Sahih Bukhari
Book12: Fear Prayer أبواب صلاة الخوف
1. The Fear Prayer
And
the Statement of Allah, "And when you travel in the land, there is no
sin on you if you shorten As-Salat if you fear that the disbelievers may
put you on trial, verily the disbelievers are ever unto you open
enemies. When you (O Muhammad (s.a.w)) are among them, and lead them in
Salat, let one party of them stand up with you taking their arms with
them; when they finish their prostrations, let them take their position
in the rear, and let the other party come up which has not yet offered
Salat and let them offer Salat with you taking all precautions and
bearing arms. Those who disbelieve wish, if you were negligent of your
arms and baggage, to attack you in a single rush, but there is no sin on
you if you put your arms away because of the inconvenience of rain or
because you are ill, but take (every) precaution for yourselves. Verily!
Allah has prepared a humiliating torment for the disbelievers".
(V.4:101-102)
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ
الزُّهْرِيِّ، قَالَ سَأَلْتُهُ هَلْ صَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم
يَعْنِي صَلاَةَ الْخَوْفِ قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمٌ أَنَّ عَبْدَ
اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ
اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قِبَلَ نَجْدٍ، فَوَازَيْنَا الْعَدُوَّ
فَصَافَفْنَا لَهُمْ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي
لَنَا فَقَامَتْ طَائِفَةٌ مَعَهُ تُصَلِّي، وَأَقْبَلَتْ طَائِفَةٌ عَلَى
الْعَدُوِّ وَرَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَنْ مَعَهُ،
وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ انْصَرَفُوا مَكَانَ الطَّائِفَةِ الَّتِي
لَمْ تُصَلِّ، فَجَاءُوا، فَرَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
بِهِمْ رَكْعَةً، وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ، فَقَامَ كُلُّ
وَاحِدٍ مِنْهُمْ فَرَكَعَ لِنَفْسِهِ رَكْعَةً وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ
Narrated By Shu'aib : I asked Az-Zuhri, "Did the Prophet ever offer the
Fear Prayer?" Az-Zuhri said, "I was told by Salim that 'Abdullah bin
Umar I had said, 'I took part in a holy battle with Allah's Apostle I in
Najd. We faced the enemy and arranged ourselves in rows. Then Allah's
Apostle (p.b.u.h) stood up to lead the prayer and one party stood to
pray with him while the other faced the enemy. Allah's Apostle (p.b.u.h)
and the former party bowed and performed two prostrations. Then that
party left and took the place of those who had not prayed. Allah's
Apostle prayed one Raka (with the latter) and performed two prostrations
and finished his prayer with Taslim. Then everyone of them bowed once
and performed two prostrations individually.'"
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا
کہا ہم کو شعیب نے خبر دی انہوں نے زہری سے شعیب نے کہا میں نے زہری سے
پوچھا کیا نبی ﷺ نے خوف کی نماز پڑھی ہے انہوں نے کہا ہم سے سالم نے بیان
کیا کہ ان کے باپ عبد اللہ بن عمرؓ نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نجد
کی طرف جہاد کیا( غزوہ ذات الرقاع میں ) ہم دشمنوں کے مقابل ہوئے اور صفیں
باندھیں ۔رسول اللہ ﷺ ہم کو نماز پڑھانے کے لیے کھڑے ہوئے تو
(ہم میں سے )ایک گروہ تو آپؐ کے ساتھ نماز میں کھڑا ہوا اور ایک گروہ دشمن کی طرف منہ کیے رہا پھر رسول اللہ ﷺ نے رکوع کیا اور ان لوگوں نے بھی جو نماز میں آپؐ کے ساتھ تھے اور دو سجدے کیے اب یہ گروہ لوٹ کر اس گروہ کی جگہ پر آ گیا جو نماز میں شریک نہیں ہوا تھا اور وہ گرہ آیا تب رسول اللہ ﷺ نے ایک رکعت ان کے ساتھ پڑھی اور دو سجدے کیے اور پھر سلام پھیر دیا اب اس گروہ میں سے ہر شخص کھڑا ہُوا اور اس نے اکیلے اکیلے ایک رکوع اور دو سجدے اداکیے ۔
(ہم میں سے )ایک گروہ تو آپؐ کے ساتھ نماز میں کھڑا ہوا اور ایک گروہ دشمن کی طرف منہ کیے رہا پھر رسول اللہ ﷺ نے رکوع کیا اور ان لوگوں نے بھی جو نماز میں آپؐ کے ساتھ تھے اور دو سجدے کیے اب یہ گروہ لوٹ کر اس گروہ کی جگہ پر آ گیا جو نماز میں شریک نہیں ہوا تھا اور وہ گرہ آیا تب رسول اللہ ﷺ نے ایک رکعت ان کے ساتھ پڑھی اور دو سجدے کیے اور پھر سلام پھیر دیا اب اس گروہ میں سے ہر شخص کھڑا ہُوا اور اس نے اکیلے اکیلے ایک رکوع اور دو سجدے اداکیے ۔
2. Offering fear prayer while standing or riding
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقُرَشِيُّ، قَالَ
حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ
عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، نَحْوًا مِنْ قَوْلِ مُجَاهِدٍ
إِذَا اخْتَلَطُوا قِيَامًا. وَزَادَ ابْنُ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى
الله عليه وسلم " وَإِنْ كَانُوا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَلْيُصَلُّوا
قِيَامًا وَرُكْبَانًا "
Narrated By Nafi' : Ibn Umar said something similar to Mujahid's saying:
Whenever (Muslims and non-Muslims) stand face to face in battle, the
Muslims can pray while standing. Ibn Umar added, "The Prophet said, 'If
the number of the enemy is greater than the Muslims, they can pray while
standing or riding (individually).'"
ہم سے سعید بن یحییٰ بن سعید
قرشی نے بیان کیا کہا مجھ سے میرے باپ یحییٰ نے کہا ہم سے ابن جریج نے
انہوں نے موسیٰ بن عقبہ سے انہو٘ں نے نافع سے انہوں نے عبد اللہ بن عمرؓ سے
مجاہد کے قول کی طرح کہ جب لڑائی میں غٹ پٹ ہو جائیں کھڑے کھڑے پڑھ لیں
اور ابن عمرؓ نے نبی ﷺ سے اتنا اور بڑ ھایا ہے اگر کافر بہت سا رے ہوں
(کہ مسلمانوں کو دم نہ لینے دیں ) تو کھڑے کھڑے اور سوار رہ کر نماز پڑھ
لیں ۔
3. Guarding one another during Fear Prayer
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ
حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ
بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ
قَالَ قَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ،
فَكَبَّرَ وَكَبَّرُوا مَعَهُ، وَرَكَعَ وَرَكَعَ نَاسٌ مِنْهُمْ، ثُمَّ
سَجَدَ وَسَجَدُوا مَعَهُ، ثُمَّ قَامَ لِلثَّانِيَةِ فَقَامَ الَّذِينَ
سَجَدُوا وَحَرَسُوا إِخْوَانَهُمْ، وَأَتَتِ الطَّائِفَةُ الأُخْرَى
فَرَكَعُوا وَسَجَدُوا مَعَهُ، وَالنَّاسُ كُلُّهُمْ فِي صَلاَةٍ، وَلَكِنْ
يَحْرُسُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا
Narrated By Ibn Abbas : Once the Prophet (p.b.u.h) led the fear prayer
and the people stood behind him. He said Takbir (Allahu-Akbar) and the
people said the same. He bowed and some of them bowed. Then he
prostrated and they also prostrated. Then he stood for the second Raka
and those who had prayed the first Raka left and guarded their brothers.
The second party joined him and performed bowing and prostration with
him. All the people were in prayer but they were guarding one another
during the prayer.
ہم سے حیوہ بن شریح نے بیان کیا
کہا ہم سے محمد بن حرب نے انہوں نے زبیدی سے انہوں نے زہری سے انہوں نے
عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعودؓ سےانہوں نے عبد اللہ بن عباسؓ
سے انہوں نے کہا نبی ﷺ کھڑے ہوئے (میدان جنگ میں )اور لوگ بھی آپؐ کے
ساتھ کھڑے ہوئے آپؐ نے تکبیر کہی لوگوں نے بھی آپؐ کے ساتھ تکبیر کہی سب
نے پھر آپؐ نے رکوع کیا تو تھوڑے آدمیوں نے آپؐ کے ساتھ رکوع کیا پھر
آپؐ نے سجدہ کیا تو انہی تھوڑے آدمیوں نے آپؐ کے ساتھ سجدہ کیا پھر آپؐ
دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے اور جو لوگ (رکوع اور) سجدہ آپؐ کے ساتھ کر
چکے تھے وہ کھڑے کھڑے اپنے بھائیوں کی نگہبانی کرتے رہے اور دوسرا گروہ
آیا اس نے آپؐ کے ساتھ رکوع اور سجدہ کیا اور سب لوگ نماز ہی میں رہے
لیکن ایک دوسرے کی نگہبانی کرتے رہے ۔
4. The prayer at the time of besieging a fort and at meeting the enemy
حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ
مُبَارَكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ
جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ جَاءَ عُمَرُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ،
فَجَعَلَ يَسُبُّ كُفَّارَ قُرَيْشٍ وَيَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا
صَلَّيْتُ الْعَصْرَ حَتَّى كَادَتِ الشَّمْسُ أَنْ تَغِيبَ. فَقَالَ
النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " وَأَنَا وَاللَّهِ مَا صَلَّيْتُهَا
بَعْدُ ". قَالَ فَنَزَلَ إِلَى بُطْحَانَ فَتَوَضَّأَ، وَصَلَّى
الْعَصْرَ بَعْدَ مَا غَابَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ
بَعْدَهَا
Narrated By Jabir bin
'Abdullah : On the day of the Khandaq Umar came, cursing the
disbelievers of Quraish and said, "O Allah's Apostle! I have not offered
the 'Asr prayer and the sun has set." The Prophet replied, "By Allah! I
too, have not offered the prayer yet. "The Prophet then went to Buthan,
performed ablution and performed the 'Asr prayer after the sun had set
and then offered the Maghrib prayer after it."
ہم سے یجییٰ بن جعفر نے بیان
کیا کہا ہم کو وکیع نے انہوں نے علی بن مبارک سے انہوں نے یحییٰ ابن کثیر
سے انہوں نے ابو سلمہ سے انہوں نے جابربن عبد اللہ انصاری سے انہوں نے کہا
حضرت عمرؓ خندق کے دن قریش کے کافروں کو گالیاں دیتے ہوئے آئے اور عرض
کرنے لگے یا رسول اللہ ﷺ میں نے تو عصر کی نماز اس وقت تک نہیں پڑھی کہ
سورج ڈوبنے ہی کو تھا نبی ﷺ نے فر مایا (خیر تم نے تو اخیر وقت میں پڑھ
بھی لی ) میں نے تو قسم خدا کی ابھی تک نہیں پڑھی پھر آپؐ بطحان میں
اُترے (جو ایک میدان ہے مدینہ میں ) وہاں وضو کیا اور عصر کی نماز پڑھی
سورج ڈوب گیا تھا پھر مغرب کی نماز اس کے بعد پڑھی ۔
5. The chaser and the chased can offer prayer by signs while riding
Al-Walid
said, "I told Al-Auzai about the Salat of Shurahbil bin As-Samt and his
companions on the backs of animals. On that he said, 'That was the case
with us if we feared that the time of Salat would be over.' Al-Walid
(disagreed with Al-Auzai) deriving his verdict from the statement of the
Prophet (s.a.w), "None should offer the Asr prayer but at Bani Quraiza"
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، قَالَ
حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ
النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لَنَا لَمَّا رَجَعَ مِنَ الأَحْزَابِ "
لاَ يُصَلِّيَنَّ أَحَدٌ الْعَصْرَ إِلاَّ فِي بَنِي قُرَيْظَةَ ".
فَأَدْرَكَ بَعْضُهُمُ الْعَصْرَ فِي الطَّرِيقِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لاَ
نُصَلِّي حَتَّى نَأْتِيَهَا، وَقَالَ بَعْضُهُمْ بَلْ نُصَلِّي لَمْ
يُرَدْ مِنَّا ذَلِكَ. فَذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ
يُعَنِّفْ وَاحِدًا مِنْهُمْ
Narrated Ibn' Umar when the Prophet(s.a.w.) returned from the battle of
Al-Ahzab (clans) , He said to us"No one is to offer the Asr prayer but
at Bani-Quraiza " to some of the Asr was due on the way.Some of us
decided not to pray but at Bani Quraza while some others decided to pray
on the spot and said that the intention of the prophet(s.a.w.) was not
what the formal party had understood. And when that was told to the
prophet (s.a.w.) he did not blame any one of them.
ہم سے عبد اللہ بن محمد بن اسماء نے بیان کیا کہا ہم سے جویریہ ابن اسماء
نے، انہوں نے نافع سے انہوں نے عبد اللہ بن عمرؓ سے نبیﷺ جب جنگ خندق سے
لوٹے (ابو سفیان چل دیا) تو آپؐ نے فرمایا کوئی شخص عصر کی نماز نہ پڑھے
مگر بنی قریظہ کے محلے میں پہنچ کر پھر ان کو راستے میں عصر کا وقت آ گیا
اور بعضوں نے کہا ہم تو( جیسا آپﷺ نے فرمایا ہے) جب تک بنی قریظہ کے پاس
نہ پہنچ لیں گے عصر کی نماز نہیں پڑٖھنے کے اور بعضوں نے کہا ہم نماز پڑھ
لیں گے ، آپؐ کا یہ مطلب نہ تھا (کہ نماز قضا کر دو) پھر نبی ﷺ سے اس کا
ذکر آیا تو آپؐ نے ان میں سے کسی کو ملامت نہیں کی۔
6. Takbir and offering prayer early when it is still dark and praying while attacking enemy and in battles
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَبْدِ
الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، وَثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ
مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى الصُّبْحَ
بِغَلَسٍ ثُمَّ رَكِبَ فَقَالَ " اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ،
إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ
". فَخَرَجُوا يَسْعَوْنَ فِي السِّكَكِ وَيَقُولُونَ مُحَمَّدٌ
وَالْخَمِيسُ ـ قَالَ وَالْخَمِيسُ الْجَيْشُ ـ فَظَهَرَ عَلَيْهِمْ
رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَتَلَ الْمُقَاتِلَةَ وَسَبَى
الذَّرَارِيَّ، فَصَارَتْ صَفِيَّةُ لِدِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ، وَصَارَتْ
لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ تَزَوَّجَهَا وَجَعَلَ
صَدَاقَهَا عِتْقَهَا. فَقَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ لِثَابِتٍ يَا أَبَا
مُحَمَّدٍ، أَنْتَ سَأَلْتَ أَنَسًا مَا أَمْهَرَهَا قَالَ أَمْهَرَهَا
نَفْسَهَا. فَتَبَسَّمَ
Narrated By Anas bin Malik : Allah's Apostle (p.b.u.h) offered the Fajr
prayer when it was still dark, then he rode and said, 'Allah Akbar!
Khaibar is ruined. When we approach near to a nation, the most
unfortunate is the morning of those who have been warned." The people
came out into the streets saying, "Muhammad and his army." Allah's
Apostle vanquished them by force and their warriors were killed; the
children and women were taken as captives. Safiya was taken by Dihya
Al-Kalbi and later she belonged to Allah's Apostle go who married her
and her Mahr was her manumission.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان
کیا کہا ہم سے حماد بن زید نے انہوں نے عبدالعزیزبن صہیب اور ثابت بنانی سے
انہوں نے انس بن مالکؓ سے کہ رسول اللہ ﷺ نے صبح کی نماز اندھیرے میں
پڑھی پھر سوار ہوئے اور فر مایا اللہ اکبر خیبر خراب ہُوا ہم تو جب کسی قوم
کے آ نگن میں اتریں تو جو لوگ ڈرائے گئے اُن کی صبح منحوس ہوگی پھر
یہودی گلی کوچوں میں دوڑتے نکلے محمد ﷺ لشکرسمیت آن پہنچے کہتے ہوئے۔راوی
نے کہا خمیس لشکر کو کہتے ہیں آخر رسول اللہ ﷺ ان پر غالب آگئے اور لڑنے
والے (جوانوں )کو قتل کیا اورعورتوں بچّوں کو قیدکر لیا اتفاق سے صفیہؓ
دحیہ کلبی کو ملیں اور پھر رسول اللہ ﷺ کے حصّہ میں آئیں آپؐ نے اُن سے
نکاح کر لیا اور ان کو آزاد کر دیا ۔یہی ان کا مہرٹھہرا عبد العزیز نے
ثابت سے پوچھا ابو محمد تم نے انسؓ سے پوچھا تھا آپﷺ نے ان کا مہر کیا دیا
۔ثابت نے کہا خُود انھی کو اُن کے مہر میں دیا ۔پھر مسکرائے۔
No comments:
Post a Comment