Sahih Bukhari
Book:(7) Tayammum كِتاب التيمُّم
The Statement of Allah, "... And if you find no water, then perform tayammum with clean earth and rub therewith your faces and hands ..." (V.5:6)
1. Chapter
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ
عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ،
زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ
اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، حَتَّى إِذَا كُنَّا
بِالْبَيْدَاءِ ـ أَوْ بِذَاتِ الْجَيْشِ ـ انْقَطَعَ عِقْدٌ لِي،
فَأَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْتِمَاسِهِ،
وَأَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ، وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ، فَأَتَى النَّاسُ
إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ فَقَالُوا أَلاَ تَرَى مَا صَنَعَتْ
عَائِشَةُ أَقَامَتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالنَّاسِ،
وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ، وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ. فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ
وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاضِعٌ رَأْسَهُ عَلَى فَخِذِي قَدْ
نَامَ فَقَالَ حَبَسْتِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالنَّاسَ،
وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ، وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ. فَقَالَتْ عَائِشَةُ
فَعَاتَبَنِي أَبُو بَكْرٍ، وَقَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ،
وَجَعَلَ يَطْعُنُنِي بِيَدِهِ فِي خَاصِرَتِي، فَلاَ يَمْنَعُنِي مِنَ
التَّحَرُّكِ إِلاَّ مَكَانُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى
فَخِذِي، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ أَصْبَحَ عَلَى
غَيْرِ مَاءٍ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ التَّيَمُّمِ فَتَيَمَّمُوا.
فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ الْحُضَيْرِ مَا هِيَ بِأَوَّلِ بَرَكَتِكُمْ يَا
آلَ أَبِي بَكْرٍ. قَالَتْ فَبَعَثْنَا الْبَعِيرَ الَّذِي كُنْتُ
عَلَيْهِ، فَأَصَبْنَا الْعِقْدَ تَحْتَهُ
Narrated By 'Aisha : (The wife of the Prophet) We set out with Allahs
Apostle on one of his journeys till we reached Al-Baida' or
Dhatul-Jaish, a necklace of mine was broken (and lost). Allah's Apostle
stayed there to search for it, and so did the people along with him.
There was no water at that place, so the people went to Abu- Bakr
As-Siddiq and said, "Don't you see what 'Aisha has done? She has made
Allah's Apostle and the people stay where there is no water and they
have no water with them." Abu Bakr came while Allah's Apostle was
sleeping with his head on my thigh, He said, to me: "You have detained
Allah's Apostle and the people where there is no water and they have no
water with them.
So he admonished me and said what Allah wished him to say and hit me on my flank with his hand. Nothing prevented me from moving (because of pain) but the position of Allah's Apostle on my thigh. Allah's Apostle got up when dawn broke and there was no water. So Allah revealed the Divine Verses of Tayammum. So they all performed Tayammum. Usaid bin Hudair said, "O the family of Abu Bakr! This is not the first blessing of yours." Then the camel on which I was riding was caused to move from its place and the necklace was found beneath it.
So he admonished me and said what Allah wished him to say and hit me on my flank with his hand. Nothing prevented me from moving (because of pain) but the position of Allah's Apostle on my thigh. Allah's Apostle got up when dawn broke and there was no water. So Allah revealed the Divine Verses of Tayammum. So they all performed Tayammum. Usaid bin Hudair said, "O the family of Abu Bakr! This is not the first blessing of yours." Then the camel on which I was riding was caused to move from its place and the necklace was found beneath it.
ہم سے عبد اللہ بن یوسف نے بیان کیا کہا ہم کو امام مالکؒ نے خبر دی
اُنہوں نے عبد الرحمٰن بن قاسم سے انہوں نے اپنے باپ ( قاسم بن محمد بن ابی
بکر) سے اُنہوں نے حضرت عائشہؓ سے جو نبیﷺ کی بی بی تھیں انہوں نے کہا ہم
ایک سفر میں رسول اللہﷺ کے ساتھ نکلے ۔ (غزوہ بنی مصطلق میں ۶ھ میں ) جب
ہم بیداء یا ذات الجیش میں پہنچے ( یہ راوی کو شک ہے ) تو میرا ہار ٹوٹ کر
گر گیا ( جو اسماء سے مانگ کر لیا تھا ) رسول اللہﷺ اس کی تلاش میں ٹھہر
گئے ( کیونکہ پرائی چیز تھی ) اور لوگ بھی آپ کے ساتھ ٹھہر گئے وہاں پانی
نہ تھا آخر ( سب ) لوگ ابو بکر صدیقؓ کے پاس آئے اور کہنے لگے تم نے
دیکھا جو عائشہ نے کیا رسول اللہﷺ کو اور لوگوں کو ( ایک جنگل میں ) اٹکا
رکھا اور یہاں پانی بھی نہیں ملتا نہ اُن کے ساتھ کچھ پانی ہے ( جو کام میں
لاتے ) یہ سُن کر ابو بکرؓ آئے اور رسول اللہﷺ میری ران پر سر رکھے ہوئے
سو گئے تھے ابو بکرؓ نے کہا ( کیوں ) تو نےرسول اللہﷺ کو اور ( سب ) لوگوں
کو اٹکا دیا اور یہاں پانی بھی نہیں ہے نہ اُن کے ساتھ کچھ پانی ہے حضرت
عائشہؓ نے کہا ابو بکرؓ نے مجھ پر غصّہ کیا اور جو اللہ کو منظور تھا (
بُرا بھلا ) وہ اُنہوں نے کہا اور اپنے ہاتھ سے میری کوکھ میں کونچا مارنے
لگے میں ( ضرور) تڑپتی مگررسول اللہﷺ کا ( مبارک ) سر میری ران پر تھا صرف
اس وجہ سے نہ ہل سکی۔ جب صبح ہوئی تو رسول اللہﷺ اُٹھے لیکن پانی نہ تھا
تب اللہ تعالیٰ نے تیمم کی آیت اُتاری لوگوں نے تیمم کر لیا اس وقت اسید
بن خضیر ( ایک صحابی انصاریؓ) کہنے لگے ابو بکرؓ کے گھرانے والو یہ کچھ
تمہاری پہلی برکت نہیں ہے ۔
حضرت عائشہؓ کہتی ہیں پھر ہم نے اس اُونٹ کو اُٹھایا جس پر میں ( سوار ) تھی تو اس کے نیچےہم کو ہار( بھی) مل گیا ۔
حضرت عائشہؓ کہتی ہیں پھر ہم نے اس اُونٹ کو اُٹھایا جس پر میں ( سوار ) تھی تو اس کے نیچےہم کو ہار( بھی) مل گیا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، ح قَالَ
وَحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ النَّضْرِ، قَالَ أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ
أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ ـ هُوَ ابْنُ صُهَيْبٍ
الْفَقِيرُ ـ قَالَ أَخْبَرَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ
النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ
يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ،
وَجُعِلَتْ لِيَ الأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا، فَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ
أُمَّتِي أَدْرَكَتْهُ الصَّلاَةُ فَلْيُصَلِّ، وَأُحِلَّتْ لِيَ
الْمَغَانِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لأَحَدٍ قَبْلِي، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ،
وَكَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً، وَبُعِثْتُ إِلَى
النَّاسِ عَامَّةً "
Narrated By
Jabir bin 'Abdullah : The Prophet said, "I have been given five things
which were not given to any one else before me.
1. Allah made me victorious by awe, (by His frightening my enemies) for a distance of one month's journey.
2. The earth has been made for me (and for my followers) a place for praying and a thing to perform Tayammum, therefore anyone of my followers can pray wherever the time of a prayer is due.
3. The booty has been made Halal (lawful) for me yet it was not lawful for anyone else before me.
4. I have been given the right of intercession (on the Day of Resurrection).
5. Every Prophet used to be sent to his nation only but I have been sent to all mankind.
1. Allah made me victorious by awe, (by His frightening my enemies) for a distance of one month's journey.
2. The earth has been made for me (and for my followers) a place for praying and a thing to perform Tayammum, therefore anyone of my followers can pray wherever the time of a prayer is due.
3. The booty has been made Halal (lawful) for me yet it was not lawful for anyone else before me.
4. I have been given the right of intercession (on the Day of Resurrection).
5. Every Prophet used to be sent to his nation only but I have been sent to all mankind.
ہم سے محمد بن سنان عوقی نے
بیان کیا کہا ہم سے ہشیم بن بشیر نے دوسری سند: امام بخاریؒ نے کہا اور مجھ
سے سعید بن نضر نے بیان کیا کہا ہم کو ( انہی ) ہشیم نے خبر دی کہا ہم کو
سیار بن ابی سیار نے کہا ہم سے یزید فقیر نے بیان کیا کہا ہم کو جابر بن
عبد اللہ انصاریؓ نے خبر دی کہ نبیﷺ نے فرمایا مجھے پانچ باتیں ایسی ملیں
جو مجھ سے پہلے کسی پیغمبر کو نہیں ملیں ایک یہ کہ ایک مہینے کی راہ سے (
دشمنوں پر )میرا رُعب پڑتا ہے دوسرے یہ کہ ساری زمین میرے لیے نماز کی جگہ
اور پاک کرنے والی بنائی گئی تو میری اُمت کا ہر آدمی اس کو (جہاں ) نماز
کا وقت آجائے نماز پڑھ لے تیسرے یہ کہ لُوٹ کے مال میرے لیے درست ہوئے
اور مجھ سے پہلے کسِی پیغمبر کے لیے درست نہیں ہوئے چوتھے یہ کہ مجھ کو
شفاعت ملی پانچویں یہ کہ( اگلے زمانے میں ) ہر نبی خاص اپنی قوم کی طرف
بھیجا جاتا تھا اور میں عام سب لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہوں ۔
2. What to do if neither water nor earth is available.
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ
بْنُ نُمَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ،
عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا اسْتَعَارَتْ مِنْ أَسْمَاءَ قِلاَدَةً
فَهَلَكَتْ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً،
فَوَجَدَهَا فَأَدْرَكَتْهُمُ الصَّلاَةُ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ
فَصَلَّوْا، فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ التَّيَمُّمِ. فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ
لِعَائِشَةَ جَزَاكِ اللَّهُ خَيْرًا، فَوَاللَّهِ مَا نَزَلَ بِكِ أَمْرٌ
تَكْرَهِينَهُ إِلاَّ جَعَلَ اللَّهُ ذَلِكِ لَكِ وَلِلْمُسْلِمِينَ فِيهِ
خَيْرًا
Narrated By 'Urwa's
father : 'Aisha said, "I borrowed a necklace from Asma' and it was lost.
So Allah's Apostle sent a man to search for it and he found it. Then
the time of the prayer became due and there was no water. They prayed
(without ablution) and informed Allah's Apostle about it, so the verse
of Tayammum was revealed." Usaid bin Hudair said to 'Aisha, "May Allah
reward you. By Allah, whenever anything happened which you did not like,
Allah brought good for you and for the Muslims in that."
ہم سے زکریا بن یحییٰ نے بیان کیا کہا ہم سے عبد اللہ بن نمیر نے کہا ہم
سے ہشام بن عروہ نے اُنہوں نے اپنے باپ عروہ سے اُنہوں نے حضرت عائشہؓ سے
انہوں نے ( اپنی بہن ) اسماء سے ایک ہار مانگ کر لیا وہ گر گیا تو رسول
اللہﷺ نے ایک شخص ( اسید بن حضیر ) کو اس کو ڈھونڈنے کے لیے بھیجا اس کو وہ
ہار مِل گیا تو ( راہ میں جب اسید اور ان کے ہمراہی جا رہے تھے ) نماز کا
وقت آگیا انہوں نے ( بے وضو) نماز پڑھ لی پھر رسول اللہﷺ سے اس کا شکوہ
کیا تب اللہ تعالیٰ نے تیمّم کی آیت اتاری اسید بن حضیرؓ کہنے لگے عائشہؓ
اللہ تم کو اچھا بدلہ دے قسم خدا کی تم پر جب کو ئی ایسی بات آن پڑی جس کو
تم بُرا سمجھتی تھیں تو اللہ نے اس میں خود تمہارے لئے اور سب مسلمانوں کے
لئے بہتری کی ۔
3. The performance of Tayammum by a non-traveller (is permissible) when water is not available and when one is afraid that the time of Salat may elapse.
Ata supported that
opinion. Al-Hasan says, "If a patient has water but there is no one to
hand it over to him, then he can perform Tayammum." Ibn Umar came from
his land at Al-Juruf and the time for the Asr prayer became due while he
was at Marbad-an-Naam (sheep-fold), so he (performed Tayammum) and then
entered Medina when the sun was still high but he did not repeat that
Salat.
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ
جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ الأَعْرَجِ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَيْرًا،
مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَقْبَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ
يَسَارٍ، مَوْلَى مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى
دَخَلْنَا عَلَى أَبِي جُهَيْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّةِ
الأَنْصَارِيِّ فَقَالَ أَبُو الْجُهَيْمِ أَقْبَلَ النَّبِيُّ صلى الله
عليه وسلم مِنْ نَحْوِ بِئْرِ جَمَلٍ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ فَسَلَّمَ
عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى
أَقْبَلَ عَلَى الْجِدَارِ، فَمَسَحَ بِوَجْهِهِ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ رَدَّ
عَلَيْهِ السَّلاَمَ
Narrated By
Abu Juhaim Al-Ansari : The Prophet came from the direction of Bir Jamal.
A man met him and greeted him. But he did not return back the greeting
till he went to a (mud) wall and smeared his hands and his face with its
dust (performed Tayammum) and then returned back the greeting.
ہم سے یحیٰی بن بکیر نے بیان کیا کہا ہم سے لیث بن سعد نے اُنہوں نے جعفر
بن ربیعہ سے اُنہوں نے عبد الرحمٰن اعرج سے اُنہوں نے کہا میں نے عمیر بن
عبد اللہ سے سُنا جو ابنِ عباسؓ کے غلام تھے اُنہوں نے کہا میں اور عبد
اللہ بن یسار جو ام المؤ منین میمونہؓ نبی ﷺ کی بی بی کے غلام تھے مل کر
ابو جہیم بن حارث ابن صمہ انصاریؓ ( صحابی ) کے پاس پہنچے انہوں نے کہا
نبی ﷺ بیر جمل کی طرف سے آرہے تھے ( راہ میں ) ایک شخص ملا ( خود ابو
جہیم ) اس نے آپ کو سلام کیا لیکن نبیﷺ نے جواب نہ دیا یہاں تک کہ ایک
دیوار کے پاس آئے ( اس پر ہاتھ مارا ) منہ اور ہاتھوں پر مسح کیا پھر اس
کے سلام کا جواب دیا ۔
4. Can a person blow off the dust from his hands performing Tayammum (before passing them over his face).
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ، عَنْ
ذَرٍّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ،
قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ إِنِّي
أَجْنَبْتُ فَلَمْ أُصِبِ الْمَاءَ. فَقَالَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ
لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَمَا تَذْكُرُ أَنَّا كُنَّا فِي سَفَرٍ أَنَا
وَأَنْتَ فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ، وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّكْتُ
فَصَلَّيْتُ، فَذَكَرْتُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ
النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ هَكَذَا
". فَضَرَبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِكَفَّيْهِ الأَرْضَ،
وَنَفَخَ فِيهِمَا ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ
Narrated By 'Abdur Rahman bin Abza : A man came to 'Umar bin Al-Khattab
and said, "I became Junub but no water was available." 'Ammar bin Yasir
said to 'Umar, "Do you remember that you and I (became Junub while both
of us) were together on a journey and you didn't pray but I rolled
myself on the ground and prayed? I informed the Prophet about it and he
said, 'It would have been sufficient for you to do like this.' The
Prophet then stroked lightly the earth with his hands and then blew off
the dust and passed his hands over his face and hands.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے کہا ہم سے حکم بن
عتبہ نے اُنہوں نے ذربن عبداللہ سے اُنہوں نے سعید بن عبدالرحمٰن ابن ابزی
سے اُنہوں نے اپنے باپ سے اُنہوں نے کہا ایک شخص حضرت عمرؓ کے پاس آیا
اور کہنے لگا اگر مجھ کو جنابت ہو اور پانی نہ ملے تو کیا کروں عمار بن
یاسرؓ نے حضرت عمرؓ سے کہا تم کو یاد نہیں ہم تم دونوں ایک سفر میں تھے (
اور ہم کو جنابت ہوئی) تم نے تو نماز ہی نہیں پڑھی اور میں مٹی میں لوٹا
اور نماز پڑھ لی ۔ پھر میں نےنبیﷺ سے یہ بیان کیا ۔ آ پ نے فرمایا تجھے
اتنا بس کرنا تھا پھر آپؐ نے اپنی دونوں ہتھیلیاں زمین پر ماریں اور ان کو
پُھونک دیا پھر منہ اور دونوں پہنچوں پر مسح کر لیا ۔
5. Tayammum is for the hands and the face.
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي الْحَكَمُ،
عَنْ ذَرٍّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ
أَبِيهِ، قَالَ عَمَّارٌ بِهَذَا، وَضَرَبَ شُعْبَةُ بِيَدَيْهِ الأَرْضَ،
ثُمَّ أَدْنَاهُمَا مِنْ فِيهِ، ثُمَّ مَسَحَ وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ.
وَقَالَ النَّضْرُ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ قَالَ سَمِعْتُ
ذَرًّا يَقُولُ عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى قَالَ
الْحَكَمُ وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ
قَالَ قَالَ عَمَّارٌ : وُضُوءُ المُسْلِمِ يَكْفِيهِ مِنَ الماءِ
Narrated By Said bin 'Abdur Rahman bin Abza : (On the authority of his
father who said) 'Ammar said so (the above Statement). And Shu'ba
stroked lightly the earth with his hands and brought them close to his
mouth (blew off the dust) and passed them over his face and then the
backs of his hands. 'Ammar said, "Ablution (meaning Tayammum here) is
sufficient for a Muslim if water is not available."
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے کہا مجھ کو حکم بن
عتیبہ نے خبر دی اُنہوں نے ذر بن عبد اللہ سے انہوں نے سعید بن عبد الرحمٰن
بن ابزی سے اُنہوں نے اپنے باپ سے پھر عمار کی یہی روایت بیان کی اور شعبہ
نے ( اس کو یوں بتلا یا کہ ) اپنے دو ہاتھ زمین پر مارے ( پھر ) ان کو
منہ کے نزدیک لے گئے ( پھونکا ) پھر اپنے منہ اور دونوں پہو نچوں پر مسح
کیا
اور نضر بن شمیل نے کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی انہوں نے حکم سے اُنہوں نے کہا میں نے ذر سے سنا اُنہوں نے سعید بن عبد الرحمٰن سے حکم نے کہا اور میں نے اس حدیث کو خود سعید بن عبد الرحمٰن سے بھی سنا اُنہوں نے اپنے باپ سے کہ عمار نے کہا ۔
اور نضر بن شمیل نے کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی انہوں نے حکم سے اُنہوں نے کہا میں نے ذر سے سنا اُنہوں نے سعید بن عبد الرحمٰن سے حکم نے کہا اور میں نے اس حدیث کو خود سعید بن عبد الرحمٰن سے بھی سنا اُنہوں نے اپنے باپ سے کہ عمار نے کہا ۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ
الْحَكَمِ، عَنْ ذَرٍّ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ
أَبِيهِ، أَنَّهُ شَهِدَ عُمَرَ وَقَالَ لَهُ عَمَّارٌ كُنَّا فِي
سَرِيَّةٍ فَأَجْنَبْنَا، وَقَالَ تَفَلَ فِيهِمَا
Narrated By 'Abdur Rahman bin Abza : That while he was in the company
of 'Umar, 'Ammar said to 'Umar, "We were in a detachment and became
Junub and I blew the dust off my hands (performed the rolling over the
earth and prayed.)"
ہم سے
سلیمان بن حرب نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے اُنہوں نے حکم سے اُنہوں نے
ذر سے اُنہوں نے عبد الرحمٰن بن ابزی کے بیٹے سے اُنہوں نے اپنے باپ سے
کہ وہ حضرت عمرؓ کے پاس موجود تھے ، عمارؓ نے اُن سے کہا ہم ایک لشکر میں
تھے ہم کو جنابت ہوئی اس روایت میں بجائے نفخ کے تفل ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنِ
الْحَكَمِ، عَنْ ذَرٍّ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ
عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ قَالَ عَمَّارٌ لِعُمَرَ تَمَعَّكْتُ فَأَتَيْتُ
النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " يَكْفِيكَ الْوَجْهُ
وَالْكَفَّانِ "
Narrated By
'Abdur Rahman bin Abza : 'Ammar said to 'Umar "I rolled myself in the
dust and came to the Prophet who said, 'Passing dusted hands over the
face and the backs of the hands is sufficient for you.'"
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا
کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی اُنہوں نے حکم سے اُ نہوں نے ذر سے اُ نہوں نے
عبد الرحمٰن بن ابزی کے بیٹے سے اُ نہوں نے اپنے باپ عبد الرحمٰن سے
اُنہوں نے کہا عمارؓ نے حضرت عمرؓ سے کہا میں ( مٹی میں لوٹا ) پھر نبیﷺ
کے پاس آیاآپؐ نے فرمایا تجھ کو منہ اور دونوں پہنچوں پر مسح کرنا کافی
تھا۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ ذَرٍّ،
عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ شَهِدْتُ
عُمَرَ فَقَالَ لَهُ عَمَّارٌ. وَسَاقَ الْحَدِيثَ
Narrated Ammar (R.A.) as above.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے اُ نہوں نے حکم سے
اُنہوں نے ذر سے اُنہوں نے سعید بن عبد الرحمٰن بن ابزی سے اُنہوں نے عبد
الرحمٰن سے اُنہوں نے کہا میں موجود تھاجب عمارؓ نے حضرت عمرؓ سے کہا
اور یہی حدیث بیان کی (حدیث ۳۳۸)۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ،
حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ ذَرٍّ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ
الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ عَمَّارٌ فَضَرَبَ
النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ الأَرْضَ، فَمَسَحَ وَجْهَهُ
وَكَفَّيْهِ.
Narrated By 'Ammar :
The Prophet stroked the earth with his hands and then passed them over
his face and the backs of his hands (while demonstrating Tayammum).
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا کہاہم سے غندر محمد بن جعفر نے کہا ہم سے
شعبہ نے اُنہوں نے حکم سے اُنہوں نے ذر سے اُنہوں نے سعید بن عبد الرحمٰن
بن ابز ی سے اُنہوں نے اپنے باپ سے اُنہوں نے کہا عمار نے کہا پھر نبیﷺ
نے اپنا ہاتھ زمین پر مارا اور اپنے منہ اور دونوں پہنچوں پر مسح کیا ۔
6. Clean earth is sufficient for a Muslim as a substitute for water for ablution (if he does not find water).
Al-Hasan said, "Tayammum is
sufficient unless one does Hadath." Ibn Abbas led the Salat with
Tayammum. Yahya bin Said said, "There is no offering Salat on a moorland
(a barren salty land) and performing Tayammum with it."
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ
حَدَّثَنَا عَوْفٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ، عَنْ عِمْرَانَ، قَالَ
كُنَّا فِي سَفَرٍ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَإِنَّا
أَسْرَيْنَا، حَتَّى كُنَّا فِي آخِرِ اللَّيْلِ، وَقَعْنَا وَقْعَةً وَلاَ
وَقْعَةَ أَحْلَى عِنْدَ الْمُسَافِرِ مِنْهَا، فَمَا أَيْقَظَنَا إِلاَّ
حَرُّ الشَّمْسِ، وَكَانَ أَوَّلَ مَنِ اسْتَيْقَظَ فُلاَنٌ ثُمَّ فُلاَنٌ
ثُمَّ فُلاَنٌ ـ يُسَمِّيهِمْ أَبُو رَجَاءٍ فَنَسِيَ عَوْفٌ ـ ثُمَّ
عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الرَّابِعُ، وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه
وسلم إِذَا نَامَ لَمْ يُوقَظْ حَتَّى يَكُونَ هُوَ يَسْتَيْقِظُ، لأَنَّا
لاَ نَدْرِي مَا يَحْدُثُ لَهُ فِي نَوْمِهِ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ عُمَرُ،
وَرَأَى مَا أَصَابَ النَّاسَ، وَكَانَ رَجُلاً جَلِيدًا، فَكَبَّرَ
وَرَفَعَ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ، فَمَا زَالَ يُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ
صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ حَتَّى اسْتَيْقَظَ لِصَوْتِهِ النَّبِيُّ صلى
الله عليه وسلم فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ شَكَوْا إِلَيْهِ الَّذِي أَصَابَهُمْ
قَالَ " لاَ ضَيْرَ ـ أَوْ لاَ يَضِيرُ ـ ارْتَحِلُوا ".
فَارْتَحَلَ فَسَارَ غَيْرَ بَعِيدٍ ثُمَّ نَزَلَ، فَدَعَا بِالْوَضُوءِ،
فَتَوَضَّأَ وَنُودِيَ بِالصَّلاَةِ فَصَلَّى بِالنَّاسِ، فَلَمَّا
انْفَتَلَ مِنْ صَلاَتِهِ إِذَا هُوَ بِرَجُلٍ مُعْتَزِلٍ لَمْ يُصَلِّ
مَعَ الْقَوْمِ قَالَ " مَا مَنَعَكَ يَا فُلاَنُ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ
الْقَوْمِ ". قَالَ أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ وَلاَ مَاءَ. قَالَ "
عَلَيْكَ بِالصَّعِيدِ، فَإِنَّهُ يَكْفِيكَ ". ثُمَّ سَارَ النَّبِيُّ
صلى الله عليه وسلم فَاشْتَكَى إِلَيْهِ النَّاسُ مِنَ الْعَطَشِ
فَنَزَلَ، فَدَعَا فُلاَنًا ـ كَانَ يُسَمِّيهِ أَبُو رَجَاءٍ نَسِيَهُ
عَوْفٌ ـ وَدَعَا عَلِيًّا فَقَالَ " اذْهَبَا فَابْتَغِيَا الْمَاءَ
". فَانْطَلَقَا فَتَلَقَّيَا امْرَأَةً بَيْنَ مَزَادَتَيْنِ ـ أَوْ
سَطِيحَتَيْنِ ـ مِنْ مَاءٍ عَلَى بَعِيرٍ لَهَا، فَقَالاَ لَهَا أَيْنَ
الْمَاءُ قَالَتْ عَهْدِي بِالْمَاءِ أَمْسِ هَذِهِ السَّاعَةَ،
وَنَفَرُنَا خُلُوفًا. قَالاَ لَهَا انْطَلِقِي إِذًا. قَالَتْ إِلَى
أَيْنَ قَالاَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم. قَالَتِ
الَّذِي يُقَالُ لَهُ الصَّابِئُ قَالاَ هُوَ الَّذِي تَعْنِينَ
فَانْطَلِقِي. فَجَاءَا بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم
وَحَدَّثَاهُ الْحَدِيثَ قَالَ فَاسْتَنْزَلُوهَا عَنْ بَعِيرِهَا وَدَعَا
النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِإِنَاءٍ، فَفَرَّغَ فِيهِ مِنْ أَفْوَاهِ
الْمَزَادَتَيْنِ ـ أَوِ السَّطِيحَتَيْنِ ـ وَأَوْكَأَ أَفْوَاهَهُمَا،
وَأَطْلَقَ الْعَزَالِيَ، وَنُودِيَ فِي النَّاسِ اسْقُوا وَاسْتَقُوا.
فَسَقَى مَنْ شَاءَ، وَاسْتَقَى مَنْ شَاءَ، وَكَانَ آخِرَ ذَاكَ أَنْ
أَعْطَى الَّذِي أَصَابَتْهُ الْجَنَابَةُ إِنَاءً مِنْ مَاءٍ قَالَ "
اذْهَبْ، فَأَفْرِغْهُ عَلَيْكَ ". وَهْىَ قَائِمَةٌ تَنْظُرُ إِلَى
مَا يُفْعَلُ بِمَائِهَا، وَايْمُ اللَّهِ لَقَدْ أُقْلِعَ عَنْهَا،
وَإِنَّهُ لَيُخَيَّلُ إِلَيْنَا أَنَّهَا أَشَدُّ مِلأَةً مِنْهَا حِينَ
ابْتَدَأَ فِيهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اجْمَعُوا
لَهَا ". فَجَمَعُوا لَهَا مِنْ بَيْنِ عَجْوَةٍ وَدَقِيقَةٍ
وَسَوِيقَةٍ، حَتَّى جَمَعُوا لَهَا طَعَامًا، فَجَعَلُوهَا فِي ثَوْبٍ،
وَحَمَلُوهَا عَلَى بَعِيرِهَا، وَوَضَعُوا الثَّوْبَ بَيْنَ يَدَيْهَا
قَالَ لَهَا " تَعْلَمِينَ مَا رَزِئْنَا مِنْ مَائِكِ شَيْئًا،
وَلَكِنَّ اللَّهَ هُوَ الَّذِي أَسْقَانَا ". فَأَتَتْ أَهْلَهَا،
وَقَدِ احْتَبَسَتْ عَنْهُمْ قَالُوا مَا حَبَسَكِ يَا فُلاَنَةُ قَالَتِ
الْعَجَبُ، لَقِيَنِي رَجُلاَنِ فَذَهَبَا بِي إِلَى هَذَا الَّذِي يُقَالُ
لَهُ الصَّابِئُ، فَفَعَلَ كَذَا وَكَذَا، فَوَاللَّهِ إِنَّهُ لأَسْحَرُ
النَّاسِ مِنْ بَيْنِ هَذِهِ وَهَذِهِ. وَقَالَتْ بِإِصْبَعَيْهَا
الْوُسْطَى وَالسَّبَّابَةِ، فَرَفَعَتْهُمَا إِلَى السَّمَاءِ ـ تَعْنِي
السَّمَاءَ وَالأَرْضَ ـ أَوْ إِنَّهُ لَرَسُولُ اللَّهِ حَقًّا، فَكَانَ
الْمُسْلِمُونَ بَعْدَ ذَلِكَ يُغِيرُونَ عَلَى مَنْ حَوْلَهَا مِنَ
الْمُشْرِكِينَ، وَلاَ يُصِيبُونَ الصِّرْمَ الَّذِي هِيَ مِنْهُ،
فَقَالَتْ يَوْمًا لِقَوْمِهَا مَا أُرَى أَنَّ هَؤُلاَءِ الْقَوْمَ
يَدَعُونَكُمْ عَمْدًا، فَهَلْ لَكُمْ فِي الإِسْلاَمِ فَأَطَاعُوهَا
فَدَخَلُوا فِي الإِسْلاَمِ. قالَ أبو عَبْدِاللهِ : صَبَا : خَرَجَ مِنْ
دينٍ إلى غَيْرِهِ. وقالَ أَبُو العاليةِ : الصَّابِئِينَ فِرْقَةٌ مِنْ
أَهْلِ الكِتابِ يَقْرَؤُنَ الزَّبُورَ
Narrated By 'Imran : Once we were travelling with the Prophet and we
carried on travelling till the last part of the night and then we
(halted at a place) and slept (deeply). There is nothing sweeter than
sleep for a traveller in the last part of the night. So it was only the
heat of the sun that made us to wake up and the first to wake up was so
and so, then so and so and then so and so (the narrator 'Auf said that
Abu Raja' had told him their names but he had forgotten them) and the
fourth person to wake up was 'Umar bin Al-Khattab. And whenever the
Prophet used to sleep, nobody would wake up him till he himself used to
get up as we did not know what was happening (being revealed) to him in
his sleep. So, 'Umar got up and saw the condition of the people, and he
was a strict man, so he said, "Allahu Akbar" and raised his voice with
Takbir, and kept on saying loudly till the Prophet got up because of it.
When he got up, the people informed him about what had happened to
them. He said, "There is no harm (or it will not be harmful). Depart!"
So they departed from that place, and after covering some distance the
Prophet stopped and asked for some water to perform the ablution. So he
performed the ablution and the call for the prayer was pronounced and he
led the people in prayer. After he finished from the prayer, he saw a
man sitting aloof who had not prayed with the people. He asked, "O so
and so! What has prevented you from praying with us?" He replied, "I am
Junub and there is no water. " The Prophet said, "Perform Tayammum with
(clean) earth and that is sufficient for you."
Then the Prophet proceeded on and the people complained to him of thirst. Thereupon he got down and called a person (the narrator 'Auf added that Abu Raja' had named him but he had forgotten) and 'Ali, and ordered them to go and bring water. So they went in search of water and met a woman who was sitting on her camel between two bags of water. They asked, "Where can we find water?" She replied, "I was there (at the place of water) this hour yesterday and my people are behind me." They requested her to accompany them. She asked, "Where?" They said, "To Allah's Apostle." She said, "Do you mean the man who is called the Sabi, (with a new religion)?" They replied, "Yes, the same person. So come along." They brought her to the Prophet and narrated the whole story. He said, "Help her to dismount." The Prophet asked for a pot, then he opened the mouths of the bags and poured some water into the pot. Then he closed the big openings of the bags and opened the small ones and the people were called upon to drink and water their animals. So they all watered their animals and they (too) all quenched their thirst and also gave water to others and last of all the Prophet gave a pot full of water to the person who was Junub and told him to pour it over his body. The woman was standing and watching all that which they were doing with her water. By Allah, when her water bags were returned the looked like as if they were more full (of water) than they had been before (Miracle of Allah's Apostle) Then the Prophet ordered us to collect something for her; so dates, flour and Sawiq were collected which amounted to a good meal that was put in a piece of cloth. She was helped to ride on her camel and that cloth full of food-stuff was also placed in front of her and then the Prophet said to her, "We have not taken your water but Allah has given water to us." She returned home late. Her relatives asked her: "O so and so what has delayed you?" She said, "A strange thing! Two men met me and took me to the man who is called the Sabi' and he did such and such a thing. By Allah, he is either the greatest magician between this and this (gesturing with her index and middle fingers raising them towards the sky indicating the heaven and the earth) or he is Allah's true Apostle."
Afterwards the Muslims used to attack the pagans around her abode but never touched her village. One day she said to her people, "I think that these people leave you purposely. Have you got any inclination to Islam?" They obeyed her and all of them embraced Islam.
Abu 'Abdultah said: The word Saba'a means "The one who has deserted his old religion and embraced a new religion." Abul 'Ailya said, "The Sabis are a sect of people of the Scripture who recite the Book of Psalms."
Then the Prophet proceeded on and the people complained to him of thirst. Thereupon he got down and called a person (the narrator 'Auf added that Abu Raja' had named him but he had forgotten) and 'Ali, and ordered them to go and bring water. So they went in search of water and met a woman who was sitting on her camel between two bags of water. They asked, "Where can we find water?" She replied, "I was there (at the place of water) this hour yesterday and my people are behind me." They requested her to accompany them. She asked, "Where?" They said, "To Allah's Apostle." She said, "Do you mean the man who is called the Sabi, (with a new religion)?" They replied, "Yes, the same person. So come along." They brought her to the Prophet and narrated the whole story. He said, "Help her to dismount." The Prophet asked for a pot, then he opened the mouths of the bags and poured some water into the pot. Then he closed the big openings of the bags and opened the small ones and the people were called upon to drink and water their animals. So they all watered their animals and they (too) all quenched their thirst and also gave water to others and last of all the Prophet gave a pot full of water to the person who was Junub and told him to pour it over his body. The woman was standing and watching all that which they were doing with her water. By Allah, when her water bags were returned the looked like as if they were more full (of water) than they had been before (Miracle of Allah's Apostle) Then the Prophet ordered us to collect something for her; so dates, flour and Sawiq were collected which amounted to a good meal that was put in a piece of cloth. She was helped to ride on her camel and that cloth full of food-stuff was also placed in front of her and then the Prophet said to her, "We have not taken your water but Allah has given water to us." She returned home late. Her relatives asked her: "O so and so what has delayed you?" She said, "A strange thing! Two men met me and took me to the man who is called the Sabi' and he did such and such a thing. By Allah, he is either the greatest magician between this and this (gesturing with her index and middle fingers raising them towards the sky indicating the heaven and the earth) or he is Allah's true Apostle."
Afterwards the Muslims used to attack the pagans around her abode but never touched her village. One day she said to her people, "I think that these people leave you purposely. Have you got any inclination to Islam?" They obeyed her and all of them embraced Islam.
Abu 'Abdultah said: The word Saba'a means "The one who has deserted his old religion and embraced a new religion." Abul 'Ailya said, "The Sabis are a sect of people of the Scripture who recite the Book of Psalms."
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا کہا مجھ سے یحیٰی بن سعید قطان نے کہا ہم
سے عوف نے کہا ہم سے ابو رجاء ، عمران بن ملحان نے اُنہوں نے عمران بن
حصینؓ سے اُنہوں نے کہا ہم نبیﷺ کے ساتھ سفر میں تھے اور رات کو چلتے چلتے
جب اخیر رات ہوئی تو ذرا پڑ گئے اور مسافر کے لیے اس اخیر رات کی نیند سے
بڑھ کر کوئی نیند میٹھی نہیں ہوتی پھر ہماری آنکھ جب ہی کھلی جب سورج کی
گرمی پہنچی تو سب سے پہلے فلاں شخص( ابو بکرؓ ) جاگے پھر فلاں شخص پھر
فلاں شخص ابو رجاء ان کو نام بنام بیان کرتے تھے لیکن عوف بھول گئے پھر
چوتھے حضرت عمرؓ جاگے اور ( ہمارا قاعدہ یہ تھا) جب نبیﷺ آرام فرماتے تو
ہم آپ کو نہ جگاتے یہاں تک کہ آپ خود بیدار ہوں کیونکہ ہم نہیں جانتے
تھے کہ خواب میں آپ پر کیا تازی وحی آتی ہے جب حضرت عمرؓ جاگے اور
اُنہوں نے لوگوں پر جو آفت آئی وہ دیکھی اور وہ دل والے آدمی تھے انہوں
نے بلند آواز سے تکبیر کہنا شروع کی برابر اللہ اکبر اللہ اکبر بلند آواز
سے کہتے رہے یہاں تک کہ اُن کی آواز سے نبیﷺ بیدار ہو گئے جب آپ بیدار
ہوئے تو لوگ اس مصیبت کا لگے شکوہ کرنے آپؐ نے فرمایا کچھ پرواہ نہیں یا
اس سے کچھ نقصان نہ ہو گا چلو اب کوچ کرو پھر تھوڑی دُور چلے بعد اس کے آپ
اُترے اور وضو کا پانی منگوایا وضو کیا نماز کی اذان ہوئی آپ نے لوگوں
کو نماز پڑھائی جب نماز سے فارغ ہوئے تو ایک شخص کو دیکھا وہ کنارے بیٹھا
ہے اس نے لوگوں کے ساتھ نماز نہیں پڑھی آ پؐ نے فرمایااو شخص تجھے کیا
ہوا تو نے لوگوں کے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی وہ کہنے لگا مجھ کو نہانے کی
حاجت ہے اور پانی نہیں ہےآپؐ نے فرمایا مٹی لے لے وہ تجھ کو کافی ہے پھر
نبیﷺ چلے لوگوں نے آپؐ سے پیاس کا شکوہ کیا آپؐ اُترے اور ایک شخص کو
بُلایا ( عمران بن حصینؓ کو) ابو رجاء اُس کا نام بیان کرتے تھے لیکن عوف
بھول گئے اور حضرت علیؓ کو دونوں سے فرمایا جاؤ پانی کی تلاش کرو وہ دونوں
گئے ( راہ میں ) ایک عورت ملی جو اُونٹ پر پانی کی دو پکھا لوں یا دو مشکوں
کے بیچ میں سوار جا رہی تھی انہوں نے اس سے پُوچھا پانی کہاں ملتا ہے اس
نے کہا پانی مجھ کو کل اسی وقت ملا تھا اور ہماری قوم کے مرد لوگ پیچھے
ہیں اُنہوں نے اُس سے کہا خیر اب تو چل اُس نے کہا کہاں چلوں اُنہوں نے
کہا اللہ کے رسولﷺ کے پاس ، اُس نے کہا وہ تو نہیں جن کو لوگ صابی کہتے ہیں
انہوں نے کہا اُنہی کے پاس جن کو تو سمجھی چل تو سہی آخر وہ دونوں اس کو
نبیﷺ کے پاس لے آئے اور آپؐ سے سارا قِصّہ بیان کیا عمران نے کہا پھر
لوگوں نے اس عورت کو اُس کے اونٹ پر سے اُتار لیا اور نبیﷺ نے ایک برتن
منگوایا اور دونوں پکھالوں یا مشکوں کا منہ کھول کر اُن سے پانی ڈالنا شروع
کیا پھر اُوپر کے منہ کو بند کر دیا اور نیچے کا منہ کھول دیا اور لوگوں
میں منادی کی گئی پانی پلاؤ اور پیو جس نے چاہا(جانوروں کو)پلایا اور جس نے
چاہا پیا ( سب سیر ہو گئے ) اخیر میں آپؐ نے یہ کیا کہ جس شخص کو نہانے
کی حاجت ہوئی تھی اس کو بھی پانی بھرا ایک برتن دیا اور فرمایا جا اپنے
اوپر ڈال لے ( نہا لے ) وہ عورت کھڑی ہوئی جو کام اس کے پانی سے ہو رہے تھے
دیکھتی رہی اور قسم خدا کی پانی لینا بند کیا گیا اور ہم کو ایسا معلوم
ہوتا تھا کہ اب وہ مشکیں اس سے زیادہ بھری ہوئی ہیں جیسے شروع میں بھری
تھیں پھر نبیﷺ نے فرمایا اب اس کے لیے کچھ جمع کرو ، لوگوں نے کھجور آٹا ،
ستو اکٹھا کرنا شروع کیا یہاں تک کہ ( بہت سارا) کھانا اس کے لئے اکٹھا
کیا وہ سب کھانا ایک کپڑے میں رکھا اور اس کو اونٹ پر سوار کر دیا وہ کپڑا (
کھانا بھرا ) اس کے سامنے رکھ دیا تب آپؐ نے اس سے فرمایا تو جانتی ہے کہ
ہم نے تیرا پانی کچھ کم نہیں کیا اللہ ہی نے ہم کو پانی پلایا پھر وہ عورت
اپنے گھر والوں کے پاس گئی ، چونکہ (راہ میں ) روک لی گئی تھی اُنہوں نے
پوچھا ارے فلانی تو نے دیر کیوں لگائی وہ کہنے لگی عجیب بات ہوئی دو آدمی (
راہ میں ) مجھ کو ملے وہ مجھ کو اس شخص کے پاس لے گئے جس کو لوگ صابی کہتے
ہیں اُس نے ایسا ایسا کیا تو قسم خدا کی جتنے لوگ اس کے اور اس کے بیچ میں
ہیں اور اس نے اپنی بیچ کی اُنگلی اور کلمے کی اُنگلی اٹھا کر آسمان اور
زمین کی طرف اشارہ کیا ان سب میں وہ بڑا جادو گر ہے یا سچ ہی اللہ کا رسول
ہے پھر مسلمانوں نے یہ کرناشروع کیا کہ اس عورت کے گرد ا گرد جو مشرک رہتے
تھے ان کو تو لوٹتے اور جن لوگوں میں وہ عورت رہتی تھی ان کو چھوڑ دیتے ایک
دن اُس نے اپنے لوگوں سے کہا میں سمجھتی کہ مسلمان جو تم کو چھوڑ دیتے ہیں
تو جان بوجھ کر چھوڑ دیتے ہیں کیا تم چاہتے ہو کہ مسلمان ہو جاؤ اُنہوں
نے اس کی بات مان لی اور مسلمان ہو گئے امام بخاریؒ نے کہا صابی صبا سے
نکالا گیا ہے صبا کے معنی اپنا دین چھوڑ کر دوسرے دین میں چلا گیا اور ابو
العالیہ نے کہا صائبین اہلِ کتاب کا ایک فرقہ ہے جو زبور پڑھا کرتے ہیں ۔
7. A Junub can perform Tayammum if he is afraid of disease, death or thirst.
It
is said that once Amr bin Al-Aas became Junub in a very cold night. He
performed Tayammum and recited the following Verse from the Quran, "...
And do not kill yourself. Surely, Allah is Most Merciful to you."
(V.4:29) When that was reported to the Prophet (s.a.w) he did not object
to it.
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ـ هُوَ
غُنْدَرٌ ـ عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ
قَالَ أَبُو مُوسَى لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ إِذَا لَمْ يَجِدِ
الْمَاءَ لاَ يُصَلِّي. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَوْ رَخَّصْتُ لَهُمْ فِي
هَذَا، كَانَ إِذَا وَجَدَ أَحَدُهُمُ الْبَرْدَ قَالَ هَكَذَا ـ يَعْنِي
تَيَمَّمَ وَصَلَّى ـ قَالَ قُلْتُ فَأَيْنَ قَوْلُ عَمَّارٍ لِعُمَرَ
قَالَ إِنِّي لَمْ أَرَ عُمَرَ قَنِعَ بِقَوْلِ عَمَّارٍ
Narrated By Abu Wail : Abu Muisa said to'Abdullah bin Mas'ud, "If one
does not find water (for ablution) can he give up the prayer?" Abdullah
replied, "If you give the permission to perform Tayammum they will
perform Tayammum even if water was available if one of them found it
cold." Abu Musa said, "What about the statement of 'Ammar to 'Umar?"
'Abdullah replied, "Umar was not satisfied by his statement."
ہم سے بشر بن خالد نے بیان کیا کہا ہم کو محمد بن جعفر غندر نے خبر دی
انہوں نے شعبہ سے اُنہوں نے سلیمان اعمش سے اُنہوں نے ابو وائل سے انہوں نے
کہا ابو موسٰی اشعریؓ نے عبد اللہ بن مسعودؓ سے کہا جب پانی نہ ملے ( اور
جنب ہو ) تو نماز نہیں پڑھو گے کہا اگر میں لوگوں کو ایسی اجازت دے دوں تو
جب کسی کو سردی لگے گی وہ یہی کر لے گا یعنی تیمم کر کے نماز پڑھ لے گا ابو
موسٰیؓ نے کہا پھر عمارؓ نے جو روایت حضرت عمرؓ سے بیان کی وہ کہاں گئی
اُنہوں نے کہا میں نہیں سمجھتا کہ حضرت عمرؓ نے عمارؓ کے قول پر قناعت کی
ہو ۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا
الأَعْمَشُ، قَالَ سَمِعْتُ شَقِيقَ بْنَ سَلَمَةَ، قَالَ كُنْتُ عِنْدَ
عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي مُوسَى فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى أَرَأَيْتَ يَا
أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِذَا أَجْنَبَ فَلَمْ يَجِدْ، مَاءً كَيْفَ
يَصْنَعُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لاَ يُصَلِّي حَتَّى يَجِدَ الْمَاءَ.
فَقَالَ أَبُو مُوسَى فَكَيْفَ تَصْنَعُ بِقَوْلِ عَمَّارٍ حِينَ قَالَ
لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " كَانَ يَكْفِيكَ " قَالَ أَلَمْ
تَرَ عُمَرَ لَمْ يَقْنَعْ بِذَلِكَ. فَقَالَ أَبُو مُوسَى فَدَعْنَا
مِنْ قَوْلِ عَمَّارٍ، كَيْفَ تَصْنَعُ بِهَذِهِ الآيَةِ فَمَا دَرَى
عَبْدُ اللَّهِ مَا يَقُولُ فَقَالَ إِنَّا لَوْ رَخَّصْنَا لَهُمْ فِي
هَذَا لأَوْشَكَ إِذَا بَرَدَ عَلَى أَحَدِهِمُ الْمَاءُ أَنْ يَدَعَهُ
وَيَتَيَمَّمَ. فَقُلْتُ لِشَقِيقٍ فَإِنَّمَا كَرِهَ عَبْدُ اللَّهِ
لِهَذَا قَالَ نَعَمْ
Narrated By
Shaqiq bin Salama : I was with 'Abdullah and Abu Musa; the latter asked
the former, "O Abu AbdurRahman! What is your opinion if somebody
becomes Junub and no water is available?" 'Abdullah replied, "Do not
pray till water is found." Abu Musa said, "What do you say about the
statement of 'Ammar (who was ordered by the Prophet to perform
Tayammum). The Prophet said to him: "Perform Tayammum and that would be
sufficient." 'Abdullah replied, "Don't you see that 'Umar was not
satisfied by 'Ammar's statement?" Abu- Musa said, "All right, leave
'Ammalr's statement, but what will you say about this verse (of
Tayammum)?" 'Abqiullah kept quiet and then said, "If we allowed it, then
they would probably perform Tayammum even if water was available, if
one of them found it (water) cold." The narrator added, "I said to
Shaqrq, "Then did 'Abdullah dislike to perform Tayammum because of
this?" He replied, "Yes."
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے
بیان کیا کہا ہم سے میرے باپ نے اعمش نے کہا میں نے شقیق بن سلمہ سے سسنا
انہوں نے کہا میں عبد اللہ بن مسعودؓ اور ابو موسٰی اشعریؓ کے پاس تھا
اتنے میں ابو موسٰیؓ نے ابن مسعودؓ سے کہا ابو عبد الرحمٰن ( یہ اُن کی
کنیت ہے ) بتلاؤ تو جب کوئی جنب ہو اور پانی نہ پائے وہ کیا کرےانھوں نے
کہا جب تک پانی نہ پائے نماز نہ پڑھے ابو موسٰیٰؓ نے کہا پھر تم عمارؓ کی
روایت کو کیا کرو گے جب نبیﷺ نے اُن سے فرمایا تجھ کو یہ کافی تھا (
یعنی منہ اور ہاتھ کا مسح کرنا ) ابن مسعودؓ نے کہا تم نہیں دیکھتے کہ حضرت
عمرؓ نے اُن کی بات پر قناعت نہیں کی ابو موسٰیؓ نے کہا اچھا تو عمار کا
قول جانے دو تم اس آیت کا کیا جواب دو گے عبد اللہؓ کو کچھ جواب نہ بنا
کیا کہیں تو کہنے لگے اگر ہم لوگوں کو اس کی ( جنابت میں تیمم کرنے کی)
اجازت دیں تو پھر قریب میں ایسا ہو گا کسی کو پانی ٹھنڈا معلوم ہو گا وہ
غسل چھوڑ کر تیمّم کر لے گا اعمش نے کہا میں نے شقیق سے کہا تو عبد اللہ بن
مسعودؓ نے جنب کو تیمم کرنا اس مصلحت سے بُرا جانا اُنہوں نے کہا ہاں ۔
8. Tayammum with one light stroke (on the earth).
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ،
عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ
اللَّهِ وَأَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى لَوْ
أَنَّ رَجُلاً أَجْنَبَ، فَلَمْ يَجِدِ الْمَاءَ شَهْرًا، أَمَا كَانَ
يَتَيَمَّمُ وَيُصَلِّي فَكَيْفَ تَصْنَعُونَ بِهَذِهِ الآيَةِ فِي سُورَةِ
الْمَائِدَةِ {فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا
طَيِّبًا} فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَوْ رُخِّصَ لَهُمْ فِي هَذَا
لأَوْشَكُوا إِذَا بَرَدَ عَلَيْهِمُ الْمَاءُ أَنْ يَتَيَمَّمُوا
الصَّعِيدَ. قُلْتُ وَإِنَّمَا كَرِهْتُمْ هَذَا لِذَا قَالَ نَعَمْ.
فَقَالَ أَبُو مُوسَى أَلَمْ تَسْمَعْ قَوْلَ عَمَّارٍ لِعُمَرَ بَعَثَنِي
رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَاجَةٍ فَأَجْنَبْتُ، فَلَمْ
أَجِدِ الْمَاءَ، فَتَمَرَّغْتُ فِي الصَّعِيدِ كَمَا تَمَرَّغُ
الدَّابَّةُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ
" إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَصْنَعَ هَكَذَا ". فَضَرَبَ
بِكَفِّهِ ضَرْبَةً عَلَى الأَرْضِ ثُمَّ نَفَضَهَا، ثُمَّ مَسَحَ بِهَا
ظَهْرَ كَفِّهِ بِشِمَالِهِ، أَوْ ظَهْرَ شِمَالِهِ بِكَفِّهِ، ثُمَّ
مَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ أَفَلَمْ تَرَ عُمَرَ لَمْ
يَقْنَعْ بِقَوْلِ عَمَّارٍ وَزَادَ يَعْلَى عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ
كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي مُوسَى فَقَالَ أَبُو مُوسَى أَلَمْ
تَسْمَعْ قَوْلَ عَمَّارٍ لِعُمَرَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه
وسلم بَعَثَنِي أَنَا وَأَنْتَ فَأَجْنَبْتُ فَتَمَعَّكْتُ بِالصَّعِيدِ،
فَأَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرْنَاهُ فَقَالَ
" إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ هَكَذَا ". وَمَسَحَ وَجْهَهُ
وَكَفَّيْهِ وَاحِدَةً
Narrated By
Al-A'mash : Shaqiq said, "While I was sitting with 'Abdullah and Abu
Musa Al-Ash-'ari, the latter asked the former, 'If a person becomes
Junub and does not find water for one month, can he perform Tayammum and
offer his prayer?' (He applied in the negative). Abu Musa said, 'What
do you say about this verse from Surat "Al-Ma'ida": When you do not find
water then perform Tayammum with clean earth? 'Abdullah replied, 'If we
allowed it then they would probably perform Tayammum with clean earth
even if water were available but cold.' I said to Shaqiq, 'You then
disliked to perform Tayammum because of this?' Shaqiq said,'Yes.'
(Shaqiq added), "Abu Musa said, 'Haven't you heard the statement of
'Ammar to 'Umar? He said: I was sent out by Allah's Apostle for some job
and I became Junub and could not find water so I rolled myself over the
dust (clean earth) like an animal does, and when I told the Prophet of
that he said, 'Like this would have been sufficient.' The Prophet
(saying so) lightly stroked the earth with his hand once and blew it
off, then passed his (left) hand over the back of his right hand or his
(right) hand over the back of his left hand and then passed them over
his face.' So 'Abdullah said to Abu- Musa, 'Don't you know that 'Umar
was not satisfied with 'Ammar's statement?'"
Narrated Shaqiq: While I was with 'Abdullah and Abu Musa, the latter said to the former, "Haven't you heard the statement of 'Ammar to 'Umar? He said, "Allah's Apostle sent you and me out and I became Junub and rolled myself in the dust (clean earth) (for Tayammum). When we came to Allah's Apostle I told him about it and he said, 'This would have been sufficient,' passing his hands over his face and the backs of his hands once only.'"
Narrated Shaqiq: While I was with 'Abdullah and Abu Musa, the latter said to the former, "Haven't you heard the statement of 'Ammar to 'Umar? He said, "Allah's Apostle sent you and me out and I became Junub and rolled myself in the dust (clean earth) (for Tayammum). When we came to Allah's Apostle I told him about it and he said, 'This would have been sufficient,' passing his hands over his face and the backs of his hands once only.'"
ہم سے محمد بن سلام
بیکندی نے بیان کیا کہا ہم کو ابو معاویہ محمد ابن خاز ن نے خبر دی اُنہوں
نے اعمش سے انہوں نے شقیق سے اُنہوں نے کہا میں عبد اللہ بن مسعودؓ اور
ابو موسیٰ اشعریؓ کے پاس بیٹھا تھا ابو موسٰیؓ نے اُن سے کہا اگر ایک شخص
کو جنابت ہو اور ایک مہینے تک پانی نہ پائےکیا وہ تیمّم کر لے اور نماز
پڑھے۔عبد اللہ ابن مسعودؓ نے کہا وہ تیمّم نہ کرے اگرچہ ایک مہینے تک پانی
نہ پائے ( اور نماز موقوف رکھے ) تب ابو موسٰیٰؓ نے کہا پھر تم اس آیت کو
کیا کرو گے جو سورت مائدہ میں ہے ۔ اگر تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی پر تیمّم
کر لو ۔ عبد اللہ بن مسعودؓ نے کہا اگر ان لوگوں کو جنابت میں تیمم کی
اجازت دی جائے تو قریب میں ایسا ہو گا جب اُن کو پانی ٹھنڈا معلوم ہو گا
وہ مٹی سے تیمم کر لیں گے اعمش نے کہا میں نے شقیق سے کہا تو تم نے جنب کے
لیے تیمم اس لیے بُرا جانا اُنہوں نے کہا ہاں پھر ابو موسٰیؓ نے ابن
مسعودؓ سے کہا کیا تم نے وہ نہیں سُنا جو عمارؓنےحضرت عمرؓ سے کہا تھا
مجھ کو رسولﷺ نے ایک کام کے لئے بھیجا(راہ میں)مجھ کونہانے کی حاجت ہوئی
پانی نہ ملا تو میں جانور کی طرح مٹی میں لوٹا،بعد اسکے میں نے نبیﷺ سے اس
کا ذکر کیا آپؐ نے فرمایاتجھ کو ایسا کرنا بس تھااور آپؐ نے اپنا ہاتھ
زمین پر مارا پھر اس کو جھاڑ دیا پھر بایئں ہاتھ سے داہنے ہاتھ کی پشت کو
ملا،یا داہنے ہاتھ سے بایئں ہاتھ کی پشت کو پھر اپنے منہ پر دونوں ہاتھوں
کو پھیر لیا عبداللہ نے کہا تم نہیں دیکھتے حضرت عمرؓ نے عمارؓ کے قول پر
قناعت نہیں کی اور یعلیٰ بن عبیدؓ نے اس روایت میں اعمش سے اُنہوں نے شقیق
سے اتنا زیادہ کیا میں عبداللہ بن مسعودؓ اور ابو موسٰیؓ کے پاس تھا ابو
موسٰیؓ نے کہا کیا تم نے عمارؓ کا حضرت عمرؓ سے یہ کہنا نہیں سُناکہ رسول
اللہﷺ نے مجھ کو اور تم کو(فوج کی ٹکڑی میں) بھیجا تھا مجھے نہانے کی حاجت
ہوئی میں مٹی میں لوٹا پھر ہم رسول اللہﷺ کے پاس آئے آپؐ سے بیان کیا
آپؐ نے فرمایا تجھ کو یہ بس کرنا تھا اور آپؐ نے اپنے منہ اور دونوں
پہنچوں پر ایک بار مسح کر لیا۔
No comments:
Post a Comment