہوں
نے عبداللہ بن مغفل سے کہا نبی ﷺ نے فر ما یا ہر اذان اور تکبیر کے
بیچ میں نما ز ہے ہر اذان اور تکبیر کے بیچ میں نما ز ہے ، تیسری با ر
بھی یہی فر مایا، اتنا زیادہ کیا ، جو چا ہے۔
17. Whoever said that there should be one Mu’adh-dhin in the journey.
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ
أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ،
أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِي نَفَرٍ مِنْ قَوْمِي
فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً، وَكَانَ رَحِيمًا رَفِيقًا،
فَلَمَّا رَأَى شَوْقَنَا إِلَى أَهَالِينَا قَالَ " ارْجِعُوا فَكُونُوا
فِيهِمْ وَعَلِّمُوهُمْ وَصَلُّوا، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلاَةُ
فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ "
Narrated By Malik bin Huwairth : I came to the Prophet with some men
from my tribe and stayed with him for twenty nights. He was kind and
merciful to us. When he realized our longing for our families, he said
to us, "Go back and stay with your families and teach them the religion,
and offer the prayer and one of you should pronounce the Adhan for the
prayer when its time is due and the oldest one amongst you should lead
the prayer."
ہم سے معلّٰی بن اسد بصری نے
بیا ن کیا کہا ہم سے وہیب بن خا لد نے اُنہوں نے ایو ب سے اُنہوں نے ابو
قلا بہ سے انہوں نے ما لک بن حویرثؓ (صحا بی) سے اُنہو ں نے کہا میں اپنی
قوم (بنی لیث)کے چند آدمیوں کے سا تھ نبی ﷺ کے پاس آیا بیس راتیں
آپ کے پا س رہا ،آپ بہت رحمد ل اور ملنسا ر تھے ۔ جب آپ نے دیکھا
ہم کو گھر جا نے کا شوق ہے تو فر مایا اب لوٹ جا ؤاپنی قو م میں رہو ان کو
(دین کی با تیں )سکھلاؤاور (سفر میں ) نما ز پڑھتے رہنا جب نما ز کا وقت
آئے تو تم میں سے ایک شخص اذان دے اور جو بڑا ہو وہ امامت کرے ۔
18. If there are many travelers, Adhan and Iqama should be pronounced, Similar is the case in Arafat and Al-Muzdalifa.
On a very cold or rainy night, the Mu'adh-dhin saying, 'As-Salatu fir-Rihal' (Salat is to be offered at homes)
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ
الْمُهَاجِرِ أَبِي الْحَسَنِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ،
قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ فَأَرَادَ
الْمُؤَذِّنُ أَنْ يُؤَذِّنَ فَقَالَ لَهُ " أَبْرِدْ ". ثُمَّ
أَرَادَ أَنْ يُؤَذِّنَ فَقَالَ لَهُ " أَبْرِدْ ". ثُمَّ أَرَادَ
أَنْ يُؤَذِّنَ. فَقَالَ لَهُ " أَبْرِدْ ". حَتَّى سَاوَى
الظِّلُّ التُّلُولَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم {إِنَّ
شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ}
Narrated By Abu Dhar : We were
in the company of the Prophet on a journey and the Mu'adhdhin wanted to
pronounce the Adhan for the (Zuhr) prayer. The Prophet said to him, "Let
it become cooler." Then he again wanted to pronounce the Adhan but the
Prophet; said to him, "Let it become cooler." The Mu'adh-dhin again
wanted to pronounce the Adhan for the prayer but the Prophet said, "Let
it become cooler," till the shadows of the hillocks become equal to
their sizes. The Prophet added, "The severity of the heat is from the
raging of Hell."
ہم سے مسلم بن ابراھیم نے بیا ن
کیا کہا ہم سےشعبہ نے اُنہوں نے مہا جر ابن ابو الحسن سے اُنہو ں نے زید
بن وہب سے اُنہوں ابو ذر غفا ری سے اُنہوں نے کہا ہم ایک سفر میں نبی ﷺ کے
ساتھ تھے مؤذن نے (ظہر کی) اذان دینا چا ہی آپ نے فر ما یا ٹھنڈا ہو نے
دے پھر اُس نے اذان دینا چا ہی آپ نے یہی فر ما یا پھر اُس نے اذان دینا
چا ہی آپ نے یہی فر ما یا یہا ں تک کہ سا یہ ٹیلوں کے برا برہو گیا اس
کے بعد آپ نے فر ما یا(دیکھو ) گر می کی شدّت دو زخ کی بھا پ سے ہو تی
ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ
خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ
الْحُوَيْرِثِ، قَالَ أَتَى رَجُلاَنِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم
يُرِيدَانِ السَّفَرَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِذَا
أَنْتُمَا خَرَجْتُمَا فَأَذِّنَا ثُمَّ أَقِيمَا ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمَا
أَكْبَرُكُمَا "
Narrated By
Malik bin Huwairth : Two men came to the Prophet with the intention of a
journey. The Prophet said, "When (both of) you set out, pronounce Adhan
and then Iqama and the oldest of you should lead the prayer."
ہم سے محمد بن تو سف فر یا بی
نے بیا ن کیا کہا ہم سے سفیا ن ثوری نے انہوں نےخا لد خداء سے اُنہو ں نے
ابو قلا بہ عبداللہ بن زید سے اُنہوں نے ما لک بن حویرث سے اُنہوں نے کہا
دو شحص (خو د ما لم اور ایک ان کے رفیق) نبی ﷺ کے پا س آئے وہ سفر کر
نا چا ہتے تھے آپ نے فر ما یا (دیکھو) جب تم سفر کے لئے نکلو تو (رستے
میں ) اذا ن دینا پھر اقا مت کہنا پھر تم دو نو ں میں وہ امامت کرے جو عمر
میں بڑا ہو ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ
الْوَهَّابِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، قَالَ
حَدَّثَنَا مَالِكٌ، أَتَيْنَا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم
وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ، فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ يَوْمًا
وَلَيْلَةً، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَحِيمًا
رَفِيقًا، فَلَمَّا ظَنَّ أَنَّا قَدِ اشْتَهَيْنَا أَهْلَنَا أَوْ قَدِ
اشْتَقْنَا سَأَلَنَا عَمَّنْ تَرَكْنَا بَعْدَنَا فَأَخْبَرْنَاهُ قَالَ
" ارْجِعُوا إِلَى أَهْلِيكُمْ فَأَقِيمُوا فِيهِمْ وَعَلِّمُوهُمْ
وَمُرُوهُمْ ـ وَذَكَرَ أَشْيَاءَ أَحْفَظُهَا أَوْ لاَ أَحْفَظُهَا ـ
وَصَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلاَةُ
فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ "
Narrated By Malik : We came to the Prophet and stayed with him for
twenty days and nights. We were all young and of about the same age. The
Prophet was very kind and merciful. When he realized our longing for
our families, he asked about our homes and the people there and we told
him. Then he asked us to go back to our families and stay with them and
teach them (the religion) and to order them to do good things. He also
mentioned some other things which I have (remembered or) forgotten. The
Prophet then added, "Pray as you have seen me praying and when it is the
time for the prayer one of you should pronounce the Adhan and the
oldest of you should lead the prayer.
ہم سے محمد بن مثنی نے بیا ن
کیا کہا ہم سے عبد الوہا ب نے کہا ہم سے ایوب سختیانی نے انہوں نے ابو
قلا بہ سے کہا ہم سے ما لک بن حویرث نے بیا ن کیا کہا ہم نبی ﷺ کے پا س
(ا پنے ملک سے) آئے ہم سب جوا ن پٹھے قریب قریب ایک ہی عمر کے تھے
تو بیس را تیں آپ کے پاس رہے اور آپ بہت رحم دل ملنسا ر تھے جب آپ یہ
سمجھے کہ ہم اپنے گھر جا نا چا ہتے ہیں یا ہم کو اپنے گھر جا نے کا شو ق
ہے تو آپ نے پو چھا ہم (وطن میں ) اپنے اپنے کن کن عزیزوں کو چھو ڑ آ
ئے ہیں ہم نے بیا ن کیا آپ نے فر ما یا اچھا اب اپنے گھر وا لو ں کے پاس
لو ٹ جا ؤ انہی میں رہو اور ان کو (دین کی با تیں) سکھا ؤ اور یہ حکم دو ،
ما لک نے کئی با تیں بیا ن کیں لیکن ایو ب نے کہا کہ ابو قلا بہ نے یوُں
کہا وہ باتیں مجھ کو یاد ہے یا یوں کہا مجھ کو یاد نہیں اور فر ما یا کہ
جیسے تم نے مجھ کو نما ز پڑھتے دیکھا اسی طرح نما ز پڑھتے رہو اور جب نما ز
کاوقت آئےتو تم میں سے ایک اذان دے اور جو بڑا ہو وہ امامت کرے ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ
بْنِ عُمَرَ، قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ، قَالَ أَذَّنَ ابْنُ عُمَرَ فِي
لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ بِضَجْنَانَ ثُمَّ قَالَ صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ،
فَأَخْبَرَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَأْمُرُ
مُؤَذِّنًا يُؤَذِّنُ، ثُمَّ يَقُولُ عَلَى إِثْرِهِ، أَلاَ صَلُّوا فِي
الرِّحَالِ. فِي اللَّيْلَةِ الْبَارِدَةِ أَوِ الْمَطِيرَةِ فِي
السَّفَرِ
Narrated By Nafi : Once
in a cold night, Ibn 'Umar pronounced the Adhan for the prayer at
Dajnan (the name of a mountain) and then said, "Pray at your homes", and
informed us that Allah's Apostle used to tell the Mu'adhdin to
pronounce Adhan and say, "Pray at your homes" at the end of the Adhan on
a rainy or a very cold night during the journey."
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیا ن
کیا کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطا ن نے اُنہو ں نے عبیدا للہ بن عمر عمری
سے اُنہوں نے کہا مجھ سے نا فع نےبیا ن کیا کہ عبداللہ بن عمرؓ نے ایک سر
دی کی را ت میں ضجنا ن میں اذا ن دی پھر کہا کہ اپنے اپنے ٹھکا نو ں میں
نما ز پڑھ لو اور ہم سے بیا ن کیا کہ رسول اللہ ﷺ مؤذن کو حکم دیتے کہ وہ
اذا ن دے اور اخیر میں یوُں پُکا ر دے لو گو اپنے اپنے ٹھکا نو ں میں نما ز
پڑھ لو۔ سر دی یا با رش کی را ت میں سفر میں ایسا کر تے ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، قَالَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْعُمَيْسِ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ
أَبِيهِ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالأَبْطَحِ
فَجَاءَهُ بِلاَلٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلاَةِ، ثُمَّ خَرَجَ بِلاَلٌ
بِالْعَنَزَةِ حَتَّى رَكَزَهَا بَيْنَ يَدَىْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله
عليه وسلم بِالأَبْطَحِ وَأَقَامَ الصَّلاَةَ
Narrated By 'Aun bin Abi Juhaifa : My father said, "I saw Allah's
Apostle at a place called Al-Abtah. Bilal came and informed him about
the prayer and then came out with an Anza and planted it in front of
Allah's Apostle at Al-Abtah and pronounced the Iqama."
ہم سے اسحٰق بن منصور نے بیا ن
کیا کہا ہم کو جعفر بن عو ن نے خبر دی کہا ہم سے ابو ا لعمیس نے بیا ن کیا
اُنہوں نے عو ن بن ابی جحیفہ سے اُنہو ں نےاپنے با پ ابو جحیفہ ( وہب بن
عبد اللہ سوا ئی صحا بیؓ ) سے اُنہو ں نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ کو ابطح
میں دیکھا بلا لؓ آپ کے پا س آئے اور نما ز کی خبر دی بعد اس کے بلالؓ
گا نسی لے کر نکلے اس کو آپ کے سا منے (جہا ں آپ نما ز پڑھنا چا ہتے
تھے)ابطح میں گا ڑ دیا اور نما ز کی تکبیر کہی۔
19. Should the Mu’adh-dhin turn his face and look from side to side during the Adhan?
It is stated that Bilal used to put his fingers in his ears whereas Ibn Umar never did so.
Ibrahim said that there is no harm in calling for prayers without ablution. Ata said, "Ablution is important and also a Sunnah."
Aisha said, "The Prophet (s.a.w) use to remember Allah at all times."
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ
عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ رَأَى بِلاَلاً
يُؤَذِّنُ فَجَعَلْتُ أَتَتَبَّعُ فَاهُ هَا هُنَا وَهَا هُنَا
بِالأَذَانِ
Narrated By 'Aun bin
Abi Juhaifa : My father said, "I saw Bilal turning his face from side
to side while pronouncing the Adhan for the prayer."
ہم سے محمد بن یو سف فر یا بی
نے بیا ن کیا کہا ہم سے سفیا ن ثوری نے اُنہوں نے عون بن ابی جحیفہ سے
اُنہوں نے اپنے با پ ابو جحیفہ سے اُنہوں نے بلا لؓ کو اذا ن دیتے دیکھا
وہ کہتے ہیں میں بھی (اُن کے منہ کے سا تھ) اِدھر اُد ھر اذا ن میں منہ
پھیرنے لگا ۔
20. The saying of a person, "We have missed As-Salat."
According
to Ibn Sirin, it is disliked to say, "We have missed As-Salat." Instead
it is better to say, "We have not been able to offer As-Salat", but the
statement of the Prophet (s.a.w) is better.
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى،
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ بَيْنَمَا
نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِذْ سَمِعَ جَلَبَةَ
رِجَالٍ فَلَمَّا صَلَّى قَالَ " مَا شَأْنُكُمْ ". قَالُوا
اسْتَعْجَلْنَا إِلَى الصَّلاَةِ. قَالَ " فَلاَ تَفْعَلُوا، إِذَا
أَتَيْتُمُ الصَّلاَةَ فَعَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ
فَصَلُّوا وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا "
Narrated By 'Abdullah bin Abi Qatada : My father said, "While we were
praying with the Prophet he heard the noise of some people. After the
prayer he said, 'What is the matter?' They replied 'We were hurrying for
the prayer.' He said, 'Do not make haste for the prayer, and whenever
you come for the prayer, you should come with calmness, and pray
whatever you get (with the people) and complete the rest which you have
missed."
ہم سے ابو نعیم فضل بن دکین نے
بیا ن کیا کہا ہم سے شیبا ن بن عبدا لرحمٰن نے اُنہوں نے یحیٰی بن ابی
کثیر سے اُنہوں نے عبداللہ بن ابی قتا دہؓ سے اُنہوں نے اپنے باپ ابو قتا
دہ حا رث بن ربعی (صحا بی) سے اُنہوں نے کہا ہم نبی ﷺ کے سا تھ نما ز پرھ
رہے تھے اتنے میں آپ نے کچھ لوگوں کے دو ڑنے کی آوا ز سُنی نما ز کے بعد
فر ما یا یہ کیا آوا ز تھی ہم نے کہا نما ز کے لئے جلدی دوڑ کر آئے تھے
آپ نے فر ما یا ( آئندہ ) ایسا نہ کر نا جب تم نما ز کے لئے آؤ تو
اطمینان اور سہو لت کو لازم کر لو جتنی نما ز پا لو اتنی( امام کے ساتھ
پڑھو ) اور جتنی نما ز جا تی رہے وہ (امام کے سلا م پھیرنے کے بعد ) پو ری
کر لو ۔
21. One should not run for As-Salat but present himself with calmness and prestige.
"Offer
prayer (in congregation) whatever you are able to pray and complete
what you have missed." Abu Qatada narrated this from the Prophet
(s.a.w).
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا
الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،
عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. وَعَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي
سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم
قَالَ " إِذَا سَمِعْتُمُ الإِقَامَةَ فَامْشُوا إِلَى الصَّلاَةِ،
وَعَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ وَالْوَقَارِ وَلاَ تُسْرِعُوا، فَمَا
أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا "
Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "When you hear the Iqama,
proceed to offer the prayer with calmness and solemnity and do not make
haste. And pray whatever you are able to pray and complete whatever you
have missed.
ہم سے آدم بن ابی ایا س نے بیا
ن کیا کہا ہم سے محمد بن عبد الرحمن بن ابی ذئب نے کہا ہم سے زہری نے اُ
نہوں نے سعید بن مسیب سے اُنہوں نے ابو ہریرہؓ سے اُنہوں نے نبی ﷺ سے۔ دو
سری سند ، اور زہری سے اُ نہوں نے ابو سلمہ سے اُنہوں نے ابو ہریرہؓ سے
انہوں نے نبی ﷺ سے آپ نے فر ما یا جب تم تکبیر کی آوا ز سُنو تو نما ز
کے لئے ( معمو لی چا ل سے ) چلتے ہو ئے آؤ اور آہستگی اور سہو لت کو اپنے
او پر لا زم کو لو دو ڑو نہیں پھر جتنی نما ز ملے وہ پڑھ لو جو جا تی رہے
اسکو پو را کر لو ۔
22. When should the people get up for the Salat if they see the Imam during the Iqama?
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ
كَتَبَ إِلَىَّ يَحْيَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ
أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا
أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَلاَ تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي "
Narrated By 'Abdullah bin Abi Qatada : My father said. "Allah's Apostle
said, 'If the Iqama is pronounced then do not stand for the prayer till
you see me (in front of you).'"
ہم سے مسلم بن ابرا ہیم نے بیا
ن کیا کہا ہم سے ہشا م دستوا ئی نے اُنہو ں نے کہا یحییٰ بن ابی کثیر نے
مجھے لکھ بھیجا اُنہوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے روایت کی انہوں نے
اپنے با پ ابو قتا دہؓ سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فر ما یا جب نما ز کی تکبیر
ہو تو جب تک مجھ کو ( نکلتے ) نہ دیکھو کھڑے نہ ہو ۔
23. One should not stand for As-Salat hurriedly but with calmness and prestige. 24. Can one go out go out of the mosque (after the Adhan, or the Iqama) if there is a genuine excuse?
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى،
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ
رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَلاَ
تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي وَعَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ ". تَابَعَهُ
عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ
Narrated By 'Abdullah bin Abi Qatada, My father said, "Allah's Apostle
said, 'If the Iqama is pronounced, then do not stand for the prayer till
you see me (in front of you) and do it calmly.'"
ہم سے ابو نعیم فضل بن دکین نے
بیا ن کیا کہاہم سے شیبان نے اُ نہو ں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اُ نہوں نے
عبد اللہ بن ابی قتا دہ سے اُ نہوں نے اپنے با پ ابو قتا دہ حا رث بن ربعی
سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فر ما یا جب نما ز کی تکبیر ہو تو تم اس وقت تک
کھڑے نہ ہو جب تک مجھ کو نہ دیکھو اور آہستگی لا زم کر لو شیبا ن کے سا تھ
اس حدیث کو یحیٰی سے علی بن مبا رک نے بھی روا یت کیا ۔
24. Can one go out of the masjid (after the Adhan) if there is a valid excuse?
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا
إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ
شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ
اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ وَقَدْ أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ
وَعُدِّلَتِ الصُّفُوفُ، حَتَّى إِذَا قَامَ فِي مُصَلاَّهُ انْتَظَرْنَا
أَنْ يُكَبِّرَ انْصَرَفَ قَالَ " عَلَى مَكَانِكُمْ ". فَمَكَثْنَا
عَلَى هَيْئَتِنَا حَتَّى خَرَجَ إِلَيْنَا يَنْطُفُ رَأْسُهُ مَاءً وَقَدِ
اغْتَسَلَ
Narrated By Abu
Huraira : Allah's Apostle went out (of the mosque) when the Iqama had
been pronounced and the rows straightened. The Prophet stood at his
Musalla (praying place) and we waited for the Prophet to begin the
prayer with Takbir. He left and asked us to remain in our places. We
kept on standing till the Prophet returned and the water was trickling
from his head for he had taken a bath (of Janaba).
ہم سے عبد العزیز بن عبداللہ نے
بیا ن کیا کہا ہم سے ابرا ہیم ابن سعد نے اُ نہوں نے صا لح بن کیسا ن سے
اُنہوں نے ابن شہا ب سے اُ نہوں نے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن سے اُنہوں نے
ابو ہریر ہؓ سے کہ رسول اللہ ﷺ (حجرے سے با ہر )بر آمد ہو ئے ( نما ز
پڑھا نے کو ) اور نماز کی تکبیر ہو گئی تھی صفیں برابر ہو چکی تھی جب آپ
اپنی نماز کی جگہ پر کھڑے ہو ئے ہم انتظا ر کر رہے تھے کہ اب تکبیر کہتے
ہیں تو آپ لو ٹے اور فر ما یا تم اسی جگہ ٹھہرے رہو ہم اسی حا ل پر ٹھہرے
رہے یہا ں تک کہ آپ نکلے آپ کے سر سے پا نی ٹپک رہا تھا آپ نے غسل کیا
تھا ۔
25. If the Imam says, "Remain at your places till I return", then wait for him.
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ
حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ
عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ
فَسَوَّى النَّاسُ صُفُوفَهُمْ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه
وسلم فَتَقَدَّمَ وَهْوَ جُنُبٌ ثُمَّ قَالَ " عَلَى مَكَانِكُمْ ".
فَرَجَعَ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ خَرَجَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ مَاءً فَصَلَّى
بِهِمْ
Narrated By Abu Huraira :
Once iqama was pronounced and the people had straightened the rows,
Allah's Apostle went forward (to lead the prayer) but he was Junub, so
he said, "Remain in your places." And he went out, took a bath and
returned with water trickling from his head. Then he led the prayer.
ہم سے اسحٰق بن منصو ر نے بیا ن
کیا کہا ہم سے محمد بن یو سف فر یا بی نے کہا ہم سے او زا عی نے اُنہوں نے
ابنِ شہا ب زہری سے اُنہو ں نے ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن سے اُنہو ں نے
ابو ہریرہؓ سے اُنہوں نے کہا نما ز کی تکبیر ہو ئی لو گو ں نے صفیں برا بر
کر لیں رسول اللہ ﷺ (حجرہ شریف سے ) با ہر نکلے ( امامت کے لئے ) آگے بڑھ
گئے اور آپ جنب تھے ( لیکن خیا ل نہ رہا ) پھر ( یا د آ یا تو ) فر ما
یا نہیں ٹھہرے رہو اور لو ٹ گئے غسل کیا پھر با ہر نکلے اور سر سے پا نی
ٹپک رہا تھا لو گو ں کو نما ز پڑھا ئی۔
26. The saying of a man to the Prophet (s.a.w), "We have not prayed."
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى،
قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ، يَقُولُ أَخْبَرَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ
اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم جَاءَهُ عُمَرُ بْنُ
الْخَطَّابِ يَوْمَ الْخَنْدَقِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ
مَا كِدْتُ أَنْ أُصَلِّيَ حَتَّى كَادَتِ الشَّمْسُ تَغْرُبُ، وَذَلِكَ
بَعْدَ مَا أَفْطَرَ الصَّائِمُ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم
" وَاللَّهِ مَا صَلَّيْتُهَا " فَنَزَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه
وسلم إِلَى بُطْحَانَ وَأَنَا مَعَهُ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى ـ يَعْنِي
الْعَصْرَ ـ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ صَلَّى بَعْدَهَا
الْمَغْرِبَ
Narrated By Jabir
bin 'Abdullah : On the day of Al-Khandaq (the trench), 'Umar bin
Al-Khattab went to the Prophet and said, "O Allah's Apostle! By Allah, I
could not pray (the 'Asr) till the sun had set." 'Umar told this to the
Prophet at the time when a fasting person had done Iftar (taken his
meals). The Prophet then went to Buthan and I was with him. He performed
ablution and offered the 'Asr prayer after the sun had set and then the
Maghrib prayer.
ہم سے ابو نعیم نے بیا ن کیا ہم
سے شیبا ن نے اُنہوں نے یحیٰی سے اُنہوں نے کہا میں نے ابو سلمہ سے سُنا
وہ کہتے تھے ہم کو جابربن عبداللہ انصا ری( صحا بیؓ) نے خبر دی کہ خندق کے
دن حضرت عمرؓ نبیﷺ کے پا س آئے اور عرض کر نے لگے یا رسو ل اللہ ﷺ خدا
کی قسم میں تو عصر کی نما ز اس وقت تک نہ پڑھ سکا کہ سو رج ڈو بنے ہی کو
تھا یہ حضرت عمرؓ نے اس وقت کہا جب رو ضہ کے افطا ر کا وقت آچکا تھا نبی ﷺ
نے فر ما یا (خیر تو نے تو اخیر وقت پڑھ بھی لی) خدا کی قسم میں تو ابھی
تک عصر کی نما ز نہیں پڑھی اس کے بعد آپ بطحا ن میں اترے میں بھی آپ کے
سا تھ تھا آپ نے وضو کیا پھر عصر کی نما ز پڑھی جبکہ سو رج ڈوب گیا تھا
پھر اس کے بعد مغرب کی نما ز پڑھی ۔
27. If the Imam is confronted with a problem after the Iqama.
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ حَدَّثَنَا
عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ،
عَنْ أَنَسٍ، قَالَ أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم
يُنَاجِي رَجُلاً فِي جَانِبِ الْمَسْجِدِ، فَمَا قَامَ إِلَى الصَّلاَةِ
حَتَّى نَامَ الْقَوْمُ
Narrated
By Anas : Once the Iqama was pronounced and the Prophet was talking to a
man (in a low voice) in a corner of the mosque and he did not lead the
prayer till (some of) the people had slept (dozed in a sitting posture).
ہم سے ابو معمر عبداللہ بن عمرو
نے بیا ن کیا کہا ہم سے عبدالوا رث بن سعید نے کہا ہم سے عبدا لعزیز بن
صہیب نے اُنہو ں نے انس بن مالک سے انہوں نے کہا نما ز کی تکبیر ہو ئی (
یعنی عشاء کی) اور نبیﷺ مسجد کے ایک گو شے میں ایک شخص سے چپکے کا ن میں
با تیں کرتے رہے نما ز نہیں شرو ع کی یہا ں تک کہ لو گ سو گئے۔
28. To talk after the Iqama.
حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى،
قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، قَالَ سَأَلْتُ ثَابِتًا الْبُنَانِيَّ عَنِ
الرَّجُلِ، يَتَكَلَّمُ بَعْدَ مَا تُقَامُ الصَّلاَةُ فَحَدَّثَنِي عَنْ
أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَعَرَضَ لِلنَّبِيِّ صلى
الله عليه وسلم رَجُلٌ فَحَبَسَهُ بَعْدَ مَا أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ
Narrated By Anas bin Malik : Once Iqama was pronounced a man came to the Prophet and detained him (from the prayer).
ہم سے عیا ش بن ولید نے بیا ن
کیا کہا ہم سے عبد الاعلیٰ ابن عبدالاعلیٰ نے کہا ہم سے حمید طویل نے کہا
میں نے ثا بت بنانی سے پُوچھا ( اگر)
کو ئی شخص نما ز کی تکبیر ہو ئے بعد کسی سے با تیں کرے تو کیسا ہے اُنہو ں نے انس بن ما لکؓ کی حدیث مجھ کو سُنا ئی کہ (آپﷺ کے وقت میں ) نما ز کی تکبیر ہو ئی آپ کے سا منے ایک شحص آیا اس تکبیر کے بعد آپ کو ( دیر تک با تو ں میں ) رو ک لیا ۔
کو ئی شخص نما ز کی تکبیر ہو ئے بعد کسی سے با تیں کرے تو کیسا ہے اُنہو ں نے انس بن ما لکؓ کی حدیث مجھ کو سُنا ئی کہ (آپﷺ کے وقت میں ) نما ز کی تکبیر ہو ئی آپ کے سا منے ایک شحص آیا اس تکبیر کے بعد آپ کو ( دیر تک با تو ں میں ) رو ک لیا ۔
29. Congregational Salat is obligatory.
Al-Hasan
said, "If somebody is forbidden by his mother from going to the
congregational Isha prayer because of mercy and pity for him, he should
not obey her."
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ
أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ
اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ
هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِحَطَبٍ فَيُحْطَبَ، ثُمَّ آمُرَ بِالصَّلاَةِ
فَيُؤَذَّنَ لَهَا، ثُمَّ آمُرَ رَجُلاً فَيَؤُمَّ النَّاسَ، ثُمَّ
أُخَالِفَ إِلَى رِجَالٍ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ، وَالَّذِي
نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُهُمْ أَنَّهُ يَجِدُ عَرْقًا
سَمِينًا أَوْ مِرْمَاتَيْنِ حَسَنَتَيْنِ لَشَهِدَ الْعِشَاءَ "
Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "By Him in Whose Hand
my soul is I was about to order for collecting fire-wood (fuel) and then
order Someone to pronounce the Adhan for the prayer and then order
someone to lead the prayer then I would go from behind and burn the
houses of men who did not present themselves for the (compulsory
congregational) prayer. By Him, in Whose Hands my soul is, if anyone of
them had known that he would get a bone covered with good meat or two
(small) pieces of meat present in between two ribs, he would have turned
up for the 'Isha prayer."
ہم سے عبدا للہ بن یو سف تنیسی
نے بیا ن کیا کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی اُنہوں نے ابو الزنا د سے
اُنہوں نے اعرج سے اُنہوں نے ابو ہریرؓہ سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فر ما یا
قسم اس ( خدا )کی جس کے ہا تھ میں میری جا ن ہے میں نے یہ ارادہ کیا کہ
حکم دوں لکڑیا ں جمع کی جا ئیں پھر نماز کا حکم دوں اُس کی اذا ن دی جا ئے
پھر ایک شحص سے کہ دوں وہ لو گو ں کو نما ز پڑھا ئے اور میں ان کو
پیچھے چھوڑ کر ان لو گو ں کے پا س جا ؤں ( جو جما عت میں حا ضر نہیں ہوئے)
ان کے گھرجَلا دوں قسم اس کی جس کے ہا تھ میں میری جا ن ہے اگر ان لو گو
ں میں سے جو جما عت میں نہیں آئے کسی کو معلو م ہو جا ئے کہ اس کو
گو شت کی ایک مو ٹی ہڈی ملے گی یا اچھے دو کھر ملیں گیں تو عشاء کی جما عت
میں ضرور آ ئے۔
30. Superiority of the congregational Salat.
Whenever
Al-Aswad missed the congregational Salat (in a particular masjid), he
would go to another masjid. Once, Anas came to a masjid where the Salat
was finished. He pronounced the Adhan and then Iqama and offered the
Salat in congregation.
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ،
عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى
الله عليه وسلم قَالَ " صَلاَةُ الْجَمَاعَةِ تَفْضُلُ صَلاَةَ الْفَذِّ
بِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً "
Narrated By 'Abdullah bin Umar : Allah's Apostle said, "The prayer in
congregation is twenty seven times superior to the prayer offered by
person alone."
ہم سے عبداللہ بن یو سف تینسی
نے بیا ن کیا کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی اُنہو ں نے نا فع سے اُنہوں
نے عبداللہ بن عمرؓ سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فر ما یا جماعت کی نما ز اکیلے
شخص کی نما ز سے ستا یئس درجے زیا دہ فضیلت رکھتی ہے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ،
حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ أَبِي
سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم
يَقُولُ " صَلاَةُ الْجَمَاعَةِ تَفْضُلُ صَلاَةَ الْفَذِّ بِخَمْسٍ
وَعِشْرِينَ دَرَجَةً "
Narrated By Abu Said Al-Khudri : The Prophet said, "The prayer in
congregation is twenty five times superior to the prayer offered by
person alone."
ہم سے عبداللہ بن یو سف تنیسی
نے بیا ن کیا کہا ہم سے لیث ابن سعد نے کہا مجھ سے یزید بن عبداللہ بن ہا د
نے عبداللہ بن خباب سے اُنہوں نے ابو سعید خدریؓ سے اُنہوں نے نبی ﷺ سے
سُنا آپ فر ما تے تھے جما عت کی نما ز اکیلے شخص کی نما ز پر پچیس درجے
زیا دہ فضیلت رکھتی ہے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ
الْوَاحِدِ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ،
يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى
الله عليه وسلم " صَلاَةُ الرَّجُلِ فِي الْجَمَاعَةِ تُضَعَّفُ عَلَى
صَلاَتِهِ فِي بَيْتِهِ وَفِي سُوقِهِ خَمْسًا وَعِشْرِينَ ضِعْفًا،
وَذَلِكَ أَنَّهُ إِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ خَرَجَ
إِلَى الْمَسْجِدِ لاَ يُخْرِجُهُ إِلاَّ الصَّلاَةُ، لَمْ يَخْطُ خَطْوَةً
إِلاَّ رُفِعَتْ لَهُ بِهَا دَرَجَةٌ، وَحُطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ،
فَإِذَا صَلَّى لَمْ تَزَلِ الْمَلاَئِكَةُ تُصَلِّي عَلَيْهِ مَا دَامَ
فِي مُصَلاَّهُ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ. وَلاَ
يَزَالُ أَحَدُكُمْ فِي صَلاَةٍ مَا انْتَظَرَ الصَّلاَةَ "
Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "The reward of the
prayer offered by a person in congregation is twenty five times greater
than that of the prayer offered in one's house or in the market (alone).
And this is because if he performs ablution and does it perfectly and
then proceeds to the mosque with the sole intention of praying, then for
every step he takes towards the mosque, he is upgraded one degree in
reward and his one sin is taken off (crossed out) from his accounts (of
deeds). When he offers his prayer, the angels keep on asking Allah's
Blessings and Allah's forgiveness for him as long as he is (staying) at
his Musalla. They say, 'O Allah! Bestow Your blessings upon him, be
Merciful and kind to him.' And one is regarded in prayer as long as one
is waiting for the prayer."
ہم سے مو سیٰ بن اسمٰعیل نے بیا
ن کیا کہا ہم سے عبدالوا حد ابن زیا د نے کہا ہم سے سلیما ن بن مہرا ن
اعمش نے کہا میں نے ابو صا لح ذکوا ن سے سُنا وہ کہتے تھے میں نے ابو
ہریرہؓ سے سُنا اُنہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ نے فر مایا جما عت سے آدمی
کا نما ز پڑھنا گھر میں یا با زار میں پڑھنے سے پچیس گنا زیا دہ ثواب
رکھتا ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ آدمی جب اچھی طرح وضو کر کے مسجد میں جا
نے کیلئے نکلتا ہے اور صرف نما ز ہی کی نیت سے نکلتا ہے تو جو قدم رکھتا
ہے ہر قدم پر اس کا ایک درجہ بلند ہو تا ہے اور ایک گنا ہ معا ف ہو جاتا
ہے پھر جب وہ ( مسجد میں پہنچ کر ) نما ز پڑھتا ہے تو جب تک اپنی نما ز
کی جگہ میں رہتا ہے فرشتے اس کے لئے دعا کرتے ر ہتے ہیں یا اللہ اس پر
اپنی رحمت اُتا ر اس پر رحم کر اور تم میں سے کو ئی جب تک نما ز کا انتظا ر
کر تا رہے گو یا وہ نما ز ہی میں ہے۔
31. Superiority of the Fajr prayer in congregation.
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ
الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَأَبُو
سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ
رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " تَفْضُلُ صَلاَةُ
الْجَمِيعِ صَلاَةَ أَحَدِكُمْ وَحْدَهُ بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ جُزْءًا،
وَتَجْتَمِعُ مَلاَئِكَةُ اللَّيْلِ وَمَلاَئِكَةُ النَّهَارِ فِي صَلاَةِ
الْفَجْرِ ". ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ فَاقْرَءُوا إِنْ
شِئْتُمْ {إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا}
Narrated By Abu Salama bin 'Abdur Rahman : Abu Huraira said, "I heard
Allah's Apostle saying, 'The reward of a prayer in congregation is
twenty five times greater than that of a prayer offered by a person
alone. The angels of the night and the angels of the day gather at the
time of Fajr prayer.'" Abu Huraira then added, "Recite the Holy Book if
you wish, for "Indeed, the recitation of the Qur'an in the early dawn
(Fajr prayer) is ever witnessed."
ہم سے ابو الیما ن حکم بن نا فع نے بیا ن کیا کہا ہم کو شعیب نے خبر دی
اُنہوں نے زہری سے کہا مجھ کو سعید بن مسیب اور ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن نے
خبر دی کہ ابو ہریرہؓ نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سُنا وہ فر ما تے
تھے جما عت کی نما ز تم میں سے کسی کے اکیلے نما ز سے پچیس حِصے زیا دہ
ثوا ب رکھتی ہے اور صبح کی نما ز کے وقت رات اور دن کے ( چو کیدا ر ) فرشتے
اکٹھّا ہو جا تے ہیں پھرابو ہریرہؓ کہتے تھے اگر تمہا را جی چا ہے تو( سو
رت بنی اسرائیل کی) یہ آیت پڑھو فجر کے قرآن پر فرشتے حا ضر ہو تے ہیں
۔
قَالَ شُعَيْبٌ وَحَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ تَفْضُلُهَا بِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً
Narrated 'Abdullah bin 'Umar: The reward of the congregational prayer
is twenty seven times greater (than that of the prayer offered by a
person alone).
شعیب جو اس حدیث کا را وی ہے اس
نے کہا مجھ سے نا فع نے بیا ن کیا انہوں نے عبداللہ بن عمرؓ سے اُنہوں
نے کہا جما عت کی نما ز اکیلے کی نماز پرستا یئس درجے فضیلت رکھتی ہے۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا
الأَعْمَشُ، قَالَ سَمِعْتُ سَالِمًا، قَالَ سَمِعْتُ أُمَّ الدَّرْدَاءِ،
تَقُولُ دَخَلَ عَلَىَّ أَبُو الدَّرْدَاءِ وَهْوَ مُغْضَبٌ فَقُلْتُ مَا
أَغْضَبَكَ فَقَالَ وَاللَّهِ مَا أَعْرِفُ مِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صلى
الله عليه وسلم شَيْئًا إِلاَّ أَنَّهُمْ يُصَلُّونَ جَمِيعًا
Narrated By Salim : I heard Um Ad-Darda' saying, "Abu Ad-Darda' entered
the house in an angry mood. I said to him. 'What makes you angry?' He
replied, 'By Allah! I do not find the followers of Muhammad doing those
good things (which they used to do before) except the offering of
congregational prayer." (This happened in the last days of Abu Ad-Darda'
during the rule of 'Uthman).
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے
بیان کیا کہا مجھ سے میرے باپ نے کہا ہم سے اعمش نے انہوں نے کہا میں نے
سالم بن ابی الجعد سے سنا انہوں نے کہا میں نے ام درداء سے وہ کہتی تھیں
ابودرداءؓ(صحابی) میرے پاس آئے وہ غصّے میں تھے میں نے پوچھا کیوں غصّے
میں ہو انہوں نے کہا قسم خدا کی میں دیکھتا ہو محمد ﷺ کے وقت کا کوئی کام
باقی نہیں رہابس یہی رہ گیاہے کہ لوگ مل کر نماز پڑھ لیتے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ،
عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي
مُوسَى، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَعْظَمُ النَّاسِ
أَجْرًا فِي الصَّلاَةِ أَبْعَدُهُمْ فَأَبْعَدُهُمْ مَمْشًى، وَالَّذِي
يَنْتَظِرُ الصَّلاَةَ حَتَّى يُصَلِّيَهَا مَعَ الإِمَامِ أَعْظَمُ
أَجْرًا مِنَ الَّذِي يُصَلِّي ثُمَّ يَنَامُ "
Narrated By Abu Musa : The Prophet said, "The people who get tremendous
reward for the prayer are those who are farthest away (from the mosque)
and then those who are next farthest and so on. Similarly one who waits
to pray with the Imam has greater reward than one who prays and goes to
bed."
ہم سے محمد بن علاء بن کریب
ہمدانی نے بیان کیا کہا ہم سے ابو اسامہ حماد بن اسامہ نے انہوں نے برید بن
عبداللہ سے انہوں نے ابو بردہ عامر سے انہوں نے ابو موسیٰ اشعریؓ سے انہوں
نے کہا نبیﷺ نےفرمایا سب سے زیادہ نماز کا ثواب اس کو ملتا ہے جو(
مسجدتک) دور سے چل کر آتا ہے پھر جو اس کے بعد سب سے زیادہ دور سے چل کر
آتا ہے (اسی طرح درجہ بدرجہ) اور جو شخص امام کے ساتھ نماز پڑھنے کا منتظر
رہتا ہے اس کو زیادہ ثواب ہے اس سے جو انتظار نہ کرے نماز پڑھ کر سو رہے۔
32. The superiority of offering the Zuhr prayer early.
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَىٍّ، مَوْلَى أَبِي
بَكْرٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ
رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي
بِطَرِيقٍ وَجَدَ غُصْنَ شَوْكٍ عَلَى الطَّرِيقِ فَأَخَّرَهُ، فَشَكَرَ
اللَّهُ لَهُ، فَغَفَرَ لَهُ "
Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "While a man was going
on a way, he saw a thorny branch and removed it from the way and Allah
became pleased by his action and forgave him for that."
مجھ سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا انہوں نے امام مالک سے انہوں نے سمی
سے جو ابو بکر ابنِ عبدالرحمٰن کے غلام تھے انہوں نے ابو صالح ذکوان سے جو
گھی بیچتے تھے انہوں نے ابوہریرہؓ سے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ایسا ہوا
ایک مرتبہ ایک شخص رستے میں جا رہا تھا اس نے رستے پر کانٹوں کی ایک ٹہنی
دیکھی اس کو سرکا دیا اللہ کو اس کا یہ کام پسند آیا اس کو بخش دیا ۔
ثُمَّ قَالَ " الشُّهَدَاءُ خَمْسَةٌ الْمَطْعُونُ، وَالْمَبْطُونُ،
وَالْغَرِيقُ، وَصَاحِبُ الْهَدْمِ، وَالشَّهِيدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
". وَقَالَ " لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ
الأَوَّلِ ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلاَّ أَنْ يَسْتَهِمُوا لاَسْتَهَمُوا
عَلَيْهِ "
Then the Prophet
said, "Five are martyrs: One who dies of plague, one who dies of an
abdominal disease, one who dies of drowning, one who is buried alive
(and) dies and one who is killed in Allah's cause." (The Prophet further
said, "If the people knew the reward for pronouncing the Adhan and for
standing in the first row (in the congregational prayer) and found no
other way to get it except by drawing lots they would do so,
پھر آپ نے فرمایا شہید پانچ ہیں جو طاعون سے مرے(وباسے) اور جو پیٹ کے
عارضے سے اور جو ڈوب جائےاور جو دب کر(مکان گر کر) مرے اور جو اللہ کی راہ
میں مارا جائے اور آپؐ نے فرمایا اگر لوگوں کو معلوم ہو جائے جو ثواب اذان
اور پہلی صف میں ہے پھر قرعہ ڈالے بغیر ان کو نہ پا سکیں تو ان کے لیے
قرعہ ڈالیں۔
" وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي التَّهْجِيرِ لاَسْتَبَقُوا إِلَيْهِ،
وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ لأَتَوْهُمَا وَلَوْ
حَبْوًا "
and if they knew the
reward of offering the Zuhr prayer early (in its stated time), they
would race for it and they knew the reward for 'Isha and Fajr prayers in
congregation, they would attend them even if they were to crawl.")
اور اگر ان کو معلوم ہو جائے
کہ ظہر کی نماز کےلیے سویرے جانے میں کیا ثواب ہے تو ایک دوسرے سے آگے
بڑھیں اور اگر ان کو معلوم ہوجائے کہ عشاء اور صبح کی جماعت میں آنے کا
کیا ثواب ہے تو گھٹنوں کے بل گھسٹتے ہوئے ان میں آئیں۔
33. Each step taken towards good deeds is rewarded.
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوْشَبٍ، قَالَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ،
قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " يَا بَنِي سَلِمَةَ أَلاَ
تَحْتَسِبُونَ آثَارَكُمْ ". وَقَالَ مُجَاهِدٌ فِي قَوْلِهِ
{وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَهُمْ} قَالَ خُطَاهُمْ
Narrated By Humaid : Anas said, "The Prophet said, 'O Bani Salima!
Don't you think that for every step of yours (that you take towards the
mosque) there is a reward (while coming for prayer)?" Mujahid said:
"Regarding Allah's Statement: "We record that which they have sent
before (them), and their traces" . 'Their traces' means 'their steps'.
ہم سے محمد بن عبداللہ بن حوشب نے بیان کیا کہا ہم سے عبدالوہاب ثقفی نے
کہا مجھ سے حمید طویل نے انہوں نے انس بن مالک (صحابی) سے کہ نبیﷺ نے
فرمایا اے بنی سلمہ والو کیا تم اپنے قدموں کا ثواب نہیں چاہتے ۔
وَقَالَ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ،
حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ، حَدَّثَنِي أَنَسٌ، أَنَّ بَنِي سَلِمَةَ، أَرَادُوا
أَنْ يَتَحَوَّلُوا، عَنْ مَنَازِلِهِمْ، فَيَنْزِلُوا قَرِيبًا مِنَ
النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله
عليه وسلم أَنْ يُعْرُوا {الْمَدِينَةَ} فَقَالَ " أَلاَ
تَحْتَسِبُونَ آثَارَكُمْ ". قَالَ مُجَاهِدٌ خُطَاهُمْ آثَارُهُمْ
أَنْ يُمْشَى فِي الأَرْضِ بِأَرْجُلِهِمْ
" And Anas said that the people of Bani Salima wanted to shift to a
place near the Prophet but Allah's Apostle disliked the idea of leaving
their houses uninhabited and said, "Don't you think that you will get
the reward for your footprints." Mujahid said, "Their foot prints mean
their foot steps and their going on foot."
اور سعید بن ابی مریم نے کہا ہم سے بیان کیا یحییٰ بن ایوب نے کہا مجھ سے
انسؓ نے کہ بنی سلمہ والوں نے یہ ارادہ کیا کہ اپنے مکان (جو مسجد سےدور
تھے) چھوڑ دیں اور نبیﷺ کے قریب آرہیں(تاکہ نماز کےلیے آنے میں آسانی ہو
) لیکن رسول اللہﷺ کو مدینہ کا اجاڑ دینا برا معلوم ہوا آپؐ نے فرمایا تم
اپنے قدموں کا ثواب نہیں چاہتے ؟ مجاہد نے کہا (سورت یسٓ میں) واٰثارھم سے
قدم مراد ہیں یعنی زمین پر پاؤں سےچلنے
نشان۔
نشان۔
34. The superiority of the Isha prayer in congregation.
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا
الأَعْمَشُ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،
قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لَيْسَ صَلاَةٌ أَثْقَلَ
عَلَى الْمُنَافِقِينَ مِنَ الْفَجْرِ وَالْعِشَاءِ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ
مَا فِيهِمَا لأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا، لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ
الْمُؤَذِّنَ فَيُقِيمَ، ثُمَّ آمُرَ رَجُلاً يَؤُمُّ النَّاسَ، ثُمَّ
آخُذَ شُعَلاً مِنْ نَارٍ فَأُحَرِّقَ عَلَى مَنْ لاَ يَخْرُجُ إِلَى
الصَّلاَةِ بَعْدُ "
Narrated
By Abu Huraira : The Prophet said, "No prayer is harder for the
hypocrites than the Fajr and the 'Isha prayers and if they knew the
reward for these prayers at their respective times, they would certainly
present themselves (in the mosques) even if they had to crawl." The
Prophet added, "Certainly I decided to order the Mu'adh-dhin
(call-maker) to pronounce Iqama and order a man to lead the prayer and
then take a fire flame to burn all those who had not left their houses
so far for the prayer along with their houses."
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے
بیان کیا کہا ہم سے میرے باپ نے کہا ہم سے اعمش نے کہا مجھ سے ابو صالح
ذکوان نے انہوں نے ابو ہریرہؓ سے کہ نبی ﷺ نے فرمایا منافقوں پر کوئی نماز
صبح اور عشاء کی نماز سےزیادہ بھاری نہیں ہےاور اگر لوگ جانتے جو ثواب ان
نمازوں میں ہے(اور چل نہ سکتے) تو گھٹنوں کے بل گھسٹتے ہوئے ان کے لیے آتے
اور میں نے یہ ارادہ کیا کہ مؤذن سے کہوں وہ تکبیر کہے اور ایک شخص کو
امام بنا دوں وہ لوگوں کو نماز پڑھائے اور میں آگ کی چنگاریاں لے کر ان
لوگوں کو جلا دوں جو ابھی نماز کے لیے نہیں نکلے۔
35. Two or more persons are considered as a group
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ
حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ
الْحُوَيْرِثِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا
حَضَرَتِ الصَّلاَةُ فَأَذِّنَا وَأَقِيمَا، ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمَا
أَكْبَرُكُمَا "
Narrated By
Malik bin Huwairith : Prophet said (to two persons), "Whenever the
prayer time becomes due, you should pronounce Adhan and then Iqama and
the older of you should lead the prayer."
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان
کیا کہا ہم سے یزید بن زریع نے کہا ہم سے خالد حذاء نے انہوں نے ابو قلا بہ
عبداللہ بن زید سے انہوں نے مالک بن حویرث سے انہوں نے نبی ﷺ سے آپ نے
فرمایا جب نماز کا وقت آئے تو تم دونوں اذان دوتکبیر کہو پھر جو بڑا ہے وہ
امام بنے۔
36. (The reward of a person) who waits for As-Salat in the masjid and the superiority of masajid.
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي
الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ
اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْمَلاَئِكَةُ تُصَلِّي عَلَى
أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي مُصَلاَّهُ مَا لَمْ يُحْدِثْ اللَّهُمَّ اغْفِرْ
لَهُ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ. لاَ يَزَالُ أَحَدُكُمْ فِي صَلاَةٍ مَا
دَامَتِ الصَّلاَةُ تَحْبِسُهُ، لاَ يَمْنَعُهُ أَنْ يَنْقَلِبَ إِلَى
أَهْلِهِ إِلاَّ الصَّلاَةُ "
Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "The angels keep on
asking for Allah's Blessing and Forgiveness for anyone of you as long as
he is at his Musalla (praying place) and does not do Hadath (passes
wind). The angels say, 'O Allah! Forgive him and be Merciful to him.'
Each one of you is in the prayer as long as he is waiting for the prayer
and nothing but the prayer detains him from going to his family."
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی
نے بیان کیا انہوں نےامام مالکؒ سے انہوں نے ابوالزناد سے انہوں نے اعرج سے
انہوں نے ابو ہریرہؓ سے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا تم میں سے کوئی جب تک
اپنی نماز کی جگہ بیٹھا رہے تو فرشتے اس کے لیے دعا کرتےرہتےہیں جب تک اس
کا وضو نہ ٹوٹے یوں کہتے رہتے ہیں یا اللہ اس کو بخش دے یا اللہ اس پر رحم
کر ، اور تم میں سے کوئی جب تک نماز کے لیے رکا رہے تو گویا نماز ہی میں ہے
بشرطیکہ اس کو اپنے گھر لوٹ جانے سے نماز کے سوا اور کوئی چیز نہ روکتی
ہو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ
عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،
عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى
الله عليه وسلم قَالَ " سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ
لاَ ظِلَّ إِلاَّ ظِلُّهُ الإِمَامُ الْعَادِلُ، وَشَابٌّ نَشَأَ فِي
عِبَادَةِ رَبِّهِ، وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ فِي الْمَسَاجِدِ،
وَرَجُلاَنِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَا
عَلَيْهِ، وَرَجُلٌ طَلَبَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ فَقَالَ
إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ. وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ أَخْفَى حَتَّى لاَ
تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِينُهُ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ
خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ "
Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "Allah will give shade, to
seven, on the Day when there will be no shade but His. (These seven
persons are) a just ruler, a youth who has been brought up in the
worship of Allah (i.e. worships Allah sincerely from childhood), a man
whose heart is attached to the mosques (i.e. to pray the compulsory
prayers in the mosque in congregation), two persons who love each other
only for Allah's sake and they meet and part in Allah's cause only, a
man who refuses the call of a charming woman of noble birth for illicit
intercourse with her and says: I am afraid of Allah, a man who gives
charitable gifts so secretly that his left hand does not know what his
right hand has given (i.e. nobody knows how much he has given in
charity), and a person who remembers Allah in seclusion and his eyes are
then flooded with tears."
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا
کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے انہوں نے عبیداللہ بن عمر عمری سے
انہوں نے کہا مجھ سے خبیب بن عبدالرحمٰن نے انہوں نے حفص بن عاصم سے انہوں
نے ابوہریرہؓ سے انہوں نے نبی ﷺ سے آپ نے فرمایا سات آدمیوں کو اللہ
تعالیٰ (قیامت کے دن ) اپنے سائے میں رکھے گا جس دن اس کےسائے کے سوا اور
کہیں سایہ نہ ملے گا ۔ایک تو انصاف کرنے والا حاکم دوسرے وہ جوان جو جوانی
کی امنگ سے خدا کی عبادت میں رہا تیسرے وہ جس کا دل مسجد میں لگا رہا
چوتھے وہ دو آدمی جنہوں نے اللہ کے لیے دوستی رکھی زندگی بھر دوست رہے اور
دوستی ہی پر مرے پانچویں وہ مرد جس کو ایک مرتبہ والی خوبصورت عورت نے
(برے کام کے لیے) بلایا اس نے کہا میں اللہ سے ڈرتا ہوں ، چھٹے وہ مرد جس
نے اللہ کی راہ میں ایسے چھپا کر صدقہ کیا کہ داہنے ہاتھ سے جو دیا بائیں
ہاتھ تک کو اس کی خبر نہ ہوئی ساتویں وہ مرد جس نے اکیلے میں اللہ کو یاد
کیا اس کی آنکھیں بہہ نکلیں(رو دیا)۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ،
عَنْ حُمَيْدٍ، قَالَ سُئِلَ أَنَسٌ هَلِ اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صلى
الله عليه وسلم خَاتَمًا فَقَالَ نَعَمْ، أَخَّرَ لَيْلَةً صَلاَةَ
الْعِشَاءِ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ
بَعْدَ مَا صَلَّى فَقَالَ " صَلَّى النَّاسُ وَرَقَدُوا وَلَمْ
تَزَالُوا فِي صَلاَةٍ مُنْذُ انْتَظَرْتُمُوهَا ". قَالَ فَكَأَنِّي
أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ
Narrated By Humaid : Anas was asked, "Did Allah's Apostle wear a ring?"
He said, "Yes. Once he delayed the 'Isha prayer till mid-night and after
the prayer, he faced us and said, 'The people prayed and have slept and
you remained in prayer as long as you waited for it.'" Anas added, "As
if I were just now observing the glitter of his ring."
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان
کیا کہا ہم سے اسمٰعیل بن جعفر نے انہوں نے حمید طویل سے انہوں نے کہا انس
بن مالکؓ سے لوگوں نے پوچھا کیا رسول اللہ ﷺ نے انگوٹھی پہنی ہے انہوں نے
کہا ہاں ایک بار آدھی رات تک آپ نے عشاء کی نما زمیں نے دیر کی (پھر باہر
برآمد ہوئے ) نماز پڑھ کر ہماری طرف منہ کیا اور فرمایا لوگ تو نماز پڑھ
چکے اور سو بھی رہے ۔اور تم تو برابر (گویا)نماز ہی میں رہے جب سے نماز کا
ا نتظار کرتے رہے انس نے کہا جیسے میں آپ کی انگوٹھی کی چمک (اس وقت)
دیکھ رہا ہوں۔
37. The superiority of going to the masjid in the morning, afternoon and the evening (for the congregational Salat).
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ
هَارُونَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ
أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ
النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ غَدَا إِلَى الْمَسْجِدِ
وَرَاحَ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُ نُزُلَهُ مِنَ الْجَنَّةِ كُلَّمَا غَدَا
أَوْ رَاحَ "
Narrated By Abu
Huraira : The Prophet said, "Allah will prepare for him who goes to the
mosque (every) morning and in the afternoon (for the congregational
prayer) an honorable place in Paradise with good hospitality for (what
he has done) every morning and afternoon goings.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے
بیان کیا کہا ہم سے یزید بن ہارون واسطی نے کہا ہم کو محمد بن مطرف مدنی نے
خبر دی انہوں نے زید بن اسلم سے انہوں نے عطاء بن یسار سے انہوں نے
ابوہریرہؓ سے انہوں نے نبی ﷺ سے آپ نے فرمایا جو کوئی صبح اور شام مسجدکو
(نماز کے لیے ) جایا کرے وہ جب صبح اور شام جائے گا اللہ تعالیٰ بہشت میں
اسکی مہمانی کا سامان کرے گا ۔
38. After the Iqama, no Salat other than the obligatory can be offered
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا
إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ
عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ابْنِ بُحَيْنَةَ، قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صلى
الله عليه وسلم بِرَجُلٍ قَالَ وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ
حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ
أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ سَمِعْتُ حَفْصَ بْنَ
عَاصِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَجُلاً، مِنَ الأَزْدِ يُقَالُ لَهُ مَالِكٌ
ابْنُ بُحَيْنَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَى رَجُلاً
وَقَدْ أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ
رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَثَ بِهِ النَّاسُ، وَقَالَ لَهُ
رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الصُّبْحَ أَرْبَعًا، الصُّبْحَ
أَرْبَعًا ". تَابَعَهُ غُنْدَرٌ وَمُعَاذٌ عَنْ شُعْبَةَ فِي
مَالِكٍ. وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ عَنْ سَعْدٍ عَنْ حَفْصٍ عَنْ عَبْدِ
اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ. وَقَالَ حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا سَعْدٌ عَنْ
حَفْصٍ عَنْ مَالِكٍ.
Narrated By Malik Ibn Buhaina :
Allah's Apostle passed by a man praying two Rakat after the Iqama (had
been pronounced). When Allah's Apostle completed the prayer, the people
gathered around him (the Prophet) or that man and Allah's Apostle said
to him (protesting), Are there four Rakat in Fajr prayer? Are there four
Rakat in Fajr prayer?"
ہم سےعبدالعزیز بن عبداللہ نے
بیان کیا کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے انہوں نے اپنے باپ سعد بن ابراہیم
سے انہوں نے حفص بن عاصم سے انہوں نے عبداللہ بن مالک ابنِ بحینہ (صحابی)
سے انہوں نے کہا نبی ﷺ ایک شخص (خود عبداللہ بن مالک ) پر سے گزرے دوسری
سند امام بخاریؒ نے کہا مجھ سے عبدالرحمٰن بن بشیر نے بیان کیا کہا ہم سے
بہز بن اسد نے کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی کہا مجھ کو سعد بن ابراہیم
نےکہامیں نے حفص بن عاصم بن عمر بن خطابؓ سے سنا کہا میں نے ازد (قبیلے) کے
ایک شخص سے جس کا نام مالک ابن بحینہ تھاسنا کہ رسول اللہﷺ نے ایک شخص کو
دیکھا وہ دو رکعتیں (فجر کی سنت کی)پڑھ رہا تھا ادھر تکبیر ہو رہی تھی جب
آپ نماز سے فارغ ہوئے تو لوگ اس کے گرد ہوئے (سبھوں نے اس کو گھیر لیا)
رسول اللہﷺ نے اس سے فرمایا ارے کیا صبح کی چار رکعتیں پڑھتا ہےصبح کی چار
رکعتیں بہز بن اسد کے ساتھ اس حدیث کو غندر اور معاذ نے بھی شعبہ سے روایت
کیا اور مالک اور ابنِ اسحاق نے اس حدیث کو سعد سے روایت کیا انہوں نے حفص
سے انہوں نے عبداللہ بن بحینہؓ سے اور حماد بن ابی سلمہؓ نے کہا ہم کو سعد
نے خبر دی انہوں نے حفص سے انہوں نے مالک بن بحینہ سے۔
39. The limit set for a patient to attend the congregational Salat?
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي
قَالَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ الأَسْوَدُ قَالَ
كُنَّا عِنْدَ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ فَذَكَرْنَا الْمُوَاظَبَةَ
عَلَى الصَّلاَةِ وَالتَّعْظِيمَ لَهَا، قَالَتْ لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ
اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَرَضَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، فَحَضَرَتِ
الصَّلاَةُ فَأُذِّنَ، فَقَالَ " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ
بِالنَّاسِ ". فَقِيلَ لَهُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ، إِذَا
قَامَ فِي مَقَامِكَ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، وَأَعَادَ
فَأَعَادُوا لَهُ، فَأَعَادَ الثَّالِثَةَ فَقَالَ " إِنَّكُنَّ
صَوَاحِبُ يُوسُفَ، مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ".
فَخَرَجَ أَبُو بَكْرٍ فَصَلَّى، فَوَجَدَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم
مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً، فَخَرَجَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ كَأَنِّي
أَنْظُرُ رِجْلَيْهِ تَخُطَّانِ مِنَ الْوَجَعِ، فَأَرَادَ أَبُو بَكْرٍ
أَنْ يَتَأَخَّرَ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ
مَكَانَكَ، ثُمَّ أُتِيَ بِهِ حَتَّى جَلَسَ إِلَى جَنْبِهِ. قِيلَ
لِلأَعْمَشِ وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي وَأَبُو
بَكْرٍ يُصَلِّي بِصَلاَتِهِ، وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلاَةِ أَبِي
بَكْرٍ فَقَالَ بِرَأْسِهِ نَعَمْ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ عَنْ شُعْبَةَ
عَنِ الأَعْمَشِ بَعْضَهُ. وَزَادَ أَبُو مُعَاوِيَةَ جَلَسَ عَنْ
يَسَارِ أَبِي بَكْرٍ فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي قَائِمًا
Narrated By Al-Aswad : "We were with 'Aisha discussing the regularity
of offering the prayer and dignifying it. She said, 'When Allah's
Apostle fell sick with the fatal illness and when the time of prayer
became due and Adhan was pronounced, he said, 'Tell Abu Bakr to lead the
people in prayer.' He was told that Abu Bakr was a soft-hearted man and
would not be able to lead the prayer in his place. The Prophet gave the
same order again but he was given the same reply. He gave the order for
the third time and said, 'You (women) are the companions of Joseph.
Tell Abu Bakr to lead the prayer.' So Abu Bakr came out to lead the
prayer. In the meantime the condition of the Prophet improved a bit and
he came out with the help of two men one on each side. As if I was
observing his legs dragging on the ground owing to the disease. Abu Bakr
wanted to retreat but the Prophet beckoned him to remain at his place
and the Prophet was brought till he sat beside Abu Bakr." Al-A'mash was
asked, "Was the Prophet praying and Abu Bakr following him, and were the
people following Abu Bakr in that prayer?" Al-A'mash replied in the
affirmative with a nod of his head. Abu Muawiya said, "The Prophet was
sitting on the left side of Abu Bakr who was praying while standing."
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے
بیان کیا کہا مجھ سے میرے باپ حفص نے کہا ہم سے اعمش نے انہوں نے ابراہیم
نخعی سے انہوں نےکہا اسود بن یزید نخعی نے کہا ہم حضرت عائشہؓ صدیقہ کے پاس
بیٹھے تھے ہم نے نماز ہمیشہ پڑھنے کا اور نماز بڑی عبادت ہونے کا ذکر
کیاانہوں نے کہا اب رسول اللہ ﷺ کو وہ بیماری ہوئی جس میں آپ نے وفات فر
مائی اور نماز کا وقت آیا اذان ہوئی تو آپ نے حکم دیا ابو بکرؓ سے کہو وہ
لوگوں کو نماز پڑھائیں آپ سے عرض کیا گیا (حضرت عائشہؓ نے عرض کیا) کہ
ابو بکرؓ دل کے کچے ہیں وہ جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو (رنج کے مارے رو
دیں گے ) لوگوں کو نماز نہ پڑھا سکیں گے آپ نے پھر وہی حکم دیا پھر وہی
عرض کیا گیا پھر تیسری بار آپ نے وہی حکم دیا اور(اپنی بیبیوں سے) فرمایا
تم تو یوسف پیغمبرؑ کی ساتھ والیاں ہو ابو بکرؓ سے کہو وہ لوگوں کو نماز
پڑھائیں آخر ابو بکرؓ نماز پڑھانے کے لیے نکلے اسکے بعد نبیﷺ نے ذرا اپنا
مزاج ہلکا پایا آپ برآمد ہوئے دو آدمیوں پر ٹیکا دئیے ہوئے حضرت عائشہؓ
نے کہا گویا میں آپ کے دونوں پاؤں دیکھ رہی ہوں وہ بیماری سے زمین پر
لکیر کرتے جاتے تھے ابو بکرؓ نے یہ دیکھ کر پیچھے ہٹنا چاہا نبی ﷺ نے ان کو
اشارہ کیا اپنی جگہ پر رہوپھر لوگ آپ ﷺ کو لے کر آئے آپ ابوبکرؓ کے بازو
بیٹھ گئے ۔ جب اعمش نے یہ حدیث بیان کی تو لوگوں نے ان سے کہا کیا نبیﷺ
نماز پڑھا رہے تھے اور ابو بکرؓ آپؐ کی پیروی (اقتداء)کرتے تھے۔ اور لوگ
ابوبکرؓ کی پیروی(اقتداء) اعمش نے سر ہلا کر بتلایا ہاں اس حدیث کا ایک
ٹکڑا ابو داؤد طیالسی نے شعبہ سے روایت کیا انہوں نے اعمش سے اور ابو
معاویہ نے اس روایت میں یہ بڑھایا کہ آپﷺ ابو بکرؓ کے بائیں طرف بیٹھے تو
ابو بکرؓ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ
يُوسُفَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ
اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ لَمَّا ثَقُلَ
النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَاشْتَدَّ وَجَعُهُ اسْتَأْذَنَ
أَزْوَاجَهُ أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِي فَأَذِنَّ لَهُ، فَخَرَجَ بَيْنَ
رَجُلَيْنِ تَخُطُّ رِجْلاَهُ الأَرْضَ، وَكَانَ بَيْنَ الْعَبَّاسِ
وَرَجُلٍ آخَرَ. قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لاِبْنِ
عَبَّاسٍ مَا قَالَتْ عَائِشَةُ فَقَالَ لِي وَهَلْ تَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ
الَّذِي لَمْ تُسَمِّ عَائِشَةُ قُلْتُ لاَ. قَالَ هُوَ عَلِيُّ بْنُ
أَبِي طَالِبٍ
Narrated By 'Aisha
: "When the Prophet became seriously ill and his disease became
aggravated he asked for permission from his wives to be nursed in my
house and he was allowed. He came out with the help of two men and his
legs were dragging on the ground. He was between Al-Abbas and another
man."
'Ubaid Ullah said, "I told Ibn 'Abbas what 'Aisha had narrated and he said, 'Do you know who was the (second) man whose name 'Aisha did not mention'" I said, 'No.' Ibn 'Abbas said, 'He was 'Ali Ibn Abi Talib.'"
'Ubaid Ullah said, "I told Ibn 'Abbas what 'Aisha had narrated and he said, 'Do you know who was the (second) man whose name 'Aisha did not mention'" I said, 'No.' Ibn 'Abbas said, 'He was 'Ali Ibn Abi Talib.'"
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان
کیا کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی انہوں نے معمر سے انہوں نے زہری سے
کہا مجھ کو عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے خبر دی انہوں نے کہا
حضرت عائشہؓ نے کہا جب نبی ﷺ بیمار ہوئے اور آپ کی بیماری سخت ہو گئی تو
آپ نے اپنی بیبیوں سے اجازت لی کہ بیماری میں آپ میرے گھرمیں رہیں انہوں
نے اجازت دی آپ دو آدمیوں پر ٹیکا دیے ہوئے نکلے آپ کے پاؤں زمین پر
لکیر کر رہے تھے اور آپؐ عباسؓ اور ایک اور آدمی کے بیچ میں تھے
عبیداللہ(راوی) نے کہا میں نے یہ حدیث حضرت عائشہؓ کی عبداللہ بن عباسؓ سے
بیان کی انہوں نے کہا تو جانتا ہے وہ دوسرا آدمی کون تھا جس کا نام حضرت
عائشہؓ نے نہیں لیا میں نے کہا نہیں انہوں نے کہا وہ دوسرے آدمی حضرت علیؓ
تھے۔
40. It is permissible to pray at one’s dwelling during rain or if there is a valid excuse.
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ
نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، أَذَّنَ بِالصَّلاَةِ فِي لَيْلَةٍ ذَاتِ
بَرْدٍ وَرِيحٍ ثُمَّ قَالَ أَلاَ صَلُّوا فِي الرِّحَالِ. ثُمَّ قَالَ
إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَأْمُرُ الْمُؤَذِّنَ
إِذَا كَانَتْ لَيْلَةٌ ذَاتُ بَرْدٍ وَمَطَرٍ يَقُولُ أَلاَ صَلُّوا فِي
الرِّحَالِ
Narrated By Nafi' :
Once on a very cold and stormy night, Ibn 'Umar pronounced the Adhan for
the prayer and then said, "Pray in your homes." He (Ibn 'Umar) added.
"On very cold and rainy nights Allah's Apostle used to order the
Mu'adhdhin to say, 'Pray in your homes.'"
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان
کیا کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی انہوں نے نافع سے انہوں نے ابنِ عمرؓ سے
انہوں نے ایک سردی اور آندھی کی رات میں اذان دی پھر( یوں پکار کر)کہہ
دیا لوگو اپنے گھروں میں نماز پڑھ لو اس کے بعد یہ کہا کہ رسول اللہ ﷺ سردی
اور بارش کی رات میں مؤذن کو یہ حکم دیتےکہ وہ( پکار کر) کہہ دے لوگو!
اپنے اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھ لو۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ،
عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ
مَالِكٍ، كَانَ يَؤُمُّ قَوْمَهُ وَهْوَ أَعْمَى، وَأَنَّهُ قَالَ
لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا
تَكُونُ الظُّلْمَةُ وَالسَّيْلُ وَأَنَا رَجُلٌ ضَرِيرُ الْبَصَرِ،
فَصَلِّ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي بَيْتِي مَكَانًا أَتَّخِذُهُ مُصَلًّى،
فَجَاءَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَيْنَ تُحِبُّ
أَنْ أُصَلِّيَ ". فَأَشَارَ إِلَى مَكَانٍ مِنَ الْبَيْتِ، فَصَلَّى
فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
Narrated By Mahmud bin Rabi' Al-Ansari : 'Itban bin Malik used to lead
his people (tribe) in prayer and was a blind man, he said to Allah's
Apostle , "O Allah's Apostle! At times it is dark and flood water is
flowing (in the valley) and I am blind man, so please pray at a place in
my house so that I can take it as a Musalla (praying place)." So
Allah's Apostle went to his house and said, "Where do you like me to
pray?" 'Itban pointed to a place in his house and Allah's Apostle,
offered the prayer there.
ہم سے اسمٰعیل بن ابی اویس نے
بیان کیا کہا مجھ سے امام مالکؒ نے انہوں نے ابنِ شہاب سے انہوں نے محمود
بن ربیع انصاری سے انہوں نے کہا کہ عتبان بن مالک انصاری اپنی قوم والوں کی
امامت کیا کرتے اور وہ اندھے تھے انہوں نے رسول اللہ ﷺسے عرض کیا یا رسول
اللہؐ کبھی اندھیرا ہوتا ہے اور پانی بہتا ہے اور میں اندھا آدمی ہوں
(جماعت میں نہیں آسکتا) تو آپ یا رسول اللہﷺ میرے گھر میں کسی جگہ نماز
پڑھ دیجئے میں اس کو نماز کی جگہ بنا لوں ۔پھر رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف
لائے اور پوچھا میں کہاں نماز پڑھوں انہوں نے گھر میں ایک جگہ بتلادی آپ
نے اسی جگہ نماز پڑھی(جہاں انہوں نے بتلائی تھی)۔
41. Can the Imam offer the Salat with only those who are present (for the prayer)? And can he deliver a Khutba on Friday if it is raining?
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالَ حَدَّثَنَا
حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ، صَاحِبُ
الزِّيَادِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ، قَالَ
خَطَبَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ فِي يَوْمٍ ذِي رَدْغٍ، فَأَمَرَ الْمُؤَذِّنَ
لَمَّا بَلَغَ حَىَّ عَلَى الصَّلاَةِ. قَالَ قُلِ الصَّلاَةُ فِي
الرِّحَالِ، فَنَظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، فَكَأَنَّهُمْ أَنْكَرُوا
فَقَالَ كَأَنَّكُمْ أَنْكَرْتُمْ هَذَا إِنَّ هَذَا فَعَلَهُ مَنْ هُوَ
خَيْرٌ مِنِّي ـ يَعْنِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ـ إِنَّهَا
عَزْمَةٌ، وَإِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أُحْرِجَكُمْ. وَعَنْ حَمَّادٍ عَنْ
عَاصِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ
نَحْوَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ كَرِهْتُ أَنْ أُؤَثِّمَكُمْ، فَتَجِيئُونَ
تَدُوسُونَ الطِّينَ إِلَى رُكَبِكُمْ
Narrated By 'Abdullah bin Al-Harith : Ibn Abbas addressed us on a
(rainy and) muddy day and when the Mu'adhdhin said, "Come for the
prayer" Ibn 'Abbas ordered him to say, "Pray in your homes." The people
began to look at one another with surprise as if they did not like it.
Ibn 'Abbas said, "It seems that you thought ill of it but no doubt it
was done by one who was better than I (i.e. the Prophet). It (the
prayer) is a strict order and I disliked to bring you out."
Ibn 'Abbas narrated the same as above but he said, "I did not like you to make you sinful (in refraining from coming to the mosque) and to come (to the mosque) covered with mud up to the knees."
Ibn 'Abbas narrated the same as above but he said, "I did not like you to make you sinful (in refraining from coming to the mosque) and to come (to the mosque) covered with mud up to the knees."
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب
بصری نے بیان کیا کہاہم سے حماد بن زید نے کہا ہم سے عبدالحمید صاحب
الزیادی نے کہا میں نے عبداللہ بن حارث بن نوفل سے انہوں نے کہا عبداللہ
ابن عباس نے ہم کو کیچڑ کے دن خطبہ سنایا جب مؤذن حی علی الصلوٰۃ کہنے کو
ہوا تو اس کو حکم دیا یوں کہہ اپنے اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھ لو لوگ یہ
دیکھ کر ایک کو ایک تکنےلگےجیسے انہوں نے اسکو ناجائز سمجھا ابنِ عباسؓ نے
کہا تم نے شاید اسکو براجانا یہ تو انہوں نے بھی کیا ہے جو مجھ سے (کہیں)
بہتر تھے یعنی نبیﷺ نے، بیشک جمعہ واجب ہے اور میں نے برا جانا کہ (حی علی
الصلوٰۃ کہوا کر ) تم کو تکلیف میں ڈالوں حماد نے اس حدیث کو عاصم سے
انہوں نے عبداللہ بن حارث سے اُنہوں نے ابنِ عبا سؓ سے ایسا ہی روا یت
کیا ، اتنا فرق ہے کہ ابنِ عبا سؓ نے کہا میں نے تم کو گنہگا ر کر نا بُرا
سمجھا گھٹنوں تک تم کیچڑ سا نتے ہو ئے آؤ۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ
يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ سَأَلْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
فَقَالَ جَاءَتْ سَحَابَةٌ فَمَطَرَتْ حَتَّى سَالَ السَّقْفُ، وَكَانَ
مِنْ جَرِيدِ النَّخْلِ، فَأُقِيمَتِ الصَّلاَةُ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ
اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَسْجُدُ فِي الْمَاءِ وَالطِّينِ، حَتَّى
رَأَيْتُ أَثَرَ الطِّينِ فِي جَبْهَتِهِ
Narrated By Abu Sa'id Al-Khudri : A cloud came and it rained till the
roof started leaking and in those days the roof used to be of the
branches of date-palms. Iqama was pronounced and I saw Allah's Apostles
prostrating in water and mud and even I saw the mark of mud on his
forehead.
ہم سے مسلم بن ابرا ہیم نے بیا ن
کیا کہا ہم سے ہشا م دستوائی انہوں نے یحیٰی بن ابی کثیر سے اُ نہوں نے
ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن سے اُ نہوں نے کہا میں نے ابو سعید خدریؓ سے
(شب قدر کو ) پُو چھا انہوں نے کہا ایک ابر کا ٹکڑا آیا وہ بر سا یہاں
تک کہ مسجد کی چھت بہنے لگی وہ کھجو ر کی شا خوں کی تو تھی ہی پھر نما ز
کی تکبیر ہو ئی میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا آپ کیچڑ پا نی میں سجدہ کر
رہے تھے یہا ں تک کہ کیچڑ کا نشا ن آپ کی مبا رک پیشا نی پر میں نے دیکھا
۔
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ
بْنُ سِيرِينَ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ قَالَ رَجُلٌ مِنَ
الأَنْصَارِ إِنِّي لاَ أَسْتَطِيعُ الصَّلاَةَ مَعَكَ. وَكَانَ رَجُلاً
ضَخْمًا، فَصَنَعَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم طَعَامًا فَدَعَاهُ
إِلَى مَنْزِلِهِ، فَبَسَطَ لَهُ حَصِيرًا وَنَضَحَ طَرَفَ الْحَصِيرِ،
صَلَّى عَلَيْهِ رَكْعَتَيْنِ. فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ آلِ الْجَارُودِ
لأَنَسٍ أَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي الضُّحَى قَالَ
مَا رَأَيْتُهُ صَلاَّهَا إِلاَّ يَوْمَئِذٍ
Narrated By Anas bin Sirin : I heard Anas saying, "A man from Ansar
said to the Prophet, 'I cannot pray with you (in congregation).' He was a
very fat man and he prepared a meal for the Prophet and invited him to
his house. He spread out a mat for the Prophet, and washed one of its
sides with water, and the Prophet prayed two Rakat on it." A man from
the family of Al-Jaruid asked, "Did the Prophet used to pray the Duha
(forenoon) prayer?" Anas said, "I did not see him praying the Duha
prayer except on that day."
ہم سے آدم بن ابی ایا س نے بیا
ن کیا کہا ہم سے شعبہ نے کہا ہم سے انس بن سیرین نے انہوں نے کہا میں نے
انس بن ما لکؓ ( صحا بی ) سے سُنا وہ کہتے تھے ایک انصا ری مرد نے (آپﷺ سے)
عرض کیا میں آپ کے سا تھ نما ز میں شریک نہیں ہو سکتا اور وہ مو ٹا
آدمی تھا (بھا ری بھر کم) اس نے نبی ﷺ کے لئے کھا نا بھی تیا ر کیا
اور آپ کو اپنے مکا ن پر دعوت دی اور ایک بو ریا آپ کے لئے بچھا یا ( صا
ف یا نرم کرنے کو ) اس کا ایک کنا رہ دھو ڈا لا آپ ﷺ نے اسی بو ریے پر دو
رکعتیں پڑھیں ایک شحص ( عبد الحمید) نے جو جا رود کی اولا د میں تھا انس
سے کہا کیا نبی ﷺ دن چڑھے چا شت کی نما ز پڑھا کرتے تھے اُنہوں نے کہا میں
نے تو اس دن کے سوا اور کبھی آپ کو یہ نما ز پڑھتے نہیں دیکھا ۔
42. (What should one do) if the meal has been served and Iqama has been pronounced for As-Salat
And
Ibn Umar used to start with the supper first. Abu Ad-Darda said, "It is
a sign of comprehension to fulfill or turn to his needs first so as to
offer prayer attentively with a clear mind."
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ
حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، سَمِعْتُ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله
عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " إِذَا وُضِعَ الْعَشَاءُ وَأُقِيمَتِ
الصَّلاَةُ فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ "
Narrated By 'Aisha : The Prophet said, "If supper is served, and Iqama is pronounced one should start with the supper."
ہم سے مسد د بن مسرہد نے بیا ن
کیا کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطا ن نے اُنہوں نے ہشا م بن عروہ سے اُنہوں
نے اپنے با پ سے اُنہوں نے کہا میں نے حضرت عا ئشہؓ سے سُنا اُنہوں نے
نبی ﷺ سے آپ نے فر ما یا جب شا م کا کھا نا ( سا منے ) رکھا جا ئے ادھر
نما ز کی تکبیر ہو تو پہلے کھا نا کھا لو .
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ
عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ
اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا قُدِّمَ الْعَشَاءُ
فَابْدَءُوا بِهِ قَبْلَ أَنْ تُصَلُّوا صَلاَةَ الْمَغْرِبِ، وَلاَ
تَعْجَلُوا عَنْ عَشَائِكُمْ "
Narrated By Anas bin Malik : Allah's Apostle said, "If the supper is
served start having it before praying the Maghrib prayer and do not be
hasty in finishing it."
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیا ن
کیا کہا ہم سے لیث بن سعد نے اُنہوں نے عقیل سے اُنہوں نے ابنِ شہا ب سے
اُنہوں نے انس بن ما لکؓ سے کہ رسول اللہﷺ نے فر ما یا جب شا م کا کھا نا
سا منے رکھا جا ئے تو پہلے کھا لو پھر مغرب کی نما ز پڑھو اور اپنا کھا نا
چھو ڑ کر نما ز میں جلدی مت کرو .
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ
عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ
اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا وُضِعَ عَشَاءُ أَحَدِكُمْ
وَأُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ، وَلاَ يَعْجَلْ حَتَّى
يَفْرُغَ مِنْهُ ". وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُوضَعُ لَهُ الطَّعَامُ
وَتُقَامُ الصَّلاَةُ فَلاَ يَأْتِيهَا حَتَّى يَفْرُغَ، وَإِنَّهُ
لَيَسْمَعُ قِرَاءَةَ الإِمَامِ
Narrated By Nafi' : Ibn 'Umar said, "Allah's Apostle said, 'If the
supper is served for anyone of you and the Iqama is pronounced, start
with the supper and don't be in haste (and carry on eating) till you
finish it." If food was served for Ibn 'Umar and Iqama was pronounced,
he never came to the prayer till he finished it (i.e. food) in spite of
the fact that he heard the recitation (of the Qur'an) by the Imam (in
the prayer).
ہم سے عبید بن
اسمٰعیل نے بیان کیا کہا ہم سے ابو اسا مہ حما د ابن اسا مہ نے انہوں نے
عبید اللہ ابن عمرؓ سے انہوں نے نافع سے انیوں نے عبداللہ بن عمرؓ سےکہ
رسول اللہﷺ نے فرما یا جب تم میں سےکسی کا شا م کا کھا نا (سا منے ) رکھا
جا ئے اور نما ز کی تکبیر ہو تو پہلے کھا نا کھا لو اور نما ز کے لئے جلدی
نہ کرے کھا نے سے فرا غت کرلے اور عبد اللہ بن عمرؓ کے سا منے کھانا رکھا
جا تا اور اُدھر نما ز کی تکبیر ہو تی وہ کھا نے سے فرا غت تک نما ز کے
لئے نہ آتے اور امام کی قراءت سنتے رہتے ۔
وَقَالَ زُهَيْرٌ وَوَهْبُ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ،
عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه
وسلم " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ عَلَى الطَّعَامِ فَلاَ يَعْجَلْ حَتَّى
يَقْضِيَ حَاجَتَهُ مِنْهُ، وَإِنْ أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ ". رَوَاهُ
إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ عَنْ وَهْبِ بْنِ عُثْمَانَ، وَوَهْبٌ
مَدِينِيٌّ
Narrated By Ibn
'Umar: The Prophet said, "If anyone of you is having his meals, he
should not hurry up till he is; satisfied even if the prayer has been
started."
اور زہیر ابن معا ویہ اور وہب
بن عثما ن نے مو سیٰ بن عقبہ سے اُنہوں نے نا فع سے اُنہوں نے ابنِ عمرؓ سے
روا یت کی کہ نبی ﷺ نے فر ما یا جب تم میں کو ئی کھا نے پر (بیٹھا ) ہو تو
جلدی نہ کرے اچھی طرح اپنی خوا ہش پو ری کرلے گو نما ز کی تکبیرہو جا ئے
امام عبداللہ بخا ری نے کہا اور مجھ سے ابرا ہیم بن منذر نے بیا ن کیا
اُنہوں نے وہب بن عثما ن سے یہی حدیث رو ایت کی اور وہب مدینہ طیبہ کے رہنے
وا لے تھے ۔
43. When the Imam is called for As-Salat while he has in his hands something to eat
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا
إِبْرَاهِيمُ، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي
جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ، أَنَّ أَبَاهُ، قَالَ رَأَيْتُ
رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْكُلُ ذِرَاعًا يَحْتَزُّ مِنْهَا،
فَدُعِيَ إِلَى الصَّلاَةِ فَقَامَ فَطَرَحَ السِّكِّينَ، فَصَلَّى وَلَمْ
يَتَوَضَّأْ
Narrated By Ja'far
bin 'Amr bin Umaiya : My father said, "I saw Allah's Apostle eating a
piece of meat from the shoulder of a sheep and he was called for the
prayer. He stood up, put down the knife and prayed but did not perform
abultion.'"
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے
بیا ن کیا کہا ہم سے ابرا ہیم بن سعد نےاُنہوں نے صا لح بن کیسا ن سے
اُنہوں نے ابنِ شہاب سے اُنہوں نے کہا مجھ کو جعفر بن عمرو بن امیہ نے
خبر دی اُن کے با پ عمرو بن اُمیہ نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺکو دیکھا آپ (
بکری کا )دست کا ٹ کاٹ کر کھا رہے تھے اتنے میں نما ز کے لئے بلا ئے گئے
آپ کھڑے ہو ئے اور چھری ڈا ل دی پھر آپ نے نما ز پڑھا ئی اور وضو نہیں
کیا ۔
44. If somebody was busy with his domestic work and Iqama was pronounced and then he came out.
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا
الْحَكَمُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ
مَا كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَصْنَعُ فِي بَيْتِهِ قَالَتْ
كَانَ يَكُونُ فِي مِهْنَةِ أَهْلِهِ ـ تَعْنِي خِدْمَةَ أَهْلِهِ ـ
فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلاَةُ خَرَجَ إِلَى الصَّلاَةِ
Narrated By Al-Aswad : That he asked 'Aisha "What did the Prophet use
to do in his house?" She replied, "He used to keep himself busy serving
his family and when it was the time for prayer he would go for it."
ہم سے آدم بن ابی ایا س نے
بیا ن کیا کہا ہم سے شعبہ نے کہا ہم سے حکم بن عتیبہ نے اُنہوں نے ابرا
ہیم نخعی سے اُنہوں نے اسود بن یزید سے اُنہوں نے کہا میں نےحضرت عا ئشہؓ
سے پو چھا نبی ﷺ اپنے گھر میں کیا کیا کرتے تھے انہوں نے کہا گھر کے کام
کا ج اور کیا یعنی اپنے گھر وا لوں کی خدمت کیا کرتےجب نما ز تیا ر ہو تی
تو (کا م چھوڑ کر ) نما ز کے لئے نکلتے۔
45. Offering Salat in front of the people with the sole intention of teaching them the Salat of the Prophet (s.a.w) and his Sunnah
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ
حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، قَالَ جَاءَنَا مَالِكُ بْنُ
الْحُوَيْرِثِ فِي مَسْجِدِنَا هَذَا فَقَالَ إِنِّي لأُصَلِّي بِكُمْ،
وَمَا أُرِيدُ الصَّلاَةَ، أُصَلِّي كَيْفَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله
عليه وسلم يُصَلِّي. فَقُلْتُ لأَبِي قِلاَبَةَ كَيْفَ كَانَ يُصَلِّي
قَالَ مِثْلَ شَيْخِنَا هَذَا. قَالَ وَكَانَ شَيْخًا يَجْلِسُ إِذَا
رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ قَبْلَ أَنْ يَنْهَضَ فِي الرَّكْعَةِ
الأُولَى
Narrated By Aiyub : Abu
Qilaba said, "Malik bin Huwairith came to this Mosque of ours and said,
'I pray in front of you and my aim is not to lead the prayer but to
show you the way in which the Prophet used to pray.' " I asked Abu
Qilaba,"How did he use to pray?' " He replied, "(The Prophet used to
pray) like this Sheikh of ours and the Sheikh used to sit for a while
after the prostration, before getting up after the first Rak'a."
ہم سے مو سٰی بن اسمٰعیل نے
بیا ن کیا کہا ہم سے وہیب بن خا لد نے کہا ہم سے ایو ب سختیا نی نے انہوں
نے ابو قلا بہ عبداللہ بن زید سے اُنہوں نے کہا ما لک بن حویرثؓ ( صحا بی
)ہما ری اس مسجد میں آئے اور کہنے لگے میں ( اسوقت ) تمہارے لئے نما ز
پڑھتا ہوں اور میری نیت نما ز پڑھنے کی نہیں ہے فقط یہ چا ہتا ہو ں کہ اس
طرح نما ز پڑھوں ( اور تم کو بتلا ؤں ) جس طرح نبی ﷺ نما ز پڑھتے
تھے۔ایوب نے کہا میں نے ابو قلابہ سے پوچھا مالک کیونکر نماز پڑھتے تھے
اُنہوں نےکہا ہما رے اس شیخ ( عمرو بن سلمہ) کی طرح اور عمرو بن سلمہ جب دو
سرے سجدے سے سر اُٹھا تے پہلی رکعت پڑھنے کے بعد تو ( ذرا )بیٹھ جا تے پھر
کھڑے ہو تے ۔
46. The religious learned men are entitled to precedence in leading the Salat.
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ
زَائِدَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو
بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ مَرِضَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم
فَاشْتَدَّ مَرَضُهُ فَقَالَ " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ
بِالنَّاسِ ". قَالَتْ عَائِشَةُ إِنَّهُ رَجُلٌ رَقِيقٌ، إِذَا قَامَ
مَقَامَكَ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ. قَالَ " مُرُوا
أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " فَعَادَتْ فَقَالَ " مُرِي
أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ
". فَأَتَاهُ الرَّسُولُ فَصَلَّى بِالنَّاسِ فِي حَيَاةِ النَّبِيِّ
صلى الله عليه وسلم
Narrated By
Abu Musa : "The Prophet became sick and when his disease became
aggravated, he said, "Tell Abu Bakr to lead the prayer." 'Aisha said,
"He is a soft-hearted man and would not be able to lead the prayer in
your place." The Prophet said again, "Tell Abu Bakr to lead the people
in prayer." She repeated the same reply but he said, "Tell Abu Bakr to
lead the people in prayer. You are the companions of Joseph." So the
messenger went to Abu Bakr (with that order) and he led the people in
prayer in the lifetime of the Prophet.
ہم سے اسحٰق بن نصر نے بیا ن
کیا کہا ہم سے حسین بن علی بن ولید نے اُنہوں نے زا ئدہ بن قدا مہ سے
اُنہوں نے عبدا لملک ابنِ عمیر سے اُنہوں نے کہا مجھ سے ابو بردہ عا مر
نے بیا ن کیا اُنہوں نے (اپنے باپ) ابو مو سیٰ اشعریؓ سے کہ نبی ﷺ بیمار ہو
ئے اور آپ کی بیما ری سخت ہو گئی تو آپ نے فر ما یا ابو بکرؓ سے کہو وہ
لوگوں کو نماز پڑھا ئیں حضرت عا ئشہؓ نے عرض کیا ابو بکرؓ نر م دل آدمی
ہیں وہ جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو نما ز پڑھا نا ان کو مشکل ہو
جائےگا۔آپ نے ( پھر وہی) فرما یا ابو بکرؓ سے کہو وہ نما ز پڑھا ئیں حضرت
عائشہؓ نے پھر یہی معروضہ کیا آپ نے پھر یہی فرمایا ابو بکرؓ سے کہہ وہ
نماز پڑھائیں تم تو یو سف کی سا تھ وا لیاں ہو آخر رسول اللہ ﷺ کا پیغا م
لا نے وا لا ابو بکرؓ کے پاس آیا وہ جب تک نبی ﷺ زندہ رہے لو گو ں کو
نما ز پڑھا یا کئے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ
هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ
الْمُؤْمِنِينَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّهَا قَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ
صلى الله عليه وسلم قَالَ فِي مَرَضِهِ " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي
بِالنَّاسِ ". قَالَتْ عَائِشَةُ قُلْتُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ إِذَا
قَامَ فِي مَقَامِكَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ، فَمُرْ
عُمَرَ فَلْيُصَلِّ لِلنَّاسِ. فَقَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ
قُولِي لَهُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ إِذَا قَامَ فِي مَقَامِكَ لَمْ يُسْمِعِ
النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ، فَمُرْ عُمَرَ فَلْيُصَلِّ لِلنَّاسِ.
فَفَعَلَتْ حَفْصَةُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم "
مَهْ، إِنَّكُنَّ لأَنْتُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ، مُرُوا أَبَا بَكْرٍ
فَلْيُصَلِّ لِلنَّاسِ ". فَقَالَتْ حَفْصَةُ لِعَائِشَةَ مَا كُنْتُ
لأُصِيبَ مِنْكِ خَيْرًا
Narrated
By 'Aisha : The mother of the believers: Allah's Apostle in his illness
said, "Tell Abu Bakr to lead the people in prayer." I said to him, "If
Abu Bakr stands in your place, the people would not hear him owing to
his (excessive) weeping. So please order 'Umar to lead the prayer."
'Aisha added I said to Hafsa, "Say to him: If Abu Bakr should lead the
people in the prayer in your place, the people would not be able to hear
him owing to his weeping; so please, order 'Umar to lead the prayer."
Hafsa did so but Allah's Apostle said, "Keep quiet! You are verily the
Companions of Joseph. Tell Abu Bakr to lead the people in the prayer. "
Hafsa said to 'Aisha, "I never got anything good from you."
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی
نے بیا ن کیا کہا ہم کو امام ما لک نے خبر دی اُنہوں نے ہشا م بن عروہ سے
اُنہوں نے اپنے باپ عروہ بن زبیر سے اُنہوں نے حضرت عا ئشہؓ امّ المؤ
منین سے انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ نے اپنی (مو ت کی) بیما ری میں فر ما
یا ابو بکرؓ سے کہو وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔حضرت عائشہؓ کہتی ہیں میں
نے عرض کیا ابوبکرؓ جب آپ کی جا ئے پر کھڑے ہونگے تو رو تے روتے ( ان کی
آواز بھی نہ نکل سکے گی) وہ لو گوں کو قراءت نہ سُنا سکیں گے عمرؓ کو
حکم دیجئے وہ نماز پڑھائیں حضرت عائشہؓ نے کہا میں حفصہؓ ام المؤمنین سے
بولی تم بھی آپﷺ سے کہو کہ ابو بکرؓ جب آپ کی جائے پر کھڑے ہوں گے تو روتے
روتے لوگوں کو قرآن نہ سنا سکیں گے اس لئے عمرؓ کو حکم دیجئے وہ لو گوں
کی امامت کریں۔حفصہ نے یہی معروضہ کیاآپ نے فر ما یا بس چپ رہ ( آپ خفا
ہوئے ان کو ڈا نٹا) تم یو سف کی سا تھ وا لیاں ہو ، ابو بکرؓ کو کہو وہ
لوگوں کو نما ز پڑھا ئیں اس وقت حضرت حفصہؓ حضرت عا ئشہ سے کہہ اٹھیں بھلا
مجھ کو کہیں تم سے بھلائی پہنچ سکتی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ
الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ الأَنْصَارِيُّ ـ
وَكَانَ تَبِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَخَدَمَهُ وَصَحِبَهُ أَنَّ
أَبَا بَكْرٍ كَانَ يُصَلِّي لَهُمْ فِي وَجَعِ النَّبِيِّ صلى الله عليه
وسلم الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ، حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ الاِثْنَيْنِ
وَهُمْ صُفُوفٌ فِي الصَّلاَةِ، فَكَشَفَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم
سِتْرَ الْحُجْرَةِ يَنْظُرُ إِلَيْنَا، وَهْوَ قَائِمٌ كَأَنَّ وَجْهَهُ
وَرَقَةُ مُصْحَفٍ، ثُمَّ تَبَسَّمَ يَضْحَكُ، فَهَمَمْنَا أَنْ نَفْتَتِنَ
مِنَ الْفَرَحِ بِرُؤْيَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، فَنَكَصَ أَبُو
بَكْرٍ عَلَى عَقِبَيْهِ لِيَصِلَ الصَّفَّ، وَظَنَّ أَنَّ النَّبِيَّ صلى
الله عليه وسلم خَارِجٌ إِلَى الصَّلاَةِ، فَأَشَارَ إِلَيْنَا النَّبِيُّ
صلى الله عليه وسلم أَنْ أَتِمُّوا صَلاَتَكُمْ، وَأَرْخَى السِّتْرَ،
فَتُوُفِّيَ مِنْ يَوْمِهِ
Narrated By Az-Zuhri : Anas bin Malik Al-Ansari, told me, "Abu Bakr used
to lead the people in prayer during the fatal illness of the Prophet
till it was Monday. When the people aligned (in rows) for the prayer the
Prophet lifted the curtain of his house and started looking at us and
was standing at that time. His face was (glittering) like a page of the
Qur'an and he smiled cheerfully. We were about to be put to trial for
the pleasure of seeing the Prophet, Abu Bakr retreated to join the row
as he thought that the Prophet would lead the prayer. The Prophet
beckoned us to complete the prayer and he let the curtain fall. On the
same day he died."
ہم سے ابو الیمان حکم بن نا فع
نے بیا ن کیا کہا ہم کو شعیب ابن ابی حمزہ نے خبر دی اُنہوں نے زہری سے
اُنہوں نے کہا مجھ کو انس بن مالکؓ انصاری صحا بی نے اور وہ نبی ﷺ کی پیروی
کرنے وا لےا ور آپ کے خا دم اور صحا بی تھے کہ نبی ﷺ کی اس بیما ری میں
جس میں آپ نے وفات پائی ابو بکر صدیقؓ لو گو ں کی امامت کرتے رہے جب پیر
کا دن ہو ا تو لو گ نما ز میں صف با ندھے کھڑے تھے آپ نے اپنے حجرے کا
پردہ اٹھایا اور کھڑے کھڑے ہم کو دیکھنے لگے ۔ آ پ کا مبا رک چہرہ ( حسن و
جما ل اور صفا ئی میں) گو یا مصحف کا ایک ورق تھا پھر آپ مُسکراکر ہنسنے
لگے نبی ﷺ کے دیدا ر سے ہم کو اتنی خو شی ہو ئی کہ ہم خوشی کے مارے نما ز
تو ڑنے ہی کو تھے اور ابو بکرؓ اُلٹے پا ؤں پیچھے ہٹے اس لئے کہ صف میں مل
جا ئیں وہ سمجھے کہ نبی ﷺنما ز کے لئے بر آمد ہوں گے لیکن آپ نے ہم کو
اشا رے سے یہ فر ما یا کہ اپنی نما ز پو ری کر لو اور پردہ ڈا ل لیا پھر
اُسی دن آپ کی وفا ت ہوئی۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ لَمْ يَخْرُجِ
النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ثَلاَثًا، فَأُقِيمَتِ الصَّلاَةُ، فَذَهَبَ
أَبُو بَكْرٍ يَتَقَدَّمُ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
بِالْحِجَابِ فَرَفَعَهُ، فَلَمَّا وَضَحَ وَجْهُ النَّبِيِّ صلى الله عليه
وسلم مَا نَظَرْنَا مَنْظَرًا كَانَ أَعْجَبَ إِلَيْنَا مِنْ وَجْهِ
النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حِينَ وَضَحَ لَنَا، فَأَوْمَأَ النَّبِيُّ
صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْ يَتَقَدَّمَ،
وَأَرْخَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْحِجَابَ، فَلَمْ يُقْدَرْ
عَلَيْهِ حَتَّى مَاتَ
Narrated
By Anas : The Prophet did not come out for three days. The people stood
for the prayer and Abu Bakr went ahead to lead the prayer. (In the
meantime) the Prophet caught hold of the curtain and lifted it. When the
face of the Prophet appeared we had never seen a scene more pleasing
than the face of the Prophet as it appeared then. The Prophet beckoned
to Abu Bakr to lead the people in the prayer and then let the curtain
fall. We did not see him (again) till he died.
ہم سے ابو معمر عبداللہ بن عمر
منقری نے بیان کیا کہا ہم سے عبدالوارث بن سعید نے کہا ہم سے عبدالعزیز بن
صہیب نے اُنہوں نے انس بن ما لکؓ سے اُنہوں نے کہا (بیما ری میں ) نبی ﷺ
تین دن تک بر آمد نہیں ہو ئے ( انہیں دنوں میں ایک دن ) نما ز کی تکبیر
ہو ئی تو ابو بکرؓ امامت کے لئے آگے بڑھنے کو تھے اتنے میں نبی ﷺ نے پردہ
پکڑا اس کو اُٹھایا جب آپ کا مبا رک منہ ہم کو دکھا ئی دیا تو آپ کے منہ
سے زیا دہ کو ئی چیز ( سا ری دنیا میں) ہم نے بھلی نہیں دیکھی(قربان اس
حسن و جما ل کے) پھر آپ نے اپنے ہا تھ (مبا رک ) سے ابو بکرؓ کو آگے
بڑھنے کا اشا رہ کیا اور ( بدستور ) پردہ چھو ڑ لیاپھر وفات تک ہم آ پ کو
نہ دیکھ سکے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ،
قَالَ حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ
اللَّهِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ لَمَّا اشْتَدَّ
بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَجَعُهُ قِيلَ لَهُ فِي الصَّلاَةِ
فَقَالَ " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ". قَالَتْ
عَائِشَةُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ، إِذَا قَرَأَ غَلَبَهُ
الْبُكَاءُ. قَالَ " مُرُوهُ فَيُصَلِّي " فَعَاوَدَتْهُ. قَالَ
" مُرُوهُ فَيُصَلِّي، إِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ ". تَابَعَهُ
الزُّبَيْدِيُّ وَابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ وَإِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى
الْكَلْبِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ. وَقَالَ عُقَيْلٌ وَمَعْمَرٌ عَنِ
الزُّهْرِيِّ عَنْ حَمْزَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم
Narrated By Hamza bin 'Abdullah : My father said, "When Allah's Apostle
became seriously ill, he was told about the prayer. He said, 'Tell Abu
Bakr to lead the people in the prayer.' 'Aisha said, 'Abu Bakr is a
soft-hearted man and he would be over-powered by his weeping if he
recited the Qur'an.' He said to them, 'Tell him (Abu Bakr) to lead the
prayer. The same reply was given to him. He said again, 'Tell him to
lead the prayer. You (women) are the companions of Joseph."
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیا ن
کیا کہا مجھ سے عبداللہ بن وہب نے کہا مجھ سے یو نس بن یزید ایلی نے
اُنہوں نے ابن شہا ب سے اُنہوں نے حمزہ بن عبداللہ سے انہوں نے اپنے با
پ عبداللہ بن عمرؓ سے اُنہوں نے کہا جب رسول اللہ ﷺ کی بیما ری سخت ہو
گئی تو لو گو ں نے عرض کیا نما ز کے باب میں کیا حکم ہے آپﷺ نے فر ما یا
ابو بکرؓ سے کہو وہ نما ز پڑھائیں حضرت عا ئشہؓ نے عر ض کیا ابو بکرؓ
کچے دل کے آدمی ہیں وہ جب قرآن پڑھتے ہیں تو بہت رو نے لگتے ہیں ۔آپ ﷺ
نے فر ما یا انہی سے کہو وہی نما ز پڑھا ئیں حضرت عا ئشہؓ نے پھر یہی عرض
کیا آپ ﷺ نےپھر فر ما یا انہی سے کہو نما ز پڑھا ئیں تم تو یو سف کے سا
تھ وا لیا ں ہو یو نس کے ساتھ اس حدیث کو محمد بن ولید زبیدی اور زہری کے
بھتیجے اور اسحٰق بن یحییٰ کلبی نے بھی زہری سے روا یت کیا ہے۔اور عقیل
اور معمر نے اس حدیث کو زہری سے روا یت کیا اُنہوں نے حمزہ بن
عبداللہ بن عمرؓ سے اُنہو ں نےنبی ﷺ سے ۔
47. Whoever stood by the side of the Imam because of a genuine cause (in Salat)
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ،
قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ،
قَالَتْ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَبَا بَكْرٍ أَنْ
يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فِي مَرَضِهِ، فَكَانَ يُصَلِّي بِهِمْ. قَالَ
عُرْوَةُ فَوَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي نَفْسِهِ
خِفَّةً، فَخَرَجَ فَإِذَا أَبُو بَكْرٍ يَؤُمُّ النَّاسَ، فَلَمَّا رَآهُ
أَبُو بَكْرٍ اسْتَأْخَرَ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ أَنْ كَمَا أَنْتَ، فَجَلَسَ
رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِذَاءَ أَبِي بَكْرٍ إِلَى جَنْبِهِ،
فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِصَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه
وسلم وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلاَةِ أَبِي بَكْرٍ
Narrated By 'Urwa's father : 'Aisha said, "Allah's Apostle ordered Abu
Bakr to lead the people in the prayer during his illness and so he led
them in prayer." 'Urwa, a sub-narrator, added, "Allah's Apostle felt a
bit relieved and came out and Abu Bakr was leading the people. When Abu
Bakr saw the Prophet he retreated but the Prophet beckoned him to remain
there. Allah's Apostle sat beside Abu Bakr. Abu Bakr was following the
prayer of Allah's Apostle and the people were following the prayer of
Abu Bakr."
ہم سے زکریا بن یحییٰ بلخی نے
بیا ن کیا کہا ہم سے عبداللہ بن نمیر نے اُنہوں نے کہا ہم کو ہشا م بن
عروہ نےخبر دی انہوں نے اپنے با پ (عروہ ) سے اُنہوں نے حضرت عا ئشہؓ
سے انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے اپنی بیما ری میں ابو بکرؓ کو یہ حکم دیا
کہ وہ لو گو ں کو نما ز پڑھا ئیں تو وہ نما ز پڑھا تے رہے عروہ نے کہا (ایک
دن )رسول ﷺ نے (ذرا) اپنے تئیں ہلکا پا یا تو باہر بر آمد ہو ئے ابو بکرؓ
لو گو ں کی امامت کر رہے تھے جب ابو بکرؓ نے آپ کو دیکھا تو پیچھے ہٹے
آپ نے اشا رے سے فرمایا نہیں اپنی جگہ رہو پھررسول اللہ ﷺ ابو بکرؓ کے با
زو بیٹھ گئے ان کے برا بر تو ابو بکرؓ تو رسول اللہ ﷺ کی نما ز کی پیروی
کر کے نما ز پڑھتے تھے اور لو گ ابو بکرؓ کی نما ز کی پیروی کر تے تھے ۔
48. If somebody is leading the Salat and the first (usual) imam comes, the Salat is valid whether the former retreats or does not retreat
This was narrated by Aisha (r.a) who heard this from the Prophet (s.a.w)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ
أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ،
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَهَبَ إِلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ
عَوْفٍ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ فَحَانَتِ الصَّلاَةُ فَجَاءَ الْمُؤَذِّنُ
إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ أَتُصَلِّي لِلنَّاسِ فَأُقِيمَ قَالَ
نَعَمْ. فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه
وسلم وَالنَّاسُ فِي الصَّلاَةِ، فَتَخَلَّصَ حَتَّى وَقَفَ فِي الصَّفِّ،
فَصَفَّقَ النَّاسُ ـ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ لاَ يَلْتَفِتُ فِي صَلاَتِهِ ـ
فَلَمَّا أَكْثَرَ النَّاسُ التَّصْفِيقَ الْتَفَتَ فَرَأَى رَسُولَ
اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله
عليه وسلم أَنِ امْكُثْ مَكَانَكَ، فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ ـ رضى الله عنه ـ
يَدَيْهِ، فَحَمِدَ اللَّهَ عَلَى مَا أَمَرَهُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى
الله عليه وسلم مِنْ ذَلِكَ، ثُمَّ اسْتَأْخَرَ أَبُو بَكْرٍ حَتَّى
اسْتَوَى فِي الصَّفِّ، وَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
فَصَلَّى، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ " يَا أَبَا بَكْرٍ مَا مَنَعَكَ
أَنْ تَثْبُتَ إِذْ أَمَرْتُكَ ". فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ مَا كَانَ
لاِبْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يُصَلِّيَ بَيْنَ يَدَىْ رَسُولِ اللَّهِ صلى
الله عليه وسلم. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا
لِي رَأَيْتُكُمْ أَكْثَرْتُمُ التَّصْفِيقَ مَنْ رَابَهُ شَىْءٌ فِي
صَلاَتِهِ فَلْيُسَبِّحْ، فَإِنَّهُ إِذَا سَبَّحَ الْتُفِتَ إِلَيْهِ،
وَإِنَّمَا التَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ "
Narrated By Sahl bin Sa'd As-Sa'idi : Allah's Apostle went to establish
peace among Bani 'Amr bin 'Auf. In the meantime the time of prayer was
due and the Mu'adh-dhin went to Abu Bakr and said, "Will you lead the
prayer, so that I may pronounce the Iqama?" Abu Bakr replied in the
affirmative and led the prayer. Allah's Apostle came while the people
were still praying and he entered the rows of the praying people till he
stood in the (first row). The people clapped their hands. Abu Bakr
never glanced sideways in his prayer but when the people continued
clapping, Abu Bakr looked and saw Allah's Apostle. Allah's Apostle
beckoned him to stay at his place. Abu Bakr raised his hands and thanked
Allah for that order of Allah's Apostle and then he retreated till he
reached the first row. Allah's Apostle went forward and led the prayer.
When Allah's Apostle finished the prayer, he said, "O Abu Bakr! What
prevented you from staying when I ordered you to do so?"
Abu Bakr replied, "How can Ibn Abi Quhafa (Abu Bakr) dare to lead the prayer in the presence of Allah's Apostle?" Then Allah's Apostle said, "Why did you clap so much? If something happens to anyone during his prayer he should say Subhan Allah. If he says so he will be attended to, for clapping is for women."
Abu Bakr replied, "How can Ibn Abi Quhafa (Abu Bakr) dare to lead the prayer in the presence of Allah's Apostle?" Then Allah's Apostle said, "Why did you clap so much? If something happens to anyone during his prayer he should say Subhan Allah. If he says so he will be attended to, for clapping is for women."
ہم سے عبداللہ بن یو سف نے بیا ن
کیا کہا ہم کو امام ما لک نے خبر دی اُنہوں نے ابو حا زم سلمہ بن دینا ر
سے اُ نہوں نے سہل بن سعد سا عدیؓ صحا بی سے کہ رسول اللہ ﷺ بنی عمرو بن
عو ف میں گئے ( جو قبا میں رہتے تھے ) اُن کے آپس میں صلح کرا نے کو (آپ
کو دیر لگی) اور نما ز کا وقت آن پہنچا ۔مؤذن (بلا لؓ) ابو بکرصدیقؓ کے
پا س آئے اور کہنے لگے کیا تم نما ز پڑھا تے ہو میں تکبیر کہوں اُنہوں نے
کہا اچھا خیر ، ابو بکرؓ نے نما ز شروع کر دی اتنے میں رسول اللہ ﷺ تشریف
لائے لوگ نما ز پڑھ رہے تھے آپ صف چیرتے ہوئے اندر گھسے اور پہلی صف میں
جا ٹھہرے لو گو ں نے دستک دینا شروع کی لیکن ابو بکرؓ نماز میں اِدھر
اُدھر دھیا ن نہیں کر تے تھے جب لو گوں نے بہت تا لیاں بجا ئیں تو پھر کر
دیکھا کیا دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (کھڑے ) ہیں آپﷺ نے ابو بکرصدیقؓ
کو اشا رہ کیا اپنی جگہ رہو (نما ز پڑھاتے جا ؤ) لیکن اُنہوں نے اپنے دو
نو ں ہا تھ اٹھا کر اللہ کا شکر کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو حکم دیا کہ
امامت کئے جا ؤ ان کو ( اس لا ئق سمجھا)پھر وہ پیچھے سرک آئے اور ( پہلی)
صف میں مل گئے اور رسول اللہ ﷺ آگے بڑھ گئے ( امام کی جگہ ) آپ نے نما
ز پڑھا ئی جب نما ز سے فا رغ ہو ئے تو فر مایا ابو بکرؓ تم اپنی جگہ کیوں
نہیں ٹھہرے رہے میں تو تم کو حکم دے چکا تھا اُنہوں نے عرض کیا بھَلا ابو
قحا فہ کے بیٹے کو دیکھو اور نما ز میں اللہ کے پیغمبر کے آگے رہنا دیکھو
یہ کہیں ہو سکتا ہے تب رسول اللہ ﷺ نے( لو گو ں کی طرف خطا ب کر کے) فر ما
یا تم نے اتنی تا لیاں کیوں بجا ئیں دیکھو (آئندہ سے ) کسی کو نما ز میں
کو ئی حا دثہ پیش آئے تو وہ سبحا ن اللہ کہے گا جب وہ یہ کہے گا تو اس کی
طرف دھیا ن ہو گااورتا لی بجا نا عو رتو ں کے لئے ہے ۔
49. If some people are equally proficient in the recitation of the Quran (and religious knowledge), the oldest of them should lead As-Salat
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ
زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ
الْحُوَيْرِثِ، قَالَ قَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم
وَنَحْنُ شَبَبَةٌ، فَلَبِثْنَا عِنْدَهُ نَحْوًا مِنْ عِشْرِينَ لَيْلَةً،
وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم رَحِيمًا فَقَالَ " لَوْ
رَجَعْتُمْ إِلَى بِلاَدِكُمْ فَعَلَّمْتُمُوهُمْ، مُرُوهُمْ فَلْيُصَلُّوا
صَلاَةَ كَذَا فِي حِينِ كَذَا، وَصَلاَةَ كَذَا فِي حِينِ كَذَا، وَإِذَا
حَضَرَتِ الصَّلاَةُ فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ، وَلْيَؤُمَّكُمْ
أَكْبَرُكُمْ
Narrated By Malik
bin Huwairth : We went to the Prophet and we were all young men and
stayed with him for about twenty nights. The Prophet was very merciful.
He said, "When you return home, impart religious teachings to your
families and tell them to offer perfectly such and such a prayer at such
and such a time and such and such a prayer at such and such a time. And
al the time of the prayer one of you should pronounce the Adhan and the
oldest of you should lead the prayer."
ہم سے سلیما ن بن حرب نے بیا ن
کیا کہا ہم کو حما د بن زید نے خبر دی اُنہوں نے ایو ب سختیا نی سے اُنہوں
نے ابو قلا بہ سے اُنہوں نے ما لک بن حویرثؓ(صحا بی) سے اُنہوں نے کہا ہم
کئی آدمی سب کے سب جوا ن پٹھے نبی ﷺ کی خدمت میں ( اپنے ملک سے ) آئے کو
ئی بیس را توں تک آپ کے پا س رہے آپ کی مزاج مبا رک میں رحم بہت تھا آپ
نے ( ہما ری غربت کا حا ل دیکھ کر) فرمایا تم اپنے ملک لو ٹ جا ؤ اور
وہا ں لو گو ں کو دین کی با تیں سکھا ؤ ( تو بہت اچھا ہو گا )ان سے کہو
فلاں نما ز فلا ں وقت پر پڑھیں اور فلا ں نما ز فلا ں وقت پر ، اور جب
نما ز کا وقت آ جا ئے تو تم میں سے ایک شخص اذا ن دے اور جو عمر میں بڑا
ہو وہ اما مت کرے۔
50. If the Imam visited some people and led them in Salat
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ أَسَدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا
مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ
الرَّبِيعِ، قَالَ سَمِعْتُ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ الأَنْصَارِيَّ، قَالَ
اسْتَأْذَنَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَأَذِنْتُ لَهُ فَقَالَ "
أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ مِنْ بَيْتِكَ ". فَأَشَرْتُ لَهُ إِلَى
الْمَكَانِ الَّذِي أُحِبُّ، فَقَامَ وَصَفَفْنَا خَلْفَهُ ثُمَّ سَلَّمَ
وَسَلَّمْنَا
Narrated By Itban
bin Malik Al-Ansari : The Prophet (came to my house and) asked
permission for entering and I allowed him. He asked, "Where do you like
me to pray in your house?" I pointed to a place which I liked. He stood
up for prayer and we aligned behind him and he finished the prayer with
Taslim and we did the same.
ہم سے معا ذ بن اسد نے بیا ن
کیا کہا ہم سے عبدا للہ بن مبا رک نےکہا ہم کو معمر نے خبر دی اُ نہوں نے
زہری سے انہو ں نے کہا مجھ کو محمو د بن ربیع نے خبر دی انہو ں نے کہا
میں نے عتبا ن بن ما لک انصا ری سے سُنا انہو ں نے کہا آپ نے ( مجھ سے
میرے گھر میں آنے کی) اجا زت ما نگی میں نے آپ کو اجا زت دی پھر آپ نے
فر ما یا تو کہا ں چا ہتا ہے میں تیرے گھر میں کہا ں نما ز پڑھوں میں نے
اپنی پسند سے ایک جگہ بتلا دی آپ وہیں ( نما ز کے لئے ) کھڑے ہو ئے اور ہم
نے آپ کے پیچھے صف با ندھی پھر آپ نے سلا م پھیرا ہم نے بھی سلا م
پھیرا۔
51. The Imam is appointed to be followed
The
Prophet (s.a.w) in his fatal illness led the people in Salat while he
was sitting (and the people were standing) .
Ibn Masood said, "If anyone raises his head (while in prostration)
before the Imam, He must prostrate again and must remain in prostration
for a period equal to that he has lost by lifting his head before the
Imam and then he should follow the Imam."
And Al-Hasan said, "A person who is offering a two Raka Salat with the
Imam but (because of the rush of the people) is unable to prostrate,
than he should prostrate twice for the last Raka and make up for his
Raka with its prostrations. And if somebody forgets to prostrate and
stand up then he should prostrate."
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ
مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
بْنِ عُتْبَةَ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْتُ أَلاَ
تُحَدِّثِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ
بَلَى، ثَقُلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَصَلَّى
النَّاسُ ". قُلْنَا لاَ، هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ. قَالَ " ضَعُوا
لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ ". قَالَتْ فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ
فَذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ صلى الله
عليه وسلم " أَصَلَّى النَّاسُ ". قُلْنَا لاَ، هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ
يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ " ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ
". قَالَتْ فَقَعَدَ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ
عَلَيْهِ، ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ " أَصَلَّى النَّاسُ ". قُلْنَا
لاَ، هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ " ضَعُوا لِي
مَاءً فِي الْمِخْضَبِ "، فَقَعَدَ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ
فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ " أَصَلَّى النَّاسُ ".
فَقُلْنَا لاَ، هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ـ وَالنَّاسُ
عُكُوفٌ فِي الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُونَ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ
لِصَلاَةِ الْعِشَاءِ الآخِرَةِ ـ فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه
وسلم إِلَى أَبِي بَكْرٍ بِأَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، فَأَتَاهُ
الرَّسُولُ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُكَ
أَنْ تُصَلِّيَ بِالنَّاسِ. فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ ـ وَكَانَ رَجُلاً
رَقِيقًا ـ يَا عُمَرُ صَلِّ بِالنَّاسِ. فَقَالَ لَهُ عُمَرُ أَنْتَ
أَحَقُّ بِذَلِكَ. فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ تِلْكَ الأَيَّامَ، ثُمَّ إِنَّ
النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَجَدَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً فَخَرَجَ
بَيْنَ رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا الْعَبَّاسُ لِصَلاَةِ الظُّهْرِ، وَأَبُو
بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ
لِيَتَأَخَّرَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِأَنْ
لاَ يَتَأَخَّرَ. قَالَ " أَجْلِسَانِي إِلَى جَنْبِهِ ".
فَأَجْلَسَاهُ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ. قَالَ فَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ
يُصَلِّي وَهْوَ يَأْتَمُّ بِصَلاَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم
وَالنَّاسُ بِصَلاَةِ أَبِي بَكْرٍ، وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم
قَاعِدٌ. قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَدَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ
عَبَّاسٍ فَقُلْتُ لَهُ أَلاَ أَعْرِضُ عَلَيْكَ مَا حَدَّثَتْنِي
عَائِشَةُ عَنْ مَرَضِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ هَاتِ.
فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ حَدِيثَهَا، فَمَا أَنْكَرَ مِنْهُ شَيْئًا، غَيْرَ
أَنَّهُ قَالَ أَسَمَّتْ لَكَ الرَّجُلَ الَّذِي كَانَ مَعَ الْعَبَّاسِ
قُلْتُ لاَ. قَالَ هُوَ عَلِيٌّ.
Narrated By 'Ubaid-Ullah Ibn
'Abdullah bin 'Utba : I went to 'Aisha and asked her to describe to me
the illness of Allah's Apostle. 'Aisha said, "Yes. The Prophet became
seriously ill and asked whether the people had prayed. We replied, 'No. O
Allah's Apostle! They are waiting for you.' He added, 'Put water for me
in a trough." 'Aisha added, "We did so. He took a bath and tried to get
up but fainted. When he recovered, he again asked whether the people
had prayed. We said, 'No, they are waiting for you. O Allah's Apostle,'
He again said, 'Put water in a trough for me.' He sat down and took a
bath and tried to get up but fainted again. Then he recovered and said,
'Have the people prayed?' We replied, 'No, they are waiting for you. O
Allah's Apostle.' He said, 'Put water for me in the trough.' Then he sat
down and washed himself and tried to get up but he fainted. When he
recovered, he asked, 'Have the people prayed?' We said, 'No, they are
waiting for you. O Allah's Apostle! The people were in the mosque
waiting for the Prophet for the 'Isha prayer. The Prophet sent for Abu
Bakr to lead the people in the prayer. The messenger went to Abu Bakr
and said, 'Allah's Apostle orders you to lead the people in the prayer.'
Abu Bakr was a soft-hearted man, so he asked 'Umar to lead the prayer
but 'Umar replied, 'You are more rightful.' So Abu Bakr led the prayer
in those days. When the Prophet felt a bit better, he came out for the
Zuhr prayer with the help of two persons one of whom was Al-'Abbas.
while Abu Bakr was leading the people in the prayer. When Abu Bakr saw
him he wanted to retreat but the Prophet beckoned him not to do so and
asked them to make him sit beside Abu Bakr and they did so. Abu Bakr was
following the Prophet (in the prayer) and the people were following Abu
Bakr. The Prophet (prayed) sitting."
'Ubaid-Ullah added "I went to 'Abdullah bin 'Abbas and asked him, Shall I tell you what 'Aisha has told me about the fatal illness of the Prophet?' Ibn 'Abbas said, 'Go ahead. I told him her narration and he did not deny anything of it but asked whether 'Aisha told me the name of the second person (who helped the Prophet) along with Al-Abbas. I said. 'No.' He said, 'He was 'Ali (Ibn Abi Talib).
'Ubaid-Ullah added "I went to 'Abdullah bin 'Abbas and asked him, Shall I tell you what 'Aisha has told me about the fatal illness of the Prophet?' Ibn 'Abbas said, 'Go ahead. I told him her narration and he did not deny anything of it but asked whether 'Aisha told me the name of the second person (who helped the Prophet) along with Al-Abbas. I said. 'No.' He said, 'He was 'Ali (Ibn Abi Talib).
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا
کہا ہم کو زائدہ بن قدامہ نے خبر دی انہوں نے موسیٰ بن ابی عائشہؓ سے
انہوں نے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود سے انہوں نے کہا میں
حضرت عائشہؓ کے پاس گیا اور میں نے کہا کیا تم مجھ سے رسول اللہ ﷺ کی
بیماری کا حال نہیں بیان کرتیں انہوں نے کہا کیوں نہیں میں بیان کرتی ہوں
،نبیﷺ بیمار ہوئے تو فرمایا کیالوگ نماز پڑھ چکے ہم نے عرض کی جی نہیں یا
رسول اللہ! وہ آپؐ کا انتظار کر رہے ہیں آپؐ نے فرمایا اچھا تو گنگال میں
میرے (نہانے کے ) لیے پانی رکھو ، حضرت عائشہؓ نے کہا ہم نے پانی رکھ دیا
آپؐ نے غسل کیا پھر اٹھنے لگے تو بے ہوش ہو گئے پھر ہوش میں آئے تو پوچھا
کیا لوگ نماز پڑھ چکے، ہم نے عرض کیا جی نہیں یا رسول اللہ ! وہ آپ کا
انتظار کر رہے ہیں آپ نے فرمایا اچھا ذرا پانی میرے نہانے کے لیے گنگال
میں رکھ دو ہم نے رکھ دیا۔ آپ نے غسل کیا پھر اٹھنا چاہا تو بے ہوش ہو
گئے پھر ہوش آیا تو پوچھا کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہم نے عرض کیا جی نہیں
یا رسول اللہ ! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں آپ نے فرمایا گنگال میں میرے
نہانے کے لیے پانی رکھ دو پھر آپؐ بیٹھے اور غسل کیا اٹھنا چاہا تو بے
ہوش ہو گئے پھر ہوش آیا تو پوچھا کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہم نے عرض کیا
جی نہیں یا رسول اللہ! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں اور لوگوں کا یہی حال
تھا وہ مسجد میں اکٹھے تھے عشاء کی نماز کے لیے نبی ﷺ کا انتظار کر رہے
تھے تب آپؐ نے ابو بکر صدیق کو کہلا بھیجا تم لوگوں کو نماز پڑھا دو آپ
کا پیغام پہنچانے والا ابو بکرؓ کے پاس آیا اور اس نے کہا رسول اللہ ﷺ کا
حکم یہ ہے کہ تم لوگوں کو نماز پڑھاؤ ، ابو بکر ذرا نرم دل آدمی تھے
انہوں نے حضرت عمرؓ سے کہا اے عمرؓ نماز پڑھاؤ حضرت عمرؓ نے کہا تم اس کی
(امامت کے) زیادہ حق دار ہو آخر ان دنوں ابو بکرؓ ہی نماز پڑھاتے رہے
پھرنبی ﷺ کو اپنا مزاج ہلکا معلوم ہوا آپؐ دو مردوں پر ٹیکا دئیے ہوئے ظہر
کی نماز کے لئے نکلے ان میں ایک عباسؓ تھے اور حضرت ابو بکرؓ نماز پڑھا
رہے تھے جب ابو بکرؓ نے آپ کو دیکھا تو پیچھے ہٹنا چاہا لیکن آپؐ نے ان
کو اشارے سے فرمایا (وہیں رہو) پیچھے نہ ہٹو پھر آپ نے ان دو نوں مردوں سے
فرمایا مجھ کو ابو بکرؓ کے بازو بٹھا دو انہوں نے بٹھا دیا تو ابو بکرؓ
تو نماز میں نبیﷺ کی پیروی کرتے تھے اور لوگ ابوبکرؓ کی نماز کی پیروی
کررہے تھے اورنبی ﷺ بیٹھے بیٹھے نماز پڑھ رہے تھے۔ عبید اللہ بن عبد اللہ
نے کہا میں یہ حدیث (حضرت عائشہؓ سے) سن کرعبداللہ بن عباسؓ کے پاس گیا
اوران سے کہا کیا میں تم سےوہ حدیث بیان نہ کروں جو حضرت عائشہؓ نے نبی ﷺ
کی بیماری کے حال میں مجھ سے بیان کی ہے ۔انہوں نے کہا بیان کرو میں نے
حضرت عائشہؓ کی یہی حدیث بیان کی انہوں نے اس میں سے کسی بات کا انکار نہیں
کیا صرف اتنا کہا کہ حضرت عائشہؓ نے اس دوسرے شخص کا نام بیان کیا جو
عباسؓ کے ساتھ تھے میں نے کہا نہیں انہوں نے کہا وہ حضرت علیؓ تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ
هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ
الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّهَا قَالَتْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه
وسلم فِي بَيْتِهِ وَهْوَ شَاكٍ، فَصَلَّى جَالِسًا وَصَلَّى وَرَاءَهُ
قَوْمٌ قِيَامًا، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنِ اجْلِسُوا، فَلَمَّا انْصَرَفَ
قَالَ " إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا رَكَعَ
فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا
فَصَلُّوا جُلُوسًا "
Narrated
By 'Aisha : The mother of the believers: Allah's Apostle during his
illness prayed at his house while sitting whereas some people prayed
behind him standing. The Prophet beckoned them to sit down. On
completion of the prayer, he said, 'The Imam is to be followed: bow when
he bows, raise up your heads (stand erect) when he raises his head and
when he says, 'Sami a-l-lahu liman-hamida ' (Allah heard those who sent
praises to Him) say then 'Rabbana wa laka-l-hamd' (O our Lord! All the
praises are for You), and if he prays sitting then pray sitting."
ہم سے عبداللہ بن یو سف نےبیا ن
کیا کہا ہم کو اما م ما لک نے خبر دی اُنہوں نے ہشا م بن عروہ سے اُنہوں
نے اپنے با پ عروہ سے اُ نہوں نے اُم المومنین حضرت عائشہؓ سے اُنہوں نے
کہا رسول اللہ ﷺ نے بیما ری میں اپنے گھر میں بیٹھے بیٹھے نما ز پڑھی اور
آپ کے پیچھے چند لو گو ں نے کھڑے کھڑے پڑھی آپ ﷺ نے اُن کو اشا رہ
کیابیٹھ جا ؤ جب نما ز سے فا رغ ہو ئے تو فر ما یا اما م اس لئے مقرر کیا
گیا ہے کہ لو گ اس کی پیروی کریں جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکو ع اور جب
وہ سر اُٹھا ئے تم بھی سر اُٹھا ؤ اور جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تم
ربنا و لک الحمد کہو اور جب وہ بیٹھ کر نما ز پڑھے تو تم بھی سب بیٹھ کر
نما ز پڑھو ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ
ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله
عليه وسلم رَكِبَ فَرَسًا فَصُرِعَ عَنْهُ، فَجُحِشَ شِقُّهُ الأَيْمَنُ،
فَصَلَّى صَلاَةً مِنَ الصَّلَوَاتِ وَهْوَ قَاعِدٌ، فَصَلَّيْنَا
وَرَاءَهُ قُعُودًا، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ " إِنَّمَا جُعِلَ
الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا،
فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِذَا قَالَ
سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ. فَقُولُوا رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ.
وَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا
فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ ". قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ قَالَ
الْحُمَيْدِيُّ قَوْلُهُ " إِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا
". هُوَ فِي مَرَضِهِ الْقَدِيمِ، ثُمَّ صَلَّى بَعْدَ ذَلِكَ
النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم جَالِسًا وَالنَّاسُ خَلْفَهُ قِيَامًا،
لَمْ يَأْمُرْهُمْ بِالْقُعُودِ، وَإِنَّمَا يُؤْخَذُ بِالآخِرِ فَالآخِرِ
مِنْ فِعْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم
Narrated By Anas bin Malik : Once Allah's Apostle rode a horse and fell
down and the right side (of his body) was injured. He offered one of
the prayers while sitting and we also prayed behind him sitting. When he
completed the prayer, he said, "The Imam is to be followed. Pray
standing if he prays standing and bow when he bows; rise when he rises;
and if he says, 'Sami a-l-lahu-liman hamida, say then, 'Rabbana wa
Lakal-hamd' and pray standing if he prays standing and pray sitting (all
of you) if he prays sitting."
Humaid said: The saying of the Prophet "Pray sitting, if he (Imam) prays sitting" was said in his former illness (during his early life) but the Prophet prayed sitting afterwards (in the last illness) and the people were praying standing behind him and the Prophet did not order them to sit. We should follow the latest actions of the Prophet.
Humaid said: The saying of the Prophet "Pray sitting, if he (Imam) prays sitting" was said in his former illness (during his early life) but the Prophet prayed sitting afterwards (in the last illness) and the people were praying standing behind him and the Prophet did not order them to sit. We should follow the latest actions of the Prophet.
ہم سے عبد اللہ بن یو سف تنیسی
نے بیا ن کیا کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی اُنہوں نے ابن شہا ب سے
اُنہوں نے انس بن ما لک سے کہ رسول اللہﷺ ایک گھو ڑے پر سوار ہو ئے اس پر
سے گر پڑے آپ کا دا ہنا پہلو چھل گیا تو آپ نے کو ئی نما ز ان نما
زوں میں سے بیٹھ کر پڑھی ہم نے بھی آپ ﷺ کے پیچھے بیٹھ کر ہی نما ز پڑھی
جب نما ز سے فا رغ ہو ئے تو فر ما یا اما م اس لئے مقرر کیا گیا ہے کہ اسکی
پیروی کی جا ئے جب وہ کھڑے ہو کر نما ز پڑھے تم بھی کھڑے ہو کر نما ز پڑھو
اور جب وہ رکو ع کرے تو تم بھی رکو ع کرو اور جب وہ (رکو ع سے) سر
اُٹھائے( تم بھی ) اُٹھا ؤ اور جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم ربنا ولک
الحمد کہو اور جب وہ بیٹھ کر نما ز پڑھے تم بھی سب بیٹھ کر نما ز پڑھو
امام ابو عبد اللہ بخاری نے کہا حمیدی نے کہا یہ جو آپ نے فر ما یا جب
اما م بیٹھ کر نما ز پڑھے تم بھی سب بیٹھ کر پڑھو یہ پرا نی بیما ری میں فر
ما یا تھا پھر اس کے بعد ( مو ت کی اخیر بیما ری میں)آپ نے بیٹھ کر نما ز
پڑھی اور لو گ آپ کے پیچھےکھڑے تھے آپ نے ان کو بیٹھنے کا حکم نہیں دیا
اور ہے یہ کہ جو فعل آپ کا آخری ہو اس کو لینا چا ہیے پھر جو اس سے آخری
ہو ۔
52. When should those who are behind the Imam prostrate?
Anas (r.a) said, "Prostrate when the Imam prostrates."
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ
سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ
اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ ـ وَهْوَ غَيْرُ
كَذُوبٍ ـ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا قَالَ
سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ. لَمْ يَحْنِ أَحَدٌ مِنَّا ظَهْرَهُ
حَتَّى يَقَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم سَاجِدًا، ثُمَّ نَقَعُ
سُجُودًا بَعْدَهُ
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، نَحْوَهُ بِهَذَا
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، نَحْوَهُ بِهَذَا
Narrated By Al-Bara : (And he was not a liar) When Allah's Apostle
said, "Sami a-l-lahu Liman hamida " none of us bent his back (for
prostrations) till the Prophet prostrated and then we would prostrate
after him.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیا ن
کیا کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطا ن نے اُنہوں نے سفیا ن ثوری سے اُنہوں نے
کہا مجھ سے ابو اسحٰق عمرو بن عبد اللہ نے بیا ن کیا کہا مجھ سے عبداللہ
بن یزید خطمی نے کہا مجھ سے برا ء بن عا زبؓ (صحابی) نے وہ جھو ٹے نہیں تھے
اُنہو ں نے کہا رسول اللہ ﷺ جب سمع اللہ لمن حمد ہ کہتے تو ہم میں سے
کو ئی اپنی پیٹھ (سجدے کے لئے ) نہ جھکا تا یہا ں تک کہ آپ سجدے میں گر
پڑتے پھر آپ کے بعد ہم لو گ سجدے میں جا تے ۔
ہم سے ابو نعیم نے بیا ن کیا کہا ہم سے سفیا ن ثو ری نے اُنہوں نے ابو اسحٰق سے جیسے اوپر گزرا ۔
ہم سے ابو نعیم نے بیا ن کیا کہا ہم سے سفیا ن ثو ری نے اُنہوں نے ابو اسحٰق سے جیسے اوپر گزرا ۔
53. The sin of the one who raises his head before the Imam
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ
مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى
الله عليه وسلم قَالَ " أَمَا يَخْشَى أَحَدُكُمْ ـ أَوْ لاَ يَخْشَى
أَحَدُكُمْ ـ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ قَبْلَ الإِمَامِ أَنْ يَجْعَلَ
اللَّهُ رَأْسَهُ رَأْسَ حِمَارٍ أَوْ يَجْعَلَ اللَّهُ صُورَتَهُ صُورَةَ
حِمَارٍ "
Narrated By Abu
Huraira : The Prophet said, "Isn't he who raises his head before the
Imam afraid that Allah may transform his head into that of a donkey or
his figure (face) into that of a donkey?"
ہم سے حجا ج بن منہا ل نے بیا ن
کیا کہا ہم سے شعبہ بن حجا ج نے انہوں نے محمد بن زیا د سے اُنہوں نے کہا
میں نے ابو ہریرہؓ سے سُنا اُنہوں نے نبی ﷺ سے آپ نے فر ما یا کیا تم میں
کو ئی جو اما م سے پہلے اپنا سر اُٹھا تا ہے اس با ت سے نہیں ڈرتا کہیں
اللہ اس کا سر گد ھے کا سر کر دے یا اُ س کی صو رت گدھے کی صورت کر دے ۔
54. A slave or a manumitted slave can lead the Salat
Aisha
(r.a) was led in the Salat by her slave Dhakwan who used to recite from
the Mushaf (written Quran).
Can an illegitimate boy, a Bedouin or a boy who has not reached the age
of puberty lead the Salat? (It is the permissible according to) the
statement of the Prophet (s.a.w) that the Imam should be a person who
knows the Quran more than the others.
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ
عِيَاضٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ
لَمَّا قَدِمَ الْمُهَاجِرُونَ الأَوَّلُونَ الْعُصْبَةَ ـ مَوْضِعٌ
بِقُبَاءٍ ـ قَبْلَ مَقْدَمِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ
يَؤُمُّهُمْ سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ، وَكَانَ أَكْثَرَهُمْ
قُرْآنًا
Narrated By Ibn 'Umar :
When the earliest emigrants came to Al-'Usba a place in Quba', before
the arrival of the Prophet- Salim, the slave of Abu Hudhaifa, who knew
the Qur'an more than the others used to lead them in prayer.
ہم سے ابرا ہیم بن منذر حز ا می
نے بیا ن کیا کہا ہم سے انس بن عیا ض نے اُ نہوں نے عبید اللہ عمر ی سے اُ
نہوں نے نا فع سے اُ نہوں نے عبد اللہ بن عمرؓ سے اُنہوں نے کہا جب پہلے
مہا جر ( مکہ سے نکل کر ) عصبہ میں پہنچے جو قبا میں ایک مقا م ہے ، رسول
اللہ ﷺ کے تشریف لا نے سے پیشتر تو سا لم جو ابو حذیفہ کے غلا م تھے وہ ان
کی اما مت کیا کر تے ان کو سب سے زیا دہ قرآن یا د تھا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا
شُعْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ
النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا، وَإِنِ
اسْتُعْمِلَ حَبَشِيٌّ كَأَنَّ رَأْسَهُ زَبِيبَةٌ "
Narrated By Anas : The Prophet said, "Listen and obey (your chief) even
if an Ethiopian whose head is like a raisin were made your chief."
ہم سے محمد بن بشا ر نے بیا ن
کیا کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطا ن نے کہا ہم سے شعبہ نے اُنہوں نے کہا
مجھ سے ابو التیا ح یزید بن حمید ضبعی نے بیا ن کیا اُنہو ں نے انس بن ما
لکؓ سے اُنہوں نے نبی ﷺ سے آپ نے فر مایا حا کم کی سُنو اور اس کی با ت
ما نو گو ایک حبشی ( غلا م ) جس کا سر سو کھے انگو ر کے برا بر ہو تم پر
حا کم بنا یا جا ئے ۔
55. If the Imam does not offer the Salat perfectly and the followers offer it perfectly
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ
مُوسَى الأَشْيَبُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ
اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ
يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
قَالَ " يُصَلُّونَ لَكُمْ، فَإِنْ أَصَابُوا فَلَكُمْ، وَإِنْ
أَخْطَئُوا فَلَكُمْ وَعَلَيْهِمْ ".
Narrated By Abu Huraira :
Allah's Apostle said, "If the Imam leads the prayer correctly then he
and you will receive the rewards but if he makes a mistake (in the
prayer) then you will receive the reward for the prayer and the sin will
be his."
ہم سے فضل بن سہل نے بیا ن کیا
کہا ہم سے حسن بن مو سیٰ اشیب نے کہا ہم سے عبد الرحمٰن بن عبد اللہ ابن
دینا ر نے اُنہوں نے زید بن اسلم سے انہوں نے عطاء بن یسا ر سے اُنہوں نے
ابو ہریرہؓ سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فر ما یا یہ امام لو گ تم کو نما ز
پڑھاتے ہیں اگر ٹھیک طو ر پر پڑھیں گے تو تم کو ثواب ملے گا اگر غلطی کریں
گے تو بھی (تمہا ری نما ز کا ) تم کو ثوا ب مِل جا ئے گا ۔ غلطی کا وبا
ل اُن پر رہے گا ۔
56. Offering prayers behind a man who is a victim of Al-Fitan (trial and afflictions) or a heretic
Al-Hasan said, "You can offer prayer behind the Imam and the sin of heresy will be against him."
قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَقَالَ لَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ
حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ
عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ خِيَارٍ،
أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ـ رضى الله عنه ـ وَهْوَ
مَحْصُورٌ فَقَالَ إِنَّكَ إِمَامُ عَامَّةٍ، وَنَزَلَ بِكَ مَا تَرَى
وَيُصَلِّي لَنَا إِمَامُ فِتْنَةٍ وَنَتَحَرَّجُ. فَقَالَ الصَّلاَةُ
أَحْسَنُ مَا يَعْمَلُ النَّاسُ، فَإِذَا أَحْسَنَ النَّاسُ فَأَحْسِنْ
مَعَهُمْ، وَإِذَا أَسَاءُوا فَاجْتَنِبْ إِسَاءَتَهُمْ. وَقَالَ
الزُّبَيْدِيُّ قَالَ الزُّهْرِيُّ لاَ نَرَى أَنْ يُصَلَّى خَلْفَ
الْمُخَنَّثِ إِلاَّ مِنْ ضَرُورَةٍ لاَ بُدَّ مِنْهَا
Narrated Ubaid-Ullah bin Adi bin Khiyar : I went to Uthman bin
Affan(R.A.) while he was besieged , and said to him, " You are the chief
of all Muslims in general and you see what has befallen you. We are led
in Salat(prayer) by a leader of
Al-Fitan (Trials and afflictions etc) and we are afraid of being sinful in following him." Uthman said, "As-Salat ( the prayer) in the best of all deeds so when the people do good deeds do the same with them and when they do bad deeds, avoid those bad deeds." Az-Zuhri said," In our opinion one should not offer Salat behind an effeminate person unless there is no alternative."
Al-Fitan (Trials and afflictions etc) and we are afraid of being sinful in following him." Uthman said, "As-Salat ( the prayer) in the best of all deeds so when the people do good deeds do the same with them and when they do bad deeds, avoid those bad deeds." Az-Zuhri said," In our opinion one should not offer Salat behind an effeminate person unless there is no alternative."
امام
بخاری نے کہا ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے کہا ہم سے امام اوزاعی نے بیان
کیا کہا ہم سے زہری نے انہوں نے حمید بن عبدالرحمٰن سے انہوں نے عبید اللہ
بن عدی بن خیار سے ، وہ حضرت عثمانؓ کے پاس گئے جب باغیوں نے ان کو گھیر
رکھا تھا۔ اور کہا تم تو عام مسلمانوں کے امام ہو اور تم پر جو آفت اتری
وہ جانتے ہو اب فسادیوں کا امام ہم کو نماز پڑھاتا ہے ہم ڈرتے ہیں اس کے
پیچھے نماز پڑھ کر گناہ گار نہ ہوں۔ حضرت عثمانؓ نے کہا نماز تو جو کام
لوگ کرتے ہیں سب میں بہتر ہے پھر جب وہ اچھا کام کریں تو بھی ان کے ساتھ مل
کر اچھا کام کر اور جب وہ برا کریں تو ان کی برائی سے الگ رہ اور محمد
بن ولید زبیدی نے کہا زہری نے کہا ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ ہیجڑے کے پیچھے
نماز نہ پڑھیں مگر ایسی ہی لاچاری ہو تو اور بات ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ،
عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ
النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لأَبِي ذَرٍّ " اسْمَعْ وَأَطِعْ، وَلَوْ
لِحَبَشِيٍّ كَأَنَّ رَأْسَهُ زَبِيبَةٌ "
Narrated By Anas bin Malik : The Prophet said to Abu-Dhar, "Listen and
obey (your chief) even if he is an Ethiopian with a head like a raisin."
ہم سے محمد بن ابا ن نے بیا ن
کیا کہا ہم سے غندر محمد بن جعفر نے اُنہوں نے شعبہ سے انہوں نے ابو
التیاح سے انہوں نے انس بن مالکؓ سے اُنہوں نے کہا نبی ﷺ نے ابو ذر
(صحابی) سے فر ما یا با ت سُن اور کہنا مان اگرچہ حبشی (غلا م حا کم) ہو
جس کا سر منّقیٰ کے برا بر ہو ۔
57. To stand on the right side of the Imam on the same line if only two persons (including the Imam) are offering Salat in congregation
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ
الْحَكَمِ، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ
رضى الله عنهما ـ قَالَ بِتُّ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَصَلَّى
رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْعِشَاءَ، ثُمَّ جَاءَ فَصَلَّى
أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ ثُمَّ نَامَ، ثُمَّ قَامَ فَجِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ
يَسَارِهِ، فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَصَلَّى خَمْسَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ
صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ نَامَ حَتَّى سَمِعْتُ غَطِيطَهُ ـ أَوْ قَالَ
خَطِيطَهُ ـ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلاَةِ
Narrated By Ibn 'Abbas : Once I passed the night in the house of my
aunt Maimuna. Allah's Apostle offered the 'Isha prayer and then came to
the house and offered four Rakat an slept. Later on, he woke up and
stood for the prayer and I stood on his left side. He drew me to his
right and prayed five Rakat and then two. He then slept till I heard him
snoring (or heard his breath sounds). Afterwards he went out for the
morning prayer.
ہم سے سلیما ن بن حرب نے بیا ن
کیا کہا ہم سے شعبہ نے اُنہوں نے حکم بن عتیبہ سے اُنہوں نے کہا میں نے
سعید بن جبیر سے سُنا اُنہوں نے عبداللہ بن عباسؓ سے اُنہوں نے کہا میں
اپنی خا لہ ام المومنین میمو نہؓ کے گھر میں رات کو رہ گیا رسول اللہ ﷺ
نے عشا ء کی نما ز پڑھی پھر (مسجد سے آکر گھر میں ) چا ر رکعتیں
پڑھیں پھر سو رہے پھر اُٹھے (اور وضو کر کے نما ز پڑھنے لگے)میں بھی آیا
اور آپ کی با ئیں طرف کھڑا ہوا آپ نے مجھ کو دا ہنی طر ف کر لیا آپ نے
پا نچ رکعتیں پڑھیں پھر دو رکعتیں پھر آرا م فرمایا یہاں تک کہ میں نے آپ
کےخرا ٹے کی آوا ز سُنی پھر (صبح کی) نما ز کے لئے بر آمد ہوئے۔
58. If a man stood on the left side of the Imam and the Imam drew him to his right side, then the Salat of none of them would be invalid
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا
عَمْرٌو، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ
سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ
رضى الله عنهما ـ قَالَ نِمْتُ عِنْدَ مَيْمُونَةَ وَالنَّبِيُّ صلى الله
عليه وسلم عِنْدَهَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ، فَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ
يُصَلِّي، فَقُمْتُ عَلَى يَسَارِهِ، فَأَخَذَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ
يَمِينِهِ، فَصَلَّى ثَلاَثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، ثُمَّ نَامَ حَتَّى نَفَخَ
ـ وَكَانَ إِذَا نَامَ نَفَخَ ـ ثُمَّ أَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ، فَخَرَجَ
فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ. قَالَ عَمْرٌو فَحَدَّثْتُ بِهِ بُكَيْرًا
فَقَالَ حَدَّثَنِي كُرَيْبٌ بِذَلِكَ
Narrated By Ibn 'Abbas : One night I slept at the house of (my aunt)
Maimuna and the Prophet was there on that night. He performed ablution
and stood up for the prayer. I joined him and stood on his left side but
he drew me to his right and prayed thirteen Rakat and then slept till I
heard his breath sounds. And whenever he slept, he used to breathe with
audible sounds. The Mu'adhdhin came to the Prophet and he went out and
prayed the morning prayer) without repeating the ablution.
ہم سے احمد بن صا لح نے بیا ن
کیا کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے کہا ہم سے عمر و بن حا رث مصری نے
اُنہوں نے عبدربہ بن سعید سے اُنہوں نے مخرمہ بن سلیما ن سے اُنہوں نے
کریب سے جو عبداللہ بن عبا سؓ کے غلا م تھے اُنہوں نے عبداللہ بن عبا سؓ
سے اُنہوں نے کہا ام المومنین میمونہؓ کے ہا ں سو یا اور نبی ﷺ اس را ت کو
انہی کے پاس تھے( ان کی با ری تھی) آپﷺ نے وضو کیا پھر کھڑے ہو کر نما ز
پڑھنے لگے میں آپ کے با ئیں کھڑا ہوا آپﷺ نے مجھ کو پکڑا اور اپنی دا
ہنی طر ف کر لیا اور تیرہ رکعتیں(وتر سمیت ) پڑھیں پھر سو رہے یہاں تک کہ
خرانٹے لینے لگے اور آپ ﷺ جب سو تے تھے تو خرا نٹے لیتے تھے پھر مؤذن (
نما ز کے لئے بُلا نے کو ) آپﷺ کے پا س آیا آپ ﷺ نکلے اور نما ز پڑھی
اور وضو نہیں کیا ۔ عمرو نے کہا میں نے یہ حدیث بکیر بن عبداللہ سے بیا ن
کی اُنہوں نے کہا کریب نے مجھ سےبھی یہی حدیث بیا ن کی۔
59. If the Imam has not had the intention of leading the prayer and then some persons join him and he leads them
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،
عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ
أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي فَقَامَ
النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ، فَقُمْتُ أُصَلِّي
مَعَهُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَأَخَذَ بِرَأْسِي فَأَقَامَنِي عَنْ
يَمِينِهِ
Narrated By Ibn 'Abbas
: Once I passed the night in the house of my aunt Maimuna. The Prophet
stood for the night prayer and I joined him and stood on his left side
but he drew me to his right by holding me by the head.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیا ن
کیا کہا ہم سے اسمٰعیل بن ابرا ہیم نے اُنہوں نے ایو ب سختیا نی سے اُنہوں
نے عبداللہ بن سعید بن جبیر سے ( ا نہوں نے اپنے با پ سعید بن جبیر سے
اُنہوں نے عبداللہ بن عباسؓ سے اُنہوں نے کہا میں اپنی خا لہ ام المؤ منین
میمو نہؓ کے پاس رات کو رہ گیا نبیﷺ کھڑے ہوئے رات کو ( تہجد کی )
نما زپڑھنے لگے میں بھی نما ز میں شریک ہو ا آپ کے بائیں طرف کھڑا ہو
گیا آپ نے میرا سر پکڑ کر مجھ کو دا ہنی طرف کھڑا کر لیا ۔
No comments:
Post a Comment