Sahih Bukhari
Book9: Times of the Prayer كتاب مواقيت الصلاة
1. The times of As-Salat and the superiority of offering Salat in time.
And the Statement of Allah, "... Verily, As-Salat is enjoined on the believers at fixed hours." (V.4:103)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ
عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَخَّرَ
الصَّلاَةَ يَوْمًا، فَدَخَلَ عَلَيْهِ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ،
فَأَخْبَرَهُ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ أَخَّرَ الصَّلاَةَ يَوْمًا
وَهْوَ بِالْعِرَاقِ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيُّ
فَقَالَ مَا هَذَا يَا مُغِيرَةُ؟ أَلَيْسَ قَدْ عَلِمْتَ أَنَّ جِبْرِيلَ
نَزَلَ فَصَلَّى، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ
صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى
رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ
اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى
الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ " بِهَذَا أُمِرْتُ ". فَقَالَ عُمَرُ
لِعُرْوَةَ: اعْلَمْ مَا تُحَدِّثُ بهِ أَوَإِنَّ جِبْرِيلَ هُوَ أَقَامَ
لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقُوتَ الصَّلاَةِ. قَالَ
عُرْوَةُ كَذَلِكَ كَانَ بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ يُحَدِّثُ عَنْ
أَبِيهِ
Narrated By Ibn Shihab :
Once'Umar bin 'Abdul 'Aziz delayed the prayer and 'Urwa bin Az-Zubair
went to him and said, "Once in 'Iraq, Al-MughTra bin Shu'ba delayed his
prayers and Abi Mas'ud Al-Ansari went to him and said, 'O Mughira! What
is this? Don't you know that once Gabriel came and offered the prayer
(Fajr prayer) and Allah's Apostle prayed too, then he prayed again (Zuhr
prayer) and so did Allah's Apostle and again he prayed ('Asr prayers
and Allah's Apostle did the same; again he prayed (Maghrib-prayer) and
so did Allah's Apostle and again prayed ('Isha prayer) and so did
Allah's Apostle and (Gabriel) said, 'I was ordered to do so (to
demonstrate the prayers prescribed to you)?'" 'Umar (bin 'Abdul 'AzTz)
said to 'Urwa, "Be sure of what you Say. Did Gabriel lead Allah's
Apostle at the stated times of the prayers?" 'Urwa replied, "Bashir bin
Abi Mas'ud narrated like this on the authority of his father."
ہم سے عبد اللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا انہوں نے کہا میں نے امام
مالکؒ کو پڑھ کر سنایا انہوں نے ابن شہاب سے روایت کی کہ عمر بن عبدالعزیز
نے ایک دن( عصر کی نماز میں) دیر کی (اتنی کہ مستحب وقت گزر گیا) تو عروہ
بن زبیر ان کے پاس پہنچے اور ان سے کہا کہ مغیرہ بن شعبہ نے ایک دن عراق کے
ملک میں نماز میں دیر کی تو ابو مسعود انصاری( صحابی) عقبہ بن عمرو ان کے
پاس گئے کہنے لگے مغیرہ یہ تم کیا کرتے ہو کیا تم کو معلوم نہیں کہ ( معراج
کی صبح کو) حضرت جبریل علیہ السلام(نماز سکھانے کے لئے) اترے انہوں نے
نماز پڑھی رسول اللہﷺ نے بھی پڑھی پھر انہوں نے نماز پڑھی رسول اللہﷺ نے
بھی پڑھی پھر انہوں نے نماز پڑھی رسول اللہﷺ نے بھی پڑھی پھر انہوں نے نماز
پڑھی رسول اللہﷺ نے بھی پڑھی پھر انہوں نے نماز پڑھی رسول اللہﷺ نے بھی
پڑھی پھر جبریل نے کہا مجھ کو ایسا ہی حکم ہوا (یعنی ان وقتوں میں نماز
پڑھنے کا) عمر بن عبدالعزیزؒ نے عروہ سے کہا ذرا سمجھ لو تم جو حدیث بیان
کرتے ہو کیا جبریل نے رسول اللہ ﷺ کے لئے نماز کے وقت مقرر کئے عروہ نے
کہا بشیر بن ابی مسعود اپنے باپ سے ایسے ہی روایت کرتے تھے ۔
قَالَ عُرْوَةُ وَلَقَدْ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ
صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ، وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا
قَبْلَ أَنْ تَظْهَرَ
Urwa added,
"'Aisha told me that Allah's Apostle used to pray 'Asr prayer when the
sun-shine was still inside her residence (during the early time of
'Asr)."
عروہ نے کہا (خیر اس کو جانے
دو) مجھ سے حضرت عائشہؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ عصر کی نماز اس وقت
پڑھتے جب دھوپ ان کے حجرے ہی میں رہتی ابھی اوپر نہ چڑھتی۔
2. The Statement of Allah, "(And remain always) turning in repentance to Him, and be afraid and dutiful to Him. And establish As-Salat and be not of Al-Mushrikun (Polytheists, idolaters)." (V.30:31)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبَّادٌ ـ هُوَ
ابْنُ عَبَّادٍ ـ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَدِمَ
وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
فَقَالُوا إِنَّا مِنْ هَذَا الْحَىِّ مِنْ رَبِيعَةَ، وَلَسْنَا نَصِلُ
إِلَيْكَ إِلاَّ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ، فَمُرْنَا بِشَىْءٍ نَأْخُذْهُ
عَنْكَ، وَنَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَاءَنَا. فَقَالَ " آمُرُكُمْ
بِأَرْبَعٍ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ الإِيمَانِ بِاللَّهِ ـ ثُمَّ
فَسَّرَهَا لَهُمْ شَهَادَةُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، وَأَنِّي
رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامُ الصَّلاَةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَأَنْ
تُؤَدُّوا إِلَىَّ خُمُسَ مَا غَنِمْتُمْ، وَأَنْهَى عَنِ الدُّبَّاءِ
وَالْحَنْتَمِ وَالْمُقَيَّرِ وَالنَّقِيرِ "
Narrated By Ibn 'Abbas : "Once a delegation of 'Abdul Qais came to
Allah's Apostle and said, "We belong to such and such branch of the
tribe of Rab'a and we can only come to you in the sacred months. Order
us to do something good so that we may (carry out) take it from you and
also invite to it our people whom we have left behind (at home)." The
Prophet said, " I order you to do four things and forbid you from four
things. (The first four are as follows):
1. To believe in Allah. (And then he: explained it to them i.e.) to testify that none has the right to be worshipped but Allah and (Muhammad) is Allah's Apostle.
2. To offer prayers perfectly. (at the stated times)
3. To pay Zakat. (obligatory charity)
4. To give me Khumus.
(The other four things which are forbidden are as follows):
1. Dubba.
2. Hantam.
3. Muqaiyat.
4. Naqir (all these are utensils used for the preparation of alcoholic drinks)."
1. To believe in Allah. (And then he: explained it to them i.e.) to testify that none has the right to be worshipped but Allah and (Muhammad) is Allah's Apostle.
2. To offer prayers perfectly. (at the stated times)
3. To pay Zakat. (obligatory charity)
4. To give me Khumus.
(The other four things which are forbidden are as follows):
1. Dubba.
2. Hantam.
3. Muqaiyat.
4. Naqir (all these are utensils used for the preparation of alcoholic drinks)."
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان
کیا کہا ہم سے عباد بن عباد بصری نے انہوں نے ابو جمرہ(نصر بن عمران) سے
انہوں نے عبداللہ بن عباسؓ سے انہوں نے کہا عبدالقیس(قبیلے )کے لوگ رسول
اللہﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے ہم ربیعہ (قبیلے) کی ایک شاخ ہیں اور ہم
آپ تک فقط ادب کے مہینے (رجب) میں پہنچ سکتے ہیں تو ہم کو ایسی بات
بتلائیے جس پر ہم خود عمل کریں اور جو لوگ ہمارے پیچھے(اپنے ملک میں) ہیں
ان کو بھی اس پر عمل کرنے کو کہیں ، آپؐ نے فرمایا میں تم کو چار باتوں کا
حکم دیتا ہوں اور چارباتوں سے منع کرتا ہوں جن کا حکم دیتا ہوں وہ یہ ہیں
اللہ پر ایمان لانا پھر کھول کر ان سے بیان کیا یعنی اس بات کی گواہی دینا
کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں اور نماز
درستی سے ادا کرنا اور زکوٰۃ دینا اور جو کچھ کافروں سے لوٹ میں کماؤ اس کا
پانچواں حصہ میرے پاس داخل کرو اور میں تم کو منع کرتا ہوں کدو کے تونبے
اور سبزلا کی مرتبان سے اور روغنی برتن اور کریدے ہوئے لکڑی کے برتن سے۔
3. To give the pledge to establish As-Salat
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنَا قَيْسٌ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ
عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى
إِقَامِ الصَّلاَةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالنُّصْحِ لِكُلِّ
مُسْلِمٍ
Narrated By Jarir bin
'Abdullah : I gave the pledge of allegiance to Allah's Apostle for to
offer prayers perfectly, to pay Zakat regularly, and to give good advice
to every Muslim.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان
کیا کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے کہا ہم سے اسمٰعیل بن ابی خالد نے کہا
ہم سے قیس ابن ابی حازم نے انہوں نے جریر بن عبداللہ بجلی سے انہوں نے کہا
میں نے رسول اللہﷺ سے نماز کو ٹھیک کرنے پر اور زکوٰۃ دینے پر اور ہر
مسلمان کے خیر خواہ رہنے پر بیعت کی۔
4. As-Salat is expiation (of sins).
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ الأَعْمَشِ، قَالَ
حَدَّثَنِي شَقِيقٌ، قَالَ سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ، قَالَ كُنَّا جُلُوسًا
عِنْدَ عُمَرَ ـ رضى الله عنه ـ فَقَالَ أَيُّكُمْ يَحْفَظُ قَوْلَ رَسُولِ
اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْفِتْنَةِ قُلْتُ أَنَا، كَمَا
قَالَهُ. قَالَ إِنَّكَ عَلَيْهِ ـ أَوْ عَلَيْهَا ـ لَجَرِيءٌ. قُلْتُ
" فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَوَلَدِهِ وَجَارِهِ
تُكَفِّرُهَا الصَّلاَةُ وَالصَّوْمُ وَالصَّدَقَةُ وَالأَمْرُ وَالنَّهْىُ
". قَالَ لَيْسَ هَذَا أُرِيدُ، وَلَكِنِ الْفِتْنَةُ الَّتِي تَمُوجُ
كَمَا يَمُوجُ الْبَحْرُ. قَالَ لَيْسَ عَلَيْكَ مِنْهَا بَأْسٌ يَا
أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّ بَيْنَكَ وَبَيْنَهَا بَابًا مُغْلَقًا.
قَالَ أَيُكْسَرُ أَمْ يُفْتَحُ قَالَ يُكْسَرُ. قَالَ إِذًا لاَ
يُغْلَقَ أَبَدًا. قُلْنَا أَكَانَ عُمَرُ يَعْلَمُ الْبَابَ قَالَ
نَعَمْ، كَمَا أَنَّ دُونَ الْغَدِ اللَّيْلَةَ، إِنِّي حَدَّثْتُهُ
بِحَدِيثٍ لَيْسَ بِالأَغَالِيطِ. فَهِبْنَا أَنْ نَسْأَلَ حُذَيْفَةَ،
فَأَمَرْنَا مَسْرُوقًا فَسَأَلَهُ فَقَالَ الْبَابُ عُمَرُ.
Narrated By Shaqiq : That he had heard Hudhaifa saying, "Once I was
sitting with 'Umar and he said, 'Who amongst you remembers the statement
of Allah's Apostle about the afflictions?' I said, 'I know it as the
Prophet had said it.' 'Umar said, 'No doubt you are bold.' I said, 'The
afflictions caused for a man by his wife, money, children and neighbor
are expiated by his prayers, fasting, charity and by enjoining (what is
good) and forbidding (what is evil).' 'Umar said, 'I did not mean that
but I asked about that affliction which will spread like the waves of
the sea.' I (Hudhaifa) said, 'O leader of the faithful believers! You
need not be afraid of it as there is a closed door between you and it.'
'Umar asked, Will the door be broken or opened?' I replied, 'It will be
broken.' 'Umar said, 'Then it will never be closed again.' I was asked
whether 'Umar knew that door. I replied that he knew it as one knows
that there will be night before the tomorrow morning. I narrated a
Hadith that was free from any mis-statement" The sub-narrator added that
they deputed Masruq to ask Hudhaifa (about the door). Hudhaifa said,
"The door was 'Umar himself."
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان
کیا کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے انہوں نے سلیمان بن مہران اعمش سے
انہوں نے کہا مجھ سے شقیق بن سلمہ نے بیان کیا کہا میں نے حذیفہ بن یمانؓ
صحابی سے سنا انہوں نے کہا ہم حضرت عمرؓ کے پاس بیٹھے تھے انہوں نے (لوگوں
کی طرف مخاطب ہو کر) پوچھا تم میں سے کس کو فتنوں کے باب میں رسول اللہﷺ نے
جو فرمایا وہ یاد ہے میں نے کہا مجھ کو جیسا آپ نے فرمایا ویسا ہی یاد
ہے، انہوں نے کہا تم تو آپؐ پر یا بات کرنے پر دلیر ہو میں نے کہا بات یہ
ہے کہ آدمی کو جو فتنہ اس کے گھر بار یا مال یا اولاد یا ہمسایوں سے
پہنچتا ہے وہ تو نماز، روزے، صدقے، اچھی بات کا حکم کرنے، بری بات کے منع
کرنے سے اتر جاتا ہے حضرت عمرؓ نے کہا میں اس فتنے کو نہیں پوچھتا میں تو
وہ فتنہ پوچھتا ہوں جو سمندر کی موج کی طرح امنڈ آئے گا میں نے کہا اس سے
تمہیں کیا ڈر اے امیر المومنین تمہارے اور اس فتنے کے بیچ میں تو ایک
بنددروازہ ہے حضرت عمرؓ نے کہا بتلاؤ وہ دروازہ توڑا جائے گا یا کھولا
جائے گا میں نے کہا توڑا جائے گا انہوں نے کہا پھر تو کبھی بند ہی نہ ہوگا
۔شقیق نے کہا ہم لوگوں نے حذیفہ سے پوچھا کیا عمرؓ اس دروازے کو پہچانتے
تھے انہوں نے کہا بیشک جیسے اس کا یقین تھا کہ آج کی رات کل کے دن سے قریب
ہے۔ میں نے ان سے ایک حدیث بیان کی جو اٹکل پچو بات نہ تھی شقیق نے کہا ہم
حذیفہ سے یہ پوچھنے کو ڈرے کہ دروازہ سے کیا مراد ہے ہم نے مسروق سے کہا
تو انہوں نے پوچھا حذیفہ نے کہا دروازہ خود عمرؓ ہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ
سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنِ ابْنِ
مَسْعُودٍ، أَنَّ رَجُلاً، أَصَابَ مِنَ امْرَأَةٍ قُبْلَةً، فَأَتَى
النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ {أَقِمِ
الصَّلاَةَ طَرَفَىِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ
الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ}. فَقَالَ الرَّجُلُ يَا
رَسُولَ اللَّهِ أَلِي هَذَا قَالَ " لِجَمِيعِ أُمَّتِي كُلِّهِمْ "
Narrated By Ibn Mas'ud : A man kissed a woman (unlawfully) and then went to the Prophet and informed him. Allah revealed:
And offer prayers perfectly At the two ends of the day And in some hours of the night (i.e. the five compulsory prayers). Verily! good deeds remove (annul) the evil deeds (small sins) (11.114). The man asked Allah's Apostle, "Is it for me?" He said, "It is for all my followers."
And offer prayers perfectly At the two ends of the day And in some hours of the night (i.e. the five compulsory prayers). Verily! good deeds remove (annul) the evil deeds (small sins) (11.114). The man asked Allah's Apostle, "Is it for me?" He said, "It is for all my followers."
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا کہا ہم
سے یزید بن زریع نے انہوں نے سلمان تیمی سے انہوں نے ابو عثمان عبد
الرحمٰن بن مل نہدی سے انہوں نے عبد اللہ بن مسعودؓ سے ایک شخص نے ایک
انصاری عورت کا بوسہ لے لیا(جماع نہیں کیا) پھر وہ نبیﷺ کے پاس آیا اور
آپ سے اپنا قصور بیان کیا( نادم ہوا) اس وقت اللہ تعالیٰ نے( سورت ہود کی)
یہ آیت اتاری اور اے پیغمبر ! دن کے دونوں کناروں(یعنی صبح اور شام) اور
رات کے وقتوں میں نماز پڑھا کر بیشک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں، وہ
شخص کہنے لگا یا رسول اللہ کیا یہ حکم خالص میرے لئے ہے آپ نے فرمایا نہیں
میری ساری امت کے لئے ہے۔
5. Superiority of offering As-Salat at the stated times.
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ قَالَ
حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ الْوَلِيدُ بْنُ الْعَيْزَارِ أَخْبَرَنِي
قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ، يَقُولُ حَدَّثَنَا
صَاحِبُ، هَذِهِ الدَّارِ وَأَشَارَ إِلَى دَارِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ
سَأَلْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَىُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى
اللَّهِ قَالَ " الصَّلاَةُ عَلَى وَقْتِهَا ". قَالَ ثُمَّ أَىُّ
قَالَ " ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ ". قَالَ ثُمَّ أَىُّ قَالَ "
الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ". قَالَ حَدَّثَنِي بِهِنَّ وَلَوِ
اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي
Narrated
By 'Abdullah : I asked the Prophet "Which deed is the dearest to
Allah?" He replied, "To offer the prayers at their early stated fixed
times." I asked, "What is the next (in goodness)?" He replied, "To be
good and dutiful to your parents" I again asked, "What is the next (in
goodness)?" He replied, 'To participate in Jihad (religious fighting) in
Allah's cause." 'Abdullah added, "I asked only that much and if I had
asked more, the Prophet would have told me more."
ہم سے ابو الولید ہشام بن
عبدالملک نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے کہا مجھ سے ولید بن عیزار کوفی نے
انہوں نے کہا میں نے ابو عمرو سعد بن ایاس شیبانی سے سنا وہ کہتے تھے ہم
سے اس گھر والے نے بیان کیا اور عبد اللہ بن مسعودؓ کا گھر بتلایا انہوں نے
کہا میں نے نبی ﷺ سے پوچھا کونسا کام اللہ کو بہت پسند ہے آپ نےفرمایا
نماز کو اپنے وقت پر پڑھنا میں نے پوچھا پھر کونسا کام فرمایا پھر ماں باپ
سے اچھا سلوک کرنا، میں نے پوچھا پھر کونسا کام فرمایا پھر اللہ کی راہ میں
جہاد کرنا، ابن مسعودؓ نے کہا رسول اللہ ﷺنے یہ باتیں بیان کیں اگر میں
اور پوچھتا تو آپ اور زیادہ بیان فرماتے۔
6. The five Salat are expiations (of sins).
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي
حَازِمٍ، وَالدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ
إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي
هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ
" أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهَرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ، يَغْتَسِلُ فِيهِ
كُلَّ يَوْمٍ خَمْسًا، مَا تَقُولُ ذَلِكَ يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ ".
قَالُوا لاَ يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ شَيْئًا. قَالَ " فَذَلِكَ مِثْلُ
الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ، يَمْحُو اللَّهُ بِهَا الْخَطَايَا "
Narrated By Abu Huraira : I heard Allah's Apostle saying, "If there was
a river at the door of anyone of you and he took a bath in it five
times a day would you notice any dirt on him?" They said, "Not a trace
of dirt would be left." The Prophet added, "That is the example of the
five prayers with which Allah blots out (annuls) evil deeds."
ہم سے ابراہیم بن حمزہ نے بیان
کیا کہا مجھ سے عبدالعزیز بن ابی حازم اور عبدالعزیز بن محمد دراوردی نے ان
دونوں نے یزید بن عبداللہ ابن ہاد سے انہوں نے محمد بن ابراہیم تیمی سے
انہوں نے ابو سلمیٰ بن عبدالرحمٰن بن عوف سے انہوں نے ابو ہریرہؓ سے انہوں
نے رسول اللہﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے بھلا بتاؤ تو اگر تم میں سے کسی کے
دروازے پر پانی کی نہر بہتی ہو وہ ہر روز پانچ بار اس میں نہایا کرے تم کیا
سمجھتے ہو یہ پانچ بار ہر روز نہانا اس کے بدن پر کچھ میل کچیل باقی رکھے
گا لوگوں نے کہا نہیں ذرا بھی میل نہیں رکھنے کا آپ نے فرمایا پس یہی
پانچوں نمازوں کی مثال ہے، اللہ ان کی وجہ سے گناہ مٹا دے گا۔
7. Not offering As-Salat at its stated fixed time.
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ، عَنْ
غَيْلاَنَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ مَا أَعْرِفُ شَيْئًا مِمَّا كَانَ عَلَى
عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. قِيلَ الصَّلاَةُ. قَالَ
أَلَيْسَ ضَيَّعْتُمْ مَا ضَيَّعْتُمْ فِيهَا
Narrated By Ghailan : Anas said, "I do not find (now-a-days) things as
they were (practiced) at the time of the Prophet." Somebody said "The
prayer (is as it was.)" Anas said, "Have you not done in the prayer what
you have done?
ہم سے موسٰی بن
اسمٰعیل تبوذکی نے بیان کیا کہا ہم سے مہدی ابن میمون نے انہوں نے غیلان بن
جریر سے انہوں نے انسؓ سے انہوں نے کہا میں تو نبیﷺ کے وقت کی اب کوئی
بات نہیں دیکھتا لوگوں نے کہا نماز تو ہے انہوں نے کہا نماز میں بھی جو تم
نے کر رکھا ہے وہ کر رکھا ہے ۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ
بْنُ وَاصِلٍ أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي
رَوَّادٍ، أَخِي عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، يَقُولُ
دَخَلْتُ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ بِدِمَشْقَ وَهُوَ يَبْكِي فَقُلْتُ
مَا يُبْكِيكَ فَقَالَ لاَ أَعْرِفُ شَيْئًا مِمَّا أَدْرَكْتُ إِلاَّ
هَذِهِ الصَّلاَةَ، وَهَذِهِ الصَّلاَةُ قَدْ ضُيِّعَتْ. وَقَالَ بَكْرٌ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ
بْنُ أَبِي رَوَّادٍ نَحْوَهُ
Narrated Az-Zuhri that he visited Anas bin Malik at Damascus and found
him weeping and asked him why he was weeping. He replied, "I do not know
anything which I used to know during the life-time of Allah's Apostle
except this prayer which is being lost (not offered as it should be)."
ہم سے عمرو بن زرارہ نے بیان
کیا کہا ہم سے عبدالواحد بن واصل ابو عبیدہ حداد (لو ہار) نے انہوں نے
عثمان بن ابی رواد سے جو عبدالعزیز بن رواد کے بھائی ہیں انہوں نے کہا میں
نے زہری سے سنا وہ کہتے تھے میں دمشق میں( جو ایک شہر ہے شام میں) انس بن
مالک کے پاس گیا وہ رو رہے تھے میں نے پوچھا کیوں(خیر تو ہے) کیوں روتے ہو ؟
انہوں نے کہا میں نے جو چیزیں (آپﷺ کے عہد میں) دیکھیں ان میں سے اب کو
ئی چیز نہیں پاتا مگر نماز وہ نماز بھی برباد ہو گئی اس حدیث کو بکر بن
خلف نے بھی روایت کیا کہا ہم سے محمد بن بکر برسانی نے بیان کیا کہا ہم سے
عثمان بن ابی رواد نے بیان کیا یہی حدیث نقل کی۔
8. A person in Salat is speaking in private to his Lord.
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ
قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم "
إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا صَلَّى يُنَاجِي رَبَّهُ فَلاَ يَتْفِلَنَّ عَنْ
يَمِينِهِ، وَلَكِنْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى ". وَقَالَ سَعِيدٌ
عَنْ قَتَادَةَ لاَ يَتْفِلُ قُدَّامَهُ أَوْ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَلَكِنْ
عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمَيْهِ. وَقَالَ شُعْبَةُ لاَ يَبْزُقُ
بَيْنَ يَدَيْهِ وَلاَ عَنْ يَمِينِهِ، وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ
تَحْتَ قَدَمِهِ. وَقَالَ حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله
عليه وسلم " لاَ يَبْزُقْ فِي الْقِبْلَةِ وَلاَ عَنْ يَمِينِهِ،
وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ "
Narrated By Anas : The Prophet said, "Whenever anyone of you offers his
prayer he is speaking in private to his Lord. So he should not spit to
his right but under his left foot." Qatada said, "He should not spit in
front of him but to his left or under his feet." And Shu'ba said, "He
should not spit in front of him, nor to his right but to his left or
under his foot." Anas said: The Prophet said, "He should neither spit in
the direction of his Qibla nor to his right but to his left or under
his foot."
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان
کیا کہا ہم سے ہشام بن عبداللہ دستوائی نے انہوں انہوں نے قتادہ بن دعامہ
سے انہوں نے انسؓ سے کہ نبیﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی جب نماز پڑھتا ہے
تو اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے اس کو چاہئے کے داہنی طرف نہ تھوکے بلکہ اپنے
بائیں پاؤں کے تلے تھوک لے ۔ اور سعید نے جو قتادہ سے روایت کیااس میں یوں
ہے کہ اپنے آگے یا اپنے سامنے نہ تھوکے البتہ بائیں طرف یا پاؤں کےتلے
تھوک سکتا ہے ۔ اور شعبہ نے اپنی روایت میں یوں کہا سامنے نہ تھوکے نہ
داہنی طرف البتہ بائیں طرف یا پاؤں کے تلے تھوک سکتا ہے اور حمید نے اس
حدیث کو انسؓ سے روایت کیا انہوں نے نبیﷺ سے اس میں یوں ہے کہ قبلے کی طرف
نہ تھوکے اور نہ اپنے داہنے طرف البتہ بائیں طرف پاؤں کے تلے تھوک سکتا ہے
۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ
إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ
صلى الله عليه وسلم قَالَ " اعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ، وَلاَ يَبْسُطْ
ذِرَاعَيْهِ كَالْكَلْبِ، وَإِذَا بَزَقَ فَلاَ يَبْزُقَنَّ بَيْنَ
يَدَيْهِ وَلاَ عَنْ يَمِينِهِ، فَإِنَّهُ يُنَاجِي رَبَّهُ "
Narrated By Anas : The Prophet said, "Do the prostration properly and
do not put your fore-arms flat with elbows touching the ground like a
dog. And if you want to spit, do not spit in front, nor to the right for
the person in prayer is speaking in private to his Lord."
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا
کہا ہم سے یزید بن ابراہیم نے کہا ہم سے قتادہ نے انہوں نے انسؓ سے انہوں
نے نبیﷺ سے آپ نے فرمایا سجدہ سیدھی طرح پر کرو اور کوئی تم میں سے کتے کی
طرح اپنی دونوں بانہیں زمین پر نہ بچھائے اور جب تھوکنا چاہے تو اپنے
سامنے اور داہنی طرف نہ تھوکے کیونکہ وہ( نماز میں)اپنے مالک سے سرگوشی کر
رہا ہے۔
9. In severe heat, offer Zuhr prayers when it becomes cooler.
حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ،
عَنْ سُلَيْمَانَ، قَالَ صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ حَدَّثَنَا الأَعْرَجُ
عَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَغَيْرُهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَنَافِعٌ
مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ،
أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ
قَالَ " إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلاَةِ، فَإِنَّ
شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ "
Narrated By Abu Huraira and 'Abdullah bin 'Umar : Allah's Apostle said,
"If it is very hot, then pray the Zuhr prayer when it becomes (a bit)
cooler, as the severity of the heat is from the raging of the
Hell-fire."
ہم سے ایوب بن سلیمان مدنی نے
بیان کیا کہا ہم سے ابو بکر عبدالحمید بن ابی اویس نے انہوں نے سلیمان بن
بلال سے کہ صالح بن کیسان نے کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن ہرمزاعرج وغیرہ نے
ابو ہریرہؓ سے روایت کی اور اور نافع نے جو عبداللہ بن عمرؓ کے غلام تھے
عبداللہ بن عمرؓسے روایت کی ، ابو ہریرہؓ اور عبداللہ بن عمرؓ دونوں نے
صالح بن کیسان کےشیخ سے بیان کیا کہ رسول اللہﷺنے فرمایا جب سخت گرمی ہو تو
نماز کو ٹھنڈا کرو اسلئے کہ گرمی کی سختی دوزخ کی بھاپ سے ہوتی ہے۔
حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ،
عَنْ سُلَيْمَانَ، قَالَ صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ حَدَّثَنَا الأَعْرَجُ
عَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَغَيْرُهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَنَافِعٌ
مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ،
أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ
قَالَ " إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلاَةِ، فَإِنَّ
شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ "
Narrated By Abu Huraira and 'Abdullah bin 'Umar : Allah's Apostle said,
"If it is very hot, then pray the Zuhr prayer when it becomes (a bit)
cooler, as the severity of the heat is from the raging of the
Hell-fire."
ہم سے ایوب بن سلیمان مدنی نے
بیان کیا کہا ہم سے ابو بکر عبدالحمید بن ابی اویس نے انہوں نے سلیمان بن
بلال سے کہ صالح بن کیسان نے کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن ہرمزاعرج وغیرہ نے
ابو ہریرہؓ سے روایت کی اور اور نافع نے جو عبداللہ بن عمرؓ کے غلام تھے
عبداللہ بن عمرؓسے روایت کی ، ابو ہریرہؓ اور عبداللہ بن عمرؓ دونوں نے
صالح بن کیسان کےشیخ سے بیان کیا کہ رسول اللہﷺنے فرمایا جب سخت گرمی ہو تو
نماز کو ٹھنڈا کرو اسلئے کہ گرمی کی سختی دوزخ کی بھاپ سے ہوتی ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، قَالَ حَدَّثَنَا
شُعْبَةُ، عَنِ الْمُهَاجِرِ أَبِي الْحَسَنِ، سَمِعَ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ،
عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ أَذَّنَ مُؤَذِّنُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم
الظُّهْرَ فَقَالَ " أَبْرِدْ أَبْرِدْ ـ أَوْ قَالَ ـ انْتَظِرِ
انْتَظِرْ ". وَقَالَ " شِدَّةُ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ،
فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلاَةِ "
Narrated By Abu Dhar : The Muadhdhin (call-maker) of the Prophet
pronounced the Adhan (call) for the Zuhr prayer but the Prophet said,
"Let it be cooler, let it be cooler." Or said, 'Wait, wait, because the
severity of heat is from the raging of the Hell-fire. In severe hot
weather, pray when it becomes (a bit) cooler and the shadows of hillocks
appear."
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا
کہا ہم سے غندر محمد بن جعفر نے کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے انہوں نے
ابوالحسن مہاجر سے انہوں نے زید بن وہب ہمدانی سے انہوں نے ابو ذر غفاریؓ
صحابی سے کہ نبیﷺکے مؤذن (بلالؓ) ظہر کی اذان دینے لگے آپ نے فرمایا (ذرا)
ٹھنڈا ہونے دے یا یوں فرمایا ٹھہر جا ٹھہر جا اور فرمایا کہ گرمی کی سختی
دوزخ کی بھاپ سے ہوتی ہے جب گرمی کی سختی ہو تو نماز کو تھنڈے وقت پر پڑھو
یہاں تک کہ ٹیلوں کا سایہ ہم نے دیکھا ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ،
قَالَ حَفِظْنَاهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ
أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا
اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلاَةِ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ
مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ "
Narrated
By Abu Huraira : The Prophet said, "In very hot weather delay the Zuhr
prayer till it becomes (a bit) cooler because the severity of heat is
from the raging of Hell-fire.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان ابن عیینہ نے
انہوں نے کہا ہم کو زہری کی یہ حدیث یاد ہے انہوں نے سعید بن مسیب سے روایت
کی انہوں نے ابو ہریرہؓ سے انہوں نے نبیﷺ سے آپﷺ نے فرمایا جب سخت گرمی
ہو تو نماز تھنڈے وقت پڑھو کیونکہ گرمی کی سختی دوزخ کی بھاپ سے ہوتی ہے۔
وَاشْتَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا فَقَالَتْ يَا رَبِّ أَكَلَ بَعْضِي
بَعْضًا. فَأَذِنَ لَهَا بِنَفَسَيْنِ نَفَسٍ فِي الشِّتَاءِ، وَنَفَسٍ
فِي الصَّيْفِ، فَهُوَ أَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْحَرِّ، وَأَشَدُّ مَا
تَجِدُونَ مِنَ الزَّمْهَرِيرِ
The Hell-fire of Hell complained to its Lord saying: O Lord! My parts
are eating (destroying) one another. So Allah allowed it to take two
breaths, one in the winter and the other in the summer. The breath in
the summer is at the time when you feel the severest heat and the breath
in the winter is at the time when you feel the severest cold."
اور ہوا یہ کہ دوزخ نے اپنے پروردگار سے شکوہ کیا کہنے لگی مالک میرے
(ایسی سخت گرمی ہے کہ) میں اپنے کو آپ کھا رہی ہوں اس وقت اس کو (سال میں )
دو سانسیں لینے کی پرور دگار نے اجازت دی ، ایک جاڑے میں اور ایک گرمی میں
یہی سبب ہے کہ گرمی کے موسم میں سخت گرمی تم کو لگتی ہے اور جاڑے میں سخت
سردی ۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا
الأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ
رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَبْرِدُوا بِالظُّهْرِ، فَإِنَّ
شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ". تَابَعَهُ سُفْيَانُ
وَيَحْيَى وَأَبُو عَوَانَةَ عَنِ الأَعْمَشِ
Narrated By Abu Sa'id : That Allah's Apostle said, "Pray Zuhr prayer
when it becomes (a bit) cooler as the severity of heat is from the
raging of the Hell-fire."
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے
بیان کیا کہا ہم سے میرے باپ نے کہا ہم سے اعمش نے کہا ہم سے ابو صالح
ذکوان نے انہوں نے ابو سعید خدری سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ظہر کی نماز
کو تھنڈا کرو اسلئے کہ گرمی کی سختی دوزخ کی بھاپ سے ہوتی ہے ۔ حفص کے
ساتھ اس حدیث کو سفیان ثوری اور یحیٰ قطان اور ابو عوانہ نے بھی اعمش سے
روایت کیا ۔
10. When going on a journey, pray Zuhr prayer when it becomes cooler.
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ
حَدَّثَنَا مُهَاجِرٌ أَبُو الْحَسَنِ، مَوْلًى لِبَنِي تَيْمِ اللَّهِ
قَالَ سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ، قَالَ
كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ، فَأَرَادَ
الْمُؤَذِّنُ أَنْ يُؤَذِّنَ لِلظُّهْرِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه
وسلم " أَبْرِدْ ". ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُؤَذِّنَ فَقَالَ لَهُ "
أَبْرِدْ ". حَتَّى رَأَيْنَا فَىْءَ التُّلُولِ، فَقَالَ النَّبِيُّ
صلى الله عليه وسلم " إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ،
فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلاَةِ ". وَقَالَ ابْنُ
عَبَّاسٍ تَتَفَيَّأُ تَتَمَيَّلُ
Narrated By Abu Dhar Al-Ghifar : We were with the Prophet on a journey
and the Mu'adhdhin (call maker for the prayer) wanted to pronounce the
Adhan (call) for the Zuhr prayer. The Prophet said, 'Let it become
cooler." He again (after a while) wanted to pronounce the Adhan but the
Prophet said to him, "Let it become cooler till we see the shadows of
hillocks." The Prophet added, "The severity of heat is from the raging
of the Hell-fire, and in very hot weather pray (Zuhr) when it becomes
cooler."
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان
کیا کہا ہم سے شعبہ نے کہا ہم سے مہاجر ابوالحسن نے جو بنی تیم اللہ
(قبیلے) کے غلام تھے انہوں نے کہا ہم نے زید بن وہب جہنی سے سنا انہوں نے
ابو ذر غفاریؓ سے انہوں نے کہا ہم نبیﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے تو مؤذن
نے ظہر کی اذان دینا چاہی نبیﷺ نے فرمایا ٹھنڈا ہونے دے پھر اس نے اذان
دینا چاہی آپ نے فرمایا ٹھنڈا ہونے دے یہاں تک کے ہم نے ٹیلون کا سایہ
دیکہا پھر نبیﷺنے فرمایا گرمی کی سختی دوزخ کی بھاپ سے ہوتی ہے تو جب سخت
گرمی ہو نمازکو ٹھنڈاکرو اور ابن عباسؓ نے تتفیا ظلالہ کی تفسیر میں کہا
(جو سورت نحل میں ہے) یعنی جھکتے ہیں۔
11. The time of Zuhr prayer is when the sun declines (just after mid-day).
Jabir said, the Prophet (s.a.w) used to offer the Zuhr prayer just after mid-day
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ
الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ
اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ حِينَ زَاغَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى
الظُّهْرَ، فَقَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَذَكَرَ السَّاعَةَ، فَذَكَرَ
أَنَّ فِيهَا أُمُورًا عِظَامًا ثُمَّ قَالَ " مَنْ أَحَبَّ أَنْ
يَسْأَلَ عَنْ شَىْءٍ فَلْيَسْأَلْ، فَلاَ تَسْأَلُونِي عَنْ شَىْءٍ إِلاَّ
أَخْبَرْتُكُمْ مَا دُمْتُ فِي مَقَامِي هَذَا ". فَأَكْثَرَ النَّاسُ
فِي الْبُكَاءِ، وَأَكْثَرَ أَنْ يَقُولَ " سَلُونِي ". فَقَامَ
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ السَّهْمِيُّ فَقَالَ مَنْ أَبِي قَالَ "
أَبُوكَ حُذَافَةُ ". ثُمَّ أَكْثَرَ أَنْ يَقُولَ " سَلُونِي ".
فَبَرَكَ عُمَرُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ فَقَالَ رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا،
وَبِالإِسْلاَمِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا. فَسَكَتَ ثُمَّ قَالَ
" عُرِضَتْ عَلَىَّ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ آنِفًا فِي عُرْضِ هَذَا
الْحَائِطِ فَلَمْ أَرَ كَالْخَيْرِ وَالشَّرِّ "
Narrated By Anas bin Malik : Allah's Apostle came out as the sun
declined at mid-day and offered the Zuhr prayer. He then stood on the
pulpit and spoke about the Hour (Day of Judgment) and said that in it
there would be tremendous things. He then said, "Whoever likes to ask me
about anything he can do so and I shall reply as long as I am at this
place of mine. Most of the people wept and the Prophet said repeatedly,
"Ask me." Abdullah bin Hudhafa As-Sahmi stood up and said, "Who is my
father?" The Prophet said, "Your father is Hudhafa." The Prophet
repeatedly said, "Ask me." Then Umar knelt before him and said, "We are
pleased with Allah as our Lord, Islam as our religion, and Muhammad as
our Prophet." The Prophet then became quiet and said, "Paradise and
Hell-fire were displayed in front of me on this wall just now and I have
never seen a better thing (than the former) and a worse thing (than the
latter)."
ہم سے ابوالیمان حکم بن نافع نے
بیان کیا کہا ہم سے شعیب نے انہوں نے زہری سے کہا مجھ کو انس بن مالکؓ نے
خبر دی کہ رسول اللہﷺ سورج ڈھلے برآمد ہوئے اور ظہر کی نمازپڑھائی پھر
منبر پر کھڑے ہوئے اور قیامت کا ذکر کیا فرمایا اس میں بڑی بڑی باتیں ہوں
گی پھر فرمایا جس کو کوئی بات (مجھ سے) پوچھنا ہو وہ پوچھ لے جب تک میں اس
جگہ میں ہوں تم جو بات مجھ سے پوچھو گے میں بتلا دوں گا یہ سن کر لوگ(خوف
کے مارے لوگ)بہت رونے لگے اور آپ بار بار یہی فرماتے جاتے تھے پوچھو نا
پوچھو، تو عبداللہ بن حذافہ سہمی کھڑا ہوا کہنے لگا میرا باپ کون ہے آپ نے
فرمایا تیرا باپ حذافہ تھا پھر آپ بار بار ہہی فرمانے لگے پوچھو پوچھو
آخر حضرت عمرؓ (ادب سے ) دوزانو ہو بیٹھے اور عرض کرنے لگے ہم اللہ جل
جلالہ کے مالک ہونے سے اور اسلام کے دین ہونے سے اور حضرت محمدﷺ کےنبی ہونے
سے راضی ہیں اس وقت آۡپ چپ ہوئے پھر آ پ نے فرمایا ابھی بہشت اور دوزخ
میرے سامنے اس دیوار کے کونے میں پیش کی گئیں میں نے نہ ایسی کوئی عمدہ چیز
دیکھی (جیسے بہشت تھی) اور نہ ایسی کوئی بری چیز (جیسے دوزخ تھی)۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي
الْمِنْهَالِ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم
يُصَلِّي الصُّبْحَ وَأَحَدُنَا يَعْرِفُ جَلِيسَهُ، وَيَقْرَأُ فِيهَا مَا
بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ، وَيُصَلِّي الظُّهْرَ إِذَا زَالَتِ
الشَّمْسُ، وَالْعَصْرَ وَأَحَدُنَا يَذْهَبُ إِلَى أَقْصَى الْمَدِينَةِ
ثُمَّ يَرْجِعُ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ، وَنَسِيتُ مَا قَالَ فِي الْمَغْرِبِ،
وَلاَ يُبَالِي بِتَأْخِيرِ الْعِشَاءِ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ. ثُمَّ
قَالَ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ. وَقَالَ مُعَاذٌ قَالَ شُعْبَةُ ثُمَّ
لَقِيتُهُ مَرَّةً فَقَالَ أَوْ ثُلُثِ اللَّيْلِ
Narrated By Abu Al-Minhal : Abu Barza said, "The Prophet used to offer
the Fajr (prayer) when one could recognize the person sitting by him
(after the prayer) and he used to recite between 60 to 100 Ayat (verses)
of the Qur'an. He used to offer the Zuhr prayer as soon as the sun
declined (at noon) and the 'Asr at a time when a man might go and return
from the farthest place in Medina and find the sun still hot. (The
sub-narrator forgot what was said about the Maghrib). He did not mind
delaying the 'Isha prayer to one third of the night or the middle of the
night."
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا
کہا ہم سے شعبہ نے انہوں نے ابو المنہال (سیار بن سلامہ) سے انہوں نے ابو
برزہ(فضلہ بن عبید ) سے کہ نبیﷺ صبح کی نماز اس وقت پڑھتے جب ہم میں سے
کوئی شخص (نماز سے فارغ ہو کر) اپنے پاس والے کو پہچان لیتا اور آپ اس میں
ساٹھ آیتوں سے لے کر سو آیتوں تک پڑھتے اور ظہر اس وقت پڑھتے جب سورج
ڈھل جاتا اور عصر اس وقت کہ ہم میں سے کوئی عصر پڑھ کر شہر کے پرلے حصے میں
(اپنے گھر کو) لوٹ جاتا اور سورج تیز رہتا ابوالمنہال نےکہا میں بھول گیا
ابو برزہ نےمغرب کے باب میں کیا کہا اور آپ عشا کی نماز میں تہائی رات تک
دیر کرنے کی پرواہ نہیں کرتے تھے پھر ابوالمنہال نے یوں کہاآدھی رات تک
اور معاذ بن معاذ بصری نے کہا شعبہ نے کہا پھر میں ابوالمنہال سے ایک بار
ملا تو یوں کہنے لگا تہائی رات تک ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ـ يَعْنِي ابْنَ مُقَاتِلٍ ـ قَالَ أَخْبَرَنَا
عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،
حَدَّثَنِي غَالِبٌ الْقَطَّانُ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
الْمُزَنِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا
خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالظَّهَائِرِ فَسَجَدْنَا
عَلَى ثِيَابِنَا اتِّقَاءَ الْحَرِّ
Narrated By Anas bin Malik : When we offered the Zuhr prayers behind
Allah's Apostle we used to prostrate on our clothes to protect ourselves
from the heat.
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان
کیا کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے انہوں نے کہا ہم کو خالد بن عبدالرحمٰن
نے خبر دی انہوں نے کہا مجھ سے غالب قطان نے بیان کیا انہوں نے بکر بن
عبداللہ مزنی سے انہوں نے انس بن مالکؓ سے انہوں نے کہا ہم جب رسول اللہﷺ
کے پیچھے
(ظہر کی) نماز دوپہر دن کو پڑھا کرتے تو گرمی سے بچنے کے لیے اپنے کپڑوں پر سجدہ کرتے ۔
(ظہر کی) نماز دوپہر دن کو پڑھا کرتے تو گرمی سے بچنے کے لیے اپنے کپڑوں پر سجدہ کرتے ۔
12. To delay the Zuhr up to the Asr time.
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ـ هُوَ ابْنُ
زَيْدٍ ـ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ
ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى
بِالْمَدِينَةِ سَبْعًا وَثَمَانِيًا الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ، وَالْمَغْرِبَ
وَالْعِشَاءَ. فَقَالَ أَيُّوبُ لَعَلَّهُ فِي لَيْلَةٍ مَطِيرَةٍ.
قَالَ عَسَى
Narrated By Ibn
'Abbas : "The Prophet prayed eight Rakat for the Zuhr and 'Asr, and
seven for the Maghrib and 'Isha prayers in Medina." Aiyub said, "Perhaps
those were rainy nights." Anas said, "May be."
ہم سے ابو النعمان نے بیان کیا
کہا ہم سے حماد بن زید نے انہوں نے عمرو بن دینار سے انہوں نے جابر بن زید
سےانہوں نے عبداللہ بن عباسؓ سےکہ نبیﷺ نے مدینہ میں رہ کر (یعنی سفر نہ
تھا) سات رکعتیں مغرب اور عشا کی اور آٹھ رکعتیں ظہر اور عصر کی (ملا کر)
پڑھیں ، ایوب سختیانی نے جابر بن زید سےکہا شاید بارش کی رات میں ایسا کیا
ہوگا انہوں نے کہا شاید ۔
13. The time of the Asr prayer.
Narrated Hisham (that Aisha said), "Sunshine used to be still inside my chamber (i.e., at the time of Asr prayer)."
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ
عِيَاضٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ
رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ لَمْ
تَخْرُجْ مِنْ حُجْرَتِهَا. وَقَالَ أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ مِنْ
قَعْرِ حُجْرَتِهَا
Narrated By 'Aisha : Allah's Apostle used to offer the 'Asr prayer when the sunshine had not disappeared from my chamber.
ہم سے ابراہیم بن منذر نے بیان
کیا کہا ہم سے انس بن عیاض بن لیثی نے انہوں نے ہشام بن عروہ سے انہوں نے
اپنے باپ عروہ سے حضرت عائشہؓ نے کہا رسول اللہﷺ عصر کی نماز اس وقت پڑھتے
کہ دھوپ ان کے حجرے میں رہتی اوپر نہ چڑھتی ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ،
عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
صَلَّى الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا، لَمْ يَظْهَرِ الْفَىْءُ
مِنْ حُجْرَتِهَا
Narrated By
'Aisha : Allah's Apostle used to offer the 'Asr prayers at a time when
the sunshine was still inside my chamber and no shadow had yet appeared
in it.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان
کیا کہا ہم سے لیث بن سعد نے انہوں نے ابن شہاب سے انہوں نے عروہ بن زبیرؓ
سےانہوں نے حضرت عائشہؓ سے کہ رسول اللہ ﷺ نے عصر کی نماز اس وقت پڑھی جب
دھوپ ان کے حجرے میں تھی سایہ وہاں نہیں پھیلا تھا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ
الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ
صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي صَلاَةَ الْعَصْرِ وَالشَّمْسُ طَالِعَةٌ فِي
حُجْرَتِي لَمْ يَظْهَرِ الْفَىْءُ بَعْدُ. وَقَالَ مَالِكٌ وَيَحْيَى
بْنُ سَعِيدٍ وَشُعَيْبٌ وَابْنُ أَبِي حَفْصَةَ وَالشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ
تَظْهَرَ
Narrated By 'Aisha : The
Prophet used to pray the 'Asr prayers at a time when the sunshine was
still inside my chamber and no shadow had yet appeared in it.
ہم سے ابو نعیم فضل بن دکین نے
بیان کیا کہا ہم سے سفیان ابن عیینہ نے انہوں نے ابن شہاب سے انہوں نے عروہ
بن زبیرؓ سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے کہ نبیﷺ عصر کی نماز اس وقت پڑھتے کہ
دھوپ میرے حجرے میں رہتی اور ابھی سایہ نہ پھیلا ہوتا، امام بخاریؒ نے کہا
امام مالک اور یحیٰی بن سعید انصاری اور شعیب بن ابی حمزہ اور ابن ابی
حفصہ محمد بن میسرہ نے اپنی روایتوں میں یوں کہا ہے ابھی دھوپ اوپر نہ چڑھی
ہوتی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ،
قَالَ أَخْبَرَنَا عَوْفٌ، عَنْ سَيَّارِ بْنِ سَلاَمَةَ، قَالَ دَخَلْتُ
أَنَا وَأَبِي، عَلَى أَبِي بَرْزَةَ الأَسْلَمِيِّ، فَقَالَ لَهُ أَبِي
كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ
فَقَالَ كَانَ يُصَلِّي الْهَجِيرَ الَّتِي تَدْعُونَهَا الأُولَى حِينَ
تَدْحَضُ الشَّمْسُ، وَيُصَلِّي الْعَصْرَ، ثُمَّ يَرْجِعُ أَحَدُنَا إِلَى
رَحْلِهِ فِي أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ ـ وَنَسِيتُ مَا
قَالَ فِي الْمَغْرِبِ ـ وَكَانَ يَسْتَحِبُّ أَنْ يُؤَخِّرَ الْعِشَاءَ
الَّتِي تَدْعُونَهَا الْعَتَمَةَ، وَكَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا
وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا، وَكَانَ يَنْفَتِلُ مِنْ صَلاَةِ الْغَدَاةِ حِينَ
يَعْرِفُ الرَّجُلُ جَلِيسَهُ، وَيَقْرَأُ بِالسِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ
Narrated By Saiyar bin Salama : I along with my father went to Abu-
Barza Al-Aslarrni and my father asked him, "How Allah's Apostle used to
offer the five compulsory congregational prayers?" Abu- Barza said, "The
Prophet used to pray the Zuhr prayer which you (people) call the first
one at mid-day when the sun had just declined The 'Asr prayer at a time
when after the prayer, a man could go to the house at the farthest place
in Medina (and arrive) while the sun was still hot. (I forgot about the
Maghrib prayer). The Prophet Loved to delay the 'Isha which you call
Al- Atama and he disliked sleeping before it and speaking after it.
After the Fajr prayer he used to leave when a man could recognize the
one sitting beside him and he used to recite between 60 to 100 Ayat (in
the Fajr prayer).
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان
کیا کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے کہا ہم کو عوف نے خبر دی انہوں نے سیار
بن سلامہ سے انہوں نے کہا کہ میں اور میرا باپ مل دونوں مل کر ابو برزہ
اسلمیؓ صحابی کے پاس گئے میرے باپ نے ان سے پوچھا رسول اللہﷺ فرض نماز کن
وقتوں میں پڑھتے تھے ابو برزہ نے کہا ظہر کی نماز جس کو تم پہلی نماز کہتے
ہو اس وقت پڑھتے جب سورج ڈھلتا اور عصر کی نماز پڑھتے پھر اس کے بعد ہم
میں سے کوئی اپنے گھر کو جو مدینہ کے اخیر میں ہوتا جا پہنچتا اور سورج تیز
رہتا ، سیار نے کہا مجھ کو یاد نہیں ابو برزہ نے مغرب کے باب میں کیا کہا
ابو برزہ نے کہا اور آپﷺ عشا کی نماز میں جس کو تم عتمہ کہتے ہو دیر کرنا
پسند کرتے تھے اور اس سے پہلے سو جانا نا پسند کرتے تھے اسی طرح اس کے بعد
باتیں کرنا اور آپ صبح کی نماز اس وقت پڑھ چکتے جب آدمی اپنے پاس والے کو
پہچان لیتا (اتنی روشنی ہوتی) اور(اس میں) ساٹھ آیتوں سےلے کر سو آیتوں
تک پڑھتے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ
بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ،
قَالَ كُنَّا نُصَلِّي الْعَصْرَ ثُمَّ يَخْرُجُ الإِنْسَانُ إِلَى بَنِي
عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَنَجِدُهُمْ يُصَلُّونَ الْعَصْرَ
Narrated By Anas bin Malik : We used to pray the Asr prayer and after
that if someone happened to go to the tribe of Bani Amr bin Auf, he
would find them still praying the Asr (prayer).
ہم سے عباللہ بن مسلمہ قعنبی نے
بیان کیا انہوں نے امام مالک سے انہوں نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے
انہوں نے انس بن مالکؒ سے انہوں نے کہا ہم (آپﷺ کے ساتھ)عصر کی نماز پڑھ
لیتے پھر کوئی آدمی بنی عمرو بن عوف کے محلہ میں (جو قبا میں تھا مدینہ سے
کوس بھر)جاتا ان کو عصر کی نماز پڑھتے ہوئے پاتا ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ مُقَاتِلٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، قَالَ
سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ، يَقُولُ صَلَّيْنَا مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ
الْعَزِيزِ الظُّهْرَ، ثُمَّ خَرَجْنَا حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ
مَالِكٍ فَوَجَدْنَاهُ يُصَلِّي الْعَصْرَ فَقُلْتُ يَا عَمِّ، مَا هَذِهِ
الصَّلاَةُ الَّتِي صَلَّيْتَ قَالَ الْعَصْرُ، وَهَذِهِ صَلاَةُ رَسُولِ
اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الَّتِي كُنَّا نُصَلِّي مَعَهُ
Narrated By Abu Bakr bin Uthman bin Sahl bin Hunaif : That he heard Abu
Umama saying: We prayed the Zuhr prayer with 'Umar bin Abdul Aziz and
then went to Anas bin Malik and found him offering the Asr prayer. I
asked him, "O uncle! Which prayer have you offered?" He said 'The Asr
and this is (the time of) the prayer of Allah s Apostle which we used to
pray with him."
ہم سے محمد بن
مقاتل نے بیان کیا کہا ہم کو عباللہ بن مبارک نے خبر دی کہا ہم کو ابو بکر
سہل بن عثمان بن سہل بن حنیف نے کہا میں نے ابو امامہ(سعد بن سہل) سے سنا
وہ کہتے تھے ہم نے عمر بن عبدالعزیز (خلیفہ) کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھی پھر
ہم نکل کر انس بن مالکؓ کے پاس گئے دیکھا تو عصر کی نماز پڑھ رہے تھے میں
نے کہا چچا یہ کون سی نماز ہے جو تم نے پڑھی انہوں نے کہا عصر کی اور رسول
اللہﷺ کی یہی نماز تھی جس کو ہم آپ کے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ
الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ
اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ
حَيَّةٌ، فَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي فَيَأْتِيهِمْ
وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ، وَبَعْضُ الْعَوَالِي مِنَ الْمَدِينَةِ عَلَى
أَرْبَعَةِ أَمْيَالٍ أَوْ نَحْوِهِ
Narrated By Anas bin Malik : Allah's Apostle used to offer the 'Asr
prayer at a time when the sun was still hot and high and if a person
went to Al-'Awali (a place) of Medina, he would reach there when the sun
was still high. Some of Al-'Awali of Medina were about four miles or so
from the town.
ہم سے ابو الیمان حکم بن نافع
نے بیان کیا کہا ہم کو شعیب بن ابی حمزہ نے خبر دی انہوں نے زہری سے انہوں
نے کہا مجھ سے انس بن مالکؓ نے بیان کیا انہوں نے کہا رسول اللہﷺ عصر کی
نماز اس وقت پڑھتے کہ سورج بلند اور تیز رہتا پھر کوئی جانے والا عوالی کو
جاتاوہاں پہنچ جاتا اور سورج بلند رہتا زہری نے کہا بعضے عوالی مدینہ سے
چار میل پر یا کچھ ایسے ہی واقع ہیں ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ
ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كُنَّا نُصَلِّي
الْعَصْرَ ثُمَّ يَذْهَبُ الذَّاهِبُ مِنَّا إِلَى قُبَاءٍ، فَيَأْتِيهِمْ
وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ
Narrated By Anas bin Malik : We used to pray the 'Asr and after that if
one of US went to Quba'he would arrive there while the sun was still
high.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان
کیا کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی انہوں نے ابن شہاب زہری سے انہوں نے انس
بن مالکؓ سے انہوں نے کہا ہم عصر کی نماز پرھتے تھے پھر ہم میں سے کوئی
جانے والا قبا تک (جو مدینہ سے ایک کوس ہے) جاتا وہاں پہنچ جاتااور سورج
بلند رہتا ۔
14. The sin of one who misses the Asr prayer (intentionally).
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ
نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
قَالَ " الَّذِي تَفُوتُهُ صَلاَةُ الْعَصْرِ كَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ
وَمَالَهُ "
Narrated By Ibn
'Umar : Allah's Apostle said, "Whoever misses the 'Asr prayer
(intentionally) then it is as if he lost his family and property."
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے
بیان کیا کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی انہوں نے نافع سےانہوں نے عبداللہ
بن عمرؓ سے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جس شخس کی عصر کی نماز قضا ہو گئی
گویا اس کا گھر بار ، مال اسباب لٹ گیا امام بخاریؒ نے کہا (سورت محمد میں )
جو یترکم کا لفظ آیا ہے وہ وتر سے نکالا گیا ہے وتر کہتے ہیں کسی شخص
کا کوئی آدمی مار ڈالنا یا اس کا مال چھین لینا ۔
15. One who omits (does not offer) the Asr prayer (intentionally).
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي
الْمَلِيحِ، قَالَ كُنَّا مَعَ بُرَيْدَةَ فِي غَزْوَةٍ فِي يَوْمٍ ذِي
غَيْمٍ فَقَالَ بَكِّرُوا بِصَلاَةِ الْعَصْرِ فَإِنَّ النَّبِيَّ صلى الله
عليه وسلم قَالَ " مَنْ تَرَكَ صَلاَةَ الْعَصْرِ فَقَدْ حَبِطَ
عَمَلُهُ "
Narrated By Abu
Al-Mahh : We were with Buraida in a battle on a cloudy day and he said,
"Offer the 'Asr prayer early as the Prophet said, "Whoever leaves the
'Asr prayer, all his (good) deeds will be annulled."
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان
کیا کہاہم سے ہشام بن عبداللہ دستوائی نے کہا ہم کو یحیی بن ابی
کثیر نے خبر دی انہوں نے ابو قلابہ عبداللہ بن زیدسے انہوں نے
ابوالملیح عامر بن اسامہ ہذلی سے انہوں نے کہا ہم جہاد میں بریدہ بن حصیبؓ
صحابی کے ساتھ تھے اس دن ابر تھا تو انہوں نے کہا عصر کی نماز جلدی پڑھو
کیونکہ نبیﷺ نے فرمایا جو کوئی عصر کی نماز چھوڑ دے اس کا عمل اکارت ہو
گیا۔
16. Superiority of the Asr prayer.
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ،
قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ كُنَّا
عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَنَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ لَيْلَةً ـ
يَعْنِي الْبَدْرَ ـ فَقَالَ " إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا
تَرَوْنَ هَذَا الْقَمَرَ لاَ تُضَامُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ، فَإِنِ
اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لاَ تُغْلَبُوا عَلَى صَلاَةٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ
وَقَبْلَ غُرُوبِهَا فَافْعَلُوا ". ثُمَّ قَرَأَ {وَسَبِّحْ
بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ}.
قَالَ إِسْمَاعِيلُ افْعَلُوا لاَ تَفُوتَنَّكُمْ
Narrated By Qais : Jarir said, "We were with the Prophet and he looked
at the moon-full-moon and said, 'Certainly you will see your Lord as you
see this moon and you will have no trouble in seeing Him. So if you can
avoid missing (through sleep or business, etc.) a prayer before the
sun-rise (Fajr) and a prayer before sunset ('Asr), you must do so.' He
then recited Allah's Statement: And celebrate the praises Of your Lord
before The rising of the sun And before (its) setting." (50.39) Isma'il
said, "Offer those prayers and do not miss them."
ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے
بیان کیا کہا ہم سے مروان ابن معاویہ نے کہا ہم سے اسماعیل بن ابی خالد نے
انہوں نے قیس بن ابی حازم سے انہوں نے جریر بن عبداللہ بجلی سے انہوں نے
کہا ہم نبیﷺ کے پاس (بیٹھے) تھے اتنے میں رات کو آپ نے چاند کی طرف دیکھا
تو فرمایا تم (ایک دن) اپنے مالک کو اس طرح دیکھو گے جیسے اس چاند کو
دیکھتے ہو اس کے دیکھنے میں تم کو کوئی اڑچن (زحمت) نہ ہو گی پھر اگر تم
سے یہ ہو سکے کہ سورج نکلنے سے پہلے جو نماز ہے (یعنی صبح کی) اور سورج
ڈوبنے سے پہلے جو نماز ہے (یعنی عصر کی) ان کو چھوڑ کر کسی کام میں نہ
پھنس جاؤ تو کرو پھر آپ نے (سورت طٰہٰ کی) یہ آیت پڑھی (اے پیغمبر) اپنے
مالک کی پاکی تعریف کے ساتھ بیان کرتا رہ سورج نکلنے سے پہلے اور سورج
ڈوبنے سے پہلے ۔اسمٰعیل نے کہا تو کرو سے یہ مطلب ہے کہ نماز قضا نہ ہونے
دو ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ
أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ
اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَتَعَاقَبُونَ فِيكُمْ مَلاَئِكَةٌ
بِاللَّيْلِ وَمَلاَئِكَةٌ بِالنَّهَارِ، وَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلاَةِ
الْفَجْرِ وَصَلاَةِ الْعَصْرِ، ثُمَّ يَعْرُجُ الَّذِينَ بَاتُوا فِيكُمْ،
فَيَسْأَلُهُمْ وَهْوَ أَعْلَمُ بِهِمْ كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِي
فَيَقُولُونَ تَرَكْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ، وَأَتَيْنَاهُمْ وَهُمْ
يُصَلُّونَ "
Narrated By Abu
Huraira : Allah's Apostle said, "Angels come to you in succession by
night and day and all of them get together at the time of the Fajr and
'Asr prayers. Those who have passed the night with you (or stayed with
you) ascend (to the Heaven) and Allah asks them, though He knows
everything about you, well, "In what state did you leave my slaves?" The
angels reply: "When we left them they were praying and when we reached
them, they were praying."
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے
بیان کیا کہا ہم سے امام مالکؓ نے انہوں نے ابو الزناد عبداللہ بن ذکوان
سے انہوں نے عبدالرحمٰن بن ہرمز اعرج سے انہوں نے ابو ہریرہؓ سےکہ رسول
اللہﷺ نے فرمایا رات اور دن میں فرشتے تمہارے پاس آگے اور پیچھے آتے جاتے
ہیں اور رات اور دن دونوں کے فرشتے فجر اور عصر کی نماز میں اکٹھا ہو جاتے
ہیں پھر جو فرشتے رات کو تم میں رہے تھے وہ (آسمان پر) چڑھ جاتے ہیں
پروردگار ان سے پوچھتا ہے حالانکہ وہ ان کو خوب جانتا ہے تم نے میرے بندوں
کو کس حال میں چھوڑا وہ کہتے ہیں ہم نے ان کو نماز پڑھتے ہوئے چھوڑا اور
جب ہم ان کے پاس گئے تھے اس وقت بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے ۔
17. Whoever got (or was able to offer) only one Raka of the Asr prayer before sunset.
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى،
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ
صلى الله عليه وسلم " إِذَا أَدْرَكَ أَحَدُكُمْ سَجْدَةً مِنْ صَلاَةِ
الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَلْيُتِمَّ صَلاَتَهُ، وَإِذَا
أَدْرَكَ سَجْدَةً مِنْ صَلاَةِ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ
فَلْيُتِمَّ صَلاَتَهُ "
Narrated
By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "If anyone of you can get one
Rak'a of the 'Asr prayer before sunset, he should complete his prayer.
If any of you can get one Rak'a of the Fajr prayer before sunrise, he
should complete his prayer."
ہم سے ابو نعیم نے بیان کیا کہا
ہم سے شیبان نے انہوں نے یحیٰی بن ابی کثیر سے انہوں نے ابو سلمہ سے انہوں
نے ابو ہریرہؓ سے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جب کوئی شخص سورج ڈوبنے سے پہلے
عصر کی ایک رکعت پا لے تو وہ اپنی نماز پوری کر لے (اس کی نماز ادا ہو گئی
قضا نہیں ہوئی ) اور جو کوئی سورج نکلنے سے پہلے فجر کی ایک رکعت پا لے وہ
بھی اپنی نماز پوری کر لے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي
إِبْرَاهِيمُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ
أَبِيهِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله
عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّمَا بَقَاؤُكُمْ فِيمَا سَلَفَ قَبْلَكُمْ مِنَ
الأُمَمِ كَمَا بَيْنَ صَلاَةِ الْعَصْرِ إِلَى غُرُوبِ الشَّمْسِ،
أُوتِيَ أَهْلُ التَّوْرَاةِ التَّوْرَاةَ فَعَمِلُوا حَتَّى إِذَا
انْتَصَفَ النَّهَارُ عَجَزُوا، فَأُعْطُوا قِيرَاطًا قِيرَاطًا، ثُمَّ
أُوتِيَ أَهْلُ الإِنْجِيلِ الإِنْجِيلَ فَعَمِلُوا إِلَى صَلاَةِ
الْعَصْرِ، ثُمَّ عَجَزُوا، فَأُعْطُوا قِيرَاطًا قِيرَاطًا، ثُمَّ
أُوتِينَا الْقُرْآنَ فَعَمِلْنَا إِلَى غُرُوبِ الشَّمْسِ، فَأُعْطِينَا
قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ، فَقَالَ أَهْلُ الْكِتَابَيْنِ أَىْ رَبَّنَا
أَعْطَيْتَ هَؤُلاَءِ قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ، وَأَعْطَيْتَنَا
قِيرَاطًا قِيرَاطًا، وَنَحْنُ كُنَّا أَكْثَرَ عَمَلاً، قَالَ قَالَ
اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَلْ ظَلَمْتُكُمْ مِنْ أَجْرِكُمْ مِنْ شَىْءٍ
قَالُوا لاَ، قَالَ فَهْوَ فَضْلِي أُوتِيهِ مَنْ أَشَاءُ "
Narrated By Salim bin 'Abdullah : My father said, "I heard Allah's
Apostle saying, 'The period of your stay as compared to the previous
nations is like the period equal to the time between the 'Asr prayer and
sunset. The people of the Torah were given the Torah and they acted
(upon it) till mid-day then they were exhausted and were given one Qirat
(of gold) each. And then the people of the Gospel were given the Gospel
and they acted (upon it) till the 'Asr prayer then they were exhausted
and were! given one Qirat each. And then we were given the Qur'an and we
acted (upon it) till sunset and we were given two Qirats each. On that
the people of both the scriptures said, 'O our Lord! You have given them
two Qirats and given us one Qirat, though we have worked more than
they.' Allah said, 'Have I usurped some of your right?' They said, 'No.'
Allah said: "That is my blessing I bestow upon whomsoever I wish."
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ
اویسی نے بیان کیا کہا مجھ سے ابراہیم بن سعد نے انہوں نےابن شہاب سے انہوں
نے سالم ابن عبداللہ بن عمرؓ سے انہوں نے اپنے باپ عبداللہ بن عمرؓ سے
انہوں نے رسول اللہﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے تمہارا دنیا میں رہنا اگلی
امتوں(یہود اور نصارٰی کے ) مقابلہ میں ایسا ہے جیسے عصر کی نماز سےسورج ڈ
وبنے تک ، تورات والوں نے جن کو تورات دی گئی (صبح سے) مزدوری کرنا شروع کی
جب دوپہر دن گزرا تو تھک گئے (کام پورا نہ کر سکے) ان کو ایک ایک قیراط
ملاپھر انجیل والوں کو انجیل ملی انہوں نےعصر کی نماز تک کام کیا پھر تھک
گئے ان کو بھی ایک ایک قیراط دیا گیا پھر ہم مسلمانوں کو قرآن ملا ہم نے
سورج ڈوبنے تک کام کیا (اور کام پورا کر دیا ) ہم کو دو دو قیراط مزدوری
کے ملے ، اب تورات اور انجیل والے کہنے لگے پروردگار تو نے ان مسلمانوں کو
دو دو قیراط دئیے اور ہم کو ایک ہی ایک قیراط دیا حالانکہ ہم نے ان سے
زیادہ کام کیا ہے اللہ تعالٰی نے فرمایا کیا میں نے تمہاری مزدوری کچھ دبا
لی ، انہوں نے کہا نہیں ، اللہ نے فرمایا پھر میری عنایت(اس میں تمہارا کیا
اجارا ہے) میں جس پر چاہوں کروں۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ
بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صلى
الله عليه وسلم " مَثَلُ الْمُسْلِمِينَ وَالْيَهُودِ وَالنَّصَارَى
كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَأْجَرَ قَوْمًا يَعْمَلُونَ لَهُ عَمَلاً إِلَى
اللَّيْلِ، فَعَمِلُوا إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ، فَقَالُوا لاَ حَاجَةَ
لَنَا إِلَى أَجْرِكَ، فَاسْتَأْجَرَ آخَرِينَ فَقَالَ أَكْمِلُوا
بَقِيَّةَ يَوْمِكُمْ، وَلَكُمُ الَّذِي شَرَطْتُ، فَعَمِلُوا حَتَّى إِذَا
كَانَ حِينَ صَلاَةِ الْعَصْرِ قَالُوا لَكَ مَا عَمِلْنَا.
فَاسْتَأْجَرَ قَوْمًا فَعَمِلُوا بَقِيَّةَ يَوْمِهِمْ حَتَّى غَابَتِ
الشَّمْسُ، وَاسْتَكْمَلُوا أَجْرَ الْفَرِيقَيْنِ "
Narrated By Abu Musa : The Prophet said, "The example of Muslims, Jews
and Christians is like the example of a man who employed labourers to
work for him from morning till night. They worked till mid-day and they
said, 'We are not in need of your reward.' SO the man employed another
batch and said to them, 'Complete the rest of the day and yours will be
the wages I had fixed (for the first batch). They worked Up till the
time of the 'Asr prayer and said, 'Whatever we have done is for you.' He
employed another batch. They worked for the rest of the day till
sunset, and they received the wages of the two former batches."
ہم سے ابو کریب محمد بن علاء نے
بیان کیا کہا ہم سے ابو اسامہ نے انہوں نے برید بن عبداللہ سے انہوں نے
ابو بردہ عامر بن عبداللہ سے انہوں نے اپنے باپ ابو موسٰی اشعری عبداللہ
بن قیس سے انہوں نے نبیﷺ سے ، فرمایا مسلمانوں اور یہود اور نصارٰی کی مثال
(اپنے اپنے پیغمبر کے ساتھ) اس شخص کی مثال ہے جس نے ایک کام کے لیے چند
لوگوں کو مزدوری پر رکھا کہ رات تک کام کریں تو انہوں نے دوپہر تک کام کیا
پھر کہنے لگے ہم تیری مزدوری سےدر گزرے آخر اس نے دوسرے مزدور بلائے اور
ان سے کہا جتنا دن باقی ہے تم اس کو پورا کرو اور جو مزدوری میں نے ٹھہرا
لی ہے وہ لے لو (انہوں نے کام شروع کیا)جب عصر کا وقت ہوا تو کہنے لگے جتنا
کام ہم نے کیا وہ پھکٹ (مفت )تیرا ہوا (ہم سے شام تک کام نہیں ہو سکتا تو
دوسرے مزدور رکھ لے ) آخر اس نے تیسرے مزدور بلائے انہوں نے جو دن باقی
رہا تھا اس میں سورج ڈوبنے تک مزدوری کی اور اگلے دونوں گروہوں کی پوری
مزدوری انہوں نے لے لی ۔
18. The time of the Maghrib prayer.
Ata said, "A person who is sick can offer Maghrib and Isha prayer together."
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ
حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو النَّجَاشِيِّ،
صُهَيْبٌ مَوْلَى رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ
خَدِيجٍ، يَقُولُ كُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله
عليه وسلم فَيَنْصَرِفُ أَحَدُنَا وَإِنَّهُ لَيُبْصِرُ مَوَاقِعَ نَبْلِهِ
Narrated By Rafi' bin Khadij : We used to offer the Maghrib prayer with
the Prophet and after finishing the prayer one of us may go away and
could still see as Par as the spots where one's arrow might reach when
shot by a bow.
ہم سے محمد بن مہران نے بیان
کیا کہا ہم سے ولید بن مسلم نے کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن عمرو اوزاعی نے کہا
ہم سے ابو النجاشی نے جو رافع بن خدیج کے غلام تھے ان کا نام عطاء بن صہیب
تھا انہوں نے کہا میں نے رافع بن خدیج سے سنا وہ کہتے تھے ہم مغرب کی نماز
نبیﷺ کے ساتھ پڑھتے تھے پھر نماز پڑھ کر ہم میں سے کوئی (مسجد سے) لوٹ
جاتا اور( تیر اندازی کرتا) تیر جہاں گرتا اس مقام کو دیکھتا (اتنی روشنی
رہتی ) ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ
جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ
عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ قَدِمَ الْحَجَّاجُ
فَسَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى
الله عليه وسلم يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْهَاجِرَةِ، وَالْعَصْرَ
وَالشَّمْسُ نَقِيَّةٌ، وَالْمَغْرِبَ إِذَا وَجَبَتْ، وَالْعِشَاءَ
أَحْيَانًا وَأَحْيَانًا، إِذَا رَآهُمُ اجْتَمَعُوا عَجَّلَ، وَإِذَا
رَآهُمْ أَبْطَوْا أَخَّرَ، وَالصُّبْحَ كَانُوا ـ أَوْ كَانَ النَّبِيُّ
صلى الله عليه وسلم يُصَلِّيهَا بِغَلَسٍ
Narrated By Jabir bin 'Abdullah : The Prophet used to pray the Zuhr at
mid-day, and the 'Asr at a time when the sun was still bright, the
Maghrib after sunset (at its stated time) and the Isha at a variable
time. Whenever he saw the people assembled (for 'Isha prayer) he would
pray earlier and if the people delayed, he would delay the prayer. And
they or the Prophet used to offer the Fajr Prayers when it still dark.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا
کہا ہم سے محمد بن جعفر نے کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے انہوں نے سعد بن
ابراہیم سے انہوں نے محمد بن عمرو بن حسن بن علیؓ سے انہوں نے کہا جب حجاج
(ظالم مدینہ کا حاکم بن کر ) آیا (نماز میں دیر کرنے لگا )تو ہم نے جابرؓ
سے (نماز کے وقت)پوچھے انہوں نے کہا نبیﷺ ظہر کی نماز دوپہر کو (ٹھیک گرمی
میں) پڑھا کرتے اور عصر کی جب سورج صاف (تیز) رہتا اور مغرب کی جب سورج
ڈوبتا اور عشا کی کبھی سویر کبھی اویر ، آپ جب دیکھتے کہ لوگ جمع ہو گئے
ہیں تو عشاء کو سویرے پڑھ لیتے اور جب دیکھتے کہ انہوں نے دیر کی تو آپ
بھی دیر کرتے اور صبح کی نماز صحابہؓ یا نبیﷺ اندھیرے میں پڑھا کرتے ۔
حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ
أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ، قَالَ كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ
صلى الله عليه وسلم الْمَغْرِبَ إِذَا تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ
Narrated By Salama : We used to pray the Maghrib prayer with the Prophet when the sun disappeared from the horizon.
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان
کیا کہا ہم سے یزید بن ابی عبید نے انہوں نے سلمہ بن اکوع سے انہوں نے کہا
ہم نبیﷺ کے ساتھ مغرب کی نماز اس وقت پڑھتے جب سورج پردے میں چھپ جاتا ۔
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو
بْنُ دِينَارٍ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،
قَالَ صَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم سَبْعًا جَمِيعًا وَثَمَانِيًا
جَمِيعًا
Narrated By Ibn 'Abbas : The Prophet prayed seven Rakat together and eight Rakat together.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان
کیا کہا ہم سے شعبہ نے کہا ہم سے عمرو بن دینار نے انہوں نے کہا میں نے
جابر بن زید سے سنا انہوں نے عبداللہ بن عباسؓ سےانہوں نے کہا نبیﷺ نے
(مغرب اور عشاء کی) سات رکعتیں اور (ظہر عصر کی )آٹھ رکعتیں ملا کر پڑھیں ۔
19. Whoever disliked to call the Maghrib prayer as the Isha prayer.
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ـ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ـ قَالَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنِ الْحُسَيْنِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ
اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ،
أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَغْلِبَنَّكُمُ
الأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلاَتِكُمُ الْمَغْرِبِ ". قَالَ الأَعْرَابُ
وَتَقُولُ هِيَ الْعِشَاءُ
Narrated By 'Abdullah Al-Muzani : The Prophet said, "Do not be
influenced by bedouins regarding the name of your Maghrib prayer which
is called 'Isha by them."
ہم سے ابو معمر عبداللہ بن عمرو
نے بیان کیا کہا ہم سے عبد الوارث ابن سعید نے انہوں نے حسین بن ذکوان سے
کہا ہم سے عبداللہ بن بریدہ نے بیان کیا کہا مجھ سے عبداللہ بن مغفل مزنی
نے بیان کیا کہ نبیﷺ نے فرمایا ایسا نہ ہونے دو کہ گنوار (دیہاتی )لوگ
تمہاری مغرب کی نماز کا کچھ اور نام رکھ دیں ۔ عبداللہ بن مغفل نے کہا
گنوار لوگ مغرب کو عشاء کہا کرتے ۔
20. The mention of Isha and Atama and whoever took the two names as one and the same.
Narrated
by Abu Hurairah (r.a), the Prophet (s.a.w) said, "The most difficult
and the hardest Salat for the hypocrites are the Isha and the Fajr". He
added, "Had they known what is (the reward of) the Atama (Isha) and the
Fajr (prayers), they would have come to attend them even if they had to
crawl."
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ
أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ سَالِمٌ أَخْبَرَنِي عَبْدُ
اللَّهِ، قَالَ صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةً
صَلاَةَ الْعِشَاءِ ـ وَهْىَ الَّتِي يَدْعُو النَّاسُ الْعَتَمَةَ ـ
ثُمَّ انْصَرَفَ فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا فَقَالَ " أَرَأَيْتُمْ
لَيْلَتَكُمْ هَذِهِ فَإِنَّ رَأْسَ مِائَةِ سَنَةٍ مِنْهَا لاَ يَبْقَى
مِمَّنْ هُوَ عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ أَحَدٌ "
Narrated By Abdullah : "One night Allah's Apostle led us in the 'Isha
prayer and that is the one called Al-'Atma by the people. After the
completion of the prayer, he faced us and said, "Do you know the
importance of this night? Nobody present on the surface of the earth
to-night will be living after one hundred years from this night."
ہم سے عبدان عبداللہ بن عثمان نے بیان کیا کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے
خبر دی کہا ہم کو یونس بن یزید نے انہوں نے ابن شہاب زہری سے انہوں نے کہا
سالم نے یہ کہامجھ کو عبداللہ بن عمرؓ نے خبر دی کہ رسول اللہﷺ نے ایک رات
عشاء کی نماز ہم کو پڑھائی یعنی وہی نماز جس کو لوگ عتمہ کی نماز کہتے ہیں
پھر نماز پڑھ کر آپ نے ہماری طرف منہ کیا اور فرمایا کیا تم نےاس رات کو
دیکھا (اسے یاد رکھنا) اس رات سے سو برس گزرنے تک جتنے لوگ آج زمیں پر
بستے ہیں ان میں سے کوئی باقی نہیں رہے گا ۔
21. The time of the Isha prayer. If the people get together (pray earlier), and if they come late (delay it).
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ
سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ـ هُوَ ابْنُ
الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ـ قَالَ سَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
عَنْ صَلاَةِ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم فَقَالَ كَانَ يُصَلِّي
الظُّهْرَ بِالْهَاجِرَةِ، وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ، وَالْمَغْرِبَ
إِذَا وَجَبَتْ، وَالْعِشَاءَ إِذَا كَثُرَ النَّاسُ عَجَّلَ، وَإِذَا
قَلُّوا أَخَّرَ، وَالصُّبْحَ بِغَلَسٍ
Narrated By Muhammad bin 'Amr : We asked Jabir bin 'Abdullah about the
prayers of the Prophet. He said, "He used to pray Zuhr prayer at
mid-day, the 'Asr when the sun was still hot, and the Maghrib after
sunset (at its stated time). The 'Isha was offered early if the people
gathered, and used to be delayed if their number was less; and the
morning prayer was offered when it was still dark."
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان
کیا کہاہم سے شعبہ بن حجاج نے انہوں نے سعد بن ابراہیم سے انہوں نے محمد بن
عمرو بن حسن بن علیؓ بن ابی طالب سے انہوں نے کہا ہم نے جابر بن عبداللہ
انصاریؓ (صحابی) سے نبیﷺ کی نماز کا وقت پوچھا جابرؓ نے کہا آپﷺ ظہر کی
نماز دوپہر کی گرمی میں (یعنی زوال ہوتے ہی )پڑھا کرتے اور عصر کی جب سورج
تیز چمکتا رہتا اور مغرب کی جب سورج ڈوبتا اور اگر لوگ بہت جمع ہو جاتے تو
آپ عشا کی نماز جلد پڑھ لیتے اور اگر تھوڑے ہوتے تو دیر کرتے اور صبح کی
نماز اندھیرے میں پڑھتے ۔
22. Superiority of the Isha prayer.
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ
عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ،
أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ، أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
لَيْلَةً بِالْعِشَاءِ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَفْشُوَ الإِسْلاَمُ، فَلَمْ
يَخْرُجْ حَتَّى قَالَ عُمَرُ نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ.
فَخَرَجَ فَقَالَ لأَهْلِ الْمَسْجِدِ " مَا يَنْتَظِرُهَا أَحَدٌ مِنْ
أَهْلِ الأَرْضِ غَيْرُكُمْ "
Narrated By 'Aisha : Allah's Apostle once delayed the 'Isha prayer and
that was during the days when Islam still had not spread. The Prophet
did not come out till 'Umar informed him that the women and children had
slept. Then he came out and said to the people of the mosque: "None
amongst the dwellers of the earth has been waiting for it ('Isha prayer)
except you."
ہم سے یحیٰی بن بکیر نے بیان
کیا انہوں نےکہا ہم سے لیث بن سعد نے انہوں نے عقیل سے انہوں نے ابن شہاب
سے انہوں نے عروہ سے ان سے حضرت عائشہؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ نے ایک
رات عشاء کی نماز میں ، اسلام کا دین اور ملکوں میں پھیلنے سے پہلے ،دیر کی
تو آپ (گھر سے) برآمد نہیں ہوئے یہاں تک کہ حضرت عمرؓ نے عرض کیا عورتیں
اور بچے سو گئے (اس وقت) آپ برآمد ہوئے اور مسجد میں لوگ جمع تھے ان سے
فرمایا تمہارے سوا ساری زمین والوں میں کوئی اس نماز کا اس وقت منتظر نہیں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو
أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ
كُنْتُ أَنَا وَأَصْحَابِي الَّذِينَ، قَدِمُوا مَعِي فِي السَّفِينَةِ
نُزُولاً فِي بَقِيعِ بُطْحَانَ، وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم
بِالْمَدِينَةِ، فَكَانَ يَتَنَاوَبُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عِنْدَ
صَلاَةِ الْعِشَاءِ كُلَّ لَيْلَةٍ نَفَرٌ مِنْهُمْ، فَوَافَقْنَا
النَّبِيَّ ـ عليه السلام ـ أَنَا وَأَصْحَابِي وَلَهُ بَعْضُ الشُّغْلِ
فِي بَعْضِ أَمْرِهِ فَأَعْتَمَ بِالصَّلاَةِ حَتَّى ابْهَارَّ اللَّيْلُ،
ثُمَّ خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّى بِهِمْ، فَلَمَّا
قَضَى صَلاَتَهُ قَالَ لِمَنْ حَضَرَهُ " عَلَى رِسْلِكُمْ، أَبْشِرُوا
إِنَّ مِنْ نِعْمَةِ اللَّهِ عَلَيْكُمْ أَنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنَ
النَّاسِ يُصَلِّي هَذِهِ السَّاعَةَ غَيْرُكُمْ ". أَوْ قَالَ " مَا
صَلَّى هَذِهِ السَّاعَةَ أَحَدٌ غَيْرُكُمْ ". لاَ يَدْرِي أَىَّ
الْكَلِمَتَيْنِ قَالَ. قَالَ أَبُو مُوسَى فَرَجَعْنَا فَفَرِحْنَا
بِمَا سَمِعْنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
Narrated By Abu Musa : My companions, who came with me in the boat and I
landed at a place called Baqi Buthan. The Prophet was in Medina at that
time. One of us used to go to the Prophet by turns every night at the
time of the Isha prayer. Once I along with my companions went to the
Prophet and he was busy in some of his affairs, so the 'Isha prayer was
delayed to the middle of the night He then came out and led the people
(in prayer). After finishing from the prayer, he addressed the people
present there saying, "Be patient! Don't go away. Have the glad tiding.
It is from the blessing of Allah upon you that none amongst mankind has
prayed at this time save you." Or said, "None except you has prayed at
this time." Abu Muisa added, 'So we returned happily after what we heard
from Allah's Apostle."
ہم سے
محمد بن علاء نے بیان کیا کہا ہم سے ابو اسامہ حماد بن اسامہ نے انہوں نے
برید بن عبداللہ سےانہوں نے ابو بردہ عامر سے انہوں نے ابو موسٰ اشعریؓ
صحابی سے انہوں نے کہا میں اور میرے ساتھی جو کشتی میں آئے تھے بطحان کے
میدان میں اترے ہوئے تھے اور نبیﷺ (خاص شہر) مدینہ میں تو باری باری نبیﷺ
کے پاس عشاء کی نماز کے وقت ان میں سے چند آدمی آتے رہتے ہر رات کو آتے
ایک رات ایسا ہوا کہ میں اپنے ساتھیوں سمیت نبیﷺ کے پاس آیا اتفاق سے آپ
اس رات کسی کام میں مصروف تھے تو آپ نے (عشاء کی) نماز میں دیر کی یہاں تک
کہ آدھی رات گزر گئی اس کے بعد آپ برآمد ہوئے اور لوگوں کے ساتھ نماز
پڑھی جب نماز پڑھ چکے تو حاضرین سے فرمایا ذرا ٹھہرے رہو خوش ہو جاؤ یہ
اللہ کا تم پر احسان ہے اس وقت (ساری دنیا میں) تمہارے سوا اور کوئی لوگ
نماز نیں پڑھتے یا یوں فرمایا کہ اس وقت تمہارے سوا کوئی ایسا نہیں جس نے
نماز پڑھی ہو ، ابو موسٰی نے کہا نہیں معلوم ان دونوں جملوں میں سے کون سا
جملہ آپ نے فرمایا ابو موسٰی نے کہا یہ بات رسول اللہﷺ سے ہم سن کر خوشی
خوشی لوٹ آئے ۔
23. What is disliked about sleeping before the Isha prayer.
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ
الثَّقَفِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي
الْمِنْهَالِ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه
وسلم كَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَ الْعِشَاءِ وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا
Narrated By Abu Barza : Allah's Apostle disliked to sleep before the 'Isha prayer and to talk after it.
ہم سے محمد بن سلام بیکندی نے
بیان کیا کہا ہم سے عبدالوہاب ابن عبد المجید ثقفی نے کہا ہم سے خالد بن
مہران حذا نے انہوں نے عبدالمنہال سیار بن سلامہ سے انہوں نے ابو برزہ نظلہ
اسلمی صحابیؓ سے کہ رسول اللہﷺ عشاء کی نماز سے پہلے سو جانا برا جانتے
تھے اسی طرح عشاء کی نماز کے بعد باتیں کرنا ۔
24. Sleeping before the Isha prayer if (one is) overwhelmed by it (sleep).
حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ،
عَنْ سُلَيْمَانَ، قَالَ صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ أَخْبَرَنِي ابْنُ
شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ أَعْتَمَ رَسُولُ
اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْعِشَاءِ حَتَّى نَادَاهُ عُمَرُ
الصَّلاَةَ، نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ. فَخَرَجَ فَقَالَ " مَا
يَنْتَظِرُهَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ غَيْرُكُمْ ". قَالَ وَلاَ
يُصَلَّى يَوْمَئِذٍ إِلاَّ بِالْمَدِينَةِ، وَكَانُوا يُصَلُّونَ فِيمَا
بَيْنَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ الأَوَّلِ
Narrated By Ibn Shihab from 'Urwa : 'Aisha said, "Once Allah's Apostle
delayed the 'Isha prayer till 'Umar reminded him by saying, "The
prayer!" The women and children have slept. Then the Prophet came out
and said, 'None amongst the dwellers of the earth has been waiting for
it (the prayer) except you." Urwa said, "Nowhere except in Medina the
prayer used to be offered (in those days)." He further said, "The
Prophet used to offer the 'Isha prayer in the period between the
disappearance of the twilight and the end of the first third of the
night."
ہم سے ایوب بن سلیمان قرشی نے
بیان کیا کہا مجھ سے ابو بکر بن عبد الحمید بن عبداللہ نے انہوں نے سلیمان
قرشی سے انہوں نے صالح بن کیسان سے انہوں نے کہا مجھ کو ابن شہاب نے خبر دی
انہوں نے عروہ سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے
عشاء کی نماز میں دیر کی یہاں تک کہ حضرت عمرؓ نے آپ کو پکارا نماز کے لیے
تشریف لائے عورتیں اور بچے تو سو گئے اس وقت آپ برآمد ہوئے اور فرمایا
ساری زمین میں تمہارے سوا اور کوئی لوگ اس نماز کی انتظار میں نہیں ہیں
حضرت عائشہؓ نے کہا ان دنوں مدینہ کے سوا اور کہیں (ساری دنیا میں) نماز ہی
نہیں ہوتی تھی اور آپﷺ اور آپﷺ کے صحابہ عشاء کی نماز شفق ڈوبنے سے لے
کر پہلی تہائی رات گزرنے تک پڑھا کرتے تھے ۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ
أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، قَالَ حَدَّثَنَا
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
شُغِلَ عَنْهَا لَيْلَةً، فَأَخَّرَهَا حَتَّى رَقَدْنَا فِي الْمَسْجِدِ،
ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا ثُمَّ رَقَدْنَا ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا، ثُمَّ خَرَجَ
عَلَيْنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ " لَيْسَ أَحَدٌ
مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ يَنْتَظِرُ الصَّلاَةَ غَيْرُكُمْ ". وَكَانَ
ابْنُ عُمَرَ لاَ يُبَالِي أَقَدَّمَهَا أَمْ أَخَّرَهَا إِذَا كَانَ لاَ
يَخْشَى أَنْ يَغْلِبَهُ النَّوْمُ عَنْ وَقْتِهَا، وَكَانَ يَرْقُدُ
قَبْلَهَا
Narrated By Ibn Juraij
from Nafi : 'Abdullah bin 'Umar said, "Once Allah's Apostle was busy (at
the time of the 'Isha), so the prayer was delayed so much so that we
slept and woke up and slept and woke up again. The Prophet came out and
said, 'None amongst the dwellers of the earth but you have been waiting
for the prayer." Ibn 'Umar did not find any harm in praying it earlier
or in delaying it unless he was afraid that sleep might overwhelm him
and he might miss the prayer, and sometimes he used to sleep before the
'Isha prayer.
ہم سے محمود بن
غیلان نے بیان کیا کہا ہم سے عبدالرزاق بن ہمام نے کہا مجھ سے عبدالملک بن
جریج نے کہا مجھ کو نافع نے خبر دی کہا ہم سے عبداللہ بن عمرؓ نے بیان کیا
کہ رسول اللہﷺ کو ایک رات کچھ کام ہو گیا آپ نے عشاء کی نماز میں دیر کی
یہاں تک کہ ہم لوگ مسجد میں سو گئے پھر آنکھ کھلی پھر سو گئے پھر جاگے اس
کے بعد نبیﷺ (حجرے سے) برآمد ہوئے اور فرمایا (اس وقت )سوائے تمہارے ساری
دنیا میں کوئی نماز کا منتظر نہیں اور عبداللہ ابن عمرؓ کچھ پروا نہیں کرتے
تھے عشاء کی نماز جلدی پڑھیں یا دیر میں، جب ان کو یہ ڈر نہ ہوتا کہ سو
جانے سے وقت جاتا رہے گا اور کبھی وہ عشاء کی نماز پڑھنے سے پہلے بھی سو
جاتے ابن جریج نے کہا میں نے یہ حدیث جو نافع سے سنی تھی، عطا بن ابی رباح
سے بیان کی انہوں نے کہا مین نے ابن عباسؓ سے سنا وہ کہتے تھے رسول اللہﷺ
نے ایک رات عشاء کی نماز میں دیر کی یہاں تک کہ لوگ سو گئے اور جاگے اور
پھر سو گئے اور جاگے آخر حضرت عمرؓ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے الصلٰوٰۃ (نماز
کے لیے آپ کو پکارا) عطاء نے کہا ابن عباسؓ نے کہا پھر نبیﷺ (حجرے سے)
برآمد ہوئے گویا میں آپکو اس وقت دیکھ رہا ہوں آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا
تھا آپ ایک ہاتھ اپنے سر پر رکھے تھے آپ نے فرمایا اگر میری امت پر شاق
نہ ہوتا تو میں یہی حکم دیتا کہ عشاء کی نماز اس وقت پڑھا کریں۔
قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ قُلْتُ لِعَطَاءٍ وَقَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ،
يَقُولُ أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةً
بِالْعِشَاءِ حَتَّى رَقَدَ النَّاسُ وَاسْتَيْقَظُوا، وَرَقَدُوا
وَاسْتَيْقَظُوا، فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ الصَّلاَةَ.
قَالَ عَطَاءٌ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَخَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله
عليه وسلم كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ الآنَ، يَقْطُرُ رَأْسُهُ مَاءً،
وَاضِعًا يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ فَقَالَ " لَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى
أُمَّتِي لأَمَرْتُهُمْ أَنْ يُصَلُّوهَا هَكَذَا ". فَاسْتَثْبَتُّ
عَطَاءً كَيْفَ وَضَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى رَأْسِهِ
يَدَهُ كَمَا أَنْبَأَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَبَدَّدَ لِي عَطَاءٌ بَيْنَ
أَصَابِعِهِ شَيْئًا مِنْ تَبْدِيدٍ، ثُمَّ وَضَعَ أَطْرَافَ أَصَابِعِهِ
عَلَى قَرْنِ الرَّأْسِ ثُمَّ ضَمَّهَا، يُمِرُّهَا كَذَلِكَ عَلَى
الرَّأْسِ حَتَّى مَسَّتْ إِبْهَامُهُ طَرَفَ الأُذُنِ مِمَّا يَلِي
الْوَجْهَ عَلَى الصُّدْغِ، وَنَاحِيَةِ اللِّحْيَةِ، لاَ يُقَصِّرُ وَلاَ
يَبْطُشُ إِلاَّ كَذَلِكَ وَقَالَ " لَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي
لأَمَرْتُهُمْ أَنْ يُصَلُّوا هَكَذَا "
Ibn Juraij said, "I said to 'Ata', 'I heard Ibn 'Abbas saying: Once
Allah's Apostle delayed the 'Isha prayer to such an extent that the
people slept and got up and slept again and got up again. Then 'Umar bin
Al-Khattab I, stood up and reminded the Prophet I of the prayer.' 'Ata'
said, 'Ibn 'Abbas said: The Prophet came out as if I was looking at him
at this time, and water was trickling from his head and he was putting
his hand on his head and then said, 'Hadn't I thought it hard for my
followers, I would have ordered them to pray ('Isha prayer) at this
time.' I asked 'Ata' for further information, how the Prophet had kept
his hand on his head as he was told by Ibn 'Abbas. 'Ata' separated his
fingers slightly and put their tips on the side of the head, brought the
fingers downwards approximating them till the thumb touched the lobe of
the ear at the side of the temple and the beard on the face. He neither
slowed nor hurried in this action but he acted like that. The Prophet
said: "Hadn't I thought it hard for my followers I would have ordered
them to pray at this time."
ابن جریج نے کہا میں نے عطاءسے
اور زیادہ تحقیق کی میں نے یہ پوچھا بھلا نبیﷺ نے اپنا ہاتھ کس طرح سر پر
رکھا تھا ابن عباسؓ نے کیسے بتلایاتو عطا نے اپنی انگلیاں ذرا کشادہ کیں
پھر ان کے کنارے سر کےایک کونے پر رکھے اور انگلیاں ملا لیں ان کو اسی طرح
سر پر پھیرتے ہوئے لائے یہاں تک کہ آپ کا انگوٹھا کان کے اس کنارے سے لگ
گیا جومنہ سے نزدیک ہے کنپٹی پر داڑھی کے کونے پر ،نہ آپ نے دیر کی نہ
جلدی پس جیسے میں نے بتلایا ویسا کیا اور آپ نے فرمایا اگر اگر میری امت
پر شاق نہ ہوتا تو میں ان کو (یہ نماز) اسی وقت پڑھنے کا حکم دیتا ۔
25. Time of the Isha prayer is up to the middle of the night.
And Abu Barza said that the Prophet (s.a.w) used to prefer to pray Isha late.
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ الْمُحَارِبِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا
زَائِدَةُ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ أَخَّرَ
النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم صَلاَةَ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ،
ثُمَّ صَلَّى ثُمَّ قَالَ " قَدْ صَلَّى النَّاسُ وَنَامُوا، أَمَا
إِنَّكُمْ فِي صَلاَةٍ مَا انْتَظَرْتُمُوهَا ". وَزَادَ ابْنُ أَبِي
مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ سَمِعَ
أَنَسًا كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ لَيْلَتَئِذٍ
Narrated By Anas : The Prophet delayed the 'Isha prayer till midnight
and then he offered the prayer and said, "The people prayed and slept
but you have been in prayer as long as you have been waiting for it (the
prayer)." Anas added: As if I am looking now at the glitter of the ring
of the Prophet on that night.
ہم سے عبدالرحیم بن عبدالرحمٰن
محاربی نے بیان کیا کہا ہم سے زائدہ بن قدامہ نے انہوں نے حمید طویل سے
انہوں نے انسؓ سے انہوں نے کہا نبیﷺ نے عشاء کی نماز میں آدھی رات تک دیر
کی پھر پڑھی بعد اس کے فرمایا لوگ تو یہ نماز پڑھ چکے اور سو رہے اور تم کو
جب تک نماز کے انتظار میں رہے نماز کا ثواب ملتا رہا ، سعید بن ابی مریم
نے اتنا اور بڑھایا کہ ہم کو یحیٰی بن ایوب نے خبر دی انہوں نے کہا مجھ سے
حمید طویل نے بیان کیا انہوں نے انس سے سنا انہوں نے کہا گویا میں آپ کی
انگوٹھی کی چمک اس رات دیکھ رہا ہوں ۔
26. Superiority of the Fajr prayer.
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ،
حَدَّثَنَا قَيْسٌ، قَالَ لِي جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ كُنَّا عِنْدَ
النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِذْ نَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ لَيْلَةَ
الْبَدْرِ فَقَالَ " أَمَا إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا
تَرَوْنَ هَذَا، لاَ تُضَامُّونَ ـ أَوْ لاَ تُضَاهُونَ ـ فِي رُؤْيَتِهِ،
فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لاَ تُغْلَبُوا عَلَى صَلاَةٍ قَبْلَ طُلُوعِ
الشَّمْسِ، وَقَبْلَ غُرُوبِهَا فَافْعَلُوا ". ثُمَّ قَالَ "
فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا
"
Narrated By Jarir bin
'Abdullah : We were with the Prophet on a full moon night. He looked at
the moon and said, "You will certainly see your Lord as you see this
moon, and there will be no trouble in seeing Him. So if you can avoid
missing (through sleep, business, etc.) a prayer before the rising of
the sun (Fajr) and before its setting ('Asr) you must do so. He (the
Prophet) then recited the following verse:
"And celebrate the praises Of Your Lord before The rising of the sun And before (its) setting."
"And celebrate the praises Of Your Lord before The rising of the sun And before (its) setting."
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا کہا ہم سے یحیٰی بن سعید قطان نے انہوں
نے اسمٰعیل بن ابی خالد سے انہوں نے کہاہم سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا
انہوں نے کہا مجھ سے جریر بن عبداللہ بجلیؓ (صحابی) نے کہا ہم نبیﷺ کے
پاس( بیٹھے) تھے اتنے میں آپ نے چودھویں رات کے چاند کو دیکھا تو فرمایا
سن رکھو بیشک (ایک دن) تم اپنے پروردگار کو ایسے دیکھو گے جیسے اس چاند کو
دیکھتے ہو اس کے دیکھنے میں تم کو کوئی اڑچن(زحمت)نہ ہو گی یا یوں فرمایا
کوئی شبہ نہ ہو گا پھر اگر تم سے یہ ہو سکے کہ سورج نکلنے سے پہلے جو نماز
ہے (یعنی صبح کی) اور سورج ڈوبنے سے پہلے جو نماز ہے (یعنی عصر کی) اس کے
ادا کرنے سے عاجز نہ رپو تو کرو پھر آپ نے (سورت طٰہٰ کی) یہ آیت پڑھی
(اے پیغمبرؐ) اپنے مالک کی تعریف کے ساتھ پاکی بیان کر سورج نکلنے اور سورج
ڈوبنے سے پہلے امام بخاریؒ نے کہا ابن شہاب نے اسمٰعیل سے انہوں نے قیس سے
انہوں نے جریر سے اس حدیث کو روایت کیا اس میں اتنا زیادہ ہے آپ نے
فرمایا تم اپنے پروردگار کو کھلم کھلا دیکھو گے ۔
حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنِي
أَبُو جَمْرَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ،
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ صَلَّى
الْبَرْدَيْنِ دَخَلَ الْجَنَّةَ ". وَقَالَ ابْنُ رَجَاءٍ حَدَّثَنَا
هَمَّامٌ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ
قَيْسٍ أَخْبَرَهُ بِهَذَا. حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، عَنْ حَبَّانَ،
حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ
عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم
مِثْلَهُ
Narrated By Abu Bakr bin
Abi Musa : My father said, "Allah's Apostle said, 'Whoever prays the
two cool prayers ('Asr and Fajr) will go to Paradise.' "
ہم سے ہدبہ بن خالد نے بیان کیا
کہا ہم سے ہمام بن یحیٰی نے کہا مجھ سے ابو جمرہ نصر بن عمران نےانہوں نے
ابو بکر بن ابی موسٰی سے انہوں نے اپنے باپ ابو موسٰی اشعریؓ (صحابی) سے کہ
رسول اللہﷺنے فرمایا جو کوئی دو ٹھنڈی نمازیں پڑھا کرے وہ بہشت میں جائے
گا اور عبداللہ بن رجاء نے کہا ہم سے ہمام نے بیان کیاانہوں نے ابو جمرہ سے
ان کو ابو بکر بن عبداللہ ابن قیس نے خبر دی پھر یہی حدیث بیان کی ۔ہم سے
اسحٰق بن منصور نے بیان کیا کہا ہم سے حبان بن ہلال نے کہا ہم سے ہمام بن
یحییٰ نے کہا ہم سے ابو حمزہ نصر بن عمران نے انہوں نے ابو بکر بن عبداللہ
بن قیس سے انہوں نے اپنے باپ ابو موسیٰ اشعریؓ سے انہوں نے نبیﷺ سے یہی
حدیث۔
27. Time of the Fajr prayer.
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ
قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، حَدَّثَهُ أَنَّهُمْ،
تَسَحَّرُوا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَامُوا إِلَى
الصَّلاَةِ. قُلْتُ كَمْ بَيْنَهُمَا قَالَ قَدْرُ خَمْسِينَ أَوْ
سِتِّينَ ـ يَعْنِي آيَةً ـ ح.
Narrated By Anas : Zaid bin Thabit said, "We took the "Suhur" (the meal
taken before dawn while fasting is observed) with the Prophet and then
stood up for the (morning) prayer." I asked him how long the interval
between the two (Suhur and prayer) was. He replied, 'The interval
between the two was just sufficient to recite fifty to Sixth 'Ayat."
ہم سے عمرو بن عاصم بصری نے
بیان کیا کہا ہم سے ہمام بن یحیٰی نے انہوں نے قتادہ بن دعامہ سے انہوں نے
انسؓ سے ان سے زید بن ثابت نے بیان کیا انہوں نے نبیﷺ کے ساتھ سحر کا کھانا
کھایا پھر صبح کی نماز کے لئے کھڑے ہوئے ،انسؓ نے کہا میں نے زید سے کہا
سحری اور نماز میں کتنا فاصلہ تھا انہوں نے کہا جتنی دیر میں پچاس یا ساٹھ
آیتیں پڑھیں ۔
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ صَبَّاحٍ، سَمِعَ رَوْحًا، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ،
عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله
عليه وسلم وَزَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ تَسَحَّرَا، فَلَمَّا فَرَغَا مِنْ
سَحُورِهِمَا قَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الصَّلاَةِ
فَصَلَّى. قُلْنَا لأَنَسٍ كَمْ كَانَ بَيْنَ فَرَاغِهِمَا مِنْ
سَحُورِهِمَا وَدُخُولِهِمَا فِي الصَّلاَةِ قَالَ قَدْرُ مَا يَقْرَأُ
الرَّجُلُ خَمْسِينَ آيَةً
Narrated By Qatada : Anas bin Malik said, "The Prophet and Zaid bin
Thabit took the 'Suhur' together and after finishing the meal, the
Prophet stood up and prayed (Fajr prayer)." I asked Anas, "How long was
the interval between finishing their 'Suhur' and starting the prayer?"
He replied, "The interval between the two was just sufficient to recite
fifty 'Ayat." (Verses of the Qur'an)."
ہم سے حسن بن صباح نے بیان کیا
انہوں نے روح بن عبادہ سے سنا انہوں نے کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے
بیان کیا انہوں نے قتادہ سے انہوں نے انس بن مالکؓ (صحابی)سے کہ نبیﷺاور
زید بن ثابت دونوں نے سحری کھائی جب سحری سے فارغ ہوئے تو نبیﷺ (صبح کی)
نماز کے لئے کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی ، قتادہ نے کہا ہم نے انسؓ سے پوچھا
سحری سے جب فارغ ہوئے تو نماز اس کی کتنی دیر کے بعد شروع کی انہوں نے کہا
اتنی دیر کے بعد جتنی دیر میں آدمی پچاس آیتیں پڑھے ۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ أَخِيهِ، عَنْ
سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ،
يَقُولُ كُنْتُ أَتَسَحَّرُ فِي أَهْلِي ثُمَّ يَكُونُ سُرْعَةٌ بِي أَنْ
أُدْرِكَ صَلاَةَ الْفَجْرِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
Narrated By Sahl bin Sa'd : I used to take the "Suhur" meal with my
family and hasten so as to catch the Fajr (morning prayer) with Allah's
Apostle.
ہم سےاسمٰعیل بن ابی اویس نے
بیان کیا انہوں نے اپنے بھائی عبد الحمید بن ابی اویس سے انہوں نے سلیمان
بن بلال سے انہوں نےابو حازم سلمہ بن دینار سے انہوں نے سہل بن
سعدؓ(صحابی) سے سنا وہ کہتے تھے میں اپنےگھر میں سحری کھاتا پھر مجھے یہ
جلدی رہتی کہ صبح کی نماز رسول اللہﷺکے پیچھے پڑھوں ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ
عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ
الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ، كُنَّ نِسَاءُ
الْمُؤْمِنَاتِ يَشْهَدْنَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
صَلاَةَ الْفَجْرِ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ، ثُمَّ يَنْقَلِبْنَ
إِلَى بُيُوتِهِنَّ حِينَ يَقْضِينَ الصَّلاَةَ، لاَ يَعْرِفُهُنَّ أَحَدٌ
مِنَ الْغَلَسِ
Narrated By 'Aisha
: The believing women covered with their veiling sheets used to attend
the Fajr prayer with Allah's Apostle, and after finishing the prayer
they would return to their home and nobody could recognize them because
of darkness.
ہم سے یحیٰی بن بکیر نے بیان
کیا کہا ہم سے لیث بن سعد نے انہوں نے عقیل بن خالد سے انہوں نے ابن شہاب
سے انہوں نے کہا مجھ کو عروہ بن زبیر نے خبر دی ان سے حضرت عائشہؓ نے بیان
کیا رسول اللہﷺ کے ساتھ صبح کی نماز میں مسلمان عورتیں اپنی چادر یں
لپیٹے ہوئے آتیں پھر نماز پڑھ کر اپنے گھروں کو لوٹ جاتیں اندھیرے کی وجہ
سے کوئی ان کو نہ پہچان سکتا ۔
28. Whoever got (or was able to offer) one Raka of the Fajr prayer (in time).
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ
بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، وَعَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ،
وَعَنِ الأَعْرَجِ، يُحَدِّثُونَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ
اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الصُّبْحِ
رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ الصُّبْحَ،
وَمَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ
فَقَدْ أَدْرَكَ الْعَصْرَ "
Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "Whoever could get one
Rak'a (of the Fajr prayer) before sunrise, he has got the (morning)
prayer and whoever could get one Rak'a of the 'Asr prayer before sunset,
he has got the ('Asr) prayer."
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی
نے بیان کیا انہوں نے امام مالکؒ سے انہوں نے زید بن اسلم سے انہوں نے عطاء
بن یسار سے اور بسر بن سعید اور عبد الرحمٰن بن ہرمز اعرج سے ان تینوں نے
ابو ہریرہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جو کوئی سورج نکلنے سے
پہلے صبح کی نماز کی ایک رکعت پا لے اس نے صبح کی نماز پا لی اور جو کوئی
سورج ڈوبنے سے پہلے عصر کی ایک رکعت پا لے اس نے عصر کی نماز پا لی ۔
29. Whoever got (or was able to offer) one Raka of a prayer (in time).
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ
ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي
هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ
أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصَّلاَةِ فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلاَةَ "
Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "Whoever could get one
Rak'a of a prayer, (in its proper time) he has got the prayer."
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے
بیان کیا کہا ہم سے امام مالک نے انہوں نے ابن شہاب سے انہوں نے ابو سلمہ
بن عبدالرحمٰن بن عوفؓ سے انہوں نے ابو ہریرہؓ سے ، رسول اللہﷺ نے فرمایا
جس نے نماز کی ایک رکعت پا لی اس نے وہ نماز پا لی ۔
30. What is said regarding the offering of As-Salat between the Fajr prayer and sunrise.
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ
قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ شَهِدَ
عِنْدِي رِجَالٌ مَرْضِيُّونَ وَأَرْضَاهُمْ عِنْدِي عُمَرُ أَنَّ
النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الصَّلاَةِ بَعْدَ الصُّبْحِ
حَتَّى تَشْرُقَ الشَّمْسُ، وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، سَمِعْتُ أَبَا الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ حَدَّثَنِي نَاسٌ، بِهَذَا
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، سَمِعْتُ أَبَا الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ حَدَّثَنِي نَاسٌ، بِهَذَا
Narrated By 'Umar : "The Prophet forbade praying after the Fajr prayer
till the sun rises and after the 'Asr prayer till the sun sets."Narrated
By Ibn 'Abbas : Some people told me the same narration.
ہم سے حفص بن عمرنے بیان کیا
کہا ہم سے ہشام دستوائی نے انہوں نے قتادہ بن دعامہ سے انہوں نے ابو
العالیہ رفیع سے انہوں نے عبداللہ بن عباسؓ سے انہوں نے کہا مجھ سے کئی
معتبر لوگوں نے بیان کیا ان سب میں عمرؓ زیادہ معتبر تھے کہ نبیﷺ نے صبح کی
نماز کے بعد سورج روشن ہوئے تک نماز پڑھنے سے منع فرمایااور عصر کی نماز
کے بعد سورج ڈوبنے تک ۔
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا کہا ہم سے یحیٰی بن سعید قطان نے انہوں نے شعبہ سے انہوں نے قتادہ سے انہوں نے کہا میں نے ابو العالیہ سے سنا انہوں نے ابن عباسؓ سے انہوں نے کہا کئی آدمیوں نے مجھ سے یہ بیان کیا ۔
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا کہا ہم سے یحیٰی بن سعید قطان نے انہوں نے شعبہ سے انہوں نے قتادہ سے انہوں نے کہا میں نے ابو العالیہ سے سنا انہوں نے ابن عباسؓ سے انہوں نے کہا کئی آدمیوں نے مجھ سے یہ بیان کیا ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ
هِشَامٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ، أَخْبَرَنِي ابْنُ عُمَرَ، قَالَ
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَحَرَّوْا
بِصَلاَتِكُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلاَ غُرُوبَهَا "
Narrated By Hisham's father : Ibn 'Umar said, "Allah's Apostle said,
'Do not pray at the time of sunrise and at the time of sunset.'
ہم سے مسدد نے بیان کیا کہا ہم سے یحیٰی بن سعید قطان نے انہوں نے ہشام بن
عروہ سے کہامجھ کو میرے باپ عروہ نے خبر دی کہا مجھ کو عبداللہ بن عمرؓ نے
کہا رسول اللہﷺنے فرمایا قصد کر کے سورج نکلتے وقت اور سورج ڈوبتے وقت
نماز نہ پڑھو۔
وَقَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله
عليه وسلم " إِذَا طَلَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَأَخِّرُوا الصَّلاَةَ
حَتَّى تَرْتَفِعَ، وَإِذَا غَابَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَأَخِّرُوا
الصَّلاَةَ حَتَّى تَغِيبَ ". تَابَعَهُ عَبْدَةُ
" Ibn 'Umar said, "Allah's Apostle said, 'If the edge of the sun
appears (above the horizon) delay the prayer till it becomes high, and
if the edge of the sun disappears, delay the prayer till it sets
(disappears completely).' "
اور کہاکہ مجھ سے عبداللہ بن
عمرؓ نے بیان کیا رسول اللہﷺ نے فرمایا جب سورج کا اوپر کا کنارہ نکلے تو
ٹھہرو نماز نہ پڑھو یہاں تک کہ سورج بلند ہو جائےاور جب سورج کا اوپر کا
کنارہ ڈوب جائے تب بھی ٹھہرے رہو نماز نہ پڑھو یہاں تک کہ سب ڈوب جائے
یحیٰی بن سعید قطان کے ساتھ اس حدیث کو عبدہ بن سلیمان نے بھی روایت کیا ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ
عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ
بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه
وسلم نَهَى عَنْ بَيْعَتَيْنِ وَعَنْ لِبْسَتَيْنِ وَعَنْ صَلاَتَيْنِ
نَهَى عَنِ الصَّلاَةِ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ،
وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، وَعَنِ اشْتِمَالِ
الصَّمَّاءِ وَعَنْ الاِحْتِبَاءِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ يُفْضِي بِفَرْجِهِ
إِلَى السَّمَاءِ، وَعَنِ الْمُنَابَذَةِ وَالْمُلاَمَسَةِ
Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle forbade two kinds of sales,
two kinds of dresses, and two prayers. He forbade offering prayers after
the Fajr prayer till the rising of the sun and after the 'Asr prayer
till its setting. He also forbade "Ishtimal-Assama" and "al-Ihtiba" in
one garment in such a way that one's private parts are exposed towards
the sky. He also forbade the sales called "Munabadha" and "Mulamasa."
ہم سے عبید بن اسمٰعیل نے بیان کیا انہوں نے ابو اسمہ سے انہوں نے
عبیداللہ بن عمرؓ سے انہوں نے خبیب بن عبدالرحمٰن سے انہوں نے حفص بن عاصم
سے انہوں نے ابو ہریرہؓ سے کہ رسول اللہﷺ نے دو طرح کے بیچنے اور دو طرح کے
لباس اور دو وقتوں کی نماز سے منع فرمایا صبح کی نماز کے بعد نماز پڑھنے
سے منع فرمایا جب تک کہ سورج نہ نکلے اور عصر کے بعد جب تک سورج ڈوب نہ
جائے اور اشتمال صماء سے اور کپڑے میں گوٹ مار کر بیٹھنے سے اسطرح کہ(پاؤں
پیٹ سے الگ ہوں اور) شرم گاہ آسمان کی طرف کھلی رہے اور بیع منابذہ اور
بیع ملامسہ سے۔
31. One should not try to offer As-Salat just before sunset.
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ
نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
قَالَ " لاَ يَتَحَرَّى أَحَدُكُمْ فَيُصَلِّي عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ
وَلاَ عِنْدَ غُرُوبِهَا "
Narrated By Ibn 'Umar : Allah's Apostle said, "None of you should try to pray at sunrise or sunset."
ہم سے عبداللہ بن تنیسی نے بیان
کیا کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی انہوں نے نافع سے انہوں نے عبداللہ بن
عمرؓ سے انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے فرمایا کوئی تم میں سے قصد کر کے سورج
نکلتے یا سورج ڈوبتے وقت نماز نہ پڑھے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا
إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ
أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ الْجُنْدَعِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا
سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه
وسلم يَقُولُ " لاَ صَلاَةَ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَرْتَفِعَ
الشَّمْسُ، وَلاَ صَلاَةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ "
Narrated By Abu Sa'id Al-Khudri : I heard Allah's Apostle saying,
"There is no prayer after the morning prayer till the sun rises, and
there is no prayer after the Asr prayer till the sun sets."
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے
بیان کیا کہا ہم سے ابراہیم ابن سعد نے انہوں نے صالح بن کیسان سے انہوں نے
ابن شہاب سے انہوں نے کہا مجھ سے عطاء بن یزید جندعی لیثی نے بیان کیا
انہوں نے ابو سعید خدری سے سنا وہ کہتے تھے میں نےرسول اللہﷺ سے سنا آپ
فرماتے تھے صبح کی نماز کے بعد سورج بلند ہونے تک نماز نہ پڑھی جائے اسی
طرح عصر کی نماز کے بعد سورج ڈوبنے تک ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، قَالَ
حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، قَالَ سَمِعْتُ حُمْرَانَ
بْنَ أَبَانَ، يُحَدِّثُ عَنْ مُعَاوِيَةَ، قَالَ إِنَّكُمْ لَتُصَلُّونَ
صَلاَةً، لَقَدْ صَحِبْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَمَا
رَأَيْنَاهُ يُصَلِّيهَا، وَلَقَدْ نَهَى عَنْهُمَا، يَعْنِي
الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ
Narrated By Muawiya : You offer a prayer which I did not see being
offered by Allah's Apostle when we were in his company and he certainly
had forbidden it (i.e. two Rakat after the 'Asr prayer).
ہم سے محمد بن ابان نے بیان کیا
کہا ہم سے غندر محمد بن جعفر نے کہا ہم سے شعبہ نے انہوں نے ابو التیاح
یزید ابن حمید سے انہوں نے کہا میں نے حمران بن ابان سے سنا وہ معاویہ بن
ابی سفیان سے نقل کرتے تھے انہوں نے کہا تم ایسی نماز پڑھتے ہو کہ ہم رسول
اللہﷺ کی صحبت میں رہے ہم نے آپ کو یہ نماز پڑھتے نہیں دیکھا بلکہ آپ نے
اس سے منع کیا یعنی عصر کے بعد دو رکعتیں( نفل) پڑھنے سے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ
عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ خُبَيْبٍ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي
هُرَيْرَةَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ
صَلاَتَيْنِ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَبَعْدَ
الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ
Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle forbade the offering of two prayers:
1. after the morning prayer till the sunrises.
2. after the 'Asr prayer till the sun sets.
1. after the morning prayer till the sunrises.
2. after the 'Asr prayer till the sun sets.
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا
کہا ہم کو عبدہ نے خبر دی انہوں نے عبیداللہ سے انہوں نے خبیب سے انہوں نے
حفص بن عاصم سے انہوں نے ابو ہریرہؓ سے کہ رسول اللہﷺ نے دو نمازوں سے منع
فرمایا ایک تو فجر کے بعد جب تک سورج نہ نکلے اور دوسرے عصر کے بعد جب تک
سورج ڈوب نہ جاٰئے ۔
32. Whoever did not dislike to offer optional prayers except after the compulsory prayers of Asr and Fajr only.
This is narrated by Umar, Ibn Umar, Abu Saeed and Abu Hurairah
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ
أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ أُصَلِّي كَمَا رَأَيْتُ
أَصْحَابِي يُصَلُّونَ، لاَ أَنْهَى أَحَدًا يُصَلِّي بِلَيْلٍ وَلاَ
نَهَارٍ مَا شَاءَ، غَيْرَ أَنْ لاَ تَحَرَّوْا طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلاَ
غُرُوبَهَا
Narrated By Ibn 'Umar :
I pray as I saw my companions praying. I do not forbid praying at any
time during the day or night except at sunset and sunrise.
ہم سے ابو النعمان محمد بن فضل
نے بیان کیا کہا ہم سے حماد بن زید نے انہوں نے ایوب سے انہوں نے نافع سے
انہوں نے عبداللہ بن عمرؓ سے انہوں نے کہا میں تو اسی طرح نماز پڑھتا ہوں
جیسے میں نے اپنے ساتھیوں (صحابہؓ) کو پڑھتے دیکھا میں کسی کو رات اور دن
(کسی وقت) میں نماز پڑھنے سے منع نہیں کرتا جب چاہے پڑھے فقط سورج نکلنے
اور ڈوبنے کا قصد کر کے اسوقت نہ پڑھے ۔
33. To offer the missed Salat and the like after the Asr prayer.
And
narrated by Umm Salma, the Prophet (s.a.w) offered two Raka after the
Asr prayer and said, "Some people of the tribe of Abdul Qais made me
busy and did not let me offer two Raka after the Zuhr prayer."
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ
أَيْمَنَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ، سَمِعَ عَائِشَةَ، قَالَتْ
وَالَّذِي ذَهَبَ بِهِ مَا تَرَكَهُمَا حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ، وَمَا
لَقِيَ اللَّهَ تَعَالَى حَتَّى ثَقُلَ عَنِ الصَّلاَةِ، وَكَانَ يُصَلِّي
كَثِيرًا مِنْ صَلاَتِهِ قَاعِدًا ـ تَعْنِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ
الْعَصْرِ ـ وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّيهِمَا، وَلاَ
يُصَلِّيهِمَا فِي الْمَسْجِدِ مَخَافَةَ أَنْ يُثَقِّلَ عَلَى أُمَّتِهِ،
وَكَانَ يُحِبُّ مَا يُخَفَّفُ عَنْهُمْ
Narrated By 'Aisha : By Allah, Who took away the Prophet. The Prophet
never missed them (two Rakat) after the 'Asr prayer till he met Allah
and he did not meet Allah till it became heavy for him to pray while
standing so he used to offer most of the prayers while sitting. (She
meant the two Rakat after Asr) He used to pray them in the house and
never prayed them in the mosque lest it might be hard for his followers
and he loved what was easy for them.
ہم سے ابو نعیم فضل بن دکین نے
بیان کیا کہا ہم سے عبدالواحد ابن ایمن نے کہامجھ سے میرے باپ ایمن نے
انہوں نے حضرت عائشہؓ سے سنا انہوں نے کہا اس خدا کی قسم جس نے آپﷺ کو
اٹھا لیا آپ نے خدا سے ملنے تک ان دو رکعتوں کو نہیں چھوڑا اور آپ خدا سے
نہیں ملے یہاں تک کہ نماز سے بوجھل ہو گئے اور آپ اپنی نماز اکثر بیٹھ کر
پڑھتے تھے دو رکعتوں سے مراد عصر کے بعد دو رکعتیں ہیں اور نبیﷺ ان کو
پڑھا کرتے لیکن مسجد میں نہیں پڑھتے اس ڈر سے کہ آپ کی امت پربار نہ ہو
اور آپ کو اپنی امت کا ہلکا رکھنا پسند تھا ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا
هِشَامٌ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَتْ، عَائِشَةُ ابْنَ أُخْتِي مَا
تَرَكَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم السَّجْدَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ
عِنْدِي قَطُّ
Narrated By
Hisham's father : 'Aisha (addressing me) said, "O son of my sister! The
Prophet never missed two prostrations (i.e. Rakat) after the 'Asr prayer
in my house."
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان
کیا کہا ہم سے یحیٰی قطان نے کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے انہوں نے کہا مجھ
سے میرے باپ عروہ نےبیان کیا حضرت عائشہؓ نے ان سے کہا میرے بھانجے ، نبیﷺ
نے عصر کے بعد یہ دو رکعتیں کبھی میرے پاس آن کر ناغہ نہیں کیں۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ
الْوَاحِدِ، قَالَ حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ
الرَّحْمَنِ بْنُ الأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ
رَكْعَتَانِ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَعُهُمَا
سِرًّا وَلاَ عَلاَنِيَةً رَكْعَتَانِ قَبْلَ صَلاَةِ الصُّبْحِ،
وَرَكْعَتَانِ بَعْدَ الْعَصْرِ
Narrated By 'Aisha : Allah's Apostle never missed two Rakat before the
Fajr prayer and after the 'Asr prayer openly and secretly.
ہم سے موسیٰ بن اسمعیل نے بیان
کیا کہا ہم سے عبدالواحد ابن زیاد نے کہا ہم سے ابو اسحق سلیمان شیبانی نے
انہوں نے کہا ہم سے عبدالرحمن بن اسود نے انہوں نے اپنے باپ اسود سے انہوں
نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے کہا دو رکعتیں صبح کی نماز سے پہلے یعنی صبح
کی سنتیں اور دو رکعتیں عصر کے بعد ان کو رسول اللہﷺ نے کبھی نہیں چھوڑا
نہ پوشیدہ نہ کھلے ہوئے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ
أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ رَأَيْتُ الأَسْوَدَ وَمَسْرُوقًا شَهِدَا عَلَى
عَائِشَةَ قَالَتْ مَا كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَأْتِينِي فِي
يَوْمٍ بَعْدَ الْعَصْرِ إِلاَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ
Narrated By 'Aisha : Whenever the Prophet come to me after the 'Asr prayer, he always prayed two Rakat.
ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان
کیا کہا ہم سے شعبہ نے انہوں نے ابو اسحٰق عمرو سبیعی سے انہوں نے کہا میں
نے اسود بن یزید اور مسروق بن اجدع کو دیکھا ان دونوں نے حضرت عائشہؓ کے اس
کہنے پر گواہی دی کہ نبیﷺ جب کبھی عصر کے بعد میرے گھر میں آتےتو دو
رکعتیں (سنت کی) پڑھتے ۔
34. To offer (the Asr prayers) earlier on a cloudy day.
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ
يَحْيَى ـ هُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ ـ عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، أَنَّ أَبَا
الْمَلِيحِ، حَدَّثَهُ قَالَ كُنَّا مَعَ بُرَيْدَةَ فِي يَوْمٍ ذِي غَيْمٍ
فَقَالَ بَكِّرُوا بِالصَّلاَةِ فَإِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم
قَالَ " مَنْ تَرَكَ صَلاَةَ الْعَصْرِ حَبِطَ عَمَلُهُ "
Narrated By Ibn Abu Malih : I was with Buraida on a cloudy day and he
said, "Offer the 'Asr prayer earlier as the Prophet said, 'Whoever
leaves the 'Asr prayer will have all his (good) deeds annulled."
ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا کہا ہم سے ہشام دستوائی نے انہوں نے
یحیٰی بن ابی کثیر سے انہوں نے ابو قلابہ عبداللہ ابن زید سے کہ ابو الملیح
عامر بن اسامہ ہذلی نے ان سے بیان کیا کہا ہم سے بریدہ بن حصیبؓ صحابی کے
ساتھ تھے اس دن ابر تھا انہوں نے کہا نماز سویرے پڑھ لو کیونکہ نبیﷺ نے
فرمایا جو کوئی عصر کی نماز چھوڑ دے اس کا عمل اکارت ہو گیا ۔
35. The Adhan for the Salat after its stated time is over.
حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ
فُضَيْلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي
قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سِرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه
وسلم لَيْلَةً فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ لَوْ عَرَّسْتَ بِنَا يَا رَسُولَ
اللَّهِ. قَالَ " أَخَافُ أَنْ تَنَامُوا عَنِ الصَّلاَةِ ". قَالَ
بِلاَلٌ أَنَا أُوقِظُكُمْ. فَاضْطَجَعُوا وَأَسْنَدَ بِلاَلٌ ظَهْرَهُ
إِلَى رَاحِلَتِهِ، فَغَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ فَنَامَ، فَاسْتَيْقَظَ
النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ طَلَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَقَالَ
" يَا بِلاَلُ أَيْنَ مَا قُلْتَ ". قَالَ مَا أُلْقِيَتْ عَلَىَّ
نَوْمَةٌ مِثْلُهَا قَطُّ. قَالَ " إِنَّ اللَّهَ قَبَضَ أَرْوَاحَكُمْ
حِينَ شَاءَ، وَرَدَّهَا عَلَيْكُمْ حِينَ شَاءَ، يَا بِلاَلُ قُمْ
فَأَذِّنْ بِالنَّاسِ بِالصَّلاَةِ ". فَتَوَضَّأَ فَلَمَّا
ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ وَابْيَاضَّتْ قَامَ فَصَلَّى
Narrated By 'Abdullah bin Abi Qatada : My father said, "One night we
were travelling with the Prophet and some people said, 'We wish that
Allah's Apostle would take a rest along with us during the last hours of
the night.' He said, 'I am afraid that you will sleep and miss the
(Fajr) prayer.' Bilal said, 'I will make you get up.' So all slept and
Bilal rested his back against his Rahila and he too was overwhelmed (by
sleep) and slept. The Prophet got up when the edge of the sun had risen
and said, 'O Bilal! What about your statement?' He replied, 'I have
never slept such a sleep.' The Prophet said, 'Allah captured your souls
when He wished, and released them when He wished. O Bilal! Get up and
pronounce the Adhan for the prayer.' The Prophet performed ablution and
when the sun came up and became bright, he stood up and prayed."
ہم سے عمران بن میسرہ نے بیان
کیا کہا ہم سے محمد بن فضیل نے کہا ہم سے حصین بن عبدالرحمٰن نے انہوں نے
عبداللہ بن ابی قتادہ سے انہوں نے اپنے باپ ابو قتادہ حارث بن ربعی سے
انہوں نے کہا ہم( خیبر سے لوٹ کر) نبیﷺ کے ساتھ سفر کر رہے تھے اتنے میں
بعضے لوگوں نے کہا کاش آپ رات کو اتر پڑیں یا رسول اللہﷺ آپ نے فرمایا
میں ڈرتا ہوں کہیں تمہاری آنکھ نہ لگ جائے اور نماز کے لیے نہ اٹھو بلالؓ
نے کہا میں تم کو جگا دوں گا پھر وہ لیٹ رہے اور بلالؓ نے اپنی پیٹھ اپنی
اونٹنی سے لگائی اور نیند کے غلبہ سے سو گئے پھر نبیﷺ جاگے اس وقت سورج کا
کنارہ نکل آیا تھا آپ نے فرمایا اے بلالؓ تو نے کیا کہا تھا (کہ میں جگا
دوں گا) بلالؓ نے کہا مجھے ایسی نیند کبھی نہیں آئی ،آپ نے فرمایا اللہ
تعالٰی نے جب چاہا تمہاری جانیں قبض کر لیں اور جب چاہا پھر تم کو دے دیں
،اے بلال اٹھ اور نماز کی اذان دے پھر بلالؓ نے اذان دی آپﷺ نے وضو کیا جب
سورج بلند ہوا اور سپید ہو گیا تو آپ کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی۔
36. Whoever let the people in Salat after its time was over.
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ
يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ
عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، جَاءَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ
الشَّمْسُ، فَجَعَلَ يَسُبُّ كُفَّارَ قُرَيْشٍ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ
مَا كِدْتُ أُصَلِّي الْعَصْرَ حَتَّى كَادَتِ الشَّمْسُ تَغْرُبُ. قَالَ
النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " وَاللَّهِ مَا صَلَّيْتُهَا ".
فَقُمْنَا إِلَى بُطْحَانَ، فَتَوَضَّأَ لِلصَّلاَةِ، وَتَوَضَّأْنَا لَهَا
فَصَلَّى الْعَصْرَ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ صَلَّى
بَعْدَهَا الْمَغْرِبَ
Narrated By
Jabir bin 'Abdullah : On the day of Al-Khandaq (the battle of trench.)
'Umar bin Al-Khattab came cursing the disbelievers of Quraish after the
sun had set and said, "O Allah's Apostle I could not offer the 'Asr
prayer till the sun had set." The Prophet said, "By Allah! I, too, have
not prayed." So we turned towards Buthan, and the Prophet performed
ablution and we too performed ablution and offered the 'Asr prayer after
the sun had set, and then he offered the Maghrib prayer.
ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان
کیا کہا ہم سے ہشام دستوائی نے انہوں نے یحیٰی بن ابی کثیر سے انہوں نے ابو
سلمہ ابن عبدالرحمٰن سے انہوں نے جابر بن عبداللہؓ سے کہ حضرت عمرؓ خندق
کے دن اس وقت آئے جب سورج ڈوب گیا (لڑائی میں مصروف تھے) اور قریش کے
کافروں کو برا کہنے لگے انہوں نے کہا یا رسول اللہﷺ میں عصر کی نماز اس وقت
تک نہ پڑھ سکاکہ سورج ڈوبنے ہی کو تھا نبیﷺ نے فرمایا (خیر تم نے اخیر وقت
پڑھ بھی لی لیکن) میں نے قسم خدا کی (ابھی تک) عصر نہیں پڑھی پھر ہم بطحان
کی طرف گئےاور آپ نے نماز کے لئے وضو کیا ہم نے بھی وضو کیا سورج ڈوب
جانے کے بعد آپ نے عصر کی نماز پڑھی اس کے بعد مغرب کی نماز پڑھی ۔
37. One who forgets a Salat should offer it when he remembers it and should not repeat anything except that particular prayer.
Ibrahim said, "If one missed unintentionally one prayer 20 years ago then he should offer only that Salat."
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالاَ
حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى
الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ نَسِيَ صَلاَةً فَلْيُصَلِّ إِذَا
ذَكَرَهَا، لاَ كَفَّارَةَ لَهَا إِلاَّ ذَلِكَ ". {وَأَقِمِ
الصَّلاَةَ لِذِكْرِي} قَالَ مُوسَى قَالَ هَمَّامٌ سَمِعْتُهُ يَقُولُ
بَعْدُ {وَأَقِمِ الصَّلاَةَ لِذِكْرِي} وَقَالَ حَبَّانُ حَدَّثَنَا
هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ، عَنِ النَّبِيِّ صلى
الله عليه وسلم نَحْوَهُ
Narrated
By Anas : The Prophet said, "If anyone forgets a prayer he should pray
that prayer when he remembers it. There is no expiation except to pray
the same." Then he recited: "Establish prayer for My (i.e. Allah's)
remembrance." (20.14).
ہم سے ابو نعیم فضل بن دکین
اور موسٰی بن اسمٰعیل نے بیان کیا ان دونوں نے کہا ہم سے ہمام بن یحیٰی نے
انہوں نےقتادہ سے انہوں نےانسؓ کہ نبیﷺ نے فرمایا جو شخص کوئی نماز بھول
جائےتو یاد آتے ہی اس کو پڑھ لے بس یہی اس کا کفارہ(اتار) ہے اور کچھ نہیں
، اللہ نے (سورت طٰہٰ میں) فرمایا نماز کو یاد پر پڑھ موسیٰ نے کہاہمام نے
کہا میں نے قتادہ سے پھر سنا تو وہ یوں پڑھتے تھے نماز پڑھ میری یاد کے
لئے حبان بن ہلال نے کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا کہا ہم سے قتادہ نے کہا
ہم سے انسؓ نے انہوں نے نبیﷺ سےپھر ایسی ہی حدیث بیان کی ۔
38. The Qada of prayers (Qada means to perform or offer or do a missed religious obligation after its stated time).
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ـ هُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ ـ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ،
عَنْ جَابِرٍ، قَالَ جَعَلَ عُمَرُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ يَسُبُّ
كُفَّارَهُمْ وَقَالَ مَا كِدْتُ أُصَلِّي الْعَصْرَ حَتَّى غَرَبَتْ.
قَالَ فَنَزَلْنَا بُطْحَانَ، فَصَلَّى بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ،
ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ
Narrated
By Jabir : Umar came cursing the disbelievers (of Quraish) on the day
of Al-Khandaq (the battle of Trench) and said, "I could not offer the
'Asr prayer till the sun had set. Then we went to Buthan and he offered
the ('Asr) prayer after sunset and then he offered the Maghrib prayer.
ہم سےمسددنے بیان کیا کہاہم
سے یحیٰی بن سعید قطان نے انہوں نے ہشام دستوائی سے سنا انہوں نے یحیٰی ابن
ابی کثیر سے سنا انہوں نے ابو سلمہ سے انہوں نے جابرؓ سے انہوں نے کہا
خندق کے دن حضرت عمرؓ قریش کے کافروں کو برا کہنے لگے انہوں نے کہا سورج
ڈوبنے کے قریب تک میں نماز نہ پڑھ سکاجابرؓ نے کہا پھر ہم بطحان میں اترے
آپﷺ نے سورج ڈوبے بعد عصر کی نماز پڑھی پھر مغرب کی نماز پڑھی۔
39. What is disliked about talking after the Isha prayer.
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا
عَوْفٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْمِنْهَالِ، قَالَ انْطَلَقْتُ مَعَ
أَبِي إِلَى أَبِي بَرْزَةَ الأَسْلَمِيِّ فَقَالَ لَهُ أَبِي حَدِّثْنَا
كَيْفَ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ
قَالَ كَانَ يُصَلِّي الْهَجِيرَ وَهْىَ الَّتِي تَدْعُونَهَا الأُولَى
حِينَ تَدْحَضُ الشَّمْسُ، وَيُصَلِّي الْعَصْرَ، ثُمَّ يَرْجِعُ أَحَدُنَا
إِلَى أَهْلِهِ فِي أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ، وَنَسِيتُ
مَا قَالَ فِي الْمَغْرِبِ. قَالَ وَكَانَ يَسْتَحِبُّ أَنْ يُؤَخِّرَ
الْعِشَاءَ. قَالَ وَكَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَالْحَدِيثَ
بَعْدَهَا، وَكَانَ يَنْفَتِلُ مِنْ صَلاَةِ الْغَدَاةِ حِينَ يَعْرِفُ
أَحَدُنَا جَلِيسَهُ، وَيَقْرَأُ مِنَ السِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ
Narrated By Abu-l-Minhal : My father and I went to Abi Barza Al-Aslami
and my father said to him, "Tell us how Allah's Apostle used to offer
the compulsory congregational prayers." He said, "He used to pray the
Zuhr prayer, which you call the first prayer, as the sun declined at
noon, the 'Asr at a time when one of US could go to his family at the
farthest place in Medina while the sun was still hot. (The narrator
forgot what Abu Barza had said about the Maghrib prayer), and the
Prophet preferred to pray the 'Isha late and disliked to sleep before it
or talk after it. And he used to return after finishing the morning
prayer at such a time when it was possible for one to recognize the
person sitting by his side and he (the Prophet) used to recite 60 to 100
'Ayat (verses) of the Qur'an in it."
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان
کیا کہا ہم سے یحییٰ ابن سعید قطان نے کہا ہم سے عوف اعرابی نے کہا ہم سے
ابو المنہال سیار بن سلامہ نے انہوں نے کہا میں اپنے باپ(سلامہ) کے ساتھ
ابو برزہ (نضلہ بن عبید) اسلمی صحابی کے پاس گیا میرے باپ نے ان سے کہا
رسول اللہﷺ فرض نمازیں کن کن وقتوں میں پڑھا کرتے تھے ہم سے بیان کرو انہوں
نے کہا آپ ظہر کی نماز کو جس کو تم پہلی نماز کہتے ہو سورج ڈھلنے کے وقت
پڑھتے اور عصر کی نماز ایسے وقت پڑھتے کہ ہم میں سے کوئی آپ کے ساتھ نماز
پڑھ کر مدینہ کے آخری حصے میں اپنے گھر جاتا وہاں پہنچ جاتا اور سورج تیز
رہتا ابوالمنہال نے کہا میں بھول گیا ابو برزہ نے مغرب کے باب میں جو بیان
کیا ابو برزہ نے کہا آپ عشاء کی نماز میں دیر کرنا پسند کرتے تھے اور اس
سے پہلے سوجانا برا جانتے تھے اسی طرح اس کے بعد باتیں کرنا اور صبح کی
نماز سے اس وقت فارغ ہو جاتے کہ ہم میں سے کوئی اپنے پاس بیٹھنے والے کو
پہچان لیتا آپ اس میں ساٹھ آیتوں سے لے کر سو آیتوں تک پڑھتے۔
40. Talking about the Islamic jurisprudence and good things after the Isha prayer.
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو
عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ
انْتَظَرْنَا الْحَسَنَ وَرَاثَ عَلَيْنَا حَتَّى قَرُبْنَا مِنْ وَقْتِ
قِيَامِهِ، فَجَاءَ فَقَالَ دَعَانَا جِيرَانُنَا هَؤُلاَءِ. ثُمَّ قَالَ
قَالَ أَنَسٌ نَظَرْنَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ لَيْلَةٍ
حَتَّى كَانَ شَطْرُ اللَّيْلِ يَبْلُغُهُ، فَجَاءَ فَصَلَّى لَنَا، ثُمَّ
خَطَبَنَا فَقَالَ " أَلاَ إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا ثُمَّ رَقَدُوا،
وَإِنَّكُمْ لَمْ تَزَالُوا فِي صَلاَةٍ مَا انْتَظَرْتُمُ الصَّلاَةَ
". قَالَ الْحَسَنُ وَإِنَّ الْقَوْمَ لاَ يَزَالُونَ بِخَيْرٍ مَا
انْتَظَرُوا الْخَيْرَ. قَالَ قُرَّةُ هُوَ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ عَنِ
النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم
Narrated By Qurra bin Khalid : Once he waited for Al-Hasan and he did
not show up till it was about the usual time for him to start his
speech; then he came and apologized saying, "Our neighbours invited us."
Then he added, "Narrated Anas, 'Once we waited for the Prophet till it
was midnight or about midnight. He came and led the prayer, and after
finishing it, he addressed us and said, 'All the people prayed and then
slept and you had been in prayer as long as you were waiting for it."
Al-Hasan said, "The people are regarded as performing good deeds as long
as they are waiting for doing good deeds." Al-Hasan's statement is a
portion of Anas's Hadith from the Prophet.
ہم سے عبد اللہ بن صباح نے بیان
کیا کہا ہم سے ابو علی(عبید اللہ)حنفی نے کہا ہم سے قرہ بن خالد سدوسی نے
انہوں نے کہا ہم نے امام حسن بصریؒ کے باہر نکلنے کا انتظار کیا اور انہوں
نے اتنی دیر لگائی کہ ان کی برخاست کا وقت آن پہنچا پھر وہ آئے اور کہنے
لگے ہم کو ہمارے پڑوسیوں نے بلا بھیجا تھا پھر کہنے لگے انسؓ بن مالکؓ نے
کہا ایک رات ہم نے نبیﷺ کے برآمد ہونے کا انتظار کیا جب آدھی رات کا وقت
آن پہنچا تو آپ باہر تشریف لائے اور نماز پڑھائی پھر ہم کو خطبہ سنایا
اور فرمایا سن لو لوگ تو نماز پڑھ چکے اور سو رہے اور تم تو جب تک نماز کے
انتظار میں رہے (گویا) نماز ہی پڑھتے رہے(نماز کا ثواب تم کو ملتارہا)امام
حسن بصری نے کہا لوگ جب تک کسی نیک کام کا انتظار کرتے رہیں گے تو(گویا) اس
نیک کام میں مصروف ہیں قرہ بن خالد نے کہا حسن کا یہ قول بھی انس کی حدیث
میں داخل ہے جو انہوں نے نبیﷺ سے روایت کی۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ
الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ،
وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ،
قَالَ صَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم صَلاَةَ الْعِشَاءِ فِي آخِرِ
حَيَاتِهِ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ
" أَرَأَيْتَكُمْ لَيْلَتَكُمْ هَذِهِ فَإِنَّ رَأْسَ مِائَةٍ لاَ
يَبْقَى مِمَّنْ هُوَ الْيَوْمَ عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ أَحَدٌ ".
فَوَهِلَ النَّاسُ فِي مَقَالَةِ رَسُولِ اللَّهِ ـ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ـ
إِلَى مَا يَتَحَدَّثُونَ مِنْ هَذِهِ الأَحَادِيثِ عَنْ مِائَةِ سَنَةٍ،
وَإِنَّمَا قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَبْقَى مِمَّنْ
هُوَ الْيَوْمَ عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ " يُرِيدُ بِذَلِكَ أَنَّهَا
تَخْرِمُ ذَلِكَ الْقَرْنَ
Narrated By 'Abdullah bin 'Umar : The Prophet prayed one of the 'Isha
prayer in his last days and after finishing it with Taslim, he stood up
and said, "Do you realize (the importance of) this night? Nobody present
on the surface of the earth to-night would be living after the
completion of one hundred years from this night."
The people made a mistake in grasping the meaning of this statement of Allah's Apostle and they indulged in those things which are said about these narrators (i.e. some said that the Day of Resurrection will be established after 100 years etc.) But the Prophet said, "Nobody present on the surface of earth tonight would be living after the completion of 100 years from this night"; he meant "When that century (people of that century) would pass away."
The people made a mistake in grasping the meaning of this statement of Allah's Apostle and they indulged in those things which are said about these narrators (i.e. some said that the Day of Resurrection will be established after 100 years etc.) But the Prophet said, "Nobody present on the surface of earth tonight would be living after the completion of 100 years from this night"; he meant "When that century (people of that century) would pass away."
ہم سے ابو الیمان حکم بن نافع
نے بیان کیا کہا ہم کو شعیب ابن ابی حمزہ نے خبر دی انہوں نے زہری سے انہوں
نے کہا مجھ سے سالم بن عبداللہ بن عمرؓ اور ابو بکر بن ابی حثمہ نے بیان
کیا کہ عبداللہ بن عمرؓ نے کہا ایک بار نبیﷺ نے اپنی زندگی کے اخیر زمانے
میں عشاء کی نماز پڑھی جب سلام پھیرا تو آپ کھڑے ہوئے اور فرمایا کیا تم
نے اس رات کو دیکھا (اسے یاد رکھنا)اب سے لے کر سو برس کے ختم پر جتنے لوگ
اس وقت زمین پر ہیں ان میں سے کوئی باقی نہ رہے گا لوگوں نے رسول اللہﷺ کا
کلام سمجھنے میں غلطی کی اور سو برس کی نسبت کچھ اور کہنے لگے (ابو مسعود
نے یہ سمجھا کہ سو برس میں قیامت آئے گی )حالانکہ آپ نے یہ فرمایا تھا کہ
آج جو لوگ زمین پر بستے ہیں ان میں سے کوئی باقی نہ رہے گا ۔آپ کا مطلب
یہ تھا کہ(سو برس میں )یہ قرن گزر جائے گا ۔
41. To talk with a family and the guests after the Isha prayer.
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ
سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ، عَنْ
عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ أَصْحَابَ الصُّفَّةِ،
كَانُوا أُنَاسًا فُقَرَاءَ، وَأَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" مَنْ كَانَ عِنْدَهُ طَعَامُ اثْنَيْنِ فَلْيَذْهَبْ بِثَالِثٍ، وَإِنْ
أَرْبَعٌ فَخَامِسٌ أَوْ سَادِسٌ ". وَأَنَّ أَبَا بَكْرٍ جَاءَ
بِثَلاَثَةٍ فَانْطَلَقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِعَشَرَةٍ، قَالَ
فَهْوَ أَنَا وَأَبِي وَأُمِّي، فَلاَ أَدْرِي قَالَ وَامْرَأَتِي
وَخَادِمٌ بَيْنَنَا وَبَيْنَ بَيْتِ أَبِي بَكْرٍ. وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ
تَعَشَّى عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ لَبِثَ حَيْثُ
صُلِّيَتِ الْعِشَاءُ، ثُمَّ رَجَعَ فَلَبِثَ حَتَّى تَعَشَّى النَّبِيُّ
صلى الله عليه وسلم فَجَاءَ بَعْدَ مَا مَضَى مِنَ اللَّيْلِ مَا شَاءَ
اللَّهُ، قَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ وَمَا حَبَسَكَ عَنْ أَضْيَافِكَ ـ أَوْ
قَالَتْ ضَيْفِكَ ـ قَالَ أَوَمَا عَشَّيْتِيهِمْ قَالَتْ أَبَوْا حَتَّى
تَجِيءَ، قَدْ عُرِضُوا فَأَبَوْا. قَالَ فَذَهَبْتُ أَنَا فَاخْتَبَأْتُ
فَقَالَ يَا غُنْثَرُ، فَجَدَّعَ وَسَبَّ، وَقَالَ كُلُوا لاَ هَنِيئًا.
فَقَالَ وَاللَّهِ لاَ أَطْعَمُهُ أَبَدًا، وَايْمُ اللَّهِ مَا كُنَّا
نَأْخُذُ مِنْ لُقْمَةٍ إِلاَّ رَبَا مِنْ أَسْفَلِهَا أَكْثَرُ مِنْهَا.
قَالَ يَعْنِي حَتَّى شَبِعُوا وَصَارَتْ أَكْثَرَ مِمَّا كَانَتْ قَبْلَ
ذَلِكَ، فَنَظَرَ إِلَيْهَا أَبُو بَكْرٍ فَإِذَا هِيَ كَمَا هِيَ أَوْ
أَكْثَرُ مِنْهَا. فَقَالَ لاِمْرَأَتِهِ يَا أُخْتَ بَنِي فِرَاسٍ مَا
هَذَا قَالَتْ لاَ وَقُرَّةِ عَيْنِي لَهِيَ الآنَ أَكْثَرُ مِنْهَا قَبْلَ
ذَلِكَ بِثَلاَثِ مَرَّاتٍ. فَأَكَلَ مِنْهَا أَبُو بَكْرٍ وَقَالَ
إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ ـ يَعْنِي يَمِينَهُ ـ ثُمَّ
أَكَلَ مِنْهَا لُقْمَةً، ثُمَّ حَمَلَهَا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه
وسلم فَأَصْبَحَتْ عِنْدَهُ، وَكَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمٍ عَقْدٌ،
فَمَضَى الأَجَلُ، فَفَرَّقَنَا اثْنَا عَشَرَ رَجُلاً، مَعَ كُلِّ رَجُلٍ
مِنْهُمْ أُنَاسٌ، اللَّهُ أَعْلَمُ كَمْ مَعَ كُلِّ رَجُلٍ فَأَكَلُوا
مِنْهَا أَجْمَعُونَ، أَوْ كَمَا قَالَ
Narrated By Abu 'Uthman : 'Abdur Rahman bin Abi Bakr said, "The Suffa
Companions were poor people and the Prophet said, 'Whoever has food for
two persons should take a third one from them (Suffa companions). And
whosoever has food for four persons he should take one or two from them'
Abu Bakr took three men and the Prophet took ten of them."
'Abdur Rahman added, my father my mother and I were there (in the house). (The sub-narrator is in doubt whether 'Abdur Rahman also said, 'My wife and our servant who was common for both my house and Abu Bakr's house). Abu Bakr took his supper with the Prophet and remained there till the 'Isha prayer was offered. Abu Bakr went back and stayed with the Prophet till the Prophet took his meal and then Abu Bakr returned to his house after a long portion of the night had passed. Abu Bakr's wife said, 'What detained you from your guests (or guest)?' He said, 'Have you not served them yet?' She said, 'They refused to eat until you come. The food was served for them but they refused." 'Abdur Rahman added, "I went away and hid myself (being afraid of Abu Bakr) and in the meantime he (Abu Bakr) called me, 'O Ghunthar (a harsh word)!' and also called me bad names and abused me and then said (to his family), 'Eat. No welcome for you.' Then (the supper was served). Abu Bakr took an oath that he would not eat that food. The narrator added: By Allah, whenever any one of us (myself and the guests of Suffa companions) took anything from the food, it increased from underneath. We all ate to our fill and the food was more than it was before its serving.
Abu Bakr looked at it (the food) and found it as it was before serving or even more than that. He addressed his wife (saying) 'O the sister of Bani Firas! What is this?' She said, 'O the pleasure of my eyes! The food is now three times more than it was before.' Abu Bakr ate from it, and said, 'That (oath) was from Satan' meaning his oath (not to eat). Then he again took a morsel (mouthful) from it and then took the rest of it to the Prophet. So that meal was with the Prophet. There was a treaty between us and some people, and when the period of that treaty had elapsed the Prophet divided us into twelve (groups) (the Prophet's companions) each being headed by a man. Allah knows how many men were under the command of each (leader). So all of them (12 groups of men) ate of that meal."
'Abdur Rahman added, my father my mother and I were there (in the house). (The sub-narrator is in doubt whether 'Abdur Rahman also said, 'My wife and our servant who was common for both my house and Abu Bakr's house). Abu Bakr took his supper with the Prophet and remained there till the 'Isha prayer was offered. Abu Bakr went back and stayed with the Prophet till the Prophet took his meal and then Abu Bakr returned to his house after a long portion of the night had passed. Abu Bakr's wife said, 'What detained you from your guests (or guest)?' He said, 'Have you not served them yet?' She said, 'They refused to eat until you come. The food was served for them but they refused." 'Abdur Rahman added, "I went away and hid myself (being afraid of Abu Bakr) and in the meantime he (Abu Bakr) called me, 'O Ghunthar (a harsh word)!' and also called me bad names and abused me and then said (to his family), 'Eat. No welcome for you.' Then (the supper was served). Abu Bakr took an oath that he would not eat that food. The narrator added: By Allah, whenever any one of us (myself and the guests of Suffa companions) took anything from the food, it increased from underneath. We all ate to our fill and the food was more than it was before its serving.
Abu Bakr looked at it (the food) and found it as it was before serving or even more than that. He addressed his wife (saying) 'O the sister of Bani Firas! What is this?' She said, 'O the pleasure of my eyes! The food is now three times more than it was before.' Abu Bakr ate from it, and said, 'That (oath) was from Satan' meaning his oath (not to eat). Then he again took a morsel (mouthful) from it and then took the rest of it to the Prophet. So that meal was with the Prophet. There was a treaty between us and some people, and when the period of that treaty had elapsed the Prophet divided us into twelve (groups) (the Prophet's companions) each being headed by a man. Allah knows how many men were under the command of each (leader). So all of them (12 groups of men) ate of that meal."
ہم سے ابو النعمان محمد بن فضل
نے بیان کیا کہا ہم سے معتمر ابن سلیمان نےکہا ہم سے میرے باپ سلیمان بن
طرخان نے کہا ہم سے ابو عثمان(نہدی) نے انہوں نے عبدالرحمٰن بن ابی بکرؓ
سے انہوں نے کہا مسجد کے سائبان میں وہ لوگ رہتے تھے جو محتاج (نادار)تھے
اور نبیﷺ نے فرمایا جس کے پاس دو آدمیوں کا کھاناہو وہ (سائبان والوں
میں سے )ایک تیسرا آدمی اپنے ساتھ لے جائےاور جس کے پاس چار آدمیوں کاہو
وہ پانچواں یا چھٹا آدمی (سائبان والوں میں سے) لے جائے تو ابو بکرؓ اپنے
ساتھ تین آدمی لے آئے اور نبیﷺ دس آدمی اپنے ساتھ لے گئے عبدالرحمٰن
نے کہا گھر میں اس وقت میں تھا اور میرے ماں باپ ، ابو عثمان نے کہا مجھ کو
یاد نہیں عبدالرحمٰن نے اپنی بی بی اور ایک خدمت گار کا بھی ذکر کیا یا
نہیں جو ان کے اور ابو بکرؓ کے دونوں کے گھر میں کام کرتا تھا خیر ابو بکرؓ
نے شام کا کھانا نبیﷺ کےساتھ کھا لیا پھر جہاں عشاء کی نماز پڑھی گئی وہاں
ٹھہر رہے بعد اس کے نبیﷺ کے پاس لوٹ گئے آپ ہی کے پاس رہے یہاں تک کہ
آپ نے رات کا کھانا بھی کھا لیا پھر جتنی رات اللہ کو منظور تھی اس کے گزر
جانے پر ابو بکرؓ(گھر میں) آئے اور ان کی بی بی (ام رومان) ان سے کہنے
لگیں تم اپنے مہمانوں یا مہمان کو چھوڑ کر کہاں اٹک گئے تھے ابو بکرؓ نے
کہا کیا تو نے ان کو رات کا کھانا نہیں کھلایا ام رومان نے کہا (میں کیا
کروں )میں نے ان کے سامنے کھانا رکھا انہوں نے کہا جب تک ابو بکر نہ آئیں
گے ہم نہیں کھائیں گے عبدالرحمٰن نے کہا (میں ڈر کر) چھپ گیا ابو بکر نے
کہا او پاجی کوسا اور برا کہا اور (مہمانوں سے)کہا کھاؤ زبردستی ٹھونسو اور
میں تو خدا کی قسم اس کھانے میں سے کبھی نہیں کھاؤں گا عبدالرحمٰن نے کہا(
کھانے کا یہ حال ہوا )ہم جب اس میں سے ایک لقمہ اٹھاتے تو نیچے سے اور
زیادہ بڑھ جاتا آخر مہمان سب سیر ہو گئے اور کھانا جتنا پہلے تھا اس سے
بھی زیادہ ہو گیا ابو بکر نے دیکھا تو کھانا جوں کا توں بلکہ اور بڑھ گیا
ہے انہوں نے اپنی بی بی ام رومان سے کہا بنی فراس کے خاندان والی یہ کیا
اچنبا ہے وہ بولی سچ مچ میرے پیارے پیغمبر ﷺ کی قسم یہ کھانا تو ویسا ہی ہے
بلکہ پہلے سے تگنا ہو گیا ہے تب ابو بکر نے بھی اس میں سے کھایا اور کہنے
لگے میں نے جو کہ دیا تھا یعنی قسم کھا لی تھی وہ شیطان کا بہکاوا تھا اس
میں سے ایک لقمہ کھا کر اس کھانے کو نبیﷺ کے پاس اٹھا لائے وہ صبح تک آپ
کے پاس رکھا رہا عبدالرحمٰن نے کہا ہم میں اور (کافروں کی) ایک قوم میں عہد
تھا اس کی مدت گزر گئی (وہ مدینہ میں چلے آئے)ہم نے ان میں سے بارہ آدمی
جدا کئے اور ہر ایک کے ساتھ کتنے آدمی تھے اللہ ہی کو معلوم ہے ان سبھوں
نے اس میں سے کھایا یا عبدالرحمٰن نے کچھ ایسا ہی کہا ۔
No comments:
Post a Comment