<bgsound loop='infinite' src='music.mp3'></bgsound> Sayings of the Messenger احادیثِ رسول اللہ ﷺ: Sahih Bukhari Book3: Knowledge كتاب العِلم

Sahih Bukhari Book3: Knowledge كتاب العِلم


Sahih Bukhari

Book3: Knowledge     كتاب العِلم(chapter 1 to 53)

 

1. The superiority of knowledge.

And the Statement of Allah, "... Allah will exalt in degree those of you who believe, and those who have been granted knowledge. And Allah is Well-Acquainted with what you do." (V.58:11) And the Statement of Allah, "... My Lord, increase me in knowledge." (V.20:114)

2. Whoever is asked about knowledge while he is busy in some conversation, so he finished his talk, and then answered the questioner.



حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، قَالَ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، ح وَحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، حَدَّثَنِي هِلاَلُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ بَيْنَمَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي مَجْلِسٍ يُحَدِّثُ الْقَوْمَ جَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ مَتَى السَّاعَةُ فَمَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُحَدِّثُ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ سَمِعَ مَا قَالَ، فَكَرِهَ مَا قَالَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ بَلْ لَمْ يَسْمَعْ، حَتَّى إِذَا قَضَى حَدِيثَهُ قَالَ ‏"‏ أَيْنَ ـ أُرَاهُ ـ السَّائِلُ عَنِ السَّاعَةِ ‏"‏‏.‏ قَالَ هَا أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِذَا ضُيِّعَتِ الأَمَانَةُ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ ‏"‏‏.‏ قَالَ كَيْفَ إِضَاعَتُهَا قَالَ ‏"‏ إِذَا وُسِّدَ الأَمْرُ إِلَى غَيْرِ أَهْلِهِ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ "

Narrated By Abu Huraira : While the Prophet was saying something in a gathering, a Bedouin came and asked him, "When would the Hour (Doomsday) take place?" Allah's Apostle continued his talk, so some people said that Allah's Apostle had heard the question, but did not like what that Bedouin had asked. Some of them said that Allah's Apostle had not heard it. When the Prophet finished his speech, he said, "Where is the questioner, who enquired about the Hour (Doomsday)?" The Bedouin said, "I am here, O Allah's Apostle ." Then the Prophet said, "When honesty is lost, then wait for the Hour (Doomsday)." The Bedouin said, "How will that be lost?" The Prophet said, "When the power or authority comes in the hands of unfit persons, then wait for the Hour (Doomsday.)"

ہم سے بیان کیا محمد بن سنان نے انہوں نے کہا ہم سے بیان کیا فلیح نے (دوسری سند )اور مجھ سے بیان کیا ابراہیم بن منذر نےانہوں نے کہا ہم سے بیان کیا محمد بن فلیح نے انہوں نے کہا ہم سے بیان کیا میرے باپ فلیح نے انہوں نے کہا مجھ سے بیان کیا ہلال بن علی نے انہوں نے عطا بن یسار سے اُنہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے نبیﷺ لوگوں کے درمیان تشریف فرما تھے کہ ایک دیہاتی آیا او ر آپ ﷺ سے پوچھنے لگا قیامت کب آئے گی؟ نبی ﷺ اپنی باتوں میں مصروف رہے کوئی جواب نہ دیا، بعض لوگوں نے سمجھا کہ آپ ﷺ نے اس کی بات سنی ہی نہیں اور بعض کا خیال تھا کہ بات تو سنی ہے لیکن آپ ﷺ نے اسکو پسند نہیں فرمایا، جب آپﷺ اپنی بات سے فارغ ہوئے تو پوچھا وہ قیامت سے متعلق سوال کرنے والا کہاں ہے؟ اس دیہاتی نے کہا میں حاضر ہوں اے اللہ کے رسول، آپ ﷺ نے فرمایا جب امانت (ایمانداری) ضائع کی جائے گی تو قیامت کا انتظار کرنا، اس نے کہا یہ کیوں کر ہو گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا جب معاملات نا اہل لوگوں کے سپرد کر دئیے جائیں گئے۔

3. Whoever raises his voice in (conveying) knowledge.



حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ تَخَلَّفَ عَنَّا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي سَفْرَةٍ سَافَرْنَاهَا، فَأَدْرَكَنَا وَقَدْ أَرْهَقَتْنَا الصَّلاَةُ وَنَحْنُ نَتَوَضَّأُ، فَجَعَلْنَا نَمْسَحُ عَلَى أَرْجُلِنَا، فَنَادَى بِأَعْلَى صَوْتِهِ ‏"‏ وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ ‏"‏‏.‏ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا

Narrated By 'Abdullah bin 'Amr : Once the Prophet remained behind us in a journey. He joined us while we were performing ablution for the prayer which was over-due. We were just passing wet hands over our feet (and not washing them properly) so the Prophet addressed us in a loud voice and said twice or thrice: "Save your heels from the fire."

ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا انہوں نے ابی بشر سے اُنہوں نے یوسف بن مالک سے اُنہوں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ ایک دفعہ دورانِ سفر (جو مکہ سے مدینہ کا تھا)نبیﷺ ہم سے بچھڑ گئے پھر عین نماز عصر کے وقت واپس تشریف لائے اور ہم (جلدی جلدی) وضو کر رہے تھے پاؤں کو اچھی طرح نہیں دھو رہے تھے تو آپ ﷺ نے بآواز بلند فرمایا : ایڑیوں(کو خشک چھوڑنے والوں )کے لیے ہلاکت ہے، یہ کلمات آپﷺ نے دو یا تین مرتبہ دہرایے۔

4. Concerning variety of words used by the narrators conveying different significations regarding the concept of narrating and which has importance for the Hadith scholars only.



حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً لاَ يَسْقُطُ وَرَقُهَا، وَإِنَّهَا مَثَلُ الْمُسْلِمِ، فَحَدِّثُونِي مَا هِيَ ‏"‏‏.‏ فَوَقَعَ النَّاسُ فِي شَجَرِ الْبَوَادِي‏.‏ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ، فَاسْتَحْيَيْتُ ثُمَّ قَالُوا حَدِّثْنَا مَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ ‏"‏ هِيَ النَّخْلَةُ "

Narrated By Ibn 'Umar : Allah's Apostle said, "Amongst the trees, there is a tree, the leaves of which do not fall and is like a Muslim. Tell me the name of that tree." Everybody started thinking about the trees of the desert areas. And I thought of the date-palm tree but felt shy to answer the others then asked, "What is that tree, O Allah's Apostle ?" He replied, "It is the date-palm tree."

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے اسمعیل بن جعفر نے بیان کیا اُنہوں نے عبداللہ بن دینار سے اُنہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا درختوں میں ایک درخت ایسا ہےجس کے پتّے نہیں جھڑتے اور مسلمان کی مثال اسی درخت کی سی ہے بتاو وہ کون سا درخت ہے؟ لوگوں کا خیال جنگل کے مختلف درختوں کی طرف گیا، حضرت عبداللہ فرماتے ہیں میرے دل میں آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے لیکن (کم سنی) کی وجہ سے جواب دینے سے شرما گیا، پھر لوگوں کے پوچھنے پر آپﷺ نے بتایا کہ وہ کجھور کا درخت ہے۔

5. The Imam questioning his companions in order to test their knowledge.



حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً لاَ يَسْقُطُ وَرَقُهَا، وَإِنَّهَا مَثَلُ الْمُسْلِمِ، حَدِّثُونِي مَا هِيَ ‏"‏‏.‏ قَالَ فَوَقَعَ النَّاسُ فِي شَجَرِ الْبَوَادِي‏.‏ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ، ثُمَّ قَالُوا حَدِّثْنَا مَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ هِيَ النَّخْلَةُ ‏"

Narrated By Ibn 'Umar : The Prophet said, "Amongst the trees, there is a tree, the leaves of which do not fall and is like a Muslim. Tell me the name of that tree." Everybody started thinking about the trees of the desert areas. And I thought of the date-palm tree. The others then asked, "Please inform us what is that tree, O Allah's Apostle?" He replied, "It is the date-palm tree."

ہم سے بیان کیا خالد بن مخلد نےانہوں نے کہا ہم سے بیان کیاسلیمان بن بلال نےانہوں نے کہا ہم سے بیان کیا عبداللہ بن دینار نے اُنہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا درختوں میں ایک درخت ایسا ہےجس کے پتّے نہیں جھڑتے اور مسلمان کی مثال اسی درخت کی سی ہے بتاو وہ کون سا درخت ہے؟ لوگوں کا خیال جنگل کے مختلف درختوں کی طرف گیا، حضرت عبداللہ فرماتے ہیں میرے دل میں آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے لیکن (کم سنی) کی وجہ سے جواب دینے سے شرما گیا، پھر لوگوں کے پوچھنے پر آپﷺ نے بتایا کہ وہ کجھور کا درخت ہے۔

6. What is said about knowledge.

And the Statement of Allah, "And say: My Lord! Increase me in knowledge." (V.20:114)


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدٍ ـ هُوَ الْمَقْبُرِيُّ ـ عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَسْجِدِ، دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ فَأَنَاخَهُ فِي الْمَسْجِدِ، ثُمَّ عَقَلَهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ أَيُّكُمْ مُحَمَّدٌ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مُتَّكِئٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ‏.‏ فَقُلْنَا هَذَا الرَّجُلُ الأَبْيَضُ الْمُتَّكِئُ‏.‏ فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ قَدْ أَجَبْتُكَ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ الرَّجُلُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِنِّي سَائِلُكَ فَمُشَدِّدٌ عَلَيْكَ فِي الْمَسْأَلَةِ فَلاَ تَجِدْ عَلَىَّ فِي نَفْسِكَ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ سَلْ عَمَّا بَدَا لَكَ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ أَسْأَلُكَ بِرَبِّكَ وَرَبِّ مَنْ قَبْلَكَ، آللَّهُ أَرْسَلَكَ إِلَى النَّاسِ كُلِّهِمْ فَقَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ نَعَمْ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ نُصَلِّيَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ نَعَمْ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ نَصُومَ هَذَا الشَّهْرَ مِنَ السَّنَةِ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ نَعَمْ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَأْخُذَ هَذِهِ الصَّدَقَةَ مِنْ أَغْنِيَائِنَا فَتَقْسِمَهَا عَلَى فُقَرَائِنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اللَّهُمَّ نَعَمْ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ الرَّجُلُ آمَنْتُ بِمَا جِئْتَ بِهِ، وَأَنَا رَسُولُ مَنْ وَرَائِي مِنْ قَوْمِي، وَأَنَا ضِمَامُ بْنُ ثَعْلَبَةَ أَخُو بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ‏.‏ رَوَاهُ مُوسَى وَعَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا

Narrated By Anas bin Malik : While we were sitting with the Prophet in the mosque, a man came riding on a camel. He made his camel kneel down in the mosque, tied its foreleg and then said: "Who amongst you is Muhammad?" At that time the Prophet was sitting amongst us (his companions) leaning on his arm. We replied, "This white man reclining on his arm." The an then addressed him, "O Son of 'Abdul Muttalib."

The Prophet said, "I am here to answer your questions." The man said to the Prophet, "I want to ask you something and will be hard in questioning. So do not get angry." The Prophet said, "Ask whatever you want." The man said, "I ask you by your Lord, and the Lord of those who were before you, has Allah sent you as an Apostle to all the mankind?" The Prophet replied, "By Allah, yes." The man further said, "I ask you by Allah. Has Allah ordered you to offer five prayers in a day and night (24 hours).? He replied, "By Allah, Yes." The man further said, "I ask you by Allah! Has Allah ordered you to observe fasts during this month of the year (i.e. Ramadan)?" He replied, "By Allah, Yes." The man further said, "I ask you by Allah. Has Allah ordered you to take Zakat (obligatory charity) from our rich people and distribute it amongst our poor people?" The Prophet replied, "By Allah, yes." Thereupon that man said, "I have believed in all that with which you have been sent, and I have been sent by my people as a messenger, and I am Dimam bin Tha'laba from the brothers of Bani Sa'd bin Bakr."

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا انہوں نےکہا ہم سے لیث نے بیان کیا اُنہوں نے سعید مقبری سے اُنہوں نے شریک بن عبداللہ بن ابی نمر سے انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ مسجد میں بیٹھے تھے کہ ایک شخص اونٹ پر سوار آیا، اور اونٹ کو مسجد میں باندھ کر پوچھنے لگا(بھائیو)محمدﷺ کون ہیں،نبیﷺ اس وقت لوگوں میں تکیہ لگائے تشریف فرما تھے، ہم نےکہا محمدﷺ یہ سفید رنگ کے بزرگ ہیں، جو تکیہ لگائے بیٹھے ہیں، تب وہ آپﷺ سے کہنے لگا اے عبدالمطلب کے بیٹے آپﷺ نے فرمایا (کہہ ) میں سن رہا ہوں وہ کہنے لگا میں آپ سے چند سوالات کرنے آیا ہوں اور ذرا سختی سے سوال کروں گا آپ برا نہ مانیے گا، آپﷺ نے فرمایا( ایسی کوئی بات نہیں) جو جی چائے پوچھو، اس نے پوچھا میں آپ کو آپ کے مالک اور اگلے لوگوں کے مالک کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، کیا اللہ نے آپ کو(دنیا کے) سب لوگوں کی طرف رسول بنا کربھیجا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا جی ہاں، اُس نے کہا، میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا اللہ نے آپ کو رات دن میں پانچ نمازیں پڑھنے کا حکم دیا ہے؟، آپ ﷺ نےفرمایا ہاں یا میرے اللہ۔ پھر کہنے لگا میں آپ کو قسم دیتا ہوں کیا اللہ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ سال بھر میں اس مہینہ(یعنی رمضان) میں روزے رکھو ؟ آپﷺ نے فرمایا ہاں یا میرے اللہ، پھر کہنے لگا میں آپ کو قسم دیتا ہوں کیا اللہ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ ہم میں سے جو مالدار لوگ ہیں ان سے زکوٰۃ لے کر غریبوں میں تقسیم کر دو؟ نبیﷺ نے فرمایا ہاں یا میرے اللہ تب وہ شخص کہنے لگا میں اس پیغام پر ایمان لایا جو آپ ﷺ اللہ تعالی کی طرف سے لائے ہیں، میں اپنی قوم کا ایلچی ہوں ،میرا نام ضمام بن ثعلبہ ہے اور میرا تعلق بنی سعد بن بکر سے ہے ۔ اس حدیث کو (لیث کی طرح) موسی اور علی بن عبدالحمید نے سلیمان سے بواسطہ ثابت بروایت انس رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔

7. What is said regarding the hand to hand exchange (of books of knowledge), and the writing of knowledge by religious scholars to different countries.

Anas said that 'Uthman got the Quran transcribed and sent its copies to far-off places. Abdullah bin Umar, Yahya bin Sa'id and Malik consider it permissible, and some people of Hijaz supported this opinion depending on the narration of the Prophet (s.a.w), when the Prophet (s.a.w) got some instructions written to be given to the commander of the army, and told him not to read them till he had reached such and such place. When that commander reached that place he read out what had been written to the people and informed them of the orders of the Prophet (s.a.w)


حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ بِكِتَابِهِ رَجُلاً، وَأَمَرَهُ أَنْ يَدْفَعَهُ إِلَى عَظِيمِ الْبَحْرَيْنِ، فَدَفَعَهُ عَظِيمُ الْبَحْرَيْنِ إِلَى كِسْرَى، فَلَمَّا قَرَأَهُ مَزَّقَهُ‏.‏ فَحَسِبْتُ أَنَّ ابْنَ الْمُسَيَّبِ قَالَ فَدَعَا عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُمَزَّقُوا كُلَّ مُمَزَّقٍ

Narrated By 'Abdullah bin Abbas : Once Allah's Apostle gave a letter to a person and ordered him to go and deliver it to the Governor of Bahrain. (He did so) and the Governor of Bahrain sent it to Chousroes, who read that letter and then tore it to pieces. (The sub-narrator (Ibn Shihab) thinks that Ibn Al-Musaiyab said that Allah's Apostle invoked Allah against them (saying), "May Allah tear them into pieces, and disperse them all totally.)"

ہم سے اسمعیل بن عبداللہ نے بیان کیا انہوں نےکہا مجھ سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا انہوں نے صالح سے انہوں نے ابنِ شہاب سے انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ نے ایک شخص(عبداللہ بن حذافہ) کے ذریعے حاکمِ بحرین(منذر بن ساوی) کو ایک خط روانہ فرمایا، اس نے وہ خط کسری (پرویز) کو بھیج دیا اور جب کسری نے آپ ﷺ کا خط پڑھا تو پھاڑ ڈالا۔ ابنِ شہاب نے کہا میں سمجھتا ہوں، ابنِ مسیب نے(اس کے بعد مجھے ) کہا رسول اللہﷺ نے ایران والوں پر بدعاء فرمائی کہ وہ بھی (چاک شدہ خط کی طرح) ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے جائیں۔





حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الْحَسَنِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَتَبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم كِتَابًا ـ أَوْ أَرَادَ أَنْ يَكْتُبَ ـ فَقِيلَ لَهُ إِنَّهُمْ لاَ يَقْرَءُونَ كِتَابًا إِلاَّ مَخْتُومًا‏.‏ فَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ نَقْشُهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ‏.‏ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِهِ فِي يَدِهِ‏.‏ فَقُلْتُ لِقَتَادَةَ مَنْ قَالَ نَقْشُهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ قَالَ أَنَسٌ

Narrated By Anas bin Malik : Once the Prophet wrote a letter or had an idea of writing a letter. The Prophet was told that they (rulers) would not read letters unless they were sealed. So the Prophet got a silver ring made with "Muhammad Allah's Apostle" engraved on it. As if I were just observing its white glitter in the hand of the Prophet.

ہم سے بیان کیا محمد بن مقاتل نے جن کی کنیت ابو الحسن ہے انہوں نے کہا ہم سے بیان کیا عبداللہ بن مبارک نے انہوں نے کہا ہم کو خبر دی شعبہ نے انہوں نے قتادہ سے انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبیﷺ نے (کسی بادشاہ کے نام دعوتِ اسلام دینے کے لیے) ایک خط لکھا یا لکھنے کا ارادہ فرمایا تو لوگوں نے عرض کیا وہ لوگ صرف وہی خط پڑھتے ہیں جس پر مہر لگی ہو تو آپﷺ نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی، جس پر لکھا تھا۔محمدرسول اللہ۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا گویا میں(آج بھی) اس کی سفیدی آپﷺ کے ہاتھ میں دیکھ رہا ہوں شعبہ نے کہا میں نے قتادہ سے پوچھا کون کہتا ہے کہ اس پر محمد رسول اللہ لکھا تھا ؟ انہوں نے کہا انس رضی اللہ عنہ ۔

8. Whoever sat at the farther end of a gathering. And whoever found a place amongst a gathering and took his seat there.



حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّ أَبَا مُرَّةَ، مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ وَالنَّاسُ مَعَهُ، إِذْ أَقْبَلَ ثَلاَثَةُ نَفَرٍ، فَأَقْبَلَ اثْنَانِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَذَهَبَ وَاحِدٌ، قَالَ فَوَقَفَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَرَأَى فُرْجَةً فِي الْحَلْقَةِ فَجَلَسَ فِيهَا، وَأَمَّا الآخَرُ فَجَلَسَ خَلْفَهُمْ، وَأَمَّا الثَّالِثُ فَأَدْبَرَ ذَاهِبًا، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ أَلاَ أُخْبِرُكُمْ عَنِ النَّفَرِ الثَّلاَثَةِ أَمَّا أَحَدُهُمْ فَأَوَى إِلَى اللَّهِ، فَآوَاهُ اللَّهُ، وَأَمَّا الآخَرُ فَاسْتَحْيَا، فَاسْتَحْيَا اللَّهُ مِنْهُ، وَأَمَّا الآخَرُ فَأَعْرَضَ، فَأَعْرَضَ اللَّهُ عَنْهُ"

Narrated By Abu Waqid Al-Laithi : While Allah's Apostle was sitting in the mosque with some people, three men came. Two of them came in front of Allah's Apostle and the third one went away. The two persons kept on standing before Allah's Apostle for a while and then one of them found a place in the circle and sat there while the other sat behind the gathering, and the third one went away. When Allah's Apostle finished his preaching, he said, "Shall I tell you about these three persons? One of them be-took himself to Allah, so Allah took him into His grace and mercy and accommodated him, the second felt shy from Allah, so Allah sheltered Him in His mercy (and did not punish him), while the third turned his face from Allah and went away, so Allah turned His face from him likewise."

ہم سے اسمعیل نے بیان کیا انہوں نے کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا انہوں نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طالحہ سے ان کو ابی مرہ عقیل بن ابی طالب کے غلام نے خبر دی انہوں نے ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ایک دفعہ رسول اللہﷺ مسجد میں لوگوں کےساتھ تشریف فرما تھے کہ تین آدمی آئے ان میں سے دو آپ ﷺ کے پاس پہنچ گئے اور ایک واپس پلٹ گیا، ابو واقد فرماتے ہیں کہ ان میں سے ایک نے حلقہِ درس میں تھوڑی سی جگہ دیکھی اور وہاں بیٹھ گٰیا ، دوسرا لوگوں کے پیچھے بیٹھ گیا اور تیسرا واپس پلٹ گیا، جب رسول اللہ ﷺ وعظ سے فارغ ہوئے تو فرمایا کیا میں تمہیں تین آدمیوں کا حال نہ سناؤں؟ ان میں سے ایک نے اللہ کی پناہ لی تو اللہ نے اسے پناہ دے دی، دوسرے نے اللہ سے شرم محسوس کی تو اللہ نے بھی اس سے شرم کی(یعنی اسکے گناہ معاف فرما دیئے) اور تیسرے نے منہ موڑ لیا تو اللہ نے بھی اس سے منہ موڑ لیا۔

9. The Statement of the Prophet (s.a.w), "It is probable that a person who receives a piece of information indirectly may comprehend it better than he who has heard it directly from its source."



حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرٌ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، ذَكَرَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَعَدَ عَلَى بَعِيرِهِ، وَأَمْسَكَ إِنْسَانٌ بِخِطَامِهِ ـ أَوْ بِزِمَامِهِ ـ قَالَ ‏"‏ أَىُّ يَوْمٍ هَذَا ‏"‏‏.‏ فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ ‏"‏‏.‏ قُلْنَا بَلَى‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَأَىُّ شَهْرٍ هَذَا ‏"‏‏.‏ فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَلَيْسَ بِذِي الْحِجَّةِ ‏"‏‏.‏ قُلْنَا بَلَى‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ بَيْنَكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا‏.‏ لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ، فَإِنَّ الشَّاهِدَ عَسَى أَنْ يُبَلِّغَ مَنْ هُوَ أَوْعَى لَهُ مِنْهُ"

Narrated By 'Abdur Rahman bin Abi Bakra's father : Once the Prophet was riding his camel and a man was holding its rein. The Prophet asked, "What is the day today?" We kept quiet, thinking that he might give that day another name. He said, "Isn't it the day of Nahr (slaughtering of the animals of sacrifice)" We replied, "Yes." He further asked, "Which month is this?" We again kept quiet, thinking that he might give it another name. Then he said, "Isn't it the month of Dhul-Hijja?" We replied, "Yes." He said, "Verily! Your blood, property and honour are sacred to one another (i.e. Muslims) like the sanctity of this day of yours, in this month of yours and in this city of yours. It is incumbent upon those who are present to inform those who are absent because those who are absent might comprehend (what I have said) better than the present audience."

ہم سے بیان کیا مسدّد نے انہوں نے کہا ہم سے بیان کیا بشر نے انہوں نے کہا ہم سے بیان کیا ابنِ عون نے اُنہوں نے ابنِ سیرین سے اُنہوں نے عبدالرحمان بن ابی بکرہ سے انہوں نے اپنے باپ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ روایت کی کہ (منیٰ میں دس ذی الحجہ کو) نبی ﷺ اپنی اونٹنی پر سوار تھے اور ایک شخص آپ ﷺ کی اونٹنی کی نکیل یا لگام پکڑے کھڑا تھا، آپﷺ نے (لوگوں سے) فرمایا یہ کونسا دن ہے؟ ہم سب خاموش رہے کہ شاید رسول اللہﷺ اس دن کاکوئی اور نام تجویز فرمائیں گئے، پھر آپ ﷺ نے پوچھا کیا یہ یوم النحر (قربانی کا دن)نہیں؟ ہم نے عرض کی جی ہاں یہ یوم النحر ہے،پھر آپ ﷺ ںے پوچھا یہ کون سا مہینہ ہے؟ ہم پھر خاموش رہے کہ شاید آپ اس کا کوئی اور نام تجویز فرمائیں گئے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا کیا یہ ذو الحجہ نہیں؟ ہم نے عرض کی جی ہاں یہ ذوالحجہ ہی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا تو تمہارے خون ، تمہارے مال اور تمہاری آبروئیں ایک دوسرے پر اسی طرح سے حرام ہیں جس طرح اس دن ، اس مہینے اور اس شہر کی حرمت ہے، لہذا اے لوگو ( میرا یہ پیغام) ان لوگوں تک پہنچا دو جو یہاں نہیں ہیں اس لیے کہ ممکن ہے وہ اس بات کو آپ سے زیادہ یاد رکھنے والے ہوں۔

10. It is essential to know a thing first before saying or acting upon it,

According to the Statement of Allah, "So know that none has the right to be worshipped but Allah" (V.47:19) So Allah stated that one should acquire knowledge first. And religious scholars are the inheritors of the Prophets i.e., they inherit knowledge. And whoever gains knowledge is lucky and gains a great thing. And whoever followed a way to seek knowledge, Allah will make easy for him the way to Paradise. Allah said, "... It is only those who have knowledge among His slaves that fear Allah ..." (V.35:28) And Allah said, "... But none will understand them except those who have knowledge." (V.29:43) "And they will say, 'Had we but listened or used our intelligence, we would not have been among the dwellers of the blazing Fire'." (V.67:10) And Allah also said, "... Are those who know equal to those who know not? ..." (V.39:9) And the Prophet (s.a.w) said, "If Allah wants to do good to a person, He makes him comprehend the religion and verily, knowledge is attained by learning." Abu Dhar pointing towards his neck said, "If you put the sword on this and then I think that, before this sword could work, I can say even one sentence which I heard from the Prophet (s.a.w), I would surely say it." And Ibn Abbas said, "You should be religious scholars, forgiving, wise and learned men." And it is said that a religious scholar is the one who starts teaching people simple subjects of knowledge before touching big (difficult) ones.

11. The Prophet (s.a.w) used to take care of the people in preaching by selecting a suitable time so that they might not run away (never made them adverse or bored them with religious talk and knowledge all the time).



حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَتَخَوَّلُنَا بِالْمَوْعِظَةِ فِي الأَيَّامِ، كَرَاهَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا

Narrated By Ibn Mas'ud : The Prophet used to take care of us in preaching by selecting a suitable time, so that we might not get bored. (He abstained from pestering us with sermons and knowledge all the time

ہم سے بیان کیا محمد بن یوسف نے انہوں نے کہا ہم کو سفیان نے خبر دی انہوں نے اعمش سے انہوں نے ابووائل سے انہوں نے ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبیﷺ نے ہمیں نصیحت کرںے کے کیے کچھ دن مقرر فرما رکھے تھے تاکہ ہم اکتا نہ جائیں۔





حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ يَسِّرُوا وَلاَ تُعَسِّرُوا، وَبَشِّرُوا وَلاَ تُنَفِّرُوا"

Narrated By Anas bin Malik : The Prophet said, "Facilitate things to people (concerning religious matters), and do not make it hard for them and give them good tidings and do not make them run away (from Islam)."

ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے یحیی بن سعید نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا انہوں نے کہا مجھ سے ابو الیتاح نے بیان کیا انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا(لوگوں پر) آسانی کرو ،سختی نہ کرو ، خوش کرو اور نفرت نہ دلاؤ۔

12. Whoever fixed a special day for giving (a religious talk) to the students.



حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُذَكِّرُ النَّاسَ فِي كُلِّ خَمِيسٍ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَوَدِدْتُ أَنَّكَ ذَكَّرْتَنَا كُلَّ يَوْمٍ‏.‏ قَالَ أَمَا إِنَّهُ يَمْنَعُنِي مِنْ ذَلِكَ أَنِّي أَكْرَهُ أَنْ أُمِلَّكُمْ، وَإِنِّي أَتَخَوَّلُكُمْ بِالْمَوْعِظَةِ كَمَا كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَتَخَوَّلُنَا بِهَا، مَخَافَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا

Narrated By Abu Wail : 'Abdullah used to give a religious talk to the people on every Thursday. Once a man said, "O Aba 'Abdur-Rahman! (By Allah) I wish if you could preach us daily." He replied, "The only thing which prevents me from doing so, is that I hate to bore you, and no doubt I take care of you in preaching by selecting a suitable time just as the Prophet used to do with us, for fear of making us bored."

ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے جریر نے بیان کیا انہوں نے منصور سے انہوں نے ابووائل سے روایت کی کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہر جمعرات لوگوں کو وعظ فرمایا کرتے تھے، ایک شخص نے ان سے کہا اے ابو عبدالرحمان میری آرزو یہ ہے کہ آپ ہر روز وعظ فرمایا کریں، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا (یہ کچھ مشکل نہیں) مگر آپ کو اکتا دینا مجھے اچھا نہیں لگتا، اور میں(آپ لوگوں کی خوشی کا) موقع اور وقت دیکھ کر نصیحت کرتا ہوں جیسے نبیﷺ وقت اور موقع دیکھ کر نصیحت فرمایا کرتے تھے، کیوں کہ آپﷺ کو بھٰی یہی ڈر تھا کہ کہیں ہم اکتا نہ جائیں۔

13. If Allah wants to do good to a person, He makes him comprehend (the religion).



حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ قَالَ حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ، خَطِيبًا يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ، وَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَاللَّهُ يُعْطِي، وَلَنْ تَزَالَ هَذِهِ الأُمَّةُ قَائِمَةً عَلَى أَمْرِ اللَّهِ لاَ يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ ‏"

Narrated By Muawiya : I heard Allah's Apostle saying, "If Allah wants to do good to a person, He makes him comprehend the religion. I am just a distributor, but the grant is from Allah. (And remember) that this nation (true Muslims) will keep on following Allah's teachings strictly and they will not be harmed by any one going on a different path till Allah's order (Day of Judgment) is established."

ہم سے بیان کیا سعید بن عفیر نے انہوں نے کہا ہم سے بیان کیا ابنِ وہب نے انہوں نےیونس سے انہوں نے ابنِ شہاب سے کہ حمید بن عبدالرحمان نے بیان کیا کہ میں نے معاویہ رضی اللہ عنہ سے خطبے میں سنا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی جس کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتے ہیں اسے دین کی سمجھ عطاء فرما دیتے ہیں، میں تو تقسیم کرنے والا ہوں ، دینے والا تو اللہ ہے، اور یہ امت ہمیشہ اللہ کے حکم پر قائم رہے گی ، اور جو شخص ان کی مخالفت کرئے گا وہ انہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا، یہاں تک کہ اللہ کا حکم (قیامت ) آ جائے۔

14. (The superiority of) comprehending knowledge.



حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ قَالَ لِي ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ صَحِبْتُ ابْنَ عُمَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَلَمْ أَسْمَعْهُ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ حَدِيثًا وَاحِدًا، قَالَ كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأُتِيَ بِجُمَّارٍ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً مَثَلُهَا كَمَثَلِ الْمُسْلِمِ ‏"‏‏.‏ فَأَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ هِيَ النَّخْلَةُ، فَإِذَا أَنَا أَصْغَرُ الْقَوْمِ فَسَكَتُّ، قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هِيَ النَّخْلَةُ ‏"

Narrated By Ibn 'Umar : We were with the Prophet and a spadix of date-palm tree was brought to him. On that he said, "Amongst the trees, there is a tree which resembles a Muslim." I wanted to say that it was the date-palm tree but as I was the youngest of all (of them) I kept quiet. And then the Prophet said, "It is the date-palm tree."

ہم سے علی بن عبداللہ (مدینی) نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ،انہوں نے کہا مجھ سے ابن ابی نجیح نے کہا، انہوں نے مجاہد سے انہوں نے کہا میں مدینے تک عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما کے ساتھ رہا ، اس دوران سوائے اس حدیث کے اور کوئی حدیث انہوں نے بیان نہیں کی کہ ایک مرتبہ کا ذکر ہے ہم نبی ﷺ کے پاس بیٹھے تھے آپ ﷺ کے سامنے کجھور کا ایک گچھا لایا گیا، (جسے دیکھ کر) آپ ﷺ نے پوچھا درختوں میں ایک ایسا درخت ہے جس کی مثال مسلمان کی سی ہے بتاو وہ کون سا درخت ہے؟ میرے دل میں آیا کہ میں کہہ دوں وہ کھجور کا درخت ہے لیکن کم سنی کی وجہ سے شرما گیا اور خاموش رہا، آخر نبی ﷺ نے فرمایا وہ کجھور کا درخت ہے۔

15. Wish to be like the one who has knowledge and Al-Hikmah [wisdom i.e., the knowledge of the Quran and the Sunna (legal ways) of the Prophet (s.a.w)]

And Umar said, "Everyone must acquire sound religious knowledge early before he becomes a cheif." (Abu Abdullah said:) The companions of the Prophet (s.a.w) had studied inspite of the fact that they were old in age.


حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَلَى غَيْرِ مَا حَدَّثَنَاهُ الزُّهْرِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ حَسَدَ إِلاَّ فِي اثْنَتَيْنِ رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالاً فَسُلِّطَ عَلَى هَلَكَتِهِ فِي الْحَقِّ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الْحِكْمَةَ، فَهْوَ يَقْضِي بِهَا وَيُعَلِّمُهَا ‏"

Narrated By 'Abdullah bin Mas'ud : The Prophet said, "Do not wish to be like anyone except in two cases. (The first is) A person, whom Allah has given wealth and he spends it righteously; (the second is) the one whom Allah has given wisdom (the Holy Qur'an) and he acts according to it and teaches it to others." (Fateh-al-Bari page 177 Vol. 1)

ہم سے حمیدی نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا انہوں نے کہا مجھ سے اسماعیل بن ابی خالد نے ان لفظوں کے علاوہ بیان کیا جن سے زہری نے بیان کیا تھا،وہ کہتے ہیں میں نے قیس بن ابی حازم سے سنا ، انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبیﷺ نے فرمایا حسد (رشک) صرف دو باتوں میں جائز ہے، ایک تو اس شخص پر جسے اللہ نے مال عطاء فرمایا ہو اور وہ دن رات اسے اس کی راہ میں خرچ کرتا ہو، اور دوسرا وہ شخص جسے اللہ نے علم عطاء فرمایا ہو اور وہ اس کے ساتھ فیصلے کرتا ہو اور لوگوں کو سکھاتا ہو۔

16. What has been said about the journey of Prophet Musa (a.s) (when he went) in the sea to meet Al-Khidr.

And the Statement of Allah, "... May I follow you so that you teach me." (V.18:66)


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غُرَيْرٍ الزُّهْرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَ أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ تَمَارَى هُوَ وَالْحُرُّ بْنُ قَيْسِ بْنِ حِصْنٍ الْفَزَارِيُّ فِي صَاحِبِ مُوسَى قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ هُوَ خَضِرٌ‏.‏ فَمَرَّ بِهِمَا أُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ، فَدَعَاهُ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ إِنِّي تَمَارَيْتُ أَنَا وَصَاحِبِي، هَذَا فِي صَاحِبِ مُوسَى الَّذِي سَأَلَ مُوسَى السَّبِيلَ إِلَى لُقِيِّهِ، هَلْ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَذْكُرُ شَأْنَهُ قَالَ نَعَمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ بَيْنَمَا مُوسَى فِي مَلإٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ هَلْ تَعْلَمُ أَحَدًا أَعْلَمَ مِنْكَ قَالَ مُوسَى لاَ‏.‏ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَى مُوسَى بَلَى، عَبْدُنَا خَضِرٌ، فَسَأَلَ مُوسَى السَّبِيلَ إِلَيْهِ، فَجَعَلَ اللَّهُ لَهُ الْحُوتَ آيَةً، وَقِيلَ لَهُ إِذَا فَقَدْتَ الْحُوتَ فَارْجِعْ، فَإِنَّكَ سَتَلْقَاهُ، وَكَانَ يَتَّبِعُ أَثَرَ الْحُوتِ فِي الْبَحْرِ، فَقَالَ لِمُوسَى فَتَاهُ أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ، وَمَا أَنْسَانِيهِ إِلاَّ الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَهُ‏.‏ قَالَ ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِي، فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا، فَوَجَدَا خَضِرًا‏.‏ فَكَانَ مِنْ شَأْنِهِمَا الَّذِي قَصَّ اللَّهُ ـ عَزَّ وَجَلَّ ـ فِي كِتَابِهِ ‏"

Narrated By Ibn 'Abbas : That he differed with Hur bin Qais bin Hisn Al-Fazari regarding the companion of (the Prophet) Moses. Ibn 'Abbas said that he was Khadir. Meanwhile, Ubai bin Ka'b passed by them and Ibn 'Abbas called him, saying "My friend (Hur) and I have differed regarding Moses' companion whom Moses, asked the way to meet. Have you heard the Prophet mentioning something about him? He said, "Yes. I heard Allah's Apostle saying, "While Moses was sitting in the company of some Israelites, a man came and asked him. "Do you know anyone who is more learned than you? Moses replied: "No." So Allah sent the Divine Inspiration to Moses: 'Yes, Our slave Khadir (is more learned than you.)' Moses asked (Allah) how to meet him (Khadir). So Allah made the fish as a sign for him and he was told that when the fish was lost, he should return (to the place where he had lost it) and there he would meet him (Al-Khadir). So Moses went on looking for the sign of the fish in the sea. The servant-boy of Moses said to him: Do you remember when we betook ourselves to the rock, I indeed forgot the fish, none but Satan made me forget to remember it. On that Moses said: 'That is what we have been seeking? (18.64) So they went back retracing their foot-steps, and found Khadir. (And) what happened further to them is narrated in the Holy Qur'an by Allah. (18.54 up to 18.82)

مجھ سے محمد بن غریر زہری نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا انہوں نے کہا مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا انہوں نے صالح بن کیسان سے انہوں نے ابنِ شہاب سے نقل کیا، اور اُن سے عبیداللہ بن عبداللہ نے کہا ایک مرتبہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور حر بن قیس میں اس بات پر بحث چھڑ گئی کہ حضرت موسی علیہ السلام کس کے پاس گئے تھے، ابنِ عباس نےفرمایا خضر کے پاس گئے تھے، اتنے میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا وہاں سے گزر ہوا تو حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا ہم دونوں میں یہ بحث چل پڑی ہے کہ موسی علیہ السلام کس کے پاس گئے تھے اور کس سے ملنے کا انہوں نے راستہ پوچھا تھا ، کیا آپ نے اس بارے میں نبی ﷺ سے کچھ سنا ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں سنا ہے، نبی ﷺ نے فرمایا کہ ایک مرتبہ حضرت موسی علیہ السلام بنی اسرائیل کی ایک جماعت میں تشریف فرما تھے کہ ایک شخص نے آپ علیہ السلام سے پوچھا کیا آپ کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں جو آپ سے بھی زیادہ علم رکھتا ہو؟ حضرت موسی علیہ السلام نے جواب دیا نہیں میں نہیں جانتا کہ مجھ سے بھی زیادہ کسی کے پاس علم ہے، اللہ تعالی نے فرمایا ہمارا ایک بندہ خضر ہے جو آپ سے بھی زیادہ علم والا ہے، موسی علیہ السلام نے عرض کی میں اس تک کیونکر پہنچوں گا، اللہ تعالی نے ایک مچھلی کوان کی ملاقات کی علامت قرار دیتے ہوئے فرمایا: جب یہ مچھلی گم ہو جائے تو واپس لوٹ جانا تب خضر سے آپ کی ملاقات ہو گی، خیر موسی اپنے ساتھ یوشع بن نون کو لیے سمندر میں مچھلی کی جگہ تلاش کرتے جا رہے تھے تو یوشع نے کہا میں آپ کو مچھلی کا قصہ سنانا بھول گیا دراصل شیطان نے مچھے بھلا دیا تھا، وہ تو فلاں چٹان کے پاس سمندر میں چلی گئی تھی، موسی علیہ السلام نے فرمایا ہمیں اسی جگہ کی تلاش تو تھی لہذا دونوں واپس پلٹے اور اسی (مچھلی والی) جگہ خضر سے ملاقات ہو گئی،اور اس کے بعد تفصیلی قصہ وہی ہے جو اللہ تعالی نے قرآن میں بیان کیا ہے۔

17. The statement of the Prophet (s.a.w), "O Allah! Bestow on him (Ibn Abbas) the knowledge of the Book (the Quran)."



حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ ضَمَّنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ عَلِّمْهُ الْكِتَابَ ‏"

Narrated By Ibn 'Abbas : Once the Prophet embraced me and said, "O Allah! Bestow on him the knowledge of the Book (Qur'an)."

ہم سے ابو معمر نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے خالد نے بیان کیا انہوں نے عکرمہ سے انہوں نے ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے مجھے(اپنے سینے سے) لگایا اور دعا فرمائی یا اللہ ا سے قرآن کا علم عطاء فرما۔

18. At what age may a youth be listened to (i.e. quotation of the Hadith from a boy be acceptable).



حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَقْبَلْتُ رَاكِبًا عَلَى حِمَارٍ أَتَانٍ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ نَاهَزْتُ الاِحْتِلاَمَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي بِمِنًى إِلَى غَيْرِ جِدَارٍ، فَمَرَرْتُ بَيْنَ يَدَىْ بَعْضِ الصَّفِّ وَأَرْسَلْتُ الأَتَانَ تَرْتَعُ، فَدَخَلْتُ فِي الصَّفِّ، فَلَمْ يُنْكَرْ ذَلِكَ عَلَىَّ أَحَدٌ

Narrated By Ibn 'Abbas : Once I came riding a she-ass and had (just) attained the age of puberty. Allah's Apostle was offering the prayer at Mina. There was no wall in front of him and I passed in front of some of the row while they were offering their prayers. There I let the she-ass loose to graze and entered the row, and nobody objected to it.

ہم سے اسمعیل نے بیان کیا انہوں نے کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا انہوں نے ابنِ شہاب سے انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ ابنِ عتبہ سے انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ میں ایک مرتبہ ایک گدھی پہ سوار ہو کر آیا او ران دِنوں میں بلوغت کے قریب تھا ، نبی ﷺ منیٰ میں نماز پڑھا رہے تھے، اور آپ کے سامنے دیوار کی آڑ نہیں تھی (یعنی بطور سترہ دیوار کے علاوہ کوئی اور چیز تھی)، میں نے گدھی کو چرنےکے لیے چھوڑ دیا، اور صف کے کچھ حصے سے گزر کر نماز میں شامل ہو گیا، اور (اس کے باوجود) مجھ پر کسی نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔





حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، قَالَ عَقَلْتُ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَجَّةً مَجَّهَا فِي وَجْهِي وَأَنَا ابْنُ خَمْسِ سِنِينَ مِنْ دَلْوٍ

Narrated By Mahmud bin Rabi'a : When I was a boy of five, I remember, the Prophet took water from a bucket (used far getting water out of a well) with his mouth and threw it on my face.

مجھ سے محمد بن یوسف نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے ابومسہر نےبیان کیا انہوں نے کہا مجھ سے محمد بن حرب نے بیان کیا انہوں نےکہا مجھ سے زبیدی نے بیان کیا انہوں نے زہری سے انہوں نے محمود بن ربیع سے روایت کی کہ مجھے(ابھی تک)نبیﷺ کی وہ کلیّ یاد ہے جو آپﷺ نے ایک ڈول سے لے کر میرے منہ پر کی تھی اس وقت میں پانچ سال کا تھا۔

19. To go out in search of knowledge.

And Jabir bin Abdullah travelled for one month to get a single Hadith from Abdullah bin Unais


حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ، خَالِدُ بْنُ خَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ قَالَ الأَوْزَاعِيُّ أَخْبَرَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ تَمَارَى هُوَ وَالْحُرُّ بْنُ قَيْسِ بْنِ حِصْنٍ الْفَزَارِيُّ فِي صَاحِبِ مُوسَى، فَمَرَّ بِهِمَا أُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ، فَدَعَاهُ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ إِنِّي تَمَارَيْتُ أَنَا وَصَاحِبِي هَذَا فِي صَاحِبِ مُوسَى الَّذِي سَأَلَ السَّبِيلَ إِلَى لُقِيِّهِ، هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَذْكُرُ شَأْنَهُ فَقَالَ أُبَىٌّ نَعَمْ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَذْكُرُ شَأْنَهُ يَقُولُ ‏"‏ بَيْنَمَا مُوسَى فِي مَلإٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ أَتَعْلَمُ أَحَدًا أَعْلَمَ مِنْكَ قَالَ مُوسَى لاَ‏.‏ فَأَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى مُوسَى بَلَى، عَبْدُنَا خَضِرٌ، فَسَأَلَ السَّبِيلَ إِلَى لُقِيِّهِ، فَجَعَلَ اللَّهُ لَهُ الْحُوتَ آيَةً، وَقِيلَ لَهُ إِذَا فَقَدْتَ الْحُوتَ فَارْجِعْ، فَإِنَّكَ سَتَلْقَاهُ، فَكَانَ مُوسَى صلى الله عليه وسلم يَتَّبِعُ أَثَرَ الْحُوتِ فِي الْبَحْرِ‏.‏ فَقَالَ فَتَى مُوسَى لِمُوسَى أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ، وَمَا أَنْسَانِيهِ إِلاَّ الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَهُ‏.‏ قَالَ مُوسَى ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِي‏.‏ فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا، فَوَجَدَا خَضِرًا، فَكَانَ مِنْ شَأْنِهِمَا مَا قَصَّ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ ‏"

Narrated By Ibn 'Abbas : That he differed with Hur bin Qais bin Hisn Al-Fazari regarding the companion of the Prophet Moses. Meanwhile, Ubai bin Ka'b passed by them and Ibn 'Abbas called him saying, "My friend (Hur) and I have differed regarding Moses' companion whom Moses asked the way to meet. Have you heard Allah's Apostle mentioning something about him? Ubai bin Ka'b said: "Yes, I heard the Prophet mentioning something about him (saying) while Moses was sitting in the company of some Israelites, a man came and asked him: "Do you know anyone who is more learned than you? Moses replied: "No." So Allah sent the Divine Inspiration to Moses: '...Yes, Our slave Khadir is more learned than you. Moses asked Allah how to meet him (Al-Khadir). So Allah made the fish a sign for him and he was told when the fish was lost, he should return (to the place where he had lost it) and there he would meet him (Al-Khadir). So Moses went on looking for the sign of the fish in the sea. The servant-boy of Moses said: 'Do you remember when we betook ourselves to the rock, I indeed forgot the fish, none but Satan made me forget to remember it. On that Moses said, 'That is what we have been seeking.' So they went back retracing their footsteps, and found Kha,dir. (and) what happened further about them is narrated in the Holy Qur'an by Allah." (18.54 up to

ہم سے ابوالقاسم خالد بن خلی حمص کے قاضی نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سےمحمد بن حرب نے بیان کیا انہوں نے کہا ہمیں اوزاعی نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم کو زہری نے خبردی انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعودؓ سے نقل کیا کہ ایک مرتبہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور حر بن قیس میں اس بات پر بحث چھڑ گئی کہ حضرت موسی علیہ السلام کس کے پاس گئے تھے، ابنِ عباس نےفرمایا خضر کے پاس گئے تھے، اتنے میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا وہاں سے گزر ہوا تو حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا ہم دونوں میں یہ بحث چل پڑی ہے کہ موسی علیہ السلام کس کے پاس گئے تھے اور کس سے ملنے کا انہوں نے راستہ پوچھا تھا ، کیا آپ نے اس بارے میں نبی ﷺ سے کچھ سنا ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں سنا ہے، نبی ﷺ نے فرمایا کہ ایک مرتبہ حضرت موسی علیہ السلام بنی اسرائیل کی ایک جماعت میں تشریف فرما تھے کہ ایک شخص نے آپ علیہ السلام سے پوچھا کیا آپ کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں جو آپ سے بھی زیادہ علم رکھتا ہو؟ حضرت موسی علیہ السلام نے جواب دیا نہیں میں نہیں جانتا کہ مجھ سے بھی زیادہ کسی کے پاس علم ہے، اللہ تعالی نے فرمایا ہمارا ایک بندہ خضر ہے جو آپ سے بھی زیادہ علم والا ہے، موسی علیہ السلام نے عرض کی میں اس تک کیونکر پہنچوں گا، اللہ تعالی نے ایک مچھلی کوان کی ملاقات کی علامت قرار دیتے ہوئے فرمایا: جب یہ مچھلی گم ہو جائے تو واپس لوٹ جانا تب خضر سے آپ کی ملاقات ہو گی، خیر موسی اپنے ساتھ یوشع بن نون کو لیے سمندر میں مچھلی کی جگہ تلاش کرتے جا رہے تھے تو یوشع نے کہا میں آپ کو مچھلی کا قصہ سنانا بھول گیا دراصل شیطان نے مچھے بھلا دیا تھا، وہ تو فلاں چٹان کے پاس سمندر میں چلی گئی تھی، موسی علیہ السلام نے فرمایا ہمیں اسی جگہ کی تلاش تو تھی لہذا دونوں واپس پلٹے اور اسی (مچھلی والی) جگہ خضر سے ملاقات ہو گئی،اور اس کے بعد تفصیلی قصہ وہی ہے جو اللہ تعالی نے قرآن میں بیان کیا ہے۔

20. The superiority of a person who learns (Islam, becomes a religious scholar) and then teaches it to others.



حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَثَلُ مَا بَعَثَنِي اللَّهُ بِهِ مِنَ الْهُدَى وَالْعِلْمِ كَمَثَلِ الْغَيْثِ الْكَثِيرِ أَصَابَ أَرْضًا، فَكَانَ مِنْهَا نَقِيَّةٌ قَبِلَتِ الْمَاءَ، فَأَنْبَتَتِ الْكَلأَ وَالْعُشْبَ الْكَثِيرَ، وَكَانَتْ مِنْهَا أَجَادِبُ أَمْسَكَتِ الْمَاءَ، فَنَفَعَ اللَّهُ بِهَا النَّاسَ، فَشَرِبُوا وَسَقَوْا وَزَرَعُوا، وَأَصَابَتْ مِنْهَا طَائِفَةً أُخْرَى، إِنَّمَا هِيَ قِيعَانٌ لاَ تُمْسِكُ مَاءً، وَلاَ تُنْبِتُ كَلأً، فَذَلِكَ مَثَلُ مَنْ فَقِهَ فِي دِينِ اللَّهِ وَنَفَعَهُ مَا بَعَثَنِي اللَّهُ بِهِ، فَعَلِمَ وَعَلَّمَ، وَمَثَلُ مَنْ لَمْ يَرْفَعْ بِذَلِكَ رَأْسًا، وَلَمْ يَقْبَلْ هُدَى اللَّهِ الَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ قَالَ إِسْحَاقُ وَكَانَ مِنْهَا طَائِفَةٌ قَيَّلَتِ الْمَاءَ‏.‏ قَاعٌ يَعْلُوهُ الْمَاءُ، وَالصَّفْصَفُ الْمُسْتَوِي مِنَ الأَرْضِ

Narrated By Abu Musa : The Prophet said, "The example of guidance and knowledge with which Allah has sent me is like abundant rain falling on the earth, some of which was fertile soil that absorbed rain water and brought forth vegetation and grass in abundance. (And) another portion of it was hard and held the rain water and Allah benefited the people with it and they utilized it for drinking, making their animals drink from it and for irrigation of the land for cultivation. (And) a portion of it was barren which could neither hold the water nor bring forth vegetation (then that land gave no benefits). The first is the example of the person who comprehends Allah's religion and gets benefit (from the knowledge) which Allah has revealed through me (the Prophets and learns and then teaches others. The last example is that of a person who does not care for it and does not take Allah's guidance revealed through me (He is like that barren land.)"

ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے حماد بن اسامہ نے بیان کیا انہوں نے برید بن عبداللہ سے انہوں نے ابوبردہ سے انہوں نے ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبیﷺ نے فرمایا اللہ تعالی نے جو علم اور ہدایت مجھے دے کر بھیجا ہے اس کی مثال اس زور دار بارش کی سی ہے جو زمین پر برستی ہے ، زمین کے کچھ حصے ایسے ہوتے ہیں جو پانی جذب کر لیتے ہیں اور پھر گھاس اور سبزہ اگتا ہے، اور بعض حصے سخت ہوتے ہیں جن میں پانی ٹھر جاتا ہے، اللہ اس سے لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے ، لوگ اس سے سیراب ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی پلاتے ہیں، اور زمیں کے کچھ حصے چٹیل ہوتے ہیں جن میں پانی ٹھہرتا ہے نہ جذب ہوتا ہے ، یہ مثال اس شخص کی ہے جس نے دین میں سمجھ پیدا کی اور میری تعلیمات سے فائدہ اٹھایا ، خود بھی سیکھا اور دوسروں کو بھی سکھایا، اور اس شخص کی مثال بھی ہے جس نے سر ہی نہ اٹھایا (یعنی توجہ ہی نہ کی) اور میری تعلیمات نہ مانیں، امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اسحاق نے قیّلت الماء کا ذکر کیا ہے، قاع اس خطہِ زمین کو کہتے ہیں جس میں پانی نہ ٹھہرے اور (قرآن میں جو قاعا صفصفا آیا ہے) اس سے مراد ہموار زمین ہے۔

21. (What is said regarding) the disappearance of the (religious) knowledge and the appearance of (religious) ignorance.

And Rabia said, "It is not wise for a person who has been gifted with a part of the (religious) knowledge to ruin himself (by abstaining from teaching it to others.)"


حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ، وَيَثْبُتَ الْجَهْلُ، وَيُشْرَبَ الْخَمْرُ، وَيَظْهَرَ الزِّنَا ‏"

Narrated By Anas : Allah's Apostle said, "From among the portents of the Hour are (the following):

1. Religious knowledge will be taken away (by the death of Religious learned men).
2. (Religious) ignorance will prevail.
3. Drinking of Alcoholic drinks (will be very common).
4. There will be prevalence of open illegal sexual intercourse.

ہم سے عمران بن میسرہ نے بیان کیا انہوں نےکہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا انہوں نے ابو التیاح سے انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا علاماتِ قیامت میں سے یہ ہے کہ علمِ دین اٹھ جائے گا (ہر طرف) جہالت ہی جہالت ہو گی، شراب نوشی اور زنا عام ہو جائے گا۔





حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ لأُحَدِّثَنَّكُمْ حَدِيثًا لاَ يُحَدِّثُكُمْ أَحَدٌ بَعْدِي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يَقِلَّ الْعِلْمُ، وَيَظْهَرَ الْجَهْلُ، وَيَظْهَرَ الزِّنَا، وَتَكْثُرَ النِّسَاءُ وَيَقِلَّ الرِّجَالُ، حَتَّى يَكُونَ لِخَمْسِينَ امْرَأَةً الْقَيِّمُ الْوَاحِدُ ‏"

Narrated By Anas : I will narrate to you a Hadith and none other than I will tell you about after it. I heard Allah's Apostle saying: From among the portents of the Hour are (the following):

1. Religious knowledge will decrease (by the death of religious learned men).
2. Religious ignorance will prevail.
3. There will be prevalence of open illegal sexual intercourse.
4. Women will increase in number and men will decrease in number so much so that fifty women will be looked after by one man.

ہم سے مسدد نے بیان کیا انہوں نےکہا ہم سے یحیی بن سعید نے بیان کیا انہوں نے شعبہ سے انہوں نے قتادہ سے انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ میں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں جو میرے بعد کوئی نہیں سنائے گا، میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ علمِ دین کم ہو جائے گا، (ہر طرف ) جہالت ہی جہالت ہو گی، زنا علانیہ ہو نے لگے گا، اور عورتوں کی اتنی کثرت ہو جائے گی کہ پچاس عورتوں کا نگران صرف ایک شخص ہو گا۔

22. The superiority of (religious) knowledge



حدثنا سعيد بن عفير، قال حدثني الليث، قال حدثني عقيل، عن ابن شهاب، عن حمزة بن عبد الله بن عمر، أن ابن عمر، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ بينا أنا نائم أتيت بقدح لبن، فشربت حتى إني لأرى الري يخرج في أظفاري، ثم أعطيت فضلي عمر بن الخطاب ‏"‏‏.‏ قالوا فما أولته يا رسول الله قال ‏"‏ العلم ‏"

Narrated By Ibn 'Umar : Allah's Apostle said, "While I was sleeping, I saw that a cup full of milk was brought to me and I drank my fill till I noticed (the milk) its wetness coming out of my nails. Then I gave the remaining milk to 'Umar Ibn Al-Khattab" The companions of the Prophet asked, "What have you interpreted (about this dream)? "O Allah's Apostle ,!" he replied, "(It is religious) knowledge."

ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا انہوں نے کہا مجھ سے لیث نے بیان کیا انہوں نے کہا مجھ سے عقیل نے بیان کیا انہوں نے ابنِ شہاب سے انہوں نے حمزہ بن عبداللہ بن عمرؓ سے انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ میں نےرسول اللہﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے میں سو رہا تھا او ر میرے سامنے دودھ کا ایک پیالہ پیش کیا گیا، میں نے خوب سیر ہو کر پیا حتی کہ میں نے دیکھا اسکی تازگی میرے ناخنوں سے نکل رہی ہے، پھر باقی دودھ عمر کو دے دیا، صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی کہ آپ نے اس کی کیا تعبیر کی؟ آپﷺ نے فرمایا : علم۔

23. To give a religious verdict while riding an animal or standing on anything else.



حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَفَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِمِنًى لِلنَّاسِ يَسْأَلُونَهُ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ لَمْ أَشْعُرْ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ اذْبَحْ وَلاَ حَرَجَ ‏"‏‏.‏ فَجَاءَ آخَرُ فَقَالَ لَمْ أَشْعُرْ، فَنَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ارْمِ وَلاَ حَرَجَ ‏"‏‏.‏ فَمَا سُئِلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ شَىْءٍ قُدِّمَ وَلاَ أُخِّرَ إِلاَّ قَالَ افْعَلْ وَلاَ حَرَجَ

Narrated By 'Abdullah bin Amr bin Al 'Aas : Allah's Apostle stopped (for a while near the Jimar) at Mina during his last Hajj for the people and they were asking him questions. A man came and said, "I forgot and got my head shaved before slaughtering the Hadi (sacrificing animal)." The Prophet said, "There is no harm, go and do the slaughtering now." Then another person came and said, "I forgot and slaughtered (the camel) before Rami (throwing of the pebbles) at the Jamra." The Prophet said, "Do the Rami now and there is no harm."The narrator added: So on that day, when the Prophet was asked about anything (as regards the ceremonies of Hajj) performed before or after its due time, his reply was: "Do it (now) and there is no harm."

ہم سے اسمعیل نے بیان کیا انہوں نے کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا انہوں نے ابنِ شہاب سے انہوں نے عیسی بن طلحہ بن عبیداللہ سے انہوں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ حجۃ الوداع کے موقع پر لوگوں کے مسائل سننے کی غرض سے منی میں ٹھہر گئے، ایک شخص آیا اس نےعرض کی میں نے بے خبری میں قربانی سے پہلے ہی سر منڈوا لیا ہے، آپﷺ نے فرمایا: کوئی حرج نہیں اب قربانی کر لو ، دوسرا آیا اس نے کہا میں نے بے خبری میں رمی ( کنکریاں مارنے ) سے پہلے ہی قربانی کر لی، آپﷺ نے فرمایا : کوئی حرج نہیں اب رمی کر لو، عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس دن آپﷺ سے ایسے کسی کام کے بارے میں پوچھا گیا جس میں تقدیم و تاخیر ہو گئی تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا: اب کر لو کوئی حرج نہیں۔

24. Whoever gave a religious verdict by beckoning or by nodding.



حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ فِي حَجَّتِهِ فَقَالَ ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، فَأَوْمَأَ بِيَدِهِ قَالَ وَلاَ حَرَجَ‏.‏ قَالَ حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ‏.‏ فَأَوْمَأَ بِيَدِهِ وَلاَ حَرَجَ

Narrated By Ibn 'Abbas : Somebody said to the Prophet (during his last Hajj), "I did the slaughtering before doing the Rami.' The Prophet beckoned with his hand and said, "There is no harm in that." Then another person said. "I got my head shaved before offering the sacrifice." The Prophet beckoned with his hand saying, "There is no harm in that."

ہم سے بیان کیا موسی بن اسمعیل نے انہوں نے کہا ہم سے بیان کیا وہیب نے انہوں نے کہا ہم سے بیان کیا ایوب نے انہوں نے عکرمہ سے انہوں نے ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبیﷺسے حجۃ الوداع کے موقع پر ایک شخص نے پوچھا میں نے رمی سے پہلے ہی قربانی کر لی آپﷺ نے ہاتھ سے اشارہ کیا اور فرمایا کوئی حرج نہیں، دوسرے نے پوچھا: میں نے قربانی سے پہلے ہی سر منڈوا لیا تو آپﷺ نے ہاتھ کے اشارے سے فرمایا: کوئی حرج نہیں۔





حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ سَالِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ يُقْبَضُ الْعِلْمُ، وَيَظْهَرُ الْجَهْلُ وَالْفِتَنُ، وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ ‏"‏‏.‏ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْهَرْجُ فَقَالَ هَكَذَا بِيَدِهِ، فَحَرَّفَهَا، كَأَنَّهُ يُرِيدُ الْقَتْلَ

Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "(Religious) knowledge will be taken away (by the death of religious scholars) ignorance (in religion) and afflictions will appear; and Harj will increase." It was asked, "What is Harj, O Allah's Apostle?" He replied by beckoning with his hand indicating "killing." (Fateh-al-Bari Page 192, Vol. 1)

ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم کو حنظلہ نے خبر دی انہوں نے سالم سے نقل کیا انہوں نے کہا میں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبیﷺ نےفرمایا: علم اٹھا لیا جائے گا، جہالت اور فتنے پھیل جائیں گے اور ہرج بڑھ جائے گا، آپﷺ سے پوچھا گیا ہرج کیا ہے؟ آپﷺ نے اپنے ہاتھ سے (گلے کی طرف) اشارہ کرتے ہوئے فرمایا اس طرح، گویا کہ آپﷺ نے اس سے قتل مراد لی۔





حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ أَتَيْتُ عَائِشَةَ وَهِيَ تُصَلِّي فَقُلْتُ مَا شَأْنُ النَّاسِ فَأَشَارَتْ إِلَى السَّمَاءِ، فَإِذَا النَّاسُ قِيَامٌ، فَقَالَتْ سُبْحَانَ اللَّهِ‏.‏ قُلْتُ آيَةٌ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا، أَىْ نَعَمْ، فَقُمْتُ حَتَّى تَجَلاَّنِي الْغَشْىُ، فَجَعَلْتُ أَصُبُّ عَلَى رَأْسِي الْمَاءَ، فَحَمِدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ ‏"‏ مَا مِنْ شَىْءٍ لَمْ أَكُنْ أُرِيتُهُ إِلاَّ رَأَيْتُهُ فِي مَقَامِي حَتَّى الْجَنَّةَ وَالنَّارَ، فَأُوحِيَ إِلَىَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي قُبُورِكُمْ، مِثْلَ ـ أَوْ قَرِيبًا لاَ أَدْرِي أَىَّ ذَلِكَ قَالَتْ أَسْمَاءُ ـ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، يُقَالُ مَا عِلْمُكَ بِهَذَا الرَّجُلِ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ ـ أَوِ الْمُوقِنُ لاَ أَدْرِي بِأَيِّهِمَا قَالَتْ أَسْمَاءُ ـ فَيَقُولُ هُوَ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ جَاءَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى، فَأَجَبْنَا وَاتَّبَعْنَا، هُوَ مُحَمَّدٌ‏.‏ ثَلاَثًا، فَيُقَالُ نَمْ صَالِحًا، قَدْ عَلِمْنَا إِنْ كُنْتَ لَمُوقِنًا بِهِ، وَأَمَّا الْمُنَافِقُ ـ أَوِ الْمُرْتَابُ لاَ أَدْرِي أَىَّ ذَلِكَ قَالَتْ أَسْمَاءُ ـ فَيَقُولُ لاَ أَدْرِي، سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا فَقُلْتُهُ ‏"

Narrated By Asma : I came to 'Aisha while she was praying, and said to her, "What has happened to the people?" She pointed out towards the sky. (I looked towards the mosque), and saw the people offering the prayer. 'Aisha said, "Subhan Allah." I said to her, "Is there a sign?" She nodded with her head meaning, "Yes." I, too, then stood (for the prayer of eclipse) till I became (nearly) unconscious and later on I poured water on my head.

After the prayer, the Prophet praised and glorified Allah and then said, "Just now at this place I have seen what I have never seen before, including Paradise and Hell. No doubt it has been inspired to me that you will be put to trials in your graves and these trials will be like the trials of Masiah-ad-Dajjal or nearly like it (the sub narrator is not sure which expression Asma' used). You will be asked, 'What do you know about this man (the Prophet Muhammad)?' Then the faithful believer (or Asma' said a similar word) will reply, 'He is Muhammad Allah's Apostle who had come to us with clear evidences and guidance and so we accepted his teachings and followed him. And he is Muhammad.' And he will repeat it thrice. Then the angels will say to him, 'Sleep in peace as we have come to know that you were a faithful believer.' On the other hand, a hypocrite or a doubtful person will reply, 'I do not know, but I heard the people saying something and so I said it.' (the same)."

ہم سے موسی بن اسمعیل نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا انہوں نےکہا ہم سے ہشام نے بیان کیا انہوں نے فاطمہ سے سنا انہوں نے اسماء بنتِ ابی بکرؓ سے روایت کی کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی وہ نماز پڑھ رہی تھیں میں نے کہا لوگوں کو کیا ہوا ہے (وہ پریشان کیوں ہیں) انہوں نے آسمان کی طرف اشارہ کیا ( یعنی سورج گرہن ہوا ہے) اتنے میں لوگ نماز کے لیے کھڑے ہو گئے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا سبحان اللہ ، میں نے کہا کیا یہ کوئی خاص نشانی ہے؟ انہوں نے سر کے اشارے سے کہا ہاں ، تب میں بھی نماز کے لیے کھڑی ہو گئی حتی کہ مجھ پر غشی طاری ہونے لگی اور میں نے اپنے سر پر پانی بھانا شروع کیا، پھر (نماز سے فارغ ہونے کے بعد) آپﷺ نے اللہ تعالی کی حمدو ثنا کی اور فرمایا : جو چیزیں اس سے پہلے مجھے نہیں دکھلائی گئی تھیں وہ میں نے آج یہاں دیکھ لی ہیں ، حتی کہ میں نے جنت اور جہنم کو بھی دیکھا، پھر مجھ پر وحی کی گئی کہ تم لوگ اپنی قبروں میں اس طرح یا اس کے قریب (فاطمہ کو یاد نہیں کہ اسماؓء نے کون سا کلمہ کہا) آزمائے جاو گئے جیسے مسیح الدجال کے ذریعے آزمائے جاو گئے، وہاں (قبر میں) پوچھا جائے گا آپ اس شخص (محمدﷺ) کے بارے میں کیا اعتقاد رکھتے تھے؟ جو شخص صاحبِ ایمان یا صاحبِ یقین (فاطمہ کو یاد نہیں کہ اسماؓء نے کون سا کلمہ کہا) ہو گا وہ کہے گا یہ محمد ﷺ ہیں جو اللہ کی طرف سے کھلی نشانیاں اور ہدایت کی باتیں لے کر ہمارے پاس آئے جنہیں ہم نے قبول کیا اور ان کی پیروی کی، وہ شخص تین بار یہ کلمات دہرائے گا، پھر اسے کہا جائے گا آرام سے سو جاو ہم (پہلے ہی ) جانتے تھے کہ تو ان پر یقین رکھتا ہے، باقی رہا منافق یا شک کرنے والا (فاطمہ کو یاد نہیں کہ اسماؓء نے کون سا کلمہ کہا) تو وہ کہے گا : مجھے نہیں معلوم میں تو وہ کہتا تھا جو لوگ کہتے تھے۔

25. The Prophet (s.a.w) urged the people (mission) of Abdul Qais to memorize the faith and the (religious) knowledge (as he explained to them) and to inform (convey) to their people whom they have left behind (at home).

Narrated Malik bin Al-Huwairith that the Prophet (s.a.w) said to them, "Go back to your people and teach them."


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، قَالَ كُنْتُ أُتَرْجِمُ بَيْنَ ابْنِ عَبَّاسٍ وَبَيْنَ النَّاسِ فَقَالَ إِنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ أَتَوُا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ مَنِ الْوَفْدُ ـ أَوْ مَنِ الْقَوْمُ ‏"‏‏.‏ قَالُوا رَبِيعَةُ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ مَرْحَبًا بِالْقَوْمِ ـ أَوْ بِالْوَفْدِ ـ غَيْرَ خَزَايَا وَلاَ نَدَامَى ‏"‏‏.‏ قَالُوا إِنَّا نَأْتِيكَ مِنْ شُقَّةٍ بَعِيدَةٍ، وَبَيْنَنَا وَبَيْنَكَ هَذَا الْحَىُّ مِنْ كُفَّارِ مُضَرَ، وَلاَ نَسْتَطِيعُ أَنْ نَأْتِيَكَ إِلاَّ فِي شَهْرٍ حَرَامٍ فَمُرْنَا بِأَمْرٍ نُخْبِرْ بِهِ مَنْ وَرَاءَنَا، نَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ‏.‏ فَأَمَرَهُمْ بِأَرْبَعٍ، وَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ أَمَرَهُمْ بِالإِيمَانِ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَحْدَهُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ هَلْ تَدْرُونَ مَا الإِيمَانُ بِاللَّهِ وَحْدَهُ ‏"‏‏.‏ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ شَهَادَةُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامُ الصَّلاَةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَصَوْمُ رَمَضَانَ، وَتُعْطُوا الْخُمُسَ مِنَ الْمَغْنَمِ ‏"‏‏.‏ وَنَهَاهُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ‏.‏ قَالَ شُعْبَةُ رُبَّمَا قَالَ النَّقِيرِ، وَرُبَّمَا قَالَ الْمُقَيَّرِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ احْفَظُوهُ وَأَخْبِرُوهُ مَنْ وَرَاءَكُمْ ‏"

Narrated By Abu Jamra : I was an interpreter between the people and Ibn 'Abbas. Once Ibn 'Abbas said that a delegation of the tribe of 'Abdul Qais came to the Prophet who asked them, "Who are the people (i.e. you)? (Or) who are the delegates?" They replied, "We are from the tribe of Rabi'a." Then the Prophet said to them, "Welcome, O people (or said, "O delegation (of 'Abdul Qais).") Neither will you have disgrace nor will you regret." They said, "We have come to you from a distant place and there is the tribe of the infidels of Mudar intervening between you and us and we cannot come to you except in the sacred month. So please order us to do something good (religious deeds) and that we may also inform our people whom we have left behind (at home) and that we may enter Paradise (by acting on them.)" The Prophet ordered them to do four things, and forbade them from four things. He ordered them to believe in Allah Alone, the Honourable the Majestic and said to them, "Do you know what is meant by believing in Allah Alone?" They replied, "Allah and His Apostle know better." Thereupon the Prophet said, "(That means to testify that none has the right to be worshipped but Allah and that Muhammad is His Apostle, to offer prayers perfectly, to pay Zakat, to observe fasts during the month of Ramadan, (and) to pay Al-Khumus (one fifth of the booty to be given in Allah's cause)." Then he forbade them four things, namely Ad-Dubba.' Hantam, Muzaffat (and) An-Naqir or Muqaiyar(These were the names of pots in which alcoholic drinks used to be prepared). The Prophet further said, "Memorize them (these instructions) and tell them to the people whom you have left behind."

ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا انہوں نےکہا ہم سے غندر(محمد بن جعفر) نےبیان کیا انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا انہوں نے ابی جمرہ سے روایت کی کہ میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور (اہلِ بصرہ) کے درمیان ترجمان تھا، تو عبداللہ بن عباسؓ نے بتایا عبدالقیس کے کچھ لوگ آئے آپﷺ نے پوچھا یہ کس کے بھیجے ہوئے لوگ ہیں یا کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا ہم ربیعہ والے ہیں آپﷺ نے انہیں خوش آمدید کہا، وہ کہنے لگے یا رسول اللہ ﷺ ہم آپ کی خدمت میں صرف حرمت والے مہینوں میں آ سکتے ہیں، کیونکہ ہمارے اور آپ کے درمیان مضر کے کافروں کا یہ قبیلہ آبادہے تو آپ ہمیں ایسی قطعی چیز بتلائیے جس کی خبر ہم اپنے ان لوگوں کو بھی دیں جو یہاں نہیں آئے، اور خود بھٰی اس پر عمل پیرا ہو کر جنت میں داخل ہو سکیں، اور انہوں نے نبی ﷺ سے برتنوں کے بارے میں بھی پوچھا آپ ﷺ نے انہیں چار باتوں کا حکم دیا اور چار قسم کے برتنوں کے استعمال سے منع فرمایا، حکم یہ دیا کہ اللہ وحدہ لا شریک پر ایمان لاو پھر آپ ﷺ نے پوچھا کیا آپ کو اس کا علم ہے؟انہوں نے کہا اللہ اور اسکے رسول ہی بہتر جا نتے ہیں، آپﷺ نے فرمایا اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا اور کوئی عبادت کے لائق نہیں ،محمد ﷺ اس کے سچے رسول ہیں ، نماز قائم کرنا ، زکوٰۃ دینا ، رمضان کے روزے رکھنا اور مال غنیمت کا پانچواں حصہ بیت المال میں جمع کروانا، اور چار قسم کے برتنوں سے منع کیا سبز لاکھی مرتبان ، کدو کے تونبے ، کرید کئے ہوئے لکڑی کے برتن اور مزفت یا مقیر (یعنی روغنی برتن) سے ( یہ وہ برتن ہیں جن میں دور جاہلیت میں لوگ شراب بنایا کرتے تھے) اور فرمایا ان باتوں کو یاد رکھو اور جو لوگ تمہارے پیچھے(اپنے ملک میں ہیں) ان کو بھی بتلا دو۔

26. To travel seeking an answer to a problematic matter, and to teach it to one’s family.



حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الْحَسَنِ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّهُ تَزَوَّجَ ابْنَةً لأَبِي إِهَابِ بْنِ عَزِيزٍ، فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُ عُقْبَةَ وَالَّتِي تَزَوَّجَ بِهَا‏.‏ فَقَالَ لَهَا عُقْبَةُ مَا أَعْلَمُ أَنَّكِ أَرْضَعْتِنِي وَلاَ أَخْبَرْتِنِي‏.‏ فَرَكِبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْمَدِينَةِ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ كَيْفَ وَقَدْ قِيلَ ‏"‏‏.‏ فَفَارَقَهَا عُقْبَةُ، وَنَكَحَتْ زَوْجًا غَيْرَهُ

Narrated By 'Abdullah bin Abi Mulaika : 'Uqba bin Al-Harith said that he had married the daughter of Abi Ihab bin 'Aziz. Later on a woman came to him and said, "I have suckled (nursed) Uqba and the woman whom he married (his wife) at my breast." 'Uqba said to her, "Neither I knew that you have suckled (nursed) me nor did you tell me." Then he rode over to see Allah's Apostle at Medina, and asked him about it. Allah's Apostle said, "How can you keep her as a wife when it has been said (that she is your foster-sister)?" Then Uqba divorced her, and she married another man.

ہم سے محمد بن مقاتل ابوالحسن نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبردی انہوں نے کہا ہم کو عمر بن سعید نے خبردی انہوں کہا مجھ سے عبداللہ بن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ عقبہ بن حارث نے ابو اہاب بن عزیز کی بیٹی (غنیہ) سے شادی کی تو ایک عورت ان کے پاس آئی اور کہنے لگی میں نے آپ اور آپ کی دلہن کو دودھ پلایا ہے، (یعنی آپ دونوں رضائی بہن بھائی ہیں) عقبہ نے کہا مجھے تو نہیں معلوم کہ آپ نے مجھے دودھ پلایا ہے اور کبھی آپ نے اس کا تذکر بھی نہیں کیا، اس کے بعد عقبہ (اس کا حل دریافت کرنے کے لیے) اپنے ملک سے آپ ﷺ کی خدمت میں مدینہ پہنچے تو آپ ﷺ نے فرمایا (اے عقبہ) تو اس عورت سے کیسے (نکاح برقرار رکھ سکتاہے) جب کہ اسکے بارے میں ایسی بات کہ دی گئی ہے، تو عقبہ نے اسے چھوڑ دیا اور پھر اس عورت نے کسی اور سے نکاح کر لیا۔

27. To fix the duties in rotation for learning (religious) knowledge.



حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، ح قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَقَالَ ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ كُنْتُ أَنَا وَجَارٌ، لِي مِنَ الأَنْصَارِ فِي بَنِي أُمَيَّةَ بْنِ زَيْدٍ، وَهْىَ مِنْ عَوَالِي الْمَدِينَةِ، وَكُنَّا نَتَنَاوَبُ النُّزُولَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْزِلُ يَوْمًا وَأَنْزِلُ يَوْمًا، فَإِذَا نَزَلْتُ جِئْتُهُ بِخَبَرِ ذَلِكَ الْيَوْمِ مِنَ الْوَحْىِ وَغَيْرِهِ، وَإِذَا نَزَلَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، فَنَزَلَ صَاحِبِي الأَنْصَارِيُّ يَوْمَ نَوْبَتِهِ، فَضَرَبَ بَابِي ضَرْبًا شَدِيدًا‏.‏ فَقَالَ أَثَمَّ هُوَ فَفَزِعْتُ فَخَرَجْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ قَدْ حَدَثَ أَمْرٌ عَظِيمٌ‏.‏ قَالَ فَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ فَإِذَا هِيَ تَبْكِي فَقُلْتُ طَلَّقَكُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ لاَ أَدْرِي‏.‏ ثُمَّ دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ وَأَنَا قَائِمٌ أَطَلَّقْتَ نِسَاءَكَ قَالَ ‏"‏ لاَ ‏"‏‏.‏ فَقُلْتُ اللَّهُ أَكْبَرُ

Narrated By 'Umar : My Ansari neighbour from Bani Umaiya bin Zaid who used to live at 'Awali Al-Medina and used to visit the Prophet by turns. He used to go one day and I another day. When I went I used to bring the news of that day regarding the Divine Inspiration and other things, and when he went, he used to do the same for me. Once my Ansari friend, in his turn (on returning from the Prophet), knocked violently at my door and asked if I was there." I became horrified and came out to him. He said, "Today a great thing has happened." I then went to Hafsa and saw her weeping. I asked her, "Did Allah's Apostle divorce you all?" She replied, "I do not know." Then, I entered upon the Prophet and said while standing, "Have you divorced your wives?" The Prophet replied in the negative. On what I said, "Allahu-Akbar (Allah is Greater)." (See Hadith No. 119, Vol. 3 for details)

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیاانہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبردی انہوں نے زہری سے ، دوسری سند، امام بخاری نے کہا (ابنِ وہب نے کہا ہم کو یونس نے خبردی انہوں نے ابنِ شہاب سے انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن ابی ثور سے انہوں نے عبداللہ بن عباسؓ سے انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ میں اور میرا ایک انصاری پڑوسی مدینہ کے اطراف میں بنی امیہ بن زید کے گاؤں میں رہا کرتے تھے اور ہم دونوں (حصولِ علم کے لیے) باری باری نبی ﷺ کی خدمت میں پیش ہوتے ، ایک دن وہ جاتا اور ایک دن میں، جس دن میں جاتا اس دن وحی اور آپﷺ کے فرامین سے متعلقہ جتنی باتیں ہوتیں وہ میں اسے بتا دیتا، اور وہ بھی ایسا ہی کرتا، ایک دن ایسا ہوا کہ میرے دوست کی باری تھی اور واپسی پر اس نے میرا دروازہ بہت زور سے کھٹکایا اور کہنے لگا عمر ہیں؟ میں گبھرا کر باہر نکلا تو وہ کہنے لگا آج تو بڑا معاملہ پیش آ گیا ہے، یہ سن کر میں (اپنی بیٹی) حفصہ کے پاس گیا اور وہ رو رہی تھیں، میں نے پوچھا کیا اللہ کے رسول ﷺ نے آپ کو طلاق دے دی ہے؟ اس نے کہا میں نہٰیں جانتی، پھر میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش ہوا اور( اسی حالت میں) کھڑے کھڑے ہی پوچھا کیا آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟ آپﷺ نے فرمایا نہیں تو میں نے کہا: اللہ اکبر۔

28. To be furious while preaching or teaching if one sees what one hates.



حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لاَ أَكَادُ أُدْرِكُ الصَّلاَةَ مِمَّا يُطَوِّلُ بِنَا فُلاَنٌ، فَمَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِي مَوْعِظَةٍ أَشَدَّ غَضَبًا مِنْ يَوْمِئِذٍ فَقَالَ ‏"‏ أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ مُنَفِّرُونَ، فَمَنْ صَلَّى بِالنَّاسِ فَلْيُخَفِّفْ، فَإِنَّ فِيهِمُ الْمَرِيضَ وَالضَّعِيفَ وَذَا الْحَاجَةِ ‏"

Narrated By Abu Mas'ud Al-Ansari : Once a man said to Allah's Apostle "O Allah's Apostle! I may not attend the (compulsory congregational) prayer because so and so (the Imam) prolongs the prayer when he leads us for it. The narrator added: "I never saw the Prophet more furious in giving advice than he was on that day. The Prophet said, "O people! Some of you make others dislike good deeds (the prayers). So whoever leads the people in prayer should shorten it because among them there are the sick the weak and the needy (having some jobs to do)."

ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی انہوں نے اسمعیل بن ابی خالد سے انہوں نے قیس بن ابی حازم سے انہوں نے ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک شخص (حزم بن أبی کعب)نے عرض کی یا رسول اللہﷺ میں فلاں شخص (معاذ بن جبل) کی لمبی قرآءت کی وجہ سے جماعت میں شریک نہیں ہو سکتا، ابو مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی ﷺ کو دورانِ وعظ آج سے زیادہ کبھی غصہ میں نہیں دیکھا، آپﷺ نے فرمایا تم لوگوں کو متنفر کرتے ہو ، لہذا امام کو چاہیے کہ وہ ہلکی نماز پڑھائے کیوں کہ بعض لوگ بیمار ، بعض کمزور اور بعض حاجت مند ہوتے ہیں۔





حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ الْمَدِينِيُّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَزِيدَ، مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سَأَلَهُ رَجُلٌ عَنِ اللُّقَطَةِ فَقَالَ ‏"‏ اعْرِفْ وِكَاءَهَا ـ أَوْ قَالَ وِعَاءَهَا ـ وَعِفَاصَهَا، ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً، ثُمَّ اسْتَمْتِعْ بِهَا، فَإِنْ جَاءَ رَبُّهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ ‏"‏‏.‏ قَالَ فَضَالَّةُ الإِبِلِ فَغَضِبَ حَتَّى احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ ـ أَوْ قَالَ احْمَرَّ وَجْهُهُ ـ فَقَالَ ‏"‏ وَمَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا، تَرِدُ الْمَاءَ، وَتَرْعَى الشَّجَرَ، فَذَرْهَا حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا ‏"‏‏.‏ قَالَ فَضَالَّةُ الْغَنَمِ قَالَ ‏"‏ لَكَ أَوْ لأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ ‏"

Narrated By Zaid bin Khalid Al-Juhani : A man asked the Prophet about the picking up of a "Luqata" (fallen lost thing). The Prophet replied, "Recognize and remember its tying material and its container, and make public announcement (about it) for one year, then utilize it but give it to its owner if he comes." Then the person asked about the lost camel. On that, the Prophet got angry and his cheeks or his Face became red and he said, "You have no concern with it as it has its water container, and its feet and it will reach water, and eat (the leaves) of trees till its owner finds it." The man then asked about the lost sheep. The Prophet replied, "It is either for you, for your brother (another person) or for the wolf."

ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے ابو عامر عقدی نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے سلیمان بن بلال مدینی نے بیان کیا انہوں نے ربیعہ بن ابی عبدالرحمان سے انہوں نے یزید سے جو منبعت کے غلام تھے انہوں نے زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبیﷺ سے ایک شخص (عمیر یا بلال) نے ( راستے میں )پڑی ہوئی چیز سے متعلق پوچھا ، آپ ﷺ نے فرمایا: اس کا بندھ ، برتن یا اسکی تھیلی(بطورِ نشانی) پہچان کر ایک سال تک اس کا اعلان کرو ، پھر (اس کا مالک نہ ملے تو) اسے استعمال میں لاو، پھر اگر اس کا مالک آ جائے تو اسے واپس لوٹا دو، اس شخص نے پھر پوچھا گم شدہ اونٹ کے بارے میں کیا حکم ہے؟ یہ سن کر آپﷺ اتنے غصہ ہوئے کہ رخسار یا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا( راوی کو شک ہے) آپ ﷺ نے فرمایا تجھے اونٹ سے کیا غرض اس کے ساتھ اسکی مشک اور اس کے پاؤں ہیں وہ پانی پی لے گا اور درختوں کے پتے کھا لے گا، لہذا اسے چھوڑ دو حتی کہ اس کا مالک اسے پا لے، اس شخص نے گم شدہ بکری کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: وہ تیری ہے یا تیرے بھائی کی ہے یا پھر اسے بھیڑیا کھا جائے گا۔





حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَشْيَاءَ كَرِهَهَا، فَلَمَّا أُكْثِرَ عَلَيْهِ غَضِبَ، ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ ‏"‏ سَلُونِي عَمَّا شِئْتُمْ ‏"‏‏.‏ قَالَ رَجُلٌ مَنْ أَبِي قَالَ ‏"‏ أَبُوكَ حُذَافَةُ ‏"‏‏.‏ فَقَامَ آخَرُ فَقَالَ مَنْ أَبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ ‏"‏ أَبُوكَ سَالِمٌ مَوْلَى شَيْبَةَ ‏"‏‏.‏ فَلَمَّا رَأَى عُمَرُ مَا فِي وَجْهِهِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَتُوبُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

Narrated By Abu Musa : The Prophet was asked about things which he did not like, but when the questioners insisted, the Prophet got angry. He then said to the people, "Ask me anything you like." A man asked, "Who is my father?" The Prophet replied, "Your father is Hudhafa." Then another man got up and said, "Who is my father, O Allah's Apostle ?" He replied, "Your father is Salim, Maula (the freed slave) of Shaiba." So when 'Umar saw that (the anger) on the face of the Prophet he said, "O Allah's Apostle! We repent to Allah (Our offending you)."

ہم سے محمدبن علاء نے بیان کیاانہوں نے کہا ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا انہوں نے برید سے انہوں نے ابو بردہ سے انہوں نے ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ لوگوں نےنبیﷺ سے ایسی باتیں پوچھنا شروع کیں جنہیں آپﷺ نے ناپسند فرمایا، حتی کہ کثرتِ سؤالات کی بنا پر آپﷺ کو غصہ آ گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اچھا جو پوچھنا چاہو پوچھو، لہذا ایک شخص (عبد اللہ بن حذافہ) نے پوچھا: میرا باپ کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: حذافہ، دوسرے(سعید بن سالم) نے پوچھا: میرا باپ کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: سالم شیبہ کا غلام، اتنے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کے چہرہِ مبارک پر غصہ کے آثار دیکھے تو عرض کی اے اللہ کے رسول ﷺ ہم اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرتے ہیں۔

29. Whoever knelt down before the Imam or a (religious) preacher.



حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ، فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ فَقَالَ مَنْ أَبِي فَقَالَ ‏"‏ أَبُوكَ حُذَافَةُ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ أَكْثَرَ أَنْ يَقُولَ ‏"‏ سَلُونِي ‏"‏‏.‏ فَبَرَكَ عُمَرُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ فَقَالَ رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالإِسْلاَمِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم نَبِيًّا، فَسَكَتَ

Narrated By Anas bin Malik : One day Allah's Apostle came out (before the people) and 'Abdullah bin Hudhafa stood up and asked (him) "Who is my father?" The Prophet replied, "Your father is Hudhafa." The Prophet told them repeatedly (in anger) to ask him anything they liked. 'Umar knelt down before the Prophet and said thrice, "We accept Allah as (our) Lord and Islam as (our) religion and Muhammad as (our) Prophet." After that the Prophet became silent.

ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی انہوں نے زہری سے روایت کی انہوں نے کہا مجھ کو انس بن مالک نے خبردی کہ رسول اللہﷺ(گھر سے) باہر تشریف لائے تو عبداللہ بن حذافہؓ پوچھنے لگے میرا باپ کون ہے آپﷺ نے فرمایا: تیرا باپ حذافہ ہے، پھر بار بار فرمانے لگے پوچھو پوچھو ،آخر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے(یہ حال دیکھ کر) دوزانو ہو کر عرض کی: ہم اللہ کے رب ہونے ، اسلام کے دین ہونے اور حضرت محمدﷺ کےنبی ہونے سے خوش ہیں (تین بار یہ کہا) پھر آپ ﷺ خاموش ہو گئے۔

30. Repeating one’s talk thrice in order to make others understand.

The Prophet (s.a.w) said, "Beware from giving a false statement," and he kept on repeating it (Hadith No. 2654) Ibn Umar said that the Prophet (s.a.w) said thrice, "Haven't I conveyed Allah's Message?"


حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ إِذَا سَلَّمَ سَلَّمَ ثَلاَثًا، وَإِذَا تَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ أَعَادَهَا ثَلاَثًا

Narrated By Anas : Whenever the Prophet asked permission to enter, he knocked the door thrice with greeting and whenever he spoke a sentence (said a thing) he used to repeat it thrice. (See Hadith No. 261, Vol. 8).

ہم سے عبدہ نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے عبدالصمد نے بیان کیا انہوں نےکہا ہم سے عبداللہ بن مثنی نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے ثمامہ بن عبداللہ ابنِ انسؓ نے بیان کیا انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی ﷺ جب سلام کرتے تو تین بار کرتے اور جب کوئی بات کرتے تو اسے تین بار دہراتے۔





حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ إِذَا تَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ أَعَادَهَا ثَلاَثًا حَتَّى تُفْهَمَ عَنْهُ، وَإِذَا أَتَى عَلَى قَوْمٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ ثَلاَثًا

Narrated By Anas : Whenever the Prophet spoke a sentence (said a thing), he used to repeat it thrice so that the people could understand it properly from him and whenever he asked permission to enter, (he knocked the door) thrice with greeting.

ہم سے عبدہ نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے عبدالصمد نے بیان کیا انہوں نےکہا ہم سے عبداللہ بن مثنی نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے ثمامہ بن عبداللہ ابنِ انسؓ نے بیان کیا انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ جب کوئی بات کرتے تو اسے تین بار دہراتے تاکہ لوگ خوب سمجھ لیں، اور جب کسی کے ہاں تشریف لے جاتے تو تین بار سلام کرتے۔





حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ تَخَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ سَافَرْنَاهُ فَأَدْرَكَنَا وَقَدْ أَرْهَقْنَا الصَّلاَةَ صَلاَةَ الْعَصْرِ وَنَحْنُ نَتَوَضَّأُ، فَجَعَلْنَا نَمْسَحُ عَلَى أَرْجُلِنَا، فَنَادَى بِأَعْلَى صَوْتِهِ ‏"‏ وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ ‏"‏‏.‏ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا

Narrated By 'Abdullah bin 'Amr : Once Allah's Apostle remained behind us in a journey. He joined us while we were performing ablution for the 'Asr prayer which was over-due. We were just passing wet hands over our feet (not washing them properly) so the Prophet addressed us in a loud voice and said twice or thrice, "Save your heels from the fire."

ہم سے مسدد نے بیان کیا انہوں نےکہا ہم سے ابو عوانہ نے بیان کیا انہوں نے ابو بشر سے انہوں نے یوسف بن ماہک سے انہوں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ ایک دفعہ دورانِ سفر رسول اللہﷺ ہم سے پیچھے رہ گئے، اور عین نمازِ عصر کے وقت واپس تشریف لائے ، اور ہم وضو کر رہے تھے ، جب آپ ﷺ نے دیکھا کہ ہم پاؤں اچھی طرح نہیں دھو رہے تو باآوازِ بلند فرمایا: (خشک ) ایڑیوں کے لیے ہلاکت ہے۔

31. A man teaching (religion to) his woman-slave and his family.



حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ـ هُوَ ابْنُ سَلاَمٍ ـ حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ حَيَّانَ، قَالَ قَالَ عَامِرٌ الشَّعْبِيُّ حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ ثَلاَثَةٌ لَهُمْ أَجْرَانِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ آمَنَ بِنَبِيِّهِ، وَآمَنَ بِمُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم وَالْعَبْدُ الْمَمْلُوكُ إِذَا أَدَّى حَقَّ اللَّهِ وَحَقَّ مَوَالِيهِ، وَرَجُلٌ كَانَتْ عِنْدَهُ أَمَةٌ ‏{‏يَطَؤُهَا‏}‏ فَأَدَّبَهَا، فَأَحْسَنَ تَأْدِيبَهَا، وَعَلَّمَهَا فَأَحْسَنَ تَعْلِيمَهَا، ثُمَّ أَعْتَقَهَا فَتَزَوَّجَهَا، فَلَهُ أَجْرَانِ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ قَالَ عَامِرٌ أَعْطَيْنَاكَهَا بِغَيْرِ شَىْءٍ، قَدْ كَانَ يُرْكَبُ فِيمَا دُونَهَا إِلَى الْمَدِينَةِ

Narrated By Abu Burda's father (Abu Musa) : Allah's Apostle said "Three persons will have a double reward:

1. A Person from the people of the scriptures who believed in his prophet (Jesus or Moses) and then believed in the Prophet Muhammad (i .e. has embraced Islam).
2. A slave who discharges his duties to Allah and his master.
3. A master of a woman-slave who teaches her good manners and educates her in the best possible way (the religion) and manumits her and then marries her."

ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیاانہوں نے کہا ہم سے عبدالرحمان محاربی نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے صالح بن حیان نے بیان کیا انہوں نے کہا عامر شعبی بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے ابوبردہ نے بیان کیا انہوں نے اپنے باپ ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا تین آدمیوں کو دوہرا ثواب ملے گا ایک تو اہلِ کتاب میں سے وہ شخص جو اپنےنبی پر ایمان لایا اور پھر محمدﷺ پر ایمان لایا ، دوسرا وہ غلام جو اللہ کے حق کے ساتھ ساتھ اپنے مالکوں کا حق بھی ادا کرے، اور تیسرا وہ شخص جس کے پاس ایک لونڈی ہو اور وہ اس کے ساتھ صحبت کرتا ہے ، اسے ادب سکھاتا ہے، اسے اچھی طرح تعلیم دیتا ہے اور اسکے بعد اسے آزاد کر کے اس سے شادی کرلیتا ہے، عامر شعبی رحمہ اللہ نے (صالح سے) کہا ہم نے یہ حدیث آپ کو مفت ہی سنا دی جب کہ ایک زمانہ تھا لوگ اس سے بھی کم حدیث کی خاطر مدینہ کا سفر کرتے تھے۔

32. The preaching (and teaching) of the (religious) knowledge to women by the Imam (Chief)



حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ سَمِعْتُ عَطَاءً، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ أَشْهَدُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ـ أَوْ قَالَ عَطَاءٌ أَشْهَدُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ وَمَعَهُ بِلاَلٌ، فَظَنَّ أَنَّهُ لَمْ يُسْمِعِ النِّسَاءَ فَوَعَظَهُنَّ، وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ، فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُلْقِي الْقُرْطَ وَالْخَاتَمَ، وَبِلاَلٌ يَأْخُذُ فِي طَرَفِ ثَوْبِهِ‏.‏ وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عَطَاءٍ وَقَالَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَشْهَدُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم

Narrated By Ibn 'Abbas : Once Allah's Apostle came out while Bilal was accompanying him. He went towards the women thinking that they had not heard him (i.e. his sermon). So he preached them and ordered them to pay alms. (Hearing that) the women started giving alms; some donated their ear-rings, some gave their rings and Bilal was collecting them in the corner of his garment.

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا کہ ایوب نے کہا میں نے عطا بن ابی رباح سے سنا انہوں نے کہا میں نے ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ میں نبی ﷺ پر گواہی دیتا ہوں یا عطاء نے کہا میں ابن عباسؓ پر گواہی دیتا ہوں (راوی کو شک ہے) کہ رسول اللہﷺ (مردوں کی صف سے) نکلے اور بلال آپ ﷺ کے ساتھ تھے، آپﷺ نے سوچا شاید عورتوں تک میری آواز نہیں پہنچی، لہذا آپ ﷺ انہیں وعظ فرمانے کے لیے تشریف لے گئے، انہیں خیرات کرنے کا حکم دیا، (حتی کہ عورتوں کا یہ حال تھا کہ)کوئی اپنی بالی خیرات کر رہی تھی اور کوئی انگوٹھی، اور بلال انہیں ایک کپڑے میں جمع کرتے جا رہے تھے، اس حدیث کو اسمعیل بن علیہ نے ایوب سے اور انہوں نے عطاء سے روایت کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نبی ﷺ پر گواہی دیتا ہوں (یعنی اس میں کوئی شک نہیں)

33. Eagerness to (learn) the Hadith.



حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَقَدْ ظَنَنْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَنْ لاَ يَسْأَلَنِي عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ أَحَدٌ أَوَّلُ مِنْكَ، لِمَا رَأَيْتُ مِنْ حِرْصِكَ عَلَى الْحَدِيثِ، أَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، خَالِصًا مِنْ قَلْبِهِ أَوْ نَفْسِهِ ‏"

Narrated By Abu Huraira : I said: "O Allah's Apostle! Who will be the luckiest person, who will gain your intercession on the Day of Resurrection?" Allah's Apostle said: O Abu Huraira! "I have thought that none will ask me about it before you as I know your longing for the (learning of) Hadiths. The luckiest person who will have my intercession on the Day of Resurrection will be the one who said sincerely from the bottom of his heart "None has the right to be worshipped but Allah."

And 'Umar bin 'Abdul 'Aziz wrote to Abu Bakr bin Hazm, "Look for the knowledge of Hadith and get it written, as I am afraid that religious knowledge will vanish and the religious learned men will pass away (die). Do not accept anything save the Hadiths of the Prophet. Circulate knowledge and teach the ignorant, for knowledge does not vanish except when it is kept secretly (to oneself)."

ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا انہوں نےکہا مجھ سے سلیمان نے بیان کیا انہوں نے عمرو بن ابی عمرو سے انہوں نے سعید بن ابی سعید مقبری سے انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول روزِ قیامت آپ ﷺ کی شفاعت کا سب سے زیادہ حقدار کون ہو گا؟ آپﷺ نے فرمایا: مجھے یقین تھا کہ تجھ سے پہلے کوئی یہ سوال نہیں کرے گا، کیوں کہ میں نے تم میں علم حدیث کی حرص دیکھ لی تھی، قیامت کے دن میری شفاعت کا سب سے زیادہ حقدار وہ ہو گا جو سچے دل سے لا الہ اللہ کہے گا۔

34. How the (religious) knowledge will be taken away?

And Umar bin Abdul Aziz wrote to Abu Bakr ibn Hazm, "Look for the knowledge of Hadith and get it written, as I am afraid that religious knowledge will vanish and the religious learned me will pass away (die). Do not accept anything save the Hadith of the Prophet (s.a.w). Spread knowledge and teach the ignorant, for the knowledge does not vanish except when it is kept secretly (to oneself)."


حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ لاَ يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا، يَنْتَزِعُهُ مِنَ الْعِبَادِ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ، حَتَّى إِذَا لَمْ يُبْقِ عَالِمًا، اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوسًا جُهَّالاً فَسُئِلُوا، فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ، فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا ‏"‏‏.‏ قَالَ الْفِرَبْرِيُّ حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ قَالَ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ هِشَامٍ نَحْوَهُ

Narrated By 'Abdullah bin 'Amr bin Al' As : I heard Allah's Apostle saying, "Allah does not take away the knowledge, by taking it away from (the hearts of) the people, but takes it away by the death of the religious learned men till when none of the (religious learned men) remains, people will take as their leaders ignorant persons who when consulted will give their verdict without knowledge. So they will go astray and will lead the people astray."

ہم سے اسمعیل بن ابی اویس نے بیان کیا انہوں نےکہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا انہوں نے ہشام بن عروہ سے انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ: اللہ تعالی علم کو اس طرح نہیں اٹھائے گا کہ بندوں سے چھین لے ، بلکہ پختہ علماء کو اٹھا کر علم کو اٹھائے گا، حتی کہ کوئی عالم باقی نہیں رہے گا اور لوگ جاہلوں کو اپنا سردار بنا لیں گئے، ان سے مسائل پوچھیں گئے تو وہ جاہل انہیں بغیر علم کے فتوے دیں گئے جس کی وجہ سے خود بھی گمراہ ہوں گئے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گئے، فِربری نے کہا ہم سے عباس نے بیان کیا انہوں نے قتیتہ سے انہوں نےجریر سے انہوں نے ہشام سے اسی کی مانند۔

35. Should a day be fixed for women in order to teach them religion (apart from men)?



حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ الأَصْبَهَانِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ، ذَكْوَانَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ،‏.‏ قَالَتِ النِّسَاءُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم غَلَبَنَا عَلَيْكَ الرِّجَالُ، فَاجْعَلْ لَنَا يَوْمًا مِنْ نَفْسِكَ‏.‏ فَوَعَدَهُنَّ يَوْمًا لَقِيَهُنَّ فِيهِ، فَوَعَظَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ، فَكَانَ فِيمَا قَالَ لَهُنَّ ‏"‏ مَا مِنْكُنَّ امْرَأَةٌ تُقَدِّمُ ثَلاَثَةً مِنْ وَلَدِهَا إِلاَّ كَانَ لَهَا حِجَابًا مِنَ النَّارِ ‏"‏‏.‏ فَقَالَتِ امْرَأَةٌ وَاثْنَيْنِ فَقَالَ ‏"‏ وَاثْنَيْنِ ‏"

Narrated By Abu Said Al-Khudri : Some women requested the Prophet to fix a day for them as the men were taking all his time. On that he promised them one day for religious lessons and commandments. Once during such a lesson the Prophet said, "A woman whose three children die will be shielded by them from the Hell fire." On that a woman asked, "If only two die?" He replied, "Even two (will shield her from the Hell-fire)."

ہم سے آدم نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا انہوں نے کہا مجھ سے عبدالرحمان بن عبداللہ اصبہانی نے کہا میں نے ابوصالح ذکوان سے سنا کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: (کچھ) عورتوں نے نبیﷺ سے عرض کی ( آپ سے فیض یاب ہونے میں) مرد ہم سے آگے نکل گئے ہیں آپ ہمارے لیے بھی کوئی دن مقرر فرمائیں، لہذا حسبِ وعدہ ایک دن آپﷺ ان کے پاس تشریف لے گئے او ر وعظ فرمایا اس میں ایک بات یہ بھی تھی کہ جو عورت تین بچے آگے بھیجے ( یعنی فوت ہو جائیں) تو وہ اس کے لیے جہنم سے آڑ بن جائیں گئے، ایک عورت نے عرض کی اگر دو بھیجے تو ؟ آپ ﷺ نے فرمایا دو (کا بھی یہی حکم ہے)۔





حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَصْبَهَانِيِّ، عَنْ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا‏.‏ وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَصْبَهَانِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ ‏"‏ ثَلاَثَةً لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ ‏"

Narrated By Abu Said Al-Khudri : As above (the sub narrators are different). Abu Huraira qualified the three children referred to in the above mentioned Hadith as not having reached the age of committing sins (i.e. age of puberty).

ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے غندر نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا انہوں نے عبدالرحمان بن اصبہانی سے انہوں نے ذکوان سے انہوں نےابو سعید خدری سے انھوں نےنبیﷺ سے یہی حدیث بیان کی، اور شعبہ نے اس کو روایت کیا عبدالرحمان بن اصبہانی سے انہوں نے کہا میں نے سنا ابو حازم سے انہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی جس میں یوں ہے، تین بچے جو جوان نہ ہوئے ہوں۔

36. Whoever heard something (but did not understand it) and then asked again till he understood it completely.



حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم كَانَتْ لاَ تَسْمَعُ شَيْئًا لاَ تَعْرِفُهُ إِلاَّ رَاجَعَتْ فِيهِ حَتَّى تَعْرِفَهُ، وَأَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنْ حُوسِبَ عُذِّبَ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ أَوَ لَيْسَ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى ‏{‏فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا‏}‏ قَالَتْ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّمَا ذَلِكَ الْعَرْضُ، وَلَكِنْ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ يَهْلِكْ ‏"

Narrated By Ibn Abu Mulaika : Whenever 'Aisha (the wife of the Prophet) heard anything which she did not understand, she used to ask again till she understood it completely. 'Aisha said: "Once the Prophet said, "Whoever will be called to account (about his deeds on the Day of Resurrection) will surely be punished." I said, "Doesn't Allah say: "He surely will receive an easy reckoning." (84.8) The Prophet replied, "This means only the presentation of the accounts but whoever will be argued about his account, will certainly be ruined."

ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم کو نافع نے خبر دی انہوں نے کہا مجھ سے ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی عادتِ مبارکہ تھی کہ اگر کوئی بات سمجھ نہ آتی تو پوچھ لیا کرتی تھیں، (ایک مرتبہ ایسے ہوا کہ) نبی ﷺ نے فرمایا: جس سے حساب لیا گیا وہ عذاب میں پڑ جائےگا،حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے پوچھا: کیا اللہ تعالی یہ نہیں فرماتا کہ عنقریب ان سے آسان حساب لیا جائے گا، آپﷺ نے فرمایا: یہ صرف پیشی ہے (یعنی اعمال بتا دینا) لیکن جس سے جانچ پڑتال ہوئی وہ ہلاک ہو گیا۔

37. It is obligatory on those who are present [in a religious meeting (or conference)] to convey the knowledge to those who are absent.

This statement has come from the Prophet (s.a.w) on the authority of Ibn Abbas.


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدٌ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ، أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ وَهْوَ يَبْعَثُ الْبُعُوثَ إِلَى مَكَّةَ ائْذَنْ لِي أَيُّهَا الأَمِيرُ أُحَدِّثْكَ قَوْلاً قَامَ بِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْغَدَ مِنْ يَوْمِ الْفَتْحِ، سَمِعَتْهُ أُذُنَاىَ وَوَعَاهُ قَلْبِي، وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنَاىَ، حِينَ تَكَلَّمَ بِهِ، حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ إِنَّ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللَّهُ، وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ، فَلاَ يَحِلُّ لاِمْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ يَسْفِكَ بِهَا دَمًا، وَلاَ يَعْضِدَ بِهَا شَجَرَةً، فَإِنْ أَحَدٌ تَرَخَّصَ لِقِتَالِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيهَا فَقُولُوا إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَذِنَ لِرَسُولِهِ، وَلَمْ يَأْذَنْ لَكُمْ‏.‏ وَإِنَّمَا أَذِنَ لِي فِيهَا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، ثُمَّ عَادَتْ حُرْمَتُهَا الْيَوْمَ كَحُرْمَتِهَا بِالأَمْسِ، وَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ ‏"‏‏.‏ فَقِيلَ لأَبِي شُرَيْحٍ مَا قَالَ عَمْرٌو قَالَ أَنَا أَعْلَمُ مِنْكَ يَا أَبَا شُرَيْحٍ، لاَ يُعِيذُ عَاصِيًا، وَلاَ فَارًّا بِدَمٍ، وَلاَ فَارًّا بِخَرْبَةٍ

Narrated By Said : Abu Shuraih said, "When 'Amr bin Said was sending the troops to Mecca (to fight 'Abdullah bin Az-Zubair) I said to him, 'O chief! Allow me to tell you what the Prophet said on the day following the conquests of Mecca. My ears heard and my heart comprehended, and I saw him with my own eyes, when he said it. He glorified and praised Allah and then said, "Allah and not the people has made Mecca a sanctuary. So anybody who has belief in Allah and the Last Day (i.e. a Muslim) should neither shed blood in it nor cut down its trees. If anybody argues that fighting is allowed in Mecca as Allah's Apostle did fight (in Mecca), tell him that Allah gave permission to His Apostle, but He did not give it to you. The Prophet added: Allah allowed me only for a few hours on that day (of the conquest) and today (now) its sanctity is the same (valid) as it was before. So it is incumbent upon those who are present to convey it (this information) to those who are absent." Abu-Shuraih was asked, "What did 'Amr reply?" He said 'Amr said, "O Abu Shuraih! I know better than you (in this respect). Mecca does not give protection to one who disobeys (Allah) or runs after committing murder, or theft (and takes refuge in Mecca).

ہم سے عبداللہ بن یوسف مدینی نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے لیث ابن سعید نے بیان کیا انہوں نے کہا مجھ سے سعید بن ابی سعید نے بیان کیا کہ ابو شریح (جو صحابی تھے) نے عمرو بن سعید (جو یزید کی طرف سے مدینہ کا گورنر تھا اور عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے خلاف مکہ کی طرف فوج کشی کر رہا تھا)سے فرمایا: اے امیر مجھے اجازت دو میں آپ کو ایک حدیث سناتا ہوں: آپ ﷺ نے فتح مکہ کے دوسرے روز ارشاد فرمایا جسے میرے دونوں کانوں نے سنا، میرے دل نے یاد رکھا اور جس وقت آپ ﷺ یہ حدیث بیان کر رہے تھے تب میری دونوں آںکھوں نے آپ ﷺ کو دیکھا، آپ ﷺ نے اللہ کی حمد وثنا کے بعد فرمایا: مکہ کو اللہ نے حرام قرار دیا ہےلوگوں نے نہیں تو جو کوئی اللہ اور روزِ قیامت پر ایمان رکھتا ہے اس کے لیے وہاں خون ریزی کرنا اور درخت کاٹنا جائز نہیں، اگر (میرے بعد) کوئی شخص اس بات کو دلیل بنا کر لڑائی کرے کہ اللہ کے رسول نے ایسا کیا تھا تو تم اسے یہ بتادینا کہ اللہ نے (فتح مکہ کے دن) اپنے رسول کو اجازت دی تھی تمہیں نہیں دی اور وہ بھی صرف ایک گھڑی کے لیے، لہذا آج بھی اس کی ویسی ہی حرمت ( احترام) ہے جیسی کل تھی، اور جو لوگ یہاں موجود ہیں وہ یہ بات ان تک پہنچا دیں جو یہاں نہیں ہیں، لوگوں نے ابو شریح سے پوچھا کہ عمرو نے اس کا کیا جواب دیا؟ ابو شریح نے فرمایا اس نے کہا: میں آپ سے زیادہ علم رکھتا ہوں، مکہ گناہ گار کو پناہ نہیں دیتا، اور نہ اس شخص کو جو خون بھا کر یا چوری کر کے بھاگے۔





حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، ذُكِرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ ـ قَالَ مُحَمَّدٌ وَأَحْسِبُهُ قَالَ وَأَعْرَاضَكُمْ ـ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، أَلاَ لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ مِنْكُمُ الْغَائِبَ ‏"‏‏.‏ وَكَانَ مُحَمَّدٌ يَقُولُ صَدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ ذَلِكَ ‏"‏ أَلاَ هَلْ بَلَّغْتُ ‏"‏ مَرَّتَيْنِ

Narrated By Abu Bakra : The Prophet said. No doubt your blood, property, the sub-narrator Muhammad thought that Abu Bakra had also mentioned and your honor (chastity), are sacred to one another as is the sanctity of this day of yours in this month of yours. It is incumbent on those who are present to inform those who are absent." (Muhammad the Sub-narrator used to say, "Allah's Apostle told the truth.") The Prophet repeated twice: "No doubt! Haven't I conveyed Allah's message to you.

ہم سےعبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے حماد نے بیان کیا انہوں نے ایوب سے انہوں نے محمد بن سیرین سے انہوں نے ابن ابی بکرہ سے انہوں نے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبیﷺ نے فرمایا تمہارے خون اور تمہارے مال ابن سیرین نے کہا میں سمجھتا ہوں یہ بھی کہا اور تمہاری عزتیں(آبروئیں) ایک دوسرے پر حرام ہیں، جیسے اس مہینے میں آج کے دن(یوم النحر کی) حرمت ہے ، سن رکھو جو شخص یہاں موجود ہے وہ اس تک یہ بات پہنچا دے جو یہاں نہیں ۔ ابنِ سیرین نے کہا رسول اللہﷺ کا فرمان سچ ثابت ہوا کہ(جو لوگ اس وقت حاضر تھے انہوں نے جو غائب تھے ان کو یہ حدیث پہنچا دی)رسول اللہﷺ نے دو بار فرمایا سن رکھو میں نے یہ حکم تم کو پہنچا دیا ۔

38. The sin of a person who tells a lie against the Prophet (s.a.w)



حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي مَنْصُورٌ، قَالَ سَمِعْتُ رِبْعِيَّ بْنَ حِرَاشٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ عَلِيًّا، يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ تَكْذِبُوا عَلَىَّ، فَإِنَّهُ مَنْ كَذَبَ عَلَىَّ فَلْيَلِجِ النَّارَ ‏"

Narrated By 'Ali : The Prophet said, "Do not tell a lie against me for whoever tells a lie against me (intentionally) then he will surely enter the Hell-fire."

ہم سے علی بن جعد نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم کو شعبہ نے خبردی انہوں نے کہا مجھ کو منصور بن معتمر نے خبر دی انہوں نے کہا میں نے ربعی بن حراش سے سنا وہ کہتے تھے میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبیﷺ نے فرمایا (دیکھو) مجھ پر جھوٹ نہ باندھنا کیونکہ جو کوئی مجھ پر جھوٹ باندھے گا وہ دوزخ میں جائے گا۔





حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قُلْتُ لِلزُّبَيْرِ إِنِّي لاَ أَسْمَعُكَ تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَمَا يُحَدِّثُ فُلاَنٌ وَفُلاَنٌ‏.‏ قَالَ أَمَا إِنِّي لَمْ أُفَارِقْهُ وَلَكِنْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ ‏"‏ مَنْ كَذَبَ عَلَىَّ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ ‏"

Narrated By 'Abdullah bin Az-Zubair : I said to my father, 'I do not hear from you any narration (Hadith) of Allah s Apostle as I hear (his narrations) from so and so?" Az-Zubair replied. l was always with him (the Prophet) and I heard him saying "Whoever tells a lie against me (intentionally) then (surely) let him occupy, his seat in Hell-fire.

ہم سے ابو الولید نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا انہوں نے جامع بن شداد سے انہوں نے عامر بن عبداللہ بن زبیر سے انہوں نے اپنے باپ(عبداللہ بن زبیر) سے نقل کیا کہ میں نے اپنے باپ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ جس طرح فلاں فلاں لوگ نبیﷺ کی احادیث بیان کرتے ہیں میں دیکھتا ہوں آپ نہیں کرتے( اس کی کیا وجہ ہے) انہوں نے فرمایا: میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہی رہا ہوں (اس کے باوجود بکثرت احادیث اس لیے بیان نہیں کرتا کہ) میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ہے جس نے مجھ پر جھوٹ باندھا اس نے اپنا ٹھکانا جہنم بنایا۔





حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ أَنَسٌ إِنَّهُ لَيَمْنَعُنِي أَنْ أُحَدِّثَكُمْ حَدِيثًا كَثِيرًا أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنْ تَعَمَّدَ عَلَىَّ كَذِبًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ ‏"

Narrated By Anas : The fact which stops me from narrating a great number of Hadiths to you is that the Prophet said: "Whoever tells a lie against me intentionally, then (surely) let him occupy his seat in Hell-fire."

ہم سے ابو معمر نے بیان کیاانہوں نے کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا انہوں نے عبدالعزیز سے نقل کیا کہ ا نس رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں اس لیے کثر ت سے احادیث بیان نہیں کرتا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ بولا اس نے اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لیا۔





حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ مَنْ يَقُلْ عَلَىَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ ‏"

Narrated By Salama : I heard the Prophet saying, "Whoever (intentionally) ascribes to me what I have not said then (surely) let him occupy his seat in Hell-fire."

ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے یزید بن ابی عبید نے بیان کیا انہوں نے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ میں نےنبیﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: جس نے میری طرف ایسی بات منسوب کی جو میں نے نہیں کہی اس نے اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لیا۔





حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلاَ تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي، وَمَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لاَ يَتَمَثَّلُ فِي صُورَتِي، وَمَنْ كَذَبَ عَلَىَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ ‏"

Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "Name yourselves with my name (use my name) but do not name yourselves with my Kunya name (i.e. Abu-l Qasim). And whoever sees me in a dream then surely he has seen me for Satan cannot impersonate me. And whoever tells a lie against me (intentionally), then (surely) let him occupy his seat in Hell-fire."

ہم سے ابو موسی بن اسمعیل نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے ابو عوانہ نے بیان کیا انہوں نے ابو حصین سے انہوں نے ابو صالح سے انہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا میرے نام جیسا نام (محمداور احمد ) رکھو، اور میری کنیت(ابوالقاسم) نہ رکھو او ر (یہ سمجھ لو)جس نے خواب میں مجھے دیکھا بیشک اس نے مجھے ہی دیکھا کیونکہ شیطان میری صورت اختیار نہیں کر سکتا، اور جس نے جان بوجھ کر میری طرف جھوٹ منسوب کیا اس نے اپنا ٹھکانا جہنم بنا لیا۔

39. The writing of knowledge.



حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ قُلْتُ لِعَلِيٍّ هَلْ عِنْدَكُمْ كِتَابٌ قَالَ لاَ، إِلاَّ كِتَابُ اللَّهِ، أَوْ فَهْمٌ أُعْطِيَهُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ، أَوْ مَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ‏.‏ قَالَ قُلْتُ فَمَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ قَالَ الْعَقْلُ، وَفَكَاكُ الأَسِيرِ، وَلاَ يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ

Narrated By Ash-Sha'bi : Abu Juhaifa said, "I asked Ali, 'Have you got any book (which has been revealed to the Prophet apart from the Qur'an)?' 'Ali replied, 'No, except Allah's Book or the power of understanding which has been bestowed (by Allah) upon a Muslim or what is (written) in this sheet of paper (with me).' Abu Juhaifa said, "I asked, 'What is (written) in this sheet of paper?' Ali replied, it deals with The Diyya (compensation (blood money) paid by the killer to the relatives of the victim), the ransom for the releasing of the captives from the hands of the enemies, and the law that no Muslim should be killed in Qisas (equality in punishment) for the killing of (a disbeliever).

ہم سے محمدبن سلام بیکندی نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم کو وکیع بن جراح نے خبر دی انہوں نے سفیان ثوری سے سنا انہوں نے مطرف سے انہوں نے شعبی سے انہوں نے ابو جحیفہ سے روایت کی کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا آپ کے پاس کوئی کتاب ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میرے پاس اللہ کی کتاب (قرآن پاک)، اس کی سمجھ جو ہر مسلمان کے پاس ہوتی ہے اور اس صحیفے کےسوا اور کچھ نہیں، میں نے پوچھا اس صحیفے میں کیا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ فرمایا: اس میں دیت اور قیدیوں کی رہائی سے متعلق احکامات ہیں اور یہ بھی ہے کہ مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔





حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ خُزَاعَةَ، قَتَلُوا رَجُلاً مِنْ بَنِي لَيْثٍ عَامَ فَتْحِ مَكَّةَ بِقَتِيلٍ مِنْهُمْ قَتَلُوهُ، فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَرَكِبَ رَاحِلَتَهُ، فَخَطَبَ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ حَبَسَ عَنْ مَكَّةَ الْقَتْلَ ـ أَوِ الْفِيلَ شَكَّ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ـ وَسَلَّطَ عَلَيْهِمْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالْمُؤْمِنِينَ، أَلاَ وَإِنَّهَا لَمْ تَحِلَّ لأَحَدٍ قَبْلِي، وَلاَ تَحِلُّ لأَحَدٍ بَعْدِي أَلاَ وَإِنَّهَا حَلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، أَلاَ وَإِنَّهَا سَاعَتِي هَذِهِ حَرَامٌ، لاَ يُخْتَلَى شَوْكُهَا، وَلاَ يُعْضَدُ شَجَرُهَا، وَلاَ تُلْتَقَطُ سَاقِطَتُهَا إِلاَّ لِمُنْشِدٍ، فَمَنْ قُتِلَ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ إِمَّا أَنْ يُعْقَلَ، وَإِمَّا أَنْ يُقَادَ أَهْلُ الْقَتِيلِ ‏"‏‏.‏ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ فَقَالَ اكْتُبْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ اكْتُبُوا لأَبِي فُلاَنٍ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِلاَّ الإِذْخِرَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنَّا نَجْعَلُهُ فِي بُيُوتِنَا وَقُبُورِنَا‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِلاَّ الإِذْخِرَ "

Narrated By Abu Huraira : In the year of the Conquest of Mecca, the tribe of Khuza'a killed a man from the tribe of Bani Laith in revenge for a killed person, belonging to them. They informed the Prophet about it. So he rode his Rahila (she-camel for riding) and addressed the people saying, "Allah held back the killing from Mecca. (The sub-narrator is in doubt whether the Prophet said "elephant or killing," as the Arabic words standing for these words have great similarity in shape), but He (Allah) let His Apostle and the believers over power the infidels of Mecca. Beware! (Mecca is a sanctuary) Verily! Fighting in Mecca was not permitted for anyone before me nor will it be permitted for anyone after me. It (war) in it was made legal for me for few hours or so on that day. No doubt it is at this moment a sanctuary, it is not allowed to uproot its thorny shrubs or to uproot its trees or to pick up its Luqatt (fallen things) except by a person who will look for its owner (announce it publicly). And if somebody is killed, then his closest relative has the right to choose one of the two... the blood money (Diyya) or retaliation having the killer killed. In the meantime a man from Yemen came and said, "O Allah's Apostle! Get that written for me." The Prophet ordered his companions to write that for him. Then a man from Quraish said, "Except Al-Iqhkhir (a type of grass that has good smell) O Allah's Apostle, as we use it in our houses and graves." The Prophet said, "Except Al-Idhkhiri.e. Al-Idhkhir is allowed to be plucked."

ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا انہوں نے یحیی بن ابی کثیر سے انہوں نے ابو سلمہ سے انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ فتح مکہ والے سال خزاعہ (قبیلےوالوں)نے اپنے ایک مقتول کے بدلے بنی لیث(قبیلے) کے شخص کو قتل کر ڈالا، جب اس کی اطلاع رسول اللہﷺ کو ملی تو آپﷺ انٹنی پر سوار ہوے اور خطبے کے بعد ارشاد فرمایا: اللہ تعالی نے مکہ سے قتل یا ہاتھی والوں کو روک دیا (راوی کو شک ہے) اپنے نبیﷺ اور مسلمانوں کو ان پر مسلط کر دیا ہے، سن لو مجھ سے پہلے مکہ کسی کے لیے حلال نہیں ہوا اور نہ میرے بعد ہو گا، اور میرے لیے بھی صرف دن کی ایک گھڑی کے لیے حلال ہوا تھا، جان لو مکہ اس وقت بھی حرمت والا ہے لہذا نہ وہاں سےکوئی کانٹا نہ توڑا جائے، نہ درخت کاٹا جائے، اور نہ گری پڑی چیز اٹھائی جائے سوائے اس کے جس نے اس کا اعلان کرنا ہو،۔
اور جس کا کوئی عزیز مارا جائے اس کو دو میں سے ایک کا اختیار ہے یا تو دیت لے اور یا قصاص ، اتنے میں اہلِ یمن سے ایک شخص (ابوشاہ) نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ (آپؐ نے جو باتیں فرمائیں وہ) مجھےلکھ دیجئے، آپﷺ نے لوگوں سے فرمایا اچھا اس کو لکھ دو قریش کے ایک شخص (حضرت عباس رضی اللہ عنہ) نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ اذخر (گھاس کی اجازت دیجیئے) ہم اس کو گھروں اور قبروں میں لگاتے ہیں، آپﷺ نے فرمایا اچھا اذخر (کاٹ سکتے ہو)۔





حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرٌو، قَالَ أَخْبَرَنِي وَهْبُ بْنُ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَخِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ مَا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَحَدٌ أَكْثَرَ حَدِيثًا عَنْهُ مِنِّي، إِلاَّ مَا كَانَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَإِنَّهُ كَانَ يَكْتُبُ وَلاَ أَكْتُبُ‏.‏ تَابَعَهُ مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ

Narrated By Abu Huraira : There is none among the companions of the Prophet who has narrated more Hadiths than I except 'Abdallah bin Amr (bin Al-'As) who used to write them and I never did the same.

ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے عمرو نے بیان کیا انہوں نے کہا مجھ کو وہب بن منبہ نے خبر دی انہوں نے اپنے بھائی (ہمام بن منبہ) سے کہا میں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ عبد اللہ بن عمرو کے سوا نبیﷺ کے اصحاب میں مجھ سے زیادہ حدیث کا روایت کرنے والا کوئی نہیں کیونکہ وہ لکھتے تھے اور میں لکھتا نہیں تھا، (وہب بن منبہ کے ساتھ) اس حدیث کو معمر نے بھی ہمام سے انہوں نے ابوہریرہؓ سے روایت کیا ہے۔





حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَمَّا اشْتَدَّ بِالنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَجَعُهُ قَالَ ‏"‏ ائْتُونِي بِكِتَابٍ أَكْتُبُ لَكُمْ كِتَابًا لاَ تَضِلُّوا بَعْدَهُ ‏"‏‏.‏ قَالَ عُمَرُ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم غَلَبَهُ الْوَجَعُ وَعِنْدَنَا كِتَابُ اللَّهِ حَسْبُنَا فَاخْتَلَفُوا وَكَثُرَ اللَّغَطُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ قُومُوا عَنِّي، وَلاَ يَنْبَغِي عِنْدِي التَّنَازُعُ ‏"‏‏.‏ فَخَرَجَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ إِنَّ الرَّزِيَّةَ كُلَّ الرَّزِيَّةِ مَا حَالَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَبَيْنَ كِتَابِهِ

Narrated By 'Ubaidullah bin 'Abdullah : Ibn 'Abbas said, "When the ailment of the Prophet became worse, he said, 'Bring for me (writing) paper and I will write for you a statement after which you will not go astray.' But 'Umar said, 'The Prophet is seriously ill, and we have got Allah's Book with us and that is sufficient for us.' But the companions of the Prophet differed about this and there was a hue and cry. On that the Prophet said to them, 'Go away (and leave me alone). It is not right that you should quarrel in front of me." Ibn 'Abbas came out saying, "It was most unfortunate (a great disaster) that Allah's Apostle was prevented from writing that statement for them because of their disagreement and noise. (Note: It is apparent from this Hadith that Ibn 'Abbes had witnessed the event and came out saying this statement. The truth is not so, for Ibn 'Abbas used to say this statement on narrating the Hadith and he had not witnessed the event personally. See Fath Al-Bari Vol. 1, p.220 footnote.) (See Hadith No. 228, Vol. 4).

ہم سے یحیی بن سلیمان نے بیان کیا انہوں نے کہا مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا انہوں نے کہا مجھے یونس نے خبر دی انہوں نے ابنِ شہاب سے انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ سے انہوں نے ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ جب نبیﷺ کا مرض شدت اختیار کر گیا تو فرمایا میرے پاس لکھںے کے لیے کوئی چیز لاو میں آپ کو ایک تحریر دے دوں تاکہ آپ لوگ گمراہ نہ ہوں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا اس وقت آپﷺ پر تکلیف کی شدت ہے ہمارے پاس اللہ کی کتاب قرآن ہے جو ہمارے لیے کافی ہے یہ کہنا تھا کہ لوگوں نے شور شروع کر دیا جسے سن کر آپﷺ نے فرمایا یہاں نہ لڑو چلے جاو، اس کے بعدابن عباس رضی اللہ عنہما یہ کہتے ہوے باہر آ ئے کہ ہاے افسوس اس پر جو ہمارے اور نبیﷺ کے درمیان حائل ہوا۔

 

40. The knowledge and its teaching and preaching at night.



حَدَّثَنَا صَدَقَةُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ هِنْدٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، وَعَمْرٍو، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ هِنْدٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتِ اسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَالَ ‏"‏ سُبْحَانَ اللَّهِ مَاذَا أُنْزِلَ اللَّيْلَةَ مِنَ الْفِتَنِ وَمَاذَا فُتِحَ مِنَ الْخَزَائِنِ أَيْقِظُوا صَوَاحِبَاتِ الْحُجَرِ، فَرُبَّ كَاسِيَةٍ فِي الدُّنْيَا عَارِيَةٍ فِي الآخِرَةِ ‏"

Narrated By Um Salama : One night Allah's Apostle got up and said, "Subhan Allah! How many afflictions have been descended tonight and how many treasures have been disclosed! Go and wake the sleeping lady occupants of these dwellings (his wives) up (for prayers). A well-dressed (soul) in this world may be naked in the Hereafter."

ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم کو سفیان بن عیینہ نے خبردی انہوں نے معمر سے انہوں نے زہری سے انہوں نے ہند بن حارثہ سے انہوں نے حضرت امِ سلمہ سے ، دوسری سند اور سفیان بن عیینہ نے اس کو عمرو بن دینار اور یحیی بن سعید سے روایت کیا انہوں نے زہری سے انہوں نے ایک عورت (یعنی ہند) سے انہوں نے حضرت امِ سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ ایک رات نبیﷺ نے بیدار ہوتے ہی فرمایا: سبحان اللہ آج کی رات کتنے ہی فتنے اتارے گئے ہیں اور کس قدر خزانے بھی کھولے گئے ہیں، ان حجرے والیوں کو (عبادت کے لیے)جگاو ، کیوں کہ بہت سی (باریک) کپڑے پہننے والیاں روزِ قیامت ننگی ہوں گی۔

41. To speak about (religious) knowledge at night.



حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، وَأَبِي، بَكْرِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْعِشَاءَ فِي آخِرِ حَيَاتِهِ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ فَقَالَ ‏"‏ أَرَأَيْتَكُمْ لَيْلَتَكُمْ هَذِهِ، فَإِنَّ رَأْسَ مِائَةِ سَنَةٍ مِنْهَا لاَ يَبْقَى مِمَّنْ هُوَ عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ أَحَدٌ ‏"

Narrated By 'Abdullah bin 'Umar : Once the Prophet led us in the 'Isha prayer during the last days of his life and after finishing it (the prayer) (with Taslim) he said: "Do you realize (the importance of) this night?" Nobody present on the surface of the earth tonight will be living after the completion of one hundred years from this night."

ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا انہوں نے کہا مجھ سے لیث نے بیان کیا انہوں نے کہا مجھ سے عبدالرحمان بن خالد بن مسافر نے بیان کیا انہوں نے ابنِ شہاب سے انہوں نے سالم بن عبداللہ بن عمرؓ اور ابو بکر بن سلیمان بن ابی حثمہ سے انہوں نے کہا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمانے بیان کیا کہ ایک دفعہ نبیﷺ نےعمر کے آخری ایام میں ہمیں عشاء کی نماز پڑھائی سلام کے بعد کھڑے ہوے اور فرمایا کیا تم نے اس رات کو دیکھا (اسے یاد رکھنا) جتنے لوگ اس وقت زمین پر ہیں سو سال بعد اُن میں سے کوئی نہیں رہے گا۔





حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ بِتُّ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عِنْدَهَا فِي لَيْلَتِهَا، فَصَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْعِشَاءَ، ثُمَّ جَاءَ إِلَى مَنْزِلِهِ، فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ نَامَ، ثُمَّ قَامَ، ثُمَّ قَالَ ‏"‏ نَامَ الْغُلَيِّمُ ‏"‏‏.‏ أَوْ كَلِمَةً تُشْبِهُهَا، ثُمَّ قَامَ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَصَلَّى خَمْسَ رَكَعَاتٍ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ نَامَ حَتَّى سَمِعْتُ غَطِيطَهُ ـ أَوْ خَطِيطَهُ ـ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلاَةِ

Narrated By Ibn 'Abbas : I stayed overnight in the house of my aunt Maimuna bint Al-Harith (the wife of the Prophet) while the Prophet was there with her during her night turn. The Prophet offered the 'Isha prayer (in the mosque), returned home and after having prayed four Rakat, he slept. Later on he got up at night and then asked whether the boy (or he used a similar word) had slept? Then he got up for the prayer and I stood up by his left side but he made me stand to his right and offered five Rakat followed by two more Rakat. Then he slept and I heard him snoring and then (after a while) he left for the (Fajr) prayer.

ہم سے آدم نے بیان کیاانہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے حکم نے بیان کیا انہوں نےکہا میں نےسعید بن جبیر سے سنا انہوں نے ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ میں اُس رات اپنی خالہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے پاس رہا جس رات نبی ﷺ کی باری ان کے ہاں تھی، آپﷺ نماز عشاء کے بعد گھر تشریف لائے اور چار رکعت ادا کرکے سو گئے، پھر رات کو بیدار ہوئے اور فرمایا: کیا (ابھی تک یہ) بچہ سو رہا ہے یا اسی طرح کا کوئی جملہ ارشاد فرمایا، پھر آپﷺ نماز کے لیے اٹھے میں بھی اٹھا اور آپﷺ کے بائیں جانب نماز کے لیے کھڑا ہو گیا، آپﷺ نے مجھے دائیں طرف کر لیا، پھر آپﷺ نے پانچ رکعات ادا کیں ، اس کے بعد دو رکعات( فجر کی سنتیں) ادا کیں اور پھر سو گئے حتی کہ میں نے آپﷺ کے خراٹوں کی آواز سنی، پھر آپﷺ اٹھے اور فجر کی نماز کے لیے تشریف لے گئے۔

42. (What is said regarding) the memorization of the (religious) knowledge.



حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ إِنَّ النَّاسَ يَقُولُونَ أَكْثَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ، وَلَوْلاَ آيَتَانِ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَا حَدَّثْتُ حَدِيثًا، ثُمَّ يَتْلُو ‏{‏إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ‏}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏الرَّحِيمُ‏}‏ إِنَّ إِخْوَانَنَا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ كَانَ يَشْغَلُهُمُ الصَّفْقُ بِالأَسْوَاقِ، وِإِنَّ إِخْوَانَنَا مِنَ الأَنْصَارِ كَانَ يَشْغَلُهُمُ الْعَمَلُ فِي أَمْوَالِهِمْ، وَإِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يَلْزَمُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِشِبَعِ بَطْنِهِ وَيَحْضُرُ مَا لاَ يَحْضُرُونَ، وَيَحْفَظُ مَا لاَ يَحْفَظُونَ

Narrated By Abu Huraira : People say that I have narrated many Hadiths (The Prophet's narrations). Had it not been for two verses in the Qur'an, I would not have narrated a single Hadith, and the verses are:

"Verily those who conceal the clear sign and the guidance which We have sent down . . . (up to) Most Merciful." (2:159-160). And no doubt our Muhajir (emigrant) brothers used to be busy in the market with their business (bargains) and our Ansari brothers used to be busy with their property (agriculture). But I (Abu Huraira) used to stick to Allah's Apostle contented with what will fill my stomach and I used to attend that which they used not to attend and I used to memorize that which they used not to memorize.

ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا انہوں نے کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا انہوں نے ابنِ شہاب سے انہوں نے اعرج (عبدالرحمان بن ہرمز) سے انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ لوگ کہتے ہیں ابوہریرہؓ بہت حدیثیں بیان کرتا ہے اگر قرآ ن کی یہ دو آیات نہ ہوتیں تو میں ایسا نہ کرتا (پھر سورۃ البقرۃ کی آیت) کہ وہ لوگ جو ہماری کھلی نشانیوں اور ہدایت کی باتوں کو چھپاتے ہیں(شروع سے آخر تک تلاوت فرمائی) اور حقیقت یہ ہے کہ ہمارے بھائی مہاجرین کاروبار میں اور انصار کھیتی باڑی میں مصروف رہتے تھے اور میں نبیﷺ کے ساتھ ہی رہتا او ر ان مجلسوں میں شریک ہوتا تھا جن میں وہ نہ ہوتے اور وہ باتیں بھی یاد رکھتا تھا جو وہ یاد نہیں رکھتے تھے۔





حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ أَبُو مُصْعَبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَسْمَعُ مِنْكَ حَدِيثًا كَثِيرًا أَنْسَاهُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ابْسُطْ رِدَاءَكَ ‏"‏ فَبَسَطْتُهُ‏.‏ قَالَ فَغَرَفَ بِيَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ ضُمُّهُ ‏"‏ فَضَمَمْتُهُ فَمَا نَسِيتُ شَيْئًا بَعْدَهُ‏.‏ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ بِهَذَا أَوْ قَالَ غَرَفَ بِيَدِهِ فِيهِ

Narrated By Abu Huraira : I said to Allah's Apostle "I hear many narrations (Hadiths) from you but I forget them." Allah's Apostle said, "Spread your Rida' (garment)." I did accordingly and then he moved his hands as if filling them with something (and emptied them in my Rida') and then said, "Take and wrap this sheet over your body." I did it and after that I never forgot any thing.

ہم سے ابو مصعب احمد بن ابی بکر نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے محمد بن ابراہیم بن دینار نے بیان کیا انہوں نے محمد بن ابی ذئب سے انہوں نے سعید مقبری سے انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ میں نے عرض کی یا رسول اللہ میں آپؐ سے بہت سی باتیں سنتا ہوں مگر بھول جاتا ہوں آپﷺ نے فرمایا اپنی چادر بچھاو میں نے بچھا دی آپﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ سے چلو بنایا اور اس میں ڈال دیا پھر فرمایا اس کو لپیٹ لو میں نے لپیٹ لی اس کے بعد میں (آپﷺ کا کوئی فرمان) نہ بھولا۔ہم سے ابرہیم بن منذر نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی مزید نے یہی حدیث بیان کی اس روایت میں یہ ہے کہ اپنے ہاتھ سے چلو لے کر اس میں ڈال دیا۔





حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي أَخِي، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وِعَاءَيْنِ، فَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَبَثَثْتُهُ، وَأَمَّا الآخَرُ فَلَوْ بَثَثْتُهُ قُطِعَ هَذَا الْبُلْعُومُ

Narrated By Abu Huraira : I have memorized two kinds of knowledge from Allah's Apostle . I have propagated one of them to you and if I propagated the second, then my pharynx (throat) would be cut (i.e. killed).

ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا انہوں نے کہا مجھ سے میرے بھائی (عبدالحمید) نے انہوں نے ابن ابی ذئب سے انہوں نے سعید مقبری سے انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ میں نے رسول ا للہﷺ سے (علم کے) دو برتن سیکھے، ایک وہ جو میں نے لوگوں میں پھلا دیا ہے اور دوسرا اگر پھیلاوں تو میرا گلا کاٹ دیا جائے، امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بلعوم سے مراد گلے کا وہ حصہ ہے جس سے کھانا اترتا ہے۔

43. To be quiet (and listen) to religious learned men.



حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ مُدْرِكٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ ‏"‏ اسْتَنْصِتِ النَّاسَ ‏"‏ فَقَالَ ‏"‏ لاَ تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ‏"

Narrated By Jarir : The Prophet said to me during Hajjat-al-Wida': Let the people keep quiet and listen. Then he said (addressing the people), "Do not (become infidels) revert to disbelief after me by striking the necks (cutting the throats) of one another (killing each other)."

ہم سے حجاج نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا انہوں نے کہا مجھ کو علی بن مدرک نے خبر دی انہوں نے ابی زرعہ سے انہوں نے جریر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبیﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر مجھے فرمایا لوگوں کو خاموش کراو (جب لوگ خاموش ہو گئے تو) آپﷺ نے فرمایا: میرے بعد ایک دوسرے کو قتل کر کے کافر نہ بن جانا۔

44. When a religious learned man is asked, “Who is the most learned person,” it is better for him to attribute or entrust absolute knowledge to Allah and to say, “Allah is the Most Learned (than anybody else).”



حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرٌو، قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ إِنَّ نَوْفًا الْبِكَالِيَّ يَزْعُمُ أَنَّ مُوسَى لَيْسَ بِمُوسَى بَنِي إِسْرَائِيلَ، إِنَّمَا هُوَ مُوسَى آخَرُ‏.‏ فَقَالَ كَذَبَ عَدُوُّ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ قَامَ مُوسَى النَّبِيُّ خَطِيبًا فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَسُئِلَ أَىُّ النَّاسِ أَعْلَمُ فَقَالَ أَنَا أَعْلَمُ‏.‏ فَعَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ، إِذْ لَمْ يَرُدَّ الْعِلْمَ إِلَيْهِ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ أَنَّ عَبْدًا مِنْ عِبَادِي بِمَجْمَعِ الْبَحْرَيْنِ هُوَ أَعْلَمُ مِنْكَ‏.‏ قَالَ يَا رَبِّ وَكَيْفَ بِهِ فَقِيلَ لَهُ احْمِلْ حُوتًا فِي مِكْتَلٍ فَإِذَا فَقَدْتَهُ فَهْوَ ثَمَّ، فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقَ بِفَتَاهُ يُوشَعَ بْنِ نُونٍ، وَحَمَلاَ حُوتًا فِي مِكْتَلٍ، حَتَّى كَانَا عِنْدَ الصَّخْرَةِ وَضَعَا رُءُوسَهُمَا وَنَامَا فَانْسَلَّ الْحُوتُ مِنَ الْمِكْتَلِ فَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ سَرَبًا، وَكَانَ لِمُوسَى وَفَتَاهُ عَجَبًا، فَانْطَلَقَا بَقِيَّةَ لَيْلَتِهِمَا وَيَوْمِهِمَا فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ مُوسَى لِفَتَاهُ آتِنَا غَدَاءَنَا، لَقَدْ لَقِينَا مِنْ سَفَرِنَا هَذَا نَصَبًا، وَلَمْ يَجِدْ مُوسَى مَسًّا مِنَ النَّصَبِ حَتَّى جَاوَزَ الْمَكَانَ الَّذِي أُمِرَ بِهِ‏.‏ فَقَالَ لَهُ فَتَاهُ أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ، قَالَ مُوسَى ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِي، فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا، فَلَمَّا انْتَهَيَا إِلَى الصَّخْرَةِ إِذَا رَجُلٌ مُسَجًّى بِثَوْبٍ ـ أَوْ قَالَ تَسَجَّى بِثَوْبِهِ ـ فَسَلَّمَ مُوسَى‏.‏ فَقَالَ الْخَضِرُ وَأَنَّى بِأَرْضِكَ السَّلاَمُ فَقَالَ أَنَا مُوسَى‏.‏ فَقَالَ مُوسَى بَنِي إِسْرَائِيلَ قَالَ نَعَمْ‏.‏ قَالَ هَلْ أَتَّبِعُكَ عَلَى أَنْ تُعَلِّمَنِي مِمَّا عُلِّمْتَ رَشَدًا قَالَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا، يَا مُوسَى إِنِّي عَلَى عِلْمٍ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ عَلَّمَنِيهِ لاَ تَعْلَمُهُ أَنْتَ، وَأَنْتَ عَلَى عِلْمٍ عَلَّمَكَهُ لاَ أَعْلَمُهُ‏.‏ قَالَ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ صَابِرًا، وَلاَ أَعْصِي لَكَ أَمْرًا، فَانْطَلَقَا يَمْشِيَانِ عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ لَيْسَ لَهُمَا سَفِينَةٌ، فَمَرَّتْ بِهِمَا سَفِينَةٌ، فَكَلَّمُوهُمْ أَنْ يَحْمِلُوهُمَا، فَعُرِفَ الْخَضِرُ، فَحَمَلُوهُمَا بِغَيْرِ نَوْلٍ، فَجَاءَ عُصْفُورٌ فَوَقَعَ عَلَى حَرْفِ السَّفِينَةِ، فَنَقَرَ نَقْرَةً أَوْ نَقْرَتَيْنِ فِي الْبَحْرِ‏.‏ فَقَالَ الْخَضِرُ يَا مُوسَى، مَا نَقَصَ عِلْمِي وَعِلْمُكَ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ إِلاَّ كَنَقْرَةِ هَذَا الْعُصْفُورِ فِي الْبَحْرِ‏.‏ فَعَمَدَ الْخَضِرُ إِلَى لَوْحٍ مِنْ أَلْوَاحِ السَّفِينَةِ فَنَزَعَهُ‏.‏ فَقَالَ مُوسَى قَوْمٌ حَمَلُونَا بِغَيْرِ نَوْلٍ، عَمَدْتَ إِلَى سَفِينَتِهِمْ فَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا قَالَ أَلَمْ أَقُلْ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا قَالَ لاَ تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ‏.‏ فَكَانَتِ الأُولَى مِنْ مُوسَى نِسْيَانًا‏.‏ فَانْطَلَقَا فَإِذَا غُلاَمٌ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ، فَأَخَذَ الْخَضِرُ بِرَأْسِهِ مِنْ أَعْلاَهُ فَاقْتَلَعَ رَأْسَهُ بِيَدِهِ‏.‏ فَقَالَ مُوسَى أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةً بِغَيْرِ نَفْسٍ قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَكَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا ـ قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ وَهَذَا أَوْكَدُ ـ فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا أَتَيَا أَهْلَ قَرْيَةٍ اسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا، فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمَا، فَوَجَدَا فِيهَا جِدَارًا يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ فَأَقَامَهُ‏.‏ قَالَ الْخَضِرُ بِيَدِهِ فَأَقَامَهُ‏.‏ فَقَالَ لَهُ مُوسَى لَوْ شِئْتَ لاَتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا‏.‏ قَالَ هَذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَرْحَمُ اللَّهُ مُوسَى، لَوَدِدْنَا لَوْ صَبَرَ حَتَّى يُقَصَّ عَلَيْنَا مِنْ أَمْرِهِمَا ‏"

Narrated By Ubai bin Ka'b : The Prophet said, "Once the Prophet Moses stood up and addressed Bani Israel. He was asked, "Who is the most learned man amongst the people. He said, "I am the most learned." Allah admonished Moses as he did not attribute absolute knowledge to Him (Allah). So Allah inspired to him "At the junction of the two seas there is a slave amongst my slaves who is more learned than you." Moses said, "O my Lord! How can I meet him?" Allah said: Take a fish in a large basket (and proceed) and you will find him at the place where you will lose the fish. So Moses set out along with his (servant) boy, Yusha' bin Nuin and carried a fish in a large basket till they reached a rock, where they laid their heads (i.e. lay down) and slept. The fish came out of the basket and it took its way into the sea as in a tunnel. So it was an amazing thing for both Moses and his (servant) boy. They proceeded for the rest of that night and the following day. When the day broke, Moses said to his (servant) boy: "Bring us our early meal. No doubt, we have suffered much fatigue in this journey." Moses did not get tired till he passed the place about which he was told. There the (servant) boy told Moses, "Do you remember when we betook ourselves to the rock, I indeed forgot the fish." Moses remarked, "That is what we have been seeking. So they went back retracing their foot-steps, till they reached the rock. There they saw a man covered with a garment (or covering himself with his own garment). Moses greeted him. Al-Khadir replied saying, "How do people greet each other in your land?" Moses said, "I am Moses." He asked, "The Moses of Bani Israel?" Moses replied in the affirmative and added, "May I follow you so that you teach me of that knowledge which you have been taught." Al-Khadir replied, "Verily! You will not be able to remain patient with me, O Moses! I have some of the knowledge of Allah which He has taught me and which you do not know, while you have some knowledge which Allah has taught you which I do not know." Moses said, "Allah willing, you will find me patient and I will not disobey you in aught. So both of them set out walking along the sea-shore, as they did not have a boat.

In the meantime a boat passed by them and they requested the crew of the boat to take them on board. The crew recognized Al-Khadir and took them on board without fare. Then a sparrow came and stood on the edge of the boat and dipped its beak once or twice in the sea. Al-Khadir said: "O Moses! My knowledge and your knowledge have not decreased Allah's knowledge except as much as this sparrow has decreased the water of the sea with its beak." Al-Khadir went to one of the planks of the boat and plucked it out. Moses said, "These people gave us a free lift but you have broken their boat and scuttled it so as to drown its people." Al-Khadir replied, "Didn't I tell you that you will not be able to remain patient with me." Moses said, "Call me not to account for what I forgot." The first (excuse) of Moses was that he had forgotten. Then they proceeded further and found a boy playing with other boys. Al-Khadir took hold of the boy's head from the top and plucked it out with his hands (i.e. killed him). Moses said, "Have you killed an innocent soul who has killed none." Al-Kha,dir replied, "Did I not tell you that you cannot remain patient with me?" Then they both proceeded till when they came to the people of a town, they asked them for food, but they refused to entertain them. Then they found there a wall on the point of collapsing. Al-Khadir repaired it with his own hands. Moses said, "If you had wished, surely you could have taken wages for it." Al-Khadir replied, "This is the parting between you and me." The Prophet added, "May Allah be Merciful to Moses! Would that he could have been more patient to learn more about his story with Al-Khadir."

ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے عمرو بن دینار نے بیان کیا انہوں نےکہا مجھ کو سعید ابنِ جبیر نے خبر دی انہوں نے کہا میں نے ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کی کہ نوف بکالی کہتا ہے، کہ وہ موسیؑ(جو خضرؑ کے پاس گئے تھے) بنی اسرائیل کے موسی نہیں تھے بلکہ دوسرے موسی(بن میشا) تھے، آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ کا دشمن جھوٹ بول رہا ہے۔ ہمیں ابی بن کعب نے بتایا کہ نبیﷺ نے فرمایا موسی علیہ السلام بنی اسرائیل میں خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ان سے پوچھا گیا (اس وقت) سب سے بڑا عالم کون ہے؟ موسی علیہ السلام نے فرمایا میں بڑا عالم ہوں اللہ تعالی کو یہ بات پسند نہ آئی لہذا اللہ تعالی نے وحی کی کہ جہاں دو دریا ملتے ہیں وہاں میرا ایک بندہ ہے جس کے پاس آپ سے زیادہ علم ہے، موسی علیہ السلام نے عرض کی یا اللہ میں اس تک کیسے پہنچ پاؤں گا؟ اللہ تعالی نے فرمایا: ایک مچھلی تھیلے میں رکھ کر سفر شروع کرو جہاں وہ سمندر میں چلی جائے وہاں اس سے ملاقات ہو گی، لہذا موسی علیہ السلام اپنے ساتھی یوشع بن نون کی معیت میں مچھلی ساتھ لیے چل پڑے، جب دونوں ایک چٹان کے پاس پہنچے تو (تھکاوٹ کی وجہ سے) سو گئے اتنے میں مچھلی تھیلے سے نکل کر سمندر میں چلی گئی، وہ دونوں بیدار ہوے اور سفر شروع کردیا جب صبح ہوئی تو موسی علیہ السلام نے یوشع سے کہا تھکاوٹ ہو گئی ہے ناشتہ لاو، انہوں نے بتایا کہ وہ مچھلی تو فلاں چٹان کے پاس سمندر میں چلی گئی تھی مجھے بتانا یاد ہی نہیں رہا ، موسی علیہ السلام نے فرمایا ہمیں اسی جگہ کی تلاش تو تھی آخر وہ اپنے قدموں کے نشانات دیکھتے دیکھتے اسی جگہ جا پہنچے، کیا دیکھتے ہیں کہ ایک شخص چادر اوڑھے سو رہا ہے، موسی علیہ السلام نے سلام کہا تو خضر جاگ اٹھے اور (بے ساختہ )بولے یہاں سلام کہاں سے آ گیا؟ موسی علیہ السلام نے کہا میں موسی ہوں ، خضر نے پوچھا کیا بنی اسرائیل کے موسی؟ انہوں نے کہا ہاں، پھر کہنے لگے میں آپ سے وہ علم کی باتیں سیکھنے آیا ہوں جو اللہ نے آپ کو سکھائی ہیں؟ خضر نے کہا : آپ صبر نہیں کر سکیں گئے، حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالی نے ایک علم مجھے دیا ہے جو آپ کے پاس نہیں اور ایک علم آپ کو دیا ہے جو میرے پاس نہیں، موسی علیہ السلام نے عرض کی اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گئے، اور میں کسی کام میں آپ کی نافرمانی نہیں کروں گا، آخر دونوں سمندر کے کنارے کنارے روانہ ہوئےان کے پاس کشتی نہ تھی (کہ سمندر پار کر سکیں) اتنے میں ایک کشتی ادھر سے گزری جنہوں نے خضر علیہ السلام کو پہچان لیا اور بغیر کرایہ ان دونوں کو سوار کر لیا، دورانِ سفر ایک چڑیا کشتی کے کنارے آ کر بیٹھی اور ایک یا دو چونچ پانی پیا اور اُڑ گئی یہ دیکھ کر خضر علیہ السلام نے موسی علیہ السلام سے فرمایا: اے موسی میرا اور آپ کا علم اللہ کے علم کے مقابلے میں اتنا ہی ہے جتنا اس چڑیا نے سمندر سے پانی لیا ہے، اتنے میں خضر علیہ السلام نے کشتی کا ایک پھٹا توڑ دیا جس پر موسی علیہ السلام نے کہا انہوں نے ہمیں بغیر کرایے کے بٹھایا اور آپ نے ان کی کشتی کو نقصان پہنچا کر لوگوں کو ڈبونا چاہا تو خضر علیہ السلام نے کہا میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گئے، موسی علیہ السلام نے عرض کی یہ بھول کی وجہ سے ہوا ہے آپ اس پر میری گرفت نہ کریں، آپ ﷺ نے فرمایا یہ پہلا اعتراض موسی علیہ السلام سے بھول ہی کی وجہ سے تھا، پھر وہ آگے چل پڑے وہاں کچھ بچے کھیل رہے تھے جن میں سےایک بچے کو خضر نے پکڑا اور اس کا سر تن سے جدا کر دیا موسی علیہ السلام نے کہا آپ نے نا حق ایک معصوم کی جان لے لی، خضر نے کہا میں نے آپ سے کہا نہیں تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گئے، ابن عیینہ کہتے ہیں یہ پہلی کلام سے زیادہ سخت ہے، خیر پھر دونوں چلتے چلتے ایک گاؤں میں جا پہنچے اہلِ علاقہ سے کھانا مانگا تو انہوں نے دینے سے انکار کر دیا اتنے میں انہوں نے ایک دیوار دیکھی جو گرنے والی تھی تو خضر نے ایک اشارے سےا سے ٹھیک کر دیا، موسی علیہ السلام نے کہا اگر آپ چاہتے تو اس کی مزدوری ان سے لے سکتے تھے، خضر نے کہا بس اب ہم دونوں جدا ہوتے ہیں( آگئے نہیں چل سکتے) نبیﷺ نے فرمایا اللہ تعالی موسی علیہ السلام پر رحم فرمائے کاش وہ صبر کرتے تو مزید باتوں کا پتہ چلتا، (محمد بن یوسف ) نے کہا کہ ہم سے اس حدیث کو علی بن حشرم نے بیان کیا انہوں نے کہا ہمیں سفیان ثوری نے خبر دی اسی طرح طویل حدیث کی۔

45. Whosoever, while standing, asked a religious learned man who was sitting (on a pulpit or a similar thing, about something).



حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، قَالَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْقِتَالُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَإِنَّ أَحَدَنَا يُقَاتِلُ غَضَبًا، وَيُقَاتِلُ حَمِيَّةً‏.‏ فَرَفَعَ إِلَيْهِ رَأْسَهُ ـ قَالَ وَمَا رَفَعَ إِلَيْهِ رَأْسَهُ إِلاَّ أَنَّهُ كَانَ قَائِمًا ـ فَقَالَ ‏"‏ مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ‏"

Narrated By Abu Musa : A man came to the Prophet and asked, "O Allah's Apostle! What kind of fighting is in Allah's cause? (I ask this), for some of us fight because of being enraged and angry and some for the sake of his pride and haughtiness." The Prophet raised his head (as the questioner was standing) and said, "He who fights so that Allah's Word (Islam) should be superior, then he fights in Allah's cause."

ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا انہوں نےکہا مجھ کو جریر نے خبر دی انہوں نے منصور سے انہوں نے ابووائل سے انہوں نے ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک شخص نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی اے اللہ کے رسول، اللہ کی راہ میں لڑائی کی کیا صورت ہے ؟ کیوں کہ ہم میں سے کچھ لوگ غصے کی وجہ سے لڑتے ہیں اور کچھ غیرت کی وجہ سے، آپﷺ نے اپنا سر مبارک اٹھایا کیوں کہ وہ شخص کھڑا تھا اور فرمایا اللہ کے دین کی سر بلندی کے لیے لڑنا جہاد فی سبیل اللہ ہے۔

46. To ask about a religious matter and to give a religious verdict (at Mina during Hajj) while doing Ramy of Jimar (throwing of pebbles at the Jimar in Mina during Hajj).



حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عِنْدَ الْجَمْرَةِ وَهُوَ يُسْأَلُ، فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ارْمِ وَلاَ حَرَجَ ‏"‏‏.‏ قَالَ آخَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ انْحَرْ وَلاَ حَرَجَ ‏"‏‏.‏ فَمَا سُئِلَ عَنْ شَىْءٍ قُدِّمَ وَلاَ أُخِّرَ إِلاَّ قَالَ افْعَلْ وَلاَ حَرَجَ

Narrated By 'Abdullah bin 'Amar : I saw the Prophet near the Jamra and the people were asking him questions (about religious problems). A man asked, "O Allah's Apostle! I have slaughtered the Hadi (animal) before doing the Rami." The Prophet replied, "Do the Rami (now) and there is no harm." Another person asked, "O Allah's Apostle! I got my head shaved before slaughtering the animal." The Prophet replied, "Do the slaughtering (now) and there is no harm." So on that day, when the Prophet was asked about anything as regards the ceremonies of Hajj performed before or after its due time his reply was, "Do it (now) and there is no harm."

ہم سے ابو نعیم نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی سلمہ نےبیان کیا انہوں نے زہری سے انہوں نے عیسی ابنِ طلحہ سے انہوں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ میں نےنبیﷺ کو جمرہ عقبہ کے پاس دیکھا لوگ آپﷺ سے مسائل پوچھ رہے تھے ایک شخص نے عرض کی یا رسول اللہ میں نے رمی (کنکریاں مارنے)سے پہلے ہی قربانی کرلی ، آپﷺ نے فرمایا اب رمی کر لو کوئی حرج نہیں، دوسرے نے عرض کی یا رسول اللہ میں نے قربانی کرنے سے پہلے سر منڈوا لیا آپﷺ نے فرمایا اب قربانی کرلو کوئی حرج نہیں اس دن آپﷺ سے کسی بھی تقدیم وتاخیر کے بارے میں پوچھا گیا تو آپﷺ نے فرمایا اب کر لو کوئی حرج نہیں۔

47. The Statement of Allah, "And of knowledge you (mankind) have been given only a little." (V.17:85)



حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، سُلَيْمَانُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ بَيْنَا أَنَا أَمْشِي، مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي خَرِبِ الْمَدِينَةِ، وَهُوَ يَتَوَكَّأُ عَلَى عَسِيبٍ مَعَهُ، فَمَرَّ بِنَفَرٍ مِنَ الْيَهُودِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ سَلُوهُ عَنِ الرُّوحِ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُهُمْ لاَ تَسْأَلُوهُ لاَ يَجِيءُ فِيهِ بِشَىْءٍ تَكْرَهُونَهُ‏.‏ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لَنَسْأَلَنَّهُ‏.‏ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَقَالَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ، مَا الرُّوحُ فَسَكَتَ‏.‏ فَقُلْتُ إِنَّهُ يُوحَى إِلَيْهِ‏.‏ فَقُمْتُ، فَلَمَّا انْجَلَى عَنْهُ، قَالَ ‏{‏وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتُيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلاَّ قَلِيلاً‏}‏‏.‏ قَالَ الأَعْمَشُ هَكَذَا فِي قِرَاءَتِنَا‏

Narrated By 'Abdullah : While I was going with the Prophet through the ruins of Medina and he was reclining on a date-palm leaf stalk, some Jews passed by. Some of them said to the others: Ask him (the Prophet) about the spirit. Some of them said that they should not ask him that question as he might give a reply which would displease them. But some of them insisted on asking, and so one of them stood up and asked, "O Aba-l-Qasim ! What is the spirit?" The Prophet remained quiet. I thought he was being inspired Divinely. So I stayed till that state of the Prophet (while being inspired) was over. The Prophet then said, "And they ask you (O Muhammad) concerning the spirit... Say: The spirit... its knowledge is with my Lord. And of knowledge you (mankind) have been given only a little)." (17.85)

ہم سے قیس بن حفص نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سےاعمش نے بیان کیا جس کا نام سلیمان بن مہران ہےانہوں نے ابراہیم سے انہوں نے علقمہ سے انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے میں نبیﷺ کے ساتھ مدینہ کے کھنڈرات سے گزر رہا تھا اور آپ ﷺ کھجور کی ایک ٹہنی کے سہارے چل رہے تھے اتنے میں آپﷺ کا گزر یہودیوں کے ایک گروہ کے پاس سے ہوا، انہوں نے آپس میں باتیں شروع کر دیں ایک کہنے لگا ان(محمدﷺ) سے روح کے بارے میں پوچھو دوسرے نے کہا نہ پوچھنا اگر انہوں نے کوئی جواب دے دیا تو آپ کو برا لگے گا، لیکن کچھ یہودیوں نے کہا ہم تو ضرور پوچھیں گئے، آخر ان میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا اے ابو القاسم روح کیا چیز ہے؟ یہ سن کر آپﷺ خاموش ہو گئے ،میں سمجھ گیا کہ وحی نازل ہو رہی ہے لہذا میں ٹھر گیا، جب وحی ختم ہوئی تو آپﷺ نے (سورۃ بنی اسرائیل کی) یہ آیت تلاوت فرمائی: اے پیغمبر یہ لوگ آپ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں آپ ان سے کہہ دیں کہ روح میرے رب کا حکم ہے، اور تمہیں تھوڑا علم دیا گیا ہے۔ اعمش کہتے ہیں ہماری قرآءت میں اوتوا ہے اوتیتم نہیں۔

48. Whosever left some optional things simply for the fear that some people may not be able to understand them and may fall into something more difficult.



حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ، قَالَ قَالَ لِي ابْنُ الزُّبَيْرِ كَانَتْ عَائِشَةُ تُسِرُّ إِلَيْكَ كَثِيرًا فَمَا حَدَّثَتْكَ فِي الْكَعْبَةِ قُلْتُ قَالَتْ لِي قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَا عَائِشَةُ، لَوْلاَ قَوْمُكِ حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ ـ قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ بِكُفْرٍ ـ لَنَقَضْتُ الْكَعْبَةَ فَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ باب يَدْخُلُ النَّاسُ، وَبَابٌ يَخْرُجُونَ ‏"‏‏.‏ فَفَعَلَهُ ابْنُ الزُّبَيْرِ‏

Narrated By Aswad : Ibn Az-Zubair said to me, "'Aisha used to tell you secretly a number of things. What did she tell you about the Ka'ba?" I replied, "She told me that once the Prophet said, 'O 'Aisha! Had not your people been still close to the pre-Islamic period of ignorance (infidelity)! I would have dismantled the Ka'ba and would have made two doors in it; one for entrance and the other for exit." Later on Ibn Az-Zubair did the same.

ہم سے عبیداللہ بن موسی نے بیان کیا انہوں نے اسرائیل سے، انہوں نے ابو اسحاق سے انہوں نے اسود سے نقل کیا کہ ایک مرتبہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے مجھ سے پوچھا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بعض باتیں صرف آپ ہی سے کیا کرتی تھیں تو کبھی انہوں نے کعبہ کے بارے میں بھی کوئی بات بیان کی؟ میں نے کہا ہاں انہوں نے ایک مرتبہ بیان کیا کہ نبیﷺ نے فرمایا: اے عائشہ اگر تیری یہ قوم نئی نئی مسلمان نہ ہوتی تو میں کعبہ کو از سرِ نو تعمیر کرتا اور اس کے دو دروازے بناتا ایک نکلنے کے لیے اور ایک داخل ہونے کے لیے، پھر ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے اپنے دورِ حکومت میں ایسا ہی کیا تھا۔

49. Whoever selected some people to teach them (religious) knowledge preferring them over others for fear that the others may not understand it.

And Ali said, "You should preach to the people according to their mental calibre so that they may not convey wrong things about Allah and His Messenger."


حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ مَعْرُوفِ بْنِ خَرَّبُوذٍ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ عَلِيٍّ بِذَلِكَ‏

Narrated Abu At-Tufail the above mentioned statement of Ali.

ہم سے اس قول کو عبیداللہ بن موسی نے بیان کیا انہوں نے معروف سے انہوں نے ابو الطفیل سے انہوں حضرت علیؓ سے۔





حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَمُعَاذٌ رَدِيفُهُ عَلَى الرَّحْلِ قَالَ ‏"‏ يَا مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ ‏"‏‏.‏ قَالَ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ يَا مُعَاذُ ‏"‏‏.‏ قَالَ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ‏.‏ ثَلاَثًا‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَا مِنْ أَحَدٍ يَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ صِدْقًا مِنْ قَلْبِهِ إِلاَّ حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ ‏"‏‏.‏ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلاَ أُخْبِرُ بِهِ النَّاسَ فَيَسْتَبْشِرُوا قَالَ ‏"‏ إِذًا يَتَّكِلُوا ‏"‏‏.‏ وَأَخْبَرَ بِهَا مُعَاذٌ عِنْدَ مَوْتِهِ تَأَثُّمًا

Narrated By Anas bin Malik : "Once Mu'adh was along with Allah's Apostle as a companion rider. Allah's Apostle said, "O Mu'adh bin Jabal." Mu'adh replied, "Labbaik and Sa'daik. O Allah's Apostle!" Again the Prophet said, "O Mu'adh!" Mu'adh said thrice, "Labbaik and Sa'daik, O Allah's Apostle!" Allah's Apostle said, "There is none who testifies sincerely that none has the right to be worshipped but Allah and Muhammad is his Apostle, except that Allah, will save him from the Hell-fire." Mu'adh said, "O Allah's Apostle ! Should I not inform the people about it so that they may have glad tidings?" He replied, "When the people hear about it, they will solely depend on it." Then Mu'adh narrated the above-mentioned Hadith just before his death, being afraid of committing sin (by not telling the knowledge).

ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم کو معاذ بن ہشام نے خبر دی انہوں نے کہا مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا انہوں نے قتادہؓ سے انہوں نے کہا ہم سے انس بن مالک نے بیان کیا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ رسول اللہﷺ اور معاذ رضی اللہ عنہ ایک سواری پہ جا رہے تھے کہ آپﷺ نے فرمایا اے معاذ: انہوں نے عرض کی حاضر ہوں اے اللہ کے رسول، آپﷺ نے پھر فرمایا اے معاذ ، انہوں نے عرض کی حاضر ہوں اے اللہ کے رسول تین بار ایسے ہی ہوا، پھر آپﷺ نے فرمایا اے معاذ جو شخص سچے دل کے ساتھ اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں تو اللہ تعالی نے اس پر آگ کو حرام قرار دے دیا، معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کی اے اللہ کے رسول ﷺ کیا میں اس بات کی خبر لوگوں کو دے دوں تاکہ وہ خوش ہو جائیں، آپ ﷺ نے فرمایا( اگر بتاو گئے تو) لوگ اس پر بھروسہ کر کے (اعمال چھوڑ دیں گئے) پھر حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فوت ہوتے وقت یہ حدیث اس خیال سے بیان فرما دی کہ کہیں ان سے روزِ قیامت مواخذہ نہ ہو جائے۔





حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي قَالَ، سَمِعْتُ أَنَسًا، قَالَ ذُكِرَ لِي أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِمُعَاذٍ ‏"‏ مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لاَ يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَلاَ أُبَشِّرُ النَّاسَ قَالَ ‏"‏ لاَ، إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَتَّكِلُوا ‏"

Narrated By Anas : I was informed that the Prophet had said to Mu'adh, "Whosoever will meet Allah without associating anything in worship with Him will go to Paradise." Mu'adh asked the Prophet, "Should I not inform the people of this good news?" The Prophet replied, "No, I am afraid, lest they should depend upon it (absolutely)."

ہم سے مسدد نے بیان کیاانہوں نے کہا ہم سے معتمر نے بیان کیا انہوں نے کہا میں نے اپنے والد سے سنا انہوں نے کہا میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ مجھ سے بیان کیا گیا کہ نبیﷺ نے معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا جو شخص اللہ سے اس حال میں ملے کہ اس کے ساتھ شرک نہ کرتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو گا، معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کی کیا میں لوگوں کو اس کی خوشخبری نہ سنا دوں؟ آپﷺ نے فرمایا نہیں مجھے ڈر ہے کہ لوگ اس پر بھروسہ کر لیں گئے (اور اعمال چھوڑ دیں گئے)۔

0. (What is said as regards): To be shy (Al-Haya) while learning (religious) knowledge.

And Mujahid said, "Neither a shy nor a proud person can learn the religious knowledge." Aisha said, "How excellent the women of the Ansar are! They do not feel shy while learning sound knowledge in religion."


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ لاَ يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ، فَهَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ مِنْ غُسْلٍ إِذَا احْتَلَمَتْ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ ‏"‏‏.‏ فَغَطَّتْ أُمُّ سَلَمَةَ ـ تَعْنِي وَجْهَهَا ـ وَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَتَحْتَلِمُ الْمَرْأَةُ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ تَرِبَتْ يَمِينُكِ فَبِمَ يُشْبِهُهَا وَلَدُهَا؟ ‏"

Narrated By Um Salama : Um-Sulaim came to Allah's Apostle and said, "Verily, Allah is not shy of (telling you) the truth. Is it necessary for a woman to take a bath after she has a wet dream (nocturnal sexual discharge?) The Prophet replied, "Yes, if she notices a discharge." Um Salama, then covered her face and asked, "O Allah's Apostle! Does a woman get a discharge?" He replied, "Yes, let your right hand be in dust (An Arabic expression you say to a person when you contradict his statement meaning "you will not achieve goodness"), and that is why the son resembles his mother."

ہم سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم کو ابو معاویہ نے خبردی انہوں نے کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا انہوں نے اپنے باپ عروہ سے انہوں نے زینب بنت ام المومنین اُم سلمہؓ سے انہوں نے اپنی والدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ اُم سلیمؓ(انسؓ کی ماں) رسول اللہﷺ کے پاس آئیں اور پوچھنے لگیں یارسول اللہ، اللہ تعالی حق بات بیان کرنے سے نہیں شرماتا ( اس لیے میں پوچھ رہی ہوں کہ) اگر عورت کو احتلام ہو جائے تو کیا اس پر بھی غسل فرض ہے؟ آپﷺ نے فرمایا ہاں اگر وہ پانی دیکھ لے تو( یعنی بیدار ہوتے وقت کپڑوں پر اثرات دیکھے) یہ سن کر ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اپنا منہ چھپا لیا اور پوچھنے لگیں اے اللہ کے رسول کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا ہاں تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں پھر بچے کی شکل ماں پہ کیوں جاتی ہے۔





حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً لاَ يَسْقُطُ وَرَقُهَا، وَهِيَ مَثَلُ الْمُسْلِمِ، حَدِّثُونِي مَا هِيَ ‏"‏‏.‏ فَوَقَعَ النَّاسُ فِي شَجَرِ الْبَادِيَةِ، وَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ‏.‏ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَاسْتَحْيَيْتُ‏.‏ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنَا بِهَا‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هِيَ النَّخْلَةُ ‏"‏‏.‏ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَحَدَّثْتُ أَبِي بِمَا وَقَعَ فِي نَفْسِي فَقَالَ لأَنْ تَكُونَ قُلْتَهَا أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ أَنْ يَكُونَ لِي كَذَا وَكَذَا

Narrated By 'Abdullah bin 'Umar : Once Allah's Apostle said, "Amongst the trees there is a tree, the leaves of which do not fall and is like a Muslim, tell me the name of that tree." Everybody started thinking about the trees of the desert areas and I thought of the date-palm tree but felt shy (to answer). The others asked, "O Allah's Apostle! inform us of it." He replied, "it is the date-palm tree." I told my father what had come to my mind and on that he said, "Had you said it I would have preferred it to such and such a thing that I might possess."

ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا انہوں نے کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا انہوں نے عبداللہ بن دینار سے انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا درختوں میں ایک درخت ایسا ہے جس کے پتے نہیں جھڑتے اس کی مثال مسلمان جیسی ہے بتاو وہ کون سا درخت ہے؟ لوگوں کا خیال جنگل کے مختلف درختوں کی طرف گیا اور میرے دل میں آیا کہ وہ کجھور کا درخت ہے لیکن شرم کی وجہ سے نہ بولا، آخر لوگوں کے پوچھنے پر آپﷺ نے بتایا کہ وہ کجھور کا درخت ہے، اس کے بعد میں نے اپنے والد حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ رضی اللہ عنہ فرمایا: اگر تم اس کا جواب دے دیتے تو مجھے بہت سا (سرمایا ملنے ) سے بھی زیادہ خوشی ہوتی۔

51. Whosoever felt shy (to ask something) and then requested another person to ask on his behalf.



حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُنْذِرٍ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدٍ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ كُنْتُ رَجُلاً مَذَّاءً فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ أَنْ يَسْأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهُ فَقَالَ ‏"‏ فِيهِ الْوُضُوءُ ‏"

Narrated By 'Ali : I used to get the emotional urethral discharge frequently so I requested Al-Miqdad to ask the Prophet about it. Al-Miqdad asked him and he replied, "One has to perform ablution (after it)." (See Hadith No. 269).

ہم سے مسدد نے بیان کیاانہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن داؤد نے بیان کیا انہوں نے اعمش سے انہوں نے منذر ثوری سے انہوں نے محمد بن حنفیہ سے انہوں نے علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ میں ایسا شخص تھا جسے مذی(جریان) کی شکایت تھی تو میں نے مقداد سے کہا آپ نبیﷺ سے اس کے بارے میں دریافت کریں( انہوں نے پوچھا تو) آپﷺ نے فرمایا: اس کے نکلنے سے وضو کرنا چاہیے۔

52. Teaching religious knowledge and giving religious verdicts in a masjid.



حَدَّثَنِي قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا نَافِعٌ، مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ،‏.‏ أَنَّ رَجُلاً، قَامَ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مِنْ أَيْنَ تَأْمُرُنَا أَنْ نُهِلَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يُهِلُّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَيُهِلُّ أَهْلُ الشَّأْمِ مِنَ الْجُحْفَةِ، وَيُهِلُّ أَهْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ وَيَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ وَيُهِلُّ أَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ ‏"‏‏.‏ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ لَمْ أَفْقَهْ هَذِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم

Narrated By Nafi : 'Abdullah bin 'Umar said: "A man got up in the mosque and said: O Allah's Apostle 'At which place you order us that we should assume the Ihram?' Allah's Apostle replied, 'The residents of Medina should assure the Ihram from Dhil-Hulaifa, the people of Syria from Al-Juhfa and the people of Najd from Qarn." Ibn 'Umar further said, "The people consider that Allah's Apostle had also said, 'The residents of Yemen should assume Ihram from Yalamlam.'" Ibn 'Umar used to say, "I do not: remember whether Allah's Apostle had said the last statement or not?"

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے نافع نے بیان کیا جو عبداللہ بن عمرؓ کے غلام تھے انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ ایک شخص نے مسجد میں کھڑ ے ہو کر نبیﷺ سے پوچھا ہم حج کے لیے احرام کہاں سے باندھیں؟ آپﷺ نے فرمایا: مدینہ والے ذوالحلیفہ سے ، شام والے جحفہ سے اور نجد والے قرن منازل سے ، ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ لوگوں کا خیال ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ یمن والے یلملم سے احرام باندھیں لیکن مجھے یہ یاد نہیں۔

53. Whosoever answered to the questioner more than what he asked.



حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ وَعَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَجُلاً سَأَلَهُ مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ فَقَالَ ‏"‏ لاَ يَلْبَسِ الْقَمِيصَ وَلاَ الْعِمَامَةَ وَلاَ السَّرَاوِيلَ وَلاَ الْبُرْنُسَ وَلاَ ثَوْبًا مَسَّهُ الْوَرْسُ أَوِ الزَّعْفَرَانُ، فَإِنْ لَمْ يَجِدِ النَّعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسِ الْخُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْهُمَا حَتَّى يَكُونَا تَحْتَ الْكَعْبَيْنِ ‏"

Narrated By Ibn 'Umar : A man asked the Prophet : "What (kinds of clothes) should a Muhrim (a Muslim intending to perform 'Umra or Hajj) wear? He replied, "He should not wear a shirt, a turban, trousers, a head cloak or garment scented with saffron or Wars (kinds of perfumes). And if he has no slippers, then he can use Khuffs (leather socks) but the socks should be cut short so as to make the ankles bare." (See Hadith No. 615, Vol. 2).

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے ابنِ ابی ذئب نے بیان کیا انہوں نے نافع سے انہوں نے ابنِ عمرؓ سے انہوں نے نبیﷺ سے۔ دوسری سند اور ابنِ ابی ذئب نے اس کو زہری سے روایت کیا انہوں نے سالم سے انہوں نے ابنِ عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ ایک شخص نے آپﷺ سے سوال کیا کہ محرم(احرام باندھنے والا) کیا پہن سکتا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: وہ قمیص ، عمامہ،پائجامہ، ٹوپی اور ایسا کپڑا نہ پہنے جس پر ورس یا زعفران لگی ہو، اور اگر جوتیاں نہ ملیں تو ایسے موزے پہنے جنہیں ٹخنوں تک کاٹ لے۔

No comments:

Post a Comment